- 3 minutes ago
- #aryqtv
- #islam
- #hazratameerkhusraura
Hazrat Ameer Khusrau RA - Special Talk Show - 7 April 2026 - ARY Qtv
Host: Dr. Sarwar Hussain Naqshbandi
Guest: Mufti Ghulam Yaseen Nizami, Syed Muhammad Zainul Abdeen
#aryqtv #islam #HazratAmeerKhusrauRA
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Host: Dr. Sarwar Hussain Naqshbandi
Guest: Mufti Ghulam Yaseen Nizami, Syed Muhammad Zainul Abdeen
#aryqtv #islam #HazratAmeerKhusrauRA
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:27بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30دل بود شب جائے کہ من بودم
00:33رقیبہ گوش بر آواز او در ناز و من ترسا
00:38سخن گفتن چمشکل بود شب جائے کہ من بودم
00:44خدا خود میر مجلس بود اندر لا مکان خسرو
00:50محمد صلی اللہ علیہ وسلم
00:52شم میں ما فی البود شب جائے کہ من بودم
00:57یہ ایسا کلام ہے یہ ایسے اشار ہیں
00:59جو ہمارے دلوں کے تار چھیڑ دیتے ہیں
01:03جو ہماری کیفیتوں کو دوچند کر دیتے ہیں
01:06اور اشار کے اندر جو کیفیت ہوتی ہے
01:09میں اکثر یہ ذکر کرتا ہوں
01:10کہ وہ صاحب کلام کی کیفیات ان لفظوں کے اندر اتر آتی ہیں
01:15اور کچھ لفظ ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہو جاتے ہیں
01:18وہی لفظ ہوتے ہیں لیکن جب لفظ صاحب حال کے ذہن پر اترتے ہیں
01:23اور اس کے کلم سے نکلتے ہیں
01:24تو وہ زندہ و جاوید ہو جاتے ہیں
01:26آج ہم ذکر کر رہے ہیں توتی ہند کا لقب جن کو ملا
01:31اور مرشد کریم جن کو ترک شہزادہ کہا کرتے تھے
01:35حضرت امیر خسرو رحمت اللہ علیہ
01:37جن کا نام آتے ہی دل کے تار جو ہے وہ بجنا شروع ہو جاتے ہیں
01:41ایک موسیقیت جو ہے وہ مزاج میں
01:43کیفیت میں
01:44ذہن میں
01:45فکر میں
01:45دل میں
01:46روح میں
01:46اترتے ہوئی
01:47محسوس ہوتی ہے
01:49حضرت امیر خسرو رحمت اللہ علیہ کے حوالے سے
01:52آج کی یہ خصوصی نشس
01:53اور میں آپ کا مزمان ڈاکٹر
01:55سرور حسین نقشبندی
01:57حاضر خدمت ہوں
01:58ہمارے ساتھ
01:59مہمان تشریف فرما ہے
02:00جن سے
02:01ہم
02:02حضرت امیر خسرو رحمت اللہ علیہ کی شخصیت کے حوالے سے
02:05ان کے کلام کے حوالے سے
02:07ان کی زندگی کے حوالے سے
02:09ان کی
02:10کیفیات اور اثرات کے حوالے سے
02:12ذکر کریں گے انشاءاللہ
02:13ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
02:15بہت محترم جناب مفتی غلام یاسین نظامی صاحب
02:19خوش آمدیت کہتے ہیں جناب
02:20بہت شکریہ آپ کے تشریف آوری کا
02:22اور نوجوان سکولر آستانہ علیہ خان و حرنی شریف سے
02:27سید محمد زین العابدین صاحب
02:29ہمارے ساتھ موجود ہیں
02:30آپ کو بھی خوش آمدیت کہتے ہیں
02:32چشتی اور نظامی موجود ہیں
02:34آج کے اس پروگرام میں
02:35اور ایک ترک شہزادہ جس کو حضرت
02:38اور شیخ کہا کرتے تھے
02:39جن کو توتی ہند
02:40توتی ہندوستان کہا جاتا ہے
02:43اور آج بھی ان کا نام ان کا کلام
02:45ہمارے دلوں کو ترو تازہ کر دیتا ہے
02:47حضرت امیر خسرو رحمت اللہ علیہ
02:49سب سے پہلے ان کا جو خاندانی پس منظر ہے
02:52وہ بڑی اہمیت کا حمل ہوتا ہے
02:54کہ جس محول سے تربیت ہوتی ہے
02:58پروان چڑھتا ہے
02:59انسان کا بچپن جہاں گزرتا ہے
03:00والدین کا جو محول ہوتا ہے
03:03گھر کا خاص طور پر
03:04وہ بہت اثر انداز ہوتا ہے
03:06تو ولادت کا زمانہ
03:07اور ان کا خاندانی پس منظر
03:09اس سے آغاز فرمائے
03:10بسم اللہ الرحمن الرحیم
03:12بہت بہت شکریہ
03:14پہلی بات تو یہ ہے
03:16کہ حضرت سیدنا امیر خسرو
03:19جب بھی سیدنا نظام پاک کا
03:22خاجہ نظام پاک کا ذکر ہوگا
03:24امیر خسرو کا ذکر ضرور ہوتا رہا ہے
03:28تو یہ ایک فیضان ہے
03:30جو سیدنا امیر خسرو کو
03:32اللہ کی طرف سے عطا ہوا ہے
03:35اور یہ ایک ایسا فیضان ہے
03:37جو رہتی دنیا تک
03:39ہمیشہ برقرار رہے گا
03:41اور اگر ہم ان کے خاندانی پس منظر
03:44کو دیکھیں ان کا خاندان
03:45جو ہے وہ
03:46ترکن نسل ہے
03:48ترکوں سے تعلق رکھتا ہے
03:49ما براؤن نہر کے ساتھ
03:51ان کا تعلق ہے
03:52اور ان کے خاندان
03:53ان کے والدے محترم
03:55ان کی والدہ
03:56عبادت و ریاضت کے پیکر تھے
03:58یہاں تھا کہ ان کے نانا جان
04:00وہ بھی سوم و صلاحات کے بڑے پابند تھے
04:02دین کے ساتھ ان کا خصوصی شغف تھا
04:06اور دین کی تعلیمات کا پرچار کرنا
04:09یہ ان کا شیوہ تھا
04:10اور وہ اس بات کو پسند کیا کرتے تھے
04:13اور اسی طرح ان کے خاندان کی
04:15ایک خصوصیت یہ بھی ہے
04:16کہ یہ خاندان جو ہے
04:17یہ بڑا مجاہدانہ کردار جو ہے
04:20وہ ادا کیا کرتا تھا
04:21اور جہاد کے ساتھ ان کو خصوصی لگاؤ تھا
04:25اور اسی طرح جہاد سے وبستہ
04:27جتنی بھی چیزیں ہیں
04:28تمام چیزوں میں یہ رغبت رکھا کرتے تھے
04:32اور ان کی تعلیم و تربیت میں
04:34یہ بات شامل تھی
04:35کہ اپنے خانوادے کے اندر
04:37جو بھی بچہ ہوتا تھا
04:38اس کو اس طرح کی تعلیمات سے
04:40واقفیت جو ہے وہ ضرور دلایا کرتے تھے
04:43اور یہ بھی ان کے خاندان کا طورہ امتیاز ہے
04:46کہ نبی معظم شفیع مکرم کی
04:48ذات بابرقات کے ساتھ ان کی والیہنہ محبت تھی
04:51اور یہ وہ خاندانی اوصاف ہیں
04:53یہ وہ خاندانی وراثت ہے
04:55کہ جو آپ کی ذات بابرقات میں منتقل ہوئی
04:59ساتویں صدی ہجری
05:00اور اگر دیکھا جائے
05:02اسویں کے اندر تیرمی صدی ہجری
05:04کے اندر آپ کی ولادت باس آدھت ہوتی ہے
05:06تو بطور گھٹی سننا تھی مبارکہ ہے
