Skip to playerSkip to main content
Tableegh e Islam Aur Buzurgan e Deen - Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani RA

Watch All Episodes here ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLfpNg7Rlhxfk

Host: Safdar Ali Mohsin

Guest: Dr. Mazhar Fareed, Dr. Hafiz Irfanullah Saifi, Qari Tariq Masood

#aryqtv #TableegheIslamaurBuzurganeDeenn #islam

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:28Bismillahirrahmanirrahim
00:30اپنی توحید کی بالا دستی کے لیے
00:32اپنے عمر کے نفاظ کے لیے
00:34نیکی کے نفاظ کے لیے
00:36اور برائیوں سے منع کرنے کے لیے مبوس فرمایا
00:40حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر
00:42تاجدار ختم نبوت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:47تک جملہ انبیاء اکرام نے
00:48انی فرائض پر اپنے منصب کی انجائم دہی کی
00:51حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے وسال کے بعد
00:55یہ ذمہ داری
00:56اصحاب رسول اہل بیت رسول اور اس کے بعد
01:00تابعین اطبع تابعین اور درجہ بدرجہ
01:03اولیاء تک اسفیاء تک عطقیاء تک
01:05اور آج کے دن تک آمد المسلمین اور مسلمات تک پہنچی ہے
01:09گویا حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی
01:13تبلیغ اسلام کے صدقے میں آج
01:15جو بھی ان کے نتیجے میں مسلمان ہوا
01:18ایمان کے دائرے میں داخل ہوا
01:19اس پر بھی اللہ رب العزت کے فرامین
01:22اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو پہنچانا
01:25چاہے وہ ایک ٹکڑے کی صورت میں کیوں نہ ہو
01:28وہ ضروری ہے
01:28گویا ہر فرد کو اپنی ذات میں ایک مبلغ قرار دیا گیا ہے
01:32چھوٹا سا ٹکڑا چھوٹی سی آیت چھوٹا سا حصہ بھی ہو
01:36اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے منتقل کرے
01:39بزرگان دین نے
01:40اولیاء اللہ نے
01:41اللہ کے نیک بندوں نے
01:43اور ان کنیم نفوسِ قدسیہ نے
01:45یہ کام اپنی اپنی حیات میں
01:47بڑے احسن طریقے سے
01:48توازوں سے حسن سے سرانجام دیا
01:51ہمارے اس پروگرام میں
01:52انہی بزرگان دین کو خراج محبت
01:54خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے
01:56اور بالخصوص یہ مہینہ کیونکہ
01:58ربی الثانی کا حضور غوث السکالین
02:01سیدنا عبدالقادر جیلانی
02:03رضی اللہ تعالی عنہ کی
02:05بابرکت ذات سے منصوب ہے
02:07تو انہی کے نقوشے پاپر کرتے ہوئے
02:09جتنے اولیاء نے
02:10اپنے منصف کی انجام دہی کی
02:12ہم سب ان کے خدمات کا تذکرہ کرنے کا شرف پاتے ہیں
02:16آج کے چوتھے پروگرام میں
02:18آج کے چوتھے پروگرام میں بڑھتے ہیں
02:20اپنے معزز بہمانوں کے خیر مقدم کی جانب
02:23آج ہمیں ایک دفعہ پھر شرفیاب کیا ہے
02:26ایک بڑی کریم شخصیت کے کریم بیٹے نے
02:29ابو نصر حضرت منظور عمد شاہ صاحب
02:32رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات گرامی
02:34کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے
02:36ساہیوال کی جامعہ فریدیہ کے
02:39محتمم ہونے کی حیثیت سے
02:40انہوں نے اس پورے خطے میں
02:42اسلام کے نور کی روشنی جس احسن انداز میں پھیلائی
02:46وہ انہی کا حصہ تھا
02:47انہی کے لخت جگر نور نظر
02:49ہمارے مقدوم محترم جناب ڈاکٹر مظہر فرید صاحب
02:53دامت برکات مولالیہ
02:54آج کی نشست میں ہمارے مہمان ٹھہرے ہیں
02:56سلام علیکم
02:58داکسر قبلہ خوش آمدید بھی
03:00حدیعہ تشکر بھی
03:02اور سفر کر کے تشریف لانے پر خصوصی
03:04آپ کے خدمت پر تشکر
03:05میرے دوسرے مہمان بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے
03:08سینکڑوں نشستوں میں
03:10ہمیں ان کی مائیت رفاقت
03:11صحبت نصیب رہی ہے
03:13بڑے حلم کے ساتھ
03:14توازوں کے ساتھ
03:15خسن کے ساتھ
03:16اپنے منصب کو
03:17اور اپنے پیغام کو
03:18اپنے سامعین تک
03:19ناظرین تک پہنچاتے ہیں
03:20گیریین یونیورسٹی لاہور کی
03:22شعبہ علوم اسلامیہ کی
03:24بڑی وقی شخصیت
03:25جناب ڈاکٹر عرفان اللہ سیفی
03:27السلام علیکم
03:28سب خوش آمدے
03:30آپ کا بھی بہت شکریہ
03:31اور بز میں غوث آزم میں
03:33آپ کا خیر مکتب ہوا
03:35ساہیوال سے ہی
03:36ارضی وطن کے بہت خوش گلو
03:38خوش نوا
03:38سناخان رسول
03:39مرحبہ
03:40یا مصطفیٰ کے
03:41ہمارے میگا ایونٹ کے ذریعے
03:43عزت توقیر اور شہرت پانے والے
03:45حافظ اکاری
03:46جناب تارک مسعود صاحب
03:49آج ہمارے ناتخانی کے حوالے سے مہمان ہیں
03:51السلام علیکم
03:53بہت شکریہ
03:55آپ کے لئے بڑے شرف کی بات ہے
03:57کہ آج اپنے شیخ کریم کے سامنے بیٹھ کر
03:59جامعہ فریدیہ کی طالب علم کی ہونے کی
04:01ایسی ایسے سے بھی
04:02اپنا حصہ اور اپنی نوکری پیش کریں گے
