- 4 days ago
- #islam
- #darsequran
- #hazratalira
- #aryqtv
Dars e Quran - Ba-Mutaliq Hazrat Ali RA
Hazrat Ali RA Special ||https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieZ7Bj3YnEg1goMXA2ZEJ_P
Speaker: Mufti Muhammad Soahil Raza Amjadi
#islam #darsequran #HazrataliRA #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Hazrat Ali RA Special ||https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieZ7Bj3YnEg1goMXA2ZEJ_P
Speaker: Mufti Muhammad Soahil Raza Amjadi
#islam #darsequran #HazrataliRA #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00I seek God from the Most Highlights, in the name of the Most Merciful
00:06الحمد لولیه والصلاة والسلام على نبیه وعلا آله واصحابه وبیرک وسلم
00:16محترم ناظرین و سامعین, ویورز و لسنرز
00:21السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:25we have a peset upon him
00:47today we have a pre-summer
00:49Surah Anbiyah
01:19ہم وحی فرماتے تھے
01:21سو اگر تم کو علم نہیں ہے
01:23تو
01:24اہلِ ذکر سے پوچھو
01:26ناظرین و سامعین سب سے پہلے ہم
01:29گفتگو کرتے ہیں
01:30جو یہ فرمایا کہ
01:33ہم نے آپ سے پہلے صرف مردوں
01:35کو رسول بنا کر
01:37بیجا تھا
01:39اب معاملہ یہ تھا کہ اس دور میں
01:41جب حضور نبی کریم
01:43علیہ السلام تشریف لائے
01:45تو اس وقت
01:47ظاہرے کے بغض و عنات
01:50کی وجہ سے
01:50وہ اس وقت لوگ یہ اعتراضات کرتے تھے
01:54یہود و نصارہ میں سے
01:56تھے مشرقین میں سے تھے
01:58یہ اعتراضات کرتے تھے
01:59objection یہ تھا کہ بھائی
02:01یہ مردوں میں سے
02:04رسول کیوں آیا
02:05یہ رسول جو ہے وہ بشر کیوں ہے
02:07مرد کیوں ہے
02:08فرشتوں میں سے رسول کیوں نہیں آیا
02:11تو اس کا بڑا ایک عظیم و شان جواب اللہ تبارک و تعالی نے دیا
02:16زیرے کے اس وقت یہود و نصارہ کی کسرت تھی
02:19تو ابو فرمایا
02:22کہ اے محبوب
02:24بات یہ ہے کہ ان سے پوچھیں
02:27کہ یہ اپنے علم والوں سے پوچھیں
02:30جو ان کے
02:31جو روحبا ہیں
02:33روحبان کے لیجئے
02:35یا جو پادری ہیں
02:36ان سے پوچھئے
02:37جو نصارہ ہیں
02:39عیسائی ہیں
02:40کرشنز ہیں
02:41ان سے پوچھیں
02:43کہ وہ اپنے پادریوں سے پوچھیں
02:44اور اسی طریقے سے
02:46اہلِ یہود سے فرمایا
02:47کہ تم اپنے بڑوں سے پوچھو
02:49اپنے علماء
02:50جو علماء یہود ہیں
02:51ان سے پوچھو
02:53کہ ان سے پہلے
02:55یعنی حضور نبی کریم علیہ السلام
02:57سے پہلے
02:57جو نبی اور رسول
02:59تشریف لائے تھے
03:00وہ کون تھے
03:01اور ظاہر ہے کہ
03:03اہلِ نصارہ
03:04کے جو علماء تھے
03:06یا اہلِ یہود
03:07کے جو علماء تھے
03:08وہ اپنی کتابیں
03:10پڑھ کر یہ جانتے تھے
03:11نصارہ
03:13یعنی کلیسٹنز
03:14یہ جانتے تھے
03:15کہ عیسیٰ علیہ السلام
03:16بھی بشر تھے
03:17اور رسول تھے
03:19مرد تھے
03:20دوسرا یہ ہے
03:21کہ اہلِ یہود
03:22بھی یہ جانتے ہیں
03:23کہ موسیٰ علیہ السلام
03:25بھی بشر تھے
03:26اور مرد تھے
03:27اور نبی اور
03:28وصول بن کر
03:29تشریف لائے
03:30تو یہاں پر
03:31گویا کہ
03:32ان کی زبان
03:33بندی اس اعتبار سے کی
03:34ان کے پاس
03:35کوئی جواب نہیں تھا
03:36تو فرمایا
03:37کہ جب
03:37جو ہے وہ
03:39موسیٰ علیہ السلام
03:40مرد تھے
03:42بشر تھے
03:43وہ نبی اور
03:43وصول بنا کر
03:44بھیجے گئے
03:45اسی طریقے سے
03:46عیسیٰ علیہ السلام
03:47مرد تھے
03:48بشر تھے
03:49ان کو رسول
03:50اور نبی بنا کر
03:51بھیجا گیا
03:51تو پھر نبی علیہ السلام
03:53پر اعتراض
03:54یہ آتا ہی نہیں ہے
03:55یہ اعتراض
03:56وارد ہی نہیں ہوتا
03:57جس طرح وہ
03:57رسول اور نبی تھے
03:58اسی طریقے سے
03:59نبی علیہ السلام
04:01حضور نبی کریم
04:02علیہ السلام
04:02کو بھی
04:03نبی اور
04:04وصول بنا کر
04:05بھیجا گیا
04:05اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا
04:07کہ ظاہر ہے کہ
04:08جو خواتین کی
04:10عظمت ہے
04:11وہ اپنی جگہ ہے
04:12لیکن
04:13ہر ایک کی
04:14تخلیق جو ہوتی ہے
04:15یعنی
04:16یوں سمجھنے
04:17کہ
04:17جو
04:18جن سے مرد ہے
04:19جن سے مذکر ہے
04:20جن سے مونس ہے
04:21تو
04:22ہر ایک کی تخلیق
04:23اپنی نوعیت
04:24کے اعتبار سے ہوتی ہے
04:25اور کہتے ہیں
04:26کہ جس کا کام ہے
04:27وہی کرتا ہے
04:28تو یہ کام
04:29اللہ تبارک وطالہ
04:31نے مردوں کو سوپا ہے
04:32یعنی
04:33مرد حضرات میں سے
04:35مردوں میں سے
04:36اللہ تبارک وطالہ
04:37نے
04:37نبی اور رسول
04:39پیغمبر علیہ السلام
04:40بنا کر
04:41مبعوث فرمائے ہیں
04:42دوسری بات
04:44یہاں پر یہ ہے
04:45کہ
04:45جو یہ فرمایا
04:46کہ
04:46فَسْأَلُوا أَحْلَ ذِكْرِ
04:48اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
04:50اب یہ
04:51اصل خطاب
04:52جو ہے وہ
04:54اہلِ یہود
04:55نصارہ
04:55یا اس دور کے
04:56جو مشرقین تھے
04:57ان سے تھا
