Skip to playerSkip to main content
Meri Pehchan

Topic: Tauba ke Fazail

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xid5vnoOqusaAKyjCNLp6_QW

Host: Syeda Zainab

Guest: Dr. Naheed Abrar, Sadia Saeed

#MeriPehchan #SyedaZainabAlam #ARYQtv

A female talk show having discussion over the persisting customs and norms of the society. Female scholars and experts from different fields of life will talk about the origins where those customs, rites and ritual come from or how they evolve with time, how they affect and influence our society, their pros and cons, and what does Islam has to say about them. We'll see what criteria Islam provides to decide over adapting or rejecting to the emerging global changes, say social, technological etc. of today.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Aslamu alaykum wa rehmatullahi wa barakatuhu
00:24myself, I'd look at it through a new 나왔
00:45now you think the peace has happened
00:49's Heart of God
00:51is
01:21That's why we have to blame ourselves.
01:51RAT KI TARIKI MEN CHHPKAR BAHAYE GERE EK ANSOU KIKI BHI QADR KERTA HAYE
01:57ALLAHU AKBAR
01:58WHO BADHA RHAIM HAYE
01:59TAUBAH KEY BAHT SARES FIZAIL HAYE
02:02AYJ FIZAIL TAUBAH PER HEM BAT KERENGAY
02:04HEM AYESAAT JOO MAHEMAN SHKSHIYAT
02:06ES UNBAAN PER
02:07LUFTUKU KELIEYE RONAK AFROZ HAYE
02:08AAPKI JANI PAHCHANI SHKSHIYAT HAYE
02:10DOCTOR PROFESSOR NAHAID ABRAAR SAHIBA
02:12ISLAMI TARZ PER WELCOME KERTE HAYE
02:15ASSALAMU ALIKUM WRAHAMT ALLAHI WBRAKAT
02:17WALIKUM ASSALAM ZENB
02:19KYISI AYAHU AKHERIYAS SAY HAYE
02:20JINB MERE ALLAH KAHI SAHAN
02:22OR UNKKE SAHAT JOO SHKSHIYAT RONAK AFROZ HAYE
02:24MASHALAH KISI TARUF KIE MOHTÁJ NAYI HAYE
02:27SADYA SADYA SADYA SADH MAHEI SADH MAHEJUD HAYE
02:29SADYA SADYA SADYA SADYA SADYA
02:30ASSALAMU ALIKUM WRAHAMT ALLAHI WBRAKAT
02:32WALIKUM ASSALAM WRAHAMT ALLAHI WBRAKAT
02:34KISUO SADYA SADYA SADYA SADYA SADYA SADYA SADYA SADY
02:35KHASHAMU ALIKUM WRAHAMT ALLAH
02:35KSHAM دیت کہتے ہیں آپ دونوں کو میری پہچان
02:37آپ آپ فضائلِ طوبہ
02:39آج کا ہمارا موضوع ہے
02:40بہت ہی اندہ انوان
02:42طوبہ کا مفہوم سے آغاز کر لیتے ہیں
02:45آپ پر طوبہ کا مفہوم آپ ارشاد فرمائیے گا
02:47طوبہ کی جو اہمیت ہے
02:49اضروعِ قرآن ارشاد فرمائیے گا
02:51اضروعِ حدیث بھی بیان کیجئے گا
02:53Thank you very much.
03:23Thank you very much.
03:53Thank you very much.
08:17اور مضبوط ذریعہ ہے
08:18اب اگر ہم توبہ کے لغوی
08:21معنی دیکھیں تو پلٹانا
08:22رجوع کرنا اور استلاح میں دیکھیں
08:24تو گناہ ہونا اس پر نادم ہونا
08:27اور پھر دل سے اس کا
08:28اقرار کرنا کے واقعی میں
08:30مجھ سے غلطی ہوئی ہے
08:31امام نووی علیہ الرحمہ بیان کرتے ہیں
08:34کہ ان کے نزدیک
08:36توبہ کی جو حقیقت ہے
08:38وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ بندے سے گناہ ہو
08:40وہ اس پر نادم ہو اور پھر اس کو
08:42دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لیں
08:44اب جہاں تک شرائط کی بات ہے
08:46تو ہم دیکھیں تو
08:48ہمیں پہلی شرط پتا چلتی ہے
08:50قرآن پاک کی ہی روح سے
08:51سورہ آل عمران کی آیت مبارکہ کا
08:53مفہوم بیان کروں تو اہل ایمان سے
08:55اگر کوئی غلطی ہو جاتی ہے وہ اپنی جانوں پر
08:57ظلم کر لیتے ہیں تو پھر وہ
08:59فوراں اللہ رب العزت کو یاد کرتے ہیں
09:02اپنی غلطی کو
09:03اقرار کرتے ہیں اور وہ اس پر اسرار
09:05نہیں کرتے ہیں کہ ہم
09:07اس کو جاری رکھیں یعنی آیت مبارکہ
09:10کے مفہوم کے مطابق بتا رہی ہوں
09:11تو قرآن پاک سے پتا چلا
09:13کہ پہلی شرط ہے
09:15کہ گناہ ہو گیا
09:17تو اس کا اقرار کیا کہ ہاں
09:19واقعی میں ہم سے یہ گناہ
09:21ہو گیا اور اس پر
09:23اللہ رب العزت کی بارگاہ میں
09:25توبہ اور استغفار کرنا ہے دوسری اہم شرط ہے
