Skip to playerSkip to main content
That night in the desert, the people of Bani Israel were restless, waiting for Hazrat Musa A.S. But one cunning man, Samri, took advantage of their desperation… and created a golden calf that spoke! 🐄💰

In this video, we explore:

Who was Samri and what dark knowledge did he possess?

How he tricked the Bani Israel into worshipping gold.

The connection between ancient greed and modern systems of debt and commercialization.

Lessons from history that are still relevant in today’s world.

🔥 Watch till the end to uncover the hidden truth about wealth, power, and deception throughout history.

#Samri #goldencalf #islamichistory #hazratmusa #shirk #ancientsecrets #imtinanahmad #islamicstories #historyexposed #foryou #history #pakistan #india

Category

🗞
News
Transcript
00:00وہ رات ریگستان میں ایک سخت سردی کی رات تھی
00:03اس رات پہاڑوں کے درمیان دریا کے کنارے پر کچھ لوگ موجود تھے
00:09یہ لوگ اپنے پڑاؤں کے پاس آب جلا کر اپنے جسموں کو گرم رکھنے کی کوشش کر رہے تھے
00:15ان لوگوں کو آپ تاریخ میں بنی اسرائیل کے نام سے جانتے ہیں
00:20اور بنی اسرائیل کے ان لوگوں میں سخت بے چینیز تھی
00:23مسترب تھے اور انتظار کی حالت میں تھے
00:26اور یہ انتظار کر رہے تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا
00:30حضرت موسیٰ علیہ السلام جنہیں کوہیتور پر گئے چالیس دن گزر چکے تھے
00:36اور وہ اللہ سبحانہ وتعالی سے احکامات لینے
00:39ٹیبلٹ لینے اور توریت لینے گئے تھے
00:42ان لوگوں میں بے چینی اتنی زیادہ تھی
00:45کہ یہ جاننا چاہتے تھے
00:47کہ کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام لوٹیں گے بھی
00:50کہ کبھی نہیں
00:51لوگوں میں موجود اس بے چینی کو
00:54ایک مکار انسان نے بھانپ لیا
00:56اور اس نے اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی
00:59اس نے ان لوگوں سے کہا
01:01کہ اے بنی اسرائیل
01:02تمہارے پاس فیرعون کا دیا ہوا قرضہ موجود ہے
01:06یہ وہ قرضہ ہے
01:08جو تمہیں تمہاری اجرت کے عوض دیا گیا ہے
01:11فیرعون دریا میں غرق ہو چکا ہے
01:14اس کے نام لیوہ نہیں بچے ہیں
01:16اور آج یہ قرضے کی صورت میں جو سونا
01:20تمہارے پاس موجود ہے
01:21اگر یہ سونا تم مجھے دے دو
01:24تو میں تمہارے خدا سے ملوا دوں گا
01:27تمہارے اس خدا سے ملوا دوں گا
01:29جس نے تمہیں مصر میں لاکر آباد کیا
01:31جس نے تمہیں فیرعون کی غلامی سے آزادی دی
01:35اور لوگوں نے اس کی بات پر یقین کر لیا
01:39اس انسان کو آپ اسلامیک اسکٹالوجی میں
01:42سامری کے نام سے جانتے ہیں
01:48لوگوں نے بغیر کوئی سوال پوچھے
01:50اپنا سونا سامری کے حوالے کر دیا
01:53اور سامری نے اس سے ایک بچڑا تیار کیا
01:56ایک ایسا بچڑا جو سونے کا تو تھا
01:59لیکن وہ بولنے والا بچڑا تھا
02:01اس کی آواز سنتے ہی
02:03سامری نے کہا کہ یہ ہے وہ تمہارا خدا
02:06جس نے تمہیں مصر میں آباد کیا
02:08اور فیرعون کی غلامی سے آزادی دی
02:11اور لوگ سر بسجود ہو گئے
02:13اس بچڑے کو خدا ماننے لگے
