00:00بادشاہ نے غدھوں کو قطار میں جلتے دیکھا تو کمار سے پوچھا کہ تم منہیں کس طرح سے سیدھا رکھتے ہو
00:06کمار نے جواب دیا کہ جو بھی غدھا لائن توڑتا ہے میں اسے سزا دیتا ہوں
00:10بس اسی خوف سے یہ سب غدھے سیدھا جلتے ہیں
00:13بادشاہ نے کہا کہ کیا تم میرے ملک میں امن قائم کر سکتے ہو
00:17کمار نے حامی بھر لی شہر آئے تو بادشاہ نے اسے منصب دے دیا
00:21کمار کے سامنے ایک چوری کا مقدمہ پیش کیا گیا
00:25کمار نے فیصلہ سنایا کہ چور کے ہاتھ کاٹ دو جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا
00:30اور کمار کے کان میں بولا کہ جناب یہ وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے
00:35کمار نے دوبارہ کہا کہ چور کے ہاتھ کاٹ دو
00:38اس کے بعد خود وزیر نے کمار کے کان میں سرگوشی کی کہ جناب تھوڑا خیال کریں یہ اپنا ہی آدمی ہے
00:45کمار بولا کہ چور کے ہاتھ اور وزیر کی زبان کاٹ دو
00:49کمار کے صرف اس ایک فیصلے کے بعد پورے ملک میں امن و امان قائم ہو گیا
00:54کیا ہمارے ہاں بھی ایسا امن ہو سکتا ہے
Comments