Skip to playerSkip to main content
Hazrat Imam e Azam Abu Hanifa RA | Talk Show

Host: Qari Younas

Guest: Mufti Irfan Ullah Saifi, Mufti Ramzan Sialvi

Watch All the Latest Videos — Click Here➡️https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xiedg5tvI1FXydZNRmEFrO8J&si=vyUQhPUnF2GodGWR

#aryqtv #HazratImameAzamAbuHanifaRA #TalkShow

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00My name is Allah
00:11Bismillah Al-Rahim
00:13Alla the have a with us
00:15and everyone
00:16and everyone
00:18and everyone
00:19and everyone
00:20and everyone
00:21and everyone
00:22and everyone
00:23is
00:23the
00:25comments
00:26Please
00:27ры
00:27ker
00:27TV
00:28I'm
00:28you
00:28program
00:59محدث اور بہت بڑے فقی بہت بڑے مجاہد امیر المومنین فی الحدیث حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالی عنہ امام عاظم رضی اللہ تعالی کی بارگاہ میں یوں رقم تراز ہوتے ہیں اور یہ شعر آپ کے مزار نور پر بھی رقم ہے
01:16آپ فرماتے ہیں
01:17لَقَدْ زَانَ الْبِلَادِ وَمَنَّ عَلَيْهَا
01:20امام المسلمین ابو حنیفہ بی احکام وآثار وفقہ کا آیات الزبوری علی السحیفہ
01:31فَمَا فِي الْمَشْرِقَيْنِ لَهُ نَزِيرٌ وَلَا فِي الْمَغْرِبَيْنِ وَلَا بِكُوفَا
01:38حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ جتنے کائنات کے اندر شہر ہیں جتنے شہر میں لوگ آباد ہیں ان پر سب پر امام عاظم ابو حنیفہ کا احسان ہے
01:52کہ ان کے دل امام عاظم نے علم کے نور سے مزین کر دیئے ہیں اور آپ کے جو احکام اور اثار اور فقہ جو آپ نے کام کیا ہے
02:02فرمایا کہ آیات الزبوری علی السحیفہ وہ تو ایسے ہیں کہ زبور کی آیات کی طرح چمک رہے ہیں
02:09آپ فرماتے ہیں کہ مشرق ہو یا مغرب ہو تمام کائنات میں آپ کا ثانی اور آپ کا ہم سر کوئی نہیں ہے
02:17تو آج امام عاظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ نہوں کا حسین ذکر ہے اور اس حسین ذکر کے لیے ہمارے پینل میں حسین لوگ موجود ہیں
02:25بہت بڑی شخصیت بہت بڑا نام حضرت اللامہ پیر طریقت رحبر شریعت قاتل شرق و بیداد
02:32حضرت اللامہ مفتی ڈاکٹر محمد رمضان سیالوی خطیب اعظم داتا دربار ہمارے ساتھ جلوہ فرما ہے
02:38السلام علیکم پیسا کی بلہ آپ کا خیر مقدم ہے
02:41ہمارے ساتھ دوسری شخصیت انتہائی محتبر اور ان سے اکثر رہنمائی حاصل کرتے رہتے ہیں
02:47حضرت اللامہ مفتی عرفان اللہ سیفی صاحب دامت برکاتم القصیہ
02:51السلام علیکم دعستہ قبلہ آپ کا بھی خیر مقدم ہے
02:54حضرت قبلہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں
02:57حضرت اللامہ مولانا مفتی محمد رمضان سیالوی صاحب قبلہ
02:59سب سے پہلے امام آدم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا
03:03ولادت کا زمانہ اور آپ کا خاندانی پس منظر جو ہے
03:06میں چاہوں گا اس پر روشن ڈالی
03:07بہت شکریہ ہماری اور ہمارے ناظرین و سامعین کی خوشبختی ہے
03:13کہ آج ہم امت کے ایک بہت بڑے محسن کے ذکر کے ساتھ حاضر ہیں
03:17کہ جن کی اتباع کرنے والے اور فقہ میں جن کی پیروی کرنے والے
03:22آج بھی روح زمین پر بسنے والے مسلمانوں کا ستر سے زائد فیصد ہیں
03:28آج بھی
03:29جن کی فقہی نوادرات اور جن کی تشریحات اور تعبیرات
03:36اس قدر قبول عام پا گئیں اور اس قدر وہ فطرت اور یسر کے قریب ہوئیں
03:43کہ امت نے ہمیشہ اسے اختیار فرمایا اور اس پر بڑی گفتگو ہی
03:48اور بالکل سوال کے جواب پر آتے ہوئے
03:51امام عظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ و علیہ الرحمہ
03:56آپ کا پورا نام حضرت نومان والد گرامی کا نام ثابت
04:02اور آپ کے دادا کا نام حضرت زوتی علیہ الرحمہ ہے
04:07آپ کی ولادت اسی ہجری میں ہوئی ہے جو اسوی اعتبار سے چھے سو ننانوے اسوی بنتا ہے
04:14اور آپ کی ولادت کوفہ عراق میں ہوئی
04:19اور یہ وہ زمانہ ہے جو بنیادی طور پر تابعین کا زمانہ ہے
04:23خیر القرون قرنی ثم اللذین یلونہم
04:27ثم اللذین یلونہم
04:28اگرچہ اس وقت کچھ صحابہ اعظام بھی موجود ہیں
04:34حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کوفہ
04:38اس وقت میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا
04:42اور ان کی روایات اور ان کے طریق و طرز عمل و تشریح
04:47فی الحدیث اور تشریح فی القرآن اور عمل بالرسول صلی اللہ علیہ وسلم
04:52اس کا مرکز و ملجا و ماوہ ہے اور علم کا مرکز اس زمانے میں اس وقت کوفہ ہے
05:01اس کی وجہ کہ اسے مسکن بنایا اس ہستی نے کہ جسے دنیا باب العلم کہتی ہے
05:10اور آپ کی ولادت با سعادت وہاں ہوئی خاندانی طور پہ آپ کے دادا اور آپ کے والد جو ہیں وہ
05:23تجارت بزنسمن تھے اور رشمی کپڑے کی تجارت کرتے تھے
05:28جسے آپ کے والد گرامی نے عوج اور کمال تک پہنچایا اور حضرت امام آزم ابو حنیفہ
05:34بداتے خود بھی ان تمام فقہی علمی تعلیم اور تدریس کے ساتھ آپ نے پوری زندگی
05:40یہ رشمی کپڑے کا کام کیا اور روایات میں موجود ہے کہ اس زمانے میں آپ کے جو بحری
05:46جہاد اور شپس ہیں وہ آپ کا کپڑا لے کر مختلف ممالک میں تجارت کیا کرتے تھے
05:51یعنی درس و تدریس تک صرف میدود نہیں رہے
