00:00گیارہ جنوری نائنٹی نیٹی ٹو
00:02مومبائی کے وڈالا ایریا میں
00:03امبیٹکر کالج کے سامنے ایک ٹیکسی رکھتی ہے
00:06اس ٹیکسی سے ایک آدمی ہوترتا ہے
00:08رمبا کر شریف شکل
00:10جیسے کوئی کالج پروفیسر ہو
00:12لیکن اس کی جیب میں ایک ویبلی اینڈ سکوٹ ریولور ہوتی ہے
00:15اور اس کے پیچھے
00:16اٹھارہ پولیس آفیسرز
00:18تین الگ الگ ٹیم میں
00:19اس کا بس کالج کے باہر آنے تک کا ہی انتظار کر رہے تھے
00:23اس کا نام تھا منوہر ارجن سوروے
00:25دنیا سے منیا سوروے کے نام سے جانتی ہے
00:27یہ آدمی مومبائی کا سب سے پڑھا لکھا گینکشر مانا جاتا تھا
00:31کیمسٹری میں لگ بگ 78% حاصل کرنے والا سٹوڈنٹ
00:34اور یہی وہ دماغ تھا
00:36جس پر دعوت ابراہیم کے بڑے بھائی
00:38سابر ابراہیم کی قتل کی پلاننگ میں
00:39اہم کردار ادا کرنے کا الزام تھا
00:41اس دن امبیٹ کر کالج کے باہر
00:43اگلے پانچ منٹ میں مومبائی اپنی تاریخ کا
00:46پہلا مشہور سرکاری طور پر
00:47درج انکاؤنٹر کیلنگ دیکھنے والا تھا
00:53جی اسلام علیکم دوستوں
00:56مومبائی دنیا کی ٹاپ ٹین
00:58پاپولیٹڈ سٹیز میں سے ایک
00:59یہی شہر ہمیشہ سے اپنی دھن میں رہتا آیا ہے
01:02انڈیا کا کیپیٹل لا ہوتے ہوئے بھی
01:05اسے مہاراستشاہ کا کیپیٹل ہونے کا عزاز حاصل ہے
01:07ہر سال دنیا بھر سے تقریباً
01:098.5 ملین لوگ اس شہر کی روشن زندگی
01:12دیکھنے کے لیے یہاں کا کلچر
01:14ایکسپلور کرنے کے لیے آتے ہیں
01:15پر دوستوں آج کی یہ ویڈیو مومبائی کے کلچر
01:18بولی ورڈ یا یہاں کی بارش پر نہیں ہے
01:21ایک ایسا زمانہ بھی تھا
01:22جب مومبائی بومبے تھا
01:24جب اس شہر کے لوگ اپنے گھروں سے نکرنے سے
01:26گھبراتے تھے
01:27یہ سوچ کر کہ شاید ان کا آج کا یہ گھر سے نکرنا
01:37ہوتے ہیں تب کی جب انسانی جان کی
01:39ویلیو محض کچھ روپےوں کی تھی
01:40اور بات کرتے ہیں اس شخص کی
01:42جس نے اس وقت کے کئی مشہور ڈاؤن
01:45اور مومبائی پولیس کو کئی عرصے تک دن میں
01:47تہارے دکھائی رکھے
01:488 اگس 1944
01:51رتنگری کے ایک چھوٹے سے گاؤں رانپور میں
01:53منہور ارجن سروے پیتا ہوا
01:54جب وہ صرف 8 سال کا تھا اس کی فیملی بومبے آگئی
01:57اس نے کرتی کولیج کیمسٹری میں گریجویشن کی
02:00کچھ پبلک انفرمیشن کے مطابق
02:02اس نے تقریباً 78 پرشنٹ مارکس لیے تھے
02:04شاید کسی نے بھی یہی سوچا ہوگا
02:07کہ یہ پڑھا لکھا سٹوڈنٹ
02:08ایک دن ممبے کا خوف بن جائے گا
02:11کولیج کے بعد اس کی ملاقات
02:12اپنے ستیلے بھائی بھارگف دادا کے ذریعے
02:14کچھ بدنام لوکوں سے ہوئی
02:16آہستہ آہستہ اس کا اٹھنا بیٹھنا
02:18جنگ کی دنیا میں ہونے لگا
02:19اب یہ وقت شروع ہوتا ہے جب منوہر منیہ بن چکا تھا
02:231969 میں ایک قتل کے کیس میں منیہ کو گرفتار کر لیا گیا
02:28عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنائی
02:30منیہ ہمیشہ کہتا رہا کہ اسے جھوٹے کیس میں بھسایا گیا ہے
