Skip to playerSkip to main content
Deen aur Khawateen - Topic: Dua

Watch All the Episodes ➡️https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xie7iHiL4A2kzQei2BBQvI8L&si=45w5745280ipW4k9

Host: Dr. Syeda Nida Naseem Kazmi

Guest: Alima Ayesha Mukhtar, Alima Fatima, Mufti Ahsan Naveed Niazi

#DeenAurKhawateen #IslamicInformation #aryqtv

Is a live program which is based on lady's scholar's concept. In which the female host and guests arrived and discuss the daily life issues in the light of Quraan & Sunnah. Entertain live calls as well and answer the questions of live caller.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00سلامتホ Showman
00:06جس سلام دین اور خواتین
00:11اوض باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرجیم
00:17الحمدللہ اللہ
00:18حدانا لهادہ وما کنا لنا تدیا لولا ان حدان اللہ
00:25اللہم اصفلی علی سیدنا و مولانا محمد عدد ما فی علم اللہ
00:32صلاةً دائمتم بدوام ملک اللہ
00:35السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہو
00:39جناب خواتین کی دینی تربیت اور اصلاح کے تعلق سے
00:42اے آر وائی کیو ٹی وی کی یہ امدہ کاوش ہے جس کا سرنامہ ہے دین اور خواتین
00:48بنیادی مقصد سنف نازک کو ماں کو بہنوں کو بچیوں کو بیٹیوں کو
00:55خاتون خانہ کو بیسک یونٹ آف دی فیملیز کو شریعت متحرہ کی بنیادی
01:02تعلیمات سے آگی اور واقف کاری فراہم کرنا ہے اور اس مقصد کے تحت
01:08ہم ہر بد اور جمعیرات کو پاکستانی وقت کے مطابق کم و بیش پانچ بجے
01:14اے آر وائی کیو ٹی وی کی سکرین پہ حاضر ہو جاتے ہیں اور جناب ایک
01:19ٹاپک سریکٹ پہلے سے کیا ہوا ہوتا ہے اور پھر اس پہ ہم سوالات
01:24شامل کرتے ہیں پروگرام میں عالمات موجود ہوتی ہیں حضرت صاحب
01:28آن بی پر براہ راست ہماری راہنمائی فرماتے ہیں آپ کی کالز کو بھی
01:32شامل کیا جاتا ہے اور جو بھی سوالات آپ کے ازان کے نقشوں پہ
01:36وڑھتے ہیں آپ وہ اس پلیٹ فارم پہ لاتے ہیں کرتے ہیں اور قرآن
01:41و سنت کی روشنے میں ان کے جوابات ماشاءاللہ ثمہ ماشاءاللہ
01:45دیے جاتے ہیں آج ہم کیا بات کر رہے ہیں آج ایک نئے موضوع کے
01:49ساتھ حاضر ہے دعا حجیب و دعوت الداغ اذا دعانی اللہ فرماتا ہے
01:54مجھ سے مانگو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کرتا ہوں کرنے والا ہی
01:59وہی ہے مانگنا پکارنا اپنی حاجات اپنی ضروریات اس کی بارگاہ میں
02:07رکھنا اور اسی سے مناجات کرنا یہ وہ عمل ہے کہ وہ اس سے خوش
02:13ہوتا ہے بلکہ اگر کوئی اس سے نہیں مانگتا تو وہ اس سے نراز ہوتا
02:17ہے لیکن بندہ مومن کو مانگنا بھی آنا چاہیے مانگنے کا صحیح
02:23ڈھنگ صحیح طریقہ قرینہ اسے مغلوم ہونا چاہیے تو آج جناب دین اور
02:29خواتین میں ہم اسی تعلق سے بات کر رہے ہیں کہ جو اللہ تبارک و
02:35تعالی وہ خالق ہے وہ مبالک ہے وہ خود کہہ رہا ہے کہ میں دعا
02:39قبول کرتا ہوں اپنے بندے کی کہ جب وہ مجھ سے مانگتا ہے تو یہ
02:43مانگنا جو ہے نا اس کے جو ایڈیکیٹس ہیں آج ہم وہ سیکھ رہے ہیں
02:48ماشاءاللہ انشاءاللہ عالمات میری آپ کی ہم سب کی رہنمائی کے لیے
02:53ماشاءاللہ انشاءاللہ موجود ہیں اور دونوں ہی بہت خوبی کے ساتھ
02:58گپتگو کرتی ہیں میں انٹیڈیوز کروا رہی ہوں عالمہ عائشہ مختار اور
03:03عالمہ فاطمہ کو السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
03:08آپ دونوں کو ویلکم کرتے ہیں اور آپ دونوں کے لیے دعا گو ہیں
03:13پروردگار آپ کے علم میں آپ کے عمل میں برکتیں عطا فرمائے اور خلوص
03:19نیت کے ساتھ اخلاص کے ساتھ آپ دینِ مطین کی خدمت کر سکیں
03:23جناب بات ہو رہی ہے آج مانگنے کے تعلق سے اور ہمیں تمام چیزیں
03:29جب بات ہوتی ہے شریع مسائل کی فضائل کی تو میں تو یہی سمجھتی
03:35ہوں کہ میں نے آپ سے ہی سیکھا ہے اور ہم سب آپ سے سیکھ رہے ہیں
03:39آپ ہمارے بڑے ہیں آپ ہمارے منٹو ہیں آپ شیخ ہیں آپ شیخ الحدیث
03:46ہیں استاذ العلماء ہیں مفتی محمد احسن نبید خان نیازی دامت
03:50پیود ہوں ہم انہیں ویلکم کرتے ہیں سلام عرض کرتے ہیں آن بیپر
03:55براہ راز ہماری رہنمائی فرما رہے ہیں السلام علیکم ورحمت
03:59اللہ وبرکاتہو مزاج ہمائیو ماشاءاللہ آپ کی اجازت سے باقاعدہ
04:08پروگرام شروع کروں سوالات کا سلسلہ بسم اللہ الرحمن الرحیم
04:13جناب بات ہو رہی ہے اللہ جللہ مجدہو کی بارگاہ میں اپنی
04:17حاجات اور ضروریات پیش کرنے کے تعلق سے دعا کے تعلق سے
04:23عالمہ عائشہ مختار میں آپ کی اسم داری ہوں اور دعا کا معنی
04:29کیا ہے اس کا مفہوم کیا ہے قرآن قرآن کریم کی روشنی میں آپ
04:35بیان کیجئے دیکھیں دعا کا جو لوہوی مطلب ہے یا لفظی اس کا جو
04:50مطلب ہے وہ ہے بلانا پکارنا یا التجا کرنا اور شریعت کی اسطلاح میں
04:55دعا سے مراد یہ ہے کہ بندہ اللہ تبارک و تعالی کو آجزی اور انکساری
05:02کے ساتھ التجا کے ساتھ گریہ اوزاری کے ساتھ پکارے اس سے سوال
05:06کرے اس سے فریاد کرے اس سے مدد طلب کرے دعا خود ایک عظیم
05:11شان عبادت ہے جس کا حکم خود رب تبارک و تعالی نے قرآن
05:15مجید فرقان حمید میں دیا ہے دعا بندے کو رب تبارک و تعالی سے
05:20جوڑتی ہے اور اس کی رحمتوں کا ذریعہ بنتی ہے اس کی رحمتوں کے