02:16اور یہاں سے شرک کا آغاز ہو گیا
02:19اب سوال یہ ہے کہ یہ سامری کون تھا
02:22اس سامری نے یہ بچڑا بنایا کیسے
02:25اس بچڑے کے ساتھ کیا ہوا
02:27اور کیا یہ بچڑا اسی دور میں ختم ہو گیا
02:30یا یہ بچڑا آج بھی اس دنیا میں موجود ہے
02:34کہا نہیں کیا ہے
02:35آئیے سمجھتا ہے
02:45اگر آپ زمانہ قدیم کی روایات دیکھیں
02:48تو آپ کو اکثر روایات میں
02:50گائے کا بیل کا یا پھر بچڑے کا ذکر ملتا ہے
02:53اور زیادہ تر انہیں تشبیحات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا
02:57جس سے مراد ذرخیزی طاقت
02:59یا پھر لالچ کی لی جاتی تھی
03:01اسلام نے آ کر
03:02سب سے پہلے لالچ کی بنیاد کا خاتمہ کیا
03:06سورہ تاہہ میں اور سورہ العراف میں
03:09ڈیٹیلڈ اکاؤنٹس ملتے ہیں سامری کی اس واقعے کے
03:12اور ابن کسید کی روایات کے مطابق
03:14سامری نے وہ شیطانی علم حاصل کر لیا
03:18جس سے اس نے بچڑے میں
03:19سو کال جان ڈالنے کی کوشش کی
03:22کئی روایات کے مطابق
03:24سامری بنی اسرائیل کا ایک چالاک انسان تھا
03:27یا پھر جادوگر تھا
03:29یا پھر سومیارٹنز میں سے تھا
03:31اب یہ سومیارٹنز کون ہیں
03:32اس کا ڈیٹیل میں ذکر کروں گا آپ سے انشاءاللہ
03:35ایک اور ویڈیو میں
03:37سامری وہ انسان تھا جسے
03:39اللہ سبحانہ وتعالی نے دیکھنے کی
03:41طاقت دی تھی جو عام انسانوں میں
03:43موجود نہیں ہوتی
03:45سامری نے وہ لمحہ دیکھ لیا
03:47جس لمحے حضرت جبریل علیہ السلام
03:49حضرت موسیٰ علیہ السلام
03:51کے پاس حاضر ہوئے
03:53اور روایات کے مطابق حضرت جبریل علیہ السلام
03:56ایک گھوڑے پر سوار تھے
03:57جب ان کے قدم زمین پر پڑے
03:59جس جگہ پر اور جس مقام پر پڑے
04:02اس مقام کی مٹی
04:04سامری نے ہتھیا لی
04:06اور اسی مٹی کو
04:07سونے سے بنایا ہوئے
04:09اس بچڑے کے اندر ڈال دیا گیا
04:11جس سے اس بچڑے نے
04:13آوازیں نکالنی شروع کی
04:15یہ ایسی آوازیں تھی
04:16جو دنیا میں کسی جرند پرند کی
04:19کسی جانور کی آواز نہیں ہوتی
04:22اور ایسے ایک فیک میرکل سے
04:23لوگ سجدے میں گر گئے
04:25اور لوگوں نے شرک کا آغاز کر دیا
04:32جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہیتور سے لوٹے
04:35اور انہیں اس بچڑے کے بارے میں پتا چلا
04:37اپنی قوم کی اس حرکت کا پتا چلا
04:40تو ان کے غزب کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا
04:42انہوں نے سامری کو سزا دی
04:44کہ وہ تاہیات اکیلا رہے گا
04:46اور اس بچڑے کو جلا دیا
04:48اس بچڑے کو جلانے کے بعد
04:50جو راکھ اس کی بچی
04:52اسے سمندر میں بہا دیا گیا
04:54اور اپنی قوم کو کہا
04:56کہ اسی سمندر سے پانی پیئے
04:58اب تباری کے مطابق
05:00شاید یہ سزا اس لیے دی گئی
05:02تاکہ اس سن کو
05:03اس گناہ کو
05:04یہ قوم انٹرنلائز کر لے
05:07اور یہ جان لے
05:08کہ جس بچڑے کی یہ پرشتش کرتے تھے
05:11جس کو یہ پوچھتے تھے
05:12اس میں کوئی جان نہیں تھی
05:17اب یہاں پر آپ نے ایک بات سمجھنے کی کوشش کرنی ہے
05:20کہ سامری نے کیا کرنے کی کوشش کی تھی
05:23اور کیا وہ سسٹم آج دنیا میں موجود ہے
05:26کہ نہیں
05:26سامری نے سب سے پہلے
05:29لوگوں سے وہ سونا حاصل کیا
