Skip to playerSkip to main content
Dars e Quran - Ba-Mutaliq Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani RA

Speaker: Allama Hafiz Owais Ahmed

Watch All Episodes here ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidTxmyU0ouHEzuPSW694XN7

#darsequran #ShaikhAbdulQadirJilani #aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:06Surah Al-Fatihah
00:30اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَانُ وُدَّ
00:38صدق اللہ العظیم وَبَلَّغَنَا رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْأَمِينُ الْكَرِيمُ وَنَحْنُ عَلَى ذَلِكَ لَمِنَ الشَّاهِدِينَ وَشَّاكِرِينَ
00:45وَالْحَمْدُ لِللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
00:47اے آر وائی کیو ٹی وی کے خوبصورت پروگرام
00:50جو مختلف شخصیات کی صیرت کے موقع پر
00:56قرآن کریم کی آیات کی تفسیر بیان کی جاتی ہے
01:00خوبصورت سلسلے کے ساتھ ہم حاضر ہیں
01:02حضرت غوث العظم رحمت اللہ علیہ کی شخصیت کے عنوان سے
01:08اور اس مطابقت سے قرآن کریم کی مختلف آیات کو
01:13جو اولیاء کرام اور نیک لوگوں کی صفات پر مشتمل ہیں
01:19ان آیات کو منتخب کیا گیا اسی سلسلے کی
01:21ایک آیتِ کریمہ جو ہے
01:23جو ہم نے تلاوت کی
01:27سورہِ مریم سے آیت نمبر 96
01:29اور اس کی تلاوت آپ کے سامنے کی
01:32اس آیتِ کریمہ میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا
01:37کہ ان اللہزین آمنوا بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے
01:43وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
01:45اور انہوں نے نیک عمل کیے
01:50سَيَّجْعَلُوا لَهُمُ الرَّحْمَانُ وُدَّا
01:53اللہ پاک انکریب
01:55رحمان انکریب
01:58ان کے لیے محبت پیدا فرما دے گا
02:04رحمان ان کے لیے محبت پیدا فرما دے گا
02:10یہاں پر وُدَّن کا جو لفظ ہے یہ حبن کے معنی میں ہے
02:15مودت اور محبت جو ہے
02:18وہ قریب المعنی ہیں اور محبت کے معنی میں ہی استعمال ہوتے ہیں
02:22جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ پاک ان کی محبت پیدا فرما دے گا
02:27اور وُدَّن یہاں پہ جو ہے وہ نقیرہ بھی آیا ہے
02:31تنوین کے ساتھ
02:32اور یہ تنوین آتی ہے تعظیم کے لیے
02:37یعنی یہ جو محبت اللہ پاک ان کی لوگوں کے دل میں بٹھائے گا
02:41تو یہ ان کی عظمت کے لیے ہے
02:44یہ محبت ان کی بلندی کے لیے ہے
02:47ان کی توقیر کے لیے ہے
02:48جو اللہ پاک انہیں یہ مقام عطا فرماتا ہے
02:52اپنے ایمان والے بندوں کو
02:55اور نیک عمل کرنے والے بندوں کو
03:00اچھا یہ آیت کریمہ دیکھیں
03:02سورہ مریم کی آیت کریمہ ہے
03:05ٹھیک ہے
03:06اور سورہ مریم جو ہے آپ جانتے ہیں
03:09کہ کس موقع پر نازل ہوئی
03:13سورہ مریم اس موقع پر نازل ہوئی تھی
03:15کیونکہ یہ پڑی گئی ہے حبشہ میں
03:19نجاشی کے دربار میں
03:20حضرت جعفر نے جو ہے وہ اس کو وہاں تلاوت کیا ہے
03:25تو اس کا مطلب یہ ہوا
03:29کہ یہ ابتدائی سالوں میں
03:30چار اور پانچ جو سن نبوی ہے
03:33اعلان نبوت کے بعد
03:35یہ اس کے درمیان نازل ہو چکی تھی
03:38تو ابتدائی سالوں میں
03:42یہ آیت کریمہ
03:43یا یہ سورت جو سورہ مریم ہے
03:46یہ نازل ہو گئی
03:47اب اس میں اللہ پاک یہ اعلان فرما رہا ہے
03:51کہ جو ایمان والے ہیں
03:53نیک عمل کرنے والے ہیں
03:55اللہ پاک ان کی محبت پیدا فرما دے گا
04:00تو اس آیت کریمہ کی تفسیر کا جو پہلا مصداق ہے
04:05یا اس آیت کی تفسیر کی جو پہلی تصویر ہے
04:09یا جو اس آیت کریمہ کی تفسیر کا جو پہلا مرحلہ ہے
04:13جن لوگوں پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے
04:16ظاہر ہے کہ انہیں یہ بشارت دی جا رہی ہے
04:19اور وہ کون ہیں؟
04:21وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
04:24آپ کے اصحاب ہیں
04:26آپ کے صحابہ اکرام ہیں
04:28اور پھر مزے کی بات یہ ہے
04:31کہ جس مرحلے پر یہ بات کہی جا رہی ہے
04:35وہ مرحلہ ان حالات کے بالکل
04:41متضاد اور مقابل لگتا ہے
04:46کیونکہ مسلمانوں کے خلاف اس وقت دلوں میں نفرتیں پیدا ہوئی تھیں
04:53مکہ کے لوگ قبول نہیں کر رہے تھے
04:56قبائل کے لوگ قبول نہیں کر رہے تھے
04:58جب اپنے گھر والے ہی قبول نہیں کر رہے تو باہر والے کہاں سے قبول کریں گے
05:05تو یہ وہ مرحلہ ہے کہ جب دلوں میں دشمنیاں تھی
05:09دلوں میں بغض تھے
05:12دلوں میں نفرتیں تھی
05:14کہ آپ کیوں نکلتے ہیں اور تبلیغ کرتے ہیں
05:18صحابہ اکرام سے لوگ کہتے تھے
05:20آپ ہمارے وہی رشتہ دار ہیں
05:22جو کل تک آپ یہ بھی کرتے تھے
05:24بتوں کو بھی پوچھتے تھے
05:25ہمارے ساتھ ہوتے تھے
05:26آج آپ کو کیا ہو گیا
05:29تو ایسے میں اللہ پاک کیا نوید دے رہا ہے
05:33کہ اے ایمان والو
05:36اے کلمہ پڑھنے والو
