Skip to playerSkip to main content
Dars e Quran | Ba-Mutaliq Hajj-o-Qurbani

Watch More || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidTfSid1NifY039IVYocnyX

Scholar : Mufti Zaigham Ali Gardezi

#islam #darsequran #hajj #aryqtv #hajj2026 #qurabni

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:24Alhamdulillahi Wachdha
00:26والصلاة والسلام على من لا نبي بعد
00:29اما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم
00:33بسم الله الرحمن الرحيم
00:34ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم
00:39فإذا أفدتم من عرفات فاذكروا الله عند المشاري الحرام
00:44واذكروه كما هداكم وإن كنتم من قبله لمن الضالين
00:49ثم أفضوا من حيث أفاد الناس وستغفروا الله
00:53إن الله غفور الرحيم
00:55صدق الله مولانا العظيم
00:57اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک السلم
01:05لِخَمْسَةٌ اُتْفِ بِهَا حَرَّ الْوَبَاءِ الحَاتِمَةِ
01:08المُصْطَفَى وَالْمُرْتَضَى وَابْنَاهُمَا وَالْفَاطِمَةِ
01:13موزز محترم ناظرین و حاضرین حج بیت اللہ کی مقدس اور بابرکت نسبت سے یہ دروس قرآن کا سلسلہ جاری
01:25و ساری ہے
01:27سور بکرہ کی دو آیات بینات آیت نمبر ایک سو اٹھانوے اور آیت نمبر ایک سو نینانوے کی تلاوت کی
01:32گئی
01:32ان آیات بینات میں اللہ رب العالمین نے حج کے تعلق سے کچھ اہم مسائل بیان فرمائے
01:38اور زمانہ جاہلیت میں جو حج میں خرافات کو داخل کر دیا گیا تھا
01:44اور ایسی چیزیں کہ جن کا عبادت سے کوئی تعلق نہیں ہے اپنی طرف سے گھڑی ہوئی چیزیں
01:49وہ عبادت کے طور پر اس کو اپنایا جا رہا تھا ان کی اصلاح فرمائی گئی
01:54ارشاد خداوندی ہے
01:59حج کے دوران اپنے رب کا فضل یعنی روزی تلاش کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے
02:11اور جب تم عرفات سے مجدالفہ میں واپس آؤ
02:15تو مشر حرام کے پاس اللہ رب العالمین کو یاد کرو
02:21اور جس طرح اس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی اس طرح تم اس کا ذکر کرو
02:29اور بے شک اس سے پہلے تم ضرور گمراہوں میں سے تھے
02:37پھر تم وہی سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں
02:40اور اللہ تعالی سے بخشش طلب کرو
02:44ان اللہ غفور الرحیم بے شک اللہ رب العالمین
02:47بہت بخشنے والا بڑا محربان ہے
02:51ان آیات بینات میں اللہ رب العالمین نے
02:53کئی اہم مسائل کا تذکرہ فرمایا
02:56چونکہ اس سے پہلی جو آیات بینات ہیں وہ حج سے متعلق ہے
03:00جس میں حج کی فرضیت حج کے مقاصد
03:02اور حج کے فضائل اور فوائد کو بیان فرمایا گیا
03:07کہ حج کیوں کیا جاتا ہے
03:08اور اس کے فوائد کیا ہیں
03:10اور حج کے تعلق سے تقویے کا بیان فرمایا گیا
03:12کہ حج یہ تقویے کا باعث ہے
03:15اور جو حج کرے تو اس سے تقویے پیشے نظر رکھنا چاہیے
03:18کہ وہ رفت سے جدال سے فسوق سے
03:22یعنی بےہودہ باتو سے
03:25گالم گلوٹ سے لڑائی جھگڑے سے
03:26ان ساری چیزوں سے وہ باز رہے
03:29تو اب ان آیات بینات کے نزول
03:31اور حج کی جو اہمیت اور فضیلت ہے
