Skip to playerSkip to main content
Dars e Quran - Surah e Aal-e-Imran Ayat 61 to 66

To watch all the episodes of Dars e Quran ➡️https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicHmWttOceS6grEiS0XALjI

Tilawat (Recitation): Qari Noman Naeemi

Tafseer (Details): Allama Hafiz Owais

#AllamaHafizOwais #QariNomanNaeemi #DarseQuran

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Al-Qa'l-Kitaab
00:07Al-Qa'l-Kitaab
00:15A'ubillahi bin ash-shaytani r-rajim
00:23Bismillahirrahmanirrahim
00:34In Ya'ul-Kitaab
00:43In Ya'ul-Kitaab
00:45Al-Qa'l-Kitaab
00:55In Ya'ul-Kitaab
01:00Surah Al-Fatiha
01:30Surah Al-Fatiha
02:00Surah Al-Fatiha
02:30Surah Al-Fatiha
02:31Surah Al-Fatiha
02:36Surah Al-Fatihah
03:06Surah Al-Fatihah
03:36Surah Al-Fatihah
04:06Surah Al-Fatihah
04:36Surah Al-Fatihah
04:38Surah Al-Fatihah
05:06Surah Al-Fatihah
05:08Surah Al-Fatihah
05:10Surah Al-Fatihah
05:12Surah Al-Fatihah
05:14Surah Al-Fatihah
05:16Surah Al-Fatihah
05:18Surah Al-Fatihah
05:20Surah Al-Fatihah
05:22Surah Al-Fatihah
05:24Surah Al-Fatihah
05:26Surah Al-Fatihah
05:28Surah Al-Fatihah
05:30Surah Al-Fatihah
05:32Surah Al-Fatihah
05:34Surah Al-Fatihah
05:36Surah Al-Fatihah
05:38Surah Al-Fatihah
05:40حضرت بی بی مریم کا تذکرہ حضرت زکریہ کا تذکرہ حضرت یحیہ کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ دلائل کے ساتھ اللہ پاک نے اس کو ذکر کیا
05:50پھر اس میں عقلی پہلوں کو بھی اللہ پاک نے ذکر کر دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے مثال آدم علیہ السلام ہی کی طرح ہے
05:57کہ جس طرح وہ بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی بن باپ کے پیدا ہوئے
06:03اس میں ان کے خدائی کا دعویٰ نہیں بن سکتا
06:06یہ ساری چیزیں بیان کرنے کے بعد اب جو آیات ذکر کی جا رہی ہیں ان آیات کے اندر مباحلے کا ذکر ہے
06:14مباحلہ کہتے ہیں ویسے تو مباحلے کے معنی ہوتے ہیں دعا کرنا اور اللہ کی بارگاہ میں گڑ گڑانا دعا کرتے وقت
06:24مگر مباحلے کا جو مفہوم ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں کسی کے لیے لانت مانگنا اگر وہ حق پر نہیں ہے
06:36یعنی کوئی انسان دو گروہ جو ہے وہ کسی نظریے پر قائم ہو اور اپنے اپنے آراء پر جو ہے وہ ان کا اختلاف ہو
06:44اور جب وہ آپس میں اپنے دلیل کی سطح پر اور عقل کی سطح پر کسی چیز کو تیہ نہ کر سکیں
06:52تو پھر وہ دعا پر آ جائیں کہ بھئی اگر تم جو ہے وہ حق پر ہو اور میں حق پر نہ ہوں تو مجھ پر خدا کی لانت
07:02اور اگر میں حق پر ہوں اور تم حق پر نہ ہو تو تم پر خدا کی لانت
07:06تو اس کو عربی میں کہتے ہیں مباحلہ کرنا اور جس وقت یہ آیات کریمہ اتری ہیں اس وقت نجران ایک قبیلہ ہے
07:16وہ ان کا وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ میں آیا ہوا تھا
07:22یہ آیات بھی ان کے سامنے رکھی گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بات بھی کی
07:27ان کے جتنے تحفظات تھے ان کے جتنے دلائل تھے ان کے جتنی چیزیں تھی
07:32وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے ذکر کر دیں
07:35مگر انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ عیسیٰ جو ہیں وہ خدا کے بندے ہیں خدا نہیں
07:42تو پھر ان سے مباحلہ کیا گیا
07:45آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ ان کے سامنے رکھ دی
07:48اور آپ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے آجاؤ پھر ہم مباحلہ کر لیتے ہیں
07:53تو پھر یہ تیہ ہو جائے گا کہ اگر تم حق پر ہوئے
07:58ہم حق پر نہ ہوئے تو ہم پر عذاب آ جائے گا
08:00اور ہم حق پر ہوئے اور تم حق پر نہ ہوئے اس معاملے میں
08:03تو تم پر عذاب آ جائے گا آو
08:05اللہ کی بارگاہ میں دونوں مل کر اکٹھے آمنے سامنے ہو کر دعا کر لیتے ہیں
08:10اور اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ندعو ابنا انا وابنا اکم ونسا انا ونسا اکم
08:16اپنے گھر والوں کو بھی اپنے ساتھ لے آتے ہیں
08:19اب یہ آیت کریمہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے پڑھی
08:23تو انہوں نے باہمی طور پر جا کے مشورہ کیا
