Skip to playerSkip to main content
  • 7 months ago
پٹنہ، بہار: پٹنہ کے سنجیو بچپن سے ہی کچوری کھانے کے مداح ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ شام کے ناشتے کے لیے کرسپی کچوری کو ترستے ہیں تو وہ 100 سال پرانی نندو کی کچوری کی دکان کا رخ کرتے ہیں۔ سنجیو بچپن سے ہی اس دکان پر آتا رہا ہے اور گرم، شہوت انگیز کچوری سے لطف اندوز ہوتا رہا ہے۔ "مجھے بچپن سے ہی کچوری کھانے کا شوق ہے۔ جب بھی مجھے شام کو کچوری کی خواہش ہوتی ہے تو میں اس دکان پر آتا ہوں۔ یہ دکان کافی پرانی ہے۔ یہ مزیدار، گرم، کڑوی کچوری پیش کرتی ہیں جو منہ میں گھل جاتی ہے۔ صرف سنجیو ہی نہیں، بلکہ پٹنہ اور اس کے آس پاس کے اضلاع میں کچوری کے تمام چاہنے والوں کو پٹنہ میں نندو کی کچوری کی دکان پر گرم کچوری سے لطف اندوز ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ مہک راہگیروں کی ناک تک پہنچ جائے تو وہ کھائے بغیر نہیں رک سکتے۔اگر آپ پٹنہ جنکشن سے 12 سے 14 کلومیٹر دور پٹنہ صاحب گرودوارہ سے 500 میٹر آگے کسی دکان پر ہجوم دیکھیں اور کسی چیز کو تلنے کی خوشبو سنیں تو سمجھیں کہ یہ نندو کی کچوری کی دکان ہے۔ یہاں بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ہر کوئی اس دکان کی کچوری کا دیوانہ ہے۔ فی الحال، منٹو اس دکان کو چلاتا ہے۔ ای ٹی وی بھارت سے بات چیت میں منٹو کا کہنا ہے کہ نندو ان کے دادا کا نام ہے۔ انہوں نے کچوری کی یہ دکان 1914 میں کھولی تھی۔ تقریباً 100 سالوں سے یہ دکان پٹنہ شہر میں سب سے زیادہ مشہور ہے۔ منٹو کا کہنا ہے کہ ان کے دادا کے زمانے میں برطانوی حکومت کے اہلکار، بہت سے آزادی پسند جنگجوؤں کے ساتھ، صرف کچوری کھانے کے لیے اس دکان پر آتے تھے۔ جب بھی سی ایم نتیش کمار کی رہائش گاہ پر کوئی تقریب ہوتی ہے، نندو کی کچوری کے بغیر جانا ناممکن ہے۔ "سی ایم نتیش کمار بھی اس کچوری کے مداح ہیں۔ شہر کے درجنوں سیاست دان، فلمی ستارے اور نامور لوگ کچوری، کچوری اور آلو چوپ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ دکان میرے دادا نے شروع کی تھی۔":- منٹو، دکاندارمنٹو کا کہنا ہے کہ بہار کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں کے لوگ بھی، جو اس دکان پر آتے ہیں، کچوری کے شوقین ہیں۔ انہیں کچوری اتنی پسند ہے کہ گھر میں کوئی تقریب ہو تو انہیں کچوری بنانے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ دکان کے حلوائی مختلف ریاستوں میں کچوری بناتے ہیں۔ "ہم نے پٹنہ شہر کی مشہور کچوری بنانے کے لیے ممبئی، کولکتہ، بنگلور، دہلی، سورت، جھارکھنڈ، پنجاب اور دیگر شہروں کا سفر کیا ہے۔ وہاں کے لوگ نندو کی کچوری کو بھی پسند کرتے ہیں۔":- منٹو، دکاندار

Category

🗞
News
Transcript
00:00आप गुरुद्वारा घूमने आए या फिर पत्ना सीटी के पतंदेवी मंदिर घूमने आए लेकिन पत्ना सीटी आकर अगर आप नंदु जी का कचोरी नहीं खाया तो आपका पत्ना सीटी यात्रा जाया जाएगा
00:19हम इस वक्त मौझूद हैं पत्ना सीटी के बहुचरचित नंदु जी कचोरी वाले के दुकान पर जहां लोगों की भीड लगती है कचोरी और स्नैक्स खाने वाले लोगों की यहां पर भीड लगती है
00:38I will talk about this in about 1500 years.
00:43How is this?
00:45How is this?
00:47How is this?
00:49How is this?
00:51It is a good place.
00:54It is a good place.
00:56It is a good place.
00:57It is a good place.
00:59How is this?
01:01When do you get this?
01:03I like to go to the place of the house.
01:10I like to go to the house and get a drink.
01:15I like to go to the house and get a drink.
01:18And I like to go to the house.
01:23foreign
01:29foreign
01:37foreign
01:43foreign
01:51foreign
01:53Yeah, it's very good.
01:57Yeah, the name is good.
01:59Yeah, it's good.
02:01It's the best, it's good.
02:03What are you eating?
02:05You eat this fish and what are you eating?
02:07We live here, we come here very often.
02:10It's good, it's a small fish.
02:12It's good, it's good to eat.
02:13It's good.
02:13It's good to eat some meat, I like it.
02:16What are you eating about this?
02:20It's good.
02:22foreign
02:29foreign
02:34foreign
02:39foreign
02:44foreign
02:49This is the best fruit of the fruit of the fruit.
02:58और इसको बकाइदा चने में डुबोया जाता है उसके बाद एक ग्राहकों को परोसा जाता है कचोडी के अलावा कुछ और स्नेक्स नंदू जी के दुकान पर मिलते हैं आलू दम है चने की घुगनी है और इसके बाद लोगों को ये उपलब्द करा जाता है आलू चौप और
03:28का रंग कैसा है स्वाज कैसा है देखिए ये आलू दम यहां खाने के लिए लोग दूर दूर से आते हैं और आलू दम आपको हम दिखलाएं तो आलू दम देखिए ये खड़ा आलू इसमें डाला गया है पूरा आलू है आलू को काटा नहीं गया है और इसके बाद इसको �
03:58he has been talking about this
04:00I am also talking about this
04:02this is a small size
04:04that you can only
04:05put it in your mouth
04:07so
04:10this is
04:12the
04:13the
04:14the
04:16the
04:17the
04:18the
04:19the
04:20the
04:22the
04:23the
04:25Music
04:27Music
04:29Music
Comments

Recommended