Skip to playerSkip to main content
In 2022, two engineers vanished in the vast desert of Oman, in an area locals call "The Land of Shaddad." Legend says no one returns from this cursed land. But what is the secret buried beneath these sands?

In this video, we uncover the mystery of Bagh-e-Iram (The Garden of Iram)—the legendary City of Gold built by King Shaddad bin Aad to challenge God. For centuries, it was considered a myth, until NASA satellites in 1992 made a shocking discovery that shook the scientific world and confirmed what the Quran revealed 1,400 years ago in Surah Fajr.

From the arrogance of ancient kings to modern billionaires like Brian Johnson and Jeff Bezos trying to "cure death," history is repeating itself. Join us as we explore the intersection of history, science, and divine warning.

In this video, you will learn:

The mysterious disappearance of engineers in Al-Shisr, Oman.

The story of Shaddad bin Aad and his "Heaven on Earth."

How NASA used space radar to find the "Atlantis of the Sands" (Ubar).

The shocking parallel between ancient arrogance and modern anti-aging tech.

The ultimate lesson: Can wealth really save you from death?

Timestamp Chapters:
0:00 - The Mystery: Engineers Vanish in Oman (2022)
1:45 - The Curse of the Land of Shaddad
2:55 - Modern Kings: Brian Johnson & The Quest for Immortality
5:10 - Who Was Shaddad bin Aad? (The Story of Arrogance)
6:45 - Building Bagh-e-Iram: The Paradise of Gold
8:30 - The Moment of Destruction 9:50 - 1992: NASA Discovers the Lost City (Ubar)
11:20 - Quranic Proof: Surah Fajr vs. Modern Science 13:00 - The Reality of Death & Ego

Quotes from the Video: "He spent 300 years building a paradise, but didn't get a single moment to step inside." "NASA's radar saw what the naked eye could not—the pillars of Iram mentioned in the Quran."

Don't forget to LIKE, COMMENT, and SUBSCRIBE for more stories that connect history, mystery, and faith!

#BagheIram #Shaddad #lostcity #quranmiracles #nasa #islamichistory #mystery #oman #brianjohnson #truthmatters #imtinanahmad #facts #foryou #pakistan #india #bangladesh #islamichistory