05:38اے نبی کا دامن تھامنے والو
05:41اے نیک عمل کرنے والو
05:44وہ وقت آنے والا ہے
05:48کہ ان کی نفرتیں محبت میں تبدیل ہو جائیں گی
05:51ان کا بغض محبتوں میں تبدیل ہو جائے گا
05:54میں آپ کی محبوبیت پورے زمانے میں عام کر دوں گا
06:01اور پھر زمانے نے وہ منظر دیکھا
06:04کہ یہ انہوں نے لوگوں کے تانے بھی صحیح
06:09لوگوں کی جو ہے وہ تکلیفیں بھی صحیح
06:12لوگوں کی باتیں بھی صحیح
06:14یہ اپنی کوشش کے مرحلے سے کامیابی سے گزر گئے
06:19اور پھر کیا منظر تھا وہ منظر
06:23کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے ہجرت کر کے روانہ ہوتے ہیں
06:29تو پورے مدینے کے بچے بچیاں نوجوان بڑے بوڑے
06:36حضور کے استقبال کے لیے نکلے ہوئے ہیں
06:40اور بچیاں کہہ رہی ہیں
06:52یہ قافلہ نہیں آیا
06:54ہم پہ تو چودویں کا چاند طلوع ہو گیا
06:59کیا ان کے دلوں میں محبت پیدا ہوئی
07:02صحابہ کرام کے لیے
07:04آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے
07:07کس طرح انہوں نے اپنی پلکوں پہ بٹھایا
07:10کس طرح انہوں نے آنکھوں میں بٹھایا
07:12اور پھر وہ محبت اتنی دائمی کر دی اللہ پاک نے
07:16کہ آج چودہ سو سال پندرہ سو سال گزر چکے ہیں
07:21مگر صحابہ کے نام پر آج بھی دل محبتوں سے جھک جاتے
07:27تو یہ وہ اولین مصداق ہے
07:30جو ہمارے دلوں میں محبت ہے
07:33صحابہ کرام کی
07:34حبو بکر صدیق کی
07:36عمر فاروق کی
07:38عثمان غنی کی
07:39علی مرتضی کی
07:41رضی اللہ عنہم
07:43اور پھر
07:44امام الانبیاء خاتم النبیین
07:46حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی
07:50وہ اس آیت کی بشارت ہے
07:53آیت نمبر 96
07:55سورہ مریم
07:57ان اللہزین آمنوا وعملوا صالحات
08:00سیجعلوا لہم الرحمن ودہ
08:03اور یہ قرآن کریم کا اجاز بھی ہے
08:06یہ قرآن کریم کا موجزہ بھی ہے
08:10یہ قرآن کریم کا کمال بھی ہے
08:12کہ یہ جب پیش گوئی کرتا ہے حالات نہیں ہوتے
08:17یہ جب پیش گوئی کرتا ہے
08:19لوگوں کی عقلیں اس کو قبول نہیں کرتی
08:23کہ یہ کیسے ہو جائے گا
08:24یہ کیسے ہو جائے گا
08:25قرآن کریم میں
08:27بے شمار اللہ پاک نے پیش گوئیاں کی
08:31کہ انقریب یہ ہونے والا ہے
08:33انقریب یہ ہونے والا ہے
08:35انقریب یہ ہونے والا ہے
08:37اور کفار مکہ اس کو رد کرتے
08:39اور اس پر ہنستے مذاق اڑاتے
08:41کہ یہ کیسے ہو جائے گا
08:42اتنی تبدیلی کیسے آ جائے گی
08:44لیکن یہ قرآن کریم کا اجاز ہے
08:47کہ آپ دیکھیں کہ یہ ابتدائی سالوں کی صورت ہے
08:50ابتدائی سالوں کی آیت ہے
08:53اور آج چودہ سو سال گزر گئے
08:56اور اس آیت کی جو تابناکی ہے
09:00اس کا روشن پہلو ہے
09:01اور اس کی جو عملی تفسیر ہے
09:04وہ زمانے میں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں
09:08کہ ابو بکر صدیق کے متوالے ہیں
09:11عمر کے متوالے ہیں
09:12عثمان کے متوالے ہیں
09:14علی کے متوالے ہیں
09:15عشرہ مبشرہ کے متوالے ہیں
09:18اصحابِ بدر کے متوالے ہیں
09:20اہلِ بیت کے متوالے ہیں
09:23شہدہِ کربلہ کے متوالے ہیں
09:25یہ کیا ہے
09:26یہ اللہ پاک جو ہے وہ دلوں میں
09:29محبت پیدا فرما دیتا ہے
09:30تو اس ابتدائی تفسیر سے
09:33یقیناً آپ پر یہ بات
09:35واضح ہو گئی ہوگی
09:36کہ ہم نے یہ بات کی
09:37کہ کس مرحلے پر
09:39اور کس مقام پہ
09:41اللہ پاک نے یہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی
09:43اور اس نے کیسے
09:45اپنی شان کو ظاہر کیا
09:47اور کیسے اس کا کمال لوگوں کے سامنے ظاہر ہوئے
09:50مفسرینِ کرام نے
09:51اس آیتِ کریمہ کے
09:53چند معانی
09:54یا اس کی چند تفاصیر کی ہیں
09:56جو میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں
09:59اور
10:00آپ بڑی توجہ سے سن رہے ہیں
10:02بڑی محبتوں سے سن رہے ہیں
10:04اور ہمارے ناظرین
10:07سکرین پر سن رہے ہیں
10:09میں دعا کرتا ہوں
10:10کہ اللہ پاک
10:11قرآنِ کریم کی برکتیں
10:13ہم سب کو نصیب فرمائے
10:15فرمایا کہ
10:16وہ لوگ جو ایمان والے ہیں
10:18نیک عمل والے ہیں
10:20ان کی محبت پیدا کر دی جائے گی
10:22ٹھیک ہے
10:23تو
10:24پہلا معنی اس کا
10:27اور پہلی تفسیر اس کی یہ بیان کی گئی
10:29کہ یہ جو
10:31ودن کا لفظ ہے
10:32محبت پیدا کرنا
10:34اس کا معنی مفہوم یہ ہے
10:36کہ اللہ پاک
10:38صحابہِ کرام میں
10:40آپس میں ایک دوسرے کی محبت پیدا فرما دے گا
10:46سیج علو لہم الرحمن ودہ
10:48یہ جو ایمان والے ہیں
10:50عملِ صالح والے ہیں
10:52اللہ پاک ان میں
10:53آپس میں محبت رکھتا ہے
10:56یہ تفسیر بھی اس کی کی گئی ہے
10:59اب اس تفسیر کو لے کر
11:01آپ ذرا اپنے سامنے رکھیں
11:03کہ صحابہِ کرام
11:05جب کلمہِ طیبہ کی
11:07تسبیح میں پیروئے جاتے تھے
11:09ایک لشکر بن رہا تھا
11:11ایک گروہ بن رہا تھا
11:12ایک جماعت بن رہی تھی
11:13اس جماعت میں
