00:00دوستی کا اصل مطلب
00:01شہزاد اور بلال شہر کے ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے
00:06دونوں بہت قریبی دوست تھے لیکن دونوں کی عادتیں بالکل مختلف تھیں
00:10شہزاد ہمیشہ ہر کام میں جلد بازی کرتا جبکہ بلال ہر بات سوچ سمجھ کر کرتا تھا
00:18ایک دن سکول سے واپسی پر دونوں نے ایک سائیکل ریس لگانے کا فیصلہ کیا
00:22راستے میں ایک پرانا پل آتا تھا جس کے نیچے گہرا نالا بہتا تھا
00:28شہزاد نے کہا
00:29بلال
00:30جو پہلے پل پار کرے گا وہ جیتے گا
00:33بلال نے پل کو دیکھا اور بولا
00:36پل بہت کمزور ہے
00:38آہستہ جانا بہتر ہے
00:41لیکن شہزاد نے اس کی بات پر ہنسی اڑا دی اور پوری رفتار سے سائیکل بھگئی
00:47جیسے ہی وہ پل کے بیچ پہنچا لکڑی ٹوٹ گئی اور وہ نیچے گرنے لگا
00:52بلال نے ایک لمحے کی بھی تاخیر کیے بغیر اپنی سائیکل پھیکی اور دورتا ہوا پل کے کنارے پہنچا
00:58اس نے شہزاد کا ہاتھ پکڑ لیا اور پوری طاقت سے اسے اوپر کھینچ لیا
01:03شہزاد سانس لیتے ہوئے بولا
01:06اگر تم نہ ہوتے تو آج می
01:09بلال مسکرا کر بولا
01:11دوست وہ نہیں جو بس ساتھ ہنسے
01:14دوست وہ ہے جو مشکل میں ہاتھ تھامے
01:18شہزاد نے شرمندگی سے سر جھکایا اور کہا
01:21آج مجھے سمجھ آیا
01:23کہ جیت سے زیادہ دوست کی بات سننا ضروری ہے
01:27اس دن کے بعد دونوں کی دوستی پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئی
01:32ساتھ
Comments