04:58کہ تم اپنے علماء سے پوچھو
05:00اصل خطاب ان کا تھا
05:01ان سے تھا
05:02لیکن یہاں پر
05:04جو اس کے
05:04الفاظ ہیں
05:05وہ
05:06عموم پر
05:06دلالت کرتے ہیں
05:07اور یاد رکھیں
05:09کہ
05:09اعتبار
05:10جو عمومِ
05:11الفاظ کا ہوتا ہے
05:12وہ ہوتا ہے
05:13تو یہاں
05:14علماء یہود مراد ہیں
05:15یا علماء نصارہ مراد ہیں
05:17لیکن
05:18رہتی دنیا تک
05:19ظاہر ہے
05:20کہ جو
05:21اپنے اپنے دور کے
05:22علماء ہوں گے
05:23تو وہ بھی مراد ہوں گے
05:25کہ سوال کرو
05:26اہلِ ذکر سے
05:28اگر تم نہیں جانتے
05:29اب یہاں پر
05:31اہلِ ذکر سے
05:32مراد کون ہوں گے
05:33اس دور میں
05:34یعنی
05:34قرآن جو کہہ رہا ہے
05:35جو
05:36مخاطبین ہے
05:37کون ہے
05:38اہلِ ذکر سے
05:39مراد کون ہے
05:40تو یاد رکھیں
05:41کہ
05:41یہاں پر
05:43مفصلین نے
05:44ایک بات فرمائی
05:45کہ
05:45یہاں پر
05:46اہلِ ذکر سے
05:47مراد
05:48اہلِ
05:48قرآن ہے
05:50جو قرآن والے ہیں
05:52وہ مراد ہے
05:53اب یہاں پر
05:54آپ دیکھیں
05:55کہ قرآنِ کریم
05:56کا ایک نام
05:57جو ہے
05:57جیسے قرآنِ کریم
05:58کو قرآن بھی کہتے ہیں
05:59القتاب بھی کہا جاتا ہے
06:01کتاب مبین بھی کہا جاتا ہے
06:02نور بھی کہا جاتا ہے
06:04اور اسی طریقے سے
06:06قرآن کا
06:07ایک نام
06:07ذکر بھی ہے
06:08الذکر بھی
06:09قرآن کا نام ہے
06:10جیسے قرآنِ کریم میں
06:11ہی فرمایا
06:11اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا
06:14الذِّكْرَا وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
06:16ہم نے
06:17اس ذکر کو
06:18یعنی قرآن کو
06:19ہم نے نازل فرمایا
06:21اور ہم ہی
06:22اس کی حفاظت کرنے والے ہیں
06:24تو یہاں بھی آپ دیکھیں
06:25کہ ذکر سے مراد
06:26قرآن ہے
06:32اور بھی ذکر سے مراد
06:34قرآنِ کریم ہے
06:35تو یہاں پر آپ دیکھیں
06:36کہ ہم میں سے ہر شخص
06:39اس کی
06:40یوں سمجھ لیں
06:41کہ ارادہ یہ ہوتا ہے
06:42کہ ہمیں
06:44اللہ تبارک وطالہ بتائے
06:46کہ جب ہمیں پوچھنا ہو
06:48تو ہم کس سے پوچھیں
06:49ہمیں
06:50جب سوال کرنا ہو
06:52تو ہم کس سے سوال کریں
06:54اللہ تبارک وطالہ یہ چاہتا ہے
06:56کہ جب تم سوال کرو
06:58تو کسی ایرے غیرے سے سوال نہ کرو
07:01جب تم لا علم ہو
07:03سوال کرنا چاہتے ہو
07:05تو اہل القرآن سے سوال کرو
07:07یہاں پر آپ دیکھیں
07:09کہ عام طور پر
07:11ہم دیکھتے ہیں
07:12کہ دنیا میں
07:14سوالات کے جوابات دینے کے لیے
07:17بہت سے لوگ ہوتے ہیں
07:18یہ قرآنِ کریم کا بڑا حیرت
07:19انگیز اسٹیٹمنٹ ہے
07:21کہ آلِ ذکر سے پوچھو
07:23اہل القرآن سے پوچھو
07:24کیوں
07:25کہ آج اس دور میں ہم دیکھتے ہیں
07:27کہ فلسفی حضرات بھی ہیں
07:29ڈاکٹر حضرات بھی ہیں
07:31منطقی حضرات بھی ہیں
07:33سائنٹس بھی ہیں
07:34جن کا تعلق سائنس سے ہے
07:36یا اس کی مختلف
07:37ڈیفرنٹ برانچس سے ہے
07:39تو ہر ایک جواب دینے کے لیے
07:40تیار ہوتا ہے
07:41تو یہاں فرمایا
07:42کہ دین کی بات اگر پوچھنی ہو
07:44تو فلسفی سے نہ پوچھنا
07:46دین کی بات اگر پوچھنی ہو
07:48تو ڈاکٹر سے نہ پوچھنا
07:49دین کی بات اگر پوچھنی ہو
07:51تو منطقی سے نہیں پوچھنا
07:53دین کی بات اگر پوچھنی ہو
07:55تو کسی BIOLOGY والے سے نہ پوچھنا
07:57کسی कимistry والے سے نہ پوچھنا
07:59دین کی بات اگر پوچھنی ہو
08:01تو وہ AHD, KURAN سے پوچھنا
08:03CURAN والے سے پوچھنا
08:05ان سے پوچھو گے
08:06تو تمہیں Dین کی بات ملے گی
08:08اور یہاں پر یاد رکھیں
08:09کہ جب بھی ہم بات کرتے ہیں
08:11AHD, AHD, KURAN کی
08:14تو اس سے مراد
08:15یاد رکھیں کہ
08:16حضور نبی کریم علیہ السلام کی
08:19جو حدیث, حیدیث کریمہ ہیں
08:21وہ قرآن سے جدا نہیں ہے
08:22because if we understand our
08:52If we see something about it then we will go about it.
08:55It is that it will be about the Bible as a translation of S。
08:58That will be the Bible as well.
08:59That it will be about the Bible as a translation of S.A.
09:01and there will be the Bible as a translation of S.A.
09:02So when we talk about the Bible,
09:04then the Bible is not happening.
09:08Now we can see that if we talk about the Bible and the Bible,
09:13then where it helps us...
09:14When it brings out the Bible that God says that God reveals the Bible.
09:17If it says that God has saved us, it will be about the Bible.
09:20And that's how it gets into law.
09:22because if you are the Quran, you are the king of the Kera.
09:27He is the king of the Kera.
09:29He is the king of the Kera.
09:31He is the king of the Kera.
09:33But one thing that we see is that
09:39in the Kera is the king of the Kera.
09:42We have a clear understanding.
09:45There is a way to understand that
09:49a sense of what is the idea of what is the Kera.