11:15آپس میں محبت کیسی تھی
11:18آپس میں تعلق کیسا تھا
11:20آپس میں
11:22تعلق کی گہرائی کیسی تھی
11:24یہ آپ
11:24اس کو اگر دیکھیں گے
11:26تو یہ ایک الگ موضوع ہے
11:27اور اس آیتِ کریمہ میں
11:28اس کی طرف بھی اشارہ ہے
11:29صحابہِ کرام
11:31ایک دوسرے کے لیے بھی
11:32جان دے دینا
11:34ایک دوسرے پر صدا ہونا
11:35ایک دوسرے کا خیال رکھنا
11:37ایک دوسرے پر سلامتی بھیجنا
11:40اور اسی آیتِ کریمہ کا یہ
11:42مصداق تھا
11:43کہ جب یہ صحابہِ کرام
11:45مدینہِ منورہ میں گئے
11:47جب قریشی انسار والوں سے ملے
11:50تو انسار والوں نے
11:52انہیں صرف گھر میں جگہ نہیں دی
11:55اپنے دل میں جگہ دی
11:58یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے
12:00کہ کسی کے لیے
12:01اتنا ظرف پیدا کرنا
12:04اتنی وسط پیدا کرنا
12:05اتنی گنجائش پیدا کرنا
12:07یہ کسی محبت کے بغیر
12:10یہ محبت کے بغیر
12:11یہ چیز نہیں ہو سکتی
12:14تو یہ محبت پیدا ہو گئی
12:16علاقے مختلف تھے
12:19رنگ مختلف تھے
12:21نسلیں مختلف تھیں
12:23بلکہ ایک جملہ آپ کی نظر کر رہا ہوں
12:26کہ فارس سے آنے والے سلمان
12:31اور روم سے آنے والے سحیب
12:34اور حبشا سے آنے والے بلال
12:37اور قریش کے لوگ
12:39اور انسار کے لوگ
12:41سارے بھائی بھائی بن گئے
12:43سب ایک ہو گئے
12:45علاقے مختلف تھے
12:46لیکن اللہ نے نوید سنا دی تھی
12:56اللہ پاک آپس میں
12:57ان میں محبت پیدا فرما دے گا
12:59ایک
13:00چیز کی طرف آپ
13:01اگر اپنی توجہ مرکوز کریں
13:03آپ نے چند روایات
13:04ایسی سنی ہوں گی
13:07کہ بہت سارے لوگ
13:08جب اسلام قبول کرتے تھے
13:10آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکے
13:12اسلام قبول کرنے سے
13:14پہلے کی اپنی کیفیت
13:16وہ بیان کرتے تھے
13:17کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
13:22میں جب کفر کی حالت میں تھا
13:26تو میرے دل میں
13:27آپ کے لیے
13:28سب سے زیادہ دشمنی تھی
13:30یہ آپ نے سنا ہے نا
13:32کہ آنے والا یہ کہتا تھا
13:34کہ کچھ دیر قبل یا پہلے
13:36میرے دل میں آپ کے خلاف شدید دشمنی تھی
13:40لیکن آپ کا کلمہ پڑا ہے
13:42تو میرے دل میں آپ کی شدید محبت پیدا ہو گئی
13:46وہ اسی آیت کا مصداق ہے
13:49کہ اب دیکھو جب تک کلمہ نہیں تھا
13:51عداوت تھی
13:53جب آمنو وعملو الصالحات کے مصداق ہوئے
13:57اور حضور کی بارگاہ میں پہنچے
14:00تو اس آیت کے مصداق وہ
14:02محبت علمیں پیدا ہوتی چلی گئی
14:05وہ محبت کیسے آگئی
14:07کلمہ پڑھتے ہی کیسے وہ محبت آگئی
14:11اس لیے آگئی کہ رحمان نے
14:14وہ ود اور وہ محبت
14:16پیدا کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے
14:21اسی محبت کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے
14:23کہ
14:26کہ مومن آپس میں کیا ہیں
14:28بھائی بھائی
14:32آج اس محبت کی
14:34اگر ہمیں کمی نظر آتی ہے
14:36تو اس کا مطلب ہمیں صاف محسوس ہوتا ہے
14:39کہ ایمان کی کمزوری ہمارے درمیان موجود ہے
14:42عمل سالے کی کمزوری موجود ہے
14:46کیونکہ عمل سالے والوں کی نشانی یہ ہوتی ہے
14:53ان کی نشانی یہ ہوتی ہے
14:55کہ وہ آپس میں نفرت نہیں کر سکتے
15:00آیت سے یہ بات سمجھ آ رہی ہے کہ نہیں
15:05ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو
15:07اللہ محبت پیدا فرما دے گا آپس میں
15:09یہ پہلی تفسیر ہے اس کی
15:10تو اس کے مطابق مومن مومن سے بغض نہیں رکھتا
15:15مومن مومن سے عداوت نہیں رکھتا
15:18حسد نہیں رکھتا دشمنی نہیں رکھتا
15:20اس کے خلاف شر نہیں کرتا
15:23اس کے خلاف پلیننگ نہیں کرتا
15:25اس کے خلاف غیبت نہیں کرتا
15:27اس کے خلاف کوئی سازش نہیں کرتا
15:29مومن تو مومن کا بھائی ہوتا ہے
15:33اس کو نفع دیتا ہے
15:34اس کو خیر پہنچاتا ہے
15:37اس کا دست و بازو بنتا ہے
15:39جسم واحد کی طرح ہوتا ہے
15:41کہ اگر ایک عضو میں تکلیف ہو
15:44تو سارا بدن تکلیف محسوس کرتا ہے
15:46اور اگر اس پر لسانیت غالب آگئی
15:49اس پر قومیت غالب آگئی
15:52اس پر تعصب غالب آگیا
15:54اس پر نفرتیں غالب آگئیں
15:56تو اس کا مطلب ہے
15:57کہ امیل السا آمنوں کا دعویٰ ہم کرتے ہیں
16:00کہ ٹھیک ہم ایمان والے
16:01لیکن دوسری شرط بھی تو ہے
16:03امیل السالحات
16:05یہ ان کو ملے گا جو نیک عمل کرتے ہیں
16:07تو اس کا مطلب ہے
16:08عمل سالح کی کمی کا شکار معاشرہ
16:13وہ ایک دوسرے کے قتل پہ بھی مجبور ہوتا ہے
16:16ایک دوسرے کے ساتھ شر کرنے پہ بھی مجبور ہوتا ہے
16:20ایک دوسرے کے خلاف
16:22دشمنی کرنے پہ بھی مجبور ہوتا ہے
16:25تو یہ پہلی تفسیر ہے
16:27اس کے مطابق
16:28میں نے اہد صحابہ سے لے کر
16:30اہد موجود تک آپ کے سامنے
16:32ایک عملی تصفیر رکھ دی ہے
16:33جس کو دیکھ کر
16:34ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں
16:36سمجھ سکتے ہیں
16:39دوسری تفسیر اس کی یہ بیان کی گئی ہے
16:42کہ
16:48جو ایمان اور نیک عمل کرنے والے ہیں
16:53رحمان ان کے لیے بنا دے گا
16:58جو ان کی محبت ہوگی
17:00جو ان کی طلب ہوگی
17:02وہ ان کے لیے پیدا کر دے گا
17:04وہ ان کے لیے بنا دے گا
17:06یہ اس طرف اشارہ ہے
17:08دوسری تفسیر کے مطابق
17:10اللہ پاک یہ بتانا چاہتا ہے
17:13اے میرے نام پہ تکلیفیں اٹھانے والو
17:16اے میرا کلمہ پڑھ کے تکلیفیں اٹھانے والو
17:20اے دین کی راہ میں چلنے والو
17:23یہ تکلیفیں عارضی ہیں
17:27ایک وقت آنے والا ہے
17:29تم جنت میں پہنچ جاؤگے
17:32سیج علو لہم الرحمن
17:36اپنی ود اور محبت کی جو چیز
17:40رحمان سے مانگو گے
17:42رحمان تمہیں عطا فرمائے گا
17:47سیج عل کو آپ نے دیکھا
17:49فیل مزارے ہے
17:52جو حال کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے
17:54مستقبل کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے
17:56تو اس تفسیر کے اعتبار سے
17:59مستقبل کی بات ہو گئی
18:00کہ مستقبل میں جو تم
18:02محبت جو تمہاری طلب ہوگی
18:04جو تمہاری محبت ہوگی
18:06جو تمہاری چاہت ہوگی
18:07اللہ اس کے مطابق سیج علو پیدا فرما دے گا
18:11بنا دے گا
18:12جو چاہو گے ملے گا
18:14ہے جی فرمایا کہ
18:17وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَحِي أَنفُسُكُمْ
18:22وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدْدْعُونَ
18:27ہے جی
18:27اللہ پاک فرماتا ہے
18:28تمہارے لیے اس جنت میں
18:31ماں سب کچھ ہے
18:33تَشْتَحِي أَنفُسُكُمْ
18:36جو تمہارا دل چاہے گا
18:38یہ ہے وُدًّن
18:42جس چیز کی محبت تمہارے دل میں ہوگی
18:45اللہ پاک وہ تمہیں عطا فرمائے گا
18:50قربان جائیں اس کے چاہنے والوں پر
18:52جو دنیا کی نعمتوں میں
18:55اس سے عرض کریں گے مولا
18:58نعمتوں سے ہم
18:59مستفیض ہوئے
19:01ہمیں تو وُد
19:03محبت
19:04چاہت یہ ہے
19:05کہ اب ہمیں تیرا دیدار کرایا جائے
19:10لیکن چونکہ یہ جنت والوں کی خواہش ہوگی
19:13اللہ پاک نے کہا
19:15ان کی محبت کے مطابق
19:16اللہ پیدا کر دے گا
19:17یعنی ان کی محبت
19:19ان کی چاہت کو
19:20اللہ پائے تکمیل تک پہنچائے گا
19:22تو پھر وہ کیا منظر ہوگا جنت میں
19:25کہ مانگنے والے
19:28دیدارِ خدا مانگ رہے ہوں گے
19:31لِلَّذِينَ أَحْسَنُ الْحُسْنَا
19:34ان لوگوں کے لیے حُسْنَا ہے
19:37یعنی جنت ہے
19:40وَزِيَادَ
19:40اور جنت سے بھی کچھ زیادہ ہے
19:44تو کہیں گے مولا جنت تک تو پہنچے
19:47وہ جو زیادہ کا وعدہ تھا
19:50وہ بھی عطا فرما
19:51تو پھر اللہ اہلِ جنت کو
19:53اپنا دیدار عطا فرمائے گا
19:57لِلَّذِينَ أَحْسَنُ الْحُسْنَا
19:59وَزِيَادَ
20:01تو یہ تھی دوسری تفسیر
20:03بات آپ کو سمجھ آئی
20:05کہ پہلی تفسیر کے مطابق یہ تھا
20:07کہ وُدَّن کا تعلق ہے باہمی
20:09آپس کی محبت
20:11اس کی میں نے آپ کے سامنے
20:13مثالیں بیان کی
20:15اور دوسری جو اس کی تفسیر ہے
20:17وہ یہ ہے
20:17کہ یہ بات ہو رہی ہے جنت کی
20:20کہ جنت میں جس چیز کی محبت ہوگی
20:23اللہ وہ پیدا فرما دے گا
20:24یعنی تمہیں عطا فرما دے گا
20:26اور تیسری تفسیر
20:28اس کی جو ہے نا
20:29وہ بہت مشہور و معروف ہے
20:30جس پر ہم نے ابتدا میں
20:31کچھ بات بھی کی ہے
20:32صحابہ کرام کے حوالے سے
20:34اور وہ تیسری تفسیر یہ ہے
20:36کہ اللہ ایمان والوں کی محبت
20:39نیک عمل والوں کی محبت
20:42عقیدت
20:44لوگوں کے دلوں میں پیدا فرما دیتا ہے
20:49پھر آسمان کے فرشتے بھی
20:51ان سے کہہ رہے ہوتے ہیں
20:53نحن اولیاؤکم فی الحیات الدنیا و فی الاخرہ
20:57اے نیک عمل کرنے والے
21:00ہم فرشتے بھی دنیا و آخرت میں
21:03تمہارے دوست ہیں
21:06ہے جی
21:07دوستی کون کرتا ہے
21:09جس کے دل میں کوئی محبت ہوتی ہے
21:11تو فرشتے بھی دوستی کر رہے ہیں
21:15اپنے دوست ہونے کا اعلان کر رہے ہیں
21:17نحن اولیاؤکم فی الحیات الدنیا و فی الاخرہ
21:21اور بڑی مشہور و معروف حدیث ہے
21:23جسے ہم بکسرت سنتے بھی ہیں
21:26اگر آپ اس مرحلے پر اس کو جوڑ لیں
21:28کہ جب رب کائنات کسی سے محبت کرتا ہے
21:32تو پھر وہ جبریل کو ندا دیتا ہے
21:36کہ جبریل میں اس بندے سے محبت کرتا ہوں
21:40تم بھی اس بندے سے محبت کرو
21:43اور اعلان کر دو
21:46کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے
21:48تو پھر سب اس سے محبت کریں
21:50دوسرا پہلو بھی ہے اس حدیث کا
21:53کہ جب اللہ کسی سے نفرت کرتا ہے
21:57جب اللہ کسی پہ غزبناک ہوتا ہے
22:00تو جبریل کو ندا دیتا ہے
22:02جبریل میں اس بندے سے نفرت کرتا ہوں
22:08اور لوگوں میں تم بھی اس سے نفرت کرو
22:11اور لوگوں میں اعلان کر دو
22:13کہ اس سے نفرت کریں
22:19ظاہر ہے کہ
22:21نوید اور وعید دونوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے
22:24بشارت کا اور انذار کا دونوں کا سلسلہ چلتا ہے
22:27تو دونوں طرف یہ بات ہے
22:29کہ مخلوق خدا کے دل میں
22:32آج بھی آپ دیکھ لیں
22:33کتنے ہی لوگ ہیں
22:35خوبصورتی بڑی ہے
22:38اسٹیٹس بڑا ہے
22:40بعض اوقات طاقت بہت ہے
22:42اہدہ بہت ہے
22:44لیکن مخلوق خدا لانتان کرتی ہے
22:47کسی وجہ سے
22:51کوئی اللہ کے رسول کے خلاف بات کرتا ہے
22:54کوئی صحابہ اکرام کے خلاف بات کرتا ہے
22:56کوئی اہلِ بیعت کے خلاف بات کرتا ہے
22:59کوئی اولیاءِ صالحین کے خلاف بات کرتا ہے
23:02کس طرح زمانے میں اس کی نفرت عام کر دی جاتی ہے
23:05اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے
23:08جس کا تقاضہ یہ ہوتا ہے
23:10کہ اسے چاہا جائے
23:12مگر پھر بھی لوگ اس کو لانتان کرتے ہیں
23:15کیونکہ اصل میعار یہ ہے
23:18کہ جب اللہ کسی سے محبت کرتا ہے
23:21تو اس کی محبت دلوں میں بٹھا دیتا ہے
23:24اور جب کسی سے نفرت کرتا ہے
23:26تو اس کی نفرت دلوں میں بٹھا دیتا ہے
23:30اس لیے فرمایا کہ
23:31ایمان والے وہ ہیں
23:33نیک عمل کرنے والے وہ ہیں
23:35کہ اللہ پاک نے ان کی جو محبت ہے
23:38ان قریب اللہ پاک ان کی محبت جو ہے
23:40وہ دلوں میں پیدا فرما دے گا
23:43اور دل جو ہے
23:45وہ ان کی محبت کے آماجگہ بن جائیں گے
23:50آپ دیکھیں کہ اولیاء کرام ہیں
23:52صحابہ کرام ہیں
23:54صدیاں گزر گئی
23:57ہیں جی
23:58صدیاں گزر گئی
24:00لوگ ماں باپ کو یاد نہیں رکھ پاتے
24:02ایک شخص اپنی ایک دو نسلوں میں غائب ہو جاتا ہے
24:05مگر
24:06یہ کیسے لوگ ہیں
24:08ان کی محبت
24:10ان کی عقیدت
24:12ان کا احترام
24:13ان کا عدب
24:14لوگوں کے دلوں میں اس طریقے سے قائم ہے
24:18کہ
24:19اس میں
24:20دن بہ دن ترقی ہوتی ہے
24:23اضافہ ہوتا ہے
24:24کمی نہیں آتی ہے
24:27اور
24:28اس میں اگر ہم
24:30اولیاء کرام کی صف میں
24:33اگر ہم بات کریں
24:34حضرت غوث العظم
24:35رضی اللہ تعالیٰ عن کی
24:38حضرت شیخ عبدالقادر جلانی
24:40رضی اللہ تعالیٰ عن کی
24:41تو آپ دیکھیں کہ
24:43کس طرح کی محبت
24:45انہی کی اگر ہم مثال لیں
24:46کہ ان کی محبت
24:48کیسے اللہ پاک نے
24:49لوگوں کے دلوں میں بٹھا دی ہے
24:51کہ اگر ان کا نام
24:53عبدالقادر تھا
24:54تو زمانے میں
24:56قادری نسبت مشہور ہے
24:59یعنی ان کے نام کا فیض بھی
25:01ان کے نام کو بھی
25:03اللہ نے ایسے باقی رکھا ہے
25:05کہ قادری نسبت
25:07زمانے میں
25:08فضیلت و شرف کا باعث بن گئی ہے
25:12ان کی صفات
25:13زمانے میں مشہور ہیں
25:14اور ایک ہوتا ہے
25:17عوام کے دل میں محبت ہونا
25:19عام لوگوں کے دل میں محبت ہونا
25:23لیکن یہ جو محبت ہوتی ہے
25:25جس محبت کا اعلان
25:26اللہ جبریل امین سے کراتا ہے
25:30فرشتوں میں ندا ہوتی ہے
25:31لوگوں میں ندا ہوتی ہے
25:33خود جبریل اس سے محبت کرتے ہیں
25:35تو پھر اس محبت سے
25:38کوئی صالح دل بچ نہیں پاتا ہے
25:41کوئی سلیم الفطرت انسان
25:44اس محبت سے پھر محترز
25:47اور احتراز کرنے والا نہیں ہوتا
25:50سب پھر اس میں مبتلا ہوتے ہیں
25:52بڑے بڑے لوگ
25:54جن کا علم
25:56جن کی رفت
25:58جن کی ولایت
26:00جن کی نیکی
26:02جن کا تقوی
26:03جن کا کمال زمانے میں
26:05مشہور ہوتا ہے
26:06وہ پھر جس کی محبت
26:08پیدا کر دی جاتی ہے
26:09ان کے دلوں میں بھی
26:11وہ محبت جاگزی ہو جاتی ہے
26:14اس لئے حضرت الشیخ
26:16عبدالقادر جلانی جو تھے
26:17ان کی محبت آپ
26:19بڑے بڑے لوگوں کے دلوں میں
26:21محسوس کریں گے
26:22بلکہ آپ دیکھیں
26:24جو ابن تیمیہ تھے
26:26عموماً تصوف پہ
26:28وہ نقد کرتے ہوئے
26:29تنقید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں
26:31لیکن جب حضرت الشیخ
26:33عبدالقادر جلانی کی
26:34ان کے سامنے بات آتی تھی
26:36کہتے تھے کہ
26:37حضرت کا فیض کمال کو پہنچا ہوا ہے
26:39میں اس پہ مطرز نہیں ہو سکتا
26:42ان کا مقام کمال پر تھا
26:45ایک جملہ بھی
26:47حضرت الشیخ پہ تنقید کا
26:51حضرت غصے پاک پہ نقد کا
26:53ابن تیمیہ سے منقول نہیں
26:56اور وہ ان کے قریب زمانے کے ہیں
26:59ان کے حالات سے
27:00صفات سے
27:01احوال سے پوری طرح واقف تھے
27:05تو جرت نہیں تھی
27:07کہ ان کے خلاف کوئی بات کی جا سکے
27:08اللہ نے ایسا
27:10دل مسخر کیا تھا
27:12لوگوں کا ان کے لئے
27:13اور ابن جوزی ہوں
27:16پھر تمام وہ بڑے بڑے علماء
27:19کہ جنہوں نے
27:21کچھ نہ کچھ
27:22لکھنے کو اپنی سعادت سمجھا
27:24حضرت غصے پاک کی سیرت پر
27:27جو کتابیں
27:28لکھی گئی ہیں
27:30پچھلی صدیوں میں
27:31وہ چھوٹے لوگوں کی لکھی ہوئی نہیں ہیں
27:34عام مصنفین کی نہیں ہیں
27:36بڑے بڑے اکابر محدثین
27:38مفسرین کی لکھی ہوئی کتاب
27:42حتیٰ کہ ہمارے اہد قریب میں
27:45قریب کی صدیوں میں
27:46حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمت اللہ
