76 years ago, a man dying of tuberculosis in a cold Scottish hut wrote a book that would shake the entire world.
A book so dangerous — it was banned in dozens of countries, censored by regimes, and feared by governments.
That book was “1984” by George Orwell.
He warned us about surveillance, propaganda, mind control, and the system that turns humans into obedient slaves.
Today, his warning has come true — from cameras on every street to algorithms reading your thoughts.
This is not fiction anymore.
This is our reality.
📕 This is the story of the man who exposed the system… and paid the price with his life.
🔍 Chapters / Key Segments
00:00 – The Man in the Hut
01:32 – Birth of a Rebel Mind
03:45 – The War That Changed Him
06:10 – Exposing Stalin’s System
08:22 – The Book They Tried to Erase
10:00 – Why 1984 Is Happening Now
#1984 #georgeorwell #bannedbooksweek #imtinanahmad #surveillance #mindcontrol #foryou #pakistan #facts #india #currentaffairs
A book so dangerous — it was banned in dozens of countries, censored by regimes, and feared by governments.
That book was “1984” by George Orwell.
He warned us about surveillance, propaganda, mind control, and the system that turns humans into obedient slaves.
Today, his warning has come true — from cameras on every street to algorithms reading your thoughts.
This is not fiction anymore.
This is our reality.
📕 This is the story of the man who exposed the system… and paid the price with his life.
🔍 Chapters / Key Segments
00:00 – The Man in the Hut
01:32 – Birth of a Rebel Mind
03:45 – The War That Changed Him
06:10 – Exposing Stalin’s System
08:22 – The Book They Tried to Erase
10:00 – Why 1984 Is Happening Now
#1984 #georgeorwell #bannedbooksweek #imtinanahmad #surveillance #mindcontrol #foryou #pakistan #facts #india #currentaffairs
Category
🗞
NewsTranscript
00:00کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ایک ایسی کتاب بھی ہے
00:02جو دنیا کے کئی مبالک میں بین کر دی گئی ہے
00:06جب یہ کتاب چھپ کر منظر عام پر آئی
00:09تو سوویت یونین نے اس کتاب کو پڑھنے والے کو
00:12دس سال کی قید کی سزا سنا دی
00:14ایس جرمنی نے اس کتاب کو پڑھنے
00:17یا اس کتاب کو رکھنے والے کو غدار ڈیکلیئر کر دیا
00:21چائنہ میں بیٹھ کر آپ اس کتاب کو سرچ نہیں کر سکتے
00:25جب بھی آپ اس کو سرچ کریں گے
00:27گریٹ فائر وال آپ کو روک دے گا
00:29اور آپ کی سکرین پر 404 ایرر آ جائے گا
00:33بیلروس میں سن 2023 میں
00:35اس کتاب کا پی ٹی ایف ورزن بھی
