- 7 months ago
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00اے امام یا خاجہ دست بستا ہو سلام یا خاجہ
00:20بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین
00:23والصلاة والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین
00:26ناظرین کرام السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:29حضور خاجہ خاجگان خاجہ غریب نواز
00:32رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کی سیرت کے حوالے سے
00:36ان کے عرص کے موقع پر یہ ایک سیریز ہے
00:39شانِ اولیاء کے انوان سے جو ہم آپ کے لیے پیش کر رہے ہیں
00:43اس میں آج خاص طور پر حضور خاجہ مہین الدین چشتی
00:48رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
00:49عطائے رسول جنہیں نائبِ رسول فی الہند کہا جاتا ہے
00:54ان کی ولادت ان کے احوال بچپن کے انہیں تعلیم کہاں پائی
01:01اور وہ کیا عوامل تھے کہ جنہوں نے غریب نواز کو غریب نواز بنا دیا
01:08اور اتنی کثیر تعداد میں لوگوں نے کلمہ پڑھا
01:12آپ کی وساطت سے یہ آپ کا اخلاق آپ کا کردار تھا
01:16اس حوالے سے انشاءاللہ بات کریں گے
01:19آپ نے زندگی میں کتنے اسفار کیے
01:21اس حوالے سے بھی اور پھر وہ ایسا کون سو موقع تھا
01:26وہ کون سی گھڑی تھی کہ آپ نے اپنا مسکن اجمیر کو بنایا
01:31ہندوستان کی سرزمین پر آپ نے قدم رکھے
01:34تو گویا آج غریب نواز کی سیرت کے حوالے سے تذکرہ ہوگا
01:39ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
01:41بہت ہی ممتاز محترم شخصیت ہیں
01:44بہت علمی اور روحانی شخصیت
01:47قبلہ ڈاکٹر حبیب عرفانی صاحب
01:50سلام علیکم
01:50لوگ سب بہت شکریہ آپ کی آمد کا
01:52سلام
01:52ڈاکٹر صاحب ایک سلسلہ چشتیا عرفانیاں کے آپ سجادہ نشین ہیں
01:58اور آپ کے والدِ گرامی عظیم شخصیت
02:01سید بجی حسیمہ عرفانی رحمت اللہ تعالی علیہ
02:05آپ کی قطب سلسلہ چشت کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں
02:09بہت شکریہ آپ کی آمد کا
02:11ہمارے ساتھ ایک اور ممتاز سکولر ممتاز عالم دین
02:14آپ انہیں اکثر ہمارے پروگرامز میں بہت شاندار گفتگو کرتے ہوئے
02:19دیکھتے ہیں متعدد قطب کے آپ مصنف ہیں
02:22ڈاکٹر عرفان اللہ صحیفی صاحب
02:24سلام علیکم
02:24بہت شکریہ آپ کی آمد کا اور بہت خوبصورت پڑھنے والے
02:29خوش آواز خوش انداز ممتاز محترم صنعہ خان
02:33محمد تارک مسعود صاحب
02:34السلام علیکم
02:35مارسل رشیف فرما ہے
02:37خوش آمدید
02:38آغاز نات سے
02:39دلو نگاہ کی دنیا نہیں ہوئی ہے
03:00دلو نگاہ کی دنیا نہیں نہیں ہوئی ہے
03:18درود پڑھتے ہی ایک ایسی روشنی ہوئی ہے
03:35اور میں بس یوں ہی تو نہیں
03:45آگیا
03:54ہمہ فلم میں