04:03آپ کی نات شریف سے ہمیں آگے پڑھنا ہے
04:05بسم اللہ فرمائے
04:12ہر طرف ہے
04:17خوشی
04:22مدینے میں
04:23ہر طرف ہے
04:27خوشی
04:33مدینے میں
04:38کب ہے کوئی
04:41دکھے
04:49مدینے میں
04:55اور جس کی باتی نہ تھی
05:06زمانے میں
05:13جس کی باتی نہ تھی
05:22زمانے میں
05:26بات اُس کی
05:29بنی مدینے میں
05:36بات اُس کی
05:39بنی مدینے میں
05:47اور مجھ سے بچھڑی ہوئی
05:53تھی برسوں سے
06:03زندگی آمیلی
06:08مدینے میں
06:15زندگی آمیلی
06:18مدینے میں
06:20مجھ سے بچھڑی ہوئی
06:31تھی برسوں سے
06:38زندگی آمیلی
06:42مدینے میں
06:47اور اُن کے صدقے
06:51ہر ایک دعا
06:57میری
07:02میرے رب نے
07:07سنی مدینے میں
07:13ہر طرف ہے
07:15خوشی مدینے میں
07:24سبحان اللہ
07:25سبحان اللہ
07:26طارق بھئی کیا خوبصورت انداز میں
07:28آپ نے نظر آنے عقیدت پیش کیا
07:30اللہ کریمہ کو بہت خوشیاں دے
07:32اور نات کی برکات سے مزید نوازیں
07:34وہ مدینہ شریف کی بات ہے
07:36ایک شیر کے حدیعہ کے ساتھ
07:37ڈاک ساب سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں
07:39ڈاک ساب کی بھلا ایک شیر
07:40اور
07:43وادی اشک سے
07:45رحمت کی سنت چاہتے ہیں
07:48وادی اشک سے رحمت کی سنت چاہتے ہیں
07:51اہلِ مکہ بھی مدینے میں اللہت چاہتے ہیں
08:00آئیے
08:01uh
08:01تذکارے
08:03دیارے نور کے بعد
08:04بڑھتے ہیں
08:05آج کے
08:06موضوع سخن
08:07کو کھولنے کے لیے
08:07تبلیغ اسلام
08:08اور بزرگان دین
08:09ہمارے اولیاء نے
08:10کتنی ایفرٹس کی
08:11اور اپنی مسائی
08:13جمیلہ اسراء میں
08:14کس طرح پیش کی
08:14اس سلسلے کا
08:15یہ چوتھا پروگرام ہے
08:16آئیے گفتگو کا
08:17آغاز کرتے ہیں
08:18جنبی ڈاکٹر مظر فرید صاحب سے
08:19ڈاکٹر سابب کبلہ
08:20مسلمانوں کے
08:21اروج و زوال
08:22پر اگر نظر ڈالیں
08:24تو ہمیں ہر جگہ
08:26جہاں جہاں
08:26مسلمان اروج پر
08:27جاتے نظر آئیں گے
08:28وہ ہمیں
08:29اہل اللہ کی
08:30تبلیغ کے
08:31اثرات کی برکت سے
08:32اوپر جاتے نظر آئیں گے
08:33اور جہاں جہاں
08:34وہ اہل اللہ کا
08:35راستہ چھوڑتے ہیں
08:35وہاں وہ زوال
08:36کا
08:37ہمیں شکار نظر آتے ہیں
08:38آپ اس بارے میں
08:39کیا فرمائیے گا
08:40بسم اللہ الرحمن الرحیم
08:43اصل میں
08:44اروج و زوال کے
08:45حوالہ سے
08:46اولیاء اکرام
08:47نے کوئی
08:48الگ منحج نہیں دیا
08:49درست
08:50اصل وہی ہے جو
08:51قرآن و سنت کی
08:52روشنی میں
08:53بلکل ٹھیک
08:53اور اسی کو لے کر
08:56اولیاء اکرام
08:58متقین
08:58آگے بڑھے ہیں
08:59اور انہوں سے
09:00سب سے پہلے
09:02وہ ہے
09:03ذہن سازی
09:04جب تک
09:05ذہن سازی نہ ہو
09:07کوئی بھی
09:08فرد
09:09یا جماعت
09:10آگے نہیں بڑھ سکتا
09:11درست
09:11قل حل یستویل
09:16کیا جاننے والے
09:18اور نہ جاننے والے
09:19برابر ہو سکتے
09:20اللہ ہوئے پر
09:20سب سے پہلے
09:21اللہ کے ولیوں نے
09:23وہ جو
09:24سب سے پہلے کیا
09:25وہ ذہن سازی کی ہے
09:26اور دوسری بات
09:29یہ ہے کہ
09:30بلندی کے لیے
09:32ایماندار ہونا
09:34اور یہاں پر
09:35فرمایا کہ یہ
09:36دیکھو
09:37وَأَنْتُمُ الْعَالَوْنَا اِنْكُنْ تُمْ مُمِنِ
09:39اگر تم ایماندار ہو
09:42تو سر بلندی تمہاری ہے
09:43بلکل ٹھیک
09:44بگر اس میں مسئلہ یہ ہے
09:45کہ سر بلندی ہے
09:47ایمان کے ساتھ
09:48مگر ایمان
09:49کہاں سے ملتا ہے
09:51ایمان ملتا ہے
09:52تو جیسے ابھی آپ نے ذکر کیا
09:54وہ
09:54کائنات کیا کا
09:56سرکار دوسرا
09:57صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:59کی محبت سے ملتا ہے
10:00اللہ اکبر کبیرہ
10:01لَا يُؤْمِنُ اَحْدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالَدِهِ وَالْنَّاسِ اَجْمَعِينَ
10:08اگر تم چاہتے ہو
10:09کوئی ایماندار
10:10بولو
10:10سب سے زیادہ بیار
10:11محبت
10:12جو میری ذات کے ساتھ
10:13ہونا چاہیے
10:14اب یہ عمل
10:15یہاں پر
10:17جو
10:17حضور کی محبت کے ساتھ ہے
10:19اس کا تقاضہ یہ ہے
10:21کہ دین کو قائم کیا جائیں
10:23زیادہ زور
10:24اولیاء اکرام نے اس پر دیا
10:26اَنَاقِيمُ الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا
10:29دین کو قائم کرو
10:30دین کیا ہے
10:31علامہ راغیب اسفران لکھتے ہیں
10:34اَدْدِينُ اسْمُ لِمَا شَرَ اللَّهُ تَعَلَىٰ لِعْبَادِهِ عَلَىٰ لِسَوَانِ الْعَنْبِيَاءِ
10:39لِيَتَوَسَّلُوا بِهِ الَا جِوَارِ اللَّهِ
10:42سبحان اللہ
10:43کہ جس وقت کوئی شخص دینی معلومات پر
10:47وہ اس ذابطہ حیات پر عمل کرتا ہے
10:49تو انسان اٹھتا ہے
10:52اور اللہ جلال جلال ہو کے جوار میں چلا جاتا ہے
10:54اور شیخ عبداللہ دراز نے کتاب الدین میں بڑی خوبصورت وعال لکھی