27:49لے اخبار الاخیار میں
27:50جگہ جگہ اپنی
27:52جو علیاء کیا وہ ذکر کرتے ہیں
27:55چپٹرز میں جس طرح
27:56وہ حضرت غصے پاک پر بار بار گفتگو کرتے ہیں
27:59بار بار ان کا تذکرہ کرتے ہیں
28:02تو یہ جو محبت ہے
28:04یہ اللہ پاک نے
28:06ان کی جو محبت
28:07سب سے پہلے دلوں میں قائم کی
28:09تو علماء کے دل میں قائم کی
28:11ظاہر ہے وہ زیادہ جلدی مقام سمجھیں گے
28:14غص پاک کا
28:15یہ محبت اللہ پاک نے
28:18عارفین کے دل میں پیدا کی
28:20وہ زیادہ بہتر اور جلدی سمجھیں گے
28:22متقین کے دل میں پیدا کی
28:24وہ زیادہ بہتر اور جلدی سمجھیں گے
28:27اور
28:28پھر جو
28:30گفتگو اور بات کی ہے
28:32امام احمد رضا خان فاضل بریلی رحمہ اللہ نے
28:35جو قصیدے کہے ہیں
28:37حضرت غصالعظم کے لئے
28:38تو وہ بھی اسی آیت کریمہ کا
28:41مصداق ہے
28:41کہ جو خود زمانے میں مجدد کہلائے
28:44وہ کہتے تھے کہ
28:48میرے
28:49گلے میں جو ہے نا
28:51وہ دور کا
28:52دورہ ہے حضرت غص پاک کا
28:55یعنی
28:56اتنی بڑی بات کہنا اور
28:58اتنی آجزی ظاہر کرنا
29:00حضرت غصالعظم کے سامنے
29:02یہ اسی بات کی علامت تھی
29:05کہ وہ اس مقام کو
29:06اس حقیقت کو سمجھتے تھے
29:08تو یہ اللہ پاک کا
29:10کرم ہوتا ہے
29:11اپنے اولیاء پر
29:12اپنے صالحین پر
29:13اپنے بندوں پر
29:14اور جن کے دل
29:15اس سلیم الفطرت
29:17طبیعت سے
29:19ہٹ جاتے ہیں
29:20سکپ ہو جاتے ہیں
29:21ان کا پھر انجام
29:24جو ہے نا وہ
29:25انجام بد ہوتا ہے
29:27بلکہ انجام بدتر ہوتا ہے
29:30آپ ان کی زبانوں سے
29:31ان لوگوں کی گستاخیاں بھی سنیں گے
29:34آپ صلی اللہ علیہ وسلم
29:36نے فرمایا
29:36کہ قرب قیامت کی
29:38ایک علامت یہ ہے
29:39کہ لوگ
29:39اپنے سے پچھلے گزرے ہوئے
29:42بڑے لوگوں کی
29:42برائی بیان کریں گے
29:44ان کا عیب بیان کریں گے
29:46تو یہ دونوں تصویریں
29:49ہمارے سامنے
29:50آج معاشرے میں موجود ہیں
29:52ان کا نام لینے میں
29:54بعض اوقات
29:54بے عدبی آپ کو نظر آئے گی
29:56ان پر بات کرنے میں
29:58آپ کو بے عدبی نظر آئے گی
30:00اور ترہ ترہ کے جملوں سے
30:02تنز اور تنقید
30:04آپ کو نظر آئے گی
30:05یہ دونوں تصویریں میں
30:07اپنے سننے والوں کے سامنے
30:09رکھ رہا ہوں
30:10فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے
30:12اس آیت کریمہ
30:14سورہ مریم کی
30:16آیت نمبر 96
30:17کے آپ
30:18تناظر میں
30:19اگر آپ یہ منظر دیکھیں گے
30:21کہ ان محبتوں کا
30:23امین کون بنتا ہے
30:24ان محبتوں کو
30:25سنبھالنے والا
30:26کون بنتا ہے
30:27ان محبتوں پر قائم رہنے والا
30:30کون بنتا ہے
30:31تو آپ کو
30:32وہ لوگ
30:33الگ نظر آئیں گے
30:34اور وہ لوگ جو
30:35اس سے محروم کر دیے جاتے ہیں
30:38ایسے ہی تو نہیں
30:39آپ صلی اللہ علیہ وسلم
30:40نے فرمایا کہ
30:41تمہارا رب یہ کہتا ہے
30:43کہ جو میرے
30:44ولی سے دشمنی کرتا ہے
30:46میں اللہ
30:47اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں
30:55اللہ ان سے محبت کرتا ہے
30:57اللہ پاک ان کے بارے میں کہتا ہے
30:59کہ اگر یہ اپنی زبان سے
31:02کسی بات پر قسم کھا لے
31:03میں اس قسم کو پورا کر دیتا ہوں
31:06ان کی زبان سے کچھ نکل جائے
31:08تو میں اس کو پورا کر دیتا ہوں
31:10حضرت الشیخ عبدالقادر جلانی رحمت اللہ علیہ
31:13خود فرمایا کرتے تھے
31:15کہ لوگ جو اللہ تک پہنچنا چاہتے ہیں
31:19یا اللہ سے تعلق بنانا چاہتے ہیں
31:23وہ الٹا راستہ استعمال کرتے ہیں
31:27وہ اللہ سے یہ کہتے ہیں
31:28کہ یا اللہ
31:32تو پہلے میری بات مان
31:34پھر میں تیری بات مانوں گا
31:37عموماً ہم لوگوں کا
31:38مزاج رویہ یہی ہوتا ہے نا
31:41یا اللہ اتنی دولت آ جائے گی
31:43تو پھر میں کچھ کروں گا نکل گے
31:45یہ مل جائے گا تو پھر یہ کروں گا
31:47یہ مل جائے گا تو پھر یہ کروں گا
31:50حضرت غصے پاک کہتے ہیں
31:51تو مخلوق ہے وہ خالق ہے
31:55تو بندہ ہے وہ آقا ہے
31:59تو پہلے اپنی بات نہ منوا
32:03پہلے اس کی بات مان
32:05اس کے حکموں پہ چل
32:09ایک مقام ایسا آ جائے گا اس رستے پر چلتے چلتے
32:13کہ پھر جو تیری زبان سے نکلے گا وہ اس کو پورا فرما دے گا
32:19تو یہ اولیاء اس مقام پہ پہ پہنچتے ہیں
32:22کہ یہ اللہ کے حکموں پر عمل کرنا
32:25اللہ کی بات کو ماننا آپ غصے پاک کی زندگی کی جتنی مشکلات کو آپ دیکھیں گے
32:31جو آپ نے اپنے گھر سے جدائی اختیار کی
32:34جو آپ نے تعلیم کے مراحل میں تکلیفیں اٹھائیں
32:37یہ سب اس کا عکس تھا
32:39کہ اللہ میں نے تجھ سے کچھ نہیں مانگا
32:43میں تو وہ کروں گا جو تُو کہے گا
32:46جو مزاجِ یار ہے
32:48جو آپ کی خواہش ہے
32:51جو آپ کا حکم ہے
32:52وہ ہم تسلیم کریں گے
32:55خواہش سے مراد حکم
32:57جو آپ کہیں گے میں تسلیم کروں گا
32:59اور پھر وہ مقام بھی زمانے نے دیکھا