03:59کہیں سے عزد ملا ہے
04:09تو حاضری ہوئی ہے
04:16اور یہ سر اٹھائے
04:25یہ سر اٹھائے
04:38جو میں جا رہا ہوں
04:44جانب کھل
04:47میرے لیے میرے آقا
04:58نے بات کی ہوئی ہے
05:04اور مجھے یقین
05:23وہ آئے کے وقت آخر بھی
05:33میں کیسا کھوں گا
05:40زیارت
05:42ابھی ابھی ہوئی ہے
05:49دلو نگاہ کی دنیا
05:55نہیں ہوئی ہے
06:02ماشاءاللہ
06:07ماشاءاللہ
06:08لوگ سب خاجہ غریب نواز
06:10جس جن ایام میں آپ کی ولادت ہوتی ہے
06:13کہا جاتا ہے مادرزاد ولی
06:16ایک تو مادرزاد ولی کون ہوتا ہے
06:19یہ ذرا بیان فرما دیجئے گا
06:21اور پھر اس خطے کے حالات
06:23کس خطے میں آپ کی پیدائش ہوتی ہے
06:25اور اس خطے کے حالات کیا ہیں
06:26تسلیم صاحب
06:29خاجہ آلی کا
06:30جو سنے ولادت ہے
06:33جس طرح تاریخوں میں مذکور ہے
06:35کتابوں میں مذکور ہے
06:36پانچ سو چونٹی سیجری ہے
06:38یہ دور جو ہے
06:41یہ متقیب اللہ کا ہے
06:43اور
06:44سیاسی حوالے سے
06:47اس کو برے ترین
06:49ادوار میں سے ایک دور کہا جا سکتا ہے
06:51ظلم جبر
06:52بلکل
06:53یا جو تاریخ میں
06:55یا اسلامی تاریخ میں
06:57جو برے ادوار آئے ہیں
06:58یہ اس کا تقریباً دس سال کا دور ہے
07:01اور یہ
07:03کہ اس میں کسی کا
07:05مال و دولت محفوظ نہیں
07:06کسی کی عزت محفوظ نہیں
07:08کسی کی جان محفوظ نہیں
07:10یہ اس طرح کا دور تھا
07:12کہ جس میں
07:13بہت زیادہ
07:15اس طرح کے
07:17بد انتظامی کے حالات تھے
07:19کہ قضاقی بہت عام تھی
07:21ڈکیتی بہت عام تھی
07:23کہ کسی شخص کو یہ یقین نہیں تھا
07:25کہ جس طرح کہ ہم آج کے حالات میں
07:27اگر دیکھیں
07:28یا کچھ وقت پہلے تک کے حالات دیکھیں
07:30کہ جس طرح سے یہ کہا جاتا تھا
07:33کہ پتہ نہیں
07:33واپس گھر آئیں گے بھی نہیں
07:34ہو ہو ہو
07:35ایسی کیفیت
07:36ایسی کیفیت تھی
07:37ٹھیک ہے
07:38اس ایسے احوال میں
07:40خاجہ علی کا
07:42ورود ہوا
07:44اس کائنات میں
07:45اور آپ کے
07:46اس کائنات میں
07:48تشریف لانے سے پہلے
07:50آپ کی والدہ محترمہ نے
07:52ایک دن آپ کے والد گرامی کو
07:54جانے لگے
07:56باہر تو انہیں
07:57روکا
07:58جو اپنے مادرزاد ولی کی بات
08:00جی جی جی
08:01اس حوالے سے جو واقعہ
08:02بیان کیا جاتا ہے
08:03جی
08:04تو انہوں نے ایک واقعہ بتایا
08:06کہ مجھے
08:07ورد کی
08:10اوراد کی آواز آتی ہے
08:12میں حیران ہو کے دیکھتی ہوں
08:14تو مجھے اردگرد کوئی نظر نہیں آتا
08:16پھر میں نے دیکھا
08:17کہ مجھے میرے پیٹ میں سے آواز آ رہی
08:19اللہ اکبر
08:21کہ یہ ابھی پیدائش نہیں ہوئی
08:23تو اس دو وقت بھی
08:25اوراد کا سلسلہ جاری ہے
08:27اس وقت بھی
08:28ازگار کا سلسلہ جاری ہے