05:53جی جی وہ چونکہ خاندانی طور پہ آپ کا کام تھا
05:56کیا بات؟
05:57اور کوفے میں آپ اپنے اس خاندانی پسے منظر کی وجہ سے اور بزنس کی وجہ سے آپ ہمیشہ یاد رکھیں
06:10جو سوسائٹی میں لوگ نمائع ہوتے ہیں نا وہ بنیادی طور پر دو تین وجوہات ہیں اس کی
06:18کہ جس میں وہ نمائع ہوتے ہیں
06:20ایک تو اپنے علم اور اپنے فضل کی وجہ سے جنہیں اللہ تعالیٰ نمائع کرتا ہے
06:24دوسرے نمبر پر اس کے ساتھ ان کا نصبِ عالی ساداتِ اعزام ہیں
06:29حضور علیہ السلام کی نسبت کے اعتبار سے وہ نمائع ہر زمانے میں رہے اور رہتے ہیں
06:34اور تیسری جو بزنس کمیونٹی ہے وہ ہمیشہ ہر زمانے میں نمائع رہی اپنے بہت سارے امور کی وجہ سے
06:40تو امام آدم بنی فرامت اللہ تعالیٰ علیہ آپ کا جو خاندانی پسے منظر ہے وہ علمی نہیں ہے
06:47ٹھیک ٹھیک اللہ حکر
06:49دیکھیں جیسے میں نے عرض کیا ہے وہ بزنس مین کا ہے لیکن آپ اپنے خاندان اپنے گھر میں آپ علم کی طرف رغبت کی آپ کی ہوئی جس پہ ہم انشاءاللہ آگے بات کریں گے
06:58تو آپ اپنے خاندانی اعتبار سے اور یہ موجود ہیں کہ آپ دادا حضرت زوتی علیہ الرحمہ نے حضرت مولا کائنات حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ ان کے دست مبارک پر آپ نے اسلام قبول کیا تھا
07:12اس میں اتفاق ہے کہ آپ فارسی النسل ہیں آپ اصلاً عربی نہیں ہیں بات سمجھ گئے اور حضرت مولا کائنات کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا
07:23اور آپ نے اور یہ بھی روایت میں موجود ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کے دادا جان آپ کو لے کر مولا کائنات کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے بشارت دی اور دعا سے نوازا
07:34تو میں اگر یہ کہوں کہ امت کو جو فقہ حنفی اور امام عاظم ابو حنیفہ علی الرحمہ کے علم کی جو فیضان اور خیرات امت کو عطا ہوا ہے
07:44اس کا مرکز منبع اور معوہ حضور حضرت مولا کائنات آپ کی دعا اور آپ کی وہ نظر کرم اور شفقت ہے
07:52کیا کہنے مفتی صاحب نے بتایا کہ آپ کے والدے گرامی آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ بھی کہا
07:59مولا کائنات کی بارگاہ میں کہ دعا کریں اللہ مجھے بیٹا عطا کرے تو مولا کائنات کی دعا پر رب کائنات نے ابو حنیفہ آپ کو عطا فرمایا
08:07میں یوں کہہ سکتا ہوں جس طرح میرے آقا نے فرمایا کہ میں دعا ابراہیم ہوں تو ابو حنیفہ وہ ہیں جو دعا مولا علی رماللہ عجل کریم ہیں
08:14جناب کبلہ محترم المقام جنابے ڈاکٹر مفتی عرفان علی صحیف صاحب کی جانب بڑھتے ہیں
08:19محترم قبلہ امام ابو حنیفہ رحمت اللہ تعالیٰ علیہ آپ کا نام آپ کی کنیت اور آپ کے القابات کے حوالے سے میں چاہتا ہوں روشنی ڈالیے گئے
08:27بسم اللہ
08:27بہت شکریہ بسم اللہ الرحمن الرحیم
08:30جس طرح آپ کی شخصیت بہت بلند ہے
08:34اسی طرح آپ کے القاب بھی وہ ہیں جو ہمارے حد و شمار سے بہت زیادہ ہیں
08:41بے شک
08:42یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جتنی بڑی شخصیت سے نوازا اور جتنی بڑی اللہ تعالیٰ نے آپ کو عروج اور کمال عطا فرمایا
08:50اسی طرح القاب بھی آپ کے اسی طرح کے
08:51مثلا آپ کو امام العائمہ کہا جاتا ہے
08:56سراج العائمہ کہا جاتا ہے
08:58اور آپ کا جو لقب بہت زیادہ معروف ہے وہ امام آزم کا لقب معروف ہے
09:04آپ کی کنیت ابو حنیفہ یہ معروف ہے اور بہت سارے لوگوں کو نام کا بھی علم نہیں ہے
09:11ابو حنیفہ جو کنیت ہے اس سے آپ کو زیادہ پہنچانا جاتا ہے
09:14جس طرح سنگینا صدیقہ کوئی ابو بکر کہتے ہیں
09:16ابو بکر کہتے ہیں
09:17اور میں یہاں یہ بھی ارز کروں کہ جو کنیت ہوتی ہے وہ دو طرح سے ہوتی ہیں
09:22ایک کنیت نسب کی ہوتی ہے
09:24جنہی جس کو عام طور پر بیٹے کی طرف نسبت کرتے ہوئے
09:28جس طرح حضرت مولا قائنات کی کنیت ابو الحسن ہے
09:31حضرت مامی حسن کی نسبت سے ہے
09:32اسی طرح دیگر
09:34لیکن بعض اوقات کسی نسبت کی وجہ سے
09:36کسی چیز کے ساتھ تعلق کی وجہ سے بھی
09:39وہ کسی خاص وصف کی وجہ سے بھی کنیت ہو جاتی ہے
09:42جیسے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
09:44تو بکر حضرت ابو بکر صدیق کے کوئی بیٹے نہیں ہیں
09:47جس کی وجہ سے ابو بکر ہے
09:49بکر آپ کے اندر وصف تھا
09:51کہ آپ نیکی کے کام میں بہت جلدی کرتے تھے
09:53اور پہل کرتے تھے
09:54سب قتل لے جاتے ہیں
09:55اس وجہ سے آپ کو ابو بکر کہا جاتا
09:57تو سیدنا حضرت نامان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ
10:01کو ابو حنیفہ اس لیے کہا جاتا
10:03کہ آپ کے کوئی بیٹی نہیں ہے
10:07حنیفہ
10:07بعض لوگ کہتے ہیں
10:08کہ آپ کی کوئی بیٹی ہے
10:09جس کی نسبت سے آپ کو ابو حنیفہ کہا جاتا
10:10نہیں
10:10بلکہ آپ کے اندر حق کو قبول کر لینے کا
10:14اور ہر باطل سے کٹ کے صرف حق کی طرف مائل ہونے کا
10:18اور جان اتنا تھا
10:19کہ آپ کبھی بھی باطل کی طرف گئی نہیں ہیں
10:21اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے اندر
10:23ہمیں شہاکو کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کی تھی
10:26اس وجہ سے آپ کو ابو حنیفہ کہا جاتا ہے
10:28میں ایک کتاب میں پڑھ رہا تھا
10:30کہ بعض کہتے ہیں کہ ایک خاص قسم کی دوات ہوتی ہے
10:32جس کو عربی میں حنیفہ کہتے ہیں