09:27کہ وہ ندامت سے جھک جاتا ہے
09:30کہ رب العزت کا حکم ہے
09:32وہ انتظار کر رہا ہے
09:33کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے
09:35تو میں اس بارگاہ میں میرے اللہ کے علاوہ
09:37تو کوئی دربار ہی نہیں ہے
09:38کہ جہاں میں جھکوں
09:39تو دوسری شرط ہے
09:40کہ وہ ندامت کے ساتھ جھکتا ہے
09:43اور یہ شرائط بھی
09:44امام نووی علیہ رحمہ نے بیان کیے
09:46کہ جو بندے اور اللہ کے درمیان
09:48کے تعلق ہے نا
09:50تو اس میں توبہ کی تین شرائط ہے
09:52اس میں سے شرائط پہلی شرط ہے
09:54کہ بندے سے گناہ ہوا
09:56تو اس نے اس کا اقرار کیا ہے
09:57دوسرا یہ ہے کہ اس نے
09:58ندامت کے ساتھ وہ جھک گیا ہے
10:00نادم ہے وہ کہ رب مجھ سے غلطی ہو گئی
10:03اور تیسری شرط یہ ہے
10:04کہ پھر وہ اس پر بالکل پکا
10:06مہور لگا دے
10:07کہ اب مجھے اس گناہ کی طرف
10:10نہیں جانا
10:11کیونکہ دیکھئے
10:12جب بندہ نادم ہو جاتا ہے
10:14تو اصل توبہ وہی ہے
10:15اور پھر وہ اس طرف نہیں جاتا ہے
10:16وہ پختہ ارادہ کرتا ہے
10:18امام نبوی علیہ رحمہ بیان کرتے ہیں
10:20اگر اس میں سے کسی ایک شرط میں بھی
10:23کمی ہو جائے
10:24تو وہ توبہ درست نہیں ہے
10:26توبہ کے درست ہونے کا بھی
10:28انداز یہی ہے
10:29کہ تینوں شرطیں مکمل ہو
10:30اور اگر اس کا تعلق
10:32بندے کے ساتھ ہے
10:33تو چوتھی شرط یہ ایڈ ہو جائے گی
10:35کہ اگر اس نے کسی کا مال غصف کیا ہے
10:37تو اس کو واپس کرے
10:38کسی پر ظلم کیا ہے
10:40تو اس سے معافی مانگے
10:41کسی کی غیبت کیے
10:42کسی کو نقصان پچایا ہے
10:43تو اس سے معافی تلافی کرے
10:45یعنی تین کا تعلق حقوق اللہ سے
10:47تو اگر حقوق العباد سے تعلق ہے
10:49تو وہ چوتھی شرط بھی ایڈ ہو جائے گی
10:51ونہ اگر صرف اللہ رب العزت
10:54کے دیئے ہوئے حقامات کی
10:55نافرمانی کر لی
10:57تو اس پر توبہ اور استقبار کریں گے
10:58تو تین شرائط ہیں
10:59کہ نادم بھی ہونا ہے
11:01اسرار بھی کرنا ہے
11:02اور پھر کبھی نہ کرنے کی
11:03نیت بھی پختہ کرنی ہے
11:05اور لوازمات کی جہاں تک بات ہوئی
11:07مختصر بتاؤں
11:07تو ان ساری چیزوں کو دیکھتے ہوئے
11:09لوازمات میں سب سے اہم چیز ہے
11:12خالص نیت
11:13اخلاص کے ساتھ
11:15توبہ کے لیے جھک جانا ہے
11:17وہ رب آپ کو
11:17بخشش و مغفرت کی توفیق دیتا ہے
11:20تو وہ معاف بھی فرمائے گا
11:21سبحان اللہ
11:22سبحان اللہ
11:23یعنی آئندہ گناہ نہ کرنے کا
11:25مصمم ارادہ کرنا ہے
11:27کہ بس مجھے اس گناہ کی طرف
11:29بھلٹنا بھی نہیں ہے
11:30بھٹکنا بھی نہیں ہے
11:31دور سے بھی اس گناہ کی طرف نہیں دیکھنا ہے
11:33اور اس سچی توبہ کرنی ہے
11:35اس پاک پروردگار عالم کے حضور
11:37ایک وقفہ لیتے ہیں
11:39حاضر ہوتے ہیں
11:39السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
11:42آپ دیکھ رہے ہیں
11:43پرگرام میری پہچان
11:44اور آج ہم فضائل توبہ کے تعلق سے بات کر رہے ہیں
11:48قرآن و حدیث کی روشنی میں
11:50ہم نے جانا
11:50کہ کیا توبہ کتنی ضروری ہے
11:53اللہ کو کتنی پسند ہے
11:54اللہ کو بندے کا پلٹنا
11:57اس کی جانب رجوع کرنا
11:58بار بار اس کی طرف بڑھنا
12:00اور توبہ اور استغفار کرنا
12:02اللہ کو کتنا پسند ہے
12:04اور اس کی رحمت بہت وسیع ہے
12:06یعنی اگر ہمارے گناہ پہاڑ کے برابر بھی ہو جائیں
12:10اس کی طرف لوٹ آئیں
12:11تو وہ رب کائنات معاف فرما دیتا ہے
12:14ہمارے ساتھ گفتگو کے لیے
12:15موجود دو مہمان شخصیات ہیں
12:17یعنی ڈاکٹر پروفیسر ناہید عبرار صاحبہ موجود ہیں
12:20سادیا سعید صاحبہ بھی تشریف رکھتی ہیں
12:23ڈاکٹر صاحبہ
12:25اب فضائل توبہ
12:26جس طرح سے آپ فضائل توبہ بھی بیان کیجئے گا
12:28اور ان کے ساتھ میں یہ چاہوں گی
12:29کہ زندگی پر جو اس کے اثرات
12:32جو مصبت اثرات مرتب ہوتے ہیں
12:34توبہ کے تعلق سے وہ اشارت فرمائیے گا
12:36خواجہ حسن بسری رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
12:41کہ توبہ کے چار ستون ہیں
12:44زبان سے معافی مانگنا
12:46دل سے پشیمہ ہونا
12:48آزا کو گناہ سے بچانا
12:50اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرنا
12:53دیکھیں زینب صاحبہ