08:30اور پھر یہ ندا بھی ملی
08:32کہ یہ مہینو دین کی آواز ہے
08:34جو آپ کے پیٹ میں
08:35اس وقت پر ورش پا رہے ہیں
08:37اور ایک شئے یہ بھی دیکھی جائے
08:39کہ آپ کا
08:40پیدائشی نام
08:41حسن رکھا گیا
08:43مہینو دین کا لقب عطا ہوا
08:45کہ یہ دین کی
08:46اعانت کرنے والے ہیں
08:47دین کی مدد کرنے والے ہیں
08:49کہ جو بچپن آپ کا ہے
08:51اس میں دیکھا جائے تو
08:53جس طرح سے
08:54واقعات میں مذکور ہے
08:56کہ آپ کے ہم عمر دوست
08:58ساتھی
08:59یا ہم عمر بچے جو تھے
09:01وہ جب کھیل کود میں
09:03مشغول ہوتے تھے
09:04تو آپ ایک سائٹ پر کڑے رہتے تھے
09:05جب وہ بلاتے تھے
09:07تو آپ ارشاد فرماتے تھے
09:10کہ میں تم لوگوں کے لیے نہیں ہوں
09:12غریب نوازی کی کیفیت
09:15اگر دیکھیں
09:15تو مختلف واقعات
09:17اس میں ملتے ہیں
09:18ایک واقعہ یہ ہے
09:20کہ اس دور میں
09:20ایک بچہ
09:21افسردہ کھڑا تھا
09:23عید کا دن تھا
09:25اس کو آپ نے پوچھا
09:27کیا ہوا کیوں
09:27افسردہ ہو
09:28تو اس نے یہ بات کہی
09:30کہ جس کے والدین ہو
09:31جس کے بہن بھائی ہو
09:32وہ خوشیاں مناتا ہے
09:34تو آپ اسے ساتھ گھر لے آئیں
09:36اچھا
09:37اپنے کپڑے پہنائے
09:38اور اس کو تیار کروا کے
09:39اور یہ بات ارشاد فرمائی
09:41کہ آج سے میں تمہارا بھائی ہوں
09:42واہ
09:43واہ
09:43یہ واقعہ ہے
09:44ایک واقعہ
09:45اور بھی
09:45اسی حوالے سے
09:46کہ ایک موقع پر
09:48آپ کے ایک پیر بھائی
09:49اپنے شیخ کی خدمت میں
09:51حاضر تھے
09:52تو آپ کے شیخ
09:54موج میں آئے
09:55حضرت خواج آسمان حرونی
09:57قد صلی اللہ تعالیٰ سے
09:58رول عزیز
09:58اور یہ بات ارشاد فرمائی
10:00کہ صبح آج جو میرا چہرہ
10:01دیکھے گا
10:02وہ جنتی ہوگا
10:03لیکن اس بات کا خیال لکھنا
10:06کہ جس کسی نے یہ راز فاش کر دیا
10:08وہ جہنمی ہو جائے گا
10:10اللہ
10:10صبح مرشد گرامی
10:12اپنے حجرہ مبارک سے
10:13باہر نکلے
10:14تو دیکھا ہے کہ جم میں غفیر ہے
10:16تا حد نظر
10:17لوگ ہی لوگ کھڑے ہیں
10:19انہوں نے
10:20دونوں کی طرف دیکھا
10:21اپنے مریدین کی طرف
10:23اور یہ ارشاد فرمائی
10:24کہ میں نے منع نہیں تھا
10:25کیا کس بات کو عام نہ کرنا
10:26یا تم دونوں میں سے کس نے کیا ہے
10:28تو خاجہ غریب نواز
10:30ہاتھ بات کر کھڑے ہو گئے
10:31کہ حضور یہ میں نے کیا ہے
10:34تو ارشاد فرمائی
10:35کہ میں نے اس کی وعید نہیں تھی دی
10:37تو یہ ایک بات ارشاد فرمائی
10:39کہ اگر ایک موینو دین کے جہنم میں جانے سے
10:43ان لاکھوں لوگوں کو جندت
10:44کبھلا ہو جائے
10:45تو سعودہ مارا نہیں ہے
10:46واہ واہ کیا کہہ لے
10:47اور اس پر آپ کے مرشد کی طرف سے
10:50آپ کو یہ لکہ ملا
10:51کہ آپ غریب نواز ہیں