08:26جو اپنا بڑا پادری تھا راہب تھا اس سے اس کے بارے میں پوچھا
08:29تو وہ کہنے لگا کہ دیکھو ہماری کتابوں میں یہ تو بات واضح ہے
08:34کہ ایک نبی نے آنا ہے اور ان کی جو نشانیاں ہیں وہ بھی ہم جانتے ہیں
08:40تو نشانیوں کے اعتبار سے بھی دیکھیں اور ہماری کتاب کی بشارت کے اعتبار سے بھی دیکھیں
08:46تو ایسا تو نہیں ہے کہ نبی نہ آنے کی بات کی گئی ہو
08:49نبی آنے کی بات کی گئی ہے
08:50تو یہ وہی نبی ہیں نشانیاں بھی ان کی پوری ہیں
08:53اگر ہم جاتے ہیں اس آپشن پہ کہ ہم مباحلہ کریں
08:57تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم بہت نقصان اٹھائیں گے
09:00اور ہم جو ہے وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے
09:03اور ہمیں بڑا خسارہ اور نقصان ہوگا
09:05آپس میں انہوں نے یہ تیہ کر لیا
09:07پھر یہ نکل کر آئے بارگاہ رسالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں
09:12اور انہوں نے آ کر کہا کہ ہم
09:14اپنا جو بھی موقف ہے یہ دینا چاہتے تھے
09:17تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے
09:20اور اس شان کے ساتھ تشریف لائے
09:23کہ آپ کے دائیں بائیں حسن و حسین تھے
09:26آپ نے ان کا ہاتھ تھام رکھا تھا
09:29حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ
09:31اور سیدہ کائنات فاطمت الزہراء
09:36رضی اللہ تعالی عنہ
09:38آپ کے پیچھے تھے
09:40اب یہ منظر جب انہوں نے دیکھا
09:43یہ چہرے چمکتے ہوئے اور یہ
09:45تو وہ جو ہے ان کی حالت خراب ہو گئی
09:49اور ان کے پادری نے یہ بات کہی ان کو
09:51کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اگر
09:53ہم نے اس مرحلے پر ان کا یہ چیلنج قبول کیا
09:56اور ہم اس کے اندر کود پڑے
09:59تو پھر مجھے لگتا ہے کہ ہم جو ہے نا
10:02ہم تو کیا ہماری نسلیں بھی مٹ جائیں گی
10:05اور پوری روح زمین پر کوئی نسرانی
10:09اور کوئی عیسائی باقی نہیں رہے گا
10:11تو انہوں نے جو ہے نا وہ معافی مانگی
10:13اور انہوں نے کہا کہ ہم اس کو قبول نہیں کرتے
10:15اور ہم جو ہے جزیہ دینے پر راضی ہیں
10:18ہم جزیہ دیں گے
10:21قبول کیا اور وہ وہاں سے پھر چلے گئے
10:24تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بات فرمایا
10:27کہ اللہ کا جو عذاب ہے ان کے لیے
10:30وہ بالکل ان کے قریب آ گیا تھا
10:33بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں
10:34کہ بالکل جھاڑیوں کے قریب آ گیا تھا قریب کی
10:37اور اگر یہ اس مباحلے میں پڑتے
10:40تو ان کے چہرے سور اور بندر کے بنا دیے جاتے
10:45یعنی مسخ کر دیے جاتے
10:46ان پر عذاب اتر آتا
10:48اور یہ روح زمین سے بالکل مٹ جاتے
10:52تو وہ جو مباحلہ ہے
10:54یہاں پر اس کا ذکر کیا گیا
10:57تو تاریخ اور احادیث میں بھی اس بات کا ذکر ہے
11:00کہ انہوں نے اس مباحلے کو قبول نہیں کیا
11:03اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم
11:04اپنی فیملی کے ساتھ وہاں پر موجود تھے
11:07فیملی کے ساتھ موجود ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے
11:10کہ میں اپنے موقف میں کتنا پور اعتماد ہوں
11:14اور مجھے اپنے حق ہونے پر کتنا یقین ہے
11:17کیونکہ جس میں انسان کو خسارے کا خطرہ ہوتا ہے
11:21تو اس میں انسان اپنی فیملی کو انوال نہیں کرتا
11:24اور کبھی بھی انسان کا دل اس پر راضی ہوتا ہی نہیں ہے
11:27کہ وہ لانت جو ہے اپنے بچوں پہ کرے
11:30یا اپنے گھر والوں پہ کرے
11:32اور وہ اس کا مستحق ٹھہرے
11:34یہ تو کوئی بھی نہیں کر سکتا
11:35تو اپنے بچوں کو ساتھ لے کر آنا
11:38اپنی فیملی کو ساتھ لے کر آنا
11:40یہ اپنے موقف پر اعتماد کا اظہار تھا
11:43خدا کی ذات پر یقین کا اظہار تھا
11:46اور اپنے عقیدے پر یقین کا اظہار تھا
11:48اور دوسری طرف اس کی بالکل کمی تھی
11:51کیونکہ انہوں نے جب یہ منظر دیکھا
11:53تو انہوں نے انکار کر دیا
11:55تو اس کا مطلب یہ ہوا
11:56کہ انہیں یہ بات معلوم تھی
11:59کہ ہم حق پر نہیں ہیں
12:01اور سامنے والا حق پر ہے
12:04اس لیے انہوں نے اس مباحلے کو قبول نہیں کیا
12:07تو اس لیے یہاں
12:09فیملی کا بھی ذکر ہے
12:11اور فیملی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو
12:14اہلِ بیت ہوں
12:15اور یہ مقدس ہستیاں ہوں
12:17تو ان کا جو ایک خدا کی طرف سے جو عزت ہے
12:21جو خدا کی طرف سے ان کو وقار ملا ہے