Category

🗞
News
Transcript
00:0028 جون سن 2022 امان کے علاقے دھوفار سے دو انڈین انجنیز غائب ہو جاتے ہیں
00:06یہ دونوں انڈین انجنیز ایک ٹیلیکام کمپنی کے لیے جاب کیا کرتے تھے
00:11اور ان کا کام یہ تھا کہ ریگستان کے بیچوں بیچ موبائل ٹاور کو فکس کرنا تھا
00:17ایک ایسا ریگستان جس کا نام ہے الشسر
00:20اور الشسر کے ریگستان میں کوئی انسان نہیں رہتا
00:24بیابان پڑا رہتا ہے
00:26صرف ریت ہی ریت ہوتی ہے اور خاموشی
00:2929 جون کو ان کا رابطہ صبح 10 بجے اپنے ہیڈ آفیس سے ڈسکنیکٹ ہو جاتا ہے
00:36یہ دونوں تنہا تنہا رہ جاتے ہیں
00:38اور ایسے میں یہ بلکل منظر عام سے غائب ہو جاتے ہیں
00:42کمپنی میں دھرتلی مجھ جاتی ہے کہ یہ دونوں گئے تو گئے کہاں
00:47سرچ آپریشن شروع ہوتا ہے
00:48امان کی پولیس کو انگیج کیا جاتا ہے
00:51لیکن امان کی پولیس انہیں ڈھونڈ رہنے میں ناکام رہتی ہے
00:54امان کی ائر فورس کو انگیج کیا جاتا ہے
00:57یہاں تک کہ امان کی آرمی کو بھی انگیج کیا جاتا ہے
01:01چھے دن یہ سرچ آپریشن چلتا ہے
01:03اور ان کا نام و نشان نہیں ملتا
01:06اور پھر ایک بددو چلاتا ہوا آتا ہے
01:14ان کے پوست مارٹن کے بعد ایک آفیشل ریپورٹ بنتی ہے
01:17اور آفیشل ریپورٹ کہتی ہے
01:19یا تو ان کی گاڑی خراب ہو گئی تھی
01:21یا پھر یہ ریت میں پھس گئے تھے
01:23لیکن کاؤز آف ڈیتھ بتایا نہیں جا سکتا
01:27اور ایسے میں ایک بوڑھا بددو
01:29جو اس علاقے سے بہت گزرا کرتا تھا
01:32وہ کہتا ہے
01:33یہ شداد کی زمین ہے
01:34یہاں سے کوئی وپس نہیں جاتا
01:37اس زمین سے کوئی زندہ نہیں نکلتا
01:40اب یہاں پر ایک سوال ہے
01:42کہ شداد کون تھا
01:44اور یہ اس کی زمین ہے
01:45تو یہ اس کی زمین اتنی کرسٹ کیوں ہے
01:48اور اس بات کو سمجھنے کے لیے
01:51ہمیں ایک اور جگہ جانا پڑے گا
01:52اور وہ جگہ ہے
01:53یونائیٹید سٹیٹس آف امریکا
01:55دوہزار تئیس میں امریکا کی ریاست
01:58ٹیکسس کے ایک کلینک کے اندر
01:59ایک باپ
02:00ایک بیٹا
02:02اور ایک پوتا
02:03لیٹے ہوئے ہوتے ہیں
02:05باپ کے عمر تقریباً ستر سال ہے
02:07بیٹے کے عمر تقریباً پینتالیس سال ہے
02:09اور پوتے کے عمر سترہ سال ہے
02:12ان تین نسلوں کا خون
02:14ایک دوسرے کے اندر پمپ ہو رہا ہوتا ہے
02:17اس کہانی کا جو بیٹا ہے
02:18اس کا نام ہے برائن جانسن
02:20اور برائن جانسن ایک ٹیک سی ای او ہے
02:23جس کی ورڈ چار سو ملین ڈالر سے زیادہ ہے
02:26اور وہ اپنے سترہ سال کے بیٹے کا خون
02:29اپنے اندر پمپ کر رہا ہوتا ہے
02:32کیوں؟
02:33کیونکہ برائن جانسن کا ماننا یہ ہے
02:36کہ میں مرنا نہیں چاہتا
03:03برائن جانسن کہتا ہے