12:55توبہ باطن کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے
12:59توبہ توفیقاتِ الٰہی کا بہترین توفہ ہے
13:03توبہ اللہ کی عظیم نعمت اور روحانی انقلاب کا ذریعہ ہے
13:09جب بندہ اللہ کے حضور سچی توبہ کرتا ہے
13:13اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے
13:15تو اس کے مضبط اثرات زندگی کے ہر عصے میں پڑتے ہیں
13:20جب بندہ اپنے گناہوں پر توبہ کرتا ہے
13:23تو گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے
13:25وہ حقوق اللہ کے ساتھ
13:27حقوق اللہ بات کی ادائیگی بھی کرنا شروع کر دیتا ہے
13:30وہ شیطان سے دور رحمان کے قریب ہو جاتا ہے
13:34وہ گناہوں سے نفرت کرنے لگتا ہے
13:36اسے تو ہدایت کی دولت مل جاتی ہے
13:39اللہ کی محبت نصیب ہو جاتی ہے
13:42وہ گناہوں سے بچا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا راستہ اختیار کر لیتا ہے
13:49اور گناہوں کے دلدل سے نکل کر ایک کامیاب زندگی گزارتا ہے
13:54دیکھیں اس کے انسان کی زندگی پر بہت مضبط اثرات پڑتے ہیں
13:58سب سے بڑا ایک مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان کو روحانی سکون حاصل ہوتا ہے
14:03جب وہ اللہ کے حضور سچی توبہ کر لیتا ہے
14:06ہر انسان خطاکار ہے اور بہترین خطاکار وہ جو اپنے گناہوں پر معافی مانگے
14:12جب انسان اپنے گناہوں پر سچی توبہ کرتا ہے
14:15تو اس کی قلب کی اس کی روح کی اصلاح ہوتی ہے
14:19اس کا قلب ظاہر یہ باطنی آلودگیوں سے پاک ہو جاتا ہے
14:23اسے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے
14:26وہ ایک مطمئن زندگی گزارتا ہے
14:28دیکھیں دوسرا مضبط اثر اس کا یہ پڑتا ہے
14:31کہ انسان اخلاق کی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے
14:34جب انسان برائیوں سے دور ہو جاتا ہے
14:37نیکیوں کی طرف راقب ہو جاتا ہے
14:39تو لیڈی وہ برائیوں کی طرف پھر پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا
14:43گناہ کرنے سے پریز کرتا ہے
14:45اور جھوٹ منافقت خیانات ان جیسی برائیوں سے دور ہو جاتا ہے
14:50اور وہ اخلاق کی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے
14:53جو شخص اللہ کے حضور سچی توبہ کرتا ہے
14:56تو اسے اللہ کا مقرب بندہ بن جاتا ہے
14:59اور اسے اللہ کی رحمت چاروں طرف سے کھیل لیتی ہے
15:03اس کے اثرات انسان کی زندگی پر پڑتے ہیں
15:06جب انسان سچی توبہ کرتا ہے
15:08تو زینب صاحبہ اس کے رسک میں بھرکش شروع ہو جاتی ہے
15:12اس کی عمر میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے
15:15اللہ اسے آزمائشوں سے نکال دیتا ہے
15:18اللہ اس کی زندگی کی مصیبتوں پریشانیوں کو ختم کر کے
15:22اس کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرتا ہے
15:25اور اس قرب سے اس کا تعلق مضبوط ہو جاتا ہے
15:28دیکھیں ایک نوجوان جو تھا
15:30وہ نے جب دوزق کا ذکر سنا
15:32تو وہ اپنی کپڑے اتارے اور گرم لیٹ پہ لیٹ گیا
15:35اور کہنے لگا کہ اے میرے نفس
15:38اور تڑپنے لگا
15:39کہ جب یہ گرم ریت کی گرمی برداشت نہیں کر سکتے
15:42تو دوزق کی آگ کی گرمی کیسے برداشت کریں گے
15:45اور ہم کتنے بے خبر ہو گئے
15:48کہ ہم رات دن سو کر گزارتے ہیں
15:50تو آقے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:54پاس کھڑے یہ بات سن رہے تھے
15:57پھر نبی نے نوجوان کو بلایا
15:59اور کہنے لگا
16:00کہ خوش ہو جا
16:01تیرے رب نے تو تیرے لیے
16:03رحمتوں کے دروازے کھول دیئے ہیں
16:06اور فرشتوں کے سامنے
16:08تجھ پر فقر فرما رہے ہیں
16:10کہ دیکھو میرا بندہ تو ایسا ہوتا ہے
16:13کہ اتنا خوف رکھتا ہے اللہ کا
16:15تو اللہ تعالی ہمیں ہر وقت
16:18اللہ سے توبہ کرنے کی توفیق اتا فرما
16:21اور اس کے ساتھ سچے
16:23دل سے توبہ کرنے کی توفیق اتا فرما
16:26اور زینب کامیاب انسان وہی ہوتا ہے
16:29جو باعمل ہو
16:30آج ہم نے توبہ کی
16:31تو آئندہ ہم گناہ نہ کرنے کا عظم بھی کریں
16:35بے شک بے شک
16:36سبحان اللہ
16:37اب حقوق اللہ کی جس طرح سے ہم بات کرتے ہیں
16:39تو اللہ سے معافی مانگتے ہیں
16:41اللہ سے توبہ کرتے ہیں
16:42استغفار کرتے ہیں
16:44وہ پاک پروردگار عالم کریم ہے