10:35امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کی جو مجلس ہوتی تھی
10:38مجلس فقہ اور آپ کی جو تدریس کی مجلس ہوتی تھی
10:42اس میں شگردوں کے پاس دواتیں اتنی ہوتی تھی
10:45کہ کسرت کے ساتھ شگرد آپ کے مسائل بیان کرتے
10:48وہ لکھا کرتے تھے
10:49تو کسرت دواتوں کی کسرت کی وجہ سے بھی
10:52آپ کو کہا جانے لگا ابو حنیفہ
10:54بہرحال لیکن زیادہ جو علماء نے لکھا ہے وہ یہ
10:57کہ ابو حنیفہ کا لفظ جو
10:59ہم کہتے ہیں
11:00اللہ تعالی نے قرآن میں حضرت سیدنا ابراہیم کو حنیف کہا
11:08تو حنیف کا مطلب ہے ہر باطل سے کٹ کے حق کی طرف مائل ہونے والے
11:12تو حضرت سیدنا امام ابو حنیفہ کے اندر یہ صلاحیت تھی
11:15اس وجہ سے آپ کو ابو حنیفہ کہا گیا
11:16تو امام آزم اس وجہ سے کہا جاتا ہے
11:19کہ آپ جتنے بھی آئمہ ہیں
11:21آپ یا ان کے دادا استاد بنتے ہیں
11:23یا کسی طرح جو امام ہیں وہ چاہے
11:27امام جو ہیں وہ فقہ ہیں یا حدیث کے ہیں
11:29ان کو کسی نہ کسی نسبت سے
11:31حضرت امام آزم ابو حنیفہ کا فیض ملتا ہے
11:34حضرت امام ابو یوسف کی نسبت سے
11:36امام محمد کی نسبت سے ملے
11:39یا دیگر آپ کے شگردوں کی نسبت سے ملے
11:41وہ فیض ملتا ہے اس وجہ سے
11:42جتنے آئمہ فقہا خاص طور پر
11:44ان کے سب کے امام آپ کو
11:46امام آزم کہا جاتا ہے
11:47سب سے بڑے امام
11:48اور جس طرح ابلا مفتی صاحب نے فرمایا
11:50کہ اس وقت پوری دنیا کے اندر
11:52سب سے زیادہ جن کی فقہ
11:54فولو کی جاتی ہے وہ امام ابو حنیفہ
11:56اس اعتبار سے بھی آپ کو امام آزم
11:59کہا جاتا ہے
11:59اور پھر امام العائمہ
12:02کہ آپ جو عائمہ ہیں امام ہیں
12:03جن کو اللہ نے یہ صلاحیت دی ہے
12:05کہ ان کے اندر امام ہونے کا وصف ہے
12:06اللہ نے ان کا بھی امام ابو حنیفہ
12:08رحمت اللہ تعالی بنایا ہوا ہے
12:10اور سراج العائمہ
12:12اور آپ یعنی جتنے بھی امام ہیں
12:16آپ ان کا چراغ ہیں
12:17یعنی ان کو جو روشنی ملتی ہے
12:18فقہا فرماتے ہیں
12:21غالباً حضرت امام شافی رحمت اللہ
12:22کے قول ہے
12:23کہ کانن ناسو
12:25اناسو کلہم عیالن
12:26ابی حنیفتہ فی الفقہ
12:29جتنے بھی لوگ ہیں
12:30وہ فقہ کے اندر امام ابو حنیفہ
12:32کے محتاج ہیں
12:34اگر ان سے فیض نہیں ملے گا تو ان کے اندر کمی رہے گی
12:37فیض امام ابو حنیفہ سے مکمل ملے گا
12:40تو فقہ کے اندر تکمیل ہوگی
12:41کیا بات
12:42ناظرین اکرام امام ابو حنیفہ
12:44رحمت اللہ تعالیٰ
12:46ایک شجر ہے ایسا علم کا
12:48جس کے سائے میں بڑے بڑے نظر آتے ہیں
12:50یہی وجہ ہے
12:51سیجنہ امام شافی رحمت اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا
12:54کہ
12:54جتنے بھی مشتہید فقہاں
12:58ہمیں نظر آتے ہیں
12:59وہ اس طرح امام اعظم کے بال اور بچے نظر آتے ہیں
13:02ملاقات کرتے ہیں
13:03جی مکرم ناظرین آپ کا خیر مقدم ہے
13:06اور آج ہم ذکر کر رہے ہیں
13:07اور ہماری خوشبختی ہے امام اعظم
13:09ابو حنیفہ رحمت اللہ تعالیٰ کا حسین ذکر ہے
13:12اور ہمارے ساتھ مختدر شخصیہ جلوہ فرما ہے
13:15اور قبل مفتی صاحب جلوہ فرما ہے
13:17آپ کا تعلق حضور فیض اعالم سے ہے
13:19اور کئی سالوں سے ہے
13:20اور میں ایک بات ارز کرنا چاہتا ہوں
13:22حضور فیض اعالم حضرت داتا گنج بخش
13:24علی حجویری رحمت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
13:26کہ میں شام میں دمشق کے علاقے میں تھا
13:29اور سکنہ بلال حفشی رضی اللہ تعالیٰ
13:32انہوں کے مزار نور پہ قبر پہ حاضر ہوا
13:34تو وہاں میں نے استراحت کی سو گیا
13:36اور مقدر جا گیا
13:38تو میں نے دیکھا کہ اپنے آپ کو حرم کعبہ میں پایا
13:40اور میں نے حرم کعبہ میں دیکھا
13:42کہ کریم آقا بنی شہبہ کے دروازے سے
13:44تشریف لا رہے ہیں
13:46اور آپ کے پاس ایک معمر شخص ہے
13:49جس کو آپ نے گود میں اٹھایا ہوا ہے
13:51تو میں نے سرکار دو عالم کے ہاتھوں کو بوسا دیا
13:53قدموں کو بوسا دیا
13:54اور دل میں سوچ رہا تھا یہ کون خوشبخت ہے
13:57جو سرکار دو عالم کی گود میں ہے
13:59تو کریم آقا نے دل کی بات کو جان لیا
14:02فرمایا علی حجویری
14:03یہ تیرہ امام ہے
14:05اور میری امت کا امام ہے
14:07میرے آپ کے ملک کا امام ہے
14:08تو قبلہ امام عزب حنیفہ کی بارگاہ میں چلتے ہیں
14:11اور آپ سے فیض حاصل کرتے ہیں
14:13کہ امام عزب حنیفہ رضی اللہ تعالی کے
14:15ابتدائی حالات
14:17تو آپ نے کچھ بیان فرمائے
14:18مزید اس میں کچھ اضافہ فرمائے گا
14:19اور کس طرح آپ دین کے طرح براغب ہوئے ہیں
14:22رہنمائی فرمائے گا
14:23یہ جو آپ نے حضور فیض عالم
14:25داتا ذنبق صل الرحمہ
14:27کا خواب اور
14:28ذکر کیا ہے
14:30تو اس میں حضور فیض عالم
14:33نے اس کے اوپر بہت خوبصورت
14:36اس خواب کی تعبیر بھی بیان کی ہے
14:38آپ نے کشف المعجوب میں
14:40لیکن ظاہر ہے وہ ابھی
14:41ہمارے سوال سے متعلق نہیں
14:43لیکن وہ ہمارے قارئین
14:44ناظرین جو ہیں
14:46حضور داتا صاحب نے
14:49جو تشریح کیا ہے
14:50وہ ایک ایسی یونیک تشریح ہے
14:53کہ دنیا کی کسی اور کتاب میں نہیں ملتی
14:55اور امام آزم عبوغانیفہ
14:57علی رحمہ کے تذکروں میں
14:58یہ نقطہ کسی کتاب میں نہیں ملتا
15:00حضور فیض عالم نے بہن کیا
15:01اور اسی میں آپ نے جب ذکر کیا
15:03القابات کی بار