03:04کہ میں ایجنگ کو ریورس کر رہا ہوں
03:07میری بائیلوجیکل ایج
03:09تقریباً اٹھارہ سال ہے
03:11اور برائن اکیلا نہیں ہے
03:13ایمازون ڈاٹ کام کے فاؤنڈر
03:15جیف بیزاوز نے
03:16ریسنٹلی ایلٹوس لابز میں
03:18تین بلین ڈالرز لگائے ہیں
03:20مشن سیلف ریجووینیشن
03:22گوگل نے دوہزار تیرہ میں
03:24ایک کمپنی بنائی
03:25کیلیکو کے نام سے
03:26اور ان کا آفیشل مشن پتا ہے کیا ہے؟
03:28ان کا آفیشل مشن ہے
03:30سالو ڈیتھ
03:31لیری ایلیسن
03:32آریکل کے فاؤنڈر نے
03:34چار سو ملین ڈالرز
03:36انویسٹ کی اس ریسرچ میں
03:37یہاں تک کہ لیری ایلیسن کا کہنا ہے
03:39کہ موت مجھے
03:41بہت غصہ دلاتی ہے
03:43مجھے سمجھ نہیں آتا
03:44کہ آج ایک انسان ہے
03:46اور کل غائب
03:47how can that be
03:48دنیا کے امیر ترین لوگ
03:50ایک ریس میں لگے ہیں
03:52موت سے بچنے کی ریس
03:54وہ اپنی دولت سے
03:55اپنی ٹکنالوجی سے
03:57وہ سوچتے ہیں
03:58کہ وہ خدا کی دیزائن کو
03:59ہیک کر لیں گے
04:00لیکن یہ کہانی کوئی نئی نہیں ہے
04:03دوہزار تئیس میں جو
04:04دو انجنیز غائب ہوئے
04:06این اسی زمین سے
04:07اسی زمین پر
04:09آج سے ہزاروں سال پہلے
04:11کچھ اور ہوا تھا
04:12ایک اور انسان تھا
04:14جو یہ مانتا تھا
04:15کہ اس کے پاس
04:15انلیمٹڈ دولت ہے
04:17انلیمٹڈ طاقت ہے
04:19اور اس سے
04:20وہ بھی موت سے بچ سکتا ہے
04:22اپنی جنت بنا سکتا ہے
04:24اور آج اس انسان کو
04:26ہم قرآن مجید میں
04:28شداد بن آد کے نام سے جانتے ہیں
04:31کہانی کیا ہے
04:32آئیے سمجھتے ہیں
04:42حضرت نو علیہ السلام کے بعد
04:44کئی نسلوں کے بعد
04:45ایک قوم آئی
04:46اور وہ قوم تھی
04:47قوم آد
04:49اور یہ عام لوگ نہیں تھے
04:50اللہ سبحانہ وتعالی نے
04:52سورہ احراف کی آیت
04:53نمبر انہتر میں
04:54ارشاد فرمایا
04:55اور تمہیں جسموں میں
04:56زیادہ طاقت دی
04:58لمبے طاقتور
04:59ان کی بلڈنگز
05:00ان کے مانیونس
05:01سب ماسف تھے
05:02اور ان سب میں
05:03سب سے طاقتور ایک تھا
05:05تفسیر اپنے قصیر کے مطابق
05:07آد کے دو بیٹے تھے
05:09شدید اور شداد
05:11شدید مر گیا
05:12اور شداد
05:13اکیلے بارچہ بن گیا
05:15اب سمجھتے ہیں
05:16اس کی طاقت
05:17ایک ہزار قبیلے
05:18اس کے انڈر تھے
05:20ہر قبیلے میں
05:21ہزاروں لوگ
05:22عراق سے لے کر
05:23عربیہ تک
05:24شداد کی سلطنت پھیلی تھی
05:26مشرق اور مغرب کے بارچہ
05:28اس کے سامنے جھکتے تھے
05:30اب ذرا امیجن کریں
05:32کہ ایک انسان
05:33جس کے پاس سب کچھ ہو
05:34انلیمٹڈ دولت
05:36انلیمٹڈ طاقت
05:37دنیا کے بارچہ
05:39سب بارچہ
05:40اس کے آگے نوکر بنے ہوئے ہوں
