Skip to playerSkip to main content
(Bal-e-Jibril-006) Kya Ishq Aik Zindagi-e-Musta‘ar Ka (What avails love when life is so ephemeral)

کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا
کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا
معانی: عشق: شدید محبت۔ زندگیِ مستعار: عارضی زندگی، ادھار کی زندگی۔پائدار: ہمیشہ رہنے والا (اشارہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف)۔ ناپائدار: عارضی، ختم ہونے والا (اشارہ مخلوق/دنیا/انسان کی طرف)۔
مطلب: اس غزل کے پہلے شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ حیات انسانی عارضی اور فنا ہونے والی ہے اسے اس ذات مطلق سے عشق کا حوصلہ کیسے ہو سکتا ہے جو ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔

وہ عشق جس کی شمع بُجھا دے اجل کی پھُونک
اُس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا
معانی: شمع: روشنی۔ اجل: موت۔ پُھونک: سانس، ہلکی ہوا۔ تپش: گرمی، جلنے کی شدت۔ انتظار: دیدار کی آس میں بےقراری۔
مطلب: وہ عشق جو فنا کے ایک تھپیڑے کا بھی متحمل نہ ہو سکے اس میں ہجر کی تپش اور انتظار میں جو اضطرابی کیفیت ہوتی ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔

میری بساط کیا ہے، تب و تابِ یک نفَس
شُعلے سے بےمحل ہے اُلجھنا شرار کا
معانی: بساط: حیثیت۔ تب و تاب: بے چینی، جوش۔ یک نفس: ایک لمحہ، بہت تھوڑا وقت۔ شعلہ: آگ کا بلند شعلہ۔ بےمحل: بے موقع، نامناسب۔ شرار: چنگاری، آگ کا چھوٹا ذرہ۔
مطلب: میں اپنے وجود میں ایک ایسے ستارے کے مانند ہوں جو لمحے بھر کے لیے چمک دکھا کر غائب ہو جاتا ہے ۔ مجھ سا ایک ادنیٰ انسان اس کے حضور عشق کی جسارت کیسے ہو سکتی ہے جو پوری کائنات پر ہر طرح کی قدرت رکھتا ہے ۔

کر پہلے مجھ کو زندگیِ جاوداں عطا
پھر ذوق و شوق دیکھ دلِ بےقرار کا
معانی: زندگیِ جاوداں: ہمیشہ کی زندگی۔ عطا: دینا، بخشنا۔ذوق و شوق: خواہش اور جذبہ، دلچسپی۔ دلِ بےقرار: بے چین دل، مضطرب دل۔
مطلب: خداوندا! اگر میرا حوصلہ اور شوق وارفتگی دیکھنا ہے تو ایسی طویل عمر عطا کر جس میں فنا کا تصور بھی موجود نہ ہو ۔

کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہو
یا رب، وہ درد جس کی کسک لازوال ہو!
معانی: کانٹا: نوک دار چیز مراد تڑپ ۔ کھٹک: چبھن، تکلیف کا احساس۔ لازوال: ہمیشہ رہنے والی۔کسک: ہلکی چبھن، اندرونی درد۔ لازوال: ایک ہمیشہ رہنے والی۔
مطلب: اے میرے معبود میرے دل کو وہ خلش عطا کر جو ہمیشہ برقرار رہ سکے اور ایسا درد دے جس کی کسک لازوال ہو ۔

شرح (اسرارزیدی)

Kya Ishq Aik Zindagi-e-Musta‘ar Ka
Kya Ishq Paidar Se Na-Paidar Ka
What worth is love bound to a borrowed, fleeting life?
What worth is mortal love for the One who is eternal?

Woh Ishq Jis Ki Shama Bujha De Ajal Ki Phoonk
Uss Mein Maza Nahin Tapish-o-Intizaar Ka
The love whose flame is quenched by death’s faint breath,
Knows neither passion’s fire nor longing’s ache.

Meri Bisaat Kya Hai, Tab-o-Taab-e-Yak Nafas
Shole Se Be-mehal Hai Ulajhna Sharaar Ka
What am I—no more than a spark, alive for a single breath,
A spark contending with a flame is but misplaced and vain.

Kar Pehle Mujh Ko Zindagi Javidan Ata
Phir Zauq-o-Shauq Dekh Dil-e-Beqarar Ka
First grant me life that knows no end,
Then witness the fervor of this restless heart.

Kanta Woh De Ke Jis Ki Khatak La-zawal Ho
Ya Rab! Woh Dard Jis Ki Kasak La-zawal Ho
Grant me a thorn whose sting shall never fade,
O Lord, a pain whose ache remains forever.

~ Dr. Allama Muhammad Iqbal

#Iqbaliyat #Poetry #Urdu #Ishq #Love #Ishq-e-Haqeeqi #AllamaIqbal #AkhriPaigham

Category

📚
Learning
Transcript
00:00کیا عشق ایک زندگی مستعار کا
00:04کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا
00:08وہ عشق جس کی شمہ بجھادے اجل کی پھونک
00:13اس میں مزا نہیں تپشو انتظار کا
00:19میری بسات کیا ہے تبو تاو یک نفس
00:23شولے سے بے محل ہے علجنا شرار کا
00:28کر پہلے مجھ کو زندگی جاویدان آتا
00:32پھر ذوق و شوق دیکھ دل بے قرار کا
00:38کانٹا وہ دیکھ جس کی کھٹک لا زوال ہو
00:43یارب وہ درد جس کی کسک لا زوال ہو
00:57موسیقی
00:58موسیقی
Comments

Recommended