03:34اس کے پیشے نظر
03:35صحابہ اکرام میں یہ ایک اشکال یہ پایا جاتا تھا
03:40اور حضور کے بارگاہ میں عرض کیا گیا
03:42کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
03:43ہم زمانہ جاہلیت میں
03:45جب ہمارے مختلف میلے لگتے تھے
03:48جس طرح اکاز میلا ہے
03:50یا ظلمجاز میلا ہے
03:52اس طرح کے دیگر ان کی حج و تہوار ہوتے تھے
03:54تو اس میں ہم تجارت کیا کرتے تھے
03:57تو کچھ لوگوں نے یہ خیال کیا
03:59کہ اگر ہم حج کے لیے جائیں
04:02تو خالص اللہ کی عبادت کریں
04:03اس میں کوئی تجارت نہ ہو
04:05اس میں ہم کسی اور کام کاج میں مصروف نہ ہو
04:08کیونکہ
04:09یہ حج سے ایک توجہ ہٹنا ہوگی اور
04:12اللہ کی عبادت کے ساتھ ساتھ
04:14ہم دنیا داری میں بھی مصروف ہو جائیں گے
04:15تو اب صحابہ اکرام میں
04:17اس طرح کے معاملات اور اس طرح کے تصورات
04:19اور حج کے دوران
04:21تجارت سے متعلق اشکالات پائے جاتے تھے
04:24تو اس پر یہ آیت کریمہ
04:26نازل فرمائی گئی
04:27کہ لئیس آلیکم جناہن انتبتہو
04:29فضلم من ربکم
04:30کہ حج کے دوران تمہیں
04:32اپنے رب کا فضل یعنی
04:34رزق تلاش کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے
04:36تم کاروبار کرنا چاہتے ہو
04:38تم اللہ رب العالمین کا فضل تلاش کرنا چاہتے ہو
04:42اور یہاں قرآن کریم میں
04:43کئی مقامات پر جہاں
04:45فضل تلاش کرنے کا حکم فرمایا گیا
04:46تو اس سے مراد رزق ہے
04:48یعنی رزق حلال کے لئے انسان کوشش کرے
04:50جس طرح سورہ جمعہ میں بھی بیان فرمایا گیا
04:52کہ فائدہ قدعی تم السلام
04:54تغفظ کرو اللہ
04:55کہ جب تم نماز پڑھ چکو
04:58تو پھر اللہ رب العالمین کا ذکر کرو
05:01اللہ تعالی کا فضل تلاش کرو
05:03تو فضل تلاش کرنے سے مراد
05:05اللہ رب العالمین نے جو انسان کے لئے
05:07رزق رکھا ہے
05:09زمین میں پھیلایا ہے
05:10اس کو تلاش کرنا
05:11اس کے لئے کوشش ہے کرنا
05:12تو فرمایا کہ اگر حج کے دوران
05:14کوئی عرقان حج کی پابندی کے ساتھ ساتھ
05:18حج کی جملہ جتنے بھی
05:21اس کی عبادات کے پہلو ہیں
05:23عرقان ہیں
05:24وہ ایک طریقے کے مطابق کرنے کے ساتھ ساتھ
05:26اگر اپنی کوئی تجارت بھی کرنا چاہتا ہے
05:29کاروبار کرنا چاہتا ہے
05:30اپنی کوئی چیز بیشنا چاہتا ہے
05:32تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے
05:34بشرت ہے کہ اس کے عبادات کے معاملات
05:36وہ متاثر نہ ہو
05:38یعنی اس کے حج کے جو عرقان ہیں
05:39وہ متاثر نہیں ہوتے
05:40تو ٹھیک ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے
05:42جس طرح آج اگر ہم نماز پڑھنے جاتے ہیں
05:46تو نماز پڑھنے کے لئے
05:47اگر کوئی جاتا ہے
05:48اور پھر اپنے ساتھ کوئی
05:50بیشنے کی چیز لے جاتا ہے
05:52نماز کا وقت ہونے سے پہلے
05:54وہ وہاں کوئی ریڈی لگا لیتا ہے
05:56یا کوئی بھی اس طرح کا اسٹال لگا کے
05:57اپنی چیزیں بیشتا ہے
05:59نماز کا وقت آتا ہے
06:00نماز وہ جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے
06:02پھر نماز کے بعد اپنے کام پہ آ جاتا ہے
06:04تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے
06:06اسی طرح فرمائے کہ اگر
06:07حج کرنے کے لئے تم جاتے ہو
06:09اپنی کوئی چیز تجارت کے لئے لے جاتے ہو
06:11تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے
06:12جس طرح کوئی شخص کسی کے پاس سواری ہے
06:15اور اس سے اپنے لئے
06:17معاشقہ ذریعہ بنا کر
06:18کچھ روزی روٹی کمال لیتا ہے
06:19یا کوئی
06:20اس کے پاس بیشنے کی کوئی چیز ہے
06:22اس کو بیش کر اپنے لئے
06:23کچھ پیسے کمال لیتا ہے
06:24تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے
06:27اسلام اعتدال کا مذہب ہے
06:29اسلام توازن کا مذہب ہے
06:31اسلام ان ساری چیزوں کی
06:33انسانی زندگی سے متعلق
06:35جو ضروریات ہے
06:35اس کا بھی خیال رکھتا ہے
06:37تو فرمائے
06:38کہ حج کے دوران
06:39کاروبار کرنا
06:40تجارت کرنا
06:41اس میں تمہارے لئے
06:42کوئی حرج نہیں ہے
06:43تم حج کے عرقان
06:45ایک آداب کے مطابق
06:47تقاضی کے مطابق کرو
06:48اور اضافی جو وقت بچتا ہے
06:50اس میں اگر تم
06:51کاروبار کرنا چاہتے ہو
06:52تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے
06:53اور یہاں یہ بھی فرمائے
06:55کہ فَدْ لَمْ مِنْ رَبِّكُمْ
06:57یعنی اللہ رب العالمین
06:58کا جو فضل ہے
06:59وہ تلاش کرنا میں
07:00کوئی حرج نہیں ہے
07:00تو یہاں مفسرین
07:02نے ایک بڑا
07:02خوبصورت نکتہ بیان فرمایا
07:05کہ
07:06انسان کے پاس
07:07جتنا بھی
07:08مال و منال کی
07:09ریل پیل ہوتی ہے
07:10یہ انسان کا
07:11اپنا کوئی ذاتی کمال
07:12نہیں ہوتا
07:14نہ اس کی کوئی
07:15سکل کام آتی ہے
07:16کہ اس کی وجہ سے
07:17جس کے پاس سکل زیادہ ہے
07:18تو پیسہ بھی
07:19اس کے پاس زیادہ ہوگا
07:21یا جو محنت
07:22زیادہ کرتا ہے
07:22تو پیسہ بھی
07:23اس کے پاس زیادہ ہوگا
07:24یہ محض
07:25اللہ رب العالمین
07:25کا فضل ہے
07:26کہ اللہ تعالیٰ
07:28جس کو چاہے وہ
07:28رزق کی فراوانی
07:30عطا فرمائے
07:31جس کو چاہے
07:32رزق کی تنگی میں
07:33مبتلا کر کے
07:34آزمائش
07:34کا ایک سلسلہ
07:35اس کے لئے فرمائے
07:36یہ محض
07:37اللہ رب العالمین
07:38کی تقسیم ہے
07:39انسان کوشش کرتا ہے
07:40اللہ رب العالمین
07:42اس کوشش میں
07:42اس کے لئے
07:43اثر پیدا فرما دیتا ہے
07:44تو فرمایا
07:45کہ اللہ تعالیٰ کا
07:46فضل تلاش کرنے میں
07:47تم پر کوئی حرج نہیں ہے
07:48فَإِذَا عَفَدْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ
07:50فَاسْكُرُ اللَّهَ إِنْدَ الْمَشَرِ الْحَرَامِ
07:54جب تم عرفات سے
07:55مجدلفہ واپس آؤ
07:56تو مشرِ حرام کے پاس
07:58اللہ رب العالمین
07:59کو یاد کرو
08:00زمانہ جاہلیت میں
08:01ہم دیکھیں
08:02کہ مختلف اس طرح
08:05کے تصورات پائے جاتے تھے
08:06کہ حج کے دوران بھی
08:08مختلف اس طرح کے
08:10ہلکے لگایا کرتے تھے
08:16باپ تو ایسا تھا
08:17میرے باپ کی تو یہ شانے ہیں
08:19اس کے یہ کارنامے ہیں
08:20تو حج جو خالصتاً
08:22اللہ کی عبادت ہے
08:23اس میں بھی وہ اپنے
08:24آبا و اجداد کے قصے
08:25اور اس پر تفاخر کیا کرتے تھے
08:27کہ میں فلان کی اولاد ہوں
08:29تو فرمائے
08:30کہ یہ حج اللہ کی عبادت ہے