09:52کہ حضور نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا
09:55فرمایا کہ بے شک قرآن علی کے ساتھ ہے اور علی قرآن کے ساتھ ہے
10:08لم يفترقا
10:10دونوں جدا نہیں ہوں گے
10:14دونوں جدا نہیں ہوں گے
10:16حتی یرد الحود
10:18یہاں تک کہ حوزے کوثر پر بھی دونوں ساتھ ہی ہوں گے
10:22تو اگر ہم آہل القرآن کی بات کریں
10:25تو صحابہ میں سے آہل بیت اتحار میں سے
10:28ایک منفرد شخصیت
10:31ایک عظیم شان شخصیت اگر ہمیں ملتی ہے
10:34جو قرآن سے بہت جڑے ہوئے ہیں
10:36آہل القرآن میں سے ہیں
10:37وہ حضرت مولا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں
10:42اور پھر یہی آپ دیکھیں نا
10:44کہ یہی ذکر ہے یہی قرآن ہے
10:47کہ جس کے ساتھ مولا علی رضی اللہ تعالی نے کیسے جڑے ہوئے ہیں
10:50کہ ایک مرتبہ ایک شخص آیا
10:53اور اس نے کسی آیت کے بارے میں پوچھا
10:56کہ قرآن کی روح سے بتاؤ
10:59کہ فرمایا کوئی مسئلہ پوچھا
11:02قرآن کی روح سے بتائیں
11:03کہ یا علی اس کا جواب کیا ہے
11:06تو انہوں نے قرآن کی روح سے جواب دیا
11:08پھر وہ شخص آیا
11:10اس نے کہا کہ انجیل کی روح سے بتائیں
11:12کہ اس کا جواب کیا ہے
11:15تو آپ رضی اللہ تعالی نے انجیل کی روح سے بتایا
11:18پھر وہ شخص آیا
11:20مجھے تورات کے احکامات کے مطابق بتائیں
11:23تورات کی روح سے بتائیں
11:25کہ اس کا حکم کیا ہوگا
11:26تو آپ اتنے صاحب علم ہوئے
11:29قرآن سے جڑنے کی وجہ سے
11:30کہ آپ نے انجیل اور تورات کی روح سے بھی وہ مسائل
11:35اس شخص کو بتائیں
11:36اللہ و اکبر
11:37اسے کہتے ہیں
11:39کہ جب قرآن کا علم آ گیا
11:40تو سارا سارے علوم
11:42اس ذات کے اندر سمو گئے
11:44یہی وجہ ہے
11:46کہ اس شخص نے
11:48دس بار علم کے متعلق سوال کیا
11:52علم علماء کے مال کے متعلق
11:54دس مرتبہ
11:55کہ علم افضل ہے
11:56یا مال افضل ہے
11:57تو آپ نے دس مرتبہ
11:59اس کو مختلف طریقوں سے جواب دیا
12:01ایک جواب نہیں دیا
12:03مختلف طریقوں سے جواب دیا
12:04یہی وجہ ہے
12:06کہ جب ہم بات کرتے ہیں صحابہ کی
12:08تو میں یہاں پر کچھ مثالیں آپ کی خدمت میں اس کرتا ہوں
12:11کہ آپ کے علم کا جو مرتبہ ہے
12:15علمی جو مقام اور مرتبہ ہے وہ کیا ہے
12:18قرآن کی روح سے کیا ہے
12:19تو
12:20یہاں پر ابن عباس صدی اللہ تعالیٰ ہو
12:24جو خود بھی مشتہش صحابی ہیں
12:26اور حضور نبی کریم علیہ السلام کے چچہ زاد بھائی ہیں
12:29اور آپ کے بھی چچہ زاد بھائی ہیں
12:31وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے جب بھی
12:34حضرت مولا علی سے کسی مسئلے کو دریافت کیا
12:39تو ہم نے ہمیشہ صحیح جواب پایا
12:42ہمیشہ درست جواب پایا
12:44ہم سب کی ماں ام المؤمنین
12:48سیدہ عیش رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:50جو خود بھی مشتہدہ صحابی ہیں
12:53حضور نبی کریم علیہ السلام کی زوجہ مطرمہ ہیں
12:57وہ کیا فرماتی ہیں
12:58جب ان کے سامنے مولا علی کا ذکر ہوا
13:01تو آپ نے فرمایا کہ علی سے زیادہ
13:04رضی اللہ تعالیٰ عنہ
13:05مسائل شرعیہ کا جاننے والا کوئی بھی نہیں ہے
13:09ان سے زیادہ جاننے والا کوئی بھی نہیں ہے
13:13اور مزید
13:14حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
13:17فرماتے ہیں
13:18کہ حضور نبی کریم علیہ السلام کے صحابہ میں
13:21سوائے مولا علی المرتضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے
13:25ان کے سوا کوئی یہ کہنے والا نہیں تھا
13:28کہ جو کچھ مجھ سے پوچھنا ہے وہ پوچھ لیجئے
13:31اللہ اکبر
13:33اور بات اس پر مکمل نہیں ہوتی
13:35حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
13:38آپ کا ایک فرمان کیا ہے
13:40فرماتے ہیں کہ
13:41ہم میں سے سب سے بہترین جو علم والا ہے
13:47اور علم کے مطابق فتاوہ کے مطابق
13:50اگر کوئی سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا ہم میں ہے
13:54تو وہ علی کے سوا کوئی اور نہیں ہے
13:56حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
13:58حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
14:01ان کی خدمت میں
14:02کوئی بھی مشکل مقدمہ پیش ہوتا
14:05تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
14:08موجود نہ ہوتے
14:09تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
14:12اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے
14:14کہ کہیں کوئی فیصلے میں غلطی نہ ہو جائے
14:17اور ہوا یوں تھا
14:19کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
14:22کی یہاں پر ایک محبت بھی ہمیں معلوم ہوتی ہے
14:24کہ حضرت فاروق عاظم کی
14:26مولا علی المتدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ
14:28ان سے کیا محبت تھی
14:30ایک معاملہ یہ ہوا
14:31کہ ایک ایسی عورت پیش کی گئی
14:35کہ زہرے کے اس نے وہ جرم کیا تھا
14:40کہ جس کے بعد
14:41اس کا جو اس کی سزا تھی
14:44وہ سنگسار کرنا تھی
14:45اور وہ عورت پیگنٹ تھے
14:47تو حضرت فاروق عاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ
14:50نے جو ہے وہ فیصلہ فرمایا
14:52کہ اس کو سنگسار کیا جائے
14:55تو مولا علی المتدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے
14:59تو حضرت سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم
15:01کا فرمان سنایا
15:02کہ اگر عورت پیگنٹ ہو
15:05اور اس پر کوئی اس طرح جرم ثابت ہو جائے
15:08سنگسار کرنے کی سزا ہو