05:24نزول کا باعث بنتی ہے خود اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید فرقان
05:28حمید میں ارشاد فرماتا ہے وَقَالَ رَبُّكُمُ دُعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ
05:33إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِ سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَا
05:38دَاخِرِينَ فرمایا کہ اور تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دعا
05:43مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا بے شک جو لوگ اپنے رب کی
05:48عبادت سے میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں تو وہ ان قریب جہنم میں
05:53زلیل ہو کر داخل ہوں گے امام فخر الدین راضی رحمت اللہ تعالی نے
05:58فرمایا ہے کہ قیامت کے دن بندے کو رب کی عبادت سے ہی نفع
06:04پہنچے گا تو اس لیے رب تبارک و تعالی کی عبادت میں مشغول رہنا
06:08یہ انتہائی اہم کام ہے اسی لیے بندے کو رب کی عبادت میں مشغول
06:12رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور دعا جو خود بزاتے خود ایک عبادت کی
06:18عالی قسم ہے اس کا یہاں پر حکم دیا جا رہا ہے اور اس کی تائید دیکھیں
06:22آگے جو اللہ تعالی نے فرمایا کہ جو لوگ میری عبادت سے تکبر
06:27کرتے ہیں وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو اس سے بھی یہ بات معلوم
06:31ہو رہی ہے کہ اللہ تعالی نے دعا ترک کرنے کو دعا چھوڑ دینے کو
06:36ترک عبادت کے مترادف قرار دیا ہے یعنی یہ ایک عظیم الشان
06:40عبادت ہے پھر دعا کے آداب دعا کا طریقہ یہ بھی قرآن مجید
06:45فرقان حمید میں بیان کر دیا گیا ہے اللہ تعالی نے فرمایا
06:48کہ اپنے رب کو گریہ اوزاری کے ساتھ گڑ گڑا کر اور آہستہ آہستہ
06:58چپ کے چپ کے آہستہ آواز میں پکارو اس سے دعا کرو اور پھر اس کے
07:02بات فرمایا اور اس کو خوف اور امید کے ساتھ پکارو تو یہ دعا کے
07:09آداب ہیں یہ دعا کا طریقہ ہے جو بیان فرمایا گیا ہے یعنی دعا کرتے
07:14وقت اگر ان آداب کی رعایت کی جائے ان چیزوں کا لحاظ اور خیال
07:17رکھا جائے کہ بندہ گڑ گڑا کر آجزی ان کے ساری کے ساتھ اپنے
07:21سارے مسائل اللہ کی آہ بارگاہ میں پیش کر دے اور خوف کی
07:26کیفیت اس پر تاری ہو اللہ کے حیبت و جلال کا تصور کر کے خوف
07:31کی کیفیت اپنے اپر تاری کرے اور اس کی رحمت و رافت پر نظر کرتے
07:36ہوئے امید کی کیفیت اپنے اپر تاری رکھے تو ایسی دعا قبولیت کے بہت
07:40قریب ہوتی ہے اور اسی بات کو آگے اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا
07:44کہ ان رحمت اللہ قریب من المحسنین کہ بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں
07:49کے قریب ہے تو جو بندہ مومن نیکوکار ہو اللہ کا عبادت گزار ہو اور
07:55ان آداب کی رعایت کرتے ہوئے رب تبارک و تعالی سے دعا کرے تو دعا میں
08:00بہت زیادہ اس بات کی امید ہے کہ وہ قبولیت کا درجہ پالے سبحان
08:05اللہ ماشاءاللہ بارک اللہ اس موقع پہ ایک کال شامل کر رہی
08:09ہماری بین ہمیرا بات کر رہے ہیں ملتان سے کیسی ہیں
08:18کیا سوالات لے کے آئے ہو پیاری بین
08:24پہلا سوال یہ ہے کہ بہت لوگوں کو دیکھا گئے نا اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں
08:28پھر ایک چیز کو نہ بار بار کرتے رہتے ہیں کرتے رہتے ہیں پھر جب
08:31ان کو نہ اپنی وہ چیز ملتی ہوئی نظر نہیں آتی نہ وہ مایوس ہو جاتے ہیں
08:35وہ کہتے ہیں بھئی اب یہ کرو ہی نہ سیدہ ہی نہیں ہے پھر اور کاموں میں
08:37لگ جاتے ہیں اس طرح سے کرنا کیسا ہے کہ وہ بڑی شیطت کے ساتھ
08:41طلب کر رہے ہوتے ہیں ہمیں یہ چاہیے چاہیے پھر اس پہ وہ ڈٹے
08:44رہتے ہیں پھر بعد مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور دوسرا سوال
08:49یہ ہے کہ بھئی جیسے بھئی ہم کام کاج میں لگے ہوتے ہیں لیکن بعض
08:54اوقات نہ دل میں نہ دعائیں بھی چل دی ہوتی ہیں اللہ تعالی ہماری
08:56مدد فرمائے یا ہماری مشکلات آسان کر دے ہم سے راضی ہو جائے ہمیں
09:00اپنا دیدار عطا فرمائے عروب عطا فرما دے تو ایسے کام کے دوران
09:04بھی مشغول رہتے ہیں بقاعدہ ہاتھ اٹھا کے جیسے آجزی کے طور پر
09:07کی جاتی ہیں ایسے نہیں کر دے ہوتے تو کہ اس طرح کی دعائیں بھی
09:11قبول ہوتی ہیں جو کام کے دوران بھی بس دل میں دعائیں چل رہی
09:14ہیں بس چھپکے چھپکے خاموش دعائیں اپنے رب کی بارگار
09:18اگر ہاتھ پر الفی لگ گئی اور وقت بھی نماز کا کم ہو تو اس میں
09:25اگر وضو کر کے پڑھ لی جائے اگر وہ اس کا جو جھرم ہوتا ہے
09:28الفی کا وہ نہ چھوٹے تو اس صورت میں نماز ادا ہو جائے گی
09:32اگر پانی بھاگ کے بعد نماز پڑھ لی جائے تو
09:34اسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
09:38ٹھیک ہے جی جناب الفی چھپک گئی اب وہ کیسے ہٹے حضر صاحب
09:44بتائیں گے اور بہنیں بہت سارے کام کر رہی ہوتی ہیں
09:48چاہے وہ بچوں کے حوالے سے ہوں یا دیگر کام کاج ہوں
09:52بہت سارے سوالات ہیں آپ مزید بھی ہمیں کالز کر کے
09:55اپنے کوئریز اس پلیٹ فارم تک لا سکتے ہیں لیکن اس وقت
09:58بیک بریک شامل کر رہی ہوں درود پڑھتے رہیں
10:00بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
10:06جناب دین اور خواتین میں آپ کا خیر مقدم کرتی ہوں
10:09آج ہم بات کر رہے ہیں دعا کے تعلق سے