08:32تم کسی بھی رکن میں ہو
08:34کہیں بھی جا رہے ہو
08:35حج کے تمام عرقان کے دوران
08:38کسرت سے
08:38اللہ رب العالمین کا ذکر کیا جائے
08:40کہ یہ موقع ایسا ہے
08:42کہ وہ
08:43اللہ رب العالمین کا جس قدر
08:44کسرت سے ذکر کیا جائے گا
08:46اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے
08:47اور برکت نازل فرمائے جائیں گے
08:50پھر یہاں عرفات کا تذکرہ فرمایا گیا
08:53آٹھ زل حج کو جب
08:54حجاج کرام منا جاتے ہیں
08:56یہاں
08:57زہر اثر مغرب عشاء
08:58اور پھر اگلے دن کی فجر پڑھ کر
09:01یہاں سے پھر عرفات کی طرف آتے ہیں
09:03اور عرفات میں پھر زہر اثر کی ادائیگی ہوتی ہے
09:05اور پھر وہاں سے واپس آتے ہیں
09:07یہ حج کا رکن عظم ہے جو
09:10انتہائی فضیلت والا
09:12اور انتہائی
09:13حج میں اہمیت والا
09:15یہ رکن ہے
09:16یعنی اگر باقی عرقان میں سے کسی میں
09:18کسی عذر کی وجہ سے کوئی کوتائی ہوئی
09:20تو اس میں دم
09:21اور دیگر اس کی تلافی کی صورتیں ہیں
09:23لیکن اگر کسی نے
09:25وقوف عرفات
09:26یعنی عرفات میں وہ نہیں ٹھہرا
09:28تو اب اس کا حج کسی صورت وہ درست نہیں ہوگا
09:31اس کی تلافی کی کوئی صورت نہیں ہے
09:33یعنی ایسا نہیں کہ وہ دم کے ذریعے
09:35اس کی تلافی کی جا سکتی ہے
09:36تو فرمایا کہ
09:38یہ عرفات کا وقوف
09:40ہر حاجی کے لیے یہاں لازم فرمایا گیا
09:43عرفات کیا ہے
09:44یہ وہ ایک چٹیل میدان ہے
09:47کہ عام حالات میں اگر جائیں
09:49تو وہاں
09:49کوئی آبادی کا نام و نشان نہیں ہے
09:52لیکن حج کے دوران ہم دیکھیں
09:54نو
09:54زل حج
09:55یوم عرفہ
09:56جب پوری
09:58دنیا سے مسلمان حجاج
10:00میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں
10:02اور
10:03رنگ و نسل کا کوئی فرق نہیں ہے
10:06حسب و نسب کا کوئی فرق نہیں ہے
10:08کمب قبیلے کا کوئی فرق کو امتیاز نہیں ہے
10:11سارے حجاج
10:12ایک ہی لباس میں
10:13اور ایک ہی
10:15اللہ رب العالمین کے ذکر میں
10:16سارے محب ہوتے ہیں
10:18مصروف ہوتے ہیں
10:19اور اسی کیفیت میں
10:19اللہ رب العالمین کو یاد کرتے ہیں
10:21اور اس کو منانے کی کوشش کرتے ہیں
10:23یہ وہ خاص مقام ہے
10:24عرفات کہنے کی وجہ یہی ہے
10:26مفسرین نے
10:27مختلف اس کی وجوہات بیان فرمائی
10:28When cherries Adam and cherries Awah
10:33Allah had to build them
10:35adesso Adam
10:36Hinn where you have got your background
10:39And your father Hawah
10:41Thessalonians
10:42These two
10:44Eke do not have a
10:46Maydana Arifat
10:47This means
10:49Pachana
10:50Pachana
10:50To here
10:52Apece from the
10:52Apece from the
10:53Ideas from the
10:54Apece from the
10:54Because of the
10:56Maydana Arifat
10:57He said to him, he said,
11:27that i mean that i was not aware of it
11:27because it is the reason why this came out
11:32that exactly what it was,
11:33where Hazard Ibrahim and Hazard Jibriveli Amin
11:36can be рядом with the face of it
11:39because this is why this Meidan
11:40had a child.