15:04داکٹر صاحب نے بڑی خوبصورت فرمائی
15:06تو آپ نے القابات
15:07امام آزم عبوغانیفہ کے
15:09جو کشف المعجوب میں بیان کیے ہیں
15:10آپ فرماتے ہیں
15:12امام امامہ مقتدائے سنیاں
15:14امام امامہ تو
15:18امام آزم کا فارسی میں ترجمہ ہے
15:20اور آپ نے مقتدائے سنیاں
15:22آپ نے اپنے اور
15:23امام آزم عبوغانیفہ علی رحمہ کی
15:25جو اعتقادی روش ہے
15:27آپ نے اس کو بھی بیان کیا
15:28آپ نے جو فرمایا
15:30علم کی طرف آپ کی رحمت جو ہے
15:32بنیادی طور پر آپ چونکہ
15:35آسودہ تھے
15:36آسودہ ہونے کا مطلب کہ
15:38جیسے ایک نارمل یا غریب
15:42بچوں کو اپنی ذریعہ
15:43معاش کی فکر ہوتی ہے
15:45کہ میں نے یار کچھ بننا ہے
15:47میں نے کچھ کرنا ہے
15:48آپ اس طرف سے فری تھے
15:50جیسے میں نے ارز کیا کہ
15:51والد گرامی کا
15:52رشم کے کپڑے کا کاروبار تھا
15:54اس زمانے میں
15:55اور بہت پھیلا ہوا تھا
15:56تو آپ
15:57اپنی اس
15:59نزاکتِ طبعہ
16:01اور اپنی جو
16:01میں عزیوم کرتا ہوں
16:03کہ آپ ایک شہزادوں کی طرح
16:04اپنی جو ہوتی ہے
16:06اس نازو نعم میں
16:07آپ بزار میں نکل جاتے تھے
16:10ٹھیک ٹھیک
16:11اگرچہ اصلاً وہ
16:12اپنے کاروبار
16:13یا اس کے لئے نکلتے ہوں گے
16:15لیکن اس زمانے میں
16:16جو
16:17ہمیں کوفہ شہر
16:18اور اس کی جو
16:20علمی بہار
16:21جس کو ہم
16:22تاریخ کے آئینے میں
16:24کچھ ہم
16:25تصوراتی دنیا میں
16:26ہم دیکھ سکتے ہیں
16:27تو اس میں
16:28علمی حلقات جو ہیں
16:30وہ
16:31قائم ہوتے تھے
16:33ٹھیک ٹھیک
16:34عوام الناس کے لئے بھی
16:35خواس کے لئے بھی
16:36اور وہ
16:37علمی حلقے جو ہیں
16:38وہ مساجد تک
16:39محدود نہیں تھے
16:40برکہ ہر پبلک سپیس
16:42آپ پارک کہہ لیجیے
16:43چوک کہہ لیجیے
16:44تو اس میں جو
16:45علم
16:46کے مینارے لوگ ہیں
16:48وہ وہاں بیٹھ کے
16:49علمی نکات اور علمی گفتگو کرتے تھے
16:52تو حضرت امام عظم مریفہ
16:53رحمت اللہ علیہ
16:54اس کی خوش اچھی نہیں کرتے
16:55لیکن آپ کی طبیعت
16:56علم کلام کی طرف
16:57جو ہے نا وہ زیادہ
16:59رغبت تھی
17:00علم کلام کے بہت بڑے امام
17:02گزرے ہیں
17:02حضرت امام عامر شاہ بی
17:04رضی اللہ تعالیٰ عنہ
17:06آپ ان کی مجلس میں جب بیٹھے
17:08تو آپ نے کچھ استفسار کیا
17:10حضرت ابو عامر شاہ بی
17:13رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
17:14آپ نے جب ان کی دیکھا
17:16ان کو سارا بتایا
17:17تو حضرت امام عامر شاہ بی
17:20نے فرمایا
17:20کہ بھئی تم ایسا کرو
17:22تمہاری جو طبیعت اور تمہارا رجحان ہے
17:25وہ
17:26فقہ کی طرف بہت زیادہ ہے
17:28تو تم ایسا کرو
17:29کہ
17:29حماد بن سلیمان
17:32ان کی مجلس
17:32اور ان کے درس
17:33اور ان کے لیکچرز میں جایا کرو
17:35واہ واہ واہ
17:36کیا کہنا جناب
17:37آپ وہاں سے پھر
17:39حضرت شیخ حماد بن سلیمان
17:40رضی اللہ تعالیٰ عنہ
17:41ان کے حلقے درس میں داخل ہو گئے
17:44تب ہی اس رہنمائی کی وجہ سے
17:46اور روایات میں موجود ہے
17:47کہ پھر آپ
17:48ان کی مجلس میں
17:50ایسی دلچسپی ہوئی
17:51کہ اٹھارہ سال
17:52حضرت حماد بن سلیمان
17:56رضی اللہ تعالیٰ عنہ
17:57ان کی
17:58مجلس میں آپ
17:59صحبت میں رہے
18:00اور پھر اس علم کے
18:02اس درجے پر
18:03اور اس مقام پر پہنچے
18:04کیوں
18:04ہم اگر اس ٹائم کو
18:06مطلب ہے
18:08اکڈیمیکلی اور
18:09ایڈوکیشنلی
18:09انسٹیوشنلی
18:11اگر ہم اس کو
18:11تھوڑا ری سرچ کریں
18:12تو
18:13وہ زمانہ
18:15جس میں علم کی بنیادیں
18:16جیسے میں عرض کیا
18:17حضرت مولا کائنات
18:18نے رکھی
18:19حضرت عبداللہ بن مسعود
18:20رضی اللہ تعالیٰ عنہ
18:22جیسے صحابی
18:22حضرت انس بن مالک
18:24رضی اللہ تعالیٰ عنہ
18:25جیسے صحابی
18:26جہاں سکونت پذیر رہے
18:28اور علم سے
18:28سہراب کیا
18:29اس زمانے میں
18:30تو
18:31اس کے جو اثرات
18:32اور تابعین
18:33چار ہزار
18:34تقریباً
18:35اساتذہ سے
18:36ڈیفرنٹ جو ہیں
18:37امام عظم بنیفہ نے
18:38اقتصاب فیض کیا
18:40مختلف علوم میں
18:41کیونکہ اس وقت بھی
18:42سپیشلائزیشن کا دور تھا
18:44حدیث میں
18:45تفسیر میں
18:46باقی علوم میں
18:47فقہ میں
18:47علم کلام میں
18:48علم عدب میں
18:49لغت میں
18:50باقی ساری چیزوں میں
18:51تو پھر وہ آپ
18:52اگر میں
18:53اس کو
18:54حضرت
18:54امام عظم بنیفہ علیہ رحمہ
18:57کی علمی شانہ
18:57اور مقام
18:58اور ان کے کام
18:59کو سامنے رکھتے ہوئے
19:00ماشاءاللہ
19:01اگر میں یوں کہوں
19:02کہ اس وقت
19:03کوفہ جو
19:04علم اور فن
19:05کا مرکز تھا
19:06امام عظم
19:07ابو عنیفہ علیہ رحمہ
19:08نے
19:09اس بکھرے ہوئے
19:10علم کو
19:11وہ حدیث کا تھا
19:13تفسیر کا تھا
19:14نظم دیا
19:14وہ منطق کا تھا
19:15وہ عدب کا تھا
19:16وہ فلسفہ کا تھا
19:17وہ لغت کا تھا
19:19وہ تفسیر کا تھا
19:19کوئی بھی علم جو تھا
19:21امام عظم
19:22ابو عنیفہ علیہ رحمہ
19:23نے
19:23اپنے زمانے کے
19:25ہر صاحب فن سے
19:26اس علم کو کشید کیا
19:28اس علم کو حاصل کر کے
19:31ایک پھر وقت آیا
19:32کہ امام عظم
19:33ابو عنیفہ
19:34ان تمام علوم
19:35کا مرکز
19:35منبع و ماوہ
19:36حضرت امام عظم
19:37ابو عنیفہ بنے
19:38یہی وجہ ہے
19:39کہ جس منصب علم