10:12یعنی اللہ تبارک و تعالی سے مانگنا
10:16اسے پکارنا اور اپنے ضروریات اس کی بارگاہ میں پیش کرنا
10:22آج عالمات جو میری آپ کی ہم سب کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں
10:26یعنی کہ عالم عائشہ مختار بریکسی قبل میں نے ان سے کلام کیا
10:30اور سوال کا جواب انہوں نے دیا
10:31قرآن کی روشنی میں قرآن کریم کی روشنی میں
10:35کیا جو ہے وہ ہمیں دعا کے حکام ملتے ہیں
10:39کیا معنی کیا مفاہم سمجھانے چاہیے
10:41میں اب آپ کی سمت آؤں گی عالمہ فاطمہ
10:43اور مجھے حدیث مبارکہ کی روشنی میں بتائیے
10:47کہ دعا کے فضائل و فوائد کیا ہے
10:50دعا ایک عظیم شان عبادت ہے
10:53جس کی فضیلت اس کی عظمت پر بکسرت حدیث مبارکہ وارد ہے
10:57دعا اللہ تبارک و تعالی کی شانِ علویت کے حضور
11:01ہمارے عبدیت کی علامت ہے
11:03یہ اس سے ہماری محبت کا اظہار ہے
11:06اس سے عادزی کا اظہار ہے
11:08اور اس پر ہمارے توقل کی علامت ہے
11:10حدیث مبارکہ میں آتا ہے
11:12کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
11:15لَيْسَ شَيُّنْ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَى
11:18کہ اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک دعا سے بزرگ تر کوئی چیز نہیں
11:22اور ایک مقام پر فرمایا
11:24الدعاو مخل عبادہ
11:27کہ دعا عبادت کا مغض ہے
11:29دعا کی اہمیت اور اس کی فضیلت کا اندازہ
11:32تو اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے
11:34کہ ایک مقام پر آپ نے ارشاد فرمایا
11:36کہ جس کو دعا کرنے کی توفیق دی گئی
11:38اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے
11:40اور اللہ تبارک و تعالی کی رحمت
11:43تو ہر رات بندے کی طرف متوجہ ہوتی ہے
11:45کہ وہ اس سے سوال کرے
11:48اور اللہ تبارک و تعالی اسے عطا فرمائے
11:50ہر رات اس کی رحمت
11:52اس بات کی طلبگار ہوتی ہے
11:54کہ کوئی بندہ اس سے مغفرت طلب کرے
11:57اور وہ اپنے بندے کو بخش دے
11:58حدیث مبارکہ میں آتا ہے
12:00کہ جب رات کا تہائی حصہ رہ جاتا ہے
12:02تو اللہ تبارک و تعالی اسمان دنیا پر
12:05اپنی شان کے مطابق نزول فرماتا ہے
12:07اور فرماتا ہے
12:09کون ہے جو مجھ سے دعا کرے
12:10اور میں اس کی دعا کو پورا کروں
12:11کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے عطا کروں
12:14کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے
12:16اور میں اس کو بخش دوں
12:17تو اللہ تبارک و تعالی
12:20تو اترنے چڑھنے سے پاک ہے
12:21یہاں پر مراد یہ ہے
12:23کہ اللہ تبارک و تعالی کی رحمت
12:25جو ہے وہ متوجہ ہوتی ہے
12:26تو گویا اللہ تبارک و تعالی کی
12:28رحمت جو ہے وہ تو اس بات کی
12:30منتظر ہے وہ اللہ تبارک
12:32و تعالی چاہتا ہے وہ بندے کو نوازے
12:34وہ چاہتا ہے بندے کو بخشتے
12:36اگر کہیں کو تاہی ہے تو وہ
12:38ہمادی طرف سے ہے ہم اس سے
12:40پکارتے نہیں ہیں ہم اس سے مانگتے نہیں ہیں
12:42اور اس کے بے شمار
12:44فائدے ہیں کہ دعا کرنے
12:46والا عابدین کی لسٹ میں شمار ہوتا ہے
12:48کہ دعا جو ہے یہ فی نفسی ہی
12:50ایک عبادت ہے
12:51تو ظاہر ہے عبادت جو کرتا ہے وہ عابدین
12:54کی لسٹ میں بھی شمار ہوگا
12:55پھر اتباع سنت بھی ہے حضور صلی اللہ
12:58علیہ وسلم دعا فرماتے
13:00اور اس کی ترغیب بھی آپ نے فرمائی
13:02اسی طرح بلاؤں کو ٹالنے
13:04کا سبب بھی اور اپنی حاجات کو
13:06پورا کرنے کا سبب ہے قرآن کریم
13:08فرقان حمید میں اللہ تبارک و تعالی
13:10ارشاد فرماتا ہے کہ
13:12پکارنے والے کی پکار کا میں جواب
13:14دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارے
13:15تو بس پکارنے کی دیر ہے
13:18پکاریں گے تو وہ جواب دے گا
13:20پکاریں گے تو وہ عطا کرے گا
13:22سبحان اللہ
13:23تو یہ پکارنہ جو ہے
13:25یہ آج ہم سیکھ رہے ہیں
13:27اور اب میں ہمارے منٹر
13:29ہمارے شیخ کی طرف بڑھ رہی ہوں
13:31ہم سب آپ سے سیکھتے ہیں
13:32اور آپ ہمیں دعا
13:34کا جو حکم ہے جو طریقہ ہے
13:37جو قرآن و حدیث
13:39جس طرح سے ہماری رحنمائی فرماتے ہیں
13:41آئیے ان کی سمت بڑھتے ہیں
13:43السلام علیکم برحمت اللہ و برکار
13:45حضور دعا کا معنی
13:47اور مفہوم اور قرآن و حدیث کی روشن
13:50بسم اللہ الرحمن الرحیم
13:51صل اللہ علیہ و حبیبہ محمد و علیہ و صحبہ
13:54و بارک و سلم
13:55دیکھیں بندہ جب مشکلات میں گھرا ہوا ہو
13:58پریشان ہو
13:59اور مسائب اور جنگ جب ہوتی ہے
14:02لڑائی ہوتی ہے
14:03تو لڑائی میں بندے کو ہتھیار کی ضرورت ہوتی ہے
14:06اپنا دفاع بندہ کس سے کرتا ہے
14:08ہتھیار کی ضرورت
14:09سبحان اللہ
14:10مشکلات جو سامنے ہیں ان کو فیس کرنا ہے
14:13آپ نے ان کو ٹیکل کرنا ہے
14:15ان کو زیر کرنا ہے
14:16ہتھیار کے ذریعے زیر کرنا ہے
14:18آپ نے سیلف پروٹیکشن کرنی ہے
14:20وہ ہتھیار کے ذریعے
14:21حسلے کے ذریعے کرنی ہے
14:23دعا کے لئے فرمائے
14:24اد دعاو سلاح المومن
14:26یہ دعا مومن کا ہتھیار ہے
14:29کہ بندہ اس دنیا میں
14:31یہ جو عالم رنگ و بو ہے
14:32عالم اسباب ہے
14:33اس میں جب اس کے سامنے مختلف پریشانیاں آتی ہیں
14:36اس میں مختلف پریشانیوں کو
14:39اس نے کس ہتھیار سے زیر کرنا ہے
14:41اپنی حفاظت
14:42اس نے ان مشکلات سے کیسے کرنی ہے
14:45ان مشکلات سے باہر کیسے نکلنا ہے