00:38اگر کسی کے پاس سے نکل آیا
00:39تو اس کے گھر پر ریڈ ہو گئی
00:41بہت سے عرب ملکوں نے سن 2021 میں
00:44systematically اپنی لائیبریری سے اس کتاب کو ہٹا دیا
00:48اور دنیا کے کئی ممالک میں
00:50جب اس کتاب کو آپ آن لائن سرچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں
00:54تب آپ کو یہ آؤٹ آف سٹاک نظر آتی ہے
00:56اور ایک نہیں دو نہیں
00:58تین تین سال تک آؤٹ آف سٹاک ہوتی ہے
01:01کیا ہے اس کتاب میں
01:03جس کی وجہ سے دنیا کی حکومتیں ڈرتی ہیں
01:06کہ اس کی آوام کہیں یہ کتاب پڑھنا لے
01:09اس کتاب کو سمجھنے کے لیے
01:11پہلے اس کے رائٹر کو سمجھنا پڑے گا
01:14کہانی ہے آج سے چھیتر سال پہلے کی
01:17سن 1989 کی
01:19جب سکوٹلینڈ کے ایک سرد علاقے میں
01:22ایک چھوٹی سی جھوپڑی میں
01:23شدید سردی کی رات میں
01:25ایک انسان ٹیوبر کلوسس کی بیماری سے لڑ رہا ہوتا ہے
01:29لیکن اپنی بیماری پر توجہ دینے کی بجائے
01:32اس انسان کے ہاتھ میں
01:34ایک کاغذ اور ایک قلم ہے
01:36اور وہ تیز تیز لکھتا جا رہا ہے
01:39وہ تیز اس لیے لکھ رہا ہے
01:40کیونکہ پچھلے گیارہ مہینے سے
01:42وہ اس مینیو سکرپ پہ کام کر رہا ہے
01:45اور اپنے مرنے سے پہلے
01:47اس کتاب کو مکمل کرنا چاہتا ہے
01:50جب یہ کتاب چھپ کر منظر عام پر آتی ہے
01:52تو اس کتاب کے پچیس ہزار کوپیز چھپتی ہیں
01:56اور اس کتاب کے چھپنے کے سات مہینے کے بعد
01:59اس رائٹر کا انتقال ہو جاتا ہے
02:02جس کتاب کا میں ذکر کر رہا ہوں
02:04اس کتاب کو آپ
02:05نائنٹین ایٹی فور کے نام سے جانتے ہیں
02:08اور یہ وہ کتاب ہے
02:09جو انیس سو انچاس میں لکھی گئی
02:12اور اس کے رائٹر کا نام ہے
02:14جارج آر ویل
02:15اور جارج آر ویل
02:16اس کتاب میں وہ لکھا ہے
02:18جو دنیا کی حکومتوں کی بنیادیں ہلا دے
02:21کیونکہ اس کتاب میں
02:23اس نے آنے والے دور کے بارے میں بتایا ہے
02:26کہ آنے والے دور میں
02:27آپ کے ساتھ کیا ہونے والا ہے
02:30کہانی کیا ہے
02:31آئیے سمجھتے ہیں
02:40یہ کہانی شروع ہوتی ہے
02:42سن 1903 میں
02:44جب بریٹش انڈیا میں کام کرنے والے
02:46ایک انگریز افسر کے گھر
02:48ایک بچہ پیدا ہوتا ہے
02:50اس بچے کا نام رکھا جاتا ہے
02:52ایرک آرثر بلیر
02:53اور یہ بچہ
02:5519 سال کی ایج میں
02:56برما کی ایمپیڈیل پولیس کو
02:58جوائن کر لیتا ہے
02:59یہاں پر اس کو پہلی ڈیوٹی یہ دی جاتی ہے
03:02کہ تمہارا کام یہ ہے
03:04کہ وہ گاؤں کے لوگ
03:05جو برما میں جھک کر
03:07فوجیوں کو سلام نہیں کرتے
03:09ان کو مارو
03:10اور وہ ان کو مارنا شروع کرتا ہے
03:12مارنا شروع کرتا ہے
03:14یہاں تک کہ یہ وحشیانہ عمل
03:16اس کی اپنی نظروں سے گر جاتا ہے
03:19سن 1923 میں بھرتی ہونے والا یہ نوجوان
03:22سن 1927 میں آ کر
03:24اپنا یونیفارم ترک کر دیتا ہے
03:26سرکاری نوکری چھوڑ دیتا ہے