10:52واہ کیا واہ
10:53آپ کا بچپن
10:54یہ پیدائش تو آپ کی سنجر میں ہوئی نا
10:56یعنی
10:57اجمیر میں تو باگ میں تشریف لائے
10:59اور
11:00بچپن کی تعلیم
11:02کہاں سے حاصل کی ہے
11:04تربیت آپ کی کس طرح ہوئی
11:05کتنا عرصہ
11:09بہت شکریہ جزاکم اللہ خیرہ
11:11حضرت خاجہ خاجگان
11:13خاجہ غریب نواز
11:15حاجہ موینو دین چشتی
11:17اجمیری رحمت اللہ تعالی علی
11:19جیسے ابھی
11:21پیر صاحب بیان فرما رہے تھے
11:22آپ نے
11:22پوچھا
11:24مادرزاد
11:25اللہ کے ولی تھے
11:26یعنی
11:27گویا کہ
11:28ولایت
11:29ان کے گھر میں پر ورش پاتی تھی
11:30واہ
11:31اور خود بھی
11:32اور والدین کو بھی
11:33اللہ تعالی نے
11:34یہ
11:35سعادت نصیب فرمائی تھی
11:36کہ والدہ بھی ولیہ تھی
11:37اور والد بھی ولی تھے
11:38واہ
11:39اور دونوں ہی
11:40اللہ کی عبادت میں
11:40وقت گزارنے والے تھے
11:42آپ اس دنیا میں
11:42تشریف لائے
11:43تو
11:44ابتدائی ایام
11:46گھر کی تربیت کا
11:47جس طرح سلسلہ ہوتا ہے
11:48اور گھر کا
11:48محول ایسا تھا
11:49کہ قرآن مجید کی
11:50تلاوت ہو رہی ہے
11:51والد قرآن پڑھ رہے ہیں
11:52والدہ قرآن پڑھ رہی ہیں
11:53نماز پڑھ رہی ہیں
11:54تحجد پڑھی جا رہی ہے
11:55یعنی اس طرح کا
11:57عبادت کا محول
11:58ان کو ملتا ہے
11:58ٹھیک ہے
11:59تو آپ دیکھئے
12:00کہ صرف نو سال کی عمر میں
12:01مکمل قرآن مجید
12:02حفظ فرما لیتے ہیں
12:03واہ واہ
12:04اور
12:05پھر اس کے بعد
12:06باقی آپ کے
12:07جو علوم دینیاں کی
12:09تعلیم کا سلسلہ تھا
12:10چونکہ والد غرامی
12:11حضرت خاجہ غیاس الدین
12:14رحمت اللہ علیہ
12:14آپ خود بھی بہت بڑے عالم تھے
12:16اور علم میں
12:18ان کا ایک خاص ملکہ
12:19سمجھا جاتا تھا
12:20تو آپ نے
12:21والد غرامی سے
12:22سٹارٹ کیا
12:23اور ابتدائی جو
12:24علوم تھے
12:25ان کو سیکھا
12:26سمجھا
12:27والدہ اور والد
12:28دونوں ہی
12:29اس دنیا سے
12:29رخصت ہو جاتے ہیں
12:30بہت چھوٹی عمر میں
12:31بعض روایات میں
12:32پندرہ سال
12:33سولہ سال کی
12:34عمر لکھی ہے
12:35کہ والد اور والدہ
12:36دونوں اس دنیا سے
12:37پردہ کر گئے
12:38پہلے والدہ تشریف لے جاتے ہیں
12:39پھر والد تشریف لے جاتے ہیں
12:41اور آپ کو
12:41وراست میں
12:42جو کچھ بھی
12:44مال ملتا ہے
12:45اس میں
12:46ایک چکی
12:47اور ایک باغ ہے
12:47اب اس میں
12:49مصروف ہو جاتے ہیں
12:50اور
12:50اپنی
12:51گزر اوقات کا
12:52سلسلہ شروع کر دیتے ہیں
12:54ایک دن
12:55ایک
12:55اللہ کے نیک ولی
12:57مجذوب ولی
12:59حضرت ابراہیم
13:00قندوزی رحمت اللہ
13:01لے
13:01آپ کے باغ میں
13:02تشریف لاتے ہیں
13:03آپ
13:04چکے