16:46رحیم ہے
16:47رحمان ہے
16:48وہ معاف فرما دیتا ہے
16:49لیکن سادیہ جس طرح سے
16:51ہم نے حقوق العباد کے بارے میں سنا
16:53اور اگر ہم بندوں کے حق تلفی ہو جائے
16:56تو ظاہرہ اللہ سے جب ہم توبہ کرتے ہیں
16:59جب بندہ معاف کرے گا
17:00تو اللہ رب العزت توبہ قبول فرمائے گا
17:03جب بندہ معاف کر دے گا
17:04اور اللہ رب العزت سے کسی بندہ جب گڑ گڑا کر
17:07معافی مانگے گا
17:08اس بندے سے بھی معافی مانگے
17:10جس سے کتاہی ہوئی ہے
17:11حق تلفی ہوئی ہے
17:12اب ازالہ اگر ممکن ہے
17:14تو پھر ازالہ کیا جائے گا
17:15حق تلفی ہو گئی
17:16اگر کسی کی حق ازالہ ضروری ہے
17:18اور اگر ازالہ ممکن ہی نہیں ہے
17:21تو پھر اس کیا کیا جائے گا
17:23جی بسم اللہ الرحمن الرحیم
17:24دیکھیں پہلے ایک بہت عام بات کے
17:27حقوق العباد
17:28اس طرح ضروری ہے
17:30کہ جب آپ نے کسی کا دل دکھایا ہے
17:32کسی کو مشکل میں ڈالا ہے
17:34کسی کی طرف سے حق تلفی کی ہے
17:35آپ نے
17:36تو اس سے معافی مانگنا
17:37ضروری ہے
17:38اور صرف ظاہری زبانی کلامی بات نہیں ہے
17:41دل سے اس چیز کو تسلیم کرنا
17:43اس چیز کو ماننا ہے
17:44ساری چیزیں ہمیں دینے
17:45متعرہ شریعت اسلام
17:47ہمیں بتاتی ہے
17:48اب اگر ہم دیکھیں
17:49تو بعض وقت فقہ کرام ہمیں بتاتے
17:52کہ بعض صورتوں میں
17:53اس طرح سے ازالہ ممکن نہیں ہوتا
17:56یعنی کہ اگر آپ نے
17:57کسی کا مال غزب کر لیا ہے
18:00اس کا مال کھا لیا ہے
18:02اب جو اصل مالک تھا
18:04اس کا بھی پتہ نہیں چل رہا
18:06اس کے براسہ تک بھی رسائی نہیں ہے
18:08تو حکم ہے
18:09کہ پھر اس کی جانب سے
18:10وہ صدقہ کر دو
18:12سارا وہ واجب ہے تم پر
18:14اور اللہ رب العزت کی بارگرم
18:16تو اب اس تغفر کرو
18:17لیکن اگر اس کے براسہ مل جائے
18:19یا مالک آ جائے
18:20تو پھر ان کو اختیار ہے
18:21کہ وہ صدقہ قبول کریں
18:23یا پھر وہ اپنے مال کو طلب کر لیں
18:25تو پھر اس شخص کو دینا لازم ہو جائے گا
18:28پھر وہ اس کو ادا کرے
18:30معافی کا طریقہ بتایا جا رہا ہے
18:32اب اسی طرح
18:33کہ ہم لوگوں کی برائیاں کرتے ہیں
18:35ان پر پہتان لگا دیتے ہیں
18:36نعوذ باللہ
18:37ان کی غیبت کرتے ہیں
18:39دل میں بغض رکھتے ہیں
18:40ساری چیزیں ہیں
18:40اور کسی پر بھی
18:42کوئی بھی بات کر کے آ جاتے ہیں
18:43اب ایسی صورت میں
18:45اگر آپ کو یہ پتہ ہو
18:47کہ اس شخص کو آپ جا کر کہیں گے
18:49اور بڑا نقصان ہونے کا خطرہ ہے
18:51یا زیادہ گفتگو بڑھ جائے گی
18:53یا زیادہ یہ معاملہ بڑھ جائے گا
18:54تو پھر اس صورت میں حکم ہے
18:56کہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں
18:57توبہ اور استغفار کرو
18:59اس کے حق میں دعا کرو
19:00اس کی جہاں تم نے برائی کیے
19:02وہاں اس کی تعریف کرو
19:03یہ اس کا ایک حل ہے
19:05کہ تم ان تمام لوازمات کا احتمام کرو
19:09اللہ رب العزت کی بارگاہ میں
19:11ہمیشہ پشے مانی سے جھکے رہو
19:12اور یہ ارادہ کرو
19:14کہ اب میں ایسا کام نہیں کروں گا
19:16کیونکہ ایسے معاملات
19:17بہت زیادہ ہوتے رہتے ہیں
19:18زندگی میں
19:19اور دیکھیں
19:20جو لوگوں کا حق
19:22اب کوئی ایسا کام ہے
19:24کہ جس کی تلافی ممکن نہیں ہے
19:25قانونی اور اس طرح سے بھی ممکن نہیں ہے
19:28تو اس کے لیے بھی حکم ہے
19:29دیکھیں آقا علیہ السلام نے فرمایا
19:31قیامت کے دن مفلس شخص وہ ہے
19:34کہ اس کی نیکیاں اٹھا کر
19:36حقداروں کو دی جائیں گی
19:37قیامت میں مفلس وہ ہے
19:42ایسے وہ بیچارہ مفلس ہے
19:44وہ اصل کون ہے
19:45کہ وہ یہاں سے نیکیاں لے کے گیا ہے
19:47لیکن حق تلافی کر کے گیا ہے
19:50حقوق العباد میں حق مار کر گیا ہے
19:52تو وہاں وہ خالی ہے
19:54تو آقا علیہ السلام واضح طور پر فرما دیا
19:56اب یہاں رہتے ہوئے بھی
19:57کوئی ایسا عمل ہو گیا ہے
19:58اور جس کا اب ہے ہی نہیں
20:00کہ مشکل ہے وہ کرنا
20:02تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں نادم ہو
20:04پشمانی کا اظہار کرے
20:06اس رب سے توبہ اور استغفار کرے
20:08اور پھر حکم ہے
20:12اس کو اتنا پختا طریقے سے کرو
20:16کہ دوبارہ تم اس طرف
20:18نہ جاؤ اس کی طرف