03:29اور پیریس کی گلیوں میں
03:30بھٹکنا شروع کر دیتا ہے
03:32ایمپیریل برٹیش فورسز کو چھوڑنے کے بعد
03:35یہ دردر کی ٹھوکنیں کھاتا ہے
03:37ڈش واشر بن جاتا ہے
03:38کئی نوکرییاں کرتا ہے
03:40اور اس کے بعد
03:411933 میں
03:42اپنے ہی پہلی کتاب لکھتا ہے
03:44جس کا نام ہے
03:45ڈاؤن این آؤٹ
03:46ان پاریس ان لندن
03:48جس میں یہ سسٹم کو ایکسپوز کرتا ہے
03:51کہ سسٹم عام لوگوں کے ساتھ
03:53کہاں کہاں پر
03:54کیا کیا ظلم ڈھاتا ہے
03:56کیسے غریب ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے
04:00اور کیسے دنیا کے ایلیتز
04:02صرف کنٹرول کی خاطر
04:04دنیا کے ہر انسان کو ایکسپلوائٹ کرتے ہیں
04:071936 میں ہونے والی
04:09سپانش سیول وار میں
04:10یہ لڑتا ہے
04:12اور لڑتے لڑتے
04:13ایک ایسا لمحہ آتا ہے
04:15جب اسے گولی لگ جاتی ہے
04:16گلے میں
04:17اور اس گلے میں لگنے والی گولی کے نتیجے میں
04:20یہ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے
04:23لیکن یہ پھر بھی سٹالن کے سسٹم کو ایکسپوز کرتا ہے
04:26کہ کیسے وہ لوگ
04:28جنہوں نے سٹالن کے ساتھ غداری کی ہوتی ہے
04:30اگلے دن ان کا ذکر
04:32اخباروں سے
04:33اور تاریخ سے
04:34مٹا دیا جاتا ہے
04:361948 کے اندر
04:37جب اسے ٹی بی کیاگنوز ہوتا ہے
04:39تب یہ اپنی شہرہ آفاق کتاب
04:411984 پر کام کر رہا ہوتا ہے
04:45اور اسے اپنے مرنے سے پہلے
04:46اس کتاب کو مکمل کرنا ہوتا ہے
04:491984
04:501984
04:50یہ کتاب لکھنے کے سات مہینے کے بعد
04:53اس کا انتقال ہو جاتا ہے
04:55لیکن 1984
04:56وہ کتاب بن جاتی ہے
04:58جو دنیا میں
04:59ایلیٹ کانسپریسیز کو ایکسپوز کرتی ہے
05:02تو اب سوال یہ ہے
05:03کہ اس کتاب میں
05:04اس نے ایسا کیا لکھا ہے
05:06کہ دنیا کی حکومتیں نہیں چاہتی
05:09کہ آپ یہ کتاب پڑھیں
05:14چھالیس سال کے عمر میں مر جانے والے
05:16جارج آر ویل
05:181984 میں ایک نیا کانسپ دی ہے
05:21وہ کانسپ میں یہ کہتا ہے
05:23کہ دنیا میں ملک ختم ہو جائیں گے
05:25اور دنیا میں سوپر سٹیٹس بن جائیں گی
05:27دنیا میں بننے والی تین سوپر سٹیٹس میں
05:30جس سوپر سٹیٹس کا یہ ذکر کرتا ہے
05:32اس کا نام اوشیانہ ہے
05:34اس سوپر سٹیٹس کے اندر
05:36ایک پارٹی کی حکومت ہے
05:37کوئی election نہیں ہوتے
05:39کوئی opposition نہیں ہے
05:41اور big brother
05:42پہلی بار دنیا کے سامنے
05:44یہ terminology استعمال کی گئی
05:46کہ big brother
05:47ہر وقت آپ کو note کرتا رہتا ہے
05:50ہر وقت آپ کو دیکھتا رہتا ہے
05:52اور وہی سے یہ اسطلاح
05:53big brother is watching you
05:55common ہو جاتی ہے
05:57big brother ایک ایسا کانسپٹ ہے
05:59جو ٹیلیویشن سکرینز کے ذریعے
06:01ہر شہری پر نظر رکھے ہوئے
06:03جاگتے ہوئے
06:05سوتے ہوئے
06:06اس ریاست کا پہلا اصول یہ ہے
06:08کہ orders کو follow کرنا ہے