14:47اوورکم کیسے کرنا ہے
14:49وہ اس نے اس دعا کے ذریعے کرنا ہے
14:50یہ دعا کا ہتھیار
14:52وہ استعمال کرے گا
14:53تو وہ ان مشکلات پر اوورکم ہو جائے گا
14:55یعنی ان کو قابو پا لے گا
14:56ان مشکلات سے باہر آ جائے گا
14:58تو یہ طریقہ خود بیان فرما دیا گیا ہے
15:00بندہ مومن کے لئے
15:01کہنی اس بندہ مومن کے لئے
15:03دعا میں نفع ہی نفع ہے
15:05دعا کے ہتھیار کو استعمال کرے
15:07اسباب بھی اختیار کرے
15:08اب یہ مطلب بھی نہیں ہے
15:09کہ اسباب اختیار نہیں کرنے
15:10دنیا عالم میں اسباب ہیں
15:11اسباب اختیار کرنے کا حکم ہے
15:14اسباب اختیار کرے
15:15اور پھر دعا مانگے
15:16یعنی دل کا بھروسہ جہاں
15:17وہ اللہ تعالیٰ پر رکھے
15:19کہ اسباب اختیار کرنا بھی ضروری ہے
15:21تدبیر کا بھی ہمیں حکم دیا گیا ہے
15:23اور یہ جو تدبیر ہے
15:25یہ تقدیر کے منافی نہیں ہے
15:27تدبیر کرنا
15:28باقی ٹھیک ہے
15:29نتیجہ تو اللہ تعالیٰ پر چھوڑنا ہے
15:31اللہ تعالیٰ ہی نتیجہ دینے والا ہے
15:34لیکن بندے کا کام کوشش کرنا ہے
15:36کوشش بہرحال کرنی چاہیے
15:38جیسا کہ عدیس موارک کے اندر بھی
15:39اکثر میں بیان بھی کرتا ہوں
15:40کہ جب وہ صحابی نے پوچھا تھا
15:42کہ حضور میں اونٹنی کو اپنی باندھوں
15:44یا توقل کروں
15:45اور اسے جو کھلا چھوڑ دوں
15:46تو اللہ کی نبی علیہ السلام نے فرمایا تھا
15:48اسے باندھو
15:49اور اللہ پر توقل کرو
15:51یعنی اسباب اختیار کرو
15:53لیکن جو دل کا بھروسہ ہے
15:54وہ اسباب پر نہ ہو
15:55وہ خالے کے اسباب پر ہو
15:57وہ مسبب الاسباب پر ہو
15:58تو یہ رہنمائی ہو گئی اس بات کی طرف
16:01کہ اسباب تو اختیار کرنے ہیں
16:02عالم اسباب کے اندر
16:03لیکن قلب کا بھروسہ
16:05خالے کے اسباب پر
16:06مسبب الاسباب پر ہے
16:08تو لہذا دعا اسے مانگنی ہے
16:09اسباب ہم نے اپنے اختیار کر لی
16:11اب ہم نے اللہ سے دعا مانگنی ہے
16:13تو اللہ تعالیٰ تور Angels
16:14ہی ہماری مشکلات
16:15دور کرنے والا ہے
16:16وہ ہی ہماری پریشانیاں
16:18دور کرنے والا ہے
16:18کیا؟
16:19قرآن مجید میں فرمایا
16:20اَمَن يُجِيبُ الْمُتَرَّ
16:21اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوَ
16:23کون ہے جو مستر کی
16:26پریشان کی دعا
16:27قبول فرماتا ہے
16:28It is also condonable with втор heroin
16:30It is he
16:41I love you
16:43Allah
16:53I'm millennials
16:54Minos parts
16:55One does
16:56But that's the question of this.
17:26This is the word of the word of the Lord.
17:56وَعْلَمُوا اَرْسُنْ لَوْ كِيَ اللَّهِ دُعَا قَبُولَ نَيْنِ فَرْمَاتَا مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاہٍ
18:02ایسے قلب سے جو غفلت والا ہو
18:04غفلت والے دل کی دعا قبول نہیں ہوتی
18:06یعنی یکسو ہو کر حضور قلب سے
18:08یقین کے ساتھ اللہ کے حضور دعا مانگو
18:10اللہ تمہاری دعا ضرور قبول فرمائے گا
18:13سبحان اللہ ماشاء اللہ بارک اللہ
18:15میں آپ کی سمتہ ہوں گی
18:16عالم عائشہ مختار
18:18اور ایسے ہاتھ اٹھا کے دعا مانگی جاتی ہے
18:22تو یہ جو دعا میں ہاتھ اٹھایا جاتا ہے
18:25اس کا طریقہ اور اس کا حکم بیان کیجئے
18:27لیکن عام طور پر جب کوئی بندہ دعا کرتا ہے
18:30تو وہ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کرتا ہے
18:33اور یہی دعا کرنے کا مستخب طریقہ ہے
18:36اور مسنون طریقہ ہے
18:37کہ جب دعا کریں تو ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو
18:40آسمان کی طرف اٹھا کر دعا کریں
18:42یہ طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت بھی ہے
18:47اور اس کی ترغیب بھی آپ نے صحابہ اکرام کو
18:49اور آمد المومنین کو دی ہے
18:52نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل مبارک سے
18:57متعلق ابو دعو شریف میں روایت ہے
18:59کہ انن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:02کانا اذا دعا فرفع یدئی
19:05یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:08جب دعا فرماتے
19:09تو اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند فرمایا کرتے تھے
19:12اٹھایا کرتے تھے اپنے دونوں ہاتھوں کو
19:14اسی طرح صحابہ اکرام کو بھی آپ نے
19:18اس عمل کی ترغیب دی ہے
19:19فرمایا
19:20اذا سألتم اللہ فسألوہ ببطونی اکفکم
19:24ولا تسألوہ بظہوریہ
19:27یعنی جب تم اللہ تبارک و تعالی سے سوال کرو
19:30تو اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے سوال کرو
19:33ان کی پشتوں سے سوال نہ کرو
19:35تو اس حدیث مبارکہ کی تعلیم کے مطابق
19:39جو دعا کے وقت ہاتھ پھیلانے کا طریقہ ہے
19:41وہ یہی معلوم ہوتا ہے
19:42کہ ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو
19:44آسمان کی طرف بلند کیا جائے
19:47اور جو پشت ہے ہاتھ کی
19:49وہ زمین کی طرف رکھی جائے
19:51اسی لئے علماء کرام نے
19:52دعا کے آداب میں یہ بات بیان کی ہے
19:55کہ ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو
19:57آسمان کی طرف پھیلائیں
19:58اور پشتوں کو زمین کی طرف رکھیں
20:00اور دعا کے وقت ہاتھوں کو
20:02اتنا بلند کریں
20:03کہ وہ سینے کے مقابل آ جائیں
20:05or, or you to get a bar to get so over and get so over and get it.