20:20دیکھو بھی نہیں
20:21اس کو دل میں
20:22اچھا یہ جو گناہ ہے نا
20:23گناہ کی کرواہت کو اپنے دل میں زندہ رکھو
20:26کیوں
20:26کیونکہ تمہیں بار بار وہ بتاتا رہے
20:29کہ تم نے یہ گناہ کیا تھا
20:30اس کی یہ سزا ہے
20:31اس کی لذت کی طرف نہیں جا نا
20:33لذت تم نیکیوں کی لو
20:36اپنے اندر
20:36تم لذت نیکیوں کی رکھو
20:39گناہوں کی کرواہت کو یاد رکھو
20:41کہ یہ یہ تم سے گناہ ہوئے تھے
20:43اور اس رب کا شکر ادا کرو
20:45کہ اس نے تمہیں توفیق دے دی
20:46کہ تم نے زندگی کی سانسوں میں
20:48اس کی بارگاہ میں
20:51جھک کر توبہ رستقبال کی
20:52حدیث پاک کا بھی مفہوم ہے
20:54کہ جو شخص کسی اپنے
20:57مسلمان بھائی کا دل دھکاتا ہے
20:58تو قیامت کا دن آنے سے پہلے پہلے
21:00اس سے معافی طلب کر لو
21:01اس جہاں میں رہتے ہوئے حقوق و لبات کی
21:04تم ادائیگی کرو اور جہاں کتائی ہو گئی ہے
21:06تم معافی مانگو جہاں ازالہ ممکن ہے
21:08وہاں جا کے تم ازالہ کرو
21:10اور پھر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں
21:12جھک جاؤ تمہارا کام ہے
21:14معافی مانگنا لیکن صدق دل سے
21:16رسمن نہیں کہ وقت ہے
21:18ایسا کہ معافی مانگ لیں اس کے بعد دوبارہ
21:20وہ کام کر لوں گا وہ توبہ نہیں ہے
21:22توبہ وہی ہے جو خالص نیت سے جھک کر
21:24اس بارگاہ میں توبہ کی جاؤ
21:26ان شرائط کے ساتھ جن کا شرائط ہمیں
21:28شریعتمتارہ بتا دی ان شرائط کے ساتھ جھک کر
21:30رب کی بارگاہ میں توبہ اور اسطق پار
21:32سبحان اللہ سبحان اللہ
21:34یعنی ہمیں یہ معلوم ہوا کہ
21:36توبہ کی توفیق مل جانا بھی
21:38اللہ رب العزت کی بڑی سعادت ہے
21:40یعنی ہمیں یہ احساس
21:42ہو جائے کہ ہم سے کوئی گناہ
21:44یا جاتی سرزت ہو گئی ہے
21:45یہ دل میں آتے ہی خیال
21:47اللہ کی بارگاہ میں ہم نے توبہ کی ہے
21:50اللہ کے حضور جھک گئے ہیں
21:51اور اگر حقوق العباد میں کہیں کوتاہی ہو گئی ہے
21:54اس کا بھی ادراک ہونا
21:56یہ بھی بڑی بات ہے
21:57ورنہ لوگ سخت دل ہو جاتے ہیں
21:59اللہ ان لوگوں کے دلوں کو سخت کر دیتا ہے
22:01اور جو بار بار گناہ کرتے ہیں
22:03بار بار گناہ کرتے ہیں
22:04لیکن پھر لوٹ کر آ جاتے ہیں
22:06پلٹ کر آ جاتے ہیں
22:07اللہ انہیں بھی معاف فرما دیتا ہے
22:09توبہ کے فضائل پر بات ہو رہی ہے
22:11ایک وقفہ لیتے ہیں حاضر ہوتے ہیں
22:13السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
22:16وقفے کے بعد ایک مرتبہ پھر
22:17آپ سب کا خیر مقدم ہے
22:19فضائل توبہ کے تعلق سے بات ہو رہی ہے
22:22اور جس طرح دوران گفتگو بات ہوئی نا
22:24کہ بندہ بار بار گناہ کرتا ہے
22:26بار بار کو تاہی ہو جاتی ہے
22:28لیکن بار بار
22:30اللہ کی بارگاہ میں پلٹ آتا ہے
22:32اللہ کے حضور رجوع کرتا ہے
22:34اللہ سے توبہ اور استغفار کرتا ہے
22:37اللہ سے معافی مانگتا ہے
22:39اس تعلق سے بھی ہمارے ساتھ گفتگو فرمائیں گی
22:41نرڈاکٹر ناہید عبرار صاحبہ موجود ہے
22:43سادیا سعید صاحبہ بھی تشریف فرما ہے
22:46ڈاکٹر صاحبہ
22:47اب ایسے لوگ جو بار بار
22:49توبہ کرتے ہیں
22:50گناہ کرتے ہیں
22:51پھر توبہ کرتے ہیں
22:52اب یہ آپ اشارت فرما دیجئے
22:55ایک تو یہ بتائیے گا
22:56ہماری بہنوں کو
22:56کیا ایسا کرنا کیسا ہے
22:58اور ایسے لوگوں کی
22:59توبہ آپا قبول ہو جاتی ہے
23:01دیکھیں جنب صاحبہ
23:04اللہ کی رحمت بہت پسی ہے
23:06اور انسان بہت گناہگار ہے
23:09وہ اتنا مہربان رب ہے
23:11کہ ہماری گناہوں کو
23:13اپنی رحمت کی آغوش میں چھپا کرنا
23:16ہمارے گناہوں کو معاف فرماتا ہے
23:18اور معاف کرنا جو ہے
23:19وہ اللہ کی صفت میں شامل ہے
23:21ایک شخص بہت گناہگار تھا
23:24اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکوم دیا
23:27کہ اس کو دوزق میں ڈال دیا جائے
23:30تو دوزق کے دروغوں نے کہا
23:31چلو دوزق میں چلو
23:33تو وہ شخص وہیں کھڑا ہو گیا
23:34کہنے گا میں تو نہیں جاؤں گا
23:37میرے رب کی رحمت تو بہت وسیح ہے
23:39اور میں اس کی رحمت سے ناومی تھوڑی ہوں
23:41تو اللہ نے اس کو معاف کر دیا
23:44قرآن پاک میں
23:46اللہ تعالیٰ اشارت فرماتے ہیں
23:48کہ اے میرے بندوں