19:41اور جس منصب فضل پر
19:42آپ کے شیخ
19:43حضرت حماد تھے
19:44آپ ان کے بعد
19:46اسی منصب پر
19:46پھر آپ
19:47کیا کہنے مفتی صاحب کیوں
19:48کمال کر دیں
19:48ناظرین اکرام حضور قبل
19:49مفتی صاحب نے
19:50ایک بہت بڑے
19:51امام کا ذکر کیا
19:52امام آمن شابی
20:01رہنمائی کی
20:02امام محمد کی
20:03کبلہ ڈاک صاحب کی
20:04خدمت میں حاضر ہوتے ہیں
20:05ڈاک صاحب
20:06امام عظم ابو عنیفہ
20:07کا بھی
20:07حضور قبلہ مفتی صاحب
20:08نے ذکر کیا
20:09بڑے بڑے آئمہ کے سامنے
20:10آپ نے زانی و تلمز دیکھ کیا
20:11چار ہزار کا
20:12آپ نے ذکر فرمایا ہے
20:13تو میں چاہوں گا
20:14کہ کچھ اساتذہ
20:15کچھ شیوخ کا نام
20:16ذرا بتائیں
20:17تاکہ ہمیں
20:18ان کے ناموں سے بھی
20:20روشنی حاصل ہو جائے
20:21بسم اللہ
20:22اس میں کوئی شک نہیں ہے
20:24کہ آپ نے
20:25اپنے اس زمانے کے
20:26بڑے بڑے شیوخ سے
20:27کساب فیض کیا
20:29ٹھیک
20:29میں ایک
20:30تمہیدی بات پہلے
20:32اس حوالے سے ارز کروں
20:32کہ جو فقی ہوتا ہے
20:35اس کے لیے
20:36بہت ساری علوم کا
20:37جاننا ضروری ہوتا ہے
20:38کیونکہ اس نے
20:39مسائل کا استنباد کرنا ہوتا ہے
20:41قرآن سے بھی
20:42حدیث سے بھی
20:43اور
20:44اثار صحابہ سے بھی
20:45اور دیگر
20:46جو علوم ہیں
20:47ان سے بھی
20:48اس وجہ سے
20:49اس کے لیے ضروری ہے
20:50کہ وہ تمام علوم کا جامعہ ہو
20:51ٹھیک ہے
20:52امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ نے
20:54جس طرح مفتی صاحب بیان فرما رہے تھے
20:56تمام
20:56جو
20:58شیوخ تھے
20:59اور
21:00اپنے اپنے
21:01الہدہ الہدہ فیلڈ میں
21:02وہ سپیشل سمجھ جاتے تھے
21:04ان سے
21:05اقتصاب فیض کیا
21:06مثلا
21:07سب سے پہلے تو ہم
21:09اہل بیعت اطہار کے گرانے سے شروع کرتے ہیں
21:11کہ جہاں سے
21:12حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کی
21:14جو دعا تھی
21:16جو مولا کائنات کی دعا کا ذکر ہوا
21:18آپ نے ذکر فرمایا
21:20فرماتے ہیں
21:20لَوْ لَسْسَنَتَانِ لَحَلَكَ النَّومَان
21:23اگر میری زندگی کے دو سال نہ ہوتے
21:25تو نومان ہلاک ہو جاتا
21:26اور وہ سال دو ہیں
21:27جو حضرت امام جعفر السادق
21:29رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں گزرے
21:31اسی طرح حضرت امام باقر
21:32رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ
21:34آپ کی ملاقات کا بھی
21:36ذکر کتب میں موجود ہے
21:37جس کا مضال ہے
21:38حضرت امام باقر
21:39اور حضرت امام جعفر السادق
21:41رضی اللہ عنہما
21:43ان سے اقتصاب فیض کیا
21:44باز روایات میں
21:46حضرت امام باقر کے جو بھائی ہیں
21:48حضرت زید بن علی
21:49امام زید العابدین کے بیٹے
21:50ان کے ساتھ ملاقاتوں کا ذکر بھی ہے
21:52اور ان کے ساتھ صحبت کا بھی ذکر ہے
21:55یقیناً جب ان سے ملاقاتیں ہوئیں گے ہیں
21:57تو پھر اقتصاب فیض بھی ان سے ضرور ہوا ہوگا
21:59تو یہ اہلِ بیعتِ اطحار
22:01جو منبعِ علمِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں
22:05ان سے آپ نے اقتصاب کیا
22:06پھر اس کے بعد آپ جو فقی ہیں
22:10حماد جن کا ذکر حضرت قبلہ مفتی صاحب نے فرمایا
22:14ان سے آپ نے 18 سال علمِ فق حاصل کیا
22:17اور آپ اس وقت تک
22:19فق کے اندر بقاعدہ طور پر
22:22فتوہ سادرنی فرماتے تھے
22:24جب تک حضرت حماد موجود تھے
22:26ان کی زندگی کے بعد
22:28پھر آپ نے مسائل جو ہے وہ بیان شروع کرنا ہے
22:30اچھا پھر میں ارز کروں کہ
22:32حضرت امامِ عاظبہ حنیفہ رحمت اللہ علیہ نے
22:36حضرت انس بن مالک
22:38ان کی زیارت کی ہے
22:40وہ بسرہ میں تھے
22:41اور حضرت عبداللہ بن ابی عوفہ
22:44وہ ادھر کوفہ میں تھے
22:46ان کی زیارت کی
22:47یعنی یہ دونوں صحابی رسول ہیں
22:48اور حضرت امامِ ابو حنیفہ خود فرماتے ہیں
22:51کہ بسرہ اور کوفہ کے مشایخ میں
22:53کوئی ایسا شیخ مجھے یاد نہیں ہے
22:56کہ میں نے جن کی صدمت میں حاضر ہو کر
22:58ان سے اقتصابِ فیض کیا
22:59یعنی چار ہزار کا ذکر تو کیا
23:02قبلہ مفتی صاحب نے
23:03تو آپ اندازہ لگائیں
23:05کہ کن کن سے انہوں نے اقتصابِ فیض کیا
23:07اچھا پھر اس کے بعد
23:08حضرت عطا بن ابی رباہ
23:10یہ مکہ کے فقی تھے
23:11ان سے وہاں جا کر اقتصابِ فیض کیا
23:13اور روایات لی
23:14حضرت سالم
23:15یہ حضرت عبداللہ بن عمر کے بیٹے ہیں
23:19یعنی حضرت عبداللہ بن عمر کے خادم اور شگر تھے
23:30ان سے اقتصابِ فیض کیا
23:31ان کا روایت میں ذکر ہے
23:32حضرت اکرمہ
23:33یہ حضرت عبداللہ بن عباس کے تفسیر کے شگرد ہیں
23:36ان سے تفسیری روایات لی ہیں
23:38اور حضرت ابراہیم نخعی
23:40حضرت القما
23:41یہ بڑے بڑے نام ہیں
23:43آپ ایک ایک شخصیت کو دیکھیں
23:46تو آپ دیکھیں گے
23:46کہ وہ پورے کا پورا ایک مکتب ہیں
23:49اور پورے کا پورا ایک سکول آف تھوٹ ہیں
23:52جن سے اقتصابِ فیض
23:54حضرت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ نے کیا
23:56اور پھر ان سے
23:57جو حصہ تھا
24:00وہ لیا
24:01اور لے کر پھر جامع بنے
24:03اور جامع بن کے پھر آگے علوم کی خیرات کی
24:06اللہ تبارک و تعالیٰ نے
24:07اسی وجہ سے ان کو
24:08سراج العائمہ
24:09اور امام العائمہ ہونے کا شرفات