05:43اور وہ
05:43نو سو سال تک جینے والا ہو
05:46ایسے انسان کے دماغ میں
05:48کیا آتا ہے
05:49جسے عرف عام میں
05:50صرف تکبر کہا جا سکتا ہے
05:53وہ سوچنے لگا
05:54کہ میں سب سے بڑا ہوں
05:55مجھ جیسا کوئی نہیں
05:56اور پھر
05:57اللہ سبحانہ وتعالی نے
05:59اس کی طرف
06:00ایک نبی کو بھیجا
06:01اور وہ پیغمبر تھے
06:03حضرت حود علیہ السلام
06:05حضرت حود علیہ السلام کی نسبت سے
06:07سورہ حود کی آیت نمبر پچاس میں
06:09اللہ سبحانہ وتعالی نے ارشاد فرمایا
06:11اے میری قوم
06:13اللہ کی عبادت کرو
06:14اس کے سوا تمہارا
06:16کوئی معبود نہیں
06:17اب شداد جیسا تکبر میں
06:20ڈوبا ہوا انسان
06:21جب اللہ کا پیغام سنتا ہے
06:23تو اس کا ریاکشن کیا ہوتا ہے
06:25شداد نے ایک سوال کیا
06:27کہ اگر میں تیرا خدا مان لوں
06:30تو مجھے کیا ملے گا
06:31تو کوئی شداد نے جو کہا نا
06:33کہ مجھے مطلے میں کیا ملے گا
06:35آپ کسی بادشاہ سے
06:36کسی ایسے سٹیچر کی پوزیشن پر
06:38بیٹھے انسان سے
06:39جس کے پوری دنیا پر حکومت ہو
06:41آپ اس طرح کی چیز ایکسپیکٹ نہیں کرتے
06:43یہ ہوتی ہے
06:44ایک ٹرانزیکشنل مائنسیٹ
06:46ٹرانزیکشنل مائنسیٹ میں کوئی برائی نہیں ہے
06:48ہر انسان کو بدلے میں کچھ چاہیے
06:50اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے دونوں رستے دے دی
06:52جنت دے دی
06:53اور دو زک کا بھی بتا دیا
06:55اب مرضی انسان کیا کمانا چاہے
06:57یہ ہے ٹرانزیکشنل مائنسیٹ
06:59لیکن لیسے ہی کہ انٹیلیکچول تھاٹ ہے
07:01میں اکثر لوگوں کو کہتا ہوں
07:03کہ ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے
07:04صرف اسی لیے محبت کیوں نہیں کر سکتے
07:06کر سکتے ہیں نا
07:08کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے
07:09وہ سب سے بڑا ہے
07:11there's no doubt about it
07:13there's no other question on it
07:15دیکھو
07:15کتنے ایسے لوگوں کے میں مسائل دیکھتا ہوں
07:17سارا دن لوگوں کے مسائل آتے ہیں
07:19کہ فلانے کی کہانی میں یہ ہوا
07:20پھر وہ اس طرح سے بچ گیا
07:21یوں ہو گیا
07:22اور میں دیکھ کر کہتا ہوں
07:23صرف اللہ ہی یہ کر سکتا تھا
07:25اور کوئی انسان نہیں کر سکتا تھا
07:26اور میں لیٹرلی کہتا ہوں
07:27میں اللہ کا بندہ بھی ہوں
07:28اللہ سے ڈرتا بھی ہوں
07:29اللہ سے دوستی بھی بنانے کی کوشش کرتا ہوں
07:32تو
07:32پت میرا ذاتی جو
07:34اگر ذاتی طور پر پوچھو گے نا
07:36میں شاید اللہ کا بہت بڑا
07:37اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بہت بڑا فان ہوں
07:40ایسے کس سے سن کر میں کہتا ہوں
