Skip to playerSkip to main content
Shan e Auliya - Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani RA - Talk Show

Watch All Episodes here ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLfpNg7Rlhxfk

Speaker: Mufti Muhammad Tahir Tabassum Qadri

#ShaneAuliya #HazratShaikhAbdulQadirJilaniRA #aryqtv #islam

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:06Surah Al-Fatiha
00:31Surah Al-Fatiha
01:00Surah Al-Fatiha
01:30Surah Al-Fatiha
01:31Surah Al-Fatiha
01:50Surah Al-Fatiha
02:05Surah Al-Fatiha
02:16Surah Al-Fatiha
02:47Surah Al-Fatiha
02:51Surah Al-Fatiha
03:31Surah Al-Fatiha
03:31Surah Al-Fatiha
03:40Surah Al-Fatiha
03:42Surah Al-Fatiha
03:44Surah Al-Fatiha
03:46Surah Al-Fatiha
03:57it is a special note that there is a unique difference which people understand
04:03that these people are changing to know what they can do and that they can just
04:07make no doubt he doesn't have it but he doesn't get it anymore he does not
04:13but he doesn't get it so far he chooses to handle his own
04:17and then tämä
04:21Hakim
04:22hakim
04:25hakim
04:26hakim
04:27hakim
04:27hakim
04:27k 코Cl
04:30ku
04:33So inma
04:35His
04:37His
04:37It's a Luca I think there is his
04:41and his
04:42That is awesome and to be here, that is something that has been used for your friends and friends, that
04:48is something that is really good that are good as a better.
04:56That is something that has been reduced, that is something that has been restricted to you about the way around
05:09the world.
05:10قیام و قعود کے ذریعے
05:13رکوع و سجود کے ذریعے
05:15اپنی خواہشات کی قربانی کے ذریعے
05:18وہ اپنے خالق و مالک حقیقی کو
05:21حاکم اللہ کو
05:23خادر مطلق کو
05:24اتنا راضی کرتے ہیں
05:27اتنا راضی کرتے ہیں
05:28اتنا راضی کرتے ہیں
05:30کہ وہ اللہ انہیں اپنا محبوب بنا لیتا ہے
05:33جیسا کہ حدیث قدسی
05:35اس پر شاہد ہے
05:36ارشاد ہوتا ہے
05:38لا يزال العبد
05:40یتکرب علی بن نوافق
05:43حتی احببہ
05:44فایدہ احببتہ
05:46کنت سمعہ اللذی یصبہ به
05:49وبصرہ اللذی یبصر بہا
05:51ویدہ اللذی یبتش بہا
05:54ورجلہ اللذی یمشی بہا
05:57والا ان سالنی لاؤتینہ
06:00والا ان استعازنی لاؤعیزنہ
06:04اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے
06:07کہ بندہ فرائض پر
06:09پابندی کرنے کے بعد
06:13جب نوافل پڑتا ہے
06:15نوافل
06:16نفل اس عبادت کو کہتے ہیں
06:18جو بندے پر
06:21فرض نہیں کی گئی ہوتی
06:22لازم نہیں کی گئی ہوتی
06:24اس کی ڈیوٹی نہیں ہوتی
06:25یعنی وہ عبادت
06:27بندے کی طرف سے
06:28رب کی بارگاہ میں
