00:00مکہ معظمہ کا شہر سن نو سو تیس حج کا دن اور لاکھوں حاجی کعبہ کے گرد تواف میں مصروف
00:07تھے کہ اچانک ایک لشکر مکہ معظمہ میں داخل ہو گیا
00:12اس لشکر نے حاجیوں پر حملہ کیا اور حاجیوں کا حصل کرنا شروع کر دیا
00:17یہ تھے کارمیشنز جنہیں تاریخ میں قرمتی بھی کہا جاتا ہے
00:22ایک ایسا فرقہ جس کا ماننا تھا کہ حاج اور بیت اللہ کی عبادت باطل ہے
00:28اس فرقہ کا لیڈر ابو طاہر الجنابی صرف ایک چوبیس سال کا نوجوان تھا
00:33جس نے مسجد الحرام میں گھوڑے دوڑا دیئے حاجیوں پر حملہ کیا اور ان کا قتل عام شروع کر دیا
00:40اور پھر اس نے ایک ایسا کام کیا جو چودہ سو سال میں نہ کبھی کسی نے سوچا نہ کوئی
00:46سوچنے کی جررت کر سکتا ہے
00:48اس نے حجر اسود کعبہ سے اٹھا لیا
00:52وہ پتھر جو حدیث نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق جنت سے آیا ہے
00:58لیکن یہ قصہ صرف ایک چوری کا نہیں ہے
01:01یہ قصہ ہے اس پتھر کا جو جنت سے زمین پر آیا
01:05جسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نصب کیا
01:09وہ پتھر جو قیامت کے دن زندہ ہوگا اور گواہی دے گا
01:14اور یہاں پر یہ جاننا بھی ضروری ہے
01:17کہ موڈرن سائنس اس پتھر کے بارے میں کیا کہتی ہے
01:21اور چار سکول آف تھاٹ
01:23موڈرن سائنس میں آج کون سے موجود ہیں
01:25اور وہ اس کو کیسے ڈیفائن کرتے ہیں
01:28کہانی کیا ہے آئیے سمجھتے ہیں
01:38اس پتھر کی داستان شروع ہوتی ہے جنت سے
01:42جامع ترمیزی کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق
01:47حجرِ اسود جنت سے اترا اور وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا
01:52پھر بنی آدم کے گناہوں نے اسے کالا کر دیا
01:55یعنی یہ پتھر کالا نہیں تھا
01:58یہ سفید تھا چمکدار تھا نورانی تھا
02:01جامع ترمیزی کی ایک اور حدیث نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق
02:06حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم دونوں جنت کے یاقوت ہیں
02:10اگر اللہ نے ان کی روشنی چھپائی نہ ہوتی
02:13تو یہ مشرق سے مغرب تک سب کچھ روشن کر دیتے
02:17یعنی اللہ سبحانہ وآلہ نے اس پتھر کی اصلی روشنی چھپا دی
02:22کیوں؟ تاکہ دنیا چلتی رہے
02:24تاکہ امتحان ہوتا رہے
02:27قرآنِ مجید میں اللہ سبحانہ وآلہ نے ارشاد فرمایا
02:30اور یاد کرو جب ابراہیم اور اسماعیل
02:33بیعت یعنی کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے
02:36یعنی یہ قرآنِ مجید کی آیت ہے
02:39اور اس کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام
02:41اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے مل کر کعبے کی تعمیر کی
02:46جب دیواریں تیار ہو گئیں
02:49ایک جگہ خالی رہ گئی
02:51روایت کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
02:54حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کہا
02:56کہ بیٹا ایک پتھر ڈھونڈ لاؤ
02:59جو اس جگہ بالکل صحیح سے نصب ہو جائے
03:02حضرت اسماعیل علیہ السلام