12:24اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْحِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ
12:27اَهْلَ الْبَيْتُ وَيُطَحِرَكُمْ تَطْحِيرَ
12:30کی شان رکھنے والے ہیں
12:32اور اتنے بلند مقام کے حامل ہیں
12:35وہ ایک قدرتی طور پہ جو ایک روب اور جلال ہے
12:39وہ ان کے دلوں میں دو چند ہو گیا ہوگا
12:41اور وہ وہاں سے بھاگنے کے علاوہ
12:43کوئی اور راستہ منتخب نہ کر سکے ہوں گے
12:46تو اس بات کا یہاں پر ذکر ہے
12:48کہ فَقُلْ پھر اے نبی کہہ دیجئے
12:50ہم بلاتے ہیں اپنے بیٹوں کو تم بلالو
12:57اپنے بیٹوں کو وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ
13:00تم اپنی خواتین کو بلالو
13:02ہم اپنی خواتین کو بلالتے ہیں
13:03وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ
13:05اور تم بھی خود آجائے
13:06ہم بھی خود آجائیں
13:07سُمَّا نَبْتَحِلْ
13:09پھر ہم اللہ پاک سے یہ دعا کریں گے
13:12فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْقَاذِبِينَ
13:14تو پھر ہم اللہ کی جو لانت ہے
13:17وہ جھوٹوں پر قائم کریں گے
13:18کہ جو ہم میں سے جھوٹا ہوگا
13:21وہ اس پر خدا کی لانت آجائے گی
13:23یہ سورہ آل عمران کی آیت نمبر سکسٹی ون ہے
13:27جس کو آیت مباحلہ بھی کہتے ہیں
13:29اور اسلام کی جو حقانیت ہے
13:32اسلامی عقائد کی جو حقانیت ہے
13:34وہ آخری درجے میں جا کر قائم کی گئی
13:38کیونکہ اس مباحلے کی اسی وقت ضرورت پڑتی ہے
13:41جب سامنے والا یہ کہہ دے
13:43کہ میں زد پر ہوں
13:45یعنی آپ نے اس کو ایک دلیل دی
13:47اس نے نہیں مانی
13:48اس کی کتاب سے دی
13:50اس نے نہیں مانی
13:51پھر اس کو ایک عقلی دلیل دی
13:52عقلی وزن پر اس کو میزان پر لے کر آئے
13:56اس نے اس کو بھی نہیں مانا
13:57ایک بندہ جب بالکل ہٹ دھرمی پہ آ جاتا ہے
14:01اور سامنے والا اس بات کا اظہار کر دیتا ہے
14:04کہ بس میں مانتا نہیں ہوں
14:06ہے سب کچھ میں مانتا نہیں ہوں
14:08تو یہ وہ اسٹیج ہوتا ہے
14:10جو بالکل آخری اسٹیج ہوتا ہے
14:12اور اس آخری اسٹیج کا بھی
14:14یہاں ذکر ہو گیا
14:15تو آپ کہہ سکتے ہیں
14:16سورہ علی عمران کا یہ جو مقام ہے
14:19یہ رد عیسائیت میں
14:21اور رد تسلیس میں
14:23اور جو ان کے تین خداوں کا جو دعویٰ ہے
14:26اس کے رد میں
14:27یہ بڑا ایک بلند ترین مقام ہے
14:29قرآن کریم کا
14:30کلائمکس ہے
14:31اور یہاں جو
14:33قرآن کی دلیلیں ہیں
14:36یا جو پچھلی کتابوں کی دلیلیں ہیں
14:39ان کے ساتھ ساتھ
14:40یہاں پر جو ہے
14:41وہ یہ مباحلہ بھی آ گیا ہے
14:44اس کے بعد پھر کچھ نہیں ہو سکتا
14:45کہ فریق مخالف تو بھاگی گیا
14:48اس نے کہا
14:49ہم اس میں چیلنج کو قبول ہی نہیں کر سکتے
14:51ہم تو اس میں پڑ ہی نہیں سکتے
14:54ہم اس سے بڑھ کر
14:55جو ہے وہ
14:56کوئی اسلام کی حقانیت کی دلیل نہیں ہو سکتی
15:00یہ بلند ترین دلیل ہے
15:01عیسائیوں کے خلاف
15:03اسلام کی سربلندی کی
15:05اور اسی لیے پھر وہ جب چلے گئے
15:07تو انہوں نے جزیہ دینا قبول کیا
15:09پھر اللہ پاک اس پر
15:10تفسرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے
15:12اگلی آیت میں
15:12انہازہ لہو القصص الحق
15:15یہ بھئی یہ سچی باتیں ہیں
15:18یہ سچے قصے ہیں
15:19یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے
15:21جو گڑا ہوا ہے
15:22اس کو عیسائی بھی تسلیم کرتے ہیں
15:24کہ ہم مباحلے میں ہار گئے
15:25اس کو ہر ایک تسلیم کرتا ہے
15:27یہ قصص الحق ہے
15:28اور اس کو ثابت کرنا کیوں ضروری تھا
15:31اس لیے کہ حقیقت یہی ہے
15:35کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے
15:37کائنات کی یہ سب سے بڑی حقیقت ہے
15:40اور اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے
15:43ہم نے بی بی مریم سے پوری ہسٹری بھی بیان کی ہے
15:46حقائق بھی بیان کیے ہیں
15:48دقائق بھی بیان کیے ہیں
15:50عقلی دلائل بھی بیان کی ہیں
15:52مباحلہ بھی ذکر کیا ہے
15:53ثابت یہ کرنا ہے
15:55اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
15:59توحید سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں ہے دنیا میں
16:02اور اللہ بڑا غالب ہے
16:05اللہ بڑی حکمت والا ہے
16:07اس نے کس حکمت کے انداز میں
16:09لوگوں پر یہ چیزیں واضح کر دی
16:11پھر فرمایا کہ
