00:00وہ رات ریگستان میں ایک سخت سردی کی رات تھی
00:03اس رات پہاڑوں کے درمیان دریا کے کنارے پر کچھ لوگ موجود تھے
00:09یہ لوگ اپنے پڑاؤں کے پاس آب جلا کر اپنے جسموں کو گرم رکھنے کی کوشش کر رہے تھے
00:15ان لوگوں کو آپ تاریخ میں بنی اسرائیل کے نام سے جانتے ہیں
00:20اور بنی اسرائیل کے ان لوگوں میں سخت بے چینیز تھی
00:23مسترب تھے اور انتظار کی حالت میں تھے
00:26اور یہ انتظار کر رہے تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا
00:30حضرت موسیٰ علیہ السلام جنہیں کوہیتور پر گئے چالیس دن گزر چکے تھے
00:36اور وہ اللہ سبحانہ وتعالی سے احکامات لینے
00:39ٹیبلٹ لینے اور توریت لینے گئے تھے
00:42ان لوگوں میں بے چینی اتنی زیادہ تھی
00:45کہ یہ جاننا چاہتے تھے
00:47کہ کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام لوٹیں گے بھی
00:50کہ کبھی نہیں
00:51لوگوں میں موجود اس بے چینی کو
00:54ایک مکار انسان نے بھانپ لیا
00:56اور اس نے اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی
00:59اس نے ان لوگوں سے کہا
01:01کہ اے بنی اسرائیل
01:02تمہارے پاس فیرعون کا دیا ہوا قرضہ موجود ہے
01:06یہ وہ قرضہ ہے
01:08جو تمہیں تمہاری اجرت کے عوض دیا گیا ہے
01:11فیرعون دریا میں غرق ہو چکا ہے
01:14اس کے نام لیوہ نہیں بچے ہیں
01:16اور آج یہ قرضے کی صورت میں جو سونا
01:20تمہارے پاس موجود ہے
01:21اگر یہ سونا تم مجھے دے دو
01:24تو میں تمہارے خدا سے ملوا دوں گا
01:27تمہارے اس خدا سے ملوا دوں گا
01:29جس نے تمہیں مصر میں لاکر آباد کیا
01:31جس نے تمہیں فیرعون کی غلامی سے آزادی دی
01:35اور لوگوں نے اس کی بات پر یقین کر لیا
01:39اس انسان کو آپ اسلامیک اسکٹالوجی میں
01:42سامری کے نام سے جانتے ہیں
01:48لوگوں نے بغیر کوئی سوال پوچھے
01:50اپنا سونا سامری کے حوالے کر دیا
01:53اور سامری نے اس سے ایک بچڑا تیار کیا
01:56ایک ایسا بچڑا جو سونے کا تو تھا
01:59لیکن وہ بولنے والا بچڑا تھا
02:01اس کی آواز سنتے ہی
02:03سامری نے کہا کہ یہ ہے وہ تمہارا خدا
02:06جس نے تمہیں مصر میں آباد کیا
02:08اور فیرعون کی غلامی سے آزادی دی
02:11اور لوگ سر بسجود ہو گئے
02:13اس بچڑے کو خدا ماننے لگے
02:16اور یہاں سے شرک کا آغاز ہو گیا
02:19اب سوال یہ ہے کہ یہ سامری کون تھا
02:22اس سامری نے یہ بچڑا بنایا کیسے
02:25اس بچڑے کے ساتھ کیا ہوا
02:27اور کیا یہ بچڑا اسی دور میں ختم ہو گیا
02:30یا یہ بچڑا آج بھی اس دنیا میں موجود ہے
02:34کہا نہیں کیا ہے
02:35آئیے سمجھتا ہے
02:45اگر آپ زمانہ قدیم کی روایات دیکھیں
02:48تو آپ کو اکثر روایات میں
02:50گائے کا بیل کا یا پھر بچڑے کا ذکر ملتا ہے
02:53اور زیادہ تر انہیں تشبیحات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا
02:57جس سے مراد ذرخیزی طاقت
02:59یا پھر لالچ کی لی جاتی تھی