11:43Allah Rabbi Al-Alamin has been
11:44raised with this philosophy.
11:45His speed of evidence is much Strongly,
11:46when it was in order of this point,
11:49when it happened with Haji,
11:51Meidana of Arafat has been
11:51that in the heavens,
11:54Allah Rabbi Al-Alamin
11:55فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے
11:57حباہات فرمائی جاتی ہے
11:58ایک طویل حدیث مبارکہ ہے
11:59چند صحابہ حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے
12:02اور سوالات پوچھنے کے لئے آئے
12:04عرص کی آسول اللہ کو سوال پوچھنے ہیں
12:06تو حضورﷺ نے فرمایا
12:07کہ تم بتاؤ گے
12:08کہ کیا سوال تم نے پوچھنے ہیں
12:10یا پھر میں تمہارے سوالات بھی بتا دوں
12:13اور اس کا جواب بھی بتا دوں
12:14یعنی تم سوال کیا کرنا چاہتے ہو
12:16یہ بھی میں جانتا ہوں
12:17آپ صلی اللہ علیہ وسلم دلی کیفیات پر بھی آگاہ ہے
12:21یہ جو ایک پوشیدہ معاملہ ہے
12:23اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پر
12:24اس چیز کو بھی پوشیدہ مخفی نہیں رکھا ہے
12:27کل کائنات کی ہر شئے سے متعلق حضورﷺ
12:29کو اللہ تعالیٰ نے علم اتا فرمائے
12:31تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
12:33نے اس کی فضیلت بیان فرمائی
12:34کہ جب
12:36حاجی میدانِ عرفات میں جمع ہوتے ہیں
12:38تو اللہ تعالیٰ انہیں یہ فضیلت اتا فرماتا ہے
12:40فرشتوں کے سامنے فخر فرما کر
12:42اعلان فرمایا جاتا ہے
12:44کہ اے فرشتوں گوا رہو
12:45کہ یہاں
12:47یہ گھر سے اٹے ہوئے لباس میں
12:49گھر سے اٹے ہوئے بالوں میں
12:51اس کیفیت میں جو مجھے منانے کے لیے آئے ہیں
12:53میں تمہیں گوا بنا کر یہ اعلان فرماتا ہوں
12:56کہ ان تمام کی بخشش اور مخفرت آج فرمائی جا رہی ہے
12:58یعنی تمام حجات جو خلوص کے ساتھ
13:01اللہیت کے ساتھ آتے ہیں
13:02اللہ رب العالمین تمام کی بخشش و مخفرت کا اعلان فرماتا ہے
13:06تو فرمایا کہ یہاں سے جب لوٹو
13:09تو اللہ رب العالمین کا ذکر کرو
13:11پھر یہاں ایک اور چیز بیان فرمائی گئی
13:16پھر تم وہی سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں
13:19اب زمانہ جاہلیت میں جو حج میں خرابییں پائی جاتی تھی
13:23اس میں ایک یہ تھا کہ قریش
13:24اپنے آپ کو برتر و بالا سمجھتے تھے
13:28فخر کیا کرتے تھے کہ ہم قریش ہیں
13:30اور ہمارے مقابلے میں کوئی نہیں ہے
13:32اور پھر ہم خانہ کعبہ کے مجاور ہیں
13:35متولی ہیں
13:36اور خانہ کعبہ کے پڑوسی ہیں
13:38تو اس لیے ہمیں حرم سے باہر جانے کی ضرورت نہیں
13:41حدود حرم جو ہیں
13:42اور اس سے باہر کا جو علاقہ وہ حل کہلاتا ہے
13:45تو یہ تصور تھا کہ ہم
13:47چونکہ عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ افضل ہیں
13:50برتر و بالا ہے
13:51تو اس لیے ہم عرفات نہیں جائیں گے
13:53بلکہ مجدالفہ میں ہی قیام کریں گے
