ایک دفعہ کا ذکر ہے، جھنگ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رحیم چاچا رہتے تھے۔ رحیم چاچا کو مرغیوں سے بہت پیار تھا، لیکن ان کی مرغیاں… واہ، یہ تو بالکل جنگلی تھیں! ایک دن رحیم چاچا نے فیصلہ کیا کہ اب بس، یہ چنگلی مرغیاں بازار میں بیچنی ہیں۔ سوچا کہ بیس بیس روپے کلو میں تو اچھا پیسہ مل جائے گا۔ صبح سویرے اٹھے، ایک بڑی ٹوکری لی، اور مرغی خانے میں گھس گئے۔ “آؤ بیٹیوں، آج تمہاری شادی ہے!” یہ کہتے ہوئے انہوں نے پہلی مرغی کو پکڑنے کی کوشش کی۔ وہ مرغی — جس کا نام انہوں نے “شیرنی” رکھا تھا — ایک دم سے پر پھڑپھڑاتی ہوئی اڑی، سیدھا رحیم چاچا کے سر پر جا بیٹھی اور چوں چوں کی بجائے “کوکڑ کوکڑ کوووو!” ایسی آواز نکالی جیسے جنگ کا اعلان کر رہی ہو۔ دوسری مرغیاں بھی جاگ اٹھیں۔ بس پھر کیا تھا — پورا مرغی خانہ میدانِ جنگ بن گیا۔ ایک مرغی نے ٹوکری کو منہ سے پکڑ کر الٹ دیا۔ دوسری نے رحیم چاچا کی ٹانگ پر چونچ ماری۔ تیسری نے پر پھیلا کر دھماکہ خیز اڑان بھری اور سیدھا چھت پر جا بیٹھی۔ چوتھی نے… ارے وہ تو رحیم چاچا کے کندھے پر بیٹھ کر ان کی داڑھی کھینچنے لگی! رحیم چاچا چیخے: “ارے بیٹیوں! بس کرو! میں تمہارا باپ ہوں!” لیکن یہ چنگلی مرغیاں تو سننے والی تھیں ہی نہیں۔ ایک نے تو ایسی چالاکی دکھائی کہ رحیم چاچا کو گھوم کر پیچھے سے حملہ کیا اور ان کی پگڑی اڑا دی۔ پگڑی ہوا میں لپٹی لپٹی دور جا گری۔ اب منظر یہ تھا: رحیم چاچا کے ہاتھ میں دو مرغیاں پھڑپھڑا رہی تھیں، پر ان کے پرزے اڑ رہے تھے۔ ایک مرغی ان کی ٹوپی کھا رہی تھی۔ دو مرغیاں چھت پر بیٹھی “کوکڑ کوکڑ” کا کنسرٹ دے رہی تھیں۔ اور باقی سب مرغیاں پورے صحن میں دوڑ رہی تھیں جیسے آزادی کی جنگ لڑ رہی ہوں۔ آخر کار رحیم چاچا ہار مان گئے۔ بیٹھ گئے دھوپ میں، پسینے سے شرابور، اور بڑے پیار سے بولے: “اچھا… ٹھیک ہے۔ تم لوگ نہیں بیچنے جانا چاہتیں تو نہیں جاؤ گی۔ بس آج سے تم سب آزاد ہو۔ لیکن یاد رکھنا… کل سے دانہ واپس خود لانا پڑے گا!” مرغیاں ایک دم خاموش ہو گئیں۔ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگیں۔ شاید سوچ رہی تھیں کہ “یہ تو مفت کا دانہ کھا رہے تھے… اب کیا کریں؟” رحیم چاچا اٹھے، پگڑی اٹھائی، اور مسکراتے ہوئے گھر کی طرف چل دیے۔ پیچھے سے اب بھی ہلکی ہلکی “کوکڑ کوکڑ” کی آوازیں آ رہی تھیں… لیکن اب وہ آوازیں تھوڑی شرمندہ سی لگ رہی تھیں۔ اور یوں… چنگلی مرغیوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ “آسانی سے قابو میں آنے والی مرغیاں ہی اصل میں مرغیاں ہوتی ہیں۔ باقی سب تو بس… شیرنیاں ہوتی ہیں!” 🐔💥