02:33لیکن عدالت نے اسے مجرم قرار دیا
02:36سچ کیا تھا اس پر آج بھی مختلف رائے پائی جاتی ہیں
02:40لیکن اتنا ضرور ہے دوستوں
02:41یہی سے ایک کیمسٹری گیجویٹ کی زندگی ہمیشہ کیلئے بدل گئی
02:45منیہ کو پونے کی یار وڑا جیل میں بھیجا گیا
02:47جیل میں اس کی دوسرے گینکسٹر سے دشمنی ہو گئی
02:50اس لیے اسے رتنا گری جیل ٹرانسفر کر دیا گیا
02:53وہاں اس نے بھوک ارتال شروع کر دی
02:55حالات اتنے خراب ہو گئے کہ منیہ کو ہاسپٹل شفٹ کرنا پڑا
02:59اور پھر چودہ نومبر 1979 کو ہاسپٹل سے منیہ فرار ہو گیا
03:04اب اس کا مقصد صرف پولیس سے بچنا یا بدلہ لینا نہیں تھا
03:07اب وہ اپنی خود کی انڈر ورڈ ایمپائر بنانا چاہتا تھا
03:10فرار ہونے کے بعد منیہ نے اپنا گینگ تیار کیا
03:13چوری، لوڈ اور ایکسٹورشن کا سلسلہ شروع ہوا
03:16لیکن اس کی سب سے دلچسپ کہانی کچھ اور تھی
03:18جیل میں منیہ نے جیمز ہیڈلی چیز کا ایک کرائم نوول پڑا تھا
03:23اس نوول میں ایک چوری کا پلان تھا
03:25اور منیہ نے اس فکشنل پلان کو اصل زندگی مطار دیا
03:29منیہ نے گورنمنٹ ملک سکیم کا کیش لوٹ لیا
03:31اور جیسے نوول میں لکھا تھا
03:33ویسے ہی چوری شدہ گاڑی دوسری جگہ چھوڑ دی
03:35پولیس حیران تھی کہ اتنا پرفیکٹ پلان کس نے بنایا
03:39تھوڑے ہی عرصے میں بینکس، کمپنیز اور دوسری چوری کی وارداتوں میں
03:42ممبئی پولیس کی نیندیں وڑنا شروع ہو گئے
03:44آخر پولیس نے ایک سپیشل مشن شروع کیا
03:47آپریشن منیہ سوروے
03:49لیکن دوستو منیہ کی کہانی کو سمجھنے کے لیے
03:52ہمیں اس وقت کے ممبئی انڈر ورلڈ کو سمجھنا ہوگا
03:54وہ اس دور میں تین بڑے نام حکومت کرتے تھے
03:57حاجی مستان، کریم لالا اور وراد ارجن مرتلیر
04:01ان تینوں نے ممبئی کو اپنے اپنے علاقوں میں بانٹ رکھا تھا
04:05اسی دوران بھینڈی بزار کے دو غریب بھائی آہستہ آہستہ ابر رہے تھے
04:09سابر ابراہیم اور دعوت ابراہیم
04:11یہ دونوں اپنے گروپ کو ینگ کمپنی کہتے تھے
04:14اگر آپ نے میری دعوت ابراہیم پر بنائی ہوئی ویڈیو بھی تک نہیں دیکھی
04:17تو یہاں کلک کر کے اسے دیکھ سکتے ہیں
04:20خیر، پولیس کے کچھ افسروں کا رویہ ابراہیم بردرز کے لیے
04:23نسبتاً نرم منا جاتا تھا
04:24اور اپنی ہوشیاری کی وجہ سے ان کا اثر روز پڑھتا جا رہا تھا
04:28یہ بات پرانے گینگز کو بالکل پسند نہیں آ رہی تھی
04:31اور اسی چلتے وقت میں منیا سروے کی انٹری ہوتی ہے
04:35پتھان گینگ کے کچھ بڑے لوگوں نے منیا سے رابطہ کیا
04:37مقصد صرف ایک تھا
04:39دعوت اور اس کے بھائی سابر کی بڑتی طاقت کو روکنا
04:42یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے دوستوں
04:45کئی مختلف کہانیوں کے مطابق
04:47اس پوری سازش کی پلاننگ میں منیا سروے کا اہم کردار تھا
04:50جبکہ فائرنگ کرنے والے پتھان گینگ کے اپنے لوگ تھے
04:54بارہ فروری نائنٹین نیٹی ون
04:56سابر ابراہیم اپنی گاڑی میں کہیں جا رہا تھا
05:04درمہوں میں اس پر گولیوں کی بوچھار کر دی
05:06سابر ابراہیم موقع پر ہی مارا گیا
05:08اسی رات دعوت کو بھی ماننے کی کوشش ہوئی
05:11لیکن وہ بچ نکلا
05:12اور اس دن کے بعد
05:14دعوت کے دل میں صرف ایک چیز رہ گئی تھی
05:16بطلہ
05:17سابر کے قتل کے بعد پورا ممبئی ہل گیا
05:19پولیس نے منیا سروے کو اپنی سب سے بڑی پریورٹی بنا لیا
05:23اس کے ایک ایک ساتھی گرفتار ہونے لگے
05:25منیا لگتار اپنے ٹھکانے بدلتا رہا
05:28لیکن پولیس کا گھیرہ ہر دن تنگ ہوتا جا رہا تھا
05:31پھر آیا
05:32گیارہ جنوری نائنٹین ایٹی ٹو
05:34منیا وڈالا میں اپنی گل فرنڈ ویدیا سے ملنے پہنچا
05:37آج تک اس بات پر اختلاف ہے
05:39کہ پولیس کو اس کی خبر کس نے دی
05:41کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دعوت کے نیٹ ورک میں
05:43اور دعوت اس وقت انڈیا میں ہی تھا
05:45اور کچھ کہتے ہیں کہ خود ویدیا نے پولیس کو انفارم کیا
05:48سچ جو بھی تھا
05:49پولیس پہلے ہی وہاں موجود تھی
05:51اٹھارہ آفیسرز تین ٹیمز
05:53منیا کے لیے بھاگنے کا ہر راستہ بند تھا
05:56جیسے ہی منیا نے خطرہ محسوس کیا
05:58اس نے ریوالون نکالنے کی کوشش کی
06:00لیکن پولیس اس سے ایک قدم آگے تھی
06:03منیا پر گولیاں چل چکی تھی
06:05اسے سیونی ہسپٹل لے جائے گیا
06:07لیکن وہ بچنا سکا
06:08اور اسی کے ساتھ ممبئے کی تاریخ کا پہلا
06:10مشہور اور سرکاری طور پر
06:12درز انکاؤنٹر کلنگ انجام تک پہنچا
06:14لیکن دوستو منیا سروے کی موت
06:16صرف ایک گینکسٹر کا خاتمہ نہیں تھا
06:18یہ ممبئے پولیس کے ایک نئے دور کی شروعات تھی
06:21ایک ایسا دور جہاں انکاؤنٹر پولیسنگ کا
06:24ایک نیا طریقہ بن گیا
06:25اگلے کئی سالوں تک اسی چیز کو لے کے
06:28سینکڑوں گینکسٹرز پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے
06:31منیا کی کہانی بولور تک بھی پہنچی
06:33نائنٹی نائنٹی کی فلم
06:35اگنی پت کے کچھ پہلو
06:36اس کی زندگی سمیت ممبئے انڈرورڈ کی
06:38کئی اصل شخصیاتوں سے متاثر تھے
06:41اور پھر دوہزار تیرہ میں فلم
06:42شوٹ آؤٹ ایڈ وڈالا نے اس کی کہانی کو
06:44دوبارہ دنیا کے سامنے لاکھڑا کیا
06:47سوچئے ایک لڑکا جو
06:48کیمسٹری میں ڈسچنکشن حاصل کر سکتا تھا
06:50جو شاید سائنٹیسٹ پروفیسر
06:52یا اپنی پڑھائی کو لے کر کوئی بھی
06:54بڑا عزت والا کام کر سکتا تھا
06:55پر اس نے ایک ایسا راستہ چنا کہ
06:58آج منوہر نہیں بلکہ ہم منیا کی
07:00کہانی سن رہے ہیں
07:01یا اس کے ساتھ غلط ہوا شاید وہ
07:04منوہر بن کے ہی جینا چاہتا ہو
07:06یہ فیصلہ میں آپ پہ چھوڑتا ہوں
07:09امید کرتا ہوں یار ویڈیو اچھی لگی ہوگی
07:10اچھی لگی تو کومنٹ کرنا
07:11ویڈیو کو لائک اور چینل کو ضرور سبسکرائب کر دینا
07:13ملتے انشاءاللہ پھر کسی اور ٹاپک کے ساتھ
07:15کسی اور ویڈیو میں تب تک کے لیے
07:17رب رکھ
Comments