20:09or this is so much for you to get so over and get a bar to get back.
20:13This is a way of blending and blending and publish the method.
20:16But one thing I want to make here is that this is an example of a way to put out a way that is a view.
20:24It's a way of blending and using this method is so.
20:27But In addition to doing this method is showing a way that you can't use a way to interpret your code.
20:32تو قیفیت کے ساتھ دعا نہیں کرتا
20:34اور وہ ہاتھوں کو بلند نہیں کرتا
20:36تو یہ بھی بالکل جو ہے وہ مشروع ہے
20:39طریقہ یعنی دل ہی دل میں
20:40چپکے چپکے اور
20:42بالکل اللہ تعالیٰ سے
20:44راض و نیاز کے ساتھ انسان دعا کرے
20:47اور اس سے لو لگا کر ایسی صورت
20:49میں دعا کرے کہ کسی کو پتا بھی نہ چلے
20:50کہ وہ دعا کر رہا ہے تو یہ طریقہ
20:52بھی بالکل مشروع ہے اور
20:54اس کو علماء کرام نے بیان
20:56کیا ہے اور قرآن کی قرآن
20:58میں بھی اللہ تعالیٰ نے پوشیدہ دعا
21:00کرنے کا حکم دیا ہے اور
21:02قرآن کی زبان میں اگر ہم کہیں تو
21:04اس کو خفیہ دعا اللہ تعالیٰ نے
21:06فرمایا ہے کہ وَدْعُوا رَبَّكُمْ
21:08تَدَرُّعُوا وَخُفِيَا
21:10تو خلاصہ کلام یہی ہے
21:13کہ دعا کرنے کا
21:14دونوں ہی طریقے مشروع ہیں
21:16اگر ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے تو یہ
21:18ظاہری صورت ہے دعا کرنے کی اور اگر
21:21دل ہی دل میں دعا کی جائے ہاتھ
21:22نہ اٹھائے جائیں تو یہ بھی ممنون نہیں
21:24ہے ٹھیک ہے نمازوں
21:26کے بعد دعا مانگنے کا
21:28کیا حکم ہے عالمہ فاطمہ
21:31فرض نماز کے بعد دعا کرنے
21:34کی فضیلت احادیث مبارکہ میں
21:36آئی اور قرآن مجید فرقان خمید
21:38میں بھی اس کا ذکر ہے بلکہ
21:40فرائز کے بعد دعا کرنا
21:42جو قلیت دعا کے اوقات
21:44ہمیں احادیث مبارکہ میں ملتے ہیں
21:46یہ انہی میں سے ایک ہے
21:47اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
21:50فَإِذَا فَرَغْتَ فَاصَبْ
21:53کہ تم جب فارغ ہو تو خوب
21:55کوشش کرو اس آیت مبارکہ
21:57کی تفسیر میں حضرت ابن عباس
21:58رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں
22:01کہ اس کا مطلب یہ ہے
22:02کہ اے محبوب جب آپ فرض
22:04نماز سے فارغ ہو جائیں
22:06تو اپنے رب سے دعا کریں
22:08اپنے رب سے دعا کرنے میں کوشش کریں
22:10اس کو پکارنے میں رغبت کیجئے
22:12اور اس کی ایک تفسیر یہ کی گئی
22:14کہ جب آپ فرض
22:16جب آپ نماز سے فارغ ہو جائیں
22:17تو اس کے بعد آخرت کے لئے دعا کریں
22:20کیونکہ نماز کے بعد دعا قبول ہوتی ہے
22:22تو دعا کا حکم
22:24جو ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
22:26کو آیت مبارکہ میں دیا گیا
22:28اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم
22:30اللہ پاک کے سب سے زیادہ محبوب ہیں
22:33سب سے زیادہ قریب ہیں
22:34اور یقیناً آپ کو جو حکم دیا گیا
22:37وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے
22:39نزدیک بھی محبوب عمل ہوگا
22:40کیونکہ محبوب کو دیا جا رہا ہے
22:43تو وہ یقیناً
22:45عمل بھی اللہ پاک کے نزدیک محبوب ہوگا
22:47تو لہٰذا ہمیں نمازوں کے بعد
22:49خاص احتمام کرنا چاہیے
22:51دعاوں کا
22:52اور اگر افضلیت کی بات کی جائے
22:54مستحب کی بات کی جائے
22:56تو مستحب یہ ہے
22:57کہ نماز کے بعد
22:59یعنی فرض جب پڑھ لیں
23:00تو اس کے بعد دعا کریں
23:01اور اس کے بعد سنتیں ادا کریں
23:03یعنی فرائز اور سنتوں کے درمیان
23:05گو کہ اگر کوئی شخص
23:07سنتوں کے یعنی پوری نماز
23:08ادا کرنے کے بعد آخر میں دعا کرتا ہے
23:11تو اس میں بھی کوئی حرج تو نہیں
23:12اور اگر کوئی ایسا کرنا چاہے
23:14کہ فرائز کے بعد
23:15جو ہے وہ مختصر دعا کر لیں
23:17تاکہ مستحب طریقے پر عمل بھی ہو جائے
23:20اس کا ثواب بھی حاصل ہو جائے
23:21اور جب نماز مکمل کر لیں
23:23تو پھر اس کے بعد طویل دعا کر لیں
23:25ٹھیک ہے
23:26کالر ہمارے ساتھ ہیں
23:27السلام علیکم
23:28واریکم سلام
23:29میں نے دو سوال پوچھنے ہیں
23:31جی پوچھئے
23:32دو حدیثیں میں پوچھوں گی
23:34یہ ساتھ تھے
23:35یعنی یہ مجھے بتا دے
23:36جی جی پوچھیں
23:37ایک حدیث میں نے پوچھنی ہے
23:38میں نے کتاب میں پڑھا ہے
23:40آپ صاحب نے فرمایا
23:41میری اور تمہاری مثال
23:42اس شخص کی تھی ہے
23:43جس نے آگ جلائی
23:43تو پتنگی اور پروانیس میں گرنے لگے
23:46اور وہ ان کو آگ سے
23:48میں ان کو آگ سے اٹانے لگا
23:50اور تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر
23:52تمہیں جنم کی آگ سے بچا رہا ہوں
23:54لیکن تم میرے آسا سے نکلے جا رہے
23:55اور جنم کی آگ میں گھرے جا رہے ہو
23:57ٹھیک ہے
23:58اور دوسری حدیث یہ
23:59کہ مومن کی مثال کھیتی
24:01کہ پودھا کی سے جسے ہوا کبھی جھکا دیتی ہے
24:03کبھی سیدھا کر دیتی ہے
24:04اور مناسب کی مثال
24:06سنوبر کے درست کی سے
24:07جو کھڑا رہتا تھا
24:08کہ ایک ہی دفعہ میں اکھڑ جاتا ہے
24:10ٹھیک ہے
24:12یہ دونوں سوالات پوچھ لیے جائیں گے
24:14بہت شکریہ بہن آپ نے ہمیں