07:41یہ اللہ کا غام ہے
07:43یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا
07:45so transactional relationship
07:46یا transactional mindset
07:48ہر دفعہ ضروری نہیں ہوتا ہے
07:50anyways going back to our notion
07:52شداد کو حضرت حود علیہ السلام نے
07:55پھر جنت کے بارے میں بتایا
07:57اور جنت کا ایک نقشہ کھینچا
08:01پھر حضرت حود علیہ السلام نے
08:03شداد کو بتایا
08:04کہ جنت میں سونے چاندی کے محل ہیں
08:07موتیوں سے بنی زمین
08:09یاکوت اور زمرد کے دروازے
08:11نہریں شہد کی
08:12دودھ کی
08:13پاک شراب کی
08:14تھنڈے پانی کی
08:15کبھی بیماری نہیں
08:17کبھی بڑھاپا نہیں
08:18اور کبھی موت نہیں
08:19اب ذرا یہ سمجھیں
08:21کہ اس پر شداد نے کیا کیا
08:23وہ ہسنے لگا
08:24اور کہنے لگا
08:25کہ بس اتنی سی بات
08:26یہ تو میں بھی بنا سکتا ہوں
08:28اپنے ہاتھوں سے
08:29اسی زمین پر
08:30مجھے تیری جنت کی
08:32کوئی ضرورت نہیں
08:33اتنا تکبر
08:35لیکن اس تکبر کے بعد
08:37وہ رکا نہیں
08:38اس نے اصل میں
08:39یہ جنت بنانی شروع کر دی
08:42کمال الدین و تمام نعمہ میں
08:44شیخ صادق نے لکھا ہے
08:46کہ شداد نے
08:47سو وزیروں کو
08:48پوائنٹ کیا
08:49ہر وزیر کے نیچے
08:50ایک ہزار انجنئرز
08:52یہ لوگ دنیا بھر میں پھیل گئے
08:54سب سے اچھا مقام
08:56ڈھوٹا گیا
08:57اور یہ مقام
08:58یمن کے پہاڑوں میں تھا
09:00اور پھر شداد نے حکم دیا
09:02کہ اینٹوں کی جگہ
09:03سونا اور چاندی لگاؤ
09:04ستونوں میں
09:05یاکوت
09:06دروازوں میں زمرد
09:08زمین پہ پتھروں کی جگہ
09:09موتی بچھاؤ
09:10دنیا بھر کے جہاز آتے رہے
09:13سونا لیلے کے
09:14قافلے آتے رہے
09:15ہیرے جواہرات لے کر
09:17اور کیا آپ جانتے ہیں
09:18کس جنت کو بنانے میں
09:20کتنا عرصہ لگا
09:21تین سو سال
09:22تین سو سال میں
09:23نسلیں بدل گئیں
09:25باپ مر گئے
09:26بیٹے مر گئے
09:27ان کے بیٹے مر گئے
09:28لیکن کنسٹرکشن جاری رہی
09:30اور شداد
09:31نو سو سال کی عمر
09:33وہ زندہ تھا
09:34وہ ویٹ کر رہا تھا
09:35جب کنسٹرکشن کمپلیٹ ہوئی
09:37تو شہر کا نام رکھا گیا
09:39اور اس شہر کا نام
09:40شداد نے اپنے دادا کے نام پر رکھا
09:43اور اس کا نام تھا
09:44باغِ عرم
09:46سورہ فجر کی آیت
09:47نمبر سات اور آٹھ میں
09:48اللہ سبحانہ وتعالی نے رشاد فرمایا
09:50عرم
09:51بلند ستونوں والا
09:53جس کے مثل
09:54شہروں میں کبھی نہیں بنایا گیا
09:56یعنی آپ یہ دیکھ رہے ہیں
09:58کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے خود کہا
10:00کہ ایک ایسا شہر
10:01جیسا کوئی بھی نہیں بنایا گیا