24:11ناظرین اکرم آپ کے اساتذہ میں
24:14ایک بہت بڑا نام آتا ہے
24:15امام عامش کا
24:15وہ بہت بڑی ہستی تھے
24:17اور جناب انہوں نے
24:18بہت سے صحابہ سے اقتصابِ علم
24:20اور فیض حاصل کیا
24:21اور آپ کی بارگاہ میں محاضر ہوئے
24:23سو دن رہے
24:24روزانہ ایک حدیث پاک پڑھی جاتی
24:27اور طالبہ تحریر کر لیتے
24:29لیکن آپ سنتے تھے صرف
24:30سو دن کے بعد ایک شخص آیا
24:32آپ کی بارگاہ میں
24:33کسی سائل نے سوال کیا
24:34تو آپ نے اس کا جواب نہ دیا
24:36تو امام عاظم ابو حنیفہ
24:37کہنے لگے
24:38اگر آپ کے اجازت ہو
24:39تو میں جواب دے دوں
24:40آپ نے فوراں جواب عطا کر دیا
24:42تو آپ نے فرمایا
24:43کہ امام عاظم ابو حنیفہ
24:45من این الاکا
24:47یا ابا حنیفہ
24:47یہ تم نے کہاں سے حاصل کیا ہے
24:49تو عرض کی
24:50کہ میں نے ایک ہزار ساتذہ سے
24:52اس وقت ایک ہزار ساتذہ تھے
24:53بعد میں تو زیادہ ہو گئے
24:55تو میں نے اقتصاب کیا ہے
24:56اور سو حدیثیں
24:57جو میں نے آپ سے پڑھی ہیں
24:58ایک گھنٹے میں ساری سنا دیں
25:00تو جناب امام عامش
25:02کہنے لگے
25:02تو فقہ کے اندر بھی کمال ہے
25:06اور حدیث کے اندر بھی کمال ہے
25:07اور تیرہ کوئی ثانی نہیں ہے
25:09تو انشاءاللہ ذکر امام عاظم ابو حنیفہ
25:11جاری ہے
25:11ملاقات کرتے ہیں
25:13وقفے کے بعد
25:14جی مکرم ناظرین
25:15آپ کا خیر مقدم ہے
25:16امام عاظم ابو حنیفہ
25:18رحمت اللہ تعالیٰ کا حسین ذکر ہے
25:20حضور قبلہ مفتی صاحب نے
25:22ذکر کرتے ہوئے بیان کیا تھا
25:23کہ ستر فیصد لوگ آج بھی
25:25ہنفیہ مذہب رکھتے ہیں
25:27سبحان اللہ
25:27کیا مقام ہے
25:28کیا رب کائنات نے آپ کو
25:30عظمت دی ہے
25:31کہ فیض عالم بھی
25:32آپ کی تقلید کرتے نظر آتے ہیں
25:34اور کشف المجوب
25:36آپ کی شور آفا کتاب
25:37وہ آپ نے
25:37الحمدلہ آپ کا پروگرام ہے
25:39مجھے کہا گیا
25:40کہ کچھ نکات کہیں
25:41لیکن وہ نکات آپ
25:43اسی پروگرام میں حاصل کریں گے
25:50اور ہم آپ کی مقلد کیوں ہیں
25:53اور اس میں کیا عظمت ہے
25:54ذرا اس پہ رہنمائی اتا فرمائیے
25:56بہت شکریہ
25:57دیکھیں دو چیزیں
25:59سمجھنا ضروری ہیں
26:00ایک تو یہ سمجھنا ضروری ہے
26:01کہ تقلید ہے کیا
26:03پہلی چیز
26:04دوسرے نمبر پر
26:06کہ آخر امام آزم
26:07ابو عنیفہ رحمت اللہ علیہ
26:08کی تقلید
26:09اتنی کسرت سے کیوں کی جاتی ہے
26:11وہ کیا خصوصیات ہیں
26:14جو فقہ ہنفی میں پائی جاتی ہیں
26:16جس کی وجہ سے
26:17اسے اتنی پذیرائی
26:21اور اتنی پذیرائی حاصل ہوئی
26:22دیکھیں تقلید بنیادی طور پر
26:26قرآن و سنت سے
26:28کسی مسئلے کے حکم کو
26:31اخذ کرنا
26:32اور
26:33اس کو اپنے عمل کے ذریعے
26:35آگے ثابت کرنا
26:36خاص طور پر
26:38جب کہ کسی موضوع پر
26:40احادیث مختلف ہو
26:42کسی بھی عنوان پر
26:46اگر متعدد احادیث ہیں
26:47اور وہ ان میں
26:49اختلاف ہے
26:51کہ
26:51اس میں یہ بھی ہوا ہے
26:53اس میں یہ بھی ہوا ہے
26:54اس میں یہ بھی ہوا ہے
26:55ٹھیک ہے جناب
26:57اب اس کی بڑی سہادی سی مثال ہے
26:59کہ جب نماز پڑھ نہیں ہے
27:01تو بھئی ہاتھ کہاں باندنے ہیں
27:02تو نبی کریم علیہ صلیہ وسلم سے
27:05اس پر متعدد احادیث ہیں
27:06حضور علیہ السلام سے
27:08اس پر متعدد
27:08عمل مبارک موجود ہیں
27:10وہ صحیح احادیث میں موجود ہیں
27:12احادیث اپنی صحت کے اعتبار سے
27:14there is no experience that is
27:17that those who have all said
27:20there are a case of
27:23and there are a way of a point that
27:26that all of the evidence
27:28should be posted there and we can
27:30not be posted there and do not
27:33I am a part of this
27:35I have a example of how if
27:37is the way the state of this
27:40قرآن مزید کے علوم پر
27:42مکمل دسترس ضروری ہے
27:44کہ وہ تفسیر اور
27:46قرآن جتنے علوم ہیں ان پر ماہر ہو
27:48جو قرآن کی
27:49قرآن فہمی سے related ہے ان کی الگ فہرست ہے
27:52نبی کریم علیہ السلام
27:54کی جتنی احادیث ہیں
27:55زخیرہ احادیث جب میں کہہ رہا ہوں
27:58تو اس سے مراد
27:59وہ چھ لاکھ حدیث
28:01یا اس سے زائد
28:03اس نے پوری کی پوری
28:05ایٹا ٹائم اس کی نظر میں ہو
28:07کہ کس حدیث میں
28:09کون سا عمل کس جگہ کس راوی سے ہے
28:11اور اس کو صحت کا بھی علم ہو
28:13اس کی درجہ بندی کا بھی علم ہو
28:15کہ وہ حدیث درجہ صحت میں
28:17کس جگہ ہے وہ صحیح ہے
28:19وہ حسن ہے صحیح لذاتی ہی ہے
28:22صحیح لغیر ہی ہے حسن لذاتی ہی ہے
28:24حسن لغیر ہی ہے
28:25یا دیگر جو متعدد اقسام ہیں
28:27اس کے اوپر اس کو
28:28اس کے ساتھ پر اس کی امیگ نظر ہو
28:30پھر اس کے ساتھ لغت عربی زبان کے
28:33ہر لفظ اس کا استعمال
28:35قرآن میں کیسے ہے حدیث میں کیسے ہے
28:38لغت عرب میں کیسے ہے
28:39کلام میں کیسے ہے
28:41عدب میں کیسے ہے
28:42اس کے ساتھ ساتھ پھر
28:43اس کو لوگوں کے احوال کا علم ہونا
28:46اللہ حبت اللہ
28:47لوگوں کے احوال کا علم
28:49جس کو عرف کہتے ہیں
28:50کہ لوگوں کی حالت کیا ہے
28:51لوگوں کی کیفیت کیا ہے
28:53لوگوں کے احوال اور حالات کیا ہیں
28:55یہی وجہ ہے کہ
28:56امام آدم بنیفار عمت اللہ علیہ نے
28:58قرآن مجید کو بنیاد بنایا
29:00حدیث پاک کو بنیاد بنایا