06:10اور جو orders کو follow نہیں کرے گا
06:12اس کے لیے موت ہے
06:14ہر شہری کے لیے لازمی ہے
06:16کہ روزانہ صبح دو منٹ کی
06:18hate scream اس نے attend کرنی ہے
06:20جہاں پر big brother ان پر نگاہ بھی رکھتے ہیں
06:23اور ساتھ ہی ساتھ
06:24وہ یہ دیکھتے ہیں
06:25کہ ان کی نبز کہاں چل رہی ہے
06:27کہ یہ دشمن کو دشمن ماننے کو تیار ہیں
06:30اس ریاست کا دوسرا اصول یہ ہوتا ہے
06:32کہ continuous monitoring ہوتی ہے
06:35surveillance ہوتی ہے
06:36تیلی سکرینز کے ذریعے
06:38اور بار بار ایک پیغام
06:39سکرینز پہ repeat کیا جاتا ہے
06:42کہ war is peace
06:43freedom is slavery
06:45and ignorance is strength
06:47اور جو کوئی اس پیغام سے ہٹتا ہے
06:50یا اپنے نئے thoughts بنانے کی کوشش کرتا ہے
06:53اس ریاست کے پاس
06:55ایک thought police موجود ہے
06:57اور اس thought police کا کام یہ ہے
06:59کہ ہر وہ انسان جو بغاوت کا سوچ رہا ہے
07:02کچھ نیا سوچ رہا ہے
07:04کچھ ہٹ کے سوچ رہا ہے
07:05اسے پکڑا جائے
07:06اسے گرفتار کیا جائے
07:08اور اسے سزا دی جائے
07:10اس ریاست کا تیسرا اصول یہ ہوتا ہے
07:12کہ سچ صرف وہ ہے
07:15جس کو پارٹی سچ کہتی ہے
07:17اور اسی کو سچ ماننا ہوتا ہے
07:19اور اسی لیے ان کے پاس
07:20ایک ministry of truth موجود ہوتی ہے
07:23جہاں 1984 کا main character
07:26Winston Smith موجود ہوتا ہے
07:28اور یہی پر نوکری کیا کرتا ہے
07:30اس کا کام یہ ہوتا ہے
07:31کہ ہر وہ انسان
07:32جو پارٹی کی نظر میں غدار ہے
07:35اس کی کہانی کو
07:36تاریخ کے صفوں سے مٹا دو
07:38اور اس کی جگہ پر
07:40ایک نیا کردار پیدا کر دو
07:42Winston Smith ایک ایسا انسان ہے
07:44جو بگ برادر سے نفرت کرتا ہے
07:46وہ جانتا ہی کہ
07:47جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے
07:49یہ ظلم اور زیادتی ہے
07:50یہ enough surveillance ہے
07:52لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے
07:54وہ اس نظام کے خلاف
07:56down with big brother کے سلوگنز
07:58بولنا چاہتا ہے
07:59لیکن کہیں کہ نہیں سکتا
08:00کیونکہ اس کے apartment کے اندر
08:03تیلی سکرین کے اوپر بھی
08:04big brother is always watching
08:06یہ اپنے گھر کے ایک کونے میں
08:08ایک خفیہ کتاب لکھتا ہے
08:10جہاں پر یہ اپنی ڈائری میں
08:12سب وہ باتیں لکھتا ہے
08:14جس پر یہ یقین رکھتا ہے
08:15پھر اس کی ملاقات
08:17جولیا سے ہوتی ہے
08:18اور ان دونوں کو محبت ہو جاتی ہے
08:20اور وہ اس سسٹم کے خلاف
08:21brotherhood کو جوائن کرتے ہیں
08:23کہ یہاں پر کہانی میں
08:25اوپرائن کا ایک کردار آتا ہے
08:27جو ہوتا تو party کا member ہے
08:29لیکن ان کے سامنے pretend کرتا ہے
08:31کہ جیسے وہ ان کی مدد کر رہا ہے
08:33انہیں اپنے apartment میں بولاتا ہے