16:12پھر اگر وہ پھر جاتے ہیں
16:17تو بے شک اللہ پاک جاننے والا ہے
16:19فساد کرنے والوں کو
16:21فساد کا لفظ یہاں پر ذکر کیا گیا
16:24مجھے پتا ہے کہ میں حق پر نہیں ہوں
16:27پھر بھی میں ڈٹا وہ ہوں
16:28تو پھر میری نیت کیا ہے
16:29میں چاہتا کیا ہوں
16:31میں کرنا کیا چاہتا ہوں
16:32جناب اس کا سمپل سا جواب ہے
16:35آپ فساد کرنا چاہتے ہیں
16:38تو اللہ پاک کہتا ہے
16:39کہ یہ جو یہ حرکتیں کر رہے ہیں
16:41ان کا مقصد صرف اور صرف فساد پھیلانا ہے
16:44شیطان کے طریقے پر ہیں
16:47تو اور لوگوں کو بھی شیطان کے طریقے پر لانا ہے
16:50گمراہ کرنا ہے
16:51دنیا کے اندر جو توحید کا نظام ہے
16:55اس کو کھڑے لائن لگانا ہے
16:58اس کو باطل کرنا ہے
16:59اس کے خلاف کمن ڈالنی ہے
17:02اس کے خلاف محاذ بنانا ہے
17:04اس کے علاوہ اور کوئی نیت ہے ہی نہیں
17:06مفسدین کا لفظ جو ہے
17:08وہ ان کی نیتوں کی طرف اشارہ کر دیا
17:11کہ جب اتنا کچھ ہو گیا
17:13مباحلہ بھی ہو گیا
17:14سب کچھ ہو گیا
17:15یہ مانتے کیوں نہیں ہیں
17:17فرمایا
17:18اگر وہ پھر جاتے ہیں
17:23تو اللہ ان فسادیوں کو جانتا ہے
17:26ان کی یہ صفت فساد جو ہے
17:28اللہ پاک نے ذکر کر کے
17:30ان کی نیت ان کے مقصد کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے
17:33تو اس سے پتا چلا
17:34کہ دنیا میں
17:35لوگ جو ہے
17:36وہ بہت سارے عقائد پر
17:39متنبع ہونے کے باوجود
17:41اس کو لوجیکل سطح پر
17:44اس کو جو ہے وہ
17:46معاشرتی سطح پر
17:48اور اس کو جو ہے
17:49ذہنی فکری سطح پر
17:51ہر سطح پر
17:52اس کو غلط سمجھنے کے باوجود
17:54لوگوں کے ساتھ کچھ ایسے مفادات جڑے ہوئے ہوتے ہیں
17:57کہ وہ شیطان کی طرف جاتے ہیں
17:59اس کے رستے کو اپناتے ہیں
18:01لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں
18:02یہ حقیقت ان ساری آیات سے جو ہے
18:04وہ واضح ہوتی ہے
18:06اور اس میں اہل بیعت کا تذکیرہ بھی
18:09جو ہے وہ زمناً آ گیا ہے
18:11اور ان کی عظمت اور فضیلت کی طرف بھی
18:13یہ ایک اشارہ ہے
18:15کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
18:16پورے جو گھرانے کے لوگ تھے
18:19وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
18:20اس موقف میں قائم تھے
18:22آپ کے ساتھ کھڑے تھے
18:23اپنی فیملی کو بھی کوئی شبہ نہیں تھا
18:26کوئی شک نہیں تھا
18:27اور جو اعتماد
18:29اللہ کے رسول نے اپنے گھر والوں کو دیا تھا
18:31وہ اس پر سچے دل سے قائم ہو کے
18:34عیسائیت کے رد میں
18:36وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
18:38کھڑے ہو چکے تھے
18:39یہاں پر مقصد
18:41صرف خدا کی توحید کو ثابت کرنا ہے
18:43اور یہاں پر جو مقصد ہے
18:45وہ تسلیس کا رد ہے
18:46ان آیات کی تفسیر
18:47جو ہے وہ اختتام کو پہنچی
18:49ایک وقفے کی طرف
18:50ہم بڑھ رہے ہیں
18:51اور آپ ہمارے ساتھ رہی ہیں
18:54اعوہ باللہ من الشیقان الرجیم
18:59بسم اللہ الرحمن الرحیم
19:10قُلْ يَا أَهُمَا الْكِتَابِ
19:21تَعَالَوْنُوا
19:23تَعَالَوْنَا وَبَيْنَكُمْ
19:38اَلَا نَعْبُدَ
19:42اِلَّا اللَّهِ
19:50اَلَّا نَعْبُدَ
19:59اِلَّا اللَّهِ
20:02وَلَا نُشْرِكَ
20:05بِهِ شِئًا
20:09وَلَا يَتَّخِذَ
20:13بَعْضُنَا
20:16نَعْبُدَ
20:20اَلَّا نَعْبُدَ
20:31Surah Al-Fatihah
21:01Surah Al-Fatihah
21:31Surah Al-Fatihah
22:31Oh
22:51Oh
22:56Yeah
23:01J便
23:02assembly
23:04Tire
23:08father
23:10All
23:11All
23:11All
23:15All
23:15All
23:16All
23:20All
23:21All
23:24verse 44
23:36It says that
23:37allow us to与 it
23:40the same matter
23:42we call him
23:43Allah
23:44Allah
23:44Allah
23:45Allah
23:46we call him
23:46Allah
23:47Allah
23:48Allah
23:50Allah
23:51Allah
23:51Allah
23:52Allah
23:53Allah
23:53Allah
23:54Allah
23:54If they give us a prayer, then you say that people are Muslims.
24:00Hey, you are the author of Ibrahim.
24:03Why do you speak to Abraham?
24:06While the Torah and the Injil are the ones that have been published?
24:09Do you not understand?
24:12You are the people who have talked about the things that you have talked about.
24:16So, why do you speak to them?
24:21what does that mean?
24:23why do you know?