05:09بطور گھٹی کے لیے
05:10آپ کو اس علاقے میں ایک مجذوب تھے
05:12ان کے پاس لائیا جاتا ہے
05:14وہ آپ کو دیکھتے ہیں
05:16تو دیکھ کر کہتے ہیں
05:17کہ یہ بچہ خاقانی
05:19جو ایران کے ایک بڑے معروف
05:21اور مشہور درویش تھے
05:22اس مجذوب نے اس بچے کو دیکھا
05:25تو دیکھ کر کہنے لگے
05:26کہ یہ بچہ مقام اور مرتبے میں
05:29اس سے بھی آگے جائے گا
05:31تو یہ مجذوب کی جو پیشن گوئی تھی
05:34وہ حرف بحرف ثابت ہوئی
05:35صاحبان نظر کی نظر میں شکل سے ہی آگئے
05:38ماشاء اللہ
05:39وہ صاحب فضل بھی تھے
05:40صاحب بسارت بھی تھے
05:42اور صاحب بصیرت بھی تھے
05:43اور یہ تمام کے تمام
05:45ان اوصاف جن کا اظہار انہوں نے کیا تھا
05:48ہم دیکھتے ہیں
05:49کہ حضرت خاجہ
05:50امیر خسرو جو ہے نا
05:52امیر خسرو ان کی ذات بابرقات کے اندر
05:54بدرجہ اتم دکھائی دیتے ہیں
05:56آپ کی شخصیت کے جو اوصاف ہیں
05:58ان میں سے جس وصف کو بھی لے لیجئے
06:01آپ اس وصف میں
06:02ید طولہ کی حیثیت رکھتے ہیں
06:04آپ کے زمانے کے اندر دکھا جائے
06:06جو بھی وصف ہے
06:08ہم تو یہ کہتے ہیں
06:09کہ ان کے اوصاف کو بیان کرنا
06:10میں یہاں پر یہ کہوں گا
06:12کہ ان کے اوصاف میں سے
06:13ایک وصف کو دوسرے وصف پر ترجیح دینا بھی
06:16ہمارے لئے
06:16بڑا مشکل دکھائی دیتا ہے
06:18ہم ان کے کس وصف کو بیان کریں
06:20ہر وصف کے اندر
06:22اللہ تعالیٰ نے ان کو
06:23وہ فیضان عطا فرمایا
06:25جس کا زمانے کے اندر
06:26تصور بھی نہیں کیا جا سکتا
06:28تو یہ ان کے خاندان تھے
06:30یہ پھر وہاں سے
06:31ہجرت کر کے
06:32یہاں پر تشریف لے آئے
06:33اور آپ کی ولادت با سعادت
06:35یہ یوپی میں ہوتی ہے
06:36کوٹ مومن آباد
06:37وہ علاقہ ہے
06:39اس علاقے کے اندر
06:39آپ کی ولادت با سعادت ہوتی ہے
06:41تو آپ کی ولادت با سعادت پر
06:43آپ کی والدہ
06:44اور آپ کے والدہ
06:45بڑی خوشی اور مسررت
06:46کا اظہار کرتی ہے
06:47کہ اللہ پاک نے
06:48ہمیں اس شہزادے سے نوازا ہے
06:50جس کا آپ نے
06:50اپنے انٹروں کے اندر
06:51ذکر فرمایا
06:52حضرت خاجہ نظام پاک
06:53ان کو ترک شہزادے کے لقب
06:55سے یاد فرمایا کرتے ہیں
06:56بلکل ٹھیک
06:57بلکل ٹھیک
06:57اچھا ولادت کا ذکر
07:00جو ہے وہ اپنا
07:00مفتی صاحب نے فرمایا
07:02تو آپ کی خدمت میں
07:03حاضر ہوتے ہوئے
07:05جو ابتدائی حالات
07:06ہوتے ہیں
07:07وہ بھی
07:07ظاہر ہے کہ
07:08بچے کی تربیت پر
07:09بہت اثر انداز ہوتے ہیں
07:10اور پھر اس محول میں
07:12جو تعلیم و تربیت
07:13اس کی پروان چڑھتی ہے
07:15وہ بھی اس کے شخصی
07:17مزاج میں
07:18مکمل
07:19اس کا آئینہ ہوتی ہے
07:20کہ اس کے آگے جا کر
07:21اس کا اظہار
07:22اس کی شخصیت میں ہوتا ہے
07:23تو حضرت امیر خسرو رحمت اللہ علی کی
07:25جو تعلیم و تربیت ہے
07:27اس کے حوالے سے
07:28کچھ آپ فرمائیے
07:29ابتدائی حالات
07:30بسم اللہ الرحمن الرحیم
07:31بہت شکریہ
07:32آپ نے جو سوال کیا ہے
07:34اس پہ اگر ہم نظر ڈالیں
07:35تو بہرحال ایسے ہی ہے
07:37کہ تعلیم و تربیت
07:38بچے کی
07:39جو بنیاد ہے
07:40وہ کس طرح سے
07:41رکھی جا رہی ہے
07:42اس قدر بڑا نام
07:43تو یقیناً
07:44ان کی تعلیم و تربیت
07:45اور ابتدائی حالات جو ہیں
07:46ان پر نظر ہونا
07:47بہت ضروری ہے
07:48کہ اس طرح کے بچے
07:49جو کہ
07:50جن کی ولادت سے پہلے ہی
07:51حضرت نے بھی جیسے کہا
07:53ایک اور بزرگ کا
07:54جو ان کے والد
07:55گرامی سے ملاقات ہوئی
07:56تو انہوں نے
07:56ان کو یہ خوشخبری دی
07:58اور بتایا
07:58کہ تم ایک ایسے
08:00بچے کے والد ہو
08:01والد بنو گے
08:02کہ جو
08:04بلبل سے زیادہ شیری ہوگا
08:06بلبل کا آپ کو پتہ ہے
08:08کہ اس کی شیری لسانی
08:09اس کا چرچہ ہے
08:10تو ان کے
08:11اس بزرگ نے
08:12ان کے والد کو
08:13پہلے سے یہ خوشخبری دی
08:14تو اس قدر بڑا نام
08:16حضرت امیر خستو
08:17جو کہ آج بھی
08:18کئی صدیوں بعد بھی
08:19اس طرح روشن نام ہے
08:20تو یقیناً
08:21ان کے حالات
08:22اور وہ واقعات
08:23جو ہیں
08:23وہ ابتدائی معاملات ہیں
08:24وہ یقیناً
08:25بڑی اچھے خوش
08:25اسلوبی سے ادا کیے گئے ہوں گے
08:27تو دیکھا جائے
08:28تو آپ
08:29رحمت اللہ تعالیٰ
08:30اپنے والد کے ساتھ
08:31جب عجرت
08:32آپ کی ہو گئی
08:33آپ کے والد کی
08:34تو جیسے بتایا گیا
08:35کہ اتر پردیش میں
08:36آپ کی ولادت ہوئی
08:37پٹیالی میں
08:39وہاں سے
08:39چھ سال کی عمر
08:40آپ کی تھی
08:41جب آپ
08:41دیلی میں آگئے
08:42آپ کے نانا
08:44نواب
08:44اماد الملک
08:45ان کا نام تھا
08:46اور بہت
08:46عظیم شخصیت تھے
08:47اپنے دور کی
08:48عالم شخصیت تھے
08:49اور
08:50دیفنس منسٹری
08:50ان کے پاس تھی
08:51اس وقت کی
08:52تو ان کے پاس آکر
08:54ٹھہرے
08:54وہاں پر ان کی
08:55تربیت میں رہے
08:56سات سال کی عمر میں
08:57آپ کے والد
08:58گرامی کا انتقال ہو گیا
08:59یتینی اس وقت میں ملی
09:00تو اس کے بعد
09:02آپ نے
09:02نانا کے پاس رہے
09:03تربیت ان سے لی
09:04علم ان سے حاصل کیا
09:06اور
09:07اس وقت میں
09:07آپ نے
09:08تقریباً
09:09چار سے پانچ
09:09زبانوں پر
09:10عبور حاصل کیا
09:11آپ کے نانا نے
09:12فارسی سکھائی
09:13عربی سکھائی
09:14ترکی زبان سکھائی
09:16اور سنسکرت
09:17جو اس وقت میں
09:18بولی جاتی تھی
09:18وہ اور بھوج پوری
09:19جو آج کے دور کی
09:20بھوج پوری
09:21وہ بھی سکھائی گئی
09:22تب ہی تو
09:23تمام اوقات کے
09:25بادشاہ جو تھے
