00:00Kudret کی اس خودصورت کائنات کو جب غور سے دیکھا جائے تو ہر طرف نظامِ الٰہی کی ایک زبردست حکمت
00:06اور توازن نظر آتا ہے
00:07جس میں ہر ایک چیز کو انسان کی بقا اور بھلائی کے لیے بنایا گیا ہے
00:12سائنس جب بادروں کے آپس میں رگر کھانے اور آسمانی بجلی کے کڑکنے پر تحقی کرتی ہے
00:17تو پتہ چلتا ہے کہ اس خولناک کڑک کے پیچھے بھی کدرت کا ایک عظیم انام چھکا ہوا ہے
00:23آسمانی بجلی جب چمکتی ہے تو وہ ہوا میں موجود نائٹروجن کو حل کر کے بارش کے پانی کے ساتھ
00:29نائٹریٹس بنا کر زمین پر گراتی ہے
00:31جو کھیتوں اور فصلوں کے لیے ایک بہترین خالص اور مفت قدرتی اکھات کا کام کرتی ہے
00:36مٹی کی ذرخیزی کو بڑھاتی ہے اور اوزون کی تہہ کو مضبوط کرتی ہے
00:41قدرت نے زمین، مٹی اور خوراک کا ایسا پاکیزہ اور خودکار نظام قائم کیا تھا
00:46جس میں انسان کے لیے صحت، طاقت اور ذائقہ رکھا گیا تھا
00:50لیکن افسوس کہ انسان نے اپنی نادانی، اجلت اور لالچ میں
00:54اس قدرتی توازن کو اپنے ہی ہاتھوں سے تباہ کر دیا
00:58آج کی دنیا میں پڑے لکھے لوگوں، بڑے بڑے سائنسدانوں، انجینیروں، ڈاکٹروں
01:03اور حکمرانوں نے مل کر ترقی کے نام پر ایک ایسا مسنوئی جال بچھایا ہے
01:07جس نے انسان کو صحت مند بنانے کے بجائے بیماریوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے
01:13جبکہ میابی خادوں اور زہریلے سپرے کا دور شروع ہوا
01:16تو دعویٰ یہ کیا گیا کہ یہ کم وقت میں زیادہ پیداوار دے کر دنیا کو بھوک سے بچائے گا
01:22لیکن حقیقت میں اس عارضی فائدے نے خوراک کا ذائقہ، ویٹامینز اور قدرتی طاقت بلکل ختم کر دی
01:29اور زمین کو بنجر بنا دیا
01:31یہ پڑے لکھے ماہرین اور ملٹی نیشنل کمپنیاں جو ہر سال نئے زہر اور کیمیکل تیار کرتی ہیں
01:37کیا انہیں اتنا بھی شعور نہیں کہ ان کے بنائے ہوئے زہر مٹی کے اندر موجود دوست گیروں اور بیکٹیریا
01:44کو مار رہے ہیں
01:44اور وہی زہریلی خوراک جب انسانوں کے پیٹ میں جاتی ہے
01:48تو کینسر، شوگر، گردوں کی ناکامی اور دل کے امراض پیدا کرتی ہے
01:53سب سے بڑا دردناک پہلو یہ ہے کہ جن ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی ذمہ داری انسانی جان کی حفاظت تھی
02:00وہ بھی اس اندھے تجارتی چکر کا حصہ بن چکے ہیں
02:03ایک طرف کیمیکل بنا کر خوراک کو زہریلہ کیا جاتا ہے
02:07اور دوسری طرف اسی خوراک سے بیمار ہونے والے انسانوں کو مہنگی عدویات کے ذریعے لوٹا جاتا ہے
02:13جس سے اربوں ڈالر کی اندسٹری چل رہی ہے
02:16انسان آخر کس غفلت میں سویا ہوا ہے کہ اس کی توجہ سب سے بنیادی اور قینتی چیز پر نہیں
02:23جاتی
02:23اس دنیا میں بادشاہوں کے تاج انجینئروں کی بڑی بڑی عمارتیں
02:28سائنسدانوں کی ایجادات اور ڈاکٹروں کی ڈگریاں کس کام کی ہیں
02:32اگر انسانی جان ہی محفوظ نہیں
02:34اگر انسان کا جسم ہی زہر سے بھر جائے اور اس کی سانسیں ہی بیماریوں سے جڑ جائیں
02:40تو ایسی کسی معاشی ترقی یا تجارتی منافع کا کیا فائدہ
02:44قدرت کا قانون بلکل صاف ہے
Comments