13:05اللہ تبارک وطالعہ
13:06کے نیک بندوں کے ساتھ
13:07تعلق ویسے ہی
13:08محبت کا
13:08گھر سے
13:09ایک وراست میں ملا تھا
13:10تو ان کی بہت
13:11آؤ بھگت کرتے ہیں
13:12ان کو بٹھاتے ہیں
13:12ان کو انگور پیش کرتے ہیں
13:14پانی پیش کرتے ہیں
13:15اور ان کی خدمت
13:16توازو کرتے ہیں
13:17وہ اپنی جیب سے
13:18ایک روٹی کا
13:19ٹکڑا نکال کر
13:19ان کو کہتے ہیں
13:20کہ آپ میری بھی
13:21خدمت قبول کر رہے ہیں
13:22اور اس کو
13:22تھوڑا سا تناول فرما رہے ہیں
13:24آپ اس کو
13:24بڑی محبت سے
13:25قبول کرتے ہوئے
13:26تناول کرتے ہیں
13:27بس
13:27وہ روٹی کا
13:28ٹکڑا نہیں تھا
13:29کچھ اوری چیز تھی
13:30تو بس اس کے بعد
13:31حالات بدلتے ہیں
13:32آپ پھر اپنی
13:34جو وراثت میں
13:34باغ ملا تھا
13:35اور جو چکی پن چکی تھی
13:36جس سے آپ کا
13:37سسٹم چل رہا تھا
13:38آپ اس کو فرخت کرتے ہیں
13:40جو بھی
13:40آپ کا
13:41اس کو
13:42مال و دولت
13:42اس کا ہاتھ آتا ہے
13:43معافضہ ملتا ہے
13:44سب فقراء
13:45اور مساکین میں
13:46تقسیم کرتے ہیں
13:47اور پھر
13:48آپ علم کے لیے
13:49سفر شروع کر دیتے ہیں
13:50پھر بخارہ جاتے ہیں
13:51پھر سمرقند جاتے ہیں
13:52اور مختلف علاقے
13:54کرمان کا علاقہ ہے
13:55مختلف علاقوں میں
13:56مختلف
13:57جو اہل علم ہیں
13:58ان کے پاس جا کے
13:59ظاہری علم بھی حاصل کرتے ہیں
14:01حضرت قاضی مولانا
14:02صدر الدین کے حوالے سے
14:03ان کا ذکر ہے
14:04اور مختلف
14:04اور یہ بخارہ اور سمرقند
14:06سمرقند جو تھا
14:07اس وقت علم کا
14:08علم کا مرکز تھا
14:09بالکل
14:09علم کا مرکز تھے
14:10جنہیں جس نے کہتے
14:11جو عالی تعلیم حاصل کرنی ہے
14:13بالکل
14:13اور پھر
14:16وہاں پر آپ نے
14:18تمام جو مروجہ علوم تھے
14:19اس میں قرآن
14:21حدیث
14:21تفسیر
14:22فقہ
14:22منطق
14:23فلسفہ
14:23جو بھی مروجہ علوم تھے
14:25مکمل حاصل کیے
14:26اور
14:26بیس سال کی
14:27آپ کی عمر مبارک کے حوالے سے
14:29بتایا جاتا ہے
14:29کہ آپ نے
14:30بیس سال کی یہ
14:31علوم زاہری اور باطنی
14:32حاصل کرنے کے لیے
14:33سفر کیے
14:34اور مختلف جگہوں پر
14:36آپ تشریف لے گئے
14:37اور پھر اہل اللہ کے ساتھ بھی
14:39آپ کا
14:39تعلق تھا
14:40جہاں جاتے
14:41اللہ کے کسی نیک بندے کے ساتھ
14:43بیٹھتے
14:43ان کی صحبت میں بیٹھتے
14:44ان سے علم بھی حاصل کرتے
14:46علم ظاہری بھی سیکھتے
14:47اور علم ظاہری بھی سیکھتے
14:48ناظرین ایک مختصر سا وقفہ لیں گے
14:51وقفے کے بعد لوٹتے ہیں
15:09ناظرین ایک ارام خوش آمدید
15:15آپ پروگرام دیکھ رہے ہیں
15:16شان اولیاء
15:17اور وقفے سے پہلے ذکر ہوا
15:19اشارتن کہ آپ نے
15:20سفر بہت کیے
15:22علم حاصل کرنے کے لیے
15:23ہم بزرگوں کے احوال میں دیکھتے ہیں
15:26کہ اس اسفار بہت زیادہ ہیں
15:28سفر ہیں
15:29مشاہدہ اور
15:30اللہ اور اس کے رسول کا
15:32حکم بھی ہے
15:33یہ ترغیب
15:33اس کا فائدہ کیا ہے
15:36سفر کا
15:36دیکھئے قرآن مجید میں جو ارشاد ہے
15:39کل سیرو فیلرد
15:41یا رسول اللہ
15:43صلی اللہ علیہ وآلہ وآلہ وآلہ وآلہ وآلہ وآلہ وآلہ وآلہ وسلم
15:45آپ ارشاد فرمیے
15:46سیرو فیلرد
15:47دنیا میں
15:48زمین میں
15:49گھومو پھر سیر کرو
15:52کہہ فاکانا آقبت المقذبین
15:54کہہ فاکانا آقبت المفسدین
15:57کہ جو نیگٹیف قسم کے لوگ ہیں
15:59ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا صلوح کیا
16:01This is a matter of knowledge or knowledge which we see as Allah has done the wrong people, which are bad people, which are bad people and that they are in their own way.
16:15This is a matter of fact that those who are the right of the authority of the authority, who are the right of the authority of the authority.
16:22I want to show you a sense of how to make a certain example of such a father and I can't read.
16:31I don't know.
16:36I want to see that this event has been a great event.
16:43It is a great event.
16:44That's why Allah came in front of us.
17:14And that's what we have said, that's what we have done.
17:44and when it comes down to us, we have had a couple of years
17:50and we have a second week with the disciples
17:54and when it comes to us in a tour ofiquity,
17:57when it comes to us,
18:01when we get to us,
18:03what do you mean?
18:05This is our global journey,
18:06and today we have a new life to offer our spirit,
18:08and our lives,
18:10and our peace to our community.
18:12मुईन الدین को लेकर आए हूए से अपनी बारगाह में कबूल फर्मा लें
18:15और वो कबूलियत हुई
18:17उसके शुकुराने के लिए मदीना मुनवरा गये
18:21हाजर हुए
18:22अब ये असफार के हुआले से देखा जाए
18:25वहां से कबूलियत की संद मिली
18:27اور مہین الدین کا لقب بھی ملا
18:29اور ہندوستان جانے کا حکم بھی ہوا
18:32اجمیر شریف جانے کا حکم بھی ہوا
18:33کہ وہاں جا کے دین کا کام کریں
18:36اب یہ جو ذاتیں ہیں
18:38حضرت خجہ مہین الدین چیشتی اجمیری
18:40صلی اللہ علیہ وسلم رضیز کا
18:42کہ جس طرح سے پہلے بات ہوئی
18:44کہ آپ بچپن سے ہی
18:46ایک الہدہ ہی شخصیت تھے
18:48اپنی ماں کے پیٹ سے
18:50ولایت کے ساتھ پیدا ہوئے
18:51قرآن مجید کا حصول
18:54قرآن مجید کا علم
18:55اور جس طرح آپ نے فرمایا کہ نو سال کی عمر میں
18:57قرآن مجید حفظ کر لیا
18:59تو یہ جو چیزیں ہیں
19:01یہ سامتنگ سپیشل
19:03یہ کسی خاص بننے کی طرف نشان نہیں
19:05یہ خاص ہونے کی علامت بھی ہیں
19:08اور خاص ہونے کی طرف اشارہ بھی
19:10یقینا بلکل
19:11میں یہ جاننا چاہتا ہوں
19:13عرفانی صاحب قبلہ بھی فرما رہے ہیں
19:15آپ نے بھی
19:17میرے اور ناظرین کے سیکھنے کے لیے
19:21اتنے علم و فضل والی شخصیات سے
19:23سمرقن بخارہ میں
19:25اور بچپن میں بھی ملاقات
19:27آپ کے والدین بھی دونوں اولیاء تھے
19:30لیکن انتخاب
19:32بیعت جو ہے وہ جا کر
19:34حضرت خاجہ عثمان
19:37حرونی رحمت اللہ تعالیٰ کی
19:39ہاتھ پر کرتے ہیں
19:41یہ انتخاب
19:42یہ مرشد چننا
19:44مرشد کی بارگاہ میں پیش ہو کر
19:46یہ جاننا کہ
19:47جی مجھے یہاں سے فیض ملنا ہے
19:50یا مجھے میرا حصہ
19:53ان کے پاس ہے
19:54یہ کیسے آج بھی کیسے سیکھا جا سکتا ہے
19:57مرشد کا انتخاب
19:58کیسے کیا جائے
19:59آپ اس میں دیکھئے جی
20:02کہ ایک تو
20:03ہم جس طرح
20:04پہلے یہ سمجھ چکے ہیں
20:06کہ آپ
20:07اللہ تعالیٰ کے ولی تھے
20:09اور
20:09ولیوں کے گھر میں پیدا ہوئے تھے
20:11اس کا مطلب ہے کہ
20:12آپ کے پاس
20:12اللہ کی طرف سے وہ نظر تھی
20:14جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہوتی
20:16مختلف جگہ پر آپ
20:18تشریف لے جاتے رہے
20:19اور مشاہدہ کرتے رہے
20:21اور آپ یہ سمجھتے تھے
20:22کہ میں
20:23جس جگہ پر جا کے
20:24میں نے اپنی جولی پھلانی ہے
20:25وہ ابھی اور جگہ ہے
20:27آپ جہاں ساہاں سے
20:28دوسرا حصہ ملتا رہا
20:29وہ لیتے رہے
20:30لیکن بیعت آپ نے کسی جگہ
20:31نہیں فرمائی
20:32اور بیعت آپ نے
20:33حضرت خاجہ
20:34عثمان حرونی رحمت اللہ لے کے بات
20:36اتنے سفر کے بعد
20:38کتنے علم و فضل کی شخصیات ملی
20:40اور بھی عرض کروں آپ کو
20:41اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے
20:44کہ حضرت خاجہ مہین الدین
20:46چشتی رحمت اللہ لے
20:47اپنے پیرو مرشد کی بارگاہ میں
20:49جیسے جاتے ہیں
20:50وہ تربیت فرماتے ہیں
20:52جس طرح مشایخ چشت کا طریقہ ہے
20:54وہ ان کو بتاتے ہیں
20:54کہ آپ نے سورہ بقرہ تلاوت کرنی ہے
20:56کر لی
20:56فرمایا کہ اب اتنی مرتبہ
20:58آپ نے سورہ اخلاص پڑھنی ہے
20:59پڑھ لی
20:59فرمایا اب یہ کرنا کر لیا
21:01اب پھر انہوں نے کہا
21:02کہ اب دیکھو ذرا
21:04آسمان کی طرف دیکھو
21:05تم کیا نظر آتا ہے
21:06ارز کرتے ہیں
21:07کہ پہلے ارز کیا
21:08کہ حضور میں عرش تک دیکھ رہا ہوں
21:10پھر اس سے حجاب عظمت تک کی نگاہ کے ارز کیا
21:13پھر اس سے زمین کی طرف دیکھو
21:14کہا تحت السراہ دیکھتا ہوں
21:15فرمایا میری دو انگلوں میں دیکھو
21:17میری دو انگلیوں کے درمیان کیا دیکھتے ہو
21:19ارز کی حضور 18000 عالم دیکھ رہا ہوں
21:21اب اس کا مطلب یہ ہے
21:22کہ آپ اس وقت اس مقام پہ پہنچ جاتے ہیں
21:25لیکن حیران کن بات یہ ہے
21:26کہ اس کے بعد بھی
21:2820 سال کا عرصہ
21:29آپ اپنے شیخ و مرشد کی خدمت میں رہتے ہیں
21:31سات حج کی ہے
21:32ان کے ساتھ پیدل
21:33ان کے ساتھ
21:34اور مختلف مشائع کی خدمت میں جاتے ہیں
21:36مختلف جگہوں پر جاتے ہیں
21:38مختلف بزرگوں
21:39حضرت شاہ شہاب الدین
21:40سوروردی رحمت اللہ علیہ جیسے
21:42بزرگوں کے ساتھ ملاقات ہوتی ہے
21:43اور اس جیسے بزرگوں کے ساتھ ملاقات
21:45ہمیں یہ ایک بات بتائی جاتی ہے
21:47اور اس سے سمجھ جاتی ہے
21:48کہ بزرگوں نے ہمیشہ
21:50ایک تو آجزی اور انکساری کے ساتھ
21:53اپنے آپ کو
21:54اللہ کے ولیوں کے ساتھ جوڑا ہے
21:56اور انہوں نے ہمیشہ جھولی پھلائی ہمیشہ
21:59اور وہاں سے جو خیرات ملی ہے
22:01پھر اس کو سمیٹا ہے
22:02اور پھر ان کے ساتھ جڑ گئے ہیں
22:03اور پھر ہمیشہ آجزی اور انکساری کے ساتھ
22:06اب دیکھئے کہ اتنا بڑا مرتبہ ہے
22:08کچھ سوچ سکتا
22:09آج کا کوئی آدمی ہوتا
22:11تو کہتا جی میں خود پیر ہو گیا
22:13میں کسی کے پاس جاؤں گا
22:15پیر صاحب نے اشارتاً ذکر فرمایا ہے
22:18جب حضور کی خدمت میں جاتے ہیں
22:20مدینہ پاک میں حاضری دیتے ہیں
22:22اور ارز کرتے ہیں
22:22السلام علیکہ یا رسول اللہ
22:24اور آگے سے آواز آتی ہے
22:25مشایخ کے کتب
22:30یعنی لوگوں کے کتب نہیں
22:31مشایخ کے کتب
22:32یہ آپ کو ندا
22:34نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
22:36تک طرف سے ملتی ہے
22:37اس کا مطلب ہے کہ مقام و مرتبہ کتنا ہے
22:39لیکن دوسری طرف دیکھیں
22:40آجزی اور انکساری کتنی ہے
22:41اور اس کے باوجود
22:43آپ نے اپنی ساری زندگی
22:44اسی آجزی کے ساتھ
22:45اور جب حکم ہوا
22:46بیرو مرشد کی طرف سے حکم ہوا
22:48اور پھر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
22:50تک طرف سے آڈر ہوئے
22:51کہ اب آپ نے ادھر جانا ہے
22:52ہندوستان کی طرف
22:54اب تم نے روانہ ہونا ہے
22:55پھر اپنا رخ چینج کرتے ہیں
22:57اور پھر شیخ کی اجازت لے کر
22:58پھر آپ ہندوستان کی طرف تشریف لاتے ہیں
23:00اور پھر بھی رستے میں
23:02مختلف اولیاء اکرام
23:03جہاں جہاں سے
23:04آپ کو کسی کے ساتھ
23:06ملاقات کا شرف ملتا ہے
23:07اور آپ ان کے ساتھ
23:08اپنی ملاقات جو ہے وہ کرتے ہوئے
23:10ان کے ساتھ محبتیں سمیٹتے ہوئے
23:11پھر آپ یہاں پر لاہور میں تشریف لے آتے ہیں
23:13اور پھر لاہور میں
23:14پھر آپ کا ایک الہدہ ہی
23:16ایک رخ ہے
23:17