13:55اور یہیں سے ہم واپس آئیں گے
13:56باقی لوگ جائیں عرفات میں جا کر وہاں ٹھہریں
13:59وہاں قیام کریں
14:00چونکہ ہم خانہ کعبہ کے پڑوسی ہیں
14:03اور خانہ کعبہ کے متولی اور مجاور ہیں
14:05تو ہمیں ان کے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں ہے
14:07یعنی وہ اپنے آپ کو وی آئی پی سمجھتے تھے
14:10کہ ہم ہمارا پروٹوکول الگ ہے
14:11اور ہم عام لوگوں کے ساتھ نہیں جائیں گے
14:14تو یہ وہ خرابی تھی
14:16کہ جو زمانہ جاہلیت میں
14:17حج میں اس کو سامل کر دیا گیا تھا
14:20تو فرمائیں
14:24تمہارا کوئی امتیازی سٹیٹس نہیں ہے
14:26کوئی الگ شناخت نہیں ہے
14:29اس پوری کائنات میں
14:30اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو
14:32رنگ نسل حسب و نسب
14:34زبان علاقہ
14:35ان ساری نسبتوں کی وجہ سے
14:37کوئی فضیلت نہیں عطا فرمائیں
14:39اور اگر کوئی
14:40کسی نسبت سے کوئی فضیلت رکھتا بھی ہے
14:43تو اس کے لئے کوئی عبادت کا
14:45الگ سے طریقہ نہیں بیان فرمائے گئے
14:46کہ فلان بڑے خاندان سے ہے
14:49تو وہ الگ سے نماز کا طریقہ اس کے لئے
14:51فلان امیر ہے تو آدھا روزہ رکھے
14:53گریب ہے تو پورا روزہ رکھ لے
14:55عبادات سب کی ایک جیسی ہیں
14:57طریقہ سب کا ایک جیسا مقام سب کا ایک جیسا
14:59تو فرمائیں کہ یہ جو
15:01اس طرح کی خرافات تم نے شامل کر لی ہیں
15:04عام لوگ جہاں جاتے ہیں
15:06وہیں سے تم نے واپس آنا ہے
15:07یعنی مجدالفہ کے بعد
15:09تم نے عرفات میں بھی جانا ہے
15:11عرفات میں ٹھہرنا ہے
15:12یہ تمہارے حج کی قبولیت کے لئے
15:14اور اس کی صحت کے لئے لازمی ہے
15:15تو زمانہ جاہلیت میں
15:17ان خرابیوں سے متعلق اسلام فرمائے گے
15:19اور فرمائے کہ
15:20اللہ سے بخش اس طلب کرو
15:21یعنی دین میں
15:23یا عبادات کے نام پر
15:24جو بگاڑ تم نے پیدا کیا ہے
15:26اور ایک عرصہ دراز سے
15:27یہ بگاڑ تمہارے ہاں چلا آ رہا ہے
15:29اس پر اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں
15:31تم استحفار کرو
15:35بخشنے والا ہے
15:37مہربانیہ فرمانے والا ہے
15:38یعنی پوری زندگی میں انسان
15:41کبھی بھی اگر اپنے گناہوں سے نادم ہو کر
15:43اللہ کی بارگاہ میں شرم ساری کے ساتھ
15:46توبہ کرے گا
15:47چاہے اس کے گناہ سمندر کی جھاک کے برابر ہوں
15:49زمین و آسمان کے خلا کو بر دیں
15:52اور پوری کائنات کی ریت کے
15:54ذرات کے برابر ہوں
15:56اللہ رب العالمین اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے
15:58تو فرمائے کہ
15:59اللہ کی بارگاہ میں استحفار کرو
16:00اور اس طرح کی خورافات سے
16:02اور منگ
16:04گھڑت جو اس طرح کی چیزیں ہیں
16:06اور خود ساختہ جو چیزیں ہیں
16:08ان سے اپنی عبادات کو پاک کرو
16:09یہ عبادات اللہ کی بارگاہ میں
16:11تمہارے لیے عزت و افتخار کا باعث ہے
16:14درجات کی بلندی کا باعث ہے
16:15اللہ کریم ہمیں