08:35انہیں خفیہ کتاب دیتا ہے
08:37پھر انہیں arrest کروا دیتا ہے
08:39جب یہ arrest ہو جاتے ہیں
08:41تو انہیں ministry of love کے
08:43room 101 میں لے کے جایا جاتا ہے
08:45اور room 101 میں جانے کا مطلب
08:47torture cell میں جانا ہے
08:49جہاں پر ونسٹن سمیتھ کو باندھ کر
08:51اس کے اوپر چوہے چھوڑے جاتے ہیں
08:54جب وہ چوہے اس کے موہ کے ساتھ
08:56کھیلنے لگتے ہیں
08:56یہ گھبرا جاتا ہے
08:58یہ شدید کوفت میں آ جاتا ہے
09:00اور چلا کر کہتا ہے
09:01کہ یہ سب کچھ میرے ساتھ مت کرو
09:03اگر یہ صد کرنا ہے
09:05تو جولیا کے ساتھ کرو
09:07اور یہی پر وہ جولیا کے ساتھ
09:10غدداری کر دیتا ہے
09:11اس کہانی کے اگلے سین میں
09:12جارج آرول لکھتا ہے
09:14کہ ونسٹن سمیتھ
09:15اگلے سین میں ایک کافی شاپ میں
09:17بیٹھا کافی پی رہا ہوتا ہے
09:19بگ برادر کی سرویلنس کی ویڈیو
09:21اس کی نگاہوں کے سامنے سے گزرتی ہے
09:24تب اسے جو کچھ اس کے ساتھ ہوا
09:26جو کچھ جولیا کے ساتھ ہوا
09:28اسے یاد آنے لگتا ہے
09:30اس کی آنکھوں سے آنسو گرتے ہیں
09:32سنائپر اس کو گولی مارنے کے لیے
09:35نشانہ داغے بیٹھا ہوتا ہے
09:37کہ اس کے موہ سے نکلتا ہے
09:39I love big brother
09:41یعنی آسول کے مطابق
09:43اس نظام سے
09:44ایک پارٹی کی حکومت سے
09:46باہر نکلنے کا
09:47کوئی طریقہ نہیں ہوتا
09:50سوائے سرینڈر کے
09:51اب سوال یہ بنتا ہے
09:53کہ جو کچھ
09:53metaphorically 1984 میں
09:56لکھا گیا ہے
09:57آج وہ ہماری زندگیوں میں
09:59کیسے ہو رہا ہے
10:031984 میں جارج آرول نے
10:06ون پارٹی رول کا بتایا
10:08اور آج آپ یہ دیکھ رہے ہیں
10:10کہ دنیا کے کئی ملک
10:12ون پارٹی رول کی طرف
10:14بڑھ رہے ہیں
10:15آج ان کے ہاں
10:16ایک پارٹی کو
10:18اتنی اہمیت دی جارہی ہے
10:19کہ اس کو
10:20continuous stability کا
10:21نشان بتایا جاتا ہے
10:23اور اس ایک پارٹی کی
10:24حکومت کو
10:25establish کیا جاتا ہے
10:26اور opposition کو
10:28crush کر کے
10:28رکھ دیا جاتا ہے
10:29یہ حکومت
10:30صرف politicians کی نہیں ہے
10:32اس حکومت کے اندر
10:33دنیا کے politicians
10:34دنیا کے
10:35tech giants
10:36اور دنیا کے
10:37elites شامل ہیں
10:38یعنی ایک
10:39stakeholder of
10:40power کے نام سے
10:42ایک حکومت
10:43بنائی جا رہی ہے
10:44اور
10:44centralized
10:45یہ
10:45one government
10:46of the world
10:47create کرنے کی
10:48کوشش ہے
10:49آج
10:50social media
10:50platforms کے پاس
10:52اور tech giants
10:53کے پاس
10:53جتنی پاور ہے
10:54یہ دنیا کی
10:55کسی بھی حکومت
10:56سے زیادہ پاور ہے
10:57کیونکہ یہ
10:58پاور
10:58انہیں
10:59continuously
11:00big brother
11:01کی پاور دیتی ہے
11:02someone
11:03who's always
11:04watching you
11:05through your phone