15:10تو فرمایا کہ بچے کی ولادت کے بعد
15:14اس پر حد لگائی جائے
15:15اللہ اکبر
15:17جب مولا علی المتدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ
15:19نے یہ فرمان سنایا
15:20تو اس کے بعد
15:22حضرت فاروق عاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ
15:26نے اپنے فیصلے سے رجوع فرمایا
15:28اور اس کے بعد یہ بات ارشاد فرمائی
15:31کہ لولا علی لہلک عمر
15:33اگر علی نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتا
15:36اللہ اکبر
15:37یہ ہیں ہمارے مولا علی المتدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ
15:41اور اسی طریقے سے
15:44ہم یہ دیکھتے ہیں
15:45ایک فرمان ہمیں اور ملتا ہے
15:47کہ انا مدینة العلم
15:49وَعَلِيُنْ بَابُهَا
15:52کہ میں علم کا شہر ہوں
15:54اور علی اس کا دروازہ ہے
15:56اب ذرا سا اس کی معنویت کی طرف جائیں
16:00تو بڑا عجیب و غریب یہ فرمان ہے
16:02کہ میں علم کا شہر ہوں
16:04علی اس کا دروازہ ہے
16:06درہ رہے کہ آج کل جو شہر ہوتے ہیں نا
16:09سٹیز ہوتے ہیں
16:10تو ہم ہمارے سامنے جب ہم شہر سے باہر نکلتے ہیں
16:13تو ٹول پلازہ آتا ہے
16:14تو پرانے وقتوں میں اچھا وہاں جب پہنچ گئے
16:17وہاں سے کروز کر لیا آپ نے
16:19تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے شہر چھوڑ دیا ہے
16:21یہ ٹول پلازہ سے اندر داخل ہو گئے
16:23تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی انٹری
16:25اس سٹی میں ہو گئی ہے
16:26تو حضور نبی کریم علیہ السلام کا یہ فرمانا
16:29کہ میں علم کا شہر ہوں
16:30علی اس کا دروازہ ہے
16:31اس کی تھوڑا سا ڈیپٹ میں جائیں گیرائی میں جائیں
16:34تو اللہ اکبر
16:36یاد رکھیں کہ پرانے وقتوں میں جو شہر ہوا کرتے تھے
16:39تو آس پاس فصیل ہوا کرتی
16:42اور شہر کا بقاعدہ دروازہ ہوا کرتا
16:45تو اس سے انٹر ہونے کے بعد یہ ہوتا
16:47کہ آپ کی شہر میں انٹری ہو گئی ہے
16:49اور میرے ربی علیہ السلام فرماتے ہیں
16:51کہ میں علم کا شہر ہوں
16:52علی اس کا دروازہ ہے
16:53تو مطلب کیا ہوا
16:55کہ میں علم کا شہر ہوں
16:59میں علم کا شہر ہوں
17:00کوئی اگر
17:01کوئی اگر قرآن سے
17:03اپنا رشتہ ناتا جوڑنا چاہتا ہے
17:06کوئی اگر حضور نبی کریم علیہ السلام سے
17:09اپنا رشتہ جوڑنا چاہتا ہے
17:11کوئی اگر علم سے
17:13علم دین سے
17:14اپنا رشتہ جوڑنا چاہتا ہے
17:16تو اسے چاہیے
17:17کہ مولا علی المرتضی رضی اللہ تعالی
17:20انہو جو دروازے کی صورت میں ہے
17:22تو وہاں سے ہوتا ہوا ہے
17:23ان کے دامن کرم سے
17:25وابستہ ہوتا ہوا ہے
17:26تو گیا کہ وہ
17:27علم کے شہر میں بھی
17:29داخل ہو جائے گا
17:30اور پھر یہاں پر
17:31یہ بھی ہمیں معلوم ہوتا ہے
17:33کہ
17:34مدینت العلم و علی بابوہ
17:36علم اصل میں قرآن ہے
17:38علم اصل میں قرآن ہے
17:39اور قرآنی علوم کا
17:41اصل دروازہ
17:43قرآنی علوم کا شہر
17:44میرے نبی علیہ السلام ہے
17:45اور اس کا قرآنی علوم کا
17:48اصل دروازہ
17:49اگر کوئی ہے
17:50تو وہ میرے
17:51مولا علی المرتضی رضی اللہ تعالی انہو ہے
17:55یہ شان ہے
17:56میرے مولا علی المرتضی رضی اللہ تعالی انہو کی
17:59اور اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں
18:02کہ آپ کے فتاوہ دیکھیں
18:05یا آپ کا
18:06آپ کا جو فیصلہ کرنے کا انداز ہے
18:09یعنی علم پر دسترس تو اسی
18:12اسی خوبنی عظیم دسترس
18:15مکمل دسترس
18:16کہ آپ صحابہ میں کھڑے ہوتے ہیں
18:19یا کہیں پر بھی کھڑے ہوتے ہیں
18:20تو آپ کا یہ فرمان بڑا مشہور ہے
18:22سلونی ما شکتوں
18:24تم جو چاہو مجھ سے سوال کر لو
18:27جو چاہو مجھ سے سوال کر لو
18:30اور جس کی جو مرضی ہوتی
18:32وہ مولا علی المرتضی رضی اللہ تعالی انہو سے سوال کرتا
18:35اور آپ اس کا جواب نایت فرماتے ہیں
18:38ایک واقعہ ہے
18:38ایک یہودی آیا
18:40اور اس نے آ کر
18:42مولا علی المرتضی رضی اللہ تعالی انہو سے کہا
18:45کہ آپ کے بارے میں ہے
18:48کہ آپ کو قرآن میں تمام علوم ہیں
18:52آپ یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں
18:54ہر طرح کے علوم موجود ہیں
18:55زیادہ قرآن کریم میں
18:57ہر طرح اور خشک شے کوئی شے ایسی نہیں
19:03جس کا ذکر قرآن کریم میں نہ ہو
19:05تمام علوم قرآن میں ہیں
19:14لیکن لوگوں کی جو عقلیں ہیں
19:16تو ہر کوئی اپنی سمجھ کے مطابق
19:18اس سے علم حاصل کرتا ہے
19:19تو جب اس نے یہ سوال کیا کہ قرآن میں
19:22ہر چیز کا علم ہے
19:23آپ لوگوں کا یہ دعویٰ ہے مسلمانوں کا
19:25تو میرا ایک سوال کا جواب دیجئے
19:28ہاں کیا سوال ہے تمہارا
19:30تو اس یہودی کی نا
19:32داڑی بہت کم تھی
19:33یعنی نہ ہونے کے برابر تھی
19:36کچھ بال تھے
19:37اور مولا علی المرتضر رضی اللہ تعالیٰ کی
19:40داڑی گھنی تھی
19:41تو اس نے سوال کیے کہ
19:43آپ کی داڑی مبارک گھنی ہے
19:45اور میری داڑی نہ ہونے کے برابر ہے
19:47بہت کم بال ہے
19:48اس کا ذکر قرآن کریم میں ہے
19:50اب بظاہر یہ بڑا عجیب و غریب سوال تھا
19:54بڑا عجیب و غریب question تھا
19:56لیکن آپ نے برملا یہ جواب دیا
19:58آپ نے فرمایا
19:59آٹھوے پارے میں
20:00ایک آیت کریمہ ہے
20:02والبلد طیب یخرج نباتہو بی اذن ربی
20:06والذی خبثا لا یخرجو اللہ نکدہ
20:10اب میں جب بتایا نا
20:12کہ جو
20:12اچھی زمین ہوتی ہے
20:15زرخیز زمین ہوتی ہے
20:16وہاں سے ہر چیز فوراں اکتی ہے
20:18جو بنجر زمین ہوتی کیا ہوتا ہے
20:20نہیں اکتی