16:17اپنی عبادات میں خلوص للہیت اتا فرمائے
16:20اور عبادات کے درست طریقے کے مطابق
16:22اس کی ادائیگی کی توفیق اتا فرمائے
16:24آج کے موضوع سے متعلق
16:25اگر کوئی آپ کا سوال ہو
16:27آپ پوچھ سکتے ہیں
16:32مفتی صاحب سے میرے یہ سوال ہے
16:34کہ جو حج کے دوران
16:36تصویریں اور ویڈیو بناتے ہیں
16:38یہ بے بنانا کیسا
16:41یقیناً
16:43عبادات میں
16:43سب سے جو بنیادی چیز ہے
16:45وہ اخلاص ہے
16:46للاحیت ہے
16:48یعنی ہمارا کوئی بھی عمل
16:49خالصتاً واللہ کی رضا کے لیے
16:51ہونا چاہیے
16:51نمود و نمائے سے
16:53ریاکاری سے
16:53بناوٹ سے
16:54اور دکھلاوے سے
16:56ہمارے اگر عامال خالی ہوں گے
16:57پاک ہوں گے
16:58تو وہ عبادت اللہ کی بارگاہ میں
17:00قابل اکھبول ہوگی
17:01اور وہ عبادات
17:02ہمارے لیے درجات کی بلندی کا ذریعہ ہوں گے
17:05یہ ساری جو اس طرح کی
17:06خرافات ہماری عبادات میں شامل ہیں
17:08اس کا
17:09سب سے بڑا
17:10مقصد یہی ہوتا ہے
17:12کہ لوگوں کو پتا چلے
17:14کہ صاحب
17:14حج کرنے کے لیے گئے ہیں
17:16عمرہ کرنے کے لیے گئے ہیں
17:17زیادہ سے زیادہ
17:18اس کے ویوز آئیں
17:19اور زیادہ سے زیادہ
17:21لوگوں میں
17:21اس چیز کی پذیرائی ہو
17:22کہ میں نے حج کیا
17:23اگر کوئی اپنی
17:24یادگار کے لیے
17:25کوئی تشویر کھیش کے
17:26رکھ لیتا ہے
17:27ایک یاد کے طور پر
17:28کہ ایک
17:30مقدس لمحات تھے
17:31اس کی یاد کے طور پر
17:32نہ کہ لوگوں میں
17:32پذیرائی حاصل کرنے کے لیے
17:34تو اس کی تو
17:34گنجائش نکل سکتی ہے
17:35لیکن
17:36سوسل میڈیا پر
17:37اس طرح کے ویوز
17:38حاصل کرنے کے لیے
17:38اس کو لائیو کر دینا
17:39سوسل میڈیا پر
17:41اس کو وائرل کرنا
17:41اس کے ذریعے
17:42دادو تحسین حاصل کرنا
17:44یہ اگر کسی کے دل میں
17:45اس طرح کے تصورات ہیں
17:46اس طرح کے خیالات ہیں
17:47تو اس کو تو
17:49شرکِ اسغر قرار دیا گیا
17:50یعنی ریاکاری کو
17:52فرمایا گیا
17:52کہ شرکِ اسغر ہے
17:53کہ عبادت کی
17:55قبولیت کا جو ایک
17:57تعلق ہونا چاہیے
17:58وہ اللہ کی بارگاہ میں
17:59کہ باری تعالی
18:00میری عبادت کو
18:01قبول فرما
18:01لیکن ان عامال کے ذریعے
18:03ہم اللہ کی
18:04رضا مندی کے ساتھ ساتھ
18:06مخلوق کو بھی شامل کرتے
18:07کہ لوگوں کو بھی
18:08پتا چل جائے
18:08لوگوں میں میری عزت ہو جائے
18:09تو اس لیے فرمائے
18:11کہ یہ
18:11ریاکاری شرکِ اسغر ہے
18:13تو اگر کوئی
18:14اس نیت کے ساتھ
18:15کرتا ہے
18:16تو یقیناً
18:17نہ صرف یہ کہ
18:17اس کا حج
18:18اس کے تمام عامال
18:19برباد جائیں گے
18:20بلکہ خدا نہ خواستہ
18:22اس عمل کی وجہ سے
18:23وہ جب وہاں سے
18:23واپس لوٹے گا
18:24تو وہ
18:25ان مقامات مقدسہ
18:27کی بے حرمتی کی وجہ سے
18:28اللہ رب العالمین
18:30کی ناراضگی کا شکار ہوگا
18:31تو اخلاص کے ساتھ
18:33اور
18:33ریاکاری
18:34تسنع و بناوٹ سے
18:35بچتے ہوئے