11:35meta
11:36google
11:36platforms
11:37دنیا کے
11:38117
11:39ملکوں کی
11:40حکومتوں کے
11:40under
11:41lawful
11:42surveillance
11:43کے
11:43under
11:44آتے ہیں
11:44آج
11:45دنیا میں
11:4549000
11:47agencies
11:47ہیں
11:48جو
11:48sell
11:49bright
11:49استعمال
11:49کرتی ہیں
11:50اور sell
11:51bright
11:51استعمال
11:51کرتے ہوئے
11:52وہ
11:525
11:53منٹ کے
11:53اندر
11:54remotely
11:54دنیا میں
11:55کسی
11:56کسی
11:56کبھی
11:56فون
11:57کہی
11:57سے
11:57بھی
11:58open
11:58کر
11:58سکتے ہیں
12:01European
12:02Union
12:02نے
12:03E-Evidence
12:04Hub
12:04کے
12:04ذریعے
12:04پچھلے
12:056
12:05مہینے
12:05میں
12:0612000
12:07دفعہ
12:07locations
12:08کو
12:08track
12:09کیا
12:09یعنی
12:10اس کے
12:10لیے
12:10اب
12:11کسی
12:11warrant
12:11کی
12:12ضرورت
12:12نہیں
12:12agencies
12:13کو
12:13پیسے
12:14دیں
12:14تو
12:14agencies
12:15Wikipedia
12:16پر
12:16آپ
12:17کے
12:17سچ
12:18کو
12:18بدلنے
12:18کو
12:18تیار
12:19ہو
12:19جاتی
12:19ہیں
12:19گوگل
12:20نے
12:202025
12:21جتنے
12:22search
12:22results
12:23دیئے
12:23real
12:24time
12:24کے
12:24اندر
12:25data
12:25یہ
12:26کہتا ہے
12:26کہ
12:2640
12:27فیصد
12:28اس میں
12:28controversial
12:29results
12:30دنیا
12:30کے
12:30سامنے
12:31آئے
12:31LinkedIn
12:32اس
12:32وقت
12:32HR
12:33AI
12:34use
12:34کر
12:34رہے
12:34جس
12:35کی
12:35وجہ
12:35سے
12:35professionals
12:36سچ
12:37بولنے
12:37سے
12:37ڈرتے
12:38ہیں
12:38اور
12:38اپنی
12:38post
12:39کو
12:39self
12:40censor
12:40کرتے
12:41ہیں
12:41آج
12:42اگر
12:42سچ
12:42وقت
12:43سے
12:43پہلے
12:43بول دیا
12:44جائے
12:44تو
12:45social
12:45media
12:45platforms
12:46کی
12:46طرف
12:46سے
12:47اس
12:47پر
12:47misinformation
12:48کا
12:49tag
12:49لگا
12:49دیا
12:49جاتا
12:50ہے
12:50access
12:51now
12:51کے
12:51مطابق
12:522024
12:52میں
12:53283
12:54دفعہ
12:55internet
12:55بند
12:56کیا
12:56گیا
12:56اور
12:57ہر
12:57دفعہ
12:57آپ
12:58کو
12:58کہانی
12:58public
12:59safety
13:00کی
13:00سنائی
13:00گئی
13:00آج
13:01دنیا
13:02one
13:02party
13:03نہیں
13:03چلا
13:03رہی
13:03آج
13:04دنیا
13:04دنیا
13:05کی
13:05حکومتیں
13:06نہیں
13:06چلا
13:06تھی
13:06آج
13:13آپ
13:14کا
13:14سچ
13:15ہے
13:15اور
13:15شاید
13:16اسی
13:16لیے
13:16جارج
13:17آرورل
13:17نے
13:171984
13:18کتاب
13:19کا
13:20آخری
13:20صفحہ
13:21بلانک
13:22چھوڑ دیا
13:22تھا
13:22کہ
13:23اس
13:23سسٹم
13:24سے
13:24باہر
13:24آنے
13:25کے
13:25بارے
13:25میں
13:25آپ
13:26کو
13:26خود
13:27ہمت
13:27کرنی
13:27ہوگی
13:28اور
13:28خود
13:28سوچنا
13:29ہوگا
