Skip to playerSkip to main content
Welcome to a journey through one of the most shocking and untold chapters of Islamic History. In this documentary, we uncover the true Story of Hajr-e-Aswad (The Black Stone) and the terrifying events of 930 AD that left the Muslim world in tears.

Imagine a time when the Holy Kaaba stood empty, and Hajj was stopped for 22 years. This is not a myth; it is a dark historical reality caused by the brutal Qarmatians attack on Makkah. Led by the tyrant Abu Tahir Al-Jannabi, a heretical group stormed the Haram, massacred thousands of innocent pilgrims, and committed the ultimate blasphemy: the Theft of the Black Stone.

In this detailed video, we explore:

1. The Massacre of 930 AD: We breakdown the historical accounts of how Abu Tahir Al-Jannabi deceived the gatekeepers of Makkah. Swearing a false oath of peace, he entered the sanctuary only to unleash a river of blood. This section covers the Qarmatian invasion and why they believed ending the Hajj was a religious duty.

2. The 22 Years of Silence: Why was the Hajr-e-Aswad stolen and taken to Bahrain (Al-Hasa)? We discuss the desolate years when no Muslim performed Hajj and the Kaaba remained without its sacred corner. We also look at the failed political negotiations to bring the stone back earlier.

3. Origin & Miracles of the Black Stone: Beyond the tragedy, we dive into the spiritual significance. Is the Hajr-e-Aswad from Jannah? We analyze Hadiths and historical texts that describe its heavenly origins and how it turned black due to the sins of mankind.

4. The Prophecy of Judgement Day: What is the connection between the Black Stone and Judgement Day? According to Islamic eschatology, the Hajr-e-Aswad will speak on the Day of Qiyamah. It will have eyes to see and a tongue to testify in favor of those who touched it with truth and sincerity.

5. The Return of the Stone: Finally, we reveal how the stone was eventually returned to Makkah. Was it broken? Is the stone we see today the whole piece or just fragments? This Kaaba history documentary answers every question you have about the structure and the stone.

If you are a student of Muslim History or simply want to strengthen your Imaan by understanding the trials of the past, this video is for you. This is more than just a story; it is a lesson on the sanctity of the House of Allah.

🔔 Support Our Work: If you found this video informative, please LIKE, SHARE with your friends and family, and SUBSCRIBE for more in-depth Islamic historical documentaries.

👇 Question for you: Before watching this, did you know the name of the man who stole the Black Stone? Let us know in the comments below.