05:31جو قرض کی صورت میں لوگوں تک پہنچا تھا
05:35اس قرض کی حالت میں آئے ہوئے سونے سے
05:38سامری نے ایک خدا پیدا کرنے کی کوشش کی
05:40جس کے نتیجے میں مزید غلامی پیدا کی جانے لگی تھی
05:44پر کیا یہ سسٹم
05:46دنیا میں اپنی نویت کا واحد سسٹم تھا
05:49یا میٹا فورکلی اس بچڑے کے جلنے کے بعد
05:53سامری کے چلے جانے کے بعد بھی
05:55آج بھی یہ سسٹم موجود ہے
05:57اور اس سسٹم کا دوبارہ آغاز ہوتا ہے
06:00سن 1913 میں
06:0523 دسمبر سن 1913
06:07امریکہ کا شہر ہے واشنگٹن
06:09اور واشنگٹن پوری دنیا میں جہاں جہاں
06:12کرسٹینز موجود ہوتے ہیں
06:13ان کی طرح کرسمنس کی تیاریوں میں مصروف ہوتا ہے
06:17شہر میں جگہ جگہ پر لائٹس لگنا شروع ہو چکی ہیں
06:20کرسمنس ٹری لگانے کے لیے لوگ مصروف ہیں
06:24لوگ ایک دوسرے کے لیے گفٹس خرید رہے ہیں
06:27اور امریکہ میں کانگریس میمبرز اپنے گھروں کو جا چکے ہیں
06:31اور ان کی کم میمبرز کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
06:35آٹھ لوگ نیو جرزی سے ٹرین کا سفر کرتے ہیں
06:38واشنگٹن کے لیے
06:40تاکہ وہ 23 دسمبر کو واشنگٹن پہنچیں
06:43اور کم میمبرز کی تعداد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
06:46امریکہ میں ایک ایکٹ کو منظور کروا لیں
06:49یہ ایکٹ ہے فیڈرل ریزرو ایکٹ
06:53اور اس ایکٹ کے تحت امریکہ میں فیڈرل ریزرو بینک کا آغاز ہونا ہے
06:58جیسے ہی ایکٹ پاس ہوتا ہے
07:01امریکہ کی فائنانشل ہسٹری کے اندر
07:04اور دنیا کی فائنانشل ہسٹری کے اندر
07:07ایک نیا توفان آ جاتا ہے
07:09اب امریکہ میں موجود بینکرز قرضے کو پیدا کر سکتے ہیں
07:13ہر وہ ایک ڈالر جو ان بینکرز کے والٹس میں موجود ہوتا ہے
07:18اس سے یہ دس ڈالر کے قرضے کو جنم دے سکتے ہیں
07:22ایک ڈالر کے عوض
07:23دس ڈالر کا قرضہ پیدا کر سکتے ہیں
07:26بینک آف انگلنڈ نے دو ہزار چودہ میں اس بات کو ایکسپٹ کیا ہے
07:31کہ کمرشل بینکز پیسے کو کریئٹ کرتے ہیں
07:34جب وہ لونز ایشو کرتے ہیں
07:37اور سامری کا وہ نظام ایک بار پھر منظر عام پر آتا ہے
07:41جس سے قرض سے خدائی اور خدائی سے غلامی کا آغاز ہوتا ہے
07:48آج یہ دنیا تین سو پانچ ٹریلین ڈالرز کی مقروض ہے
07:52دنیا کا ہر انسان 38 ہزار ڈالرز کا مقروض ہے
07:56اور آج یو ایس ڈالر اتنا پیپر اور کوئن کی صورت میں نہیں ہے
08:00آج یو ایس ڈالر ستانوے فیصد قرض کی صورت میں ہے
08:04سٹیٹ بینک آف پاکستان کہتا ہے
08:06کہ جو پاکستانی کماتا ہے
08:08اس کا بیالیس فیصد قرضوں کی ادائیگی میں دیتا ہے
08:12اور یہی وہ نظام ہے جو آپ کو چاروں طرف سے جگڑ کر رکھتا ہے
08:16سامری کا نظام قرض سے خدا بنانے
08:20اور خدا بنانے سے غلامی تک لے کے جاتا ہے
08:22آج اسی قرض سے ایک خدا بنایا جاتا ہے
08:26اور یہ خدا ویلت کا گارڈ ہے
08:28جہاں پر دولت کو ایمان کا حصہ بنا دیا جاتا ہے
08:32اور اس ایمان کے حصے کی غلامی کی جاتی ہے
08:36یہی وہ سامری کا نظام ہے
08:38جو شاید بچڑے کے جلنے سے ختم نہیں ہوا
08:41اس نے آپ کو اور مجھے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے
08:46جب تک آپ سودی نظام کا خاتمہ نہیں کرتے
08:49آپ کفر کے نظام سے بچ نہیں سکتے
Comments

Recommended