20:22کوئی چیز نہیں اکتی ہے
20:23چاہے آپ کتنے بیج ڈال دیں
20:24کتنے بیج زمین کھوت کے آپ ڈال دیں
20:27کچھ بھی نہیں ہوگا
20:28یہ جو زمین صحیح نہیں ہوتی
20:29اس میں سے بہت کم اکتا ہے
20:31تو آپ نے برملا یہ آیت کریمہ پڑی آٹھوے پارے کی
20:34اور فرمایا
20:34جس کا ترجمہ یہ ہے
20:37کہ جو پاکیزہ زمین ہوتی ہے نا
20:39یخرجو نباتہو بی اذن ربی
20:42وہ اپنے رب کے حکم سے
20:43بہت زیادہ سبزہ اگاتی ہے
20:45گوئے کہ اشارہ تھا
20:47کہ میری داڑی جو گھنی ہے
20:49اس کا ذکر قرآن کریم میں
20:50اس طریقے سے دیا
20:51اور فرمایا کہ جو بنجل زمین ہوتی ہے
20:54یا جو خراب زمین ہوتی ہے
20:55اس سے نہیں اکتا
20:57اگر اکتا بھی ہے
20:57تو بہت کم اکتا ہے
20:59یہودی نے یہ جواب سنا
21:01تو وہ بلکل مبہوت ہو گیا
21:02اور بلکل لا جواب ہو کر
21:04وہاں سے چلا گیا
21:05اسی طریقے سے آپ کے جو
21:07عظیم الشان فیصلے ہیں
21:09وہ اپنی مثال آپ ہیں
21:10ایک تو میں نے
21:12حضرت فاروق عاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
21:14فیصلے کی مثال دی
21:16اب ایک
21:17آپ کے دور میں ایک معاملہ ہوا
21:19کہ ایک شخص تھا
21:21اس نے اپنے بیٹے کو
21:23اپنے غلام کے ساتھ
21:25کسی اور شہر بھیجا
21:26اچھا اس غلام کے دل میں کوئی بات ہوگی
21:29جب اس شہر میں پہنچے
21:30تو کسی طریقے سے بھی
21:33اس غلام نے
21:34اس لڑکے کو اپنے ماتحط کر لیا
21:36قبضہ کر لیا
21:38کچھ زیادتی کی ہوگی
21:39یہ ظلم کیا ہوگا
21:40مارا پیٹا ہوگا
21:41اور وہاں پر مدعی بن گیا
21:43کہ یہ میرا غلام ہے
21:44یعنی غلام مدعی بن گیا
21:46کہ میں آقا ہوں
21:47یہ میرا غلام ہے
21:48تو اب اس لڑکے نے لوگوں سے کہا
21:50کہ آقا کا بیٹا میں ہوں
21:53غلام یہ ہے
21:54اب فیصلہ کیا ہوا
21:56کہ مولا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروار میں آیا
21:59تو آپ نے پھر کیا فرمایا
22:01آپ ظاہر ہے کہ یہ کوئی معمولی سوال نہیں ہے
22:06معمولی مسئلہ نہیں ہے
22:07تو آپ فیصلہ کس طرح فرمایا
22:09آپ نے فرمایا
22:10کہ دو سوراک کیے جائیں
22:12اور دونوں سوراکوں میں
22:14جو لڑکا ہے اور جو غلام ہے
22:16وہ دونوں اپنا سر جو ہے
22:18اس سوراک میں رکھ دیں
22:19اس سوراک کے باہر رکھ دیں
22:21انہوں نے اسی طرح کیا
22:23آپ نے اپنے غلام سے کہا
22:24تلوار اس کے ہاتھ میں دے کر
22:26کہا کہ غلام کا سر کاٹ دو
22:28اب جیسے ہی آپ نے اپنے غلام سے فرمایا
22:31کمبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا
22:33کہ غلام کا سر کاٹ دو
22:34تو جو اصل غلام تھا
22:36اس نے فورا اپنا سر پیشے کر لیا
22:37تو معاملہ واضح ہو گیا
22:39کہ یہ جھوڑ بول رہا ہے
22:41کہ میں آقا ہوں
22:41اور یہ غلام ہے
22:42اصل تھا کہ وہ غلام
22:43غلام تھا
22:44جو کہ مدعی آقا ہو کر
22:47آیا تھا
22:48کہ جی یہ لڑکا میرا غلام ہے
22:49اس طرح آپ نے فیصلہ فرمایا
22:51اسی طرح
22:51ایک بچے کے متعلق
22:54دو خواتین کا جھگڑا ہوا
22:56اور دونوں خواتین
22:58یہ کلم کر رہی ہیں
22:59کہ جی یہ بچہ میرا ہے
23:02دونوں خواتین کلم کر رہی ہیں
23:03بچہ میرا ہے
23:04اب مجھے بتائیں
23:05کتنا مشکل فیصلہ ہے
23:06کیسے کیا جائے
23:07کیسے معلوم ہو
23:10تو آپ نے اپنے خادم سے فرمایا
23:13کہ ایسا کرو
23:15کہ جو ہے وہ بچے کو
23:17مار دیا جائے
23:19حالانکہ ظاہر ہے
23:20کہ یہ فیصلہ کرنے کے لیے
23:21آپ کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتے تھے
23:24اور ظاہر ہے کہ مارنے کا پرگرام تو نہیں تھا
23:26لیکن آپ نے فیصلہ کرنے کے لیے
23:28کہ بچے کو مار دو
23:29اب جو اصل ماں تھی نا
23:31اس نے کہا کہ
23:33میں اس سے ویڈرو ہوتی ہوں
23:35اب بچے سے کچھ نہ کہیں
23:37بچہ اس خاتون کے حوالے کر دیں
23:39میں ویڈرو ہوتی ہوں
23:40کہ یہ بچہ اس کے حوالے کر دیا جائے
23:42اللہ اکبر
23:43مولا علی سمجھ گئے
23:44رضی اللہ تعالیٰ عنہ
23:45فرمایا
23:45کہ جو عورت ویڈرو ہو رہی ہے نا
23:48زیادہ کے ماں کی ممتع
23:50کیسے برداشت کر سکتی ہے
23:51تو فرمایا کہ
23:52بچہ اس کا ہے
23:53اس کے حوالے کیا جائے
23:54اللہ اکبر
23:56اور اسی طرح
23:57ایک عجیب و غریب واقعہ ہوا
23:59کہ مولا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
24:02کے دور میں
24:03دو
24:04آپس میں دوست ہوں گے
24:06یا ساتھ سفر کرنے والے ہوں
24:07کہیں جا رہے تھے
24:08تو ایک کے پاس پانچ روٹیاں تھی
24:11اور ایک کے پاس تین روٹیاں تھی
24:13اب وہ
24:15راستے میں بھوک محصول سوئی
24:16تو انہیں کہا کھانا کھا لیتے
24:17جب کھانا کھانے کے لیے بیٹھے
24:20تو ایک تیسرا شخص آیا
24:22اسے سلام دعا کی
24:24تو ان لوگوں نے اسے بھی کھانے میں شریک کر لیا
24:27اب جب کھانا کھا چکے
24:29تو وہ شخص آٹھ دراہم ان کو دے کر گیا
24:33اور کہنے لگا کہ یہ آپس میں بانٹ لو
24:35جو میں نے کھانا کھایا ہے
24:36تو یہ آپس میں بانٹ لینا
24:38اب ان کا آپس میں
24:40ڈسپیوٹ ہوا
24:40اختلاف ہوا
24:41کیونکہ جس کی پانچ روٹیاں تھی
24:44اس نے کہا پانچ دراہم میرے
24:45اور تین دراہم آپ کے
24:47تو اس نے کہا نا جی نا جی
24:49یہ تین دراہم میرے نہیں بنتے
24:50میرے بھی زیادہ بنتے
24:52تو اب معاملہ
24:54حضرت مولا علی المتدر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے
24:57دربار میں پہنچا
24:59تو اب معاملہ یہ ہوا
25:01کہ
25:02آپ نے فرمایا کہ
25:06جو شخص
25:07تین دراہم نہیں لے رہا تھا
