خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں کہ درویشی بھی عیّاری ہے، سُلطانی بھی عیّاری
معانی: خداوندا: اے اللہ تعالٰی!۔ سادہ دل: بھولے بھالے، صاف دل۔ درویشی : بُزرگی، فقیری۔ عیّاری: دھوکا، فریب چالاکی
مطلب: اے رب کائنات! یہ تیرے سیدھے سادھے1 بندے کدھر جائیں کہ اس زمانے میں تو درویشی بھی دھوکے کے سوا کچھ نہیں اور بادشاہی بھی سراسر دھوکہ فریب ہے ۔دونوں ہی اپنے اپنے کام اور ذمہ داری سے الگ الگ ہو چکے ہیں اور نہ کوئی سیدھے راستے پر ڈالنے والا ہے اور نہ ہی کوئی فلاح و بہبود کے لیے کوشش کرنے والا ہے۔
مجھے تہذیبِ حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی کہ ظاہر میں تو آزادی ہے، باطن میں گرفتاری
معانی: تہذیبِ حاضر: موجودہ دور کا رہن سہن مراد یورپی انداز ۔ ظاہر میں: مراد نظر آنے میں۔ باطن میں: مراد حقیقت میں۔ گرفتاری: غلامی
مطلب: اس عہد کی تہذیب نے مجھے جو آزادی بخشی ہے وہ دیکھنے میں تو آزادی ہے اصل میں باطن کو تباہ کر دینے والی ہے کیونکہ یہ آزادی ایمان اور اخلاق کی پابندی سے بھی آزاد کر دینے والی اور یہ دین سے بیزارکر دینے والی ہے۔
تُو اے مولائے یثرِبؐ! آپ میری چارہسازی کر مِری دانش ہے افرنگی، مرا ایماں ہے زُناّری
معانی: مولائے یثربؐ:حضور ﷺ کی ذات با برکات۔ چارہ سازی:علاج کرنا۔ دانش: عقل، دانائی ۔ افرنگی: یورپی، مغربی ۔ زنّاری:کافروں کے طور طریقے والا
مطلب: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ ہی میرا علاج فرمائیے کہ میں نے جو علم حاصل کیا ہے وہ یورپی ہے اور میرا ایمان ایسا ہے جس میں کافروں جیسے طور طریقے ہیں مراد ہے کہ مسلمان جس انداز کو اپنائے ہوئے ہیں وہ ایک بیماری ہے جس کا علاج ضروری ہے اور وہ علاج حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ہی کیا جاسکتاہے۔
Be the first to comment