23:49تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا
23:51مایوس نہ ہو
23:53اللہ تمہارے گناہوں کو معاف فرماتے گا
23:56نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
23:59کہ بندہ جب بار بار گناہ کرتا ہے
24:02اور بار بار
24:03اللہ کے حضور سچی توبہ کرتا ہے
24:06تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
24:08کہ دیکھو میرے بندے نے جان لیا ہے
24:11کہ میں ہی اس کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہوں
24:14اور میں ہی اس کے گناہوں پر سزا دینے والا ہوں
24:18جو اس سے کہہ دو کہ میں نے
24:20اپنی رحمت سے تیرے گناہوں کو معاف فرماتی آئے گا
24:24بعض لوگ گناہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعد میں توبہ کر لیں گی
24:30تو یہ جائز عمل نہیں ہے
24:32یہ جائز طرز عمل نہیں ہے
24:34لیکن جو شخص گناہ کرتا ہے اور اس پر سچی توبہ کرتا ہے
24:39تو یہ مایوسی سے بہتر اور مقبول عمل ہے گا
24:42تو لہٰذا اس کی رحمت کے تو دروازے کھلے ہوئے ہیں
24:46اگر ہم سے چھوٹی سی بھی غلطی ہو جائے
24:49یا بڑے سے بڑا گناہ ہو جائے
24:51تو اپنے رب کے حضور فوراں معافی مانگیں
24:54سچے دل سے اخلاص سے نیت کے ساتھ توبہ کریں
24:58تو ہمارا رب جو ہے وہ ہمیں معاف کرنے والا ہے
25:01جنب ایک شخص اتنا گناہگار تھا
25:04اور اس نے کہا کہ جب اللہ کو میرے گناہ دیکھ رہے
25:08جب اللہ مجھے سزا دینے پر آئے گا
25:10تو مجھے ایسی سزا دے گا
25:12کہ آج تک مجھے سزا
25:13ایسی سزا کسی نے کسی کو نہیں دی ہوگی
25:16تو اس نے اپنے گھر والوں سے وسیعت کی
25:18کہ جب میرا انتقال ہو تو میری میت کو آگ لگانا
25:21آدھی جو راگ دریہ میں بہا دینا
25:24آدھی جنگل میں اڑا دینا
25:26تو اس کے گھر والوں نے اس کے انتقال کے بعد
25:28اس کی وسیعت پر عمل کیا
25:29تو اللہ تعالیٰ نے جنگل کو حکم دیا
25:32کہ اس کی راگ جمع کرو
25:33دریہ کو حکم دیا
25:34اور اس کی آگ جمع کرو
25:36اس کی راگ جمع کرو
25:37جب انسانی صورت میں
25:39تو اللہ نے کہا
25:40تو نے ایسا کیوں کیا
25:41تو زارو قطار رونے لگا
25:43کہ اللہ تیرے خوف سے
25:46تو اللہ نے اسے معاف کر دیا
25:48انسان کا خوف جو ہے
25:50اللہ کی رحمت کو اپنی طرف
25:52متوجہ کرتا ہے
25:53اور جب بندہ سچے دل سے
25:55اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتا ہے
25:58تو اس کے جسم سے گناہ
25:59اس طرح جھڑنے لگتے ہیں
26:01جس طرح تیز ہوا کے چلنے سے
26:04درختوں کے پتے گرنے لگتے ہیں
26:06کہتے ہیں نا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
26:08کہ اللہ کی خوف سے
26:10ایک آنسو کا ایک قطرہ چھلکا ہے
26:12وہ چھلک کر گال پر آ جائے
26:14تو چہرے پر جہنم کی آگ حرام ہوتی ہے
26:17تو اللہ تعالیٰ
26:18اول تو اللہ تعالیٰ ہمیں
26:20ہدایت کی توفیق دے
26:22کہ ہم اس کی حضور کوئی گناہ کریں نہیں
26:25ہمیں سرات مستقیم پر چلائے
26:27ہمیں سچائی کے راستے پر چلائے
26:29اور پروردگار عالم
26:30ہمیں یہ بھی ہدایت دے
26:31کہ اگر تیرے حضور ہم سے چھوٹے سی بھی غلطی ہو جائے
26:35تو تو ہم پر رحم کرنے والا ہے
26:37تو غفور و رحیم ہے
26:39ہم فوراں تیرے حضور
26:41اپنے گناہ پر اخلاصی نیت کے ساتھ
26:44سچی توبہ کر لیں
26:45تو میرا رب تو
26:46ہماری شہرک سے بھی قریب ہے
26:49سبحان اللہ
26:50وہ رب تو رگے جان سے بھی زیادہ قریب ہے
26:53بے شک
26:53اب کہیں نہ کہیں ہم لوگوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں
26:56اپنے آس پاس
26:57بہت سارے لوگوں کے دل بڑے نرم ہوتے ہیں
26:59کہیں کوتا ہی ہو جائے
27:01تو روتے ہیں
27:02اللہ کی بارگاہ میں
27:03التجا کرتے ہیں
27:04معافی مانگتے ہیں
27:05کسی کی حق تلفی بھی ہو جائے
27:07تو اسی وقت انہیں احساس ہو جاتا ہے
27:09وہاں بھی روتے ہیں
27:09فوراں معافی مانگ لیتے ہیں
27:11لیکن بعض دل بڑے سخت ہو جاتے ہیں
27:14سادیہ آپ یہ بتائیے گا
27:16کہ بہت سے لوگ بار بار گناہ کر دیتے ہیں
27:18انہیں توبہ کی توفیق بھی نہیں ہوتی
27:20ادراغ بھی نہیں ہوتا
27:21یہ خیال بھی نہیں آتا
27:22کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں
27:23توبہ کر لیں
27:24اللہ اکبر