10:06کہ انسان کا بنایا ہوا
10:08سب سے گریٹس سٹرکچر
10:10اور اب شداد
10:12اس جنت میں جانے کو
10:14تیار تھا
10:16تین سو سال کے بعد
10:18فائنلی وہ دن آیا
10:19جب شداد اپنی جنت کو دیکھنے کے لیے
10:22وہاں منتقل ہونے کے لیے بے قرار تھا
10:24شداد نے کافلہ تیار کیا
10:26اور اس کافلے نے ایک لمبا سفر تیہ کیا
10:29اس باغِ عرم تک جانے کے لیے
10:32اور آخر کار
10:33سفر کر کر کے
10:34کر کر کے وہ دن آ گیا
10:36جب شداد کی جنت
10:37اس کے نگاہوں کے سامنے
10:39اس کا انتظار کر رہی تھی
10:41شداد اپنے گھوڑے سے اترنے کے لیے
10:43قدم نیچے رکھتا ہے
10:45لیکن وہ قدم نیچے رکھ نہیں پاتا
10:47کہ اسی لمحے کے اندر
10:49ملک الموت آ جاتے ہیں
10:51اور شداد کا خاتمہ ہو جاتا ہے
10:54این اس وقت
10:55جب جنت اس کی آنکھوں کے سامنے
10:57اس کی بنائی ہوئی جنت
10:59وہ نہ زمین پر ہے
11:00نہ اس کا قدم آسمان پر ہے
11:03وہ اپنی جنت میں جانے کے لیے
11:05بے قرار ہے
11:06چہاں پر جا کر
11:07شاید وہ موت سے بچنا چاہتا تھا
11:09لیکن قدرت نے اسے
11:11اتنا لمحہ بھی نہیں دیا
11:13اور شداد کے غرور کا
11:15اس کے تکبر کا
11:16اور موت سے بچ جانے کے
11:19ارمان کا خاتمہ ہو گیا
11:23اب کہانی کے اندر
11:25ایک ٹویسٹ آتا ہے
11:26اور یہ ٹویسٹ
11:27آپ کو ہلا کر رکھ دے گا
11:28سن 1981 میں
11:30ایک فلم میکر تھا
11:32لوس آنجلس میں
11:33اور اس فلم میکر کا نام تھا
11:35نکلس کلاپ
11:36نکلس کلاپ نے
11:371932 کی ایک کتاب پڑھی
11:39جس کا نام ہے
11:40Arabian Felix
11:42اور اس کتاب کو لکھا ہے
11:44برٹرم تھومس نے
11:45اس کتاب میں ایک بددو نے
11:47تھومس سے ذکر کیا
11:49کہ یہ رستہ
11:50ابر کو جاتا ہے
11:51وہاں ایک شہر تھا
11:53سونے کا
11:54جسے اللہ سبحانہ وتعالی
11:55نے تباہ کر دیا تھا
11:57نکلس کلاپ
11:58پاگل ہو گیا
11:59اس کہانی کے پیچھے
12:00اس نے ریسرچ شروع کر دی
12:02Arabian nights پڑھی
12:03قرآن پڑھا
12:04پرانے میپس ڈھونڈے
12:06لیکن پرابلم یہ تھا
12:07کہ یہ شہر ڈھونڈا
12:09کیسے جائے
12:10رب الخالی
12:11ایمٹی کوٹر
12:13دنیا کا سب سے بڑا ریگستان
12:15چھے لاکھ پچاس ہزار سکوئر کلومیٹر
12:18صرف ریت ریت
12:20اور بس ریت
12:22تب ہی نکلس کے دماغ میں
12:23ایک کریزی آئیڈیا آیا
12:25اس نے سوچا
12:27کہ اگر پرانے کیاروان کے روٹس مل جائیں
12:29تو وہ سب ایک جگہ لیڈ کریں گے
12:32اور وہ اس شہر کو جائیں گے
12:34لیکن مسئلہ یہ تھا
12:36کہ ایسے پرانے کیاروان کے روٹس
12:38تو ہزاروں سال پہلے
12:40ریت کے نیچے کہیں دب گئے
12:41انہیں ڈھونڈے کیسے
12:43تب ہی نکلس نے فائنلی