29:02اس کے علاوہ اجماع کو آپ نے اس کی بنیاد بنایا
29:06اخوال صحابہ
29:08اور اس کے ساتھ ساتھ پھر
29:10اس میں قیاس کو بھی آپ نے ان ساری چیزوں میں شامل فرمایا
29:13اور اعلان یہ کیا کہ
29:15فَإِذَا صَحْحَ الْحَدِيثِ فَهُوَ مَذْحَبِي
29:17جب کوئی حدیث صحیح ہو جائے گی
29:19سمجھلو میرا محی وزم ہے
29:20اب اگر وہ متعددہ حضیث درجہ صحت کو پہنچی ہوئی ہیں
29:24ان میں تطبیق کیسے ہوگی
29:26اور تطبیق کے بعد امت کے لیے ایک عمل کا راستہ کیسے ملے گا
29:30یہ پورے کا پورا ایک فقی اور مجتحد کام کرتا ہے
29:33وَا وَا وَا
29:34کیا کہنے مفتی صاحب
29:35اب حضرت امام عاظم ابو عنیفہ رحمت اللہ تعالی علیہ
29:38جیسے میں نے ارز کیا
29:39کہ کوفہ اور بلاد عرب کے تمام علوم کے مراکز و شخصیات سے علم کو کشید کیا
29:45اور ایک شخصیت ہے
29:47ایک ہستی ہے
29:49جو ایک ہی وقت میں تفسیر کا بھی امام ہے
29:52وہ حدیث کا بھی امام ہے
29:54وہ اس کے ساتھ ساتھ لغت کا بھی امام ہے
29:56وہ اس کے ساتھ ساتھ عدب کا بھی امام ہے
29:59وہ تاریخ کا بھی اسی طرح امام ہے
30:01وہ احوال و سیر کا بھی امام ہے
30:03وہ لوگوں کے عرف اور احوال کا بھی امام ہے
30:06وہ ایک شخصیت میں جمع ہو گئے
30:08کیا بات کیا کہنے
30:09اور پھر آپ نے جو آپ سے آگے امت کو رہنمائی ملی ہے
30:13وہ آپ کی ذاتی شخصی رائے نہیں ہے
30:15وہ آپ نے جو ایک ریسرچ بورڈ اس زمانے میں قائم کیا
30:20جس میں ہر فن کے امام کو
30:22الگ رکھا
30:23اس کے ذمہ
30:24اس حدیث پر
30:25اس سے مسائل
30:26اور اس سے اخذ کرنا
30:27وہ ایک الگ عنوان ہے
30:29کہ وہ
30:29یہ کوئی بند کمرے میں بیٹھ کر
30:31سوتے میں یہ کام نہیں ہوا
30:33یہ تو امت کے سامنے
30:34اور تاریخ میں
30:35روز روشن کی طرح
30:36یہ آیاں ہے
30:37اس کے نتیجے میں
30:38یہ ظاہر آتا ہے
30:39دوسری چیز
30:40بسم اللہ
30:41امام آزم ابو عنیف
30:42رحمت اللہ تعالیٰ
30:43جیسے میں نے ارز کیا ہے
30:45کہ آپ نے جو
30:46اسلام کا یسر کا پہلو ہے آسانی کا جو پہلو ہے جو اسلام دین فطرت
30:52ہے جو انسانی طبیعت اور فطرت کے قریب ہے امام آزم ابو حنیفہ
30:57رحمت اللہ علیہ نے اس یسر کو اس آسانی کو اور انسانی فطرت کے
31:03اس تقاضے کے قریب رکھتے ہوئے آپ نے اس مسئلے میں آپ نے اس رائے
31:08کو اس کو اختیار کیا ہے چنانچہ چونکہ اس یسر اور آسانی کو اختیار
31:12کیا انسانی فطرت اور اس کی طلب کے مطابق اس کو نکالا ہے یہی
31:16وجہ ہے کہ ہر انسان اس میں آسانی محسوس کرتا ہے اس میں یسر
31:19محسوس کرتا ہے اور اس کے اندر اس کے لیے رہنمائی اور اس کے
31:23عوال ملتے ہیں یہی وجہ ہے اور اس کے بعد پھر حضرت امام آزم
31:26ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے شاگرد ناز حضرت امام یوسف رحمت
31:30اللہ علیہ حضرت امام محمد امام زفر یہ کہہ کہہ شاہ ہے جی
31:35کہہ کہہ شاہ ہے امام یوسف رحمت اللہ علیہ جو ہیں وہ چونکہ مرتبہ
31:40قضاء پر فائز ہوئے
31:41قاضی القضاء مقرر ہوئے
31:43تو ظاہر ہے جب وہ اس عہدے پر فائز ہوئے
31:46اور آپ نے جو وہاں سے علم کشید کیا
31:48تو اسے آگے لوگوں میں پہنچنے میں
31:50مزید لوگوں میں آگے آزانی ہوئے
31:52مفتستہ قبلہ نے کمال کر دی
31:54یقین کریں ایک فقی کا بتایا
31:55کہ اس کے سامنے کیا کچھ ہونا چاہیے
31:57کہ علم کا سمندر ہے
31:59اگر ایک فقی کے لیے یہ ہے
32:01جو امام آزم ہو
32:02تو اس کے سامنے کیا ہوگا
32:04ناکس اب آپ کی طرف حاضر ہوتے ہیں
32:05کہ حضور قبلہ امام آزم ابو حنیفہ
32:08رحمت اللہ تعالیٰ لے
32:09آپ کا وصال مزار اس پہ میں چاہوں گا روشن ڈالیے گا
32:12حضرت امام آزم ابو حنیفہ رحمت اللہ علی نے
32:15ایک سو پچاس ہجری میں وصال فرمایا
32:19اور یہ آپ کا جو وصال ہے
32:22یہ اصل میں شہادت ہے آپ کی
32:23ٹھیک ہے
32:25اس کی وجہ یہ ہے کہ
32:27آج کل بھی اسی طرح کی صورتحال ہے
32:29اور پہلے دور میں ہمیشہ جو
32:31عرباب اقتدار ہوتے ہیں نا
32:32ان کو یہ خطرہ ہوتا ہے
32:34کہ چار لوگ جس کے ساتھ مل جائیں
32:36کہیں یہ میرے اقتدار میں
32:38رخنا نہ ڈال دیں
32:39کہیں میرے رستے میں رکاوٹ نہ پیدا کریں
32:41تو امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علی کی صورتحال یہ تھی
32:44کہ ایک جمع غفیر ہوتا تھا
32:48آپ کی مجلس میں
32:48اور جہاں بھی آپ جاتے لوگ جمع ہو جاتے
32:51آپ سے فیض حاصل کرنے کے لیے
32:53مسائل پوچھنے کے لیے
32:54اور اپنی تشنگی دور کرنے کے لیے
32:57اور کوفہ میں تو آپ کا مرکز تھا
33:00تو جو حاکم وقت تھا
33:03اس نے آپ کو اپنے قریب کرنا چاہا
33:05لیکن ظاہر بات ہے
33:06کہ جو اہلاللہ ہوتے ہیں
33:08ان کو ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا
33:10وہ اپنے مشن اور اپنے مقصد کے تحت
33:12اپنا کام جاری رکھتے ہیں
33:13آپ نے وہ کام جاری رکھا
33:15انہوں نے اہدہ قضاء پیش کرنا چاہا
33:17کہ جناب آپ آئیں
33:18اور حکومت کا حصہ بنیں
33:19اور اس طرح
33:20لیکن آپ سمجھتے تھے
33:21کہ حکومت کا حصہ بننے کا مطلب یہ ہے
33:24کہ انہوں نے جو غلط صحیح کہنا ہے
33:26ہم نے آمنہ و صدق نہ کرنا
33:27آپ نے انکار کر دیا
33:29کہ میں اس پوزیشن میں ہوں
33:31رضور فیض عالم نے اس کا ذکر پر فرمایا