24:16کال کی آپ کے سوالات
24:18انشاءاللہ شامل کروں گی
24:25جناب دین اور خواتین میں
24:27آپ کا خیر مقدم ہے
24:29ہم بات کر رہے ہیں
24:30دعا کے احکام کے تعلق سے
24:32اور بریک سے قبل عالمات
24:34سے میں نے سوالات کی
24:36اب میں چاہتی ہوں کہ
24:37مفتی صاحب کے سمت بڑھوں
24:39اور ان سے کومنٹ لوں
24:40اس تعلق سے
24:40کہ جو دعا میں ہاتھ اٹھانے کا حکم ہے
24:44اور نمازوں کے بعد دعا مانگنے کا حکم ہے
24:46آپ رہنمائے فرمانا چاہیں گے
24:47اس پر
24:47لیکن جہاں تک جو ہے
24:49وہ دعا میں ہاتھ اٹھانے کے حکم کی بات ہے
24:51تو ایک بات تو یہ ذہن میں رکھیں
24:53کہ عام حالات میں
24:54جنرل سرکمسٹانسز میں
24:55دعا میں ہاتھ اٹھانا مستحب ہے
24:58ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی جائے
25:00لیکن جو اسکار متواردہ ہوتے ہیں
25:02یہ اسکار متواردہ سے مراد
25:04وہ اسکار کے جو دعائیں
25:06جیسے کھانے سے پہلے کی دعا
25:08کھانا کھانے کے بعد کی دعا
25:10لباس پہننے کے وقت کی دعا
25:12اس طرح کی جو دعائیں ہیں
25:13یہ اسکار متواردہ کہلاتے ہیں
25:15اسکار متواردہ میں
25:17ہاتھ اٹھانا یہ سنت نہیں ہے
25:19اسکار متواردہ بغیر ہاتھ اٹھائے پڑے جائیں گے
25:22اور باقی ویسے جو عام دعا ہے
25:24نماز سے ہٹ کر
25:25نماز میں بھی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھائے جائیں گے
25:27نماز کے علاوہ اور یہ اسکار متواردہ سے ہٹ کر
25:29جس کو واقعی ہم جب دعا کہتے ہیں
25:31بقائدہ دعا کی طرح مانگ رہے ہوتے ہیں
25:33تو یہ جو انداز ہے
25:35اس میں عمومی انداز یہ ہے
25:36کہ ہاتھ اٹھائے جائیں مستحبی ہے
25:38تاہم کوئی اگر ہاتھ نہیں اٹھاتا
25:40اور دل ہی دل میں دعا مانگ لیتا ہے
25:43یا زبان سے بھی مانگتا ہے لیکن ہاتھ نہیں اٹھاتا
25:45تو بھی بندہ گناہگار نہیں ہے
25:46کیونکہ یہ استحبابی حکم ہے
25:48وجوبی حکم نہیں ہے
25:49یہ ہوگا یہ ایک بات
25:50دوسری بات ہاتھ اٹھانے کی کیفیت کے حوالے سے
25:53ہاتھ اٹھانے کی جو کیفیت ہے
25:55ویسے تو ہاتھ اٹھائے جائیں گے
25:57تو ہاتھیلیاں جو ہے وہ
25:58آسمان کی طرف ہوں گی
26:00اور جو پشت ہے یہ زمین کی طرف ہاتھوں کی
26:03لیکن کبھی کبار ابتحال کے لیے
26:05آجزی کے طور پہ
26:07یہ بھی احادیث سے ثابت ہے
26:09کہ ہاتھوں کی پشت جو ہے وہ اپنے موں کی طرف کرنا
26:11ایسے ہاتھوں کی پشت جو ہے
26:13موں کی طرف کی اور ہاتھوں کا ظاہر سامنے ہو گیا
26:15اس طرح
26:16یہ انداز بھی احادیث سے ثابت ہے
26:18کبھی کبھی جو ہے وہ ابتحال کے لیے
26:20تضرر ظاہر کرنے کے لیے
26:22توازو انکسار ظاہر کرنے کے لیے
26:25بالخصوص نماز استثقاء
26:26وغیرہ کے موقع پر یہ انداز بھی
26:28مشروع ہے تو یہ بھی سنت سے ثابت ہے
26:30اس کے علاوہ جو ہے وہ انگلی سے
26:32جو ہے صرف انگلی بغیر ہاتھ
26:34اٹھائے صرف انگلی کا اشارہ یہ بھی
26:36جو ہے وہ سنت سے حدیث سے
26:38ثابت ہے دعا کے لیے
26:40تو کوئی اگر یہ انداز اختیار کرتا ہے
26:42انگلی کے اشارے سے دعا کر لیتا ہے
26:44یا ہاتھوں کو اس طرح اٹھا کے دعا کر لیتا ہے
26:46تو اس پر بھی اس کو ثواب ملے گا
26:48تاہم عام حالات میں جو زیادہ معمول
26:50ہے وہ یہ ہے کہ ہاتھ بقاعدہ
26:52اٹھائے جائیں جس کا حکم بھی ہے
26:54اور ایسے پشت کے ساتھ جو ہے وہ ہاتھ
26:56اٹھانے سے منع کیا گیا ہے کہ ایسے پشت
26:58کو اوپر رکھا جائے تاہم اس کے لیے
27:00بھی چونکہ الگ سے موجود ہے کہ جو
27:02دعا رہبت ہوتی ہے ڈر کے وقت
27:04کی دعا یا مصیبت دبانے کے لیے
27:06دور کرنے کے لیے دفع بلا
27:08کی دعا کے لیے یہ بھی منقول ہے
27:10کہ دفع بلا کی دعا کے لیے ہاتھ
27:12ایسے اور اس میں نیک فال یہ ہے کہ
27:14مصیبت کو دبا رہے ہیں فال کو دبا
27:16رہے ہیں تو یہ بھی ثابت
27:18ہے بہر لیکن عام حالات میں یہ ہے
27:20کہ ہاتھ جو ہے وہ اس طرح ہتھیلیاں
27:22اسمان کی طرح پھیلائے جائیں اس سے دعا مانگی جائیں
27:24اور اس میں بھی پھر وہ چار طریقے کہ جو ہے وہ
27:26سینے کے سید میں ہے یا کندھے کے سید میں
27:28یا چہرے کے سید میں یا دونوں ہاتھوں کو بہت
27:30زیادہ بلند کر لینا عام طور پر
27:32سینے کے سید میں رکھا جاتا ہے باقی
27:34جو ہے وہ کبھی کبار وہ بھی تضرر
27:35ظاہر کرنے کے لیے ہے کہ کیفیت یہ حضور
27:38قلب میں ہے بندہ اس وقت زیادہ
27:39اس پہ گریہ وزاری تاری ہو گئی ہے تو اس نے
27:41ہاتھ بڑھا لیے اٹھا لیے تو پھر کیفیت
27:44یہ چار طریقے ہیں جہاں تک
27:46ہاتھ ملانے کی بات ہے تو ہاتھوں کو
27:47ملا کر بھی رکھا جا سکتا ہے اور ہاتھ
27:49کھلے بھی رکھے جا سکتے ہیں یہ دونوں
27:51طریقے بھی منقول ہیں
27:53ہاتھ ملا کر بھی نقل ہے منقول ہے
27:56اور ہاتھ الگ الگ رکھنا یہ بھی
27:58منقول ہے جو بھی طریقہ اختیار کر لیا جائے
27:59درست ہے تو یہ ہے نماز
28:01کے علاوہ بھی نماز
28:03کے بعد دعا ہو یا نماز کے
28:05علاوہ نماز کے اندر تو دعا میں
28:07بہرحال جائے وہ ہاتھ نہیں اٹھانے
28:09نماز کے بعد کی دعا میں بھی ہاتھ اٹھانے کے والے سے
28:11اس طرح جو بھی میں نے طریقے بتائے اختیار کیے جا
28:13And that's why we have to do this.