#HajreAswad #IslamicHistory #StoryOfBlackStone #MakkahHistory

Category

🗞
News
Transcript
00:00مکہ معظمہ کا شہر سن نو سو تیس حج کا دن اور لاکھوں حاجی کعبہ کے گرد تواف میں مصروف
00:07تھے کہ اچانک ایک لشکر مکہ معظمہ میں داخل ہو گیا
00:12اس لشکر نے حاجیوں پر حملہ کیا اور حاجیوں کا حصل کرنا شروع کر دیا
00:17یہ تھے کارمیشنز جنہیں تاریخ میں قرمتی بھی کہا جاتا ہے
00:22ایک ایسا فرقہ جس کا ماننا تھا کہ حاج اور بیت اللہ کی عبادت باطل ہے
00:28اس فرقہ کا لیڈر ابو طاہر الجنابی صرف ایک چوبیس سال کا نوجوان تھا
00:33جس نے مسجد الحرام میں گھوڑے دوڑا دیئے حاجیوں پر حملہ کیا اور ان کا قتل عام شروع کر دیا
00:40اور پھر اس نے ایک ایسا کام کیا جو چودہ سو سال میں نہ کبھی کسی نے سوچا نہ کوئی
00:46سوچنے کی جررت کر سکتا ہے
00:48اس نے حجر اسود کعبہ سے اٹھا لیا
00:52وہ پتھر جو حدیث نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق جنت سے آیا ہے
00:58لیکن یہ قصہ صرف ایک چوری کا نہیں ہے
01:01یہ قصہ ہے اس پتھر کا جو جنت سے زمین پر آیا
01:05جسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نصب کیا
01:09وہ پتھر جو قیامت کے دن زندہ ہوگا اور گواہی دے گا
01:14اور یہاں پر یہ جاننا بھی ضروری ہے
01:17کہ موڈرن سائنس اس پتھر کے بارے میں کیا کہتی ہے
01:21اور چار سکول آف تھاٹ
01:23موڈرن سائنس میں آج کون سے موجود ہیں
01:25اور وہ اس کو کیسے ڈیفائن کرتے ہیں
01:28کہانی کیا ہے آئیے سمجھتے ہیں
01:38اس پتھر کی داستان شروع ہوتی ہے جنت سے
01:42جامع ترمیزی کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق
01:47حجرِ اسود جنت سے اترا اور وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا
01:52پھر بنی آدم کے گناہوں نے اسے کالا کر دیا
01:55یعنی یہ پتھر کالا نہیں تھا
01:58یہ سفید تھا چمکدار تھا نورانی تھا
02:01جامع ترمیزی کی ایک اور حدیث نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق
02:06حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم دونوں جنت کے یاقوت ہیں
02:10اگر اللہ نے ان کی روشنی چھپائی نہ ہوتی
02:13تو یہ مشرق سے مغرب تک سب کچھ روشن کر دیتے
02:17یعنی اللہ سبحانہ وآلہ نے اس پتھر کی اصلی روشنی چھپا دی
02:22کیوں؟ تاکہ دنیا چلتی رہے
02:24تاکہ امتحان ہوتا رہے
02:27قرآنِ مجید میں اللہ سبحانہ وآلہ نے ارشاد فرمایا
02:30اور یاد کرو جب ابراہیم اور اسماعیل
02:33بیعت یعنی کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے
02:36یعنی یہ قرآنِ مجید کی آیت ہے
02:39اور اس کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام
02:41اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے مل کر کعبے کی تعمیر کی
02:46جب دیواریں تیار ہو گئیں
02:49ایک جگہ خالی رہ گئی
02:51روایت کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
02:54حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کہا
02:56کہ بیٹا ایک پتھر ڈھونڈ لاؤ
02:59جو اس جگہ بالکل صحیح سے نصب ہو جائے
03:02حضرت اسماعیل علیہ السلام
03:04ڈھونڈ کر لائے لیکن کوئی پتھر نہیں ملا
03:08جو اس جگہ نصب ہو سکتا
03:10جب واپس آئے
03:11تو اس جگہ ایک چمکدار پتھر پہلے سے موجود تھا
03:15روایت کے مطابق حضرت جبریل علیہ السلام
03:18یہ پتھر جنت سے لے کر آئے
03:21یہ پتھر اب کعبہ کا حصہ بن گیا
03:24تواف کا سٹارٹنگ پوائنٹ
03:26اور انسان اور اللہ سبحانہ وتعالی کے بیچ
03:28اہد کی نشانی
03:30نبوت سے تقریباً پانچ سال پہلے
03:32مکہ میں سلاب آیا
03:34جس نے کعبہ کو لقصان پہنچایا
03:36قریش کے قبیلوں نے فیصلہ کیا
03:39کہ کعبہ کو دوبارہ بنائیں گے
03:41لیکن جب حضرت اسود کو واپس رکھنے کا وقت آیا
03:44فتنہ شروع ہو گیا
03:46ہر قبیلہ چاہتا کہ یہ شرف ان کا ہو
03:49بنو حاشم کہتے
03:51کہ ہم رکھیں گے
03:52بنو مقسم کہتے کہ نہیں ہم رکھیں گے
03:55کچھ قبیلوں نے خون میں ہاتھ ڈبوئے
03:57جنگ کی تیاری کا اشارہ دیا
03:59چار دن تک یہ تنازہ چلتا رہا
04:02اور مکہ خون خرابے کے درمیان تھا
04:06قریش کے بزرگ
04:07ابو امیہ ابن المغیرہ نے کہا
04:09کہ رکو
04:10جو پہلا آدمی
04:12بنو شیبہ دروازے سے اندر آئے
04:15وہ فیصلہ کرے گا
04:16سب راضی ہو گئے
04:18نظریں دروازے کی طرف ٹک گئیں
04:20اور جو انسان اندر تشریف لے کر آئے
04:23ان کا چہرہ مبارک دیکھ کر
04:25سب نے بے اختیار کہا
04:27کہ یہ تو الامین ہیں
04:29ہم راضی ہیں
04:30رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:33نے مسئلہ سنا
04:34پھر ایک چادر منگوائی
04:36حجرِ اسود اس چادر کے بیچ میں رکھا
04:39اور فرمایا جس کا مفہوم ہے
04:41کہ ہر قبیلے کے سردار
04:43چادر کو ایک کونے سے پکڑے
04:45سب مل کر اٹھائیں
04:46سب نے مل کر اٹھایا
04:48جب پتھر اپنی جگہ کے قریب پہنچا
04:51تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:53نے اپنے مبارک ہاتھوں سے
04:56اسے اس جگہ پر رکھ دیا
04:58جنگ ٹل گئی
04:59خون خرابہ بچ گیا
05:01اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:04کی حکمت کا سب کو پتا چل گیا
05:07سن نو سو تیس آٹھ زلحج
05:10حج کا دن لاکھوں حاجی
05:12مکہ میں جمع تھے
05:14کسی کو نہیں پتا تھا
05:15کہ ان کی طرف ایک لشکر بڑھ رہا ہے
05:17قارمیشنز
05:19یہ اسماعیلی فرقہ
05:20جو بہرین میں قائم تھا
05:22ان کا لیتر ابوخت طاہر الجنابی
05:25جس کی عمر صرف چوبیس سال تھی
05:28لیکن وہ پہلے ہی بسرا لوٹ چکا تھا
05:30کوفہ جلا چکا تھا
05:32اباسیت خلیفہ
05:33بغداد میں کانپ رہے تھے
05:36جب مکہ کے دروازے پر پہنچا
05:38تو اس نے کہا کہ میں مسلمان ہوں
05:40مجھے حرم میں داخل ہونے کا حق ہے
05:43اس نے قسم کھائی
05:44کہ وہ امن میں آیا ہے
05:46پر یہ جھوٹ تھا
05:48جیسے ہی اس کی فوج شہر کے اندر داخل ہوئی
05:51وہ حاجی جو تواف کر رہے تھے
05:53انہیں کعبے کے سامنے قتل کیا گیا
05:56ابو طاہر قرآن کی آیتیں پڑھ رہا تھا
05:59مزاک اڑا رہا تھا
06:01وہ کہہ رہا تھا
06:02کہ میں اللہ کے ذریعے ہوں
06:03اور اللہ میرے ذریعے ہے
06:06ہزاروں حاجیوں کو شہید کیا گیا
06:09اور پھر
06:10ابو طاہر نے وہ کام کیا
06:12کہ جس کے لیے وہ آیا تھا
06:13اس نے حجرِ اسود کو کعبہ سے اٹھا لیا
06:16وہ پتھر
06:17جو ہزاروں سال سے وہاں تھا
06:19وہ پتھر جسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:23نے اپنے مبارک ہاتھوں سے چھوا تھا
06:26وہ پتھر بہرین لے جایا گیا
06:29ابو طاہر نے اسے اپنے علاقے میں رکھا
06:32لیکن کوئی بھی مسلمان
06:34وہاں حج کرنے نہیں گیا
06:37لوگ مکہ آتے رہے
06:39اس کونے کو چھوتے رہے
06:40جہاں پتھر ہونا چاہیے تھا
06:43ایک دن کے لیے نہیں
06:44ایک سال کے لیے نہیں
06:46بلکہ بائیس سال تک
06:48روایت کے مطابق
06:50ابو طاہر الجنابی کا انجام
06:52تسلی بخش نہیں ہوا
06:53اس کے جسم میں کیڑے پڑ گئے
06:56اور وہ انتہائی تکلیف دے حالت میں مرا
06:59اس کے مہدی کا دعویٰ ناکام ثابت ہوا
07:02اور قرنیشن موومنٹ کمزور پڑ گئی
07:05اباسیس خلیفہ نے بھاری رقم دے کر
07:08لاکھوں دینار دے کر
07:10سن نو سو باون میں
07:11قرمتیوں نے یہ پتھر واپس کیا
07:14ساتھ میں ایک پرچی تھی جس پہ لکھا تھا
07:17کہ حکم سے لیا تھا
07:18حکم سے واپس کر دیا
07:20جب دیکھا گیا
07:21تو پتھر ایک نہیں تھا
07:23یہ ساتھ آٹھ ٹکڑوں میں ٹوٹ چکا تھا
07:26تب چاندی کا ایک فریم بنوایا گیا
07:28اور سارے ٹکڑے
07:30اس میں جمائے گئے
07:31آج بھی حجرِ اسود
07:33ٹوٹا ہوا ہے
07:35ساتھ سے آٹھ ٹکڑوں میں
07:36اور چاندی کے فریم میں موجود ہے
07:39یہ ہے اس ظلم کی نشانی
07:41جو ایک باغی نے کیا تھا
07:43لیکن یہ اس بات کی بھی نشانی ہے
07:45کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے گھر کو
07:48کوئی تباہ نہیں کر سکا
07:50اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نشانی کو
07:52کوئی مٹا نہیں سکا
07:54اب ایک سوال ہے جو لوگوں کے ذہن میں
07:56اکثر آتا ہے
07:57کہ یہ پتھر یعنی حجرِ اسود
07:59اصل میں ہے کیا
08:01حجرِ اسود کے بارے میں
08:02سائنٹسٹ کی چار رائے
08:04اور چار تھیوریز موجود ہیں
08:06پہلی تھیوری
08:07اسے ایک میٹیورویٹ بتاتی ہے
08:09اور یہ تھیوری
08:10اٹھار سو ستاون میں
08:11پول پارٹش نے دی تھی
08:13اور وہ یہ کہتے ہیں
08:14کہ یہ آسمان سے گرا ہوا پتھر ہے
08:17دوسری تھیوری
08:18حجرِ اسود کو
08:19ایک والکینک گلاس بتاتی ہے
08:21یعنی ایک اوبسیڈیل
08:22یعنی ارے بیا کی آگ سے بنا
08:25تیسری تھیوری کے مطابق
08:27شاید یہ ایک ایمپیکٹائٹ ہے
08:29اور یہ تھیوری
08:30ایلیزبت تھومسن نے
08:31انیس سو اسی میں دی تھی
08:33کہ یہ کسی میٹیورویٹ کے زمین سے
08:35ٹکرانے سے بنا ہے
08:37اور چوتھی تھیوری
08:38اسے ایگیٹ بتاتی ہے
08:40جو انیس سو چوہتر میں
08:42روبرٹ ڈیٹس نے دی تھی
08:43کہ یہ ایک عام پتھر ہے
08:45لیکن کسی بھی سائنٹس کو
08:47کبھی اجازت نہیں ملی
08:48کہ وہ اس پتھر کا سیمپل بھی لے
08:51کیوں؟
08:52کیونکہ یہ صرف ایک
08:53جیولوجیکل سیمپل نہیں ہے
08:55یہ امت کی امانت ہے
08:57اور شاید اسی میں حکمت ہے
08:59اگر سائنس پروف کر دے
09:01کہ یہ جنت کا پتھر ہے
09:02تو ایمان کی کیا ضرورت؟
09:05اور اگر سائنس ریجیکٹ کر دے
09:07تو وہ اپنی حد سے
09:08باہر جا رہے ہیں
09:10اللہ سبحانہ وتعالی نے
09:11اس کی حقیقت چھپا کر رکھی ہے
09:14جیسے اس نے نور چھپا کر رکھا ہے
09:16اگر سب کچھ دکھائی دے دیا جائے
09:19تو پھر امتحان کس بات کا
09:21اور پھر ایمان کی کیا ضرورت؟
09:24اب سب سے امپورٹن بات کرتے ہیں
09:26جو اس پورے قصے کا کلائمیکس ہے
09:28جام ترمیزی کی حدیث نبوی
09:30صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق
09:33آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
09:35اللہ کی قسم
09:37اللہ اس پتھر کو قیامت کے دن زندہ کرے گا
09:40اس کی دو آنکھیں ہوں گی
09:42جن سے وہ دیکھے گا
09:44اس کی زبان ہوگی جس سے وہ بولے گا
09:47اور یہ ان سب کی گواہی دے گا
09:49جنہوں نے سچے دل سے اسے چھوا
09:53اب ذرا ایک منٹ کے لیے سوچیں
09:54کہ ہزاروں سال میں
09:56کروڑوں لوگوں نے اس پتھر کو
09:58حجرِ اسود کو چھوا ہوگا
10:00کچھ نے سچے دل کے ساتھ
10:02کچھ نے گناہوں میں ڈوبے ہوئے
10:04اور کچھ نے ریاکاری کے ساتھ
10:06اور یہ پتھر چپ ہے
10:08لیکن قیامت کے دن یہ زندہ ہو جائے گا
10:11اور قیامت کے دن یہ گواہی دے گا
10:13تو جب آپ تواف کر رہے ہوں
10:15اس پتھر کو چھوئے
10:16اسے چوبئے
10:17یہ اس کی طرف ہاتھ اٹھائیں
10:19تو ایک منٹ کے لیے سوچنا ضرور چاہیے
10:22کہ آپ کسی پتھر کے آگے نہیں
10:25آپ ایک گواہ کے سامنے کھڑے ہیں
10:28جو قیامت تک چپ ہے
10:29اور قیامت کے دن
10:31وہ آپ کی گواہی دے گا
10:33اب وہ آپ کی کیا گواہی دیتا ہے
10:36یہ آپ کے کنٹرول میں ہے
10:38کیا وہ آپ کو ریاکاروں میں شامل کرے گا
10:41کیا گنہگاروں میں شامل کرے گا
10:43یا سچے دل سے چھونے والوں میں شامل کرے گا
10:48حجر عثمت ایک پتھر ہے
10:49جو جنت سے آیا
10:51حضرت ابراہیم علیہ السلام
10:53اور حضرت اسماعیل علیہ السلام
10:55نے کعبے میں لگایا
10:56اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:59کے مبارک ہاتھوں سے
11:00یہ اس جگہ پر نصب ہوا
11:02پھر چرایا گیا
11:04ٹوٹ گیا
11:04واپس آیا
11:05اور قیامت کے دن بولے گا
11:08لیکن اس قصے کا
11:09سب سے اہم سبق یہ ہے
11:11جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے
11:14اس پتھر کو چومتے ہوئے فرمایا
11:17کہ میں جانتا ہوں
11:19کہ تُو صرف ایک پتھر ہے
11:21تُو نہ نقصان دے سکتا ہے
11:23نہ فائدہ
11:24اگر میں نے
11:25نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:28کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا
11:31تو میں کبھی نہ چومتا
11:33ہم اس پتھر کو نہیں پوچھتے
11:36ہم اللہ سبحانہ و تعالی کی عبادت کرتے ہیں
11:39ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:41کی سنت نبھاتے ہیں
11:43یہ پتھر ایک نشانی ہے
11:45ایک یاد دہانی ہے
11:47یہ اس عہد کی نشانی ہے
11:49جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر
11:52آخری مسلمان تک ہے
Comments

Recommended