03:01اسلام نے آ کر
03:02سب سے پہلے لالچ کی بنیاد کا خاتمہ کیا
03:06سورہ تاہہ میں اور سورہ العراف میں
03:09ڈیٹیلڈ اکاؤنٹس ملتے ہیں سامری کی اس واقعے کے
03:12اور ابن کسید کی روایات کے مطابق
03:14سامری نے وہ شیطانی علم حاصل کر لیا
03:18جس سے اس نے بچڑے میں
03:19سو کال جان ڈالنے کی کوشش کی
03:22کئی روایات کے مطابق
03:24سامری بنی اسرائیل کا ایک چالاک انسان تھا
03:27یا پھر جادوگر تھا
03:29یا پھر سومیارٹنز میں سے تھا
03:31اب یہ سومیارٹنز کون ہیں
03:32اس کا ڈیٹیل میں ذکر کروں گا آپ سے انشاءاللہ
03:35ایک اور ویڈیو میں
03:37سامری وہ انسان تھا جسے
03:39اللہ سبحانہ وتعالی نے دیکھنے کی
03:41طاقت دی تھی جو عام انسانوں میں
03:43موجود نہیں ہوتی
03:45سامری نے وہ لمحہ دیکھ لیا
03:47جس لمحے حضرت جبریل علیہ السلام
03:49حضرت موسیٰ علیہ السلام
03:51کے پاس حاضر ہوئے
03:53اور روایات کے مطابق حضرت جبریل علیہ السلام
03:56ایک گھوڑے پر سوار تھے
03:57جب ان کے قدم زمین پر پڑے
03:59جس جگہ پر اور جس مقام پر پڑے
04:02اس مقام کی مٹی
04:04سامری نے ہتھیا لی
04:06اور اسی مٹی کو
04:07سونے سے بنایا ہوئے
04:09اس بچڑے کے اندر ڈال دیا گیا
04:11جس سے اس بچڑے نے
04:13آوازیں نکالنی شروع کی
04:15یہ ایسی آوازیں تھی
04:16جو دنیا میں کسی جرند پرند کی
04:19کسی جانور کی آواز نہیں ہوتی
04:22اور ایسے ایک فیک میرکل سے
04:23لوگ سجدے میں گر گئے
04:25اور لوگوں نے شرک کا آغاز کر دیا
04:32جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہیتور سے لوٹے
04:35اور انہیں اس بچڑے کے بارے میں پتا چلا
04:37اپنی قوم کی اس حرکت کا پتا چلا
04:40تو ان کے غزب کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا
04:42انہوں نے سامری کو سزا دی
04:44کہ وہ تاہیات اکیلا رہے گا
04:46اور اس بچڑے کو جلا دیا
04:48اس بچڑے کو جلانے کے بعد
04:50جو راکھ اس کی بچی
04:52اسے سمندر میں بہا دیا گیا
04:54اور اپنی قوم کو کہا
04:56کہ اسی سمندر سے پانی پیئے
04:58اب تباری کے مطابق
05:00شاید یہ سزا اس لیے دی گئی
05:02تاکہ اس سن کو
05:03اس گناہ کو
05:04یہ قوم انٹرنلائز کر لے
05:07اور یہ جان لے
05:08کہ جس بچڑے کی یہ پرشتش کرتے تھے
05:11جس کو یہ پوچھتے تھے
05:12اس میں کوئی جان نہیں تھی
05:17اب یہاں پر آپ نے ایک بات سمجھنے کی کوشش کرنی ہے
05:20کہ سامری نے کیا کرنے کی کوشش کی تھی
05:23اور کیا وہ سسٹم آج دنیا میں موجود ہے
05:26کہ نہیں
05:26سامری نے سب سے پہلے
05:29لوگوں سے وہ سونا حاصل کیا
05:31جو قرض کی صورت میں لوگوں تک پہنچا تھا
05:35اس قرض کی حالت میں آئے ہوئے سونے سے
05:38سامری نے ایک خدا پیدا کرنے کی کوشش کی
05:40جس کے نتیجے میں مزید غلامی پیدا کی جانے لگی تھی
05:44پر کیا یہ سسٹم
05:46دنیا میں اپنی نویت کا واحد سسٹم تھا
05:49یا میٹا فورکلی اس بچڑے کے جلنے کے بعد