24:25God has no knowledge
24:28and has no knowledge
24:30This is the first thing
24:34that is a-
24:34that is a-
24:35a-
24:36that is a-
24:36that is how
24:37that is a-
24:38that is a-
24:40that is a-
24:42here allah paak
24:44has said
24:44Qul yaahil al-kitaab
24:46because this is a-
24:48that is a-
24:49in the middle of the book of the book of the book of the book of the book.
25:19زیادہ مخاطب تو عیسائی ہیں
25:21کیونکہ انہی سے بات چل رہی ہے
25:22مگر اس میں یہود بھی شامل ہیں
25:24تو اہل کتاب کیا کہ
25:25دونوں گروہوں کو اللہ پاک نے مخاطب فرمایا
25:28اور فرمایا
25:29تعالو الہ کلیمتین آجو ایک کلمے کی طرف
25:32ایک بات کی طرف
25:33سوائم بیننا وبینکم
25:34جو ہمارے اور تمہارے درمیان
25:37مسلم ہے مشترک ہے
25:38اللہ پاک نے یہاں پر جو
25:41انداز دعوت ہے
25:42وہ اس طور پر ذکر کیا
25:44کہ جب دو آپس میں گروہ
25:46مخالفت کرتے ہیں
25:48یا آپس میں کسی چیز میں
25:50ان میں اختلاف ہو جاتا ہے
25:51تو کچھ چیزیں تو ایسی ہوتی ہیں
25:53کہ جن پر وہ اکٹھے نہیں ہوتے
25:54اور کچھ چیزیں آپس میں مشترک ہوتی ہیں
25:56ان دونوں گروہوں کی
25:57یعنی دونوں گروہ اس چیز کو مانتے ہیں
26:00تو لوجیکل جو ہے نا وہ یہ ہے
26:02کہ آپ سب سے پہلے متفقہ چیزوں پر بات کریں
26:05جو دو گروہوں کے درمیان کومن ہوں
26:08آپ الگ سے کوئی بات کر کے
26:10اپنی دھونس جمانے کی کوشش کریں
26:12یا لگ کی طرف لے کر جائیں
26:13اس سے بہتر ہی ہوتا ہے
26:15کہ آپ پہلے اس چیز پر بات کریں
26:17کہ جو دونوں کے درمیان مشترک ہے
26:20مسلم ہے دونوں اس کو مانتے ہیں
26:21تو دونوں اس کو مانتے ہیں
26:23تو آپس میں بیٹھ جائیں
26:24کہ دیکھیں بھئی ہم ان چیزوں پر متفق ہیں
26:26ان چیزوں کو ہم بالکل درست کر لیں
26:29اس چیز کے بارے میں ہمارا نظریہ یہ ہے
26:31پھر باقی چیزوں کے بارے میں ہم بات کریں گے
26:34یہ ایک بڑا اچھا انداز ہے بات کرنے کا
26:37اور کسی کو قائل کرنے کا
26:39اور کسی کو دعوت دینے کا
26:40اور یہ این اس کے مطابق ہے
26:42جس کا حکم خود قرآن کریم نے دیا ہے
26:44کہ ادعو الہ سبیل ربکا بالحکمتی
26:47والموعزت الحسانتی
26:49کہ آپ بلائیں اپنے رب کے راستے کی طرف
26:52حکمت کے ساتھ
26:53معیزہ حسنہ کے ساتھ
26:55تو اللہ پاک نے یہاں جو اہل کتاب کو دعوت دی ہے
26:58اس میں حکمت کا جو چہرہ ہے
27:00اور جو معیزہ حسنہ کا جو انداز ہے
27:03وہ بالکل آپ کو واضح نظر آئے گا
27:05تو ان سے یہ کہا گیا ہے
27:07کہ اے اہل کتاب
27:08ہم مسلمان تم سے یہ بات کر رہے ہیں
27:11میں مسلمانوں کا نبی تم سے یہ بات کر رہا ہوں
27:14کہ دیکھو کچھ چیزوں میں
27:16ہم آپس میں مشترک ہیں
27:18جو تمہاری کتابوں سے بھی ثابت ہے
27:21ہماری کتابوں سے بھی ثابت ہے
27:23وہ اللہ کی توحید ہے
27:24توحید ہمارے درمیان مسلم ہے
27:27تو آؤ ہم اس پر بات کر لیتے ہیں
27:30کہ توحید پر ہم قائم ہیں
27:32یا تم قائم
27:33اس توحید پر تو آجاؤ تم
27:35جو تمہاری کتابوں سے ثابت ہے
27:37جس کو ہم بھی مانتے ہیں
27:39تم بھی مانتے ہیں
27:40سوا ام بیننا و بینکم
27:42جو برابر ہے
27:43ہمارے اور تمہارے درمیان
27:44سوا کا جو لفظ ہے عربی میں
27:47یہ کسی بھی چیز کے
27:48بلکل درمیانی نکتے اور پوائنٹ کو کہتے ہیں
27:51سوا او طریق کا معنی یہ ہوگا
27:53راستے کا بلکل درمیانہ حصہ
27:57سوا اشارے کا مطلب ہوگا
27:59سڑک کا بلکل درمیانہ پوائنٹ
28:01سوا کہتے ہیں جو بلکل درمیانہ
28:04تو یہ جو
28:05ہمارے درمیان مشترکہ چیز ہے
28:07جو بلکل مرکزی پوائنٹ ہے
28:09اس کی طرف آ جاتے ہیں
28:11تعالو الہ کلمتن
28:12سوا ام بیننا و بینکم
28:14وہ کیا ہے
28:14اللہ نعبودہ الا اللہ
28:15کہ ہم اللہ کی عبادت
28:17اللہ کی عبادت کریں
28:19اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں
28:22ولا نشری کا بھی ہی شیئت
28:23اور ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں
28:26اس پر تو ہم آ جائے نا
28:28تو ایک درمیانی جو نکتہ ہے اور مرکز ہے
28:31تم سوچو کہ تم اس پہ قائم ہو
28:33یا ہم اس پہ قائم ہیں
28:34تم نے شرک کیا یا ہم نے شرک کیا
28:37تم نے توحید کو ترک کیا
28:39یا ہم نے توحید کو ترک کیا
28:40اس نکتے پر آؤ
28:41جو ہمارے اور تمہارے درمیان یقصہ ہے
28:45کون قائم ہے اس پر
28:47وَلَا يَتَّخِذَ بَعْدُنَا بَعْدًا عَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ
28:51اور ہم میں سے بعض بعض کو
28:53اللہ کے علاوہ خدا نہیں بنائیں گے
28:56یہ بھی ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے
28:59کہ کوئی بندہ خدا نہیں ہوگا
29:01کوئی بندہ خدا نہیں ہوگا
29:03جو ان کے علماء تھے
29:06یا جو ان کے پادری تھے
29:08ان کی طرف بھی اشارہ ہے
29:09کہ ان کو خدا نہیں بنانا ہے
29:11تو ایک دفعہ جو ہے وہ
29:13عدی بن حاتم جو حاتم تائی کے بیٹے تھے
29:16انہوں نے بارگاہ رسالت میں
29:18یہ سوال کیا تھا
29:20کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
29:22شرک کی بات تو چلے ٹھیک ہے
29:24کہ عیسائی شرک کرتے ہیں
29:26لیکن میں عیسائی رہا ہوں چونکہ پہلے
29:28ہم اپنے علماء کو خدا تو نہیں سمجھتے
29:31تو یہ جو قرآن کریم نے تیسری چیز بیان کی ہے
29:36وَلَا يَتَّخِذَ بَادُنَا بَادًا اَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ
29:39تو ہم میں سے باز نے باز کو تو خدا نہیں بنایا
29:43ہم اپنے علماء کو تو خدا نہیں کہتے
29:46اپنے احبار کو تو ہم خدا نہیں کہتے
29:49تو پھر قرآن نے یہ بات کیوں کہی
29:51یہ بڑا قابل توجہ نکتہ ہے
29:54آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا
29:56جس کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ بات ٹھیک ہے
29:59کہ تم ان کی عبادت نہیں کرتے
30:01تم ان کو خدا نہیں کہتے
30:03خدا نہیں مانتے ان کو
30:04یہ بات اپنی جگہ ٹھیک ہے
30:05مگر قرآن نے یہ بات کیوں کہی
30:07کہ یہ آپس میں ایک دوسرے کو خدا بناتے ہیں
30:10اس کی وجہ یہ ہے
30:12کہ تمہارے جو علماء ہیں
30:15تمہارے جو راہب ہیں
30:17وہ جن چیزوں کو تمہارے لیے حلال کر دیں
30:21اللہ کی شریعت میں وہ حرام ہے
30:23انہوں نے حرام کو حلال کیا
30:25تو تم بھی ان کے ساتھ چل پڑتے تھے
30:28اور اگر وہ اس کا اُلٹ کریں
30:31کہ کوئی چیز حلال ہے
30:32تمہارے علماء ڈیکلئر کرنے یہ حرام ہے
30:35شریعت میں حلال ہے
30:36علماء نے اس کو حرام کر دیا
30:37فتوہ بدل دیا
30:38تحریف کر دی
30:40کتاب بدل دی
30:41تو تم بھی اپنے علماء کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے
30:43تو تم اپنی مرضی سے حلال و حرام کرنے والوں کے ساتھ
30:48قائم ہو جاتے تھے
30:49کھڑے ہو جاتے تھے
30:51اس لیے تمہیں یہ تمغا دیا گیا ہے
30:54کہ تم ان کو خدا سمجھتے تھے
30:56یہ کتنی بڑی بات ہے
30:59کہ انسان کا خدا سمجھنا صرف یہ نہیں ہے
31:03کہ وہ کسی کے سامنے سجدہ کرے
31:05کسی کے لیے نماز پڑے
31:07یا کسی کو کہے کہ تُو میرا خدا ہے
31:10صرف اسی سے خدا سمجھنا نہیں ہوتا
31:12اگر انسان اس بندے کے پیچھے چل پڑے
31:15جو شریعت کے حلال کو حرام کرتا ہے
31:18اور حرام کو حلال کرتا ہے
31:20اس کے پیچھے چل کر کسی نے حلال کو حرام
31:22اور حرام کو حلال سمجھا
31:24تو سمجھے جس کے پیچھے وہ چلا ہے
31:26قرآن کے مطابق
31:28اس نے اس کو خدا سمجھ لیا ہے
31:29تو یہ عیسائیوں کا یہ پردہ بھی اٹھا دیا گیا
31:33کہ آپ نے یہ کام نہیں کرنا
31:35تو یہ قومن تھا
31:36مشترق تھا
31:37مسلمانوں کے درمیان
31:39اور عیسائیوں کے درمیان
31:42تو اس لیے اس انداز میں ان کو دعوتِ توحید دی گئی ہے
31:45کہ آپ نے اللہ کے علاوہ کسی کے ساتھ شرک نہیں کرنا
31:48اس بات پر تو آ جاؤ
31:50اچھا توراحت کے اندر تو آپ کو
31:53اتنی دفعہ مل جائے گا
31:55کہ خدا ایک ہے
31:57خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے
31:59یہ بالکل واضح طور پر مل جائے گا
32:01اور خود
32:03جو
32:04عیسائیوں کی جو کتاب ہے
