Skip to playerSkip to main content
  • 3 weeks ago
(Bal-e-Jibril-025)

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
معانی: من: دل، باطن۔ ڈوب: گہرائی میں جانا، غور کرنا۔ سراغِ زندگی: زندگی کا راز۔ اپنا: خودی والا، اپنی پہچان رکھنے والا۔
مطلب: علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے کی دعوت دیتے ہیں کہ زندگی کا اصل راز باہر نہیں بلکہ اندر پوشیدہ ہے۔ اگر انسان کسی اور کا نہیں بن سکتا تو کم از کم اپنی خودی کو پہچان کر خود کا سچا بن جائے۔

من کی دنیا! من کی دنیا سوز و مستی، جذب و شوق
تن کی دنیا! تن کی دنیا سُود و سودا، مکر و فن
معانی: سوز: اندرونی درد، عشق کی گرمی۔ مستی: سرور، وجد کی کیفیت۔ جذب: کھنچاؤ، دل کا میلان۔ شوق: چاہت، رغبت۔ تن: جسم، ظاہری وجود۔ سُود و سودا: لین دین، مفاد پرستی۔ مکر: فریب، دھوکہ۔ فن: چالاکی، ہنر۔
مطلب: اقبال اس شعر میں باطن اور ظاہر کی دو دنیاؤں کا فرق واضح کرتے ہیں۔ دل کی دنیا عشق، جذبے اور روحانیت سے بھری ہوتی ہے، جبکہ جسم کی دنیا مفاد، دھوکے اور ظاہری چالاکیوں پر قائم ہوتی ہے۔

من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے، آتا ہے دَھَن جاتا ہے دَھَن
معانی: من کی دولت: باطنی خزانہ، ایمان و یقین، خودی، علم و حکمت۔ تن کی دولت: ظاہری مال و زر اور دنیاوی آسائشیں۔ چھاؤں: عارضی چیز، دیرپا نہ ہونے والی۔ دَھَن: مال، دولت ۔
مطلب: روحانی اور باطنی دولت ایسی ہے جو ایک بار مل جائے تو ہمیشہ باقی رہتی ہے، جبکہ دنیاوی دولت سایہ کی طرح عارضی ہے، جو آتی بھی ہے اور چلی بھی جاتی ہے۔

من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
من کی دنیا میں نہ دیکھے مَیں نے شیخ و برہَمن
معانی: افرنگی کا راج: مغربی اقوام کی حکومت و غلبہ، یورپی تسلط۔ شیخ: مسلمانوں کا مذہبی رہنما۔ برہَمن: ہندو پنڈت، مذہبی پیشوا۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ دل اور روح کی دنیا میں نہ کوئی مغربی غلبہ ہے اور نہ ہی کوئی مذہبی تفریق؛ وہاں نہ قومیت کی حد بندی ہے اور نہ ظاہری مذہبی پیشوائیت—یہ دنیا ہر طرح کی بیرونی تقسیم سے آزاد ہے۔

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تُو جھُکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا نہ تن
معانی: پانی پانی کر گئی: شرمندہ کرگئی، حیران وعاجز کر گئی ۔ قلندر: درویش،بے نیاز صوفی۔غیر: اللہ کے سوا دوسرا، دنیاوی طاقتیں۔ جھکنا: عبادت کرنا، غلامی اختیار کرنا۔ نہ من تیرا نہ تن: نہ دل تیرا رہے گا نہ جسم
مطلب: ایک درویش کی بات نے اقبال کو جھنجھوڑ دیا کہ جب انسان اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے جھک جاتا ہے تو وہ اپنی خودی، آزادی اور وقار کھو دیتا ہے؛ پھر نہ اس کا دل اس کا رہتا ہے اور نہ ہی اس کا وجود۔

Roman:
Apne Mann Mein Doob Kar Pa Ja Suragh-E-Zindagi
Tu Agar Mera Nahin Banta Na Bann, Apna To Bann
Mann Ki Duniya! Mann Ki Dunya Souz-O-Masti, Jazab-O-Shauq
Tann Ki Dunya! Tann Ki Dunya Sood-O-Soda, Maker-O-Fann
Mann Ki Doulat Hath Ati Hai To Phir Jati Nahin
Tann Ki Doulat Chaon Hai, Ata Hai Dhan Jata Hai Dhan
Mann Ki Duniya Mein Na Paya Mein Ne Afrangi Ka Raaj
Man Ki Duniya Mein Na Dekhe, Mein Ne Sheikh-O-Barhaman
Pani Pani Kar Gyi Mujh Ko Qalandar Ki Ye Baat
Tu Jhuka Jab Ghair Ke Agay, Na Mann Tera Na Tann

English:
Descend within yourself—unveil life’s hidden sign,
If you cannot be mine, then at least become thine.
The realm of the soul—ardent with longing and flame,
The realm of the body—of profit, of cunning, of game.
The wealth of the soul, once attained, s
Transcript
00:00اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
00:05تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن
00:09اپنا تو بن
00:11من کی دنیا من کی دنیا سوز و مستی جذب و شوق
00:17تن کی دنیا تن کی دنیا سود و سودا مکر و فن
00:22من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
00:27تن کی دولت چھاؤ ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
00:33من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
00:37من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن
00:44پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
00:48تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن
00:57موسیقی
Comments

Recommended