03:04ڈھونڈ کر لائے لیکن کوئی پتھر نہیں ملا
03:08جو اس جگہ نصب ہو سکتا
03:10جب واپس آئے
03:11تو اس جگہ ایک چمکدار پتھر پہلے سے موجود تھا
03:15روایت کے مطابق حضرت جبریل علیہ السلام
03:18یہ پتھر جنت سے لے کر آئے
03:21یہ پتھر اب کعبہ کا حصہ بن گیا
03:24تواف کا سٹارٹنگ پوائنٹ
03:26اور انسان اور اللہ سبحانہ وتعالی کے بیچ
03:28اہد کی نشانی
03:30نبوت سے تقریباً پانچ سال پہلے
03:32مکہ میں سلاب آیا
03:34جس نے کعبہ کو لقصان پہنچایا
03:36قریش کے قبیلوں نے فیصلہ کیا
03:39کہ کعبہ کو دوبارہ بنائیں گے
03:41لیکن جب حضرت اسود کو واپس رکھنے کا وقت آیا
03:44فتنہ شروع ہو گیا
03:46ہر قبیلہ چاہتا کہ یہ شرف ان کا ہو
03:49بنو حاشم کہتے
03:51کہ ہم رکھیں گے
03:52بنو مقسم کہتے کہ نہیں ہم رکھیں گے
03:55کچھ قبیلوں نے خون میں ہاتھ ڈبوئے
03:57جنگ کی تیاری کا اشارہ دیا
03:59چار دن تک یہ تنازہ چلتا رہا
04:02اور مکہ خون خرابے کے درمیان تھا
04:06قریش کے بزرگ
04:07ابو امیہ ابن المغیرہ نے کہا
04:09کہ رکو
04:10جو پہلا آدمی
04:12بنو شیبہ دروازے سے اندر آئے
04:15وہ فیصلہ کرے گا
04:16سب راضی ہو گئے
04:18نظریں دروازے کی طرف ٹک گئیں
04:20اور جو انسان اندر تشریف لے کر آئے
04:23ان کا چہرہ مبارک دیکھ کر
04:25سب نے بے اختیار کہا
04:27کہ یہ تو الامین ہیں
04:29ہم راضی ہیں
04:30رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:33نے مسئلہ سنا
04:34پھر ایک چادر منگوائی
04:36حجرِ اسود اس چادر کے بیچ میں رکھا
04:39اور فرمایا جس کا مفہوم ہے
04:41کہ ہر قبیلے کے سردار
04:43چادر کو ایک کونے سے پکڑے
04:45سب مل کر اٹھائیں
04:46سب نے مل کر اٹھایا
04:48جب پتھر اپنی جگہ کے قریب پہنچا
04:51تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:53نے اپنے مبارک ہاتھوں سے
04:56اسے اس جگہ پر رکھ دیا
04:58جنگ ٹل گئی
04:59خون خرابہ بچ گیا
05:01اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:04کی حکمت کا سب کو پتا چل گیا
05:07سن نو سو تیس آٹھ زلحج
05:10حج کا دن لاکھوں حاجی
05:12مکہ میں جمع تھے
05:14کسی کو نہیں پتا تھا
05:15کہ ان کی طرف ایک لشکر بڑھ رہا ہے
05:17قارمیشنز
05:19یہ اسماعیلی فرقہ
05:20جو بہرین میں قائم تھا
05:22ان کا لیتر ابوخت طاہر الجنابی
05:25جس کی عمر صرف چوبیس سال تھی
05:28لیکن وہ پہلے ہی بسرا لوٹ چکا تھا
05:30کوفہ جلا چکا تھا
05:32اباسیت خلیفہ
05:33بغداد میں کانپ رہے تھے
05:36جب مکہ کے دروازے پر پہنچا
05:38تو اس نے کہا کہ میں مسلمان ہوں
05:40مجھے حرم میں داخل ہونے کا حق ہے
05:43اس نے قسم کھائی
05:44کہ وہ امن میں آیا ہے
05:46پر یہ جھوٹ تھا
05:48جیسے ہی اس کی فوج شہر کے اندر داخل ہوئی
05:51وہ حاجی جو تواف کر رہے تھے
05:53انہیں کعبے کے سامنے قتل کیا گیا
05:56ابو طاہر قرآن کی آیتیں پڑھ رہا تھا
05:59مزاک اڑا رہا تھا
06:01وہ کہہ رہا تھا
06:02کہ میں اللہ کے ذریعے ہوں
06:03اور اللہ میرے ذریعے ہے
06:06ہزاروں حاجیوں کو شہید کیا گیا
06:09اور پھر
06:10ابو طاہر نے وہ کام کیا
06:12کہ جس کے لیے وہ آیا تھا
06:13اس نے حجرِ اسود کو کعبہ سے اٹھا لیا
06:16وہ پتھر
06:17جو ہزاروں سال سے وہاں تھا
06:19وہ پتھر جسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:23نے اپنے مبارک ہاتھوں سے چھوا تھا
06:26وہ پتھر بہرین لے جایا گیا
06:29ابو طاہر نے اسے اپنے علاقے میں رکھا
06:32لیکن کوئی بھی مسلمان
06:34وہاں حج کرنے نہیں گیا
06:37لوگ مکہ آتے رہے
06:39اس کونے کو چھوتے رہے
06:40جہاں پتھر ہونا چاہیے تھا
06:43ایک دن کے لیے نہیں
06:44ایک سال کے لیے نہیں
06:46بلکہ بائیس سال تک
06:48روایت کے مطابق
06:50ابو طاہر الجنابی کا انجام
06:52تسلی بخش نہیں ہوا
06:53اس کے جسم میں کیڑے پڑ گئے
06:56اور وہ انتہائی تکلیف دے حالت میں مرا
06:59اس کے مہدی کا دعویٰ ناکام ثابت ہوا
07:02اور قرنیشن موومنٹ کمزور پڑ گئی
07:05اباسیس خلیفہ نے بھاری رقم دے کر
07:08لاکھوں دینار دے کر
07:10سن نو سو باون میں
07:11قرمتیوں نے یہ پتھر واپس کیا
07:14ساتھ میں ایک پرچی تھی جس پہ لکھا تھا
07:17کہ حکم سے لیا تھا
07:18حکم سے واپس کر دیا
07:20جب دیکھا گیا
07:21تو پتھر ایک نہیں تھا
07:23یہ ساتھ آٹھ ٹکڑوں میں ٹوٹ چکا تھا
07:26تب چاندی کا ایک فریم بنوایا گیا
07:28اور سارے ٹکڑے
07:30اس میں جمائے گئے
07:31آج بھی حجرِ اسود
07:33ٹوٹا ہوا ہے
07:35ساتھ سے آٹھ ٹکڑوں میں
07:36اور چاندی کے فریم میں موجود ہے
07:39یہ ہے اس ظلم کی نشانی
07:41جو ایک باغی نے کیا تھا
07:43لیکن یہ اس بات کی بھی نشانی ہے
07:45کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے گھر کو
07:48کوئی تباہ نہیں کر سکا
07:50اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نشانی کو
07:52کوئی مٹا نہیں سکا
07:54اب ایک سوال ہے جو لوگوں کے ذہن میں
07:56اکثر آتا ہے
07:57کہ یہ پتھر یعنی حجرِ اسود
07:59اصل میں ہے کیا
08:01حجرِ اسود کے بارے میں
08:02سائنٹسٹ کی چار رائے
08:04اور چار تھیوریز موجود ہیں
08:06پہلی تھیوری
08:07اسے ایک میٹیورویٹ بتاتی ہے
08:09اور یہ تھیوری
08:10اٹھار سو ستاون میں
08:11پول پارٹش نے دی تھی
08:13اور وہ یہ کہتے ہیں
08:14کہ یہ آسمان سے گرا ہوا پتھر ہے
08:17دوسری تھیوری
08:18حجرِ اسود کو
08:19ایک والکینک گلاس بتاتی ہے
08:21یعنی ایک اوبسیڈیل
08:22یعنی ارے بیا کی آگ سے بنا
08:25تیسری تھیوری کے مطابق
08:27شاید یہ ایک ایمپیکٹائٹ ہے
08:29اور یہ تھیوری
08:30ایلیزبت تھومسن نے
08:31انیس سو اسی میں دی تھی
08:33کہ یہ کسی میٹیورویٹ کے زمین سے
08:35ٹکرانے سے بنا ہے
08:37اور چوتھی تھیوری
08:38اسے ایگیٹ بتاتی ہے
08:40جو انیس سو چوہتر میں
08:42روبرٹ ڈیٹس نے دی تھی
08:43کہ یہ ایک عام پتھر ہے
08:45لیکن کسی بھی سائنٹس کو
08:47کبھی اجازت نہیں ملی
08:48کہ وہ اس پتھر کا سیمپل بھی لے
08:51کیوں؟
08:52کیونکہ یہ صرف ایک
08:53جیولوجیکل سیمپل نہیں ہے
08:55یہ امت کی امانت ہے
08:57اور شاید اسی میں حکمت ہے
08:59اگر سائنس پروف کر دے
09:01کہ یہ جنت کا پتھر ہے
09:02تو ایمان کی کیا ضرورت؟
09:05اور اگر سائنس ریجیکٹ کر دے
09:07تو وہ اپنی حد سے
09:08باہر جا رہے ہیں
09:10اللہ سبحانہ وتعالی نے
09:11اس کی حقیقت چھپا کر رکھی ہے
09:14جیسے اس نے نور چھپا کر رکھا ہے
09:16اگر سب کچھ دکھائی دے دیا جائے
09:19تو پھر امتحان کس بات کا
09:21اور پھر ایمان کی کیا ضرورت؟
09:24اب سب سے امپورٹن بات کرتے ہیں
09:26جو اس پورے قصے کا کلائمیکس ہے
09:28جام ترمیزی کی حدیث نبوی
09:30صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق
09:33آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
09:35اللہ کی قسم
09:37اللہ اس پتھر کو قیامت کے دن زندہ کرے گا
09:40اس کی دو آنکھیں ہوں گی
09:42جن سے وہ دیکھے گا
09:44اس کی زبان ہوگی جس سے وہ بولے گا
09:47اور یہ ان سب کی گواہی دے گا
09:49جنہوں نے سچے دل سے اسے چھوا
09:53اب ذرا ایک منٹ کے لیے سوچیں
09:54کہ ہزاروں سال میں
09:56کروڑوں لوگوں نے اس پتھر کو
09:58حجرِ اسود کو چھوا ہوگا
10:00کچھ نے سچے دل کے ساتھ
10:02کچھ نے گناہوں میں ڈوبے ہوئے
10:04اور کچھ نے ریاکاری کے ساتھ
10:06اور یہ پتھر چپ ہے
10:08لیکن قیامت کے دن یہ زندہ ہو جائے گا
10:11اور قیامت کے دن یہ گواہی دے گا
10:13تو جب آپ تواف کر رہے ہوں
10:15اس پتھر کو چھوئے
10:16اسے چوبئے
10:17یہ اس کی طرف ہاتھ اٹھائیں
10:19تو ایک منٹ کے لیے سوچنا ضرور چاہیے
10:22کہ آپ کسی پتھر کے آگے نہیں
10:25آپ ایک گواہ کے سامنے کھڑے ہیں
10:28جو قیامت تک چپ ہے
10:29اور قیامت کے دن
10:31وہ آپ کی گواہی دے گا
10:33اب وہ آپ کی کیا گواہی دیتا ہے
10:36یہ آپ کے کنٹرول میں ہے
10:38کیا وہ آپ کو ریاکاروں میں شامل کرے گا
10:41کیا گنہگاروں میں شامل کرے گا
10:43یا سچے دل سے چھونے والوں میں شامل کرے گا
10:48حجر عثمت ایک پتھر ہے
10:49جو جنت سے آیا
10:51حضرت ابراہیم علیہ السلام
10:53اور حضرت اسماعیل علیہ السلام
10:55نے کعبے میں لگایا
10:56اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:59کے مبارک ہاتھوں سے
11:00یہ اس جگہ پر نصب ہوا
11:02پھر چرایا گیا
11:04ٹوٹ گیا
11:04واپس آیا
11:05اور قیامت کے دن بولے گا
11:08لیکن اس قصے کا
11:09سب سے اہم سبق یہ ہے
11:11جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے
11:14اس پتھر کو چومتے ہوئے فرمایا
11:17کہ میں جانتا ہوں
11:19کہ تُو صرف ایک پتھر ہے
11:21تُو نہ نقصان دے سکتا ہے
11:23نہ فائدہ
11:24اگر میں نے
11:25نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:28کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا
11:31تو میں کبھی نہ چومتا
11:33ہم اس پتھر کو نہیں پوچھتے
11:36ہم اللہ سبحانہ و تعالی کی عبادت کرتے ہیں
11:39ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:41کی سنت نبھاتے ہیں
11:43یہ پتھر ایک نشانی ہے
11:45ایک یاد دہانی ہے
11:47یہ اس عہد کی نشانی ہے
11:49جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر
11:52آخری مسلمان تک ہے
Comments