32:07انجیل
32:08اس کے اندر بھی بے شمار مرتبہ یہ بات ذکر ہے
32:11کتاب جو یوہنہ ہے
32:14اس کے مختلف چپٹرز آپ پڑھیں گے
32:16اس کے اندر یہ بات لکھی ہوئی ہے
32:18کہ اللہ جو ہے
32:19وہ جو تمہارا رب ہے
32:21خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جملہ موجود ہے
32:24وہ تمہارا رب ہے
32:25اور اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے
32:28تو خود ان کی کتابوں میں یہ بات لکھی ہوئی ہے
32:31تورات میں لکھی ہوئی ہے
32:33انجیل میں لکھی ہوئی ہے
32:34یہی بات قرآن کریم میں بھی لکھی ہوئی ہے
32:36ساری آسمانی کتابوں کا ایک ہی جملہ ہے
32:39مگر انہوں نے کیا کیا
32:41کہ شیطان نے ان کو گمراہ کیا
32:42تو انہوں نے یہ کہا
32:44جی آیاتیں جو متشابہات تھی
32:47جیسے ہم نے پہلے بھی ذکر کیا تھا
32:48کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کو کہیں
32:51جو ہے وہ رب کہا گیا ہے
32:54یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے
32:56یہ کہا گیا ہے
32:57کہ اے عیسیٰ تمہارا باپ یہ کہتا ہے
33:00تو وہ جو باپ کا لفظ ہے
33:02وہ استعمال ہوا ہے
33:03خدا کے معنی میں ان کی کتاب میں
33:05لیکن جیسے ہماری کتاب کے اندر
33:08اللہ کے لیے ہاتھ کا لفظ استعمال ہے
33:10دیگر الفاظ استعمال ہیں
33:11تو قرآن نے سورہ عالی عمران کے شروع میں
33:13اسی لیے کہا ہے کہ یہ متشابہات کے پیچھے
33:16جو بھاگتے ہیں وہ گمراہ ہوتے ہیں
33:18فَيَتْتَبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْحُبْتِغَى
33:20الْفِتْنَةِ وَبْتِغَىٰ تَعْوِيلِ
33:22وَمَا يَعْلَمُ تَعْوِيلَهُ لَهُ لَلَّهُ
33:23تو انہوں نے پھر متشابہات
33:25الفاظ کو پکڑ کے توحید کو
33:27انہوں نے چھٹی کر دی اور وہ شرک کی طرف
33:30چلے گئے
33:30تو دوبارہ اس توحید کی طرف ان کو
33:32دعوت دی گئی ہے
33:33پھر فرمایا
33:34فَإِنْ تَوَلَّهُ
33:34اگر یہ پھر جاتے ہیں
33:36اور قبول نہیں کرتے ہیں
33:38فَقُولُو تو اے مسلمانو
33:39تم اتنا کہہ دو
33:40اشہدو
33:41بھئی گوا رہو
33:43مسلمان یہ کہیں
33:46کہ ہم ہمارے ایمان پر لوگ گوا رہے ہیں
33:49کہ ہم عیسائیوں سے بیزار ہیں
33:51ہم عیسائیوں کی عقیدے پر نہیں ہیں
33:53ہم تو خدا کی توحید پر ہیں
33:55بِأَنَّا مُسْلِمُون
33:57کہ ہم تو مسلمان ہیں
33:58عیسائی کچھ بھی کرتے رہے ہیں
34:00ہم مسلمان ہیں
34:01یہاں لفظے مسلم لائے گیا ہے
34:03مسلم کے معنی ہوتے ہیں
34:04سرنڈر کرنا
34:05اپنا سب کچھ حوالے کر دینا
34:07یہ اس طرف اشارہ ہے
34:09توحید تب ہی ملتی ہے
34:10جب بندہ اپنا سب کچھ
34:12اللہ کے حوالے کر دیتا ہے
34:13اگر عقل کے پیچھے چل رہا ہے
34:16اور اپنی چیزوں کے پیچھے چل رہا ہے
34:18تو پھر اس کو خدا نہیں ملتا
34:19سرنڈر کرنا پڑتا ہے
34:21پھر کہا
34:22یا اہل کتاب
34:23اے اہل کتاب
34:24لِمَتُ حَاجُّونَ فِي عِبْرَاهِيمَ
34:26تم کیوں کٹھ جتی کرتے ہو
34:28عبراہیم کے بارے میں
34:29وَمَا أُنزِلَتِ تَوْرَاتُ وَالْإِنجِيلُ
34:31اِلَّا مِمْ بَادِ
34:32حالانکہ تورات اور انجیل
34:34تو ان کے بعد نازل ہوئی ہیں
34:36اَفَلَا تَعْقِلُونَ
34:37کیا تمہیں عقل نہیں ہے
34:38یہودی کہتے تھے
34:41عبراہیم یہودی
34:42عیسائی کہتے تھے
34:44کہ عبراہیم عیسائی ہیں
34:46تو
34:48اللہ پاک یہ کہتا ہے
34:50کہ تمہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی
34:52کہ تورات اور انجیل
34:53حضرت عبراہیم کے
34:55کتنی صدیوں بعد نازل ہوئی ہیں
34:57جس سے تم لوگوں نے
34:59پھر اپنے گروہ بنائے
35:00یہود کے اور نصارہ اور عیسائیوں کے
35:02یہ تو کتنے بعد میں گروہ بنے
35:04جو گروہ تم نے صدیوں بعد بنائے
35:07اس گروہ کی طرف
35:09تم صدیوں پہلے آنے والے ہستی کو
35:11کیسے جوڑ سکتے ہو
35:13اور پھر تم اس پہ بحث بھی کر رہے ہو
35:17یعنی بحث کرنے کے لیے بھی
35:20کسی پروپیگنڈے کے لیے بھی
35:21کوئی تھوڑی سی بنیاد ہوتی ہے
35:23تمہارے پاس تو سرے سے
35:25کوئی بنیاد ہی نہیں ہے