33:02کہ آپ جب خلقِ خدا کو فیض دینے کے لیے
33:07جو ہے وہ بیٹھے ہیں
33:10تو کس طرح آپ مرجعِ خلائق بنے تھے
33:13آپ دعا کرتے تھے دعا قبول ہوتی تھی
33:17آپ بات کہتے تھے بات پوری ہوتی تھی
33:21آپ وعدہ کرتے تھے پورا ہوتا تھا
33:24آپ بشارت دیتے تھے پوری ہوتی تھی
33:28وہ کیا تھا کہ انہوں نے خود اس پہ عمل کر کے دکھایا
33:32کہ میں رب کا ہو گیا
33:34پھر رب میرا ہو گیا
33:45یہ رادیہ اور مردیہ کا مقام ہے
33:48کہ اللہ پاک کہتا ہے
33:50کہ اے بندے تو میرے پاس ایسے پلٹ کر آئے گا
33:53اپنی روح کے ساتھ
33:55کہ تو مجھ سے راضی ہوگا
33:56میں تجھ سے راضی ہوں گا
33:59تو یہ جو آیتِ کریمہ ہے
34:00میں نے اس کی تینوں تفسیریں
34:02آپ کے سامنے رکھیں
34:04الحمدللہ آج کے نشست میں ہم نے
34:06سورہ مریم کی یہ جو آیتِ کریمہ ہے
34:0996
34:10ہم نے اس کو سنا بھی
34:12اس کی سمات بھی کی
34:13اور اس کی جو تفسیر تھی
34:15وہ بھی ہم نے اپنے سامنے رکھی
34:17اور آپ کو اندازہ ہوا ہوگا
34:19کہ آج ہمارے معاشرے میں
34:20ان تفسیروں کو اپنے سامنے رکھ کے
34:23عمل کرنا کتنا زیادہ ضروری ہے
34:26آپس میں محبتیں قائم کرنا
34:28نیک لوگوں سے محبت کرنا
34:30اور اس کے اپوزٹ جتنی چیزیں
34:32ہم معاشرے میں عام ہیں
34:33کہیں شراب کی محبتیں ہیں
34:35کہیں بدکاریوں کی محبتیں ہیں
34:37کہیں شیطان کے
34:39جو پیروکار ہیں ان کی محبتیں ہیں
34:42آج آپ دیکھیں جو بتوں کے پجاری ہوں گے
34:45جو شیطان کے پجاری ہوں گے
34:47وہ بندھن کے جب
34:49سکرین پر آتے ہیں
34:50تو آپ ان کے فالوورز دیکھیں گے
34:52تو وہ
34:54ملینز میں ہوں گے
34:55کروڑوں میں ہوں گے
34:56اس کو ایک پسنیلٹی کہا جائے گا
34:58اس کو ایک شخصیت کہا جائے گا
35:00ہمارے مسلمان بھی ان کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں
35:03کہ ہم نے اس کو فالو کیا ہے
35:05یہ بڑا ہے
35:05دکھنے میں اچھا ہے
35:07فلانا ہے فلانا ہے
35:08آپ آیت نمبر
35:09سورہ مریم کی 96 دیکھیں
35:12کیا یہ یہ تقاضہ کرتی ہے
35:14کہ بت پرستوں کے پیچھے بھاگو
35:17شیطان پرستوں کے پیچھے بھاگو
35:20لہو لعیب والوں کے پیچھے بھاگو
35:22یہ آیت یہ تقاضہ کرتی ہے
35:24کہ جو قرآن والا ہو اس سے جڑ جاؤ
35:28جو اخلاق والا ہو اس سے جڑ جاؤ
35:31جو مصطفیٰ والا ہو اس سے جڑ جاؤ
35:33جس کے کردار سے مہک آتی ہو
35:36اس سے جڑ جاؤ
35:38جو علم کی نشر و اشاعت میں
35:40مصروف ہو اس سے جڑ جاؤ
35:43اور جو
35:44اللہ تک پہنچانے والا ہو
35:46رسول اللہ تک پہنچانے والا ہو
35:48اس سے اپنی محبت قائم کرو
35:51یہ اس بات کا تقاضی کرتی ہے
35:52سیج عالو لہم الرحمن وودہ
35:55تو اس محبت پر
35:56جو اللہ نے ہمارے دل میں رکھی ہے
35:58نیک لوگوں کی
35:59ہم لوگوں نے کبھی اس پر غفلت کی ایک چادر
36:02ڈال دی ہوتی ہے
36:03تو اس غفلت کی چادر کی وجہ سے
36:05جو ہے وہ
36:06ان چیزوں سے جو ہے وہ دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں
36:10تو اس آیت کریمہ کا
36:11تقاضی یہ ہے کہ جو محبت
36:14ہے اس کو پاکیزہ رکھا جائے
36:15اس کو صاف ستھرا رکھا جائے
36:17یہ محبت اللہ کے
36:19اولیاء کے لیے ہے یہ محبت
36:22انبیاء کے لیے ہے یہ محبت
36:24صالحین کے لیے ہے
36:25اور یہ محبت جو ہے
36:27وہ اللہ کے رسول کے لیے ہے
36:29اور یہ محبت اللہ کے لیے
36:32ہے اور
36:33اللہ پاک نے کتنے
36:36خوبصورت
36:36الفاظ میں یہ ارشاد فرمایا
36:38وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبَّ لِللَّهِ
36:42ایمان والے
36:43تو سب سے شدید محبت
36:44کرتے ہی اللہ پاک سے
36:46اور حضور علیہ السلام نے فرمایا
36:48کہ تم میں کوئی اس وقت تک کامل مومن
36:50ہو ہی نہیں سکتا جب تک
36:52کہ وہ میری کامل محبت
36:54اپنے دل میں نہ بسالے
36:56رب صلی اللہ علیہ وسلم کہیں فرماتے تھے
36:59میرے انصار سے
37:00محبت کرو
37:01کہیں آپ کہتے تھے میرے حسن سے محبت کرو
37:05میرے حسین سے محبت کرو
37:06ہمارے رسول نے
37:08وہ محبتیں ہمیں بتا دی ہیں
37:11جہاں ہم نے
37:12اپنا دل لگانا ہے
37:14جو محبتیں ہم نے اپنے دل میں بسانی ہیں
37:17اللہ پاک
37:18اس آیتِ کریمہ کی عملی تفسیر
37:21سے ہمارے
37:23کردار کو مزین فرما دی
37:26جو کچھ
37:27اس پر میرے ذہن میں تھا
37:28میں نے آپ کے سامنے پیش کیا
37:31اگر سامعین
37:32کہ آپ کے ذہنوں میں
37:33کوئی سوال ہو
37:35کوئی بات ہو
37:36تو آپ
37:36پوچھ سکتے ہیں
37:38السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
37:40علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
37:41بیت کرتا آپ خیئیت سے ہوں گے
37:42ماشاءاللہ بہت اچھے گفت کو فرمائی
37:44آپ نے
37:44اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے
37:46قبلہ ایک سوال یہ ہے
37:48کہ
37:48اکثر آپ اہلِ محبت کی آروی شریف میں