13:30اگر
13:31میں
13:31آپ
13:31سے
13:31یہ
13:31پوچھوں
13:32کہ
13:32محبت
13:32کیا
13:33ہے
13:33تو
13:33فوراً
13:34آپ
13:34کے
13:34ذہن
13:34میں
13:35محبت
13:35یا
13:35رومانس
13:36کو
13:36لے
13:36کر
13:36وہ
13:37فلمیں
13:37آئیں
13:38گی
13:38وہ
13:38موویز
13:38آئیں
13:39گی
13:39وہ
13:39ڈرامیں
13:39آئیں
13:39گے
13:40جو
13:40آج
13:40تک
13:40آپ
13:41نے
13:41دیکھ
13:41رکھے
13:41اگر
13:42میں
13:42آپ
13:42سے
13:42یہ
13:43پوچھوں
13:43کہ
13:43علم
13:44کسے
13:44کہتے ہیں
13:45تو
13:45آپ
13:45کے
13:45ذہن
13:46میں
13:46وہ
13:46تمام
13:46کتابیں
13:47آئیں
13:47جو
13:48بچپن
13:48سے
13:48لے
13:49کر
13:49آج
13:49تک
13:49آپ
13:50نے
13:50پڑھ
13:50رکھی
13:51ہیں
13:51اگر
13:51میں
13:51آپ
13:52سے
13:52یہ
13:52کہ
13:53خوشی
13:53کسے
13:54کہتے ہیں
13:54تو
13:54آپ
13:55کے
13:55ذہن
13:55میں
13:55خوشی
13:56کا
13:56وہ
13:56امپریشن
13:57آئے گا
13:57جو
13:58آپ
13:58نے
13:58آج
13:58تک
13:59دنیا
13:59میں
13:59دیکھ
14:00رکھا
14:00ہے
14:00لیکن
14:01اگر
14:01میں
14:01آپ
14:01سے
14:02یہ
14:02کہ
14:02ہو
14:03سکتا
14:03ہے
14:04بچپن
14:04سے
14:04لے
14:04کر
14:05آج
14:05تک
14:05آپ
14:06کی
14:06پرائیمنگ
14:07کی
14:07گئی
14:07ہو
14:07آپ
14:08کے
14:08سامنے
14:09صرف
14:09وہی
14:09انفرمیشن
14:10رکھی
14:10گئی
14:10ہو
14:10جو
14:11آپ
14:11کو
14:11بتانا
14:12ضروری
14:12تھی
14:13صرف
14:13وہی
14:14ڈیٹا
14:14آپ
14:14کے
14:14سامنے
14:15رکھا
14:15گیا
14:15ہو
14:15جس
14:16پر
14:16آپ
14:16کو
14:17تیار
14:17کرنا
14:17ضروری
14:18تھا
14:18پر
14:19سچ
14:19اس کے
14:20کہیں
14:20پرے
14:21ہے
14:21لیکن
14:22اس
14:22سچ
14:22تک
14:23پہنچنے
14:23کے
14:23لیے
14:23اس
14:24کو
14:24ڈھونڈ
14:25کے
14:25لیے
14:25اس
14:26کو
14:26آزبانے
14:26کے
14:26لیے
14:27اس
14:27کو
14:27پرک
14:28کر
14:28اپنی
14:29زندگیاں
14:29بدلنے
14:30کے
14:30لیے
14:30ہم نے
14:31کبھی
14:31کچھ
14:32نہیں
14:32کیا
14:32ہم
14:33ایک
14:33خول
14:33میں
14:34زندہ
14:34ہیں
14:34اور
14:35اس
14:35سائلو
14:35سے
14:35باہر
14:36نکلنے
14:36کی
14:36ہم نے
14:37کبھی
14:37کوشش
14:38نہیں
14:38کی
14:38آج
14:39جو
14:40کچھ
14:40آپ کے
14:41سامنے
14:41رکھا
14:41جاتا
14:42ہے
14:42یہ
14:42وہ
14:43ہیپنس
14:43کے
14:43سٹینڈرڈ
14:55ساتھ
14:56ڈھالا
14:56جاتا
14:56ہے
14:57کہ
14:57آپ
14:57کو
14:58پرائم
14:58کر
14:58دیں
14:58اس
14:59انسان
15:00کو
15:00بنانے
15:00کے
15:00لیے
15:01جیسا
15:01انسان
15:02دنیا
15:03کے
15:03ایلیتز
15:03کو
15:04چاہیے
15:04اسی لیے
15:05آج
15:05سوال
15:06پوچھنا
15:06سچ
15:07کی
15:07تلاش
15:08جاری
15:08رکھنا
15:09اور
15:09سچ
15:10تک
15:10پہنچنا
15:10ضروری
15:11ہے
Comments