10:58وہ لکھتا ہے کہ
10:59اَدْدِينُ وَزْعُنْ اِلَاہِيُنْ سَائِقُنْ لِزْوِ الْاقُولِ
11:03بِاخْتَعَارِمِ الْمَحْمُودِ لِسَّلَاہِ فِى الْحَالِ وَالْفُلَاہِ فِى الْمَعَالِ
11:07جس وقت کوئی شخص اس قانون اس ذابطے کو اسلام کو لیتا ہے
11:12تو اس وقت اس کا تن بھی اجلا ہو جاتا ہے
11:15اس کا من بھی اجلا ہو جاتا ہے
11:18اچھا اسی بات کو لے کر
11:20وہاں پر
11:22اولیاء اعظام نے ایک کو لیا
11:24اور اس کے ساتھ
11:26اللہ جلال جلال ارشاد فرماتا ہے
11:29وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُتْ تَوْرَاتَ وَالْإِنجِيلَ
11:32وَمَا اُنزِلَا إِلَيْهِ
11:35اگر یہ لوگ تورات کو انجیل کو نافذ کر لیتے
11:39جو اس پر رازل کیا گیا ہے
11:40تو پھر ہوتا کیا
11:42لَا أَقَالُ مِنْ فَوْقِهِ وَمِنْ تَحْتِ عَرْجُلِهِ
11:44اللہ اللہ اللہ
11:45تو انہیں روزی رزق ان کی تلاش کرتا
11:48اور اسی بات کو
11:50اسی بات کو اولیاء نے
11:52صوفیاء نے
11:53اتقیاء نے
11:54اس کو لیا
11:55اور یہ بتایا کہ اصل میں
11:58یعنی پورے وجود پر
12:00پورے وجود پر قرآن کو نافذ کر لینا
12:02یہ انسانی زندگی کو
12:04کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں
12:05اور پھر بات یہ ہے
12:07کہ ساری چیزیں کرنے کے بعد
12:10جو انہیں کام کیا
12:12جذبہ عیسار
12:13اور سب جذبہ عیسار
12:15بہت اچھے
12:16وہ یہ ہے
12:16وَيُوسِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِينَ وَلَوْكَانَ بِهِمُ خَسَاسَا
12:20خود بھوکے بھی ہوں دوسروں کو پیش کرتے ہیں
12:22اس چیز نے وہ اثر کیا
12:24کہ پورے پورے معاشرہ کے اندر لوگ کھنچے چلے آئے
12:27اور یہاں تک نہیں
12:29بلکہ یہاں پر
12:31یہ ہے کہ استماعی حیات میں
12:33وہاں پر منظم جد و جہد
12:36اب یہاں پر جب تک نہیں ہوتی
12:38یہ پھر ریزلٹ نہیں نکلتا
12:41اور جب یہ استماعی جد و جہد
12:44نکتہ عروج تک پہنچتی ہے
12:46تو پھر بندے کا تن بھی ہجلا ہوتا ہے
12:49اور بندے کا من بھی ہجلا
12:50سبحان اللہ
12:52جنابی ڈاکٹر مظہر فرید صاحب نے
12:54بہت خوبصورت بنیاد فراہم کر دی
12:56انہوں نے بتایا کہ عروج کے
12:58کرائٹیریاز کیا ہوتا ہے
12:59اس کے لیے تقاضے کیا ہیں جن پر عمل کرنے کے بعد
13:02قومیں عروج کی جانب بڑھتی ہیں
13:04اور جب جب مسلمانوں کو مسلم معاشرے کو عروج
13:06نصیب ہوا ہے وہ انہی کرائٹیریاز
13:08پر عمل کر کے نصیب ہوا ہے
13:10اور جب جب ان سے ہم نے روگردانی کی ہے
13:12تو پھر چشم فلک نے
13:14ہماری خواری کے منظری دیکھے ہیں
13:16اور آج تک یہی مسئلہ ہمارے ساتھ رہا ہے
13:18اللہ کرے کہ ہمیں عمل
13:20کا رستہ نصیب ہو جائے اور انہی
13:22نقوشے پاپر چلنے کی توفیق مل جائے
13:24جن کے نقش ہمارے کریم آقا
13:26علیہ السلام نے ہمارے لیے چھوڑے
13:29اور بعد کے لوگوں نے کامیابی
13:30سے ان پر چل کر اپنی منزل
13:32تک رسائی حاصل کی
13:33میں ایک وقفے کی طرف بڑھ رہا ہوں
13:36اور جنابے ڈاکٹر عرفان اللہ سیفی صاحب
13:38کی خدمت پر سوال عرض کر دیتا ہوں
13:40کہ غیر مسلموں کو بزرگان دین
13:42نے اپنی تبلیغ سے کیسے متاثر کیا
13:44مسلمانوں کے روج اور زوال کے بارے میں
13:46تو ہم نے جان لیا
13:47تو جو غیر مسلم تھے ان کو بھی بہت انسپائر کیا
13:50ہمارے سارے شیوخ اور مشایخ نے
13:52ان کی کچھ جھلکیاں ہم آپ سے چاہیں گے
13:54ڈاکٹر صاحب ایک مختصر سا وقفہ
13:56ویلکم بیک ناظرین تبلیغ اسلام اور
13:58بزرگان دین کے سلسلے کا چوتھا پروگرام
14:00داتا کی نگری لاہور سے اے آر وائکو ٹیوی پر
14:02ترتیب وار یہ سارے موضوعات آپ کی
14:04سماعتوں کے حوالے کیے جا رہے ہیں
14:06مہینہ حضور غوث السکالین
14:08الشیخ السید عبدالقادر جیلانی
14:11رضی اللہ عنہ کا ہے
14:12اولیاء کے تاجدار کا مہینہ ہے
14:14اور اسی نسبت سے ہم اولیاء
14:16اور اہل اللہ کی تعلیمات کا ذکر
14:18تبلیغ اسلام کے پیرائے میں کر رہے ہیں
14:21سوال ڈاکٹر رفان اللہ
14:22صحیفی صاحب سے عرض کیا جا چکا
14:24جب آپ کا ڈاکس اپتالی
14:25بسم اللہ الرحمن الرحیم
14:27بہت شکریہ جزاکم اللہ خیرہ
14:30صفدر بھائی اس میں
14:31میرا خیال ہے
14:33کہ جو بھی اہل علم ہیں
14:35اور دیانتدار اہل علم ہیں
14:38وہ
14:39اس سے کامل اتفاق کریں گے
14:41کہ ہر وہ خطہ زمین
14:43جہاں اسلام کی روشنی پھیلی ہے
14:45وہ اسلام کی روشنی نور نبوت
14:47حاصل کرنے والے ان اولیاء اکرام
14:49نے پہنچائی
14:50بڑی خوبصورت بات
14:51کسی بھی خطے میں آپ دے گی
14:53کہ جو دیانتدار اہل علم
14:56وہ تو اس سے ہر صورتے اتفاق کریں
14:58اس میں کوئی دوسری رائے نہیں
14:59آپ دیکھئے
14:59ہم چونکہ اس برے سغیر کے باسی ہیں
15:02اگر ہم اس خطے کو دیکھیں
15:03تو وہ لوگ جو آغاز میں