09:25انہوں نے
09:26آپ کو
09:27اپنے درباروں میں
09:27رکھا
09:28کیونکہ وہ
09:28خود تو
09:29دوسرے علاقوں سے
09:29آئے ہوئے تھے
09:30تو انہوں نے
09:31آپ کو
09:31اپنے پاس رکھا
09:32تاکہ
09:32ان کی
09:33کمیونکیشن کے
09:34معاملات
09:34وہ ان کے ذریعہ
09:35آسانی سے ہوتے رہیں
09:36اور
09:36یہ بات میں
09:37اس میں
09:38ایڈ کرنا چاہوں گا
09:39کہ جب خواجہ صاحب
09:40جب حضرت امیر خسرو
09:42دیلی میں
09:43تشریف لائے
09:43تو آپ کے
09:44نانا کے گھر میں
09:45خواجہ نظام الدین
09:46وہیں تشریف فرماتے
09:47چونکہ آپ کے
09:48نانا ان کے
09:49مرید تھے
09:50تو حضرت اماد الملک
09:52ان کے گھر میں
09:53خواجہ نظام پاک
09:54تشریف فرماتے
09:55ان کی تربیت میں
09:56رہے
09:56حضرت امیر خسرو
09:57اور ان سے
09:58علم حاصل کیا
09:59ان سے تربیت حاصل کی
10:00اور تربیت پھر
10:01ایسی حاصل ہوئی
10:03روحانی طور پر
10:04دیکھا جائے
10:04تو جیسا کہ
10:05آپ نے ذکر کیا
10:06کہ ان کو
10:06ترک شہزادہ
10:07بھی کہا کرتے تھے
10:08اور ترک اللہ
10:09بھی کہا کرتے تھے
10:10تو ایک دن
10:11آپ بیٹھے ہوئے تھے
10:12تو آپ نے
10:13کیفیت پوچھی
10:13کہ اے ترک اللہ
10:15کیا کیفیت ہے
10:16تو آپ
10:17عرض گزار ہوئے
10:18کہ حضور
10:19آپ کی دعا برکت سے
10:21رات کے آخری حصے میں
10:23اکثر
10:24آہو بکا
10:24اور گریہ زاری رہتی ہے
10:26گریہ و زاری رہتی ہے
10:27اور اسی عالم میں
10:28تحجد کے وقت میں
10:30قرآن پاک کے ساتھ
10:32سپارے پڑ جاتا ہوں
10:33تحجد میں
10:34ساتھ ساتھ
10:34سپارے پڑ جانے
10:35تو یہ حضرت خواجہ
10:37نظام پاک کی
10:37تربیت اور صحبت
10:38کا اثر تھا
10:39جس کا اتنا فیض ہوا
10:41کہ اس عمر میں
10:42نو عمری میں
10:42آپ نے ایسی تربیت
10:44حاصل کی
10:44کہ روحانی مقامات
10:45کو بھی تیہ کیا
10:46اور آٹھ سال کی عمر میں
10:48تربیت ایسے ملی
10:49کہ آٹھ سال کی عمر سے
10:50آپ شیر کہنا شروع ہو گئے تھے
10:51اور پھر آگے کا
10:52سلسلہ وہ سب کے سامنے
10:53بلکل ٹھیک
10:54اچھا مفتی صاحب
10:55یہ بہت
10:56حضرت عمری خسرو
10:57رحمت اللہ علیہ کی
10:58زندگی کا
10:59ایک بہت اہم پہلو ہے
11:00کہ جب آپ
11:02شاہی دربار سے
11:03وابستہ ہو جاتے ہیں
11:04کسی بھی نسبت سے
11:05کسی بھی حوالے سے
11:06تو آپ کی ظاہر ہے
11:07کہ ایک شخصیت
11:09کا ایک
11:10ایسا پہلو سامنے آتا ہے
11:11کہ پھر آپ
11:12کم از کم روحانیت کی طرف
11:14تو مائل ہونا
11:14مشکل ہو جاتا ہے
11:15تو یہ جو حسین
11:16امتزاج ہے
11:17کہ شاہی دربار سے
11:18بلکہ تین
11:20جو بڑے بادشاہ ہیں
11:21ان کا ذکر ملتا ہے
11:22کہ جہاں پہ آپ
11:23موجود رہے
11:24لیکن اس کے بعد
11:24حضرت خاجہ نظام الدین
11:26علیہ کے ساتھ
11:26جو آپ کی
11:27نسبت ہے
11:28جو آپ کی محبت ہے
11:29اور یہ روحانیت کا
11:31اور شاہی دربار کا
11:32جو امتزاج
11:33اس کو
11:33ساتھ ساتھ
11:35لے کر چلنا
11:36پیرلل
11:36اور پھر
11:37روحانی اعتبار سے
11:38اپنے آپ کو
11:39زیادہ متبر
11:41ثابت کرنا
11:41معاشرے میں
11:42اس کا مقام
11:43و مرتبہ ہونا
11:43اس کو کیسے دیکھتے ہیں
11:45کیولا ڈاکٹر صاحب
11:46پہلی بات تو یہ ہے
11:47کہ ان کا
11:48اصل نام
11:48جو ہے وہ
11:49دیکھا جائے
11:50ان کی کنیت
11:51جو ہے وہ
11:52ابو الحسن ہے
11:53اور اسی کنیت
11:54سے یہ معروف ہیں
11:55اور دوسرے نمبر پر
11:56یہ جو امیر خسرو ہے نا
11:58اس نام میں
11:59بڑی حکمت ہے
12:00امیر کہتے ہیں
12:01بادشاہ کو
12:02اور خسرو بھی
12:03کہتے ہیں بادشاہ کو
12:04یعنی آپ کی
12:06جو صفات ہے
12:07آپ اپنی صفات میں
12:08بادشاہ تھے
12:09سبحان اللہ
12:10اور اسی طرح
12:11جو فن ہے
12:12علم شعر
12:13علم شعر کا
12:14کوئی ایسا فن نہیں ہے
12:15کہ جس میں آپ نے
12:16ید طولہ حاصل نہ کیا ہو
12:17اور ہر فن میں
12:19آپ امیر خسرو تھے
12:20سبحان اللہ
12:21اپنے زمانے کے بادشاہ تھے
12:22ایک تو ہمیں
12:23اس پہلو کو بھی
12:24اپنے سامنے رکھنا چاہیے
12:25اور جو آپ نے
12:26بڑی خوبصورت بات کی ہے
12:28ایک تو یہ ہے
12:29کہ بادشاہوں کے ساتھ
12:30تعلق جو ہے
12:31کموں بیش
12:32آٹھ بادشاہوں کے ساتھ
12:33آپ وبستہ رہے ہیں
12:34اور بادشاہوں کے ساتھ
12:36تعلق رکھنا
12:37یہ ان کی خاندانی
12:38جو ہے نا
12:39ان کے اباؤ اجداد
12:40کیونکہ ان کا تعلق تھا
12:41ان کے تعلق کی وجہ سے
12:43یہ بھی بادشاہوں کے ساتھ
12:44اپنا تعلق جو ہے
12:45وہ رکھا کرتے تھے
12:46کیونکہ ان کے والد محترم
12:48سعید الملک
12:48وہ بھی بادشاہوں کے ساتھ
12:50وبستہ تھے
12:50یعنی کہ نانا جان
12:51وہ بھی بادشاہ
12:52تو ایک تو یہ
12:53خاندانی طور پر
12:54کیونکہ یہ سلسلہ
12:55اسی طرح تھا
12:56اور دوسرے نمبر پر یہ تھا
12:58کہ یہ سمجھتا کرتے تھے
12:59کہ بادشاہوں کے
13:00اصلاح کرنا
13:01بہت زیادہ ضروری ہے
13:02یہ بہت امپورٹنٹ بات
13:03آپ نے کی ہے
13:04اور میں یہاں پر روکوں گا
13:05کہ بادشاہوں کی اصلاح کرنا
13:07بہت ضروری ہے
13:08لیکن وہ اسی صورت میں
13:09ہو سکتی ہے
13:10کہ حضرت امیر خسرو
13:11جیسے لوگ
13:12بادشاہوں کے درباروں کے
13:14قریب ہوں
13:14تو پھر ہی ان کی تربیت
13:15ہو سکتی
13:16اس پہ بات کرتے ہیں
13:16ایک چھوٹے سے
13:17وقفے کے بعد
13:18جناظرین خوش آمدیت
13:19کہتے ہیں
13:20وقفے کے بعد
13:20آپ کو پرگرام دیکھ رہے ہیں
13:21آپ آج خصوصی
13:22نشست حضرت امیر خسرو
13:24رحمت اللہ علیہ
13:26جن کو
13:26ابو الحسن یمین الدین
13:28جن کا پورا
13:29جو ہے وہ نام نامی
13:30اور اس میں گرامی ہے
13:31اور امیر خسرو
13:32کے حوالے سے
13:33ان کو جانا جاتا ہے
13:34ایک بہت امپورٹنٹ
13:35سوال بریک پہ جانے سے
13:36اور میں نے
13:37وہیں پہ روکا تھا
13:37مفتی صاحب کو
13:38اور ان کا کہنا تھا
13:39کہ بادشاہوں کی
13:40تربیت کے لیے
13:41ایسے لوگوں کا
13:42موجود ہونا
13:43ضروری ہوتا ہے
13:44جناب وہیں سے
13:45کنٹینئو کی جائے
13:46ایک تو یہ ہے نا
13:47کہ یہ جو
13:48سلسلہ چشتیا ہے
13:49اس کا ایک امتیازی
13:51وصف یہ بھی ہے
13:51کہ یہ بادشاہوں سے
13:53ہمیشہ دور رہا کرتے تھے
13:55حضرت
13:56جو
13:57ایک بادشاہ تھے
13:58انہوں نے کہا
13:58کہ میں نا
13:59حضرت خاجہ
14:00نظام پاک سے
14:01ملاقات کرنا چاہتا ہوں
14:02اس حوالے سے
14:03انہوں نے
14:04حضرت امیر خسرو سے کہا
14:05کہ آپ میری نا
14:06ان سے ملاقات کروا دیجئے
14:08تو آپ نے فرمایا
14:09ٹھیک ہے
14:09اب جب یہ والی بات
14:11جو ہے وہ حضرت خاجہ
14:12نظام پاک کو بتائی گئی
14:14تو آپ اس وقت
14:15ہجرت کر کے
14:16دوسری علاقے تشریف لے گئے
14:17ٹھیک
14:17تو جب وہ بادشاہ
14:19اگلے دن
14:19ملاقات کے لئے آیا
14:20تو انہوں نے
14:21حضرت امیر خسرو سے پوچھا
14:22کہ جناب یہ کیا معاملہ ہے
14:23انہوں نے کہا
14:24بڑا خوبصورت جواب
14:25انہوں نے کہا
14:26دیکھیں
14:26آپ کی بات کو
14:28میں اگر عمل کرتا
14:29اور میں وہ بات
14:31جو ہے وہ آگے
14:31جو میں نے پہنچائی ہے
14:32آپ کی بات پر
14:34عمل نہ کرنے کا
14:35حکم عدلی کرنے کا
14:36مجھے نقصان یہ ہوتا
14:37کہ میں اپنی جان سے
14:39ہاتھ دو بیٹھتا
14:39لیکن جو پیرو مرشد ہے
14:41اگر میں اس کے حکم عدلی کرتا
14:43تو میں اپنے ایمان سے ہاتھ دو
14:44آپ دیکھیں
14:46اتنی فکر اور اتنا خیال
14:48جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا
14:50قدم قدم پر
14:51آپ نے ایمان کی حفاظت
14:54کا ہمیں درست دیا ہے
14:54اور یہ والی بات
14:55جو بادشاہوں کے ساتھ
14:56نسبت رکھنے کے
14:58آپ بادشاہوں کے قصائد
14:59جو ہیں وہ بھی
15:00بیان فرمایا کرتے تھے
15:02اور یہ بھی ہے
15:03صرف مدہ سرائی نہیں
15:04آپ ان کے اوپر تنقید بھی
15:06کیا کرتے تھے
15:07ان کی اصلاح کا معاملہ
15:08جو ہے وہ بھی رکھا کرتے تھے
15:10اور یہی وجہ ہے
15:11کہ بادشاہ وقت جو ہے
15:12آٹھ بادشاہوں کا وقت
15:13تو پھر ان کے شہزادوں کا وقت
15:15وہ شہزادے بھی آپ کے پاس
15:17جو ہے وہ تعلیم و تربیت
15:18کے لیے آیا کرتے تھے
15:19اور یہ والی بات
15:20بڑی خوبصورت بات ہے
15:21وہ بادشاہ جو تھے
15:23ان کو آپ کی ذات پر
15:24اتنا کامل یقین تھا
15:25انہوں نے کہا
15:26کہ ہمارے بچوں کی
15:27اگر تعلیم و تربیت
15:28کوئی کر سکتا ہے
15:29تو وہ حضرت امیر خسرو کر سکتا
15:31کیا کہنے
15:31اور حضرت امیر خسرو نے
15:33ان بادشاہوں کو
15:34عدب سکھایا ہے
15:35ان بادشاہوں کو
15:37فضل سکھایا ہے
15:38ان بادشاہوں کو
15:39جو اللہ کے مقربین ہیں
15:41ان کی بارگاہوں میں
15:42جانے کا طریقہ
15:43اور سلکہ سکھایا ہے
15:44یہی وہ مقصد ہے
15:45جس مقصد کے پیشے نظر
15:46جو ہے وہ آپ
15:47ان کے ساتھ رہا کرتے تھے
15:48اور آپ
15:49بڑا یہ والا جو کردار ہے
15:51وہ بڑا مجاہدانہ کردار ہے
15:52حضرت شاکھ سادی فرماتی ہیں
15:54کہ بادشاہوں کی قربت
15:55یہ بھی ٹھیک نہیں ہوتی
15:56اور بادشاہوں کی دوری
15:58یہ بھی ٹھیک نہیں ہوتی
15:59یہ دونوں کے دونوں معاملات تھے
16:01یعنی اس قربت کی اندر دیکھا جائے
16:03تو معاملہ یہ تھا
16:04کہ پل سرات پر چلنے والا معاملہ تھا
16:06لیکن حضرت خضرت امیر خسرو نے
16:08اس معاملے کو
16:09احسن طریقے کے ساتھ ادا کر کے
16:10ان بادشاہوں کی تعلیم و تربیت
16:13کا احتمام بھی فرمایا
16:14اور ساتھ ہی ساتھ
16:15ان تعلیم و تربیت کے ذریعے
16:17آپ نے معاشرے کے اندر
16:19اصلاح کا جو ایک رویہ تھا
16:21وہ بھی آپ نے معاشرے کے اندر
16:23پیدا فرمایا
16:23ذریعی سی باتیں
16:24ہمارا دین کہتا ہے
16:25کہ اگر بادشاہ جو ہیں
16:26وہ صحیح راستے پر ہوں گی
16:28تو ان کی دیکھا دیکھی ریایہ بھی
16:29راہ راست پر آئے گی
16:31یہی وہ ایک اصول تھا
16:32کہ جس اصول کے بیشے نظر
16:34جو ہے وہ آپ بادشاہوں کے پاس
16:35راہ کرتے تھے
16:36اور بادشاہوں کے پاس
16:37رہنے کی ایک تیسری وجہ یہ تھی
16:39تاکہ ان بادشاہوں کا تعلق
16:41جو ہے وہ اللہ والوں کے ساتھ
16:42مضبوط بنایا جا سکے
16:43اور آپ ہمیشہ
16:44حضرت خاجہ نظام پاک کا ذکر کیا کرتے تھے
16:47حضرت خاجہ مہین الدین
16:48چشتی اجمیری کا ذکر کیا کرتے تھے
16:49اور ان بادشاہوں کو رغبت دلایا کرتے تھے
16:52آپ کی یہ جو سلطنت چل رہی ہے
16:54یہ مت سمجھیں
16:55کہ یہ آپ کی وجہ سے چل رہی ہے
16:57یہ سلطنت جو چل رہی ہے
16:58یہ اللہ والوں کی وجہ سے
17:00تو یہی وہ اصول ہے
17:01کہ جن اصولوں کی وجہ سے
17:03آپ بادشاہوں کی قربت کو پسند فرمایا کرتے تھے
17:05بالکل ٹھیک
17:06اچھا شاہ صاحب یہ جو
17:08پہلو جہاں تک ہم گفتگو کرتے ہوئے پہنچے ہیں
17:10اور ان کے کلام تک آگئے ہیں
17:12کہ جس میں بادشاہوں کے درباروں کے ساتھ
17:15آپ کی جو فہم و فراست سیدھ تھی
17:18اور آپ کی جو دانش و بینش تھی
17:19آپ کا جو زبانوں پر عبور تھا
17:21وہ بھی ظاہر ہے کہ ایک وجہ تھی
17:23اس کے ساتھ آپ کی شائری جو ہے
17:24وہ بھی اس زمانے میں جو شعرات تھے
17:28وہ درباروں کے ساتھ وابستہ ہوتے تھے
17:30اور ابھی یہ ذکر کر رہتے
17:32تو ان کے جو کلام کی خصوصیات ہیں
17:34وہ ہمیں جاننے کی بڑی ضرورت ہے
17:36اور جب ہی جو کلام میں نے پیش کیا
17:38آغاز میں انٹرو میں
17:39اور وہ تو میرا خیال ہے
17:41قوالی کی کوئی محفل اور قوالی
17:43سننے والا کوئی ایسا نہیں ہے
17:45جس نے نمی دانم چے منزل بود
17:47شب جائے کے من بودم
17:48یہ جو کیفیات سے معمور شائری ہے
17:52اور ان کیفیات میں پھر حال
17:55کہ جو منظر نامیں ہیں
17:56ان کو بھی انہوں نے اپنی شائری کے اندر
17:58سمو دیا ہے
17:59تو کس طرح دیکھتے ہیں
18:00حضرت امیر خوشرو کی شائری کو
18:02اس کے اثرات کو اور اس کی خصوصیات کو
18:05جی جناب اگر اس کو دیکھا جائے
18:07تو ڈاکٹر صاحب آپ دیکھئے
18:09کہ ان کی شائری کی جو خصوصیات ہیں
18:12اس میں خاص طور پر دیکھا جائے
18:14تو ایک تو آپ کو
18:16توتیہ ہند کہا گیا
18:17وہ ایسے نہیں کہا گیا
18:19اور آپ کو سلطان الشعراء کہا گیا
18:21یہ مقام
18:22کہ اشار کہنے والے بڑے بڑے گزرے ہیں
18:25لیکن جس لیگیسی کو وہ لے کر چلے ہیں
18:28جو سلسلہ وہ لے کر چلے ہیں شائری کا
18:30وہ بہت اور کم لوگوں نے
18:32اس چیز کو سرہا ہے
18:33اور اس کام کو آگے لے کر چلیں
18:35تو آپ رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
18:38توتیہ ہند
18:39سلطان الشعراء
18:41اور دیکھا جائے
18:42میں نے جیسے ارز کیا
18:43کہ آٹھ سال کی عمر ہے
18:44اور شیر کہہ رہے ہیں
18:45اور کلاس میں
18:47جہاں پر پڑھتے تھے
18:48وہاں پر جب شیر کہا
18:50تو چونکہ وہ ایسا دور تھا
18:51جس میں لوگوں کی رغبت ہوا کرتی تھی
18:53شیر اور شائری سے
18:54تو استاد نے جب سنا
18:56تو اس کو یقین نہیں آیا
18:57کہ اس عمر میں
18:58اتنا پختہ شیر بھی کہا جا سکتا ہے
19:00اور عالم یہ ہے
19:02کہ اٹھارہ برس کی عمر ہے
19:03اور آپ کا پہلا مجموعہ
19:05جو چھپ چکا تھا
19:07اور اس کو آپ نے
19:08لوگوں میں شائع کر دیا
19:10اس کو
19:11توفت اس صغر کے نام سے
19:12یاد کیا جاتا ہے
19:13آج بھی
19:13اٹھارہ برس کی عمر میں
19:15ایک مجموعہ آ جانا
19:16اور بڑے بڑے
19:17لغت کے جو ماہرین تھے
19:19وہ اس دور میں موجود تھے
19:20تو یہ بڑا فضل تھا
19:22اور مرشد کی نگاہ تھی
19:23اگر دیکھا جائے
19:25آپ خود فرماتے ہیں
19:27کہ میری زبان میں
19:28شیرینی نہیں تھی
19:30جو کہ بلبل والا معاملہ
19:32میں نے پہلے بھی عرض کیا
19:33تو چونکہ خاجہ صاحب کے ہاں
19:34رہا کرتے تھے
19:35تو ایک دن حضور خاجہ صاحب
19:37کی بارگاہ میں حاضر تھے
19:38خدمت میں حاضر تھے
19:39تو عرض گزار ہوئے
19:41کہ حضور دعا فرمائیں
19:42کہ میری زبان میں
19:44شیرینی آ جائے
19:45شیر میں مٹھاس آ جائے
19:46مٹھاس لوگوں کے دلوں میں
19:48اترتی ہے میٹھا شیر ہو تو
19:49تو آپ مسکرائے
19:51آپ نے فرمایا
19:52کہ وہ ہمارے پلنگ کے نیچے
19:53وہ ایک تشت ہے
19:54جس میں شکر دھری ہوئی ہے
19:56تو اسے لے کر آؤ
19:57اور جتنے آپ کی محفل میں لوگ تھے
19:59فرمایا
19:59سب میں تقسیم کرو
20:01پہلے لوگوں میں تقسیم کروایا
20:03یہ چشتیوں کا ایک خاصہ ہے
20:05کہ لنگر جو ہے
20:06ان کے ساتھ خاص طور پر
20:07منسلک ہے
20:08تو آپ نے
20:09سب میں تقسیم فرمایا
20:10حکم فرمایا
20:10کہ آخر میں خود بھی کھا لیں
20:13تو حضرت
20:13امیر خسرو فرماتے ہیں
20:15کہ جب
20:15میں نے سب میں
20:16وہ شیرینی تقسیم کی
20:18وہ شکر تقسیم کی
20:19اور آخر میں خود کھا لیا
20:20آپ کے حکم سے
20:22خواجہ صاحب کی حکم سے
20:23تو کہتے ہیں
20:23کہ اس کے بعد
20:24اس سے پہلے جو میں شیر کہتا تھا
20:26اس میں شیرینی نہیں تھی
20:27وہ مٹھاس نہیں تھی
20:28لیکن حضرت کی حکم سے
20:29اور آپ کی دعا سے
20:30وہ شکر کھانے کے بعد
20:32میرے اشار میں جو شیرینی آئی
20:34وہ سب کے سامنے
20:34سبحان اللہ
20:35اور آپ کا عالم یہ تھا
20:37شیر کہنے کا
20:37شائری میں مقام یہ تھا
20:40کہ برجستہ شیر کہا کرتے تھے
20:42حضرت خواجہ نظام پاک کا
20:44وہ معاملہ کے جب
20:46روایت ہے
20:46کہ ایک پہاڑی پر کھڑے ہوئے تھے
20:48دیلی چونکہ مرکزی شہر تھا
20:50تو دیکھا کہ
20:51مختلف مذاہب کے لوگ
20:53اپنی اپنی عبادات کے لیے
20:55اپنی اپنی قبلہ گاہوں میں جا رہے ہیں
20:57تو آپ نے احران ہوتے ہوئے
20:59دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا
21:00کہ ہر قوم راست راہے
21:02دین و قبلہ گاہے
21:05کہ ہر قوم نے اپنا اپنے
21:06کوئی صرات مستقیم چنا ہوا ہے
21:08کوئی سیدھا رستہ بنایا ہوا ہے
21:10اور اپنا دین اس پر عمل کر رہے ہیں
21:12اور قبلہ گاہ بنائی ہوئی ہے
21:13تو آپ نے فوراں برجستہ
21:16اس وقت خواجہ صاحب
21:17جب پہاڑی پر کھڑے ہوئے تھے
21:19تو آپ کا جو کلہ تھا
21:20وہ تھوڑا ٹیڑا تھا
21:22تو آپ نے فوراں دیکھتے ہوئے
21:24ارز کی
21:25آپ نے یہ فرمایا
21:26کہ ہر قوم راست راہے
21:27دین و قبلہ گاہے
21:29ارز کی
21:29من قبلہ راست کردم
21:31برسمت کج کلاہے
21:33ہمارا قبلہ و کعبہ
21:35تو آپ کا یہ کج کلاہ
21:36جو آپ کا ٹیڑا کلاہ ہے
21:37یہی ہمارا قبلہ ہے
21:39تو یہ مرشد سے
21:40ایک محبت اور برجستگی
21:42شیر کہنے کی
21:43یہ آپ کی طبیعت میں تھی یہ چیز
21:44تو یہی سلسلہ
21:46آپ کا پوری زندگی میں رہا
21:48کہ شیر آپ اس طرح سے
21:49محفل میں بیٹھے ہوتے تھے
21:50تو شاعری اس طرح سے
21:51آپ کی آیا کرتی تھی
21:52تو لوگوں نے فخر کیا
21:53آپ کی شیر سننے کے لیے
21:56ایک آپ کا مجموعہ ہے
21:57مطلع الانوار کے نام سے
21:59اس میں آپ کے
22:01تین ہزار تین سو دس اشاعر ہیں
22:04اور تاریخ میں لکھا گیا
22:06کہ آپ نے صرف پندرہ دنوں میں
22:07یہ مجموعہ شاہر
22:08اور اس دور میں
22:10آپ جس مختلف بادشاہ
22:12جیسا فرمایا
22:13کہ مختلف بادشاہوں کے عدوار
22:14آپ نے دیکھے
22:15تو ایک بادشاہ کے دور میں
22:18آپ کو یہ کہا گیا
22:19کہ آپ نے روزانہ
22:21جب شام کو مجلس ہوگی
22:22روزانہ نئی غزل کہنی ہے
22:24اور چھے سال کا
22:26اس حاکم کا دور رہا
22:28تو چھے سال روزانہ
22:30حضرت امیر خسرو
22:32ایک نئی غزل کہا کرتے تھے
22:33تو یہ آپ کا مقام ہے
22:35سبحان اللہ
22:35جو کہ آج پوری دنیا
22:38مفتی صاحب یہ شائری پہ بات کی
22:39شاہ صاحب نے بہت اچھی
22:40اور بہت جامع
22:41اس کا ایک نقشہ جو ہے وہ پیش کیا
22:45اور دیگر جو آپ کی تصنیف ہیں
22:47اور خاص طور پر آپ کی جو
22:49کریشن کی ایک صلاحیت ہے
22:50جیسے آپ نے ذکر کیا
22:51کہ زبانوں پر آپ کو عبور تھا
22:53تو آپ نے فارسی ہندی اور ترکی
22:56کے امتزاج سے
22:57ایک نئے جو تخلیق ہے
23:01بہر کی طرزوں کی
23:02اور اس کے اوپر بھی آپ نے کام کیا
23:04پھر جو آپ کی دیگر تصنیف ہیں
23:06ان کے جو موضوعات ہیں
23:07ان پر جو آپ کا کام ہے
23:09اس کے حوالے سے بھی
23:10ہمارے ناظرین اس سے ضرور
23:12انکیل میں ہونا چاہیے
23:13ڈاکٹر صاحب ایک بات تو یہ ہے
23:15کہ جو اس وقت کی رائے
23:17جتنی بھی زبانیں تھیں
23:19ایک روایت کے اندر یہ بیان کیا جاتا ہے
23:21کہ آپ کو بارہ زبانوں پر
23:23مکمل دسترہ ساصل تھی
23:26اور یہ جو آپ کا
23:27القاب ہے جس طرح کہ قبلہ پیر صاحب
23:29نے بیان فرمایا
23:30یہ شکر مقال ہے
23:33آپ کے القابات میں سے شکر مقال
23:35آپ جب گفتگو فرمایا کرتے تھے
23:38اس میں اتنی حلاوت اور
23:39مٹھاس تھی
23:40جس کے کانوں پر پڑتی نہ
23:42وہ وہیں پر رک جاتا تھا
23:44اور وہ آپ کے گفتگو کو سنے بغیر آگے نہیں جایا کرتا تھا
23:49اور قبلہ ڈاکٹر صاحب
23:50یہ الگ بات ہے
23:51سمجھ آئے یا نہ آئے
23:53لیکن جو الفاظ آپ کے کانوں پر پڑتے ہیں
23:56وہ جناب وہ دماغ کے راستے
23:58ہوتے ہوئے دل کے راستے پر جاتے ہیں
24:00اور دل کو جو اتمنان اور سکون کی دولت ملتی ہے
24:03لوگ کہا کرتے تھے
24:04جناب آپ گفتگو کرتے رہیں
24:06اور ہم بیٹھ کر دینا وہ اپنے سروں کو دھنتے رہیں
24:09یہ آنم تھا
24:11اور دیکھیں ان کی شیر و شاعری کے حوالے سے
24:13جس طرح کہ غالب نے ان کی بارگاہ میں
24:16اپنا نظرانہ عقیدت پیش کی آئے
24:18تو کیا کہا جا سکتا ہے
24:19اب غالب جیسا شاعری جو ہے وہ ان کے بارے میں کہا کرتا ہے
24:22کہ جتنی بھی بڑے بڑے
24:24ہمارے قدیم شوراہ ہیں
24:26نظیری ہیں عرفی ہیں
24:27اگر ان کی شیروں کی اگر کوئی امین ہیں
24:31تو وہ حضرت امیر خسرو ہے
24:32ان کی بارگاہ میں
24:34اپنی عقیدتوں اور محبتوں کے ساتھ
24:36یعنی ان کے کلام تک ہماری دسترس نہیں ہے
24:39لیکن یہ وہ شاعر ہیں
24:41کہ اپنے زمانے کے اندر
24:43اس جیسا شاعر جو ہے وہ پورے
24:45برہ سغیر کے اندر دوبارہ پیدا
24:47نہیں ہو سکتا
24:47یہ وہ مقام اور مرتبہ ہے
24:49اور کبھیلہ ڈاکٹر صاحب
24:50آپ کی شیر و شاعری کے حوالے سے
24:52ہمیں اس
24:52آپ جن جو کتابیں لکھی ہیں
24:54کتابوں کے حوالے سے یہ ہے
24:55ایک روایت تو یہ ہے
24:57کہ آپ کے کتابوں کی تعداد بانوے ہے
24:59اور ایک روایت یہ ہے
25:00کہ آپ کے کتابوں کی تعداد دو سو ہے
25:02آپ نے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں
25:05اور اس کے اندر یہ ہے
25:06کہ اسلاح معاشرہ کا پہلو بھی
25:08آپ نے پیش نظر رکھا ہے
25:10یہ بہت امپورڈنٹ آپ نے بات کی ہے
25:12کہ شاعر جو ہے
25:13اس کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے
25:15کہ اگر وہ دیگر کام بھی کرتا ہے
25:16تو اسلاح معاشرہ کی ذمہ داری
25:18کو بھی پورا کریں
25:19ناظرین اکرام
25:20یہ میسیج بھی ہے
25:21ہمارے آج کے
25:22اس دور کے
25:23شاعروں کے لیے
25:24جس پر ہم بزید تھوڑی سی بات کرتے ہیں
25:26ایک چھوٹے سے وقفے کا
25:27جی ناظرین خوش آمدیت کہتے ہیں
25:28وقفے کے بعد آپ کو
25:29حضرت امیر خسرو رحمت اللہ علیہ
25:31ابو الحسن یمین الدین
25:33رحمت اللہ علیہ کے حوالے سے
25:34آج ہم گفتگو کر رہے ہیں
25:36اور ان کے ذکر میں
25:37کتنی چاشنی ہے
25:39کہ خود ہم اس کے اندر
25:41اس کی قیفیت میں
25:42ڈوٹتے ہوئے اپنے آپ کو
25:43محسوس کر رہے ہیں
25:44تصانیف کا ذکر کیا جا رہا تھا
25:46اور اس شاعری اور دیگر
25:48جو آپ کی کتابیں ہیں
25:50اس کے اندر جو
25:51اسلاح معاشرہ کا پہلو
25:52انہوں نے مد نظر رکھا
25:53اور اس کو نہ صرف یہ کہ
25:55مد نظر رکھا
25:56بلکہ اس کے ذریعے سے
25:58لوگوں کی اپنے
25:59قریب والوں کی
26:00دور والوں کی
26:01اسلاح کی کوشش کی
26:02اس پہ ہم بات کر رہے تھے
26:03اور عفتی صاحب وہیں سے
26:05ذرا کنٹینو پلیس
26:05جی بالکل ایسی ہے
26:07کہ آپ کی شعر و شاعری
26:08کا ایک پہلو یہ بھی ہے
26:09کہ آپ نے اس میں
26:10اسلاح معاشرہ کو
26:11پیش نظر رکھا ہے
26:13آپ جس معاشرے میں
26:15جس مقام پر رہا کرتے تھے
26:17وہاں پر دیگر مذہب سے
26:18تعلق رکھنے والے لوگ بھی تھے
26:20اور آپ نے ان کی
26:21اسلاح کا بیڑا بھی اٹھایا ہے
26:22اور اسی اسلاح کے پیش نظر
26:25ان لوگوں کو دین میں
26:26داخل کیا ہے
26:27اور یہ بہت بڑی
26:28ذمہ داری ہے
26:29شاعر تو ہوتا ہی وہی ہے
26:31کہ جو معاشرے کے
26:32جو اہم پہلو ہیں
26:33کہ جن میں معاشرے کی
26:35اسلاح ہو سکے
26:35جس طرح کی آپ نے بھی
26:36بیان فرمایا
26:37وہ لوگوں کے سامنے
26:38بیان کرتا ہے
26:39اور آپ نے
26:40دیکھا جائے
26:41آپ نے قصائد کو
26:42بیان کیا ہے
26:43آپ نے دیوان لکھیں ہیں
26:44آپ نے مسلمیاں لکھیں ہیں
26:46اور آپ کی اشعار کے
26:47تعداد مختلف روایات ہیں
26:49بعضوں نے کہا ہے
26:50کہ کم از کم
26:51چار لاکھ کے قریب
26:52آپ نے اشعار
26:53جو ہیں وہ کہیں ہیں
26:54اور اس میں یہ ہے
26:55کہ بارگاہ رسالت
26:57ماب میں
26:57اپنی عقیدت اور
26:58محبتوں کا نظرانہ
26:59بھی پیش کیا ہے
27:00جس طرح کہ آپ نے
27:01اپنے انٹروں کے اندر
27:02ایک شیر ہی
27:03ان کی عظمت کے لیے
27:03کافی ہے
27:04کہ جو انہوں نے
27:04بارگاہ رسالت ماب میں
27:06اپنی عقیدت اور محبت
27:08کا اظہار
27:08جن الفاظ میں کیا ہے
27:09اور یقین جانے
27:19لائلہ اور مجنوع
27:20کے قصائد
27:21وہ بھی آپ نے
27:21بیان کیا ہے
27:22اور ساتھ ہی ساتھ
27:23یہ ہے کہ آپ نے
27:24اپنے پیر و مرشد
27:25کے ملفوضات
27:25کو بھی بیان کیا ہے
27:26اور وہ ملفوضات
27:27جو ہیں وہ ہماری
27:28ہدایت اور ہماری
27:29رہنمائی کا ذریعہ ہے
27:30اور کیونکہ
27:31داکٹر صاحب آخری
27:32بات یہ ہے
27:32آپ اس بات کا
27:33ہمیں درس دیتے ہیں
27:34کہ اگر آپ
27:35فیض پانا چاہتے ہیں
27:36نا پھر آپ کو
27:37اپنے پیر و مرشد
27:38کے ساتھ خالص
27:39ہونا پڑے گا
27:40جب تک آپ
27:41اپنے پیر و مرشد
27:42کے ساتھ خالص
27:43نہیں ہوگے
27:43تب تک آپ کو
27:44فیض آصل نہیں ہوگا
27:45فیض سے مراد کیا ہے
27:46فیض سے مراد ہے
27:48فیض ربانی
27:49یہ فیض ربانی
27:50کہلاتا کیا ہے
27:51آپ میں جو بھی
27:52کمالات ہیں
27:52آپ میں جو بھی
27:53خصوصیات ہیں
27:55وہ تمام کی
27:55تمام خصوصیات
27:56جو اللہ پاک کی ذات
27:57آپ کو وضیعت فرماتی ہے
27:59وہ آپ کے پیر و مرشد
28:00کی بارگاہ کے
28:01توصر سے عطا فرماتی ہے
28:02یہی وجہ ہے
28:03کہ یہ فیضان
28:05کا سلسلہ
28:05زندگی میں بھی
28:06جاری رہا
28:06اور زندگی کے بعد
28:07بھی یہ جاری ہے
28:08آج بھی حضرت
28:09امیر خسرو کی
28:10درگاہ پر
28:11اگر کسی کو
28:11جانے کا موقع ملے
28:12حضرت خاجہ
28:13نظام پاک کے
28:14قدموں میں
28:15ان کا مدفن
28:15جو ہے
28:16وہ ہماری
28:16اس بات کی طرف
28:17رہنمائی کر رہا ہے
28:18کہ جو پیر و مرشد
28:19کے ساتھ
28:20مخلص ہو جاتا ہے
28:21پر تا قیامت
28:22ان کے قبر پر
28:23انوار و تجلیات
28:24کا نزول ہوتا ہے
28:25کیا بات
28:25سبحان اللہ
28:26سبحان اللہ
28:27اچھا شاہ صاحب
28:28یہ جو تعلق ہے
28:29مرشد کے ساتھ
28:30اور حضرت خاجہ
28:31نظام الدین
28:32علیہ رحمت اللہ
28:33علیہ کے ساتھ
28:34جو ان کا
28:34ایک تعلق ہے
28:36یہ بہت اہمیت
28:36کا حامل
28:37اور ان کی زندگی
28:38کا بنیادی
28:38اگر محور
28:39اور مرکز
28:40اس کو کہا جائے
28:41تو اس میں کوئی
28:41شک و شبہ کی
28:43گنجائش نہیں ہے
28:51علم پہنچنا چاہیے
28:52اور وہ مشہور
28:53واقعہ ہے
28:53کہ قوالوں کو
28:55جو حضرت خاجہ
28:56نظام الدین
28:57نے اپنی جو
28:58نالین تھے
28:59عطا کیے
28:59توفے کے طور پر
29:00اور وہ بڑے پریشان تھے
29:02کہ ہم تو
29:02مال و دولت
29:03لینے آئے تھے
29:04تو یہ ہمیں
29:05کیا مل گیا ہے
29:05اور حضرت امیر خسرو
29:07جو ہے وہ آ رہے تھے
29:08کافلے کی تجارت
29:09کا منافع لے کر
29:10اور قوالوں سے
29:11جب سنا کہ
29:12جی ہمیں تو یہ
29:12حضرت نے دیا
29:13یہ کسی کام
29:14بھی نہیں آنے والی
29:14تو آپ نے
29:16وہ لے کر
29:16سر پہ رکھی
29:17اور سارے کا
29:17سارا جو منافع تھا
29:18اس مال سے
29:20تجارت سے آیا
29:20وہ ان کو دے دیا
29:22اور پھر
29:22جب حضرت خاجہ
29:24نظام الدین
29:24علیہ نے پوچھا
29:25کہ کتنا منافع ہوا ہے
29:27اس دفعہ
29:28انہوں نے کہا
29:28کہ حضور
29:29اس دفعہ جو منافع ہوا ہے
29:30وہ اس کی تو
29:31ساری زندگی میں
29:32مثال نہیں ملتی
29:33تو یہ جو تعلق ہے
29:34مرشد کے ساتھ
29:35اور اس کا
29:36بنیادی مرکز
29:37نظر آتا ہے
29:37ان کی زندگی میں
29:38اس کے حوالے سے
29:38کچھ فرمائیے
29:39جی ڈاکٹر صاحب
29:40یہ بڑی اچھی بات ہے
29:41کہ جیسا کہ
29:42مفتی صاحب نے بھی
29:43فرمایا
29:44کہ مرشد اور مرید
29:46کا جو ایک تعلق ہے
29:48ایک مرید ہے
29:49اس کی تو چاہت ہے
29:50مرشد کے ساتھ
29:51وہ اپنی محبت
29:53کا اظہار کرتا رہتا ہے
29:54گاہے بگاہے
29:54لیکن شرف کی بات یہ ہے
29:56کہ مرشد بھی
29:58اس سے اتنا ہی پیار کرے
29:59بہت خور
29:59اتنی محبت دے
30:00اور اس تعلق میں
30:01دیکھا جائے
30:02تو جیسے میں نے ارز کیا
30:03کہ کم سنی سے
30:04آپ خواجہ صاحب کی
30:05صحبت کا فیض لیتے رہے
30:07تو اسی طرح
30:08جس طرح آپ کی
30:09محبت تھی
30:10آپ کی عقیدت تھی
30:11اس سے بڑھ کر
30:12خواجہ صاحب نے
30:13محبت فرمائی
30:14اس سے بڑھ کر
30:15پیار فرمایا
30:15اس میں مرید کے
30:17اخلاص بھی تو ہوتا ہے
30:18کتنا
30:19جتنا زیادہ
30:20اخلاص ہوگا
30:20اتنی زیادہ
30:21محبت آگے سے ملے گی
30:22اور یہ
30:23بتایا جاتا ہے
30:25کہ حضرت کی
30:25جب محفل سجی ہوتی
30:26خواجہ نظام پاک کی
30:27تو خسرو آ جاتے
30:29تو سب سے
30:29قریب جگہ دیا کرتے
30:31کیونکہ طلب
30:31اتنی زیادہ تھی
30:32خواہش اتنی زیادہ تھی
30:33کہ اتنا قرب ملے
30:34تو یہ طلب کے
30:36اعتبار سے ہی ہے
30:36اور آپ کا یہ فرمان
30:38خواجہ صاحب کا
30:39کہ
30:40اے خسرو