18:36اگر یہ عبادات کی جائیں گی
18:37یقیناً
18:38اللہ رب العالمین
18:39اس کے ذریعے
18:39اس کے صدقے سے
18:40کرم فرمائے گا
18:41اسلام علیکم ورحمت اللہ
18:43وبرکاتہ
19:04قرآن کریم میں
19:05اس حوالے سے
19:06واضح طور پر فرمایا گیا
19:08کہ جو
19:08فضیلت کا میار ہے
19:09وہ تقویٰ ہے
19:10یعنی
19:11علم
19:11تقویٰ
19:12پریزگاری
19:13خوف خدا
19:13خشیت الہی
19:14یہ اسباب ہے
19:16کہ جس کی وجہ سے
19:16اللہ تعالی عام انسانوں سے
19:18اہل علم کو
19:19اہل تقویٰ کو
19:20فضیلت عطا فرماتے ہیں
19:21تو کسی کی
19:22تقویٰ کے ذریعے
19:24یا
19:24کسی اور
19:25نسبت کی وجہ سے
19:26اگر کسی کا
19:26اکرام کیا جارہا ہے
19:27تو وہ اس میں شامل نہیں ہے
19:28آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:30نے
19:31انصار کے ایک
19:32سردار
19:33صحابی
19:34حضور کی بارگاہ میں
19:35حاضر ہوئے
19:35تو بقاعدہ حضور نے
19:37انصار صحابہ اکرام
19:38کو حکم فرمایا
19:39کہ
19:40اپنے سردار کے لیے
19:41کھڑے ہو جاؤ
19:41یعنی ان کا
19:42عدب کرنے کے لیے
19:43استقبال کرنے کے لیے
19:45احتراماً کھڑے ہو جائیں
19:46تو یہ تو
19:46احادیث سے ثابت ہے
19:47تو
19:48تقویٰ کی بنیاد پر
19:50یا
19:50علم کی بنیاد پر
19:52یا
19:52عمر کی بنیاد پر
19:54اگر کوئی
19:54زیادہ فضیلت والا ہے
19:55تو اس کا عدب و احترام کرنے
19:57یہ تو دین کی تعلیمات ہیں
19:59لیکن
19:59کوئی اپنی زبان کی وجہ سے
20:01رنگ کی وجہ سے
20:01نسل کی وجہ سے
20:03یا
20:03قومیت کی وجہ سے
20:04یا مال و دولت
20:06اور منصب کی وجہ سے
20:07اگر کوئی
20:08تفاخر اور
20:08برتری چاہتا ہے
20:09تو اس کی آپ
20:10صلی اللہ علیہ وسلم نے
20:12سختی کے ساتھ
20:13مضمت بیان فرمائی
20:14اور فرمائے
20:15کہ ان ساری چیزوں کو
20:15میں اپنے پاؤں تلے رونتا ہوں
20:17یعنی زمانہ جاہلیت کے
20:18جو تفاخرات
20:19اور امتیازات تھے
20:20کہ
20:21عربی کو
20:29جو کوئی پاؤں تلے رونتا ہوں
20:30تو تقوی
20:31پریزگاری
20:32خوف خدا
20:33یہ جو
20:34عالی اصاف ہے
20:34اس کی وجہ سے
20:35اللہ تعالی
20:36باقیوں پر
20:37فضیلت عطا فرماتا ہے
20:38تو ان فضیلتوں کی وجہ سے
20:39اگر کسی کا
20:40اکرام کیا جاتا ہے
20:41تو یہ قرآن و سنت کے
20:42این مطابق ہیں
20:43آج کی اس نشس میں
20:45حد سے متعلقہ
20:47کچھ اہم امور
20:48اور زمانہ جاہلیت میں
20:49رائع تصورات کی
20:50اصلاح کے حوالے سے
20:51کلام کیا گیا
20:52اللہ کریم
20:53ہمیں اپنی عبادات میں
20:55خلوش للہیت
20:56اتا فرمائے
20:56اور قرآن و سنت
20:58کے بتائے ہوئے
20:58طریقوں کے مطابق
20:59جملہ عبادات کی
21:00ادائیگی کی
21:00توفیق اتا فرمائے
21:01اللہ کریم
21:02عمل کی توفیق اتا فرمائے
21:04وَمَا عَلَيْنَا
21:05إِلَّا الْوَلَا خُلْمُبِينَ
21:21عَلَيْنَا
21:23عَلَيْنَا
21:27عَلَيْنَا
Comments

Recommended