28:43nuzul ہوتا ہے تو وہ ان رحمتوں اور برکتوں کو اپنے جسم کے سب سے
28:48عالی اور اشرف حصے پر یعنی چہرے پر انڈیل لیتا ہے اور پھر چہرے
28:53کے توسط سے اور وسیلے سے اور چہرے کے ذریعے سے اس کے تمام جسم
28:57تک وہ رحمتیں اور برکتیں پہنچ جاتی ہیں اور پھر اس میں نیک فال
29:01یہ بھی ہے کہ جیسے اللہ تبارک و تعالی بندہ مومن کے پھیلے ہوئے
29:07ہاتھوں پر رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرماتا ہے تو اسی طرح جب اس
29:12نے ان ہاتھوں کو خالی نہیں چھوڑا تو وہ مانگی جانے والی دعاوں
29:16کو بھی ضرور پورا فرمائے گا اور اس کی مرادوں کو ضرور عطا
29:20کرے گا تو اس میں ایک نیک فال یہ بھی ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ
29:26تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل مبارک سے متعلق جامع ترمیزی
29:31میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم
29:35صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تو انہیں
29:40اپنے چہرے پر پھیرے بغیر نیچے نہیں فرماتے تھے اسی طرح
29:44ابو دعو شریف میں بھی روایت ہے کہ انن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
29:48اکانا اذا دعا فرفع یدئی مساح وجہہ بیدئی یعنی نبی کریم
29:54صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دعا فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھوں
29:58کو بلند کرتے اور دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے پر پھیر لیتے اور اسی
30:02ترغیب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ اکرام کو بھی دھی اور
30:07فرمایا کہ فَإِذَا فَرَغْتُمْ فَمْسَهُ بِهَا وُجُوْحَكُمْ
30:12کہ جب تم دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھوں کو اپنے چہروں پر پھیر لیتے
30:17اچھا جہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دعا کے لیے
30:22ہاتھ اٹھانا ثابت ہے جس جس موقع پر وہاں پر نبی کریم صلی اللہ
30:26علیہ وآلہ وسلم نے دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ بھی پھیرے ہیں لیکن ایسی
30:32دعائیں جہاں پر دعا کے لیے ہاتھ نہیں اٹھائے وہاں پر چہرے پر ہاتھ
30:37پھیرنا بھی ثابت نہیں ہے جیسے کہ نماز کے اندر جو دعا مانگی جاتی
30:40ہے یا تواف کے موقع پر یا کھانے سے پہلے اور بعد میں سونے سے پہلے
30:46اور بعد میں جو دعائیں ہیں جو مسنون ہیں ان دعاوں کے مواقع پر نبی
30:51کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چونکہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا ثابت
30:55نہیں ہے تو پھر ان کے بعد ہاتھ چہرے پر پھیرنا بھی منقول نہیں
30:59ہے ٹھیک ہے میں آپ کے سامتا ہوں گے عالمہ فاطمہ اور کیا دعا کے لیے
31:04کسی خاص وقت یا حیعت کا ہونا ضروری ہے یا کسی بھی حالت میں دعا کی
31:10جا سکتی ہے ایسے تو دعا کے لیے کوئی خاص وقت ضروری نہیں کہ آپ اسی
31:15وقت میں دعا کریں بلکہ آپ جب چاہیں اللہ تعالیٰ کو پکار سکتے ہیں
31:19اس کو یاد کر سکتے ہیں ندا کر سکتے ہیں البتہ حدیث مبارکہ میں
31:23قبولیت دعا کے اوقات ضرور بیان کیا گیا جیسا کہ حدیث مبارکہ میں
31:28آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا ایو دعای اسمہو
31:33کہ کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ
31:36پچھلی رات کے درمیان اور فرض نمازوں کے بعد اسی طرح ایک مقام پر
31:40آپ نے فرمایا لا یرد دعاو بین الآدانی والاقامتی کہ آزان اور
31:46اقامت کے دعا درمیان دعا رد نہیں کی جاتی تو یہ وہ اوقات ہیں
31:52جو قبولیت کے زیادہ قریب ہیں اسی طرح مختلف اور بھی اوقات بیان
31:58کیے گئے اور حیعت کا جہاں تک تعلق ہے تو حیعت بھی کوئی مخصوص
32:02نہیں البتہ جیسے کوئی شخص نماز کے بعد دعا کرتا ہے تو عمومی طور
32:07پر نماز کے بعد جو ہے وہ ہاتھوں کو بلند کر کے ہی دعا کی جاتی
32:11ہے اور امت مسلمہ کا اس پر عمل بھی ہے گو کہ اگر کوئی شخص اس طرح
32:15دعا نہیں بھی کرتا تو بھی یعنی فرض تو نہیں ہے لیکن ایک
32:21مستحب عمل ہے اگر کوئی شخص کرے بلکہ آداب میں سے ہے اور آداب
32:24کو ملحوظ رکھے تو زیادہ اچھا ہے باقی رہا چلتے پھرتے دعا کرنا
32:28چاہے کوئی شخص تو بالکل کر سکتا ہے جس حیعت جس صورت میں چاہے
32:32کر سکتا ہے اور بعض تو ایسی صورتیں ہیں جہاں پہ حیعت مطلوب بھی نہیں