30:41جب میں جنت میں
30:42جاؤں گا
30:43تو تمہیں ساتھ
30:44لے کر جاؤں گا
30:44تو یہ بہت بڑی
30:45سند ہے
30:46حضرت خواجہ
30:46نظام پاک کی
30:47زبان اقدس سے
30:48جو دی گئی
30:49اور ایک مقام
30:50پر آپ نے
30:51یہ ارشاد فرمایا
30:52اس حد تک
30:52محبت فرمائی
30:53کہ بروز حشر
30:55جب اللہ
30:56مجھ سے پوچھے گا
30:56کہ نظام الدین
30:58کیا لے کر آئے ہو
30:59تو میں اللہ کی
31:00بارگاہ میں
31:00عرض گزار ہوں گا
31:01کہ یا باری تعالی
31:02میں خسرو کا
31:03سوز لے کر آیا ہوں
31:04کیا بات
31:05اس کے سوزے دروں
31:06کے صدقے
31:07مجھے بھی
31:07بخش شطاب فرمائی
31:09تو یہ شان
31:10یہ مقام
31:10اور آپ کا
31:12وہ فرمان
31:12عالی شان
31:14کہ آپ نے فرمایا
31:15کہ میں دنیا میں
31:15ہر کسی سے
31:16تنگ آگیا ہوں
31:17حت تاکہ
31:18از حد دے
31:19آپ نے فرمایا
31:20از حد دے
31:21کہ از خود تنگ آیا
31:22کہ میں خود سے
31:23بھی تنگ آگیا ہوں
31:24لیکن خسرو
31:25میں تم سے تنگ نہیں آیا
31:26تو کیا محبت تھی
31:28کیا ان کا عشق ہوگا
31:29اپنے مرشد سے
31:30کہ اتنا پیار
31:31اتنی محبت ملی
31:32اور جیسا
31:33کہ آپ نے فرمایا
31:34کہ وہ جن کو
31:35آپ نے
31:35اپنے نالین
31:36عطا فرمائے
31:37تو آپ اس وقت
31:38تیس اونٹوں کی
31:40کتار تھی
31:40آپ کے پاس
31:41جو کہ آپ کو
31:41فائدے میں
31:42موصول ہوئی تھی
31:43تو وہ لے کر آئے
31:45تو آپ نے
31:47جب یہ خوشبو
31:48محسوس کی
31:48کہ آپ کا وہ جملہ تھا
31:50کہ بو یہ شیخ
31:52میں آیا تھا
31:53کہ مجھے شیخ کی
31:54خوشبو آ رہی ہے
31:55تو وہ نالین
31:57آپ کے قریب آ رہے تھے
31:58تو یہی
31:58کہ تیس کے تیس
31:59اونٹ
32:00سبھی
32:00پہلے دس اونٹ کی
32:01آفر دی
32:02اس نے جب یہ
32:03محسوس کیا
32:04کہ ان جوتوں کی
32:05اتنی قیمت
32:05اس نے محسوس کیا
32:07کہ یہ کچھ
32:07زیادہ اہمیت
32:09کے حامل ہیں
32:09یہ جوتیں
32:10یہ نالین
32:10تو اس نے کہا
32:11کہ نہیں نہیں
32:12یہ سودا
32:12تو مجھے وارے میں نہیں
32:13پھر آپ نے کہا
32:14کہ بیس لے لو
32:14اس نے کہا نہیں
32:16پھر کہا کہ
32:16سارے اونٹ لے لو
32:17یہ مہار پکڑو
32:17اور سب کسپ لے جو
32:18اور پھر یہ معاملہ
32:19جو آپ نے فرمایا
32:20اور جہاں سے
32:21آپ نے اس پروگرام
32:22کا آغاز کیا
32:23کہ نمی دانم
32:24چ منزل بود
32:26شب جائے
32:26ک من بودم
32:28بہر سو رقص
32:29بسم البود
32:30شب جائے
32:31ک من بودم
32:32یہ اشار بھی
32:33جو آپ نے کہے
32:34یہ نظم بھی
32:35جو لکھی
32:35تو اس کا بھی
32:36پس منظر دیکھا جائے
32:37تو وہ بھی
32:38مرشد کی محبت ہی ہے
32:46حضور علیہ السلام کی
32:47بارگاہ میں حاضر ہوئے
32:48اور پھر اس کا
32:49آپ نے جو حالات لکھے
32:50کہ خدا
32:51خود میر مجلس بود
32:53اندر لا مکان خسرو
32:55محمد شم محفل بود
32:57کیا کہیں
32:57سبحان اللہ
32:58بہت شکریہ
32:59جناب مفتی غلام
33:00یاسین ازامی صاحب
33:01آپ کی رہنمائی کا
33:02تشریف فابری کا
33:03اور خانوہاری شریف سے
33:05جناب سید محمد
33:07زین العابدین صاحب
33:08آپ کا بہت شکریہ
33:09بہت خوبصورت گفتگو ہوئی
33:10اور ناظرین اکرام
33:12آپ کا بھی بہت شکریہ
33:13یہ ذکر ایسا ہے
33:14یہ شخصیات ایسی ہیں
33:15کہ ان کا ذکر
33:16جتنا کیا جائے
33:17وہ کم ہے
33:18ان کے کلام پر
33:19ان کی گفتگو پر
33:21ان کی شخصیت پر
33:22ان کے کردار پر
33:23ان کی کیفیات پر
33:25جیتی نے بھی بات کی جائے
33:26اتنی کم ہے
33:27کیونکہ یہ وہ کیفیات ہیں
33:28جو ٹریول کرتی ہوئی
33:30آج بھی ہمارے دلوں میں
33:31ایسے ہی لگتا ہے
33:32کہ کوئی تازہ روشنی کی لہر
33:34جو ہے وہ اس میں
33:35داخل ہو گئی ہے
33:36ہمارے اندر
33:37کیفیات کا ایک ایسا
33:38چشمہ جو ہے
33:39وہ پھوٹ پڑا ہے
33:40اور یہ کیفیات
33:42ہمیشہ رہیں گی
33:42کیونکہ یہ صاحب حال
33:44لوگوں کی کیفیات ہیں
33:45یہ صاحب اخلاص
33:47لوگوں کی کیفیات ہیں
33:48اور یہ ان کا تسلسل
33:49قیامت تک جاری
33:51اور ساری رہے گا
33:51میری یہ ایک خوش نصیبی ہے
33:53کہ اس کلام سے
33:54مجھے بچپن سے
33:55رغبت رہی اور
33:57اب بھی ہے
33:59تو اللہ نے
34:00توفیق دی
34:01کہ میں نے اس کلام کی
34:02تزمین کرنے کی
34:03سعادت حاصل کی ہے
34:04روسی کے
34:05چند اشار
34:06آپ سب کی نظر کرتے ہوئے
34:07مہمانوں کے شکریہ کے ساتھ
34:09ارز کرتے ہوئے
34:10پروگرام کو
34:11ختم کرتے ہیں
34:20کروں اس بات پر
34:23میں شکر
34:25جتنا بھی بہت ہے کم
34:31نہ دکھ تھا یاد کوئی اور
34:37نہ تھا دل کو کوئی بھی غم
34:43کسی نے رکھ دیا ہو
34:48جیسے میرے زخم پر مرہم
34:56نمیدہ نمچے منزل بود شب جائے
35:05کہ من بودم بہر سو رکھ سے بسمیل بود شب جائے
35:22کہ من بودم نمیدانم چے منزل بود شب جائے
35:33کہ من بودم کشش غی چاند میں
35:41ایسی نہ بھاتے ہیں کوئی تارے
35:49ہسین چہروں سے بڑھ کر جن کے تلوے بھی لگیں پیارے
36:01جمال ناز کا جن کے بھرے دم ناز نی سارے
36:13پری پیکر نگارے سر وقت لالا روح سارے
36:25سرا پا پا فتے دل بود شب جائے
36:35کہ من بودم نمیدانم چے منزل بود شب جائے
36:46کہ من بودم چٹانے جیر کر جیسے
36:58نکلتا ہے بھلے خود رو پڑے مجھ پر بھی
37:06اس کا کاش کوئی ایک ہی پر تو
37:15اسی جلوے کی خاطر مانی سرور
37:23منتیں سو سو
37:27خدا خود میرے مجلس بود اندر
37:36لا مقام خسرو
37:39محمد شم میں محفل بود شب جائے
37:54کہ من بودم نمیدانم چے منزل بود شب جائے
38:06کہ من بودم
Comments