37:51نیازِ غوثِ آزم کا اعتمام کرتے ہیں
37:53یہ کرنا جائز ہے
37:55جی بہت اچھا آپ نے سوال کیا
37:57اسی آیتِ کریمہ سے یہ جڑ بھی جاتا ہے
37:59کہ اللہ پاک ان کی محبت
38:01جو دلوں میں بٹھاتا ہے
38:02تو آج
38:03جگہ جگہ جو ہے
38:04وہ عیسالِ ثواب کا اعتمام کیا جاتا ہے
38:08حضرت غوثِ آزم کے لئے
38:10اور
38:11لوگ
38:11قرآن پڑھ کے
38:13ناتیں پڑھ کے
38:14اس کا ثواب ان کو بھیج رہے ہوتے ہیں
38:16یہ لوگوں کی محبت ہے ان سے
38:18البتہ اس محفل کو نام گیاروین کا دے دیا جاتا ہے
38:21تو شرن اس میں کوئی قباہت نہیں ہے کسی چیز کو کوئی نام دینا
38:25تو
38:26نہ اس عنوان میں کوئی حرج ہے
38:28نہ اس میں
38:29عیسالِ ثواب کرنے پہ ظاہر ہے کوئی حرج ہے
38:32اور نہ ہی اس موقع پر کھانا کھلانے میں
38:35تقسیم میں کوئی حرج ہے
38:36اس کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے
38:39کہ جو خلافِ شرع ہو
38:40کیونکہ عیسالِ ثواب کرنا بنیادی طور پر
38:44یہ شرن جائز ہے
38:46اس میں دعاِ مقفرت ہی ہوتی ہے
38:48اللہ نے یہ تو قرآن میں سکھائی
38:50ربنا اغفر لنا والیخوانِنَا
38:52اللَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ
38:55اور
38:56آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنے ہی صحابہ
38:58کرام نے پوچھا
38:59ایک صحابی نے پوچھا کہ
39:00یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
39:02میری والدہ کا انتقال ہو گیا
39:04اگر وہ کچھ کہتی تو
39:06کچھ صدقہ کرتی
39:08تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں
39:10تو ان کو پہنچے گا
39:11تو آپ نے کہا ضرور پہنچے گا
39:14تو کتنے ہی مواقع پہ آپ نے
39:20رغیب دی تو اس سے بیرے
39:21ام سعید کے نام سے کونہ وجود میں آیا
39:24یعنی خریدا گیا اور
39:25عصالِ ثواب کیا گیا
39:26تو بنیادی طور پہ عصالِ ثواب اچھی چیز ہے
39:30کہ آپ کسی کو تحفہ دیں
39:31عصالِ ثواب کریں
39:33تو حضرت غسل آزم کی محبت میں لوگ یہ کرتے ہیں
39:36تو شرن اس میں کوئی قباہت کی بات نہیں
39:39سلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
39:41سلام ورحمت اللہ وبرکاتہ
39:43اللہم صاحب میرا آپ سے یہ سوال ہے
39:45کہ آج کے دور کے اندر
39:47ہم سے کچھ لوگ سوال ہمیں بہکاتے ہیں
39:51کہ آپ ان سے محبت نہ کریں
39:53ولیوں سے محبت نہ کریں
39:55اور ان کے بارے میں بہکاتے
39:57تو ہمیں اس سے کس طریقے سے بچنا چاہیے
39:59اور انہیں کیا جواب دینا چاہیے
40:01بیٹا دیکھیں
40:03ہمارے معاشرے میں بعض اناثر ایسے ہیں
40:06کہ جو اس محبت کو قطع کرنا چاہتے ہیں
40:10توڑنا چاہتے ہیں
40:12اور اس میں طرح طرح کی وہ باتیں کرتے ہیں
40:15تو اولاً تو یہ ہے
40:17کہ اگر آپ کے بس میں ہو
40:18تو انہیں سمجھائیں
40:21اور نہیں سمجھنے والے ہیں
40:23تو ان سے دوری اختیار کریں
40:25ٹھیک ہے نا
40:27اور ایسے لوگوں کا کوئی پھر علاج نہیں ہوتا
40:30کوئی حل نہیں ہوتا
40:31تو بس یہی اس میں بہتری ہوتی ہے
40:33کہ آپ ایسے لوگوں کے ساتھ
40:35نہ بیٹھیں جو یہ ظلم کرتے ہیں
40:37کہ اولیاء اللہ کے بارے میں
40:40نیک لوگوں کے بارے میں
40:42بدگوئی کرتے ہیں
40:43گستاخی کرتے ہیں
40:44ایسے لوگوں سے دور رہنا چاہیے
40:46قرآن کریم نے ابھی کہا ہے
40:47وَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ ذِكْرَ مَعَلْ قَوْمِ الظَّالِمِينَ
40:51کہ ظالموں کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہیے
40:53تو اس کی بنسبت جو ہے
40:56وہ آپ یہ کوشش کرتے رہے
40:59معاشرے کے اندر
41:00کہ وہ اپنے نیک لوگ
41:02اور اولیاء کرام کی
41:03جو ہستی ہے
41:07ان کے بارے میں آپ ایک
41:08مصبت اور پوزیٹیو
41:10جو اپنے کردار سے آپ پیش کر سکتے ہیں
41:12وہ آپ پیش کرتے رہے
41:14کہ ان کی تعلیم کیا تھی
41:16ان کا تعلق کیسا ہے ہم سے
41:18اور ان کا کردار کیسا تھا
41:21اور میں اس کو کیسے
41:22ڈیفائن کر رہا ہوں معاشرے کے اندر
41:24تو جب آپ خود ان کی ایک عملی تصویر بن جائیں گے
41:27بزرگان دین کی
41:28تو یقیناً پھر
41:30یہ ایک اچھا جواب ہے
41:32ان لوگوں کے لئے
41:33کہ جو
41:36اس مرائی کی طرف جاتے ہیں
41:38تو ہمیں عملی طور پر
41:39پھر اس کے خلاف جہاد کرنا چاہیے
41:41اور عملی کردار پیش کرنا چاہیے
41:43آپ پہ بات واضح ہو گئی
41:45سامین محترم
41:46سوالات بھی ہم نے لیے
41:47جوابات بھی ہم نے دیے
41:49پروگرام کا وقت ختم ہو گیا
41:51درس قرآن کا
41:52اور ہم اب اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں
41:55اللہ پاک سے دعا ہے
41:56کہ وہ اس درس قرآن کو قبول فرمائے
41:58وما علینا
41:59اللہ البلاغ
42:00تقبلنی ولا تردو سؤالی
42:05اغفنی سیدی انظر بحالی
42:10یا شیخ عبدالقادر جیلانی
42:15یا شیخ عبدالقادر جیلانی
Comments

Recommended