32:37جیسے کہ وہی کھانے سے پہلے کی یا سونے سے پہلے کی اب سوتے
32:41ہوئے بندہ دعا پڑھنے لگے تو لیٹا ہوا ہے تو ایسے ہی دعا پڑھ
32:44سکتا ہے یا کھانے سے پہلے تو اس وقت جو ہے وہ ہاتھوں کو بلند
32:48نہیں کیا جاتا یا قبل رخ متوجہ نہیں ہوا جاتا باقی عام حالات
32:53میں آہ زیادہ بہتر اور مستحب یہ ہے کہ جو آداب ہیں ان کا خیال
32:57چھیک ہے صاحب میں آپ کی سمتہ ہوں گی آپ کومن فرمانا چاہیں گے
33:01یا کالرز کی سوالہ
33:02کم ہے آپ کالرز کے جوابات کی طرف آجائیں
33:04ہمیرہ بہن نے سوال کیا وہ کہہ رہی ہے کہ بعض لوگ دعا کرتے ہیں اور بڑی
33:09شدت سے کوئی چیز کوئی خواہش طلب کر رہے ہوتے ہیں اور جب پھر ان کو
33:15لگتا ہے کہ بار بار دعا کرنے پر بھی وہ چیز انہیں نہیں مل رہی جس کی
33:18طلب تھی تو وہ مایوس ہو جاتے ہیں اور یہ مایوسی کا شکار ہونا آپ کیا
33:24فرماتے ہیں پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک تو مایوس نہیں ہونا چاہیے کسی
33:27بھی حال میں اللہ کی رحمت سے دوسری بات یہ ہے کہ جو یہ جو طلب ہے
33:31طلب طلب پہ بھی depend کرتا ہے طلب آپ کی کس چیز کی ہے بعض
33:35وقت بندے کی جو طلب ہے وہ طلب جائز ہی نہیں ہوتی اور وہ
33:38اللہ تعالیٰ سے مانگ رہا ہوتا ہے دوسری بات یہ ہے کہ بندہ جو
33:41مانگ رہا ہوتا ہے اور اسے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ جو چیز میں مانگ
33:44رہا ہوں میرے حق میں یہ خیر ہے یا نہیں بندہ ہے نا اس کا علم
33:48محدود ہے نظر بھی محدود ہے سطح محدود ہے تو اپنے حساب سے بندہ
33:52سوچتا ہے اس کو لگتا ہے یہ چیز میرے حق میں اچھی ہوگی لیکن وہ
33:55چیز اس کے حق میں پریشانی کا اور آزمائش کا باعث تکلیف کا دکھ
33:59کا زیادہ ہوتی ہے اس کا اصل علم اللہ تعالیٰ کا بطالہ ہو
34:02اسی لئے حکم یہ ہے کہ جب بھی اللہ سے دعا مانگی جائے تو ساتھ
34:05آفیت ضرور مانگی جائے اسی لئے فرمایا گیا صل اللہ
34:08اللہ سے آفیت کا سوال کرو اسی لئے جب ہم لوگوں کو خود بھی
34:11سمجھاتے رہتے ہیں کہ جب آپ دعا مانگا کریں تو یہ جو دنیاوی
34:14چیزیں ان کی بات ہو رہی ہے جو اخر بھی بالائی ہے وہ تو
34:17ظاہری بات ہے خیر ہی خیر ہے دنیاوی دعائیں جو ہوتی ہیں ان کے
34:20اندر مغلوں کو سمجھاتے ہیں یہ بات کہ آپ ساتھ آفیت کا بھی
34:23ضرور کہا کریں آفیت کی دعا بھی مانگا کریں آفیت اللہ تعالیٰ
34:28سے مانگنی چاہیے تو اگر اللہ تعالیٰ سے آفیت بھی آپ مانگ رہے ہیں
34:31اور دو چیز آپ مانگ رہے ہیں تو آپ کی دعا جو ہے وہ فائدے سے
34:34خالی نہیں ہوگی مایوس ہو کے دعا نہیں چھوڑنی چاہیے کیونکہ
34:37جو دعا ہوتی ہے وہ بہرحال مفید ہے کہ اگر ظاہری مراد
34:41مل گئی تو سبحان اللہ نقد آپ کو فائدہ ہاتھ آگیا ہے لیکن اگر
34:45ظاہری مراد نہیں ملی تو بحکم حدیث دعا جو ہے بعض اوقات
34:48بلائیں ٹلنے کا سبب بن جاتی ہے کبھی بڑی مصیبت کے چھوٹی
34:52مصیبت سے ٹلنے کا سبب بن جاتی ہے اور اسی طرح ہم بعض اوقات
34:54دعا کا ظاہری طور پر قبولیت اس کی نہیں ہوتی یعنی مراد
34:59ظاہری طور پر نہیں مل رہی ہوتی لیکن ثواب اس کا سٹور کر دیا
35:02جاتا ہے زخیرہ کر دیا جاتا ہے آخرت کی اور بہتر یہ بات
35:06فرمائی گئے کہ جب بندہ آخرت میں اپنی قیامت کے روز اپنی ان
35:09دعاوں کا ثواب دیکھے گا زخیرہ دیکھے گا کہ جو دنیا میں دعائیں
35:13مانگی تھی اور وہ مراد ظاہری طور پر نہیں ملے تھی تو تمنا
35:16کرے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہوتی
35:19اور آج مجھے یہاں اس کا ثواب مل جاتا یہ زخیرہ مجھے یہاں
35:22آتا ہو جاتا اور ادافہ ہوتا لہذا دعا سے مایوس ہو کے کبھی بھی
35:26دعا ترک نہیں کرنی چاہیے ترک دعا بہرحال ہے وہ مزر ہے
35:30بہت شکریہ مفتی صاحب آپ کا عالم آئیشہ مختار اور عالم فاطمہ
35:34میں آپ دونوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ناظرین آج کے لیے
35:38بس اتنا ہی مایوسی جو ہے وہ اچھی بات نہیں ہے اور مایوسی کا
35:43شکار بھی نہیں ہونا دعا مانگتے رہنا ہے کیونکہ سکون تسلی اور
35:47ڈھارس بھی تو اسی بارگاہ سے ملتی ہے السلام علیکم ورحمت اللہ
35:51بہر نساب دیکھی آقا کے فرامی عوج کا مال پر ہے وہ تابندہ مزامی
36:04احکام اس مسیح کے خواتین دین کے کیا خوب ہے جس سلا دین اور خواتین
36:17دین اور سبتی دین اور سبتی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended