00:00جم سالار کی باتوں میں آگا نور کا یونیورسٹری جانا بلکل بند کر دیتی ہیں جس کے بعد وہ اس
00:04سے بات کرنا بھی چھوڑ دیتی ہیں
00:05اس کے بعد وہ سالار کے پاس آگر کہتی ہیں بیٹا مجھے نور کو پچاننے میں بہت بڑی گلتی ہو
00:09گئی اگر تم چاہو تو فوراں اسے تم طلاق دے سکتے ہو
00:12یہ سننے کے بعد سالار کی دن میں تو جسے لڑوی پھوٹ اٹھتے ہیں خوشی ہیں لیکن پیچھے سے نور
00:16ان کی باتیں سن لیتی ہیں
00:17اس کے بعد وہ اڑوتی ہوئی انجم کے پیڑوں میں گڑی آتی ہے کہ رہ دراتے ہوئے معافی مانگتے ہوئے
00:21کہتی ہے پوپو آپ گلت سمجھ رہی ہیں
00:22میرا یقین کریں اگر سالار نے مجھے چھوڑ دیا تو میں کہاں جاؤں گے لیکن انجم اس کی ایک بھی
00:26نہیں سنتی
00:27جس کے بعد وہ سالار کے ساتھ وہاں سے چلی جاتی ہیں
00:29لہی دن سالار طلاق کے پیپر وکیل سے برواگے لیاتا ہے
00:32دوسری طرح زلفیگار شاہ جب یہ دیکھتا ہے اتنے دن ہوگا نور بلکل یونیورسٹری نہیں آئی
00:36تو اس کے دل میں نور کے لیے عجیب سی بیچینی ہونے لگتی ہے
00:39نور کا لمبر بھی بن جا رہا ہوتا ہے
00:40کہ ماں زلفیگار پاگل ہو کر خود نور کے گھر پوجاتا ہے
00:43بھی وہ دیکھتا ہے سالار نور کے موپر طلاق کے پیپر مارکر اسے تکیے دے کر گھر سے نکالنا ہوتا
00:47ہے
00:47جس کے بعد نور یہ سننے کے بعد چکر کھا کر زمین پر گر رہی ہی ہوتی ہے
00:51لیکن تب ہی پیچھے سے زلفیگار شاہر آ کر اسے اپنی بھاؤں میں تھام لیتا ہے
00:54کہ ماں سالار زلفیگار کو دیکھ کر ہستا ہے اور کہتا ہے
00:56چاہ ہوا کہ تم ٹائم پر آگئے لو اسے اور یہاں سے دفع ہو جاؤ
00:59جس کے بعد زلفیگار نور کو اپنی گاڑی میں بٹھاتا ہے
01:01پوری حفاظت سے اپنے گھر لارا ہوتا ہے
01:03تو راستے میں نور اسے کہتی ہے کہ آپ ہیں کون جو میری اتنی حفاظت کر رہے ہیں
01:07تب ہی زلفیگار اپنی جیپ سے ہور کی پچھر لکھاتا ہے
01:09اور نور کو دکھاتا ہے
01:10نور یہ دیکھنے کے بعد کافی زیادہ حیران رہ جاتی ہے
01:12کہتی ہے یہ کون ہیں
01:13تب ہی اسے اپنے اببو کی بات یاد آتی ہے
01:14یہ آخری رحم انہوں نے بتایا تھا کہ میری جروہ بہنیں ہیں
01:17سالار ادوشما کو یہ خوشغربی سنانے کے لیے
01:19کہ نور کو اس نے طلاق دے دی ہے
01:20راستے میں جا رہا ہوتا ہے
01:22کشی میں گاڑی کو تیز بھگاتے بھی جا رہا ہوتا ہے
01:24تو راستے میں اسے ایک بیانک ایکسیڈن ہو جاتا ہے
01:26جس کے بعد پولیس اسے خون میں لگ پر فون اور ہسپیڈل لے کے جاتی ہے
01:29اس کے بعد ڈاکٹر اس کا علاج شروع کر دیتے ہیں
01:31اور گھر پہ بھی انفارم کر دیتے ہیں