05:53سامری کے چلے جانے کے بعد بھی
05:55آج بھی یہ سسٹم موجود ہے
05:57اور اس سسٹم کا دوبارہ آغاز ہوتا ہے
06:00سن 1913 میں
06:0523 دسمبر سن 1913
06:07امریکہ کا شہر ہے واشنگٹن
06:09اور واشنگٹن پوری دنیا میں جہاں جہاں
06:12کرسٹینز موجود ہوتے ہیں
06:13ان کی طرح کرسمنس کی تیاریوں میں مصروف ہوتا ہے
06:17شہر میں جگہ جگہ پر لائٹس لگنا شروع ہو چکی ہیں
06:20کرسمنس ٹری لگانے کے لیے لوگ مصروف ہیں
06:24لوگ ایک دوسرے کے لیے گفٹس خرید رہے ہیں
06:27اور امریکہ میں کانگریس میمبرز اپنے گھروں کو جا چکے ہیں
06:31اور ان کی کم میمبرز کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
06:35آٹھ لوگ نیو جرزی سے ٹرین کا سفر کرتے ہیں
06:38واشنگٹن کے لیے
06:40تاکہ وہ 23 دسمبر کو واشنگٹن پہنچیں
06:43اور کم میمبرز کی تعداد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
06:46امریکہ میں ایک ایکٹ کو منظور کروا لیں
06:49یہ ایکٹ ہے فیڈرل ریزرو ایکٹ
06:53اور اس ایکٹ کے تحت امریکہ میں فیڈرل ریزرو بینک کا آغاز ہونا ہے
06:58جیسے ہی ایکٹ پاس ہوتا ہے
07:01امریکہ کی فائنانشل ہسٹری کے اندر
07:04اور دنیا کی فائنانشل ہسٹری کے اندر
07:07ایک نیا توفان آ جاتا ہے
07:09اب امریکہ میں موجود بینکرز قرضے کو پیدا کر سکتے ہیں
07:13ہر وہ ایک ڈالر جو ان بینکرز کے والٹس میں موجود ہوتا ہے
07:18اس سے یہ دس ڈالر کے قرضے کو جنم دے سکتے ہیں
07:22ایک ڈالر کے عوض
07:23دس ڈالر کا قرضہ پیدا کر سکتے ہیں
07:26بینک آف انگلنڈ نے دو ہزار چودہ میں اس بات کو ایکسپٹ کیا ہے
07:31کہ کمرشل بینکز پیسے کو کریئٹ کرتے ہیں
07:34جب وہ لونز ایشو کرتے ہیں
07:37اور سامری کا وہ نظام ایک بار پھر منظر عام پر آتا ہے
07:41جس سے قرض سے خدائی اور خدائی سے غلامی کا آغاز ہوتا ہے
07:48آج یہ دنیا تین سو پانچ ٹریلین ڈالرز کی مقروض ہے
07:52دنیا کا ہر انسان 38 ہزار ڈالرز کا مقروض ہے
07:56اور آج یو ایس ڈالر اتنا پیپر اور کوئن کی صورت میں نہیں ہے
08:00آج یو ایس ڈالر ستانوے فیصد قرض کی صورت میں ہے
08:04سٹیٹ بینک آف پاکستان کہتا ہے
08:06کہ جو پاکستانی کماتا ہے
08:08اس کا بیالیس فیصد قرضوں کی ادائیگی میں دیتا ہے
08:12اور یہی وہ نظام ہے جو آپ کو چاروں طرف سے جگڑ کر رکھتا ہے
08:16سامری کا نظام قرض سے خدا بنانے
08:20اور خدا بنانے سے غلامی تک لے کے جاتا ہے
08:22آج اسی قرض سے ایک خدا بنایا جاتا ہے
08:26اور یہ خدا ویلت کا گارڈ ہے
08:28جہاں پر دولت کو ایمان کا حصہ بنا دیا جاتا ہے
08:32اور اس ایمان کے حصے کی غلامی کی جاتی ہے
08:36یہی وہ سامری کا نظام ہے
08:38جو شاید بچڑے کے جلنے سے ختم نہیں ہوا
08:41اس نے آپ کو اور مجھے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے
08:46جب تک آپ سودی نظام کا خاتمہ نہیں کرتے
08:49آپ کفر کے نظام سے بچ نہیں سکتے
Comments