27:25اور ایسے ہی
27:27وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں
27:28یعنی مر جاتے ہیں
27:29اب ایسے لوگوں کے لئے
27:31آخرت میں کیا انجام ہے
27:32سادیہ آپ کیا کہیں گے
27:34سوالے سے
27:34بسم اللہ الرحمن الرحیم
27:36دیکھیں دین اسلام
27:36ہماری اس طرف رہنمائی کرتا ہے
27:38کہ اگر کوئی شخص
27:40گناہوں پر اسرار کرتا رہا
27:42اور پھر وہ اس دنیا سے چلا گیا
27:44دین اسلام پہ تھا
27:45ایمان کی حالت میں تھا
27:46لیکن صغیرہ و کبیرہ گناہوں میں
27:48وہ معافی طلب نہیں کر سکتا
27:50رب کی بارگاہ میں
27:52تو دیکھیں
27:53اس کا نتیجہ
27:54اللہ رب العزت کی مشیط پر ہے
27:55اللہ رب العزت
27:56جو صلح اس کو دینا چاہے
27:58وہ اس کو عطا کرے گا
28:00قرآن پاک میں ذکر ہے
28:01کہ کوئی شخص شرک کرے
28:03اللہ رب العزت کے ساتھ
28:04کسی کو شریک کرے
28:06اور پھر توبہ اور استغفار بھی نہ کرے
28:08اور اس دنیا سے چلا جائے
28:09تو اس کے لئے دائمی عذاب ہے
28:10کیونکہ اس نے دین اسلام کی
28:12جو مضبوط ایک عمارت تھی
28:14اس کو منحدم کیا ہے
28:15یعنی اللہ رب العزت کے ساتھ
28:18اس نے شریک ٹھہرایا ہے
28:19تو اس سے بڑا گناہ تو کوئی ہے ہی نہیں
28:21اور پھر اس پر اس نے
28:22توبہ اور استغفار بھی نہیں کی
28:23تو جب وہ اس جہاں سے
28:25اگر توبہ اور استغفار کے بغیر گیا
28:27تو اس کے لئے دائمی عذاب ہے
28:28یہ صاف
28:30اللہ رب العزت نے خود قرآن پاک میں
28:32فرما دیا ہے
28:33کہ اگر کوئی شخص
28:35اس حالت میں
28:36اس جہاں سے گیا
28:37پھر اگر ہم دیکھیں
28:38تو کوئی شخص
28:40گناہوں میں
28:41ایسا مبتلا ہوتا ہے
28:43کہ وہ
28:44حقوق اللہ میں بھی
28:46کتائی کرتا ہے
28:46حقوق العباد میں بھی
28:47کتائی کرتا ہے
28:48اور اسے توبہ کی
28:49توفیق نہیں ملتی
28:50تو ہم اسے
28:51دائمی طور پر
28:53یا خدا نہ غستہ
28:54یہ نہیں کہیں گے
28:54کہ یہ کافر ہے
28:55اللہ رب العزت
28:57اس کا فیصلہ کرنے والا ہے
28:59وہ چاہے تو
28:59اس کے لئے جنت کا
29:00اعلان کر دے
29:01اور چاہے اس کو
29:02عذاب میں مبتلا کرے
29:03لیکن آقا علیہ السلام
29:05نے فرمایا
29:06کہ جس کے دل میں
29:08رائی کے دانے کے
29:09برابر بھی
29:10ایمان ہے
29:11وہ ہمیشہ
29:11جہنم میں نہیں رائے گا
29:13تو یہ حدیث مبارکہ
29:15واضح طور پر
29:16بتاتی ہے
29:16کہ دین اسلام پر
29:18اس جہاں سے
29:18جانے والا شخص
29:20اس کے دل میں
29:21ایمان ہے
29:22تو وہ ہمیشہ
29:23جہنم میں نہیں رائے گا
29:24ایک نہ ایک وقت آئے گا
29:26کہ رب اسے
29:26جنت کی سیر کرائے گا
29:27وہ جنت میں جائے گا
29:29تو کیوں نہ
29:30اللہ رب العزت
29:31جب دینے پر قادر ہے
29:32جب معافی
29:33وہ معاف کرنے پر قادر ہے
29:34دیکھیں یہاں میں
29:35ایک میسیج کے طور پر
29:36بھی ایک واقعہ
29:37ضرور یہاں پر بیان کروں گی
29:38حضرت موسیٰ علیہ السلام
29:40کی قوم میں ایک شخص
29:41حضرت موسیٰ علیہ السلام
29:42نے اللہ رب العزت
29:43اور یہ میں
29:43اس کو مفہومم
29:53نہیں ہونا
29:54کیونکہ وہ قہار
29:54اور جبار بھی
29:55وہ پکڑتا بھی ہے
29:56حضرت موسیٰ علیہ السلام
29:58کی قوم میں ایک شخص
29:58حضرت موسیٰ علیہ السلام
29:59نے اللہ رب العزت
30:00کی بارگاہ میں
30:01ارضی پیش کی
30:01رب العزت میں
30:02اپنے قوم کے
30:03سب سے گناہگار
30:04شخص سے ملنا چاہتا ہوں
30:05اللہ رب العزت
30:06نے فرمایا
30:07کہ رات
30:08صبح بازار میں
30:09کھڑے ہونا
30:10جو سب سے پہلا شخص
30:11گزرے گا
30:12وہ تمہاری قوم کا
30:13سب سے گناہگار
30:13شخص سے
30:14کہا اس کی نشانی کیا ہے
30:15کہا وہ چھوٹے بچے
30:16کی انگلی پکڑے ہوئے ہوگا
30:17مختصر یہ کہ
30:17جب وہ شخص گزرا
30:18سب سے پہلا تھا
30:19حضرت موسیٰ علیہ السلام
30:21سمجھ گئے
30:21کہ یہ میری قوم کا
30:22سب سے گناہگار شخص ہے
30:23پھر ارضی پیش کی رب
30:25میں سب سے نیکوکار
30:26شخص کو دیکھنے جاتا ہوں
30:27اللہ رب العزت نے فرمایا
30:28رات اسی بازار میں
30:29کھڑے ہونا
30:29جو سب سے آخر میں
30:31بندہ گزرے گا
30:31وہ تمہاری قوم کا
30:33سب سے نیکوکار شخص ہے
30:34پوچھا رب اس کی نشانی
30:35کہا وہ بھی