15:05یہاں پر سندھ میں آئے
15:07یہ اصل میں وہ تاجر تھے
15:09جو تجارت کے لیے یہاں آئے
15:10انہوں نے اپنے کردار سے
15:12اپنے اخلاق سے
15:13متفق
15:14اور اپنی طرز بودھو باس سے
15:17لوگوں پر اثر ڈالا
15:18اور پھر ان کو اسلام کی طرف راغب کیا
15:21یہاں پر
15:22لوگوں کے فکر کو تبدیل کیا
15:24اور یہ سب سے
15:25بہت مشکل کام ہوتا ہے
15:27کسی کا نظریہ چینج کرنا
15:29اور کسی کی فکر کو تبدیل کرنا
15:31اور یہ چیزیں
15:32ان بزرگان دین نے لمحوں میں چینج کی ہیں
15:35اور آپ دیکھئے
15:36کہ کسی بزرگ کا مجھے قول یاد آرہا ہے
15:39ان سے کسی نے پوچھا
15:40کہ جناب آپ بتائیے
15:41کہ وہ بہترین
15:42تبلیغ کونسی ہے
15:44جو بہت زلدی مساثر کرتی ہے
15:46انہوں نے کہا کہ وہ تبلیغ
15:48جس کے الفاظ کم ہوتے ہیں
15:50یعنی الفاظ کم ہوں
15:51آپ کا کردار بتائے
15:53کہ آپ جو ہے
15:54وہ واقعیت واقعیت ایک مبلغ ہے
15:56حضرت بہت دن زکریہ ملتانی
15:59رحمت اللہ علیہ
16:00آپ کا یہی طرز عمل تھا
16:01آپ کے جو جامعہ کے فارغت تحصیل ہوتے
16:04اور آپ کی تربیت سے گزرے ہوئے
16:07جو لوگ جاتے
16:09اور آپ ان کو کہیں نہ کہیں بیشتے
16:11اور ان کو جا کے کہتے
16:12کہ آپ نے وہاں جا کے کاروبار کرنا
16:14دو سال تین سال کاروبار کریں
16:16پھر اس کے بعد آپ نے تبلیغ کرنی ہے
16:18تاکہ آپ لوگوں کو بتا سکیں
16:20کہ آپ کیا ہے
16:20تو سفدر بھائی یہاں پر
16:23لوگوں کی فکر کو تبدیل کیا ہے
16:24اور میں اس کی ایک مثال اگر نہ دوں
16:26تو میرا خیال ہے کہ
16:27ہمارا یہ جواب تشنہ رہ جائے گا
16:29وہ حضرت خاجہ
16:33نظام الدین اولیاء رحمت اللہ علیہ
16:34کی بارگاہ میں آنے والا
16:36ایک ہندو
16:37راج کمار ہردیو ہے
16:39جس کا ذکر نظامی بنصری کے اندر کیا گیا ہے
16:43حسن نظامی نے کیا
16:44اور ان کے بلکہ چاہل روزہ کو
16:46نظامی بنصری کا حصہ بنایا
16:47وہ تو ایک ہندو تھا
16:49اور آپ کی مجلس میں آیا
16:51اور ایک عرصہ دراز تک ہندو رہا
16:52لیکن وہ لکھتا ہے
16:54کہ مجھے ایک لمحے کے لئے بھی
16:55محسوس نہیں ہوا
16:56کہ میں ان کے مذہب کا نہیں ہوں
16:58میں ہندو ہوں
16:59ان کی شفقت
17:00ان کی محبت
17:01مجھے اپنے قریب کرتی گئی
17:02کرتی گئی کرتی گئی
17:08جو ہے وہ چیزیں اور تفصیلات لکھتے ہیں
17:10وہ ایک راج کمار ہردیو ہے
17:13جن کو اسلام کی توفیق ملی
17:15یہاں لاکھوں راج کمار ہردیو ہیں
17:17جو صاحبِ قلم نہیں تھے
17:19جو لکھ نہیں سکے
17:19لیکن ان کی زبانِ حال نے بتایا
17:22اس معاشرے کی فضاء نے بتایا
17:24کہ واقعہ تن
17:25وہ اسلام سے
17:26اور ان بزرگانِ دین کی
17:28سیرت و کردار سے متاثر ہو کر
17:29وہ دردہ اسلام میں داخل ہوئے
17:31اب یہاں دیکھئے
17:32کہ یہاں تو
17:33اس جو خطہ کے اندر
17:35ہندووں کا غلبہ تھا
17:36اور پھر یہاں ہندووں کے غلبے میں
17:38آکے اسلام کی تبلیغ کو
17:40لوگوں کے دلوں میں پہنچانا
17:41اور اسلام کا پیغام
17:42لوگوں کے دلوں میں پہنچانا
17:44پہنچانا
17:44یہ کتنی جلدی ممکن ہوا
17:46اور ہزاروں نہیں
17:47لاکھوں لوگ جو ہے
17:48وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں
17:49آپ حالات حضرت خاجہ مہین الدین
17:51چشتی اجمیری رحمت اللہ علیہ کے حالات کو دیکھیں
17:53حضرت بابا فرید گنشکر
17:56انہوں نے کیا کیا
17:57انہوں نے محبت اور پیار کا سبق دیا
17:59انہوں نے خانکاہیں بنائیں
18:01اور جو خانکاہیں
18:02لوگوں کے دکھوں کا مداوہ کرنے والی تھی
18:04جب ایک شودر وہ محسوس کرتا ہے
18:06کہ میرا ہندو بھائی
18:07مجھے اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا نہیں کھلاتا
18:10لیکن ایک مسلمان
18:11میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے میں
18:13کوئی حرج محسوس نہیں کرتا
18:14تو وہ پھر ساتھ ملتے گئے
18:16اور پھر اسلام سے متاثر ہوتے گئے
18:18اور یہ سارے کا سارا
18:20جو چمن ہے
18:21وہ اسلام کی خوشبو سے
18:23جو ہے موطر ہونا شروع
18:24سبحان اللہ
18:24آپ کے ایک لفظ نے مجھے بہت اٹریکٹ ہیا
18:27ساری اچھے لفظ ہوتے ہیں
18:28لیکن بہرحال کوئی سیدھا جا کے
18:30دل پہ لگ جاتا ہے
18:32جس طرح آپ نے کسی کا کال نکل فرمایا
18:34نا ڈاک ساب کے
18:35اچھی تبلیغ وہی جس میں الفاظ سب سے کم
18:37اور کردار سب سے زیادہ
18:39واصف صاحب کا
18:41ایک شیر مجھے یاد آ رہا تو
18:42میں نے کہا میں آپ کے عرض کروں
18:43وہ لکھتے ہیں کہ
18:44بول عرض مدعا
18:46تقریر طولانی نہ کر
18:48بول عرض مدعا
18:50تقریر طولانی نہ کر
18:51قیمتی الفاظ کی
18:53اتنی بھی عرضانی نہ کر
18:55اللہ اکبر
18:56ڈاک ساب کی بلا
18:57برے سگیر پاکو ہند کے خطے کو
18:59بلوحسوس اپنے خطے کو ہم دیکھتے ہیں
19:00تو صوفیہ اکرام
19:02اور بزرگان دین کی جو تبلیغ خدمات ہیں
19:05وہ اپنے نکتہ عروج پر نظر آتی ہیں
19:07بہت زیادہ ایفرٹز یہاں پہ
19:08ہر سلسلے کے لوگوں نے کی
19:10آپ ان ساری بزرگانیں
19:12برے سگیر پاکو ہند کی
19:14تبلیغی مسائی اور خدمات کو کیسے دیکھتے ہیں
19:16اشتر پہلی تو میں یہ عرض کرتا ہوں
19:19یہ جتنے بھی
19:22طریقت کے
19:23آپ کے پیشے نظر
19:25یہ سلسلے ہیں
19:27یہ سارے کے سارے
19:30اللہ جلالہ کی بارگاہ تک
19:32رسائی حاصل کرنے پہنچنے کے ذرائع ہیں
19:35یہ درست agree
19:36اور اس میں
19:37کوئی اس طرف سے چلا جاتا ہے
19:39کوئی اس طرف سے چلا جاتا ہے
19:40اس میں کوئی شاکر نہیں
19:41پہنی بات تو یہ ہے
19:42اور دوسری بات یہ ہے
19:43کہ تمام سلسل کی تعلیمات کو
19:46اگر دیکھا جائے
19:46تو تین حصوں میں
19:48ہمیں بٹیوی تقسیم نظر آتی ہیں
19:50وہ یہ ہے
19:52شریعت
19:53طریقت
19:53اور حقیقت
19:55شریعت کے اختیار کیا جاتا ہے
19:57تو
19:58تن درست ہو جاتا ہے
20:01اور پھر ظاہری
20:03حالات جو ہیں
20:03وہ بندے کے
20:04نماز ہے
20:05روزہ ہے
20:05حاجہ زکاة
20:06بلکل ٹھیک
20:07اور جس وقت
20:08طریقت آتی ہے
20:09تو اس وقت
20:10یہ انسان کے
20:12جو اندر کے
20:13خوابیدہ صلاحیتیں ہیں
20:14وہ
20:15نمدار ہوتی ہیں
20:16نکھر آتی ہیں
20:16سبر ہے
20:17شکر ہے
20:18اور بندے کا
20:19اللہ جللہ جلال کی بارگاہ کے
20:20اندر محبت کو پیش کرنے
20:21حضور کے ساتھ
20:22وہاں بستگی ہے
20:23یہ ساری چیزیں
20:24اور پھر یہ ہے
20:26کہ بڑھتا بڑھتا آدمی
20:27حقیقت تک
20:28پہنچتا ہے
20:29اور پھر یہاں
20:31تک پہنچتا ہے
20:31ان تابد اللہ
20:33کاننا کترا
20:34ای للم تکن تراہو
20:36فا انہو یراکا
20:37کیا عبادت
20:38اس انداز میں کر
20:39گویا کہ
20:40تو اپنے رب کے
20:41جلووں کو تک رہا ہے
20:42اور اگر
20:43تو اسے نہیں
20:43دیکھ سکتا
20:44اتنا تو یقین
20:45کر لے
20:45تیرا رب
20:46تو تجھے دیکھ رہا ہے
20:48اچھا یہ ہے
20:49وہ انداز
20:50شیخ ابن خلدون
20:51نے بڑی خوبصورت
20:52بات کی ہے
20:53اپنی ذات
20:54کو
20:55اللہ کے سپرد
20:56کر دینا
20:57اللہ کے سپرد
20:58کر دینا
20:59سپردگی
20:59بھئی اس کا نام
21:01ہے تصوف
21:01اس کا
21:03اسی پر زور دیا
21:04اولیاء اکرام نے
21:04صوفیہ نے
21:05عطقیہ نے
21:06اسفیہ نے
21:06اور وہ یہ ہے
21:08ازہد فی الدنیا
21:10یحبک اللہ
21:11وزہد فی ما
21:13فی عید الناس
21:14یحبک الناس
21:15دنیا کے اندر
21:16بے رغبت ہو جاؤ
21:17اللہ کے ساتھ
21:18رغبت رکھو
21:19رب ذل جلال
21:19تمہارے اندر
21:25لوگوں کے ساتھ
21:26رغبت نہیں
21:27یہ رغبت وہ ہے
21:29جو ان کے ساتھ
21:29محبت کر کے
21:30انہیں قریب کرنا
21:31سبحان اللہ
21:32یہ رغبت ہے
21:33مگر ان سے
21:34کسی چیز کی طلب
21:35چاہت
21:36کہ یہ مجھے کچھ دیں
21:38بھئی وہ تو
21:38خود اللہ کے موت آج ہیں
21:40تجھے کیا دیں
21:40اس بات کو
21:42صرف
21:42اللہ جلال
21:43جلال سے رابطہ
21:44ازہد فی الدنیا
21:45جرح القلب
21:46والجسد
21:47والرغبت
21:48فی الدنیا
21:48تکسر الحم
21:50والحسن
21:50جب بندہ
21:51بے رغبت ہو کر آگے
21:53بڑھتا ہے
21:54تو بندے کی
21:55کیفیتوں کے اندر
21:56ان جلا پیدا ہوتا ہے
21:57اور عضو فرماتا ہے
21:58کہ
22:06جتنے
22:07اولیاء اللہ ہیں
22:08کیا ان کے
22:08بڑے بڑے کارخانے
22:09بھی تھے
22:10کیا ان کے
22:11بڑے بڑے
22:11مارکیٹے تھے
22:12نہیں
22:13یہ سادہ
22:14لوگ تھے
22:14مگر
22:15رزق ان کے پیسے
22:16چلتا تھا
22:18آج ہم لوگ
22:19رزق کے پیسے
22:20جاتے ہیں
22:21اور یہ
22:22وہ لوگ تھے
22:23رزق ان کی
22:23تلاش کرتا تھا
22:24وہ صبح
22:25شام
22:26صبح
22:26شام
22:26ان کے پاس
22:27ڈھیر لگے ہوتے
22:27مگر جیسے
22:28کچھ آتا
22:29اسی طرح سے
22:30یہ تقسیم بھی
22:31کر دیا کرتے ہیں
22:32بہت شکریہ
22:32برنے صغیر کے اندر
22:34برنے صغیر کے اندر
22:36محمد بن قاسم آئے
22:37ملتان
22:38محمود غزمی نے حملہ کیا
22:40ہندوستان پر
22:41اب یہاں پر یہ وہ
22:43قربتیں تھیں
22:43تاجر جیسے
22:44رزق اندرسان جیسے
22:45کر کیا
22:45وہ تجار آئے
22:47تاجر آئے
22:48اور انہوں نے
22:49اپنا آپ پیش کیا
22:50انہوں نے اپنا آپ پیش کیا
22:52کہ ہمیں
22:53جو صلاحیت
22:54ربز الجلال نے دی ہے
22:55وہ تمہاری خدمت
22:56کے لئے یہ دی ہے
22:57لوگ کشاں کشاں آتے چلے گئے
22:59اب یہاں پر
23:00داتا گنج بخش علی حجویری
23:02آپ جلوہ فگنو بے
23:04آپ کا
23:06خاجہ مہین الدین چشتی حجمیری
23:07خاجہ نظام الدین چشتی حجمیری
23:09بابا فرید الدین گنج شکر
23:11حضرت شاہ رکن عالم ہے
23:13شاہ صدر الدین ہے
23:14یہ جتنے لوگ آئے
23:15انہوں نے آ کر
23:16اپنے آپ کو پیش کیا
23:18اپنا کردار پیش کیا
23:19بہت اچھا
23:20اور اس کردار کے پیش نظر
23:22وہ لوگ
23:23بلکل پروانے کی طرح
23:24جیسے شما کے گرد آتے ہیں
23:26وہ چلتے چلے ہیں
23:26بہت شکریہ
23:27جزاک اللہ
23:27بہت خوبصورتی سے
23:28آپ نے سرحد سے بیان فرما دیا
23:30ڈاک سب کی بلا
23:31جن نفوس کدسیہ کے
23:33جناب مظہر فرید صاحب
23:35نے اسماں گنوائے
23:36ان لوگوں نے مل کر
23:37ہند کے خطے پر
23:38جو حسرات مرتب کی ہیں
23:39بلخصوص
23:40برسگیر سب کانٹیننٹ پر
23:41اس کا کچھ اشاری ہے
23:44آپ انعیت فرمائیے
23:45جی
23:48سفدر بھئی دیکھئے
23:49یہ جو علاقہ ہمارا
23:50یہ ہے
23:52جو
23:53کہ ہزاروں خداوں کی
23:55عبادت کی اماجگات
23:56اور
23:57یہ ممکن نہیں تھا
23:59کہ لوگوں کو یہ سمجھایا جائے
24:00کہ یہ سارے خدا باطل ہیں
24:02اور ایک وحدہ حولہ شریف خدا ہے
24:05ان حضرات نے
24:07ان کی فکر کو درست کر کیے
24:09ایسے ایسے
24:10ان کے معاملات کے
24:12جو احوال ہیں
24:13ان کی کیفیات ہیں
24:14ان کو درست کیا
24:15کہ یہ اس بات کو
24:17ماننے پر مجبور ہو گئے
24:18کہ واقعاً
24:19اللہ وحدہ لا شریف
24:20اور اس کے لیے جو انہوں نے
24:21اسلوب اپنایا
24:22وہ
24:27یہ اسلوب تھا
24:29کہ حکمت کے ساتھ
24:30اور مجادلہ حسنہ کے ساتھ
24:32اور
24:33اپنے کردار اور اخلاق کے ساتھ
24:35ان لوگوں کو
24:35اسلام کی دعوت اور تبلیغ
24:37اب آپ دیکھئے
24:39کہ
24:40ہم جو تقریر کے ساتھ
24:42اور تحریر کے ساتھ
24:43جو اپنا مدعا حاصل نہیں کر پاتے
24:46انہوں نے
24:47اپنے اخلاق اور کردار کے ساتھ
24:49لاکھوں لوگوں کو
24:51اسلام کی طرف راغب کیا
24:53اور وہ اسلام قبول کرتے گئے
24:54اچھا اس میں بنیادی چیزیں کیا تھیں
24:56اس میں یہاں
24:57ایک
24:57ادمِ مساوات کا سلسلہ تھا
24:59اچھا
25:00اب انسان کی ایک فطرت ہے
25:01قرآنِ مجید نے جس کا ذکر فرمایا ہے
25:03کہ
25:06انسان کی فطرت ہے
25:06جس پر اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا
25:08اور وہ کیا ہے
25:09وہ فطرتِ سلیمہ ہے
25:11حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
25:12کل مولودن یولدو علی الفطرہ
25:14فَأَبَوَاهُ يُحَبْوِدَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ
25:18او کما قال
25:18انسان فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے
25:21اب
25:21آگے اس کا محول ہے
25:22اس کا کردار ہے
25:24اس کا اردگرد ہے
25:25جو اس کو مجوسی بنا دیتا ہے
25:26یا یہودی بنا دیتا ہے
25:28یا اس کے اردگرد کے محول کو
25:30اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے
25:31لیکن
25:32جیسے ہی
25:33ان کی فطرت کو
25:35اپیل کرنے والی کوئی بات
25:36ان تک پہنچتی ہے
25:37وہ فوراں اس کو خبول کرتے ہیں
25:38بلکل ٹھیک
25:39اب جب یہاں
25:39اس ہندوستان کے اندر
25:41ان بزرگوں نے کیا کیا
25:42انہوں نے اسی فطرتِ سلیمہ کو
25:44اصل میں ٹچ کیا
25:45ٹرگٹ کیا
25:46اور وہ باتیں کی
25:47جو اصل میں
25:48ان کے دل کے اندر گھر کرتی چلی گئے
25:50اور بات یہ سمجھائی
25:51کہ یا تم
25:52اللہ کے
25:53بندے ہو کر
25:55اتنے زیادہ
25:56خداوں کو کیسے
25:57اپنا خدا سمجھ سکتے ہو
25:58اور پھر
25:59یہ جو مخلوق ہیں
26:00جو خود محتاج ہیں
26:01تم ان سے اپنی کیسے
26:03ضروریات کو پورا کروا سکتے ہو
26:04اور پھر تم ان کے سامنے
26:06کیسے جھک سکتے ہو
26:06جیسے جیسے لوگوں
26:07اس کو سمجھ آتی گئی
26:08لوگ اسلام کے قریب ہوتے چلے گئے
26:10اور پھر
26:11جو نادار لوگ تھے
26:12جن کا کوئی
26:13جو ہے وہ پرسان حال نہیں تھا
26:15ان بزرگوں نے
26:16ان کو قریب کیا
26:17لنگر خائنے قائم کیے
26:18لوگوں کو کھانا کھلایا
26:19آپ یہ دیکھئے
26:20کہ حضرت عبو الحسن خرقانی
26:21رحمت اللہ علیہ
26:22کی خانقہ پر
26:23آج بھی یہ لفظ لکھا ہوا ہے
26:24کہ جو شخص آتا ہے
26:25اس سے اس کا مذہب نہ پوچھو
26:27اس کو کھانا بھی دو
26:28اس کو رہائش بھی دو
26:29اب جب یہ لوگ
26:30قریب آئے
26:31تو پھر وہ
26:32قریب ہی ہوتے چلے گئے
26:33اور پھر اسلام
26:34ان کے دلوں کے اندر
26:35گھرٹ کرتا چلا گیا
26:36اور پھر وہ
26:37ہندو
26:37اور دیگر جتنے بھی
26:38مذہب تھی ان کو چھوڑ کر
26:39حق کو قبول کرتے گئے
26:41اور پھر صحیح معنوں میں
26:43وہ خود اللہ کے ولی بنے
26:45اور پھر آگے
26:45جو ہے تبلیغ کرنے والے بن گئے
26:47کیا کہنے
26:47سبحان اللہ
26:48سبحان اللہ
26:49ایک مختصر سے وقفہ ناظرین
26:50خوش آمدید ناظرین
26:51آپ کے ایک دفعہ پھر
26:52خیر مقدم ہے
26:53پروگرام
26:53تبلیغ اسلام اور بزرگان دین
26:55چوتھا پروگرام
26:56آج آپ داتا کی نگری لاہور سے
26:57ملاحظہ کر رہے ہیں
26:58پروگرام کے آخری حصے میں
27:00اختتامی گھڑیوں میں
27:01میں جناب ڈاکٹر مذر فرید
27:03صاحب سے گزارش کروں گا
27:04ڈاکٹر صاحب جتنا بھی وقت
27:05ہمیں ملا
27:06اور جو گفتگو ہم
27:07کر پائے
27:08اللہ قبول فرمائے
27:09اس کا خلاصہ
27:11اور اس کی سمری
27:12انعائد فرمائے
27:13آج اس پروگرام میں
27:14جو کچھ ہم نے عرض کیا
27:15اسم آج
27:17سب سے زیادہ ضرورت یہ ہے
27:19کہ اسلام کو
27:19اس کی اپنی اصلی شکل میں
27:21پیش کیا جائے
27:22بلکل ٹھیک ہے
27:22کیونکہ یہ بہت بڑا تصوف
27:24آج یہی ہے
27:26کہ آج اسلام کو
27:28اس کی اصل شکل میں
27:30پیش کیا جائے
27:31خان کاہی نظام کے ساتھ
27:33تعلیم کو
27:34وابستہ کر دیا جائے
27:36بہت اچھا
27:36اور تعلیم کے ساتھ
27:38خان کاہی نظام کی
27:39اثرات کو لائے جائے
27:40اور اس میں یہ جو
27:43جس کا تذکرہ
27:45حضور علیہ السلام
27:46تصیم نے فرمایا
27:47سلاسن
27:48من کن فیہی وجد حلاوت
27:50الائیمان
27:51جس بندے کے اندر
27:53تین چیزیں پائی جاتی ہیں
27:54اسے ایمان کا
27:55لطف اور مزہ آجاتا ہے
27:57این یکون اللہ ورسولہ
27:59احبہ الیہی مما سواہما
28:01سب سے زیادہ پیار
28:03اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ
28:05بلکل ٹھیک
28:06وَاِنْ يُحِبَّ الْمَرْعَا
28:09لَا يُحِبُّهُ
28:10اِلَّا لِلَّهِ
28:12کسی بھی شخص سے پیار
28:14اس لیے نہ کرے
28:16کہ یہ مجھے کچھ دے گا
28:18میرے ساتھ پیار کرے گا
28:20کبھی یہ کام آئے گا
28:21اس لیے کرے کہ میرا رب راضی ہو جائے
28:23اللہ اکبر
28:24نمبر تین
28:25وَاَنْ يَكْرَحَ أَنْ يَعُودَ
28:27إِلَا الْكُفْرِكُمَا
28:28يَكْرَحُ أَنْ يُقْسَوَ فِى النَّار
28:31گناہ چھوڑ کر
28:32نیکی کی طرف ہی آیا ہے
28:34اب نیکی سے پلٹ کر
28:35گناہ کی طرف جانا
28:37اسے یوں محسوس ہو
28:38جیسے اسے آگ میں جھونکا جا رہا ہے
28:41یہ تین کیفیتیں پیدا ہو جائیں
28:43کہ آج شاہ ہے
28:44تو یہ دنیا اور آخر سمجھ جائے
28:45سبحان اللہ
28:46سبحان اللہ
28:48بہت ہی خوبصورت کیفیت کا
28:49ڈاکس صاحب نے اظہار فرما دیا
28:51تو آپ کیا فرماتے ہیں
28:53آج کے اس پروگرام کے
28:55خلاصہ کلام کے طور پر
28:56ہمیں ابھی چند گھڑیاں
28:58اجازت دیتی ہیں
28:58آپ ارشاد فرمائیے
28:59سب سے اہم چیز
29:01ہمیں ان بزرگان دین کی
29:03تعلیم سے نظر آتی ہے
29:04نجی
29:04وہ اخلاص
29:04درست
29:05آرڈاکس صاحب کی گفتگو سے
29:07جو چیزیں آیا ہو رہی تھی
29:08کہ اخلاص
29:10جو ہے وہ ان بزرگوں کا
29:12آپ سمجھیں کہ
29:13بڑا ہتھیار تھا
29:15جو ان کے پاس
29:16لوگوں کو اپنے قریب کرنے والا تھا
29:18اور یہ اس لیے
29:20لوگوں کو
29:21تبلیغ نہیں کرتے تھے
29:22کہ لوگ ان کے قریب ہو جائیں
29:23یہ اس لیے کرتے تھے
29:24کہ اللہ راضی ہو جائے
29:25اور اس وجہ سے
29:26اللہ تبارک و تعالی نے
29:27ان کو
29:29سرخرو بھی فرمایا
29:30اور کی اس وجہ سے
29:31اللہ تبارک و تعالی نے ان کو
29:32عزتیں بھی عطا فرمائے
29:33میں حضرت فیض عالم
29:35حضور داتا گنج بخش
29:36رحمت اللہ علیہ
29:37نے ایک واقعہ کوٹ کیا ہے
29:39حضرت سلمان فارسی کے مرید ہیں
29:41حضرت ابو اسلیم رائی
29:43رحمت اللہ علیہ
29:44ان کا ایک واقعہ
29:46آپ نے ذکر کیا ہے
29:47کہ ایک شخص
29:47ڈونڈتا ڈونڈتا
29:48ان کی خدمت میں گیا
29:49تو کیا دیکھتا ہے
29:51کہ وہ
29:52بکریاں چرہ رہے ہیں
29:53بکریاں چرہتے تھے
29:55اور بکریاں چرہ رہے ہیں
29:56لیکن
29:57بکریاں خود چرہ رہے ہیں
29:58اور بیڑیاں ان کی حفاظت کر رہا ہیں
29:59اور وہ
30:00اپنے عبادت میں
30:02مصروف ہیں
30:02وہ حیران ہوئے
30:04اور ان سے پوچھا
30:04کہ جناب
30:05یہ کب سے
30:06بکریوں اور بیڑیوں
30:07کوئی صلاح کب سے ہوئی ہے
30:08کہنے لگے
30:09کہ جب
30:10بندے کی
30:10اللہ سے صلاح ہو گئی
30:11اس وقت کی
30:12بیڑیوں کی
30:12بیڑیے کی
30:13بیڑیوں سے صلاح ہو گئی
30:14اور بکریوں سے صلاح ہو گئی
30:15مطلب یہ ہے
30:16کہ اگلی بندے
30:17کو یہ تبلیغ کی
30:18کہ ہم اگر
30:19اللہ کے ساتھ
30:20اپنے تعلق کو
30:20مضبوط بنائیں گے
30:21تو یہ مخلوق بھی
30:22ہمارے تابع ہو جائے گی
30:23پھر فرماتے ہیں
30:24کہ انہوں نے
30:24ایک لکڑی کا پیالہ آگے کیا
30:26تو ایک پتھر سے
30:27دودھ کا
30:28ایک فوارہ نکلا
30:29اور ایک شہد کا
30:31فوارہ نکلا
30:31انہوں نے
30:32ان کو بھی پلایا
30:32خود بھی پیا
30:33کہا
30:33اب یہ مقام آپ کو
30:35کیسے ملا
30:35انہوں نے کہا
30:36یہ مقام مجھے
30:37نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
30:38کی اتباع کی وجہ سے ملا
30:40تو آپ دیکھئے
30:41کہ انہوں نے
30:41یہ دونوں کرامتے ہیں
30:43بجائے اس کے
30:43کہ وہ اس کو
30:44اپنے طرف منصوب کریں
30:45انہوں نے اس کو
30:46اللہ اور اس کے
30:47رسول صلی اللہ علیہ وسلم
30:47کی اتباع
30:48اور اخلاص کی طرف منصوب کیا
30:49تو یہ
30:50آج ضرورت
30:51اس بات کی ہے
30:52کہ بزرگانے دین کی
30:53ان چیزوں کو
30:54ہم سامنے رکھیں
30:55اور اپنے آپ کے اندر
30:56اخلاص پیدا کریں
30:56اور بزرگوں نے
30:58جس خلوص کے ساتھ
30:59محبت کے ساتھ
31:00تبلیغ کی
31:00اور لوگوں کو
31:01دین کا درس دیا
31:02آج ہم ان کے
31:03اس رستے کو
31:04اپنانے کی کوشش کریں
31:06بہترین
31:06سبحان اللہ
31:07سبحان اللہ
31:09آج کے پروگرام کے
31:10خلاصہ
31:11ایک کلام
31:12اپنے دونوں
31:12موزر سکولر سے
31:13آپ نے سنے
31:14ڈاکس اب
31:15ابھی فرما رہے تھے
31:15کہ
31:16جب سے
31:18اللہ سے
31:19صلاح ہوئے
31:19جس اللہ والے
31:21کا ذکر کیا
31:21اپنے حضرت رائی
31:22علیہ الرحمہ کا
31:23تو اسی طرح
31:24ایک بزرگ
31:25اکثر بازار میں
31:26جایا کرتے تھے
31:26اور
31:26لوگوں کو
31:27دین کی تبلیغ کرتے
31:29اور ان کو
31:29اللہ کے راستے سے
31:30واصل کرنے کی
31:31کوشش کرتے
31:32تو لوگ پوچھتے
31:33کیا کر رہے ہیں
31:33تو وہ جواب دیتے
31:34کہ
31:35اللہ کی صلاح
31:37کروانوں
31:37بندوں سے
31:38بندوں کو
31:38کہہ رہا ہوں
31:39کہ اللہ سے
31:39صلاح کر لیں
31:40موقع ہے
31:40تو دیکھی
31:41یہ صلاح کی طرف
31:42مائل نہیں ہوتے
31:42کچھ عرصے بعد
31:44انہی بزرگ
31:45کو قبرستان میں
31:45پایا گیا
31:46اور وہ
31:47قبرستان والوں
31:48کو مخاطب کر
31:49کی کچھ کہہ رہے تھے
31:49پوچھنے والے نے
31:50پھر سوال کیا
31:51کہ یہاں کیا کر رہے ہیں
31:52کہا صلاح کرواروں
31:53کہا آپ بزار میں
31:54بھی صلاح کرواتے تھے
31:55یہاں بھی صلاح کرواتے ہیں
31:56وہ کس قسم کی صلاح تھی
31:58یہ کس قسم کی صلاح ہے
31:59بڑا تاریخی جملہ
32:00انہوں نے رشاعت فرمایا تھا
32:01کہا اس وقت
32:02میں صلاح کرواتا تھا
32:03وہ کرنے کے لیے
32:04تیار تھے
32:05یہ کرنے کے لیے
32:06تیار نہیں تھے
32:06اب جب میں صلاح کی بات کرتا ہوں
32:08تو یہ کرنے کے لیے
32:10تیار ہیں
32:10وہ کرنے کے لیے
32:11تیار نہیں ہے
32:12کیونکہ وقت گزر چکا ہے
32:13اس کا نظام
32:14اس کی مشیعت ایسے ہی ہے
32:15کہ وہ ایک وقت تک
32:16صلاح کی اجازت دیتا ہے
32:17اس کے بعد وہ منظر نامہ
32:19اپنی قدرت سے
32:20تبدیل فرما دیتا ہے
32:21تو میں
32:22ایزے تعالی بیلم
32:23اور ایک سوڈن کے طور پر
32:24یہ سمجھاؤں
32:25کہ جب وقت ہے
32:26تو آئیے صلاح کرنے کی
32:27کوشش کریں
32:28اللہ رب العزت کی رحمت سے
32:29اس کی رضا سے
32:30اس کی خوشنودی سے
32:31یہی لمحہ غنیمت ہے
32:33اور جب یہ گزر جائے گا
32:34تو پھر صلح کا منظر نامہ بھی
32:36تبدیل ہو جائے گا
32:37اللہ کرے کہ ہمیں
32:38یہی صلح کی دولت نصیب ہو جائے
32:40بہت شکر گزار
32:42میں جنابِ
32:43ڈاکٹر مذر فرید صاحب آپ کا
32:44آپ کی تشریف آوری کا
32:45جنابِ ڈاکٹر ریفان اللہ صاحب آپ کا
32:47اور جنابِ کاری تاریخ مسعود صاحب
32:49ابھی ایک منکود
32:50حضور غوث پاک کی
32:51آپ سے شامل کریں گے
32:52چار مصرے
32:53ایک تازہ تازہ
32:55ہندوستان کے شہر ناغپور سے
32:57بہت اچھا
32:58اور یونیک لکھنے والے
32:59ہمارے ایک دوست ہیں
33:00عزر حسین صاحب
33:01ناغپوری
33:01ان کے چار مصرے
33:02حضور غوث پاک کی خدمت پر
33:04وہ لکھتے ہیں
33:04کہ ہم ان کے سامنے
33:06بلکل حکیر ہیں بابا
33:09ہم ان کے سامنے
33:10بلکل حکیر ہیں بابا
33:11جنابِ غوث تو پیروں کے پیر ہیں بابا
33:14جنابِ غوث تو پیروں کے پیر ہیں بابا
33:17تمہارے شہر کے
33:18ادنا گدا سے ہلکے ہیں
33:20تمہارے شہر کے
33:22ادنا گدا سے ہلکے ہیں
33:24ہمارے شہر کے جتنے امیر ہیں بابا
33:27ہمارے شہر کے
33:28پھر سمات کیجئے
33:29کہ تمہارے شہر کے
33:31ادنا گدا سے ہلکے ہیں
33:33تمہارے شہر کے
33:35ادنا گدا سے ہلکے ہیں
33:36ہمارے شہر کے جتنے امیر ہیں
33:38بابا
33:40حضور غوث پاک کی بارگاہ سمدیت میں
33:43ہم فقیروں کا سلام پہنچے
33:45اور وہاں سے ہمیں اس کی
33:47انعائیات نصیب ہوں
33:48اسی دعا کے ساتھ جناب کاری تارک مسعود
33:50بارگاہ غوثیت معاب میں
33:52حدیعی عقیدت پیش کرتے ہیں
33:55تیری شان
33:57سب سے
34:01جداغہ سے
34:04آزم
34:06تیری شان
34:09سب سے
34:13جداغہ سے
34:16آزم
34:17نہ پہنچے
34:20تجھے
34:22آلی آغا
34:25سے
34:27آزم
34:29تیری شان
34:32سب سے
34:37جداغہ سے
34:39آزم
34:45جمالِ رسولِ
34:50خدا
34:51خدا
34:53سب سے
34:55آزم
34:58جلالِ
35:08جلالِ
35:23جلالِ
35:25نَا اُتھے
35:28نَا اُتھے
35:55گے
35:55خواہ
35:57نَا اُتھے
36:22نَا اُتھے
36:44مَا اُتھے
36:47آزم
36:49آزم
36:50تیری شان
36:52سب سے
36:54جداغہ سے
36:57آزم
36:59نہ پہنچے
37:01تُجھے
37:03آلی آغا
Comments

Recommended