12:45ناسا کو کنونس کر لیا
12:47اور انیس سو چوراسی میں
12:49سپیس شٹل چیلنجر میں
12:51ایک سپیشل ریڈار لگایا گیا
12:53ایس آئی آر بی
12:55یہ ریڈار ریت کے نیچے دیکھ سکتا تھا
12:58اور جب ایمیجز آئے
13:00سائنٹسٹ حیران رہ گئے
13:02پرانے کیاروان روٹس
13:03نظر آنے لگے
13:05جو ایک عام ننگی آنکھ سے
13:07کبھی دیکھے نہیں جا سکتے تھے
13:09اور یہ سب کے سب
13:11ایک ہی جگہ پر کنورج ہوا کرتے تھے
13:14انیس سو بانوے میں
13:15ناسا کی جیڈ پروپلشن لیبورٹری
13:17کی ریپورٹ آئی
13:18اور ریپورٹ میں لکھا گیا
13:20کہ انشین ٹریکس
13:21انویزبل تو دی نیکیڈ آئے
13:23ور ڈیٹیکٹیڈ تھو ریڈار ایمیجنگ
13:26آل کنورجنگ
13:27آن سینٹرل پوائنٹ
13:29ان شسر امان
13:31یعنی وہی جگہ
13:32جہاں پر سن دو ہزار بائیس میں
13:34وہ دو انڈین انجینئرز
13:37غائب ہو گئے تھے
13:38شسر کے مقام پر
13:40انیس سو بانوے میں
13:41کھدائی شروع ہوئی
13:42اور آٹھ فورٹریس کے
13:43ٹاورز ملے
13:44دیواریں بارہ فٹ اونچی تھی
13:47اور سب سے امپورٹن بات
13:48کہ پرانا شہر
13:49ایک ماسیف سنکھ ہول میں
13:51کلاپس ہو چکا تھا
13:53زمین نے
13:54اسے نگل لیا تھا
13:56اگزیکلی
13:57جیسے قرآن میں لکھا تھا
13:59اگزیکلی
13:59جیسے بددو کہتے تھے
14:01سورہ فجر کی آیت
14:03نمبر چھے سے آٹھ میں
14:04اللہ سبحانہ و تعالی نے
14:05ارشاد فرمایا
14:06کیا تم نے نہیں دیکھا
14:08کہ تمہارے رب نے
14:09آدھ کے ساتھ کیا کیا
14:12ارم والوں کے ساتھ
14:14جن کے پاس بلند ستون تھے
14:16چودہ سو سال پہلے
14:17جب کوئی سیٹلائٹ نہیں تھی
14:19کوئی ٹکنالوجی نہیں تھی
14:21تب قرآن نے
14:22اس شہر کا ذکر کیا
14:24اور انیس سو بانوے میں
14:26ناسا نے اسے
14:27کنفرم کیا
14:28اب واپس آتے ہیں
14:30اپنی اس بلینئیز کی
14:31کہانی کی طرف
14:32واپس آتے ہیں
14:33برائن جانسن کی
14:35کہانی کی طرف
14:37برائن جانسن
14:39اپنے بیٹے کا خون
14:40انجیکٹ کرواتا رہا
14:41ریزلٹ
14:42اس نے خود ایڈمیٹ کیا
14:43نو بینیفیٹس
14:45ڈیٹیکٹیڈ
14:46جیف بیزوس نے
14:47آلٹوس لیب پر
14:49تین بلین ڈالرز لگائے
14:50مشن
14:51ریورس انجنیرنگ
14:52گوگل کیلی کو
14:54کا سلوگن ہے
14:55سالف ڈیتھ
14:56لیری ایلیسن نے
14:57چار سو ملین ڈالرز
14:58پیٹر تین نے
15:00سیون ملین ڈالرز دیئے
15:01میتھو سالف فانڈیشن کو
15:03وہ سب کیا کر رہے ہیں
15:04وہی جو شداد کر رہا تھا
15:06اپنی دولت سے
15:08اپنی ٹیکنالوجی سے
15:09اپنے بلین سے
15:10وہ سوچ رہے تھے
15:12کہ وہ موت کو
15:13ہیک کر لیں گے
15:14یا وہ
15:14اللہ سبحانہ وتعالی کے
15:15ڈیزائن کو
15:16بائی پاس کر لیں گے