35:26عبراہیم کا زمانہ کہاں
35:28تورات کا زمانہ کہاں
35:30انجیل کا زمانہ کہاں
35:31اور تم جوڑ رہے ہو کہ
35:32ابراہیم یہودی تھے
35:34ابراہیم عیسائی تھے
35:36تو یہ انہوں نے ذکر کر دیا
35:37کہ
35:38یا اہلالکتاب
35:39لِمَتُ حَاجُّنَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ
35:42تَوْرَاتُ وَلِنْجِيلُ
35:43إِلَّا مِمْ بَعْدِ
35:44یہ تو ان کے بعد نازل ہوئی
35:46اَفَلَا تَعْقِلُونَ
35:47تمہیں اقل نہیں
35:48ہا انتم ہا اولائی حاججتم
35:51کتنے افسوس کی بات ہے
35:52کہ تم اس پہ حجتیں بھی کر رہے ہو
35:54فِي مَا لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ
35:56جس چیز میں
35:58تھوڑا سا علم ہوتا ہے
36:00وہاں بھی تم حجت کرتے ہو
36:01فَلِمَتُ حَاجُّنَ فِي مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ
36:04جہاں تمہارے پاس
36:05علم ہی نہیں ہے
36:06وہاں تم کیوں
36:08کٹ حجتی کر رہے ہو
36:10وَاللَّهُ يَعْلَمْ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
36:13اور اللہ جانتا ہے
36:14اور تم نہیں جانتے ہو
36:16تو یہ حقیقت
36:18ان آیات کے اندر واضح کی گئی
36:19اور
36:20قرآن کریم کس طریقے سے
36:23لوگوں کو موقع فراہم کرتا ہے
36:26کیسے وہ
36:28ایک پیس فل ماحول میں
36:30بات کرتا ہے
36:31اپنی حجت کو کیسے تمام کرتا ہے
36:34عقل کے تمام تقاضوں
36:36کو کیسے پورا کرتا ہے
36:38وہ پہلی ہی لٹھ میں
36:40کسی کو جہنم میں نہیں پہنچاتا
36:42وہ پہلی ہی لٹھ میں
36:44کسی کے جنتی جہنمی ہونے
36:46کا فیصلہ نہیں کرتا
36:47وہ لوگوں کے آمال کو
36:49ان کی فکروں کو
36:50نظریات کو پرکتا ہے
36:52دیکھتا ہے
36:53دیکھنے کے بعد
36:54ان کی غلطی کو
36:55ان پہ واضح کرتا ہے
36:57اس پر جو
36:58قرآن کے دلائل ہیں
37:00جو اللہ کی
37:01وحی کے دلائل ہیں
37:02ان کو پیش کرتا ہے
37:04پھر عقلی دلائل کو پیش کرتا ہے
37:06مباحلہ ہو
37:07مباحلہ تک کیا جاتا ہے
37:09ساری چیزیں پیش کرنے کے بعد
37:12پھر ان کو
37:13لوجیکل انداز میں
37:14سمجھایا جا رہا ہے
37:15کہ باقی چیزیں
37:17ہم اس میں لڑیں
37:18اور اس میں لڑیں
37:19ایک توحید پہ ہی آ جاؤ
37:20خدا کے بندے
37:21توحید تو مشترک تھی
37:23کتابوں میں توحید تو مشترک ہے
37:26کسی سے بھی جا کے پوچھ لو
37:28وہ یہ نہیں کہہ سکتا
37:29کہ کتاب میں توحید نہیں ہے
37:31وہ توحید بھی تم نے چھوڑ دی
37:32تو اللہ پاک نے
37:34عیسائیوں اہل کتاب کے ساتھ
37:36کتنی نرمی کا معاملہ کیا ہے
37:38آپ دیکھیں
37:39ان کا زبیہ حلال کیا گیا
37:41مسلم مرد ہو
37:43اور کسٹن عورت ہو
37:45اس کے نقاق تک کو حلال کیا
37:47جو آپس میں مشترکات تھے
37:49صرف اہل کتاب ہونے کی وجہ سے
37:51حالانکہ ان کا شرک واضح ہے
37:53اس کے باوجود
37:54اتنا ان کے درمیان
37:56جو ہے وہ
37:57کوشش کی گئی
37:59تعلیف قلبی کی
38:00کہ ان کا دل مائل ہو
38:01سمجھ جائیں
38:02آ جائیں آ جائیں آ جائیں
38:04وہ بھی اہل کتاب ہیں
38:05مسلمان بھی اہل کتاب ہیں
38:07ان کے پاس بھی ایک کتاب آئی ہے
38:09کتاب کے اس
38:10اشتراک کی وجہ سے
38:11کچھ تو ان میں نرمی پیدا ہو
38:13لیکن سب کچھ کرنے کے باوجود
38:16جب انسان
38:18نہیں اس طرف آتا ہے
38:19تو خود اقل یہ کہتی ہے
38:21کہ یار
38:22اللہ کسی کو جہنم میں نہیں بھیجتا
38:24اللہ کسی کو کافر نہیں بناتا
38:27لوگ خود اپنے راستے
38:29تلاش کرتے ہیں
38:31لوگ خود اپنے راستے بناتے ہیں
38:33یہ بات ان آیات سے
38:34کتنی اچھی طرح واضح ہو رہی ہے
38:36ہم اس کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں
38:38پروگرام کا جو وقت ہے
38:39وہ اپنے اختتام کو پہنچا
38:42اور انہی سے ریلیٹ آگے بھی آیات آ رہی ہیں
38:45یہودیوں عیسائیوں کی سازشوں کو
38:47اچھے انداز میں واضح کیا گیا ہے
38:48ان آیات کو بھی ہم دیکھیں گے
38:51آپ اپنا خیال رکھیں
38:53اللہ حافظ و ناصر
38:55ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ غُدًا لِلْمُتَّقِينَ
Comments

Recommended