What begins as inspiration must end as transformation, for Ishq knows no end. "عشق سراپا دوام، جس میں نہیں رفت و بود"
#2025 #AllamaIqbal #AakhriPaigham
Poetry (Used in Video):
اقبالؔ بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے گفتارکا یہ غازی تو بنا،کردار کا غازی بن نہ سکا
شکوہِ عید کا منکر نہیں ہوں مَیں، لیکن قبولِ حق ہیں فقط مردِ حُر کی تکبیریں
یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو اُخُوّت کا بیاں ہو جا، محبّت کی زباں ہو جا
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے نظّارۂ دیرینہ زمانے کو دِکھا دے اے مصطفَوی خاک میں اس بُت کو ملا دے!
خدا نصیب کرے ہِند کے اماموں کو وہ سجدہ جس میں ہے مِلّت کی زندگی کا پیام!
نِگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
تھا جو ’ناخُوب، بتدریج وہی ’خُوب‘ ہُوا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ
بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بِینا
لیکن مجھے پیدا کیا اُس دیس میں تُو نے جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند!
وہ کون سا آدم ہے کہ تُو جس کا ہے معبود وہ آدمِ خاکی کہ جو ہے زیرِ سماوات؟ مشرق کے خداوند سفیدانِ فرنگی مغرب کے خداوند درخشندہ فِلِزّات یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہُنر ہے حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات رعنائیِ تعمیر میں، رونق میں، صفا میں گِرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جُوا ہے سُود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات یہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبُّر، یہ حکومت پیتے ہیں لہُو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات بے کاری و عُریانی و مے خواری و اِفلاس کیا کم ہیں فرنگی مَدنِیّت کے فتوحات وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم حد اُس کے کمالات کی ہے برق و بخارات ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت احساسِ مروّت کو کُچل دیتے ہیں آلات تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات کب ڈُوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟ دُنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات!
Be the first to comment