25:09اس نے فرمایا کہ تین درہم لے لو
25:11تمہارے یہ بنتے نہیں ہیں
25:14تمہارا بنتا ایک درہم ہے
25:16اس نے کہا مجھے سمجھا دیں
25:18اگر میری بات سمجھ میں آ جائے گی آپ کا فیصلہ صحیح ہوا
25:21تو میں مان لوں گا ایک درہم لے لوں گا
25:23تو آپ نے فرمایا کہ
25:24آٹھ روٹیاں تھی
25:25ٹھیک ہے
25:26اور
25:27جو ہے تین بندے تھے
25:30تو آٹھ کو تین سے تقسیم کیا جائے
25:33تو کتنے ٹکڑے ہوئے روٹیوں کے
25:34چوبیس
25:34بات سمجھ میں آ رہی ہے
25:36ملٹی پلائی کیا جائے آٹھ کو تین سے
25:37تو کتنے ہوئے چوبیس
25:39ٹوئنٹی فور
25:39تم بندے کتنے تھے
25:41تو اب ہر ایک نے کتنے ٹکڑے کھائے
25:44ہر ایک نے آٹھ ٹکڑے کھائے
25:48ٹھیک ہے
25:48تو تمہاری تین روٹیاں تھی
25:50تو تین روٹیوں کے نو ٹکڑے ہوئے
25:53آٹھ تو تم کھا گئے
25:55اور باقی ایک ٹکڑا بچا
25:56تو تمہارا ایک درہم بنتا ہے
25:58تو وہ بڑا پچھتایا
26:00اور بالاخر وہ ایک درہم لے کر وہاں سے چلا گیا
26:02اب کہنے کا مقصد یہ
26:04کہ اتنا علم
26:06اور ایسے فتاوہ
26:07اور ایسے
26:09یعنی فیصلے کرنا
26:12کہ جو فیصلہ ہر ایک نہیں کر سکتا
26:14یہ کیوں ہے
26:15اس کی وجہ ہے
26:16اس کی وجہ یہ ہے
26:17کہ مولا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی
26:22یہ انفرادی خصوصیت ہے
26:24کہ آپ نے آنکھ کھولی
26:27تو کسی اور چہرے کو نہیں دیکھا
26:30چہرہ مصطفیٰ دیکھا
26:31صلی اللہ علیہ وسلم
26:33اور میرے مصطفیٰ علیہ السلام نے
26:35چونکہ حضرت ابو طالب کی یہاں آپ تھے
26:37ان کے بیٹے ہیں
26:39سابزادے ہیں
26:39تو ان کے اور اولاد بھی تھی
26:42تو آپ نے مولا علی کو
26:43اپنی کفالت میں لے لیا تھا
26:45تو بشپن سے ہی
26:47مولا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ
26:50نے اگر کوئی چہرہ دیکھا
26:51تو چہرہ مصطفیٰ دیکھا
26:52اگر کسی کی عادتیں سکھیں
26:55تو عاداتیں مصطفیٰ سکھیں
26:57کسی کی عبادت دیکھیں
26:59تو حضور نبی کریم علیہ السلام کی عبادتیں دیکھیں
27:02کسی کا چلنا پھر نہ دیکھا
27:04تو حضور نبی کریم علیہ السلام کا چلنا پھر نہ دیکھا
27:07کسی کو باتیں کرتے ہوئے دیکھا
27:09تو حضور نبی کریم علیہ السلام کو باتیں کرتے ہوئے دیکھا
27:12اور پھر حضور نبی کریم علیہ السلام پر قرآن نازل ہو رہا ہے
27:17تو آپ براہ راست حضور نبی کریم علیہ السلام سے قرآن سیکھ رہے ہیں
27:21یہی وجہ ہے
27:23کہ جب آپ اسلام میں داخل ہوئے
27:26أمستغراف bekommen
27:33رات کے وقت
27:34حضور نبيว کریم His league
27:35اور سيدا خدیجہ
27:38رضی اللہ تعالیٰ
27:39کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا
27:41تو آپ نے پوچھا ہے
27:42تو حضور نبيว کریم His league
27:44نے فرمایا
27:45کہ یہ نماز ہے
27:47ایک اللہ وحدہ لشدیق کی عبادت ہے
27:49اور پھر حضرت مولا علی
27:51اس وقت 8 6 10 سال عمر ہے
27:53تو آپ علیہ السلام نے فرمایا
27:55کہ علی تم بھی اسلام میں داخل ہو جاؤ
27:58تم بھی اس دعوت کو قبول کر لو
27:59تو آپ نے فرمایا
28:01کہ آپ نے ارس کی
28:02کہ مجھے تھوڑا سوچنے کا موقع دیں
28:04اور رات میں آپ گئے
28:06اور صبح صبح آ کر
28:07حضور نبی کریم علیہ السلام کی بارگاہ میں
28:10حاضر ہوئے اور اسلام میں داخل ہو گئے
28:12یعنی 8-10 سال کی عمر میں بھی
28:15سوچنے سمجھنا
28:16سوچنے سمجھنی کی وہ صلاحیت
28:19اور وہ فہم
28:20جو کہ اس عمر میں نہیں ہوتا
28:22لیکن مولا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ کو
28:25حضور نبی کریم علیہ السلام کے فیضان سے
28:28فیضان اقدس سے
28:29اس وقت بھی آپ کی وہ سوچ تھی
28:31وہ فکر تھی اور وہ سمجھ تھی
28:34اور پھر پوری حیات طیبہ
28:36حضور نبی کریم علیہ السلام سے
28:38قرآن کا فیض لیتے رہے
28:40یہی وجہ ہے
28:41کہ جو دسترس
28:42یعنی ہم دیکھیں
28:43کہ اگر آہلِ ذکر جو ہم کہتے ہیں
28:46آہلِ قرآن
28:47اس کا اولین اطلاق
28:49حضور نبی کریم علیہ السلام کے بعد
28:52اولین اطلاق اگر کسی پر ہوتا ہے
28:54کہ آہلِ قرآن میں اولین کون ہیں
28:56تو ہمیں مولا علی المتدر رضی اللہ تعالیٰ نہوں
28:59اس میں نظر آتے ہیں
29:00اور علم کے حوالے سے
29:02آپ نے ایک بڑے
29:03بہت زبدست اقوال آپ کے ہیں
29:06مثال کے طور پر
29:07ایک قل جو بڑا زبدست تھے
29:09اور آپ سب کے لیے
29:11اس میں
29:11جو ہے وہ
29:12ہدایت کا راستہ بھی ہے
29:14اور اس میں آپ کے لیے
29:15یعنی یوں سمجھ لیں
29:17کہ یہ قل ہمیں موٹیویٹ کرتا ہے
29:19آپ نے فرمایا کہ
29:21کسی نے پوچھا
29:22علم اور مال کے متعلق
29:23تو فرمایا کہ
29:24علم جو ہی یہ افضل ہے
29:26یہ مال سے افضل ہے
29:27اب آج کے نوجوان سے کوئی کہے
29:30کہ بھئی مال چاہیے
29:31علم چاہیے
29:31وہ کہے گا
29:32علم بعد میں لے لیں گے پہلے مال دو
29:33آپ کیا فرماتے ہیں
29:35کہ علم افضل ہے
29:36پوچھا کیوں
29:37فرمایا کہ
29:38مال جو ہے
29:39یہ خرش کرنے سے کم ہوتا ہے
29:42علم خرش کرنے سے بڑھتا ہے
29:43اللہ وقبر
29:45ہم دیکھتے ہیں
29:46کہ مال جتنا خرش کیا جائے
29:47کم ہو جاتا ہے
29:48اور علم آپ جتنا پھیلائیں گے
29:50اتنا آپ کا علم بڑھتا رہے گا
29:52دوسرا ایک بڑا زبدس کول ہے
29:54فرماتے ہیں
29:54کہ علم اس لیے افضل ہے
29:56کہ مال اگر آپ کے پاس ہو
29:58تو آپ کو
30:00مال کی حفاظت کرنی پڑتی ہے
30:02لیکن اگر علم آپ کے پاس ہے
30:04تو آپ کو علم کی حفاظت
30:06نہیں کرنی پڑتی
30:07بلکہ علم آپ کی حفاظت کرتا ہے
30:09اللہ وقبر