30:35چھوٹے بچے کی
30:36امیلی پکڑے ہوگا
30:37اب یہاں سمجھنے کی بات
30:39حضرت موسیٰ علیہ السلام
30:40جب رات بزار میں
30:42کھڑے ہوئے
30:42تو دیکھ کر
30:43حیران رہے گئے
30:44رب العزت کی بارگاہ میں
30:45عرضی پیش کی
30:46رب العزت
30:47یہ تو وہی شخص ہے
30:48جو صبح گیا تھا
30:49اور سب سے گناہ گارتا
30:51اب لوٹا ہے
31:01اس سے بڑے پہاڑ ہیں
31:02پوچھا بابا
31:02اس سے بڑی کوئی چیز ہے
31:03کہا اس سے بڑے دریان ہیں
31:04پوچھا اس سے بڑی کوئی چیز ہے
31:05کہا سمندر ہیں
31:06پھر پوچھا کوئی بڑی چیز ہے
31:08کہا زمین ہے
31:09کہا اس سے بڑی کوئی چیز ہے
31:10تو یہ زارو قطار رونے لگا
31:12کہ اس سے بڑے تیرے باپ کے گناہ ہیں
31:14پوچھا بابا
31:15تمہارے گناہوں سے بھی
31:16بڑی کوئی چیز ہوگی
31:17کہا وہ صرف میرے رب کی رحمت ہے
31:19کہ صبح گیا تھا
31:22تو सب سے گناہگار واپس لوٹуш
31:24تو اللہ رب العزت
31:26کو نہ جانے
31:27کس وقت کی توبہ
31:29ایسی پسند آ جائے
31:30کہ تم ہر وقت اس کی بارگاہ میں جھکو
31:32اور ہر لمحے کو
31:33تم اپنی زندگی کا آخری لمحہ سمجھ کر جھکو
31:36وہ رب قادر مطلق ہے
31:38وہ توبہ اور استقفار
31:40کو قبول کرنے والا ہے
31:41وہ رحمان و رحیم ہے
31:42وہ توبہ اور استقفار قبول کرے گا
31:44بشرت یہ کہ شرک میں کوئی مبتلا نہ ہو
31:46وہ ہر گناہ معاف کرے گا
31:48then God will get peace to speak
31:51before we forgive the Lord
31:54we are being in our hearts
31:55in our lives
32:01allah ever
32:04дов hascir
32:05has come from
32:07Him
32:10to help
32:11is
32:12following
32:13we are
32:15in
32:16God
32:16Allah
32:17Have
32:18so that these people are really uncomfortable with their love with their love
32:23and their love with love
32:25so that they have to be with their love
32:28so they have to be with their love
32:31so if you see their love with their love
32:34then they will be with their love
32:36Dr. Sohiba, can you message to me?
32:39زینب صاحبہ
32:41اللہ کی نعمتوں میں سے
32:43اللہ کی دولتوں میں سے
32:45سب سے عظیم دولت
32:47صراطِ مستقیم ہیں
32:48تو پروردگارِ عالم
32:50ہمیں سچی توبہ کرنے
32:52اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی
32:55توفیق عطا فرمائے
32:56بس میں یہاں پہ یہ کہنا چاہوں گے
33:00کہ اگر انسان
33:01جینے کے وجہ مقصد سے واقف ہو
33:03تو اس کی عمر کا ہر پل
33:05حیاتِ جاویدانی ہے
33:06تو اللہ رب العزت نے جب یہ زندگی
33:09کہ اتنے خوبصورت پل عطا کی ہیں
33:11تو اس میں انسانیں غلطیاں ہوتی ہیں
33:13سرزد ہوتی ہیں اس سے
33:14لیکن اگر کسی بندے کا سارے دن میں
33:16کیونکہ دیکھیں ہمارے علماء مشایخ
33:18اور ہمارے اسلاف ہمارے صلاحہ بھی
33:20پیان کرتے ہیں کہ اپنا محاظبہ ہر دم کرتے رہو
33:23تو جب اپنا محاظبہ رات بستر پہ لیٹھو
33:25تو پورے دن کا جائزہ لو
33:27نیکیاں ہوئی ہیں تو شکران آدھا کرو
33:29کوئی غلطی ہو گئی ہے تو
33:30اس پر اللہ رب العزت سے معافی طلب کریں
33:33اور وہ معاف کر دیتا ہے
33:34وہ بڑا غفور الرحیم پاک پروردگار عالم ہے
33:37ڈاکٹر صاحبہ آپ کی آمد کی بہت
33:39پشکور ہوں سادیہ آپ تشریف لائیں
33:41آپ کی آمد کا شکریہ
33:42فضائل توبہ پہ آج بات ہوئی جناب
33:45اور جس طرح سے ہم بار بار گفتگو کر رہے تھے
33:48توبہ کے حوالے سے
33:49اس کے فوائد اس کے فضائل کے تعلق سے
33:52بس معافی مانگ لیجئے
33:53اس رب کائنات سے
33:55جس طرح ہم نے کہا نا کہ اس کو پلٹنا پسند ہے
33:58بندے کا لوٹ آنا
33:59اس کو آنسو گرانا پسند ہے
34:02اپنا ماتھا
34:03اس رب کے حضور ٹیک دیجئے
34:05وہ رب معاف فرما دیتا ہے
34:07اور زندگی کا جو توبہ ہے نا
34:10اور جو استقفار ہے
34:11توبہ ہے نیا آغاز ہے
34:14یعنی ایک نئے عظم کے ساتھ
34:16جب بندہ اٹھتا ہے
34:17اس کی بارگاہ میں آنسو بہا کر
34:19توبہ کرتا ہے
34:20ایک نئے عظم کے ساتھ اٹھتا ہے
34:22تو وہ اپنی زندگی میں بہتر اور کامیاب انسان ہوتا ہے
34:26اس کے ساتھ ہی اپنی میزبان
34:28سیدہ زینب کو دیجئے گا اجازت
34:30فی امان اللہ
Comments

Recommended