06:29توفہ ہوتا ہے
06:30ہدیہ ہوتا ہے
06:31گفٹ ہوتا ہے
06:32تو اس نوافل کے ذریعے
06:34اللہ فرماتا ہے
06:35بندہ مسلسل
06:37یعنی نوافل سے مراد
06:38صرف
06:38یہ نفلی نماز ہی نہیں
06:41نفلی عبادات
06:43اپنی طرف سے جو تحائف ہے
06:46ہدایہ ہیں
06:47رب کی بارگاہ میں
06:48التحیات للہ
06:49والسلوات
06:51والطیبات
06:52کولی
06:53فعلی
06:54بدنی
06:54مالی
06:55تمام عبادات
06:56اللہ کے لئے ہیں
06:57تو اللہ فرماتا ہے
06:59نوافل کے ذریعے بندہ
07:01میری بارگاہ
07:03کا اتنا
07:04کرب حاصل کرتا ہے
07:05اتنا کرب حاصل کرتا ہے
07:07مسلسل
07:08کرب حاصل کرتا رہتا ہے
07:10کرتا رہتا ہے
07:11کرتا رہتا ہے
07:12حتی احبہو
07:14یہاں تک کہ میں اسے
07:16اپنا محبوب بنا لیتا ہوں
07:19اور جب محبوب بنا لیتا ہوں
07:21تو پھر کیا ہوتا ہے
07:22کنتو سمعہ اللذی
07:24یاسمہو بہی
07:25اللہ فرماتا ہے
07:27میں اس کے کان بن جاتا ہوں
07:28جس کے ذریعے وہ سنتا ہے
07:30اس کی آنکھ بن جاتا ہوں
07:32جس کے ذریعے وہ دیکھتا ہے
07:34اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں
07:35تو مطلب کیا ہے
07:36کان بن جاتا ہوں
07:38ہاتھ بن جاتا ہوں آنکھ
07:40مطلب یہ ہے کہ پھر
07:43آزا بندے کے ہوتے ہیں
07:45اور اس کے اندر
07:47طاقت
07:48قوت اور قدرت
07:49جو ہے وہ اللہ کی ہوتی ہے
07:51آنکھ بندے کی ہوتی ہے
07:53بسارت اللہ کی ہوتی ہے
07:54مولانا روم نے کہا
08:02پھر اس کا کہنا
08:04اللہ کا کہنا ہوتا ہے
08:06اگرچہ وہ اللہ کے بندے کے حالق سے
08:09بات نکل رہی ہوتی ہے
08:11لیکن وہ اللہ کی بات ہوتی ہے
08:14تو فرمایا والا انسانہ نہیں
08:17اسی حدیث کے آخری الفاظ ہیں
08:19اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے
08:21تو پھر میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں
08:24یہ وہ میں نے پہلے عرض کیا تھا
08:27کہ وہ مجبور ہو کر نہیں
08:29مسرور ہو کر دیتا ہے
08:32وہ اپنے بندے پر راضی ہوتا ہے
08:34وہ اپنے بندے پر خوش ہو جاتا ہے
08:37اس کی اطاعت گزاری پر
08:39اس کی عبادت گزاری پر
08:42اس کے اپنے خواہشات کی قروانی دینے پر
08:45اتنا راضی ہو جاتا ہے
08:47کہ پھر وہ اس اپنے محبوب مقرب
08:50اپنے دوست اپنے ولی کی بات کو
08:53ٹالتا نہیں ہے
08:55جب وہ مانگتا ہے
08:56تو اللہ عطا فرماتا ہے
08:58اور فرمایا
09:01اگر وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے
09:03تو پھر میں اسے پناہ دیتا ہوں
09:05یہ وہ مقام ولایت ہے
09:08یہ وہ شان ولایت ہے
09:10یہ وہ مرتبہ ولایت ہے
09:12یہ مقام محبوبیت ہے
09:16مقام مقربیت ہے
09:17جس مقام پر آ کر
09:20اللہ تبارک و تعالیٰ
09:22اپنے بندے سے اتنا راضی ہوتا ہے
09:25اتنا راضی ہوتا ہے
09:27کہ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ
09:30اپنی کائنات کے جتنے بھی
09:34جو ہیں پرزاجات ہیں
09:37ان کو اپنے اس محبوب بندے کے
09:39اشارہ عبرو کے تابع کر دیتا ہے
09:48کہ اللہ کے بندوں میں سے
09:50کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں
09:52اللہ کے بندوں میں سے
09:54کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں
09:56کہ وہ اگر اللہ کے
09:58کسی قانون کے خلاف
10:01قسم اٹھا لیں
10:03تو اللہ تبارک و تعالیٰ
10:04کو اتنے پیارے ہوتے ہیں
10:06کہ اللہ ان کی قسم کو
10:08پورا کرنے کے لئے
10:09اپنا قانون بدل دیتا ہے
10:11اور اس کی مثال
10:13قرآن پاک کے اندر موجود ہے
10:14سمجھ نہیں آتی کہ لوگ
10:16قرآن پڑھتے ہوئے بھی
10:18مقامِ ولایت
10:20شانِ ولایت
10:21اور اولیاء اللہ کے مقام
10:22اور مرتبے کا
10:23کیسے انکار کرتے ہیں
10:25ولی کی بات کو
10:26کیسے توحید کے منافع سمجھتے ہیں
10:28کیسے اس کو شرک سمجھتے ہیں
10:31اگر یہ شرک ہوتا
10:33اللہ کے کسی محبوب بندے کی بات کرنا
10:36اللہ کے کسی ولی کی بات کرنا
10:39اللہ کے نبی کی بات کرنا
10:41صدیقوں کی
10:42شہیدوں کی
10:43تو اللہ تبارک و تعالی
10:45قرآن پاک میں
10:46ان کے واقعات کو نازل ہی نہ فرماتا
10:49قرآن پاک میں محفوظ ہی نہ فرماتا
10:52لیکن جا بجا
10:53اللہ تبارک و تعالی
10:55نے ان واقعات کو
10:56نہ صرف نازل فرمایا
10:58ان کی حفاظت فرمائی
10:59اور ہمارے سبق کے لئے
11:01ہمارے درس کے لئے
11:03عبرت کے لئے
11:04ان واقعات کو قرآن میں رکھا
11:06تاکہ ہم سمجھیں
11:07کہ
11:08میں نے پہلے مثال دی ہے
11:10اور بلا تشبیح کہا ہے
11:12کہ جس طرح اس
11:13فیزیکل ورلڈ کے اندر
11:15ایک حاکم
11:16ایک صاحب اقتدار
11:18صاحب منصب
11:18کے سامنے سارے بندے
11:20جو ہے وہ برابر نہیں ہوتے
11:22تو اللہ تبارک و تعالی
11:24کو بھی جو جتنا راضی کرے گا
11:25وہ اتنا ہی
11:26اس کے زیادہ قریب ہوگا
11:27اب قرآن پاک میں
11:29اس کی مثال
11:30صحابہ کحاف کا واقعہ
11:32سورہ کحاف پوری
11:34جو ہے اسی نام پر ہے
11:35پندروہ پارا
11:36پھر سولوہ پارا
11:38تو وہ
11:38صحابہ کحاف کا واقعہ
11:40ہمارے ناظرین جانتے ہیں
11:41حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
11:42امتی تھے
11:43ایمان بچا کے
11:44بستی سے نکلے تھے
11:46غار میں انہوں نے
11:47پناہ لی تھی
11:47اب غار کے اندر جب انہوں نے
11:50پناہ لے لی ہے
11:51تو اللہ تبارک و تعالی
11:53کا عمر ہوا
11:53تو ان کو
11:55ان پر نیند تاری کر دی گئی
11:56تین سو نو سال تک
11:58وہ وہاں سوئے رہے
12:00اب شانِ ولایت سمجھئے
12:02مقامِ ولایت سمجھئے
12:03دو باتیں عرض کروں گا
12:04دونوں باتیں
12:05قرآن کے ٹیکسٹ میں موجود ہیں
12:07ناس میں موجود ہیں
12:08ایک تو یہ ہے
12:09کہ ان کو سلا دیا گیا
12:11تو تین سو نو سال تک
12:13وہ سوئے رہے
12:15حالانکہ زندہ تھے
12:16اب اللہ تبارک و تعالی
12:18فرماتا ہے
12:21وَنُقَلِّبُهُمْ
12:22ذَاتَ الْيَمِينَ
12:23وَذَاتَ الشِّمَالِ
12:24اللہ فرماتا ہے
12:26کہ ہم دائیں اور بائیں
12:28ان کی کروٹ بدلتے رہے
12:31سمجھنے کی بات یہ ہے
12:32ناظرینِ کرام
12:33حالانکہ اللہ تبارک و تعالی
12:35تو آنے جانے سے
12:37جسم سے
12:38آزا سے
12:39مکان سے
12:40پاک ہے
12:41لیکن اللہ تبارک و تعالی
12:43فرماتا ہے
12:43ہم کروٹے بدلتے رہے
12:45کروٹے دائر اللہ کے حکم سے
12:47فرشتے بدلتے رہے
12:48لیکن ان کو شرف دینے کے لیے
12:50ان کے مقام کو بیان کرنے کے لیے
12:53اللہ اس عمل کو
12:54اس فعل کو
12:55اپنی طرح منصوب کر رہا ہے
12:57کروٹ کیوں بدلی جاتی رہی
12:58کہ اگر وہ
13:00مسلسل ایک جگہ پر
13:01بندہ اتنا عرصہ تک لیٹا رہے
13:03تو جسم گل سڑ جاتا ہے
13:05تو چونکہ زندہ تھے
13:07تو ان کو فرش رکھنے کے لیے
13:09ان کی کروٹ بدلی جاتی تھی
13:12وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينَ
13:13وَذَاتَ الشِّمَال
13:15اچھا اس سے اگلی بات سنیے
13:17غار کے دروازے کے باہر
13:19ان کے ساتھ آنے والا
13:21بستی سے نکلنے والا ایک کتہ موجود تھا
13:23اللہ نے
13:24اس کا ذکر بھی قرآن میں کیا
13:27فرمایا
13:28وَقَلْبُهُمْ بَاسِتُونَ
13:31ذِرَاعَائِهِ بِالْوَسِیدِ
13:33کہا ان کا کتہ
13:35غار کے دروازے کے باہر
13:38بازو پھیلائے ہوئے
13:40بیٹھا ہوا تھا
13:41تو کتے کے
13:43بیٹھنے کی کیفیت کو بھی
13:45اللہ نے قرآن میں
13:47ذکر فرمایا ہے
13:48اپنے محبوبوں کی نسبت سے
13:51یہ ہے
13:53مقامِ اولیاء
13:54یہ ہے شانِ اولیاء
13:55اب دوسری بات جو کرنا چاہ رہا تھا
13:58جو میں نے عرض کیا
14:00کہ اللہ کے کچھ بندے
14:01اگر اللہ کی کسی قانون کے خلاف
14:03اللہ کے محبوب
14:04قسم بھی اٹھا لیں
14:06تو اللہ ان کی قسم کو پورا کرتا ہے
14:08اپنا قانون بدل دیتا ہے
14:09اب اس کی مثال بھی یہی ہے
14:11صحابِ کاف
14:12کہ واقعہ کے اندر موجود ہے
14:14کہ وہ غار کے اندر سوئے ہوئے تھے
14:16غار کا موں کھلا تھا
14:18اوپر کے جانب تھا
14:20سورج کے تلو ہونے کا ٹائم ہوا
14:22اور پھر سورج وہاں سے تلو ہو کر
14:25اوپر جا کے ہائٹ پہ
14:26پھر غروب ہونے کے لئے نیچے آنا تھا
14:29تو جدر سے سورج تلو ہونا تھا
14:31اوپر جا کے غار کے
14:33بلکل این برابر آنا تھا
14:35پھر وہاں سے غروب کی طرف جاتی ہوئے
14:38بھی غار کے قریب سے ہو کے گزرنا تھا
14:41تو اب سورج کی
14:43کرنے غار کے اندر جاتی
14:45اس کی روشنی اندر جاتی
14:46اس کی صدت اور حدت
14:48اندر جاتی
14:49تپش اندر جاتی
14:51تو وہ اللہ کے جو محبوب تھے
14:53جو پیارے تھے
14:55جو اللہ کو راضی کرنے کے لئے
14:57ایمان کی دولت کو
15:00بچا کر بستی سے نکلے تھے
15:03اب وہ سوئے ہوئے تھے
15:05تو سورج کی وجہ سے
15:07ان کے آرام میں خلل آنا تھا
15:10ڈسٹرب ہونا تھا انہوں نے
15:12تو اللہ تبارک وطل یہ قرآن ناظرین اکرام
15:15بھیگا مسلم تو اس سے بڑی بات ہمارے سامنے
15:18اور کچھ نہیں ہو سکتی
15:19کوئی اور دینائی کرے تو کرے انکار کرے
15:22تو کرے لیکن مسلمان کا الواتہ ہو
15:25پھر وہ
15:26یک سر
15:28ولیوں کا بابوں کا
15:30چان اولیاء کا مقام اولیاء کا انکار کر دے
15:33تو پھر قرآن کا منکر ہوگا
15:36کیونکہ اور مسلمان قرآن کا انکار کر نہیں سکتا
15:39اب دیکھئے
15:40اللہ نے فرمایا
15:41وَطَرَ الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَزَاورُواْنْكَافِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينَ
15:47وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِدْهُمْ ذَاتَ الشِّمَانَ
15:51اے دیکھنے والے
15:52تو دیکھ تو صحیح
15:54کہ جب سورج تلو ہو رہا تھا
15:57تو وہ دائیں طرف سے ہٹ کے
16:00کٹائی کرتے ہوئے گزر رہا تھا
16:02اور جب غروب ہو رہا تھا
16:04تو بائیں طرف سے ہٹ کے گزر رہا تھا
16:07یعنی اللہ کا حکم ہوا سورج کو عامر ہوا
16:11کہ میرے بندے چوکے سو رہے ہیں غار کے ادھر
16:14تو اگر تو اسی روٹین کے روٹ سے گزرے گا
16:19تو ان کے آرام میں خلل آئے گا
16:21لہذا ان کے آرام میں خلل آئے
16:23تو اپنا روٹ چینج کر لے
16:25تو اب آپ بتائیے
16:27کہ اللہ کے ولی کا مقام
16:31مرتبہ اور شان
16:32اس سے بڑھ کر کیا ہوگی
16:34کہ ان کے لئے
16:36اللہ تبارک و تعالی
16:38اپنی اس کارخانہ قدرت کی
16:41ایک عظیم
16:42جو ایک عظیم شہکار ہے
16:45سورج جیسی مخلوق ہے
16:47اس کا تیشدہ روٹ چینج
16:50فرما رہا ہے
16:51تو یہی میں نے ارز کیا
16:53کہ اللہ کے اتنے محبوب ہو جاتے ہیں
16:56کہ پر اللہ تبارک و تعالی
16:57اپنی مخلوقات کو ان کے تابع کر دیتا ہے
17:01حضرت رابعہ بسریہ
17:03رضی اللہ تعالی عنہ
17:05اللہ کی بڑی محبوب
17:07بندی تھی
17:08اللہ کی مقرب بندی تھی
17:10اللہ کو بہت راضی کیا
17:12اپنی عبادات اور ریاضات کے ذریعے
17:15تو ایک دفعہ
17:16بکریاں چرا رہی تھی ایک جگہ
17:18اور
17:20وہاں
17:22بکریاں چراتے ہوئے
17:23بکریاں ایک طرف چر رہی ہیں
17:25مسلح بچھایا ہوا ہے
17:27کہ بھلا روخ ہو کر
17:28اللہ کی عبادت کر رہی ہیں
17:30ایک شخص کا گزر ہوا
17:32تو اس نے کیا منظر دیکھا
17:34کہ کوئی اللہ کی بندی ہے
17:37وہ مسلح بچھا کے
17:39بہت باپردہ ہو کر
17:40لپر سمٹ کر
17:41اللہ کی عبادت کر رہی ہے
17:43ادھر بکریاں اس کی چر رہی ہیں
17:45اور
17:46بکریاں کی رکھوالی
17:48بھیڑیا کر رہا ہے
17:50بھیڑیا
17:50بھیڑیا کر رہا ہے
17:52اب وہ بڑا حیران ہوا
17:54ششدر رہ گیا
17:56چلتے ہوئے قدم روک گیا
17:58انتظار کرنے لگا
17:59جب آپ فارغ ہوئیں
18:00تو آ کے کہا
18:02کہ
18:03بندہ خدا یہ راز کیا ہے
18:05ہم نے تو یہ سنا ہے
18:07کہ بھیڑیا
18:09بکریاں کو اٹھا کے لے جاتا
18:11چیر پھاڑ کرتا ہے
18:12یہ طرفہ تماشا پہلی دفعہ دیکھا ہے
18:15کہ بھیڑیا بکریوں کی حفاظت کر رہا ہے
18:18حضرت رابعہ بسریہ
18:20رضی اللہ تعالیٰ نے جواب دیا
18:22کہ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے
18:25بہت سادہ سا اصول ہے
18:27جب تم اس کے ہو جاتے ہو
18:29تو پھر اس کی ہر مخلوق
18:30تمہاری ہو جاتی ہے
18:31جب اپنے آپ کو اس کے تابع کر دیتے ہو
18:34اللہ اپنی مخلوقات کو
18:35تمہارے تابع کر دیتا ہے
18:37جب اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیتے ہو
18:40تو پھر اللہ تعالیٰ تمہارے کام خود بخود
18:43تم اس کے کام میں لگ جاؤ
18:45وہ تمہارے کام آسان فرما دیتا ہے
18:48حضرت ابراہیم بن عدم
18:50حاکم وقت تھے
18:52بادشاہ تھے
18:53اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا
18:55کائی پلٹی درویش بن گئے
18:58اقتدار کو ٹھوکر مار دی
19:00گدری پوش
19:01بوریا نشین
19:03ٹاٹ پوش پیوند لگے ہوئے
19:04دریا کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے
19:07تو جو ہے وہ سوئی لے کر
19:10جو ہے گدری سی رہے تھے
19:12تو کسی شخص نے دیکھا
19:15جس نے پہلی کیفیت میں بھی دیکھا تھا
19:17گزرتے ہوئے دیکھا تو کہا
19:19اے ابراہیم بن عدم یہ کیا
19:21وہ ٹھاٹ باٹ وہ پروٹوکول
19:23وہ اسائش وہ اقتدار
19:25اور یہ
19:26تکالیف کی زندگی اور مشکلات کی زندگی
19:29تو آپ نے کہا ادھر آؤ
19:30میرے قریب بیٹھو بٹھایا
19:32اور بٹھا کے جو آت میں سوئی تھی
19:35وہ دریاں میں پھینک دی
19:36اور دریاں میں پھینکنے کے بعد
19:38پھر کہا کہ
19:39مچھلیوں کو کہا مجھے میری سوئی چاہیے
19:42تو ایسے چند لمحے گزرے تھے
19:45کہ وہ مچھلیاں
19:46سینکڑوں مچھلیاں
19:47ہزاروں مچھلیاں
19:48اپنے موں کے اندر سونے کی سوئیاں
19:51لیے ہوئے سامنے آگئیں
19:53تو آپ نے دیکھ کے کہا
19:55نہیں مجھے میری سوئی چاہیے
19:57تو پھر چند لمحے کے بعد
19:59ایک مچھلی وہی سوئی لے کر
20:02واپس آئی
20:03اور اس نے سوئی پیش کی
20:04تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کے کہا
20:07کہ بتاؤ وہ اقتدار اچھا تھا
20:10یا یہ اقتدار اچھا ہے
20:12وہ زیادہ پاورفل تھا
20:14یا یہ زیادہ پاورفل ہے
20:15وہ صرف انسانوں پر تھا
20:17اور وہ بھی وقتی طور پر مانتے ہیں
20:19یہ ہے کہ جب آپ اپنے آپ کو
20:22اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں
20:24اس کے ساتھ دوستی لگا لیتے ہیں
20:26اللہ کے ولی بن جاتے ہیں
20:28تو پھر آپ کی حکومت
20:30صرف سروں پر نہیں ہوتی
20:32دلوں پر ہوتی ہے
20:34انسانوں پر نہیں ہوتی
20:36اللہ کی مخلوقات پر ہوتی ہے
20:38اللہ کریم
20:39ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے
20:41اپنی رضا کے راستے پر
20:43چلنے کی توفیق اطاف فرمائے
20:45وآخر دعوائیہ
20:47الحمدللہ رب العالمين
20:49شاہ جی لا اقبام نے
20:55داروں پر شاہ مددے
21:03نور این نبی سید و سلطا
21:12موسیقا
21:13موسیقا
21:14موسیقا
21:14موسیقا
Comments

Recommended