30:10اور یہ مولا علی رضی اللہ عنہ کے
30:13بے شمار جو فضائل میں سے
30:15ایک بڑی فضیلت علم کے حوالے سے
30:18تو میں نے اس کی کچھ واقعات
30:21اور جو حدیث کریمہ ہیں
30:23وہ میں نے آپ کی خدمت میں ارس کی
30:24اور ہماری دعا ہے
30:26کہ اللہ تبارک و تعالی
30:27مولا علی المرتضاء رضی اللہ عنہ کے
30:30علم کا ایک قطرہ ہمیں بھی عطا فرمائے
30:33اور مولا علی المرتضاء رضی اللہ عنہ کی
30:35ہم سب کو اتباع کرنے کی
30:38توفیق نصیب فرمائے
30:39یہ سارا فیضان مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھا
30:43جو مولا علی المرتضاء رضی اللہ عنہ کو
30:46حاصل ہوا
30:47اللہ تبارک و تعالی
30:48ہم سب کو علم کی رغبت نصیب فرمائے
30:51آمین
30:52وما علیہ
30:53اللہ البلاخ المبین
30:54جی ناظرین و سامعین
30:56اب ہم آتے ہیں
30:57کوسشنز کی طرف
30:58سوالات کی طرف
30:59تو کسی کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو وہ کر سکتے ہیں
31:02السلام علیکم و رحمت اللہ
31:04علیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
31:07میرا نام حافظ حسین منیر ہے
31:09جی ما شاء اللہ
31:10مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے
31:11کہ آپ نے فرمایا
31:12قرآن مجید کے بارے میں
31:14تو آج کے دور میں
31:16کیا ہمیں قرآن مجید سے رہنمائی حاصل ہو سکتی ہے
31:19دیکھیں بڑا اہم کوسشن ہے
31:22قرآن ہمیں نا
31:24زندگی کی ڈیریکشن دیتا ہے
31:27آپ نے پڑھا ہوگا
31:28حدل الناس
31:29حدل المتقین
31:31یہ ہمیں زندگی کی ڈیریکشن دیتا ہے
31:34اور ہمیں زندگی کا مقصد بھی بتاتا ہے
31:37وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبَدُونَ
31:39الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَلَحَيَاتَ لِيَبْلُوَكُمْ
31:42اَيُّكُمْ اَحْسَنُ وَمَلَا
31:43پھر ہمیں یہ قرآن
31:44ذابطہ اخلاق بھی دیتا ہے
31:46پھر یہ قرآن
31:48ہمیں حدود اربعہ
31:49ہمیں باؤنڈریز بھی بتاتا ہے
31:51آپ نے قرآن میں پڑھو گا
31:52اب حافظ صاحب ہے
31:53ماشاء اللہ
31:53اُمَنِيَتَ عَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَائِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
31:56جس نے اللہ کی حدود
31:58باؤنڈریز پھلانگی
31:59تو وہ ظالمین میں سے ہے
32:01کہیں فرمایا کہ
32:03وہ انکار کرنے والوں میں سے ہے
32:04تو اس کا مطلب کیا ہوا
32:06مطلب یہ ہے
32:07کہ قرآن جب ہم مسلمان پیدا ہوئے
32:11ہمارا قرآن پر یقین ہے
32:12ایمان ہے
32:13تو قرآن ہمیں مقصد
32:14زندگی کا مقصد بتا رہا ہے
32:16ذابطہ اخلاق بتا رہا ہے
32:17ہماری باؤنڈریز بتا رہا ہے
32:18اور ساتھ ہی ساتھ
32:19قرآن یہ بھی کہہ رہا ہے
32:20کہ
32:21وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ
32:23وَمَا فِي الْأَوْدِ جَمِعًا مِّن
32:24کہ جو کچھ زمین اور آسمان میں
32:27جو کچھ بھی ہے نا
32:28زمین اور آسمان اور اس کے مابین
32:30اے انسان
32:31ہم نے سب چیزیں تیرے لئے
32:33مسخر کر دی ہیں
32:34تیرے لئے
32:36مسخر کر دی ہیں
32:37پھر دوسرے مقام پر
32:38سورہ نحل میں ہے
32:39وَيَخْلُقُ مَا لَتَعْلَمُونَ
32:42وہ کیا کیا چیزیں پیدا فرمایا گا
32:43جو تم نہیں جانتے
32:44اس کا مطلب کیا ہوا
32:45کہ جو چیزیں بھی ہوں گی
32:48جو چیزیں بھی ہوں گی
32:49آپ اسے اختیار کیجئے
32:50چاہے وہ سائنس کے حوالے سے
32:52آئیٹی کی حوالے سے
32:53دور جدید کے اعتبار کے حوالے سے
32:55دور جدید کے اعتبار سے
32:57جو چیز بھی آپ ہیں
32:59دور جدید کے علوم میں
33:00آپ حاصل کیجئے
33:01آپ ہر ایک کی طرف جائیں
33:02تدقی کی راہوں کی طرف جائیں
33:04لیکن ایک بات یاد رکھیں
33:05قرآن میں یہ بتاتا ہے
33:06کہ اللہ کی حدود کو پھلانگنا نہیں
33:09اللہ و نبی علیہ السلام کی حدود سے
33:11باہر نہیں جانا
33:12اس حدود کے اندر رہتے ہوئے
33:14آپ بالکل ہر قسم کی رانومائی
33:16قرآن کریم ہمیں دیتا ہے
33:18اس حدود سے باہر گئے
33:19تو پھر تباہی اور بربادی ہے
33:21السلام علیکم ورحمت اللہ
33:23علیکم السلام ورحمت اللہ
33:25میرا نام ہے سید علی تلحشہ مشہدی
33:27جیسا کہ آپ نے
33:29ہمارے علم میں اضافہ فرما کر بتایا
33:32کہ تب ویسے تو تمام صحابہ اکرام کا
33:34قرآن مجید کے ساتھ
33:36ایک گہرہ تعلق ہے
33:38لیکن ہم دیکھتے ہیں
33:39آپ نے ہماری اصلاح فرمائی
33:41کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا
33:43قرآن پاک کے ساتھ
33:44ایک گہرہ اور منفرد تعلق نظر آتا ہے
33:46یہ کیوں
33:47اس کی کیا وجہ
33:48یہ بڑے ہی آپ نے اچھا سوال کیا
33:51اس کی خاص وجہ یہ ہے
33:53کہ ایک تو مولا علی المتدر رضی اللہ تعالیٰ
33:56حضور نبی کریم علیہ السلام کے
33:58چچہ ذات بھائی ہیں
33:59ٹھیک ہے
34:00اور جس طرح میں نے درس قرآن میں بھی یہ ارس کیا تھا
34:03کہ حضور نبی کریم علیہ السلام
34:05نے بشپن ہی سے
34:06حضرت ابو طالب سے
34:08آپ کو اپنی کفالت میں لے لیا تھا
34:10تو بشپن سے حضور نبی کریم علیہ السلام کے ساتھ رہے
34:14اب میں کہوں گا
34:15کہ آپ تربیت میں رہے
34:17میرے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی
34:20پرورش میں رہے
34:22میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی
34:24یعنی بشپن ہی سے
34:26آغوش نبوت میں ہے
34:28آقا علیہ السلام کے ساتھ ہیں
34:30ان کی زیر تربیت ہیں
34:32اور جتنی قربت
34:34زائر جو گھر میں ہو
34:35تو جتنی قربت گھر والے کو ہوتی ہے