15:17یا پھر ان کے پاس
15:18اتنا پیسہ ہے
15:19کہ وہ
15:20ہمیشہ جی سکیں گے
15:22سورہ فجر کی آیت
15:23نمبر گیارہ سے چودہ میں
15:24اللہ سبحانہ وتعالی نے
15:25ارشاد فرمایا
15:26کہ جنہوں نے
15:27شہروں میں سرکشی کی
15:29اور بہت فساد پھیلایا
15:31تو تمہارے رب نے
15:32ان پر عذاب کا
15:34کوڑا برسا دیا
15:35بے شک تمہارا رب
15:37یقیناً دیکھ رہا ہے
15:39بے شک تمہارا رب
15:41گھاک میں ہے
15:42دیکھ رہا ہے
15:43ہر ایروجنٹ کے لیے
15:44تیار ہے
15:45شداد نے
15:47تین سو سال لگائے
15:48بلینز خرچ کیے
15:50لیکن ایک لمحے کا
15:51موقع نہیں ملا
15:52اپنی جنت کو
15:54دیکھنے کے لیے
15:55آج باغِ ارم
15:56ریت کے نیچے
15:57دفن ہے
15:58شداد کی قبر
15:59گمنام ہے
16:00اور وہ زمین
16:01آج بھی اپنا شکار
16:03ڈھونڈ رہی ہے
16:04سن دو ہزار بائیس میں
16:05جو دو اینجنیز
16:06لا پتہ ہو گئے
16:07اور پھر ان کی لاشیں ملیں
16:09ان سے پہلے
16:10نہ جانے کتنے اور لوگ
16:11اس زمین کا شکار ہوئے
16:13اور کتنے اس کے بعد بھی
16:14اسی زمین کا شکار ہوں گے
16:17مقامی بددو شاید
16:18سچ کہتے تھے
16:19کہ یہ شداد کی زمین ہے
16:21یہاں آنے والا
16:22واپس نہیں جاتا
16:24لیکن اس کی کہانی
16:25چودہ سو سال پہلے بھی زندہ تھی
16:27کیونکہ اللہ چاہتا ہے
16:29کہ ہم سیکھیں
16:30کہ دولت
16:31طاقت
16:32اور ٹیکنالوجی
16:33کبھی بھی موت سے
16:34نہیں بچا سکتی
16:35کہ وہ جو اپنے آپ کو
16:37خدا سمجھ بیٹھتے ہیں
16:38ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے
16:40کہ اللہ سبحانہ و تعالی
16:43یقیناً دیکھ رہا ہے
16:44پتہ کیا
16:45ہم زندگی کے نا
16:46کتنے معاملوں میں
16:48اپنی انا کو لے آتے ہیں
16:49اپنی میں کو آگے لکھ رکھ دیتے ہیں
16:51کہ میں کہہ رہا ہوں تو ایسے ہونا چاہیے
16:53اور میں کہہ رہا ہوں تو ویسے ہونا چاہیے
16:55یہ جو میں ہے نا
16:57یہ انسان کو ہر مقام پر مرواتی ہے
17:00بابا محمد یعیہ خان
17:01کتنے خوبصورت بات کرتے ہیں
17:03کہ
17:05تیری رضا
17:07میری تسلیم
17:08یہ تکبر اور وینٹی
17:10انسان کو آگے بڑھنے نہیں دیتی ہے
17:12اور ہم اپنے اندر
17:14اپنے آپ کی پرستے شروع کر دیتے ہیں
17:16اپنی پوجہ شروع کر دیتے ہیں
17:18اور اپنے آپ کو اتنا بڑا بنا دیتے ہیں
17:21کہ میں اہم تھا
17:23یہ وہم تھا
17:24یہ سمجھنا بند کر دیتے ہیں
17:26مجھے پرشیر بدر کا شیر بڑا خوبصورت لگتا ہے
17:29کہ خدا
17:30ہم کو ایسی خدائی نہ دے
17:32خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
17:35کہ اپنے سوا
17:37کچھ دکھائی نہ دے
17:39موسیقی
Comments

Recommended