01:32جس کے بعد انجیو ڈوتی بھی ہسپیڈل پہنچتی ہے
01:35جو وہ سالار کے کمرے میں جاتی ہیں
01:36سالار کی اس خوفناک حالت کو دے کر ان کے تو ہوشی اڑیاتے ہیں
01:39ظلفیقار نور کو یہ بتاتا ہے
01:40کہ سالار کا بہت بڑا ایکسیڈن نہ ہوا ہے
01:42نور اسے کہتی اللہ نے اس کے گناہوں کی سزا دے دی ہے
01:45اسپیڈل میں سالار اپنے موت کے موز سے واپس آتا ہے
01:47تو اپنی امی کو بلاتے بھی کہتا ہے
01:49بھی مجھے معاف کرتے میں نے نور کے ساتھ بہت ظلم کیا
01:51اسی کی سزا مجھے ملی ہے
01:52اس کے بعد وہ ریکویسٹ کرتا ہے
01:53تو نور کو بھی بلاتا ہے
01:54اور نور سے وہ معافی مانگتا ہے
01:56کہ ننجو بھی کہتی ہے
01:56بیٹا تم سالار کو معاف کرتا
01:58لیکن نور صاحب انگار کر دیتی ہے
01:59یہ آپ نے جب میری بات کا یقین ہی گیا
02:01جب میں روڑ ہو کے سچ بتا ریتی ہے
02:03سالار جھوڑ بولا ہے
02:04کہ ظلفیقار اسے سمجھاتا ہے
02:05نور ایسا نہیں کرتے
02:06سالار کو معاف کرتا
02:07اب اسے اس کے کیا کیے کی سزا مل گئی ہے
02:09جس کے بعد نور سالار کو معاف کر دیتی ہے
02:10اور ظلفیقار سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیتی ہے
02:12جس کے بعد وہ سالار سے کہتی ہے
02:14سالار تم نے جو کچھ بھی کیا
02:15آج تمہیں اس کا سلہ مل گیا ہے
02:16یہ اڑوشما کو جب یہ خبر ملتی ہے
02:18کہ سالار کا ایکسیڈن ہوئے
02:19تو وہ بھی ہسپیڈل پہنچتی ہے
02:20تو جب اسے یہ پتہ چلتا ہے
02:21سالار اب ساری زندگی ایک پیر سے لنگڑا کے چلے گا
02:24اس کے بعد وہ بھی اپنی امی کے کہنے پر
02:25اور اسی وقت سالار کا چھوڑ کر چلی جاتی ہے
02:27جس کے بعد سالار بری طریقے سے برباد
02:29اور اکیلا رہ جاتا ہے
02:30اس کے بعد پشتاوے کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچتا
02:33دوسری طرح گھر میں
02:33ظلفیقار شاہ نور کے پاس آتا ہے
02:35اور اس سے کہتا ہے
02:36اب ہمیں شادی کر لینی چاہیے
02:37جس کے بعد نور بھی ہاں کر دیتی ہے
02:39پھر شادی کا دین آتا ہے
02:40اس کے بعد شیزہ نور کو دولن کی طرح تیار کر کر
02:42ظلفیقار کے پاس اسٹیش ملاتی ہے
02:44تب ہی مولوی صاحب نگاہ شروع کرتے ہیں
02:46وہ سب سے پہلے نور سے پوچھتی ہے
02:47نور آپ کو ظلفیقار شاہ سے نگاہ قبول ہے
02:49تو وہ کہتی ہے قبول ہے
02:50پھر وہ ظلفیقار سے پوچھتے ہیں
02:51تو وہ بھی کہتا ہے قبول ہے
02:52پہانی میں سب سے بڑا ٹوئی جب آئے گا
02:54جب افتخار شاہ میرکہ سے واپس آئے گا
02:56جب اپنے سامنے ہور کی ہمشکن نور کو دیکھے گا
02:58وہ بھی سالار کی بیوی کی صورت میں
03:00یہ جان نہیں ہے
Comments