34:37تو بار والے کو تو وہ قربت نہیں ہوتی
34:39تو آپ کی قربت بشپن سے ہی
34:41میرے نبی علیہ السلام کے ساتھ رہی
34:43تو ظاہر ہے کہ آقا علیہ السلام
34:45پر قرآن نازل بھی ہو رہا ہے
34:47وحیب مبارکہ نازل ہو رہی ہے
34:48اور میرے آقا علیہ السلام آپ کو سکھا رہے ہیں
34:51میں اس کی مثال یوں دیتا ہوں
34:53کہ آپ کسی ایسے عالم دین کے پاس جائیں
34:56جس کو بڑا قرآن کا علم ہے
34:58آپ اس کے پاس جائیں
34:59اس کے پاس کچھ عرصہ بیٹھیں
35:01تو خود بخود آپ کے اندر
35:02ایک تبدیلی چینج آنا شروع ہو جائے گا
35:05آپ کو قرآن کے مطالق معلومات ہونا شروع ہو جائے گی
35:07تو آپ کسی دنیا میں
35:10کسی اچھے عالم دین
35:12کوئی قرآن سے شغف وخنے والا
35:14اس کے پاس بیٹھے
35:15تو آپ کے علم کا یہ عالم ہوتا ہے
35:17تو جو شخصیت
35:19صاحب قرآن کے ساتھ رہی ہو
35:21تو پھر ان کا مقام اور مرتبہ کیا ہوگا
35:23اسی لیے فرمایا نا
35:24اسی صاحب قرآن علیہ السلام نے
35:27کہ بے شخص قرآن علی کے ساتھ ہے
35:33علی قرآن کے ساتھ ہے
35:34دونوں جدا نہیں ہوں گے
35:35یہاں تک کہ حوزے کوسر پر بھی یہ ساتھ آئیں گے
35:38جی کوئی اور سوال کرنا چاہیں تو
35:41السلام علیکم ورحمت اللہ
35:42السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ
35:44نام میرا سوال عارف موتی صاحب ایک سوال تھا
35:47وہ یہ کہ آپ نے ابھی پروایا
35:48قرآن کہتا ہے
35:49فَسَلُوا اَحْلَ ذِكْرِ انْكُنْ تُمْ لَا تَعْلَمُونَ
35:52کہ تم اہلِ علم سے پوچھا
35:53اہلِ ذِكْر سے پوچھا
35:54اگر تم نہیں جانتے
35:54تو دنیاوی علوم میں
35:57یہ دینی علوم
35:57ہم علماء سے پوچھیں گے
35:58اہلِ علم سے
35:59جو دنیاوی علوم میں
36:00کیا وہ فضول ہیں
36:02بے مانہ بے اہمیت ہیں
36:03بڑا سپیشل سوال آپ نے کیا ہے
36:06اور ظاہرے کے دور حاضر کے اعتبار سے بھی سوال ہے یہ
36:10دیکھیں
36:11یاد رکھیں
36:12کہ ہم اگر دیکھیں
36:15ترقی
36:15اس کو دو قسموں میں
36:18اب منقسم کریں
36:19نمبر ایک
36:20تمدنی ارتقاء
36:22تمدنی ارتقاء
36:23یعنی دنیاوی ترقی
36:24اور نمبر دو
36:26روحانی ارتقاء
36:27یعنی روحانی ترقی
36:28اچھا دنیاوی جو ترقی ہوتی ہے
36:31جسے ہم تمدنی ترقی
36:32کہتے ہیں
36:33ارتقاء کہتے ہیں
36:34تو یاد رکھیں
36:35کہ اس کا مدار
36:36عام طور پر
36:38اکثر
36:39ظاہری اور دنیاوی علوم پر ہوتا ہے
36:42مثال کے طور پر
36:44آپ
36:44اگر
36:45سائنس میں کوئی کمال حاصل کرنا چاہتے ہیں
36:48تو سائے دیکھیں آپ دنیاوی علوم حاصل کریں گے
36:50کرنا بھی چاہیے
36:51آج کل ایٹی کا دور ہے
36:52اے آئی کا دور ہے
36:53تو اب وہ علوم حاصل کرنے کے لیے جائیں گے
36:55ٹھیک ہے
36:56تو تمدنی ارتقاء جو ہوتا ہے
36:58اس کا زیادہ تر
37:00جو داروں مدار ہوتا ہے
37:01وہ ظاہری اور دنیاوی علوم پر ہوتا ہے
37:04ایجوکیشن پر ہوتا ہے
37:05دوسری ہوتی ہیں
37:06روحانی ترقی
37:07روحانی ترقی کا جو داروں مدار ہے
37:10وہ دنیاوی علوم پر نہیں ہے
37:12بلکہ وہ کس پر ہے
37:14وہ ریویل نولیج پر ہے
37:16تمدنی ارتقاء
37:18وہ اقوائیڈ نولیج پر تھا
37:19اور یہ جو روحانی ترقی
37:21اس کا مدار
37:22ریویل نولیج منز کیا ہے
37:23کہ وحی الہی
37:25قرآن
37:25قرآن
37:26اور پھر احادیث کریمہ
37:28تو اس کا مدار
37:29ریویل نولیج پر ہے
37:30تو ظاہرے کے دنیاوی ترقی
37:32حاصل کرنا چاہیں
37:33تو اب دنیاوی علوم کی طرف بھی جائیں
37:35لیکن
37:35مسئلہ کیا آتا ہے
37:37کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو
37:38پھلانگنا نہیں ہے
37:39اس سے آگے نہیں بڑھنا
37:41اللہ تعالیٰ کی حدود کو
37:43پامال نہیں کرنا
37:44اور یاد رکھیں
37:45کہ اس کو
37:46بیلنس لے کر چلیں
37:47دنیاوی علوم کو بھی
37:49دینی علوم کو بھی
37:50خرابی کام پر لازم آتی ہے
37:52جب ہم
37:52مس پلیس کرتے ہیں
37:53مثال کے طور پر
37:54کوئی بائیولوجسٹ ہے
37:56تو اس سے آپ جا کر
37:58دینی سوال کریں گے
37:59کوئی دینی مسئلہ پوچھیں گے
38:01تو وہ آپ کو
38:02بائیولوجی کے فرمولے
38:03بتا سکتا ہے
38:04وہ باتیں بتا سکتا ہے
38:05آپ کی صحت کے حوالے سے
38:06بتا سکتا ہے
38:07لیکن وہ دین کے حوالے سے
38:08نہیں بتا سکتا
38:09اسی طریقے سے
38:10آپ کسی کیمسٹ کے
38:11پاس چلے جائیں
38:12تو وہ فرمولے بتائے گا
38:13کچھ اور چیزیں بتائے گا
38:14لیکن وہ آپ کو
38:16دین کا معاملہ نہیں بتا سکتا
38:17اسی طریقے سے
38:18کوئی عالم دین ہے
38:20اس کے پاس آپ جائیں
38:21میتھامیٹک کا مسئلہ پوچھیں
38:23or depression
38:26then you have misplaced
38:27or disbalances
38:52that is a problem.
38:53If you have a problem with this, then you will be able to doctor.
38:55So, which is the field,
38:57which has been balanced.
38:59This problem is not going to be.
39:01But the problem is there, when the problem is disbalance,
39:04then Allah Almighty,
39:05we will have a religion of the world.
39:08And the world of the world of the world,
39:10we will be able to achieve the rightful way.
39:14So, this is our program.
39:16We are in this program.
39:18We will have a time.
39:20we will be in this program for this program and we will be in this program for the
39:27same time and we will be in this program for you.
39:36Nasehahe
39:37As-salamu alaykum wa rahmatullahi wa barakatuh
Be the first to comment