33:33کشف المحجوب میں
33:35کہ آپ نے کس طرح بہانہ کر کے
33:36آپ سائٹ پر ہو گئے
33:38کہ میں اہدہ قضاء قبول نہیں کروں گا
33:40کیونکہ میں اس قابل نہیں ہوں
33:42انہوں نے کہا
33:42نہیں آپ غلط بیانی کر رہے ہیں
33:44آپ اس قابل نہیں ہیں
33:45آپ نے فرمایا پھر دو صورتیں ہیں
33:46اگر میں واقعتاً غلط بیانی کر رہا ہوں
33:48تو پھر میں اس قابل نہیں ہوں
33:49کہ میں اہدہ قضاء
33:50جو بندہ غلط بیانی کرتا ہے
33:51وہ اہدہ قضاء قبول نہیں کر سکتا
33:53وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے
33:54کہ اس عہدے کے لائق ہو
33:55اور اگر میں صحیح کہہ رہا ہوں
33:57تو پھر میں صحیح کہہ رہا ہوں
33:58پھر مجھے آپ کیوں قاضی بنا رہے ہیں
34:00بہرحال
34:00بعد میں
34:01روایات میں آتا ہے
34:03کہ آپ کو بقیدہ زہر دے کر شہید کیا گیا
34:05تو ایک سو پچاس عجری میں
34:07آپ کا جو وصال ہے
34:08وہ شہادت کی
34:10آپ کو اللہ تعالی نے یہ
34:12یہ جیل کے اندر ہی ہوا ہے
34:13جیل میں نہیں ہوا
34:15ویسے
34:17کسی طریقے کے ساتھ
34:18آپ کو جو ہے وہ زہر دیا گیا
34:19ٹھیک ٹھیک
34:20مختلف چیزیں موجود ہیں بہرحال
34:22اس وقت
34:23یہ بھی روایات میں آتا ہے
34:25کہ اتنے لوگ
34:26آپ کے جنازہ کے اندر شامل ہوئے
34:29کہ اتنی کسرت تھی
34:30کہ پیچھے والے لوگوں کو پتہ نہیں چل رہا تھا
34:33کہ آگے نماز جنازہ پڑا جا چکا ہے
34:34یعنی ہزاروں کی تعداد تھی
34:36اور بعض روایات میں تو یہ لکھا ہے
34:38کہ لوگوں نے کئی مرتبہ نماز جنازہ پڑا
34:40بعض نے پانچ مرتبہ چھ مرتبہ بھی لکھا
34:43کیونکہ وہ لوگوں کو پتہ نہیں چل رہا تھا
34:44حالانکہ آپ کا ویسے فقہی مذہب یہ ہے
34:47کہ جب ایک مرتبہ نماز جنازہ ادا ہو گئی
34:49تو پھر دوبارہ ادا نہیں کی جائے گی
34:51لیکن چونکہ پیچھے والے لوگ ان کو علمی نہیں تھا
34:53کہ نماز جنازہ بھی ہو رہی ہے
34:54تو وہ اس حوالے سے اور کسرت تھی
34:57اور یہ ایک یعنی
34:58مجبوری کی صورتحال بن گئی تھی
35:01اس کی وجہ سے
35:01اور پھر آپ کے حوالے سے
35:05حضرت عبداللہ ابن مبارک اور دیگر بزرگوں کے
35:07اقوال موجود ہیں
35:08کہ آج بہت بڑی شخصیت اس دنیا سے
35:11رخصت ہو گئی
35:12اور علم کا ایک بہت بڑا
35:14یعنی پہاڑ جو ہے وہ آج اس دنیا سے چلا گیا
35:17یہ مختلف
35:18یعنی حضرت عبداللہ ابن مبارک
35:20ایک قول یہ ہے
35:20کہ آپ اس دنیا سے چلے گئے ہیں
35:22لیکن اب آپ کی مسند پر
35:24آپ کی اس لیول کا شخص
35:26ہمیں نظر نہیں آتا
35:27اللہ تعالی نے آپ کو وہ رتبہ آتا فرمایا
35:29بغداد کے اندر
35:30ملکہ جو خیزوران ہے
35:32اس کے مقبرے کے مشرق کی طرف
35:35کتابوں میں لکھا ہے
35:36کہ وہاں آپ کا مزار موجود ہے
35:39اور آج بھی لوگ اس سے اقتصاب فیض کرتے ہیں
35:42میں آخری بات کر کے ختم کروں گا
35:45اور یہ اس میں ہمارا عقیدہ بھی یقیناً واضح ہوگا
35:47کہ حضرت امام شافعی رحمت اللہ علیہ
35:49آپ کے حوالے سے مختلف بزرگوں نے ذکر کیا ہے
35:52اور حضرت امام شاعرانی نے خصوصی طور پر ذکر فرمایا
35:55کہ حضرت امام شافعی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
35:59کہ امام ابو حنیفہ ہماری مشکل کو آسان کرتے ہیں
36:03بلکہ اب بھی جب اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں
36:05اب بھی مجھے کوئی مسئلہ آتا ہے
36:07تو میں ان کے مزار پر جاتا ہوں
36:09دو رکت نفل پڑتا ہوں
36:10اور اللہ تعالیٰ سے ان کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں
36:13اللہ تعالیٰ میری مشکل کو آسان فرما
36:15یعنی امام شافعی جیسے شخصیت
36:18تو اللہ تعالیٰ نے حضرت
36:20اتنے بڑے فقی کہہ رہے ہیں کہ مزارہ سے فیض ملتا ہے
36:22تو اس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے
36:24کہ ایک تو حضرت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کی
36:26اللہ تعالیٰ نے جو ایک بلند شخصیت آپ کو بنایا تھا
36:30اس کا بھی پتہ چلتا ہے
36:31دوسرا میں پتہ چلتا ہے
36:32کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی
36:34اللہ تعالیٰ نے جو ان کو طاقت دی ہے
36:36آج بھی لوگ ان سے فیضیاب ہو رہے ہیں
36:38اگر حضرت امام شافعی رحمت اللہ علیہ جیسی ہستی
36:41اس وقت فیض حاصل کرتی ہے
36:42تو ہم فقیروں کو تو یقیناً ان کا فیض آج بھی مل رہا ہے
36:45اور آج علمی طور پر پوری دنیا
36:47حضرت امام ابو حنیفہ کے فیضان سے کبھی بھی
36:51جو ہے وہ خالی نہیں ہو سکتی
36:52ہمیشہ دنیا جا ہے وہ ان کی محتاج رہے گی
36:54اور علم فق کے اندر ہمیشہ
36:56اپنی جولی پھیلا کر ان سے خیرات مانگتی رہا ہے
36:58کیا کہنے جناب
36:59رقصہ بہت شکریہ
37:00میں مشکور و ممنون ہوں
37:02جناب پیرے طریقہ جناب قبلہ
37:04ڈاکٹر مفتی محمد رمضان سیارویسہ قبلہ کا
37:06بہت خوبصورت گفتگو
37:07بہت پیاری رہنمائی آپ فرماتے ہیں
37:09جناب حضرت علامہ مفتی
37:11ڈاکٹر ریفان مولا سیفی صاحب کی بلاب
37:13کو بہت شکریہ
37:13اپنے میز بان قاری محمد یونس قادری
37:15کو اجازت دیجئے
37:16رب کائنات ہم سب کو
37:17ہرمین شریفین کی حاضری اطاف فرمائے
37:19السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
37:41سلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments

Recommended