00:00ڈالایت
00:04السلام علیکم دوستو
00:052 اغسط 1898
00:07جب محمد محبات خان جی
00:10جونہگر گجرات پریٹش انڈیا
00:12میں پیدا ہوئے
00:12ان کا سلسلہ بابی بٹان تھا
00:15اور وہ 1911 سے 1948 تک
00:17ریاست چلانے میں کامیاب رہے
00:19جس میں سے ایک سال پاکستان میں رہتے ہوئے
00:21اس کے بعد کبھی بھارت
00:23واپس نہیں گئے
00:241936 کے پارٹیشن کی وقت
00:26سب پرنسلی اسٹیٹس کو بتایا گیا
00:28کہ یا تو بھارت کو جوائن کرو
00:30یا پاکستان کو
00:31یا انڈیپینڈنٹ رہو
00:33جونہ گڑھ کے عبادی میں لگ بگ 80% ہندو تھے
00:36اور صرف 20% مسلم
00:38لیکن نواب اور ان کے
00:40اس وقت کے ہیڈ آف کورنمنٹ
00:42انڈر نواب شاہ نواز بھٹو
00:44صاحب نے ڈیسائیڈ کیا کہ جونہ گڑھ
00:46پاکستان کو جوائن کرے گا
00:47بینہ بریٹش کنٹرول کی ایٹوائز کے
00:50صرف سی روٹ سے کنیکٹ ہونے کی وجہ سے
00:52انہوں نے 15 سپٹیمبر
00:541947 کو پاکستان کے ساتھ
00:56انسٹرومنٹ آف ایس سیشن سائن کیا
00:58اور محمد علی جناسے 16 سپٹیمبر
01:00کو اسے ایکسیپٹ کروا لیا
01:02اب کہانی میں ٹویسٹ آرہا ہے دوستو
01:04بھارت نے شاہ نواز بھٹو
01:06کے اس ڈیسیجن کو قبول نہیں کیا
01:08سردار والا بھائی
01:10پٹیل نے کہا کہ
01:12جونہ گڑھ لینڈ لوکٹ ہے
01:14صرف سمندر سے کنیکٹ ہونے سے
01:16پاکستان سے جونہا ویلٹ نہیں
01:18بھارت نے اسے چاروں طرف سے گیرا ہوا تھا
01:20سیچویشن گرم ہوئی
01:22بھارت نے بورڈر بلوکٹ لگایا
01:24ٹریڈ اور پوشل سرویس بند کرتی
01:26ریاست کی اکانومی گر گئی
01:3124 اکتوبر 1947 کو
01:33نواب اور ان کا خاندان
01:35اپنے کچھ ڈاگز اور ویلیویبلز کے ساتھ
01:38کراچی چلے گئے
01:38اور پھر کبھی واپس نہیں آئے
01:41یہاں پر ایک جلچسپ بات ہے دوستو
01:43نواب کے پاس ایک وقت میں
01:45آٹھ سو سے لے کے دو ہزار تک
01:47نسلی کتے موجود تھے
01:48اور مزے کی بات یہ ہے
01:50کہ وہ ان کے اتنے شوقین تھے
01:52کہ انہوں نے ہر کتے کے لیے
01:54ایک الگ نوکر رکھا ہوا تھا
01:56اور اس سے بھی جلچسپ بات
01:58ہر کتے کے پاس
02:00اس وقت اس کا اپنا ٹیلی فون تھا
02:03خیر کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں
02:05ساتھ ممبر 1947 کو
02:07جونہ گڑھ کی سرکار نے
02:08شاہ نواز بھٹو کے ذریعے
02:09بھارت کو ایک پیغام بھیجا
02:11کہ آپ آ کر جونہ گڑھ کا انتظام سبھان لیں
02:14کیونکہ حالات ہمارے بس سے باہر ہو گئے ہیں
02:17اگلے دن آٹھ نومبر کو
02:18شاہ نواز بھٹو خود کراچی پاکستان چلے گئے
02:22اور نو نومبر
02:241947 کو بھارت نے فوج بھیج کر
02:26جونہ گڑھ پر پورا قبضہ کر لیا
02:28بیس فروری
02:291948 میں ریفرینڈم ہوا
02:32اپروکس دو لاکھ لوگوں نے
02:34ووٹ دیا اور 99 پرسنٹ
02:36نے انڈیا کو چن لیا
02:37صرف 91 ووٹس پاکستان کے حق میں گئے
02:40پاکستان نے اسے unfair declare کیا
02:43اور کبھی result accept نہیں کیا
02:45تو پھر سوال یہ ہے
02:47نواب traitor تھے یا loin سیور
02:49جنہیں نہیں پتہ وہ سوچ رہے ہوں گے
02:51کہ یہ شیر کہاں سے بیچ میں آگئے
02:53کہانی میں تھوڑا پیچھے چلتے ہیں دوستو
02:55سال 1911
02:56جب نواب نے جونہ گڑھ کا تاتھ سنبھالا
03:00تو سسنگی نیشن پارک
03:01ایشیٹک لائنس بہت
03:03dangerously کم ہو رہے تھے
03:05اس حد تک کہ ایک وقت پر
03:08تو صرف 20 شیر بچے تھے
03:09نواب نے اپنے personal hunting grounds
03:12کو conservation area بنایا
03:13کتوں اور hunting کے باوجود
03:16گیر نیشن پارک کا آغاز
03:19ان کی policy سے ہوا
03:20جو شاید otherwise loin کی
03:22extension ہو سکتی تھی
03:25اس نظریے سے کچھ لوگ کہتے ہیں
03:28کہ وہ loin rescuer تھے
03:30اب کیا صحیح اور کیا غلط
03:32پر ایک بات تو ہے دوستو
03:33اپنا ملک
03:35اپنے لوگ اور اپنی ریاست
03:36کو ایسے ہی چھوڑ دینا
03:37کوئی چھوٹی بات نہیں
03:38اور وہ بھی کسی کے دباؤ میں
03:41آ کر نہیں
03:41بلکہ اپنے ذاتی فیصلے سے
03:43امید کرتا ہوں
03:44یہ اور ویڈیو اچھی لگی ہوگی
03:45اچھی لگی تو کومنٹ کرنا
03:46ویڈیو کو لائک اور چینل کو
03:47ضرور سبسکرائب کر دینا ملتے ہیں
03:49انشاءاللہ پھر کسی اور
03:49ٹاپک کے ساتھ
03:50کسی اور ویڈیو میں
03:51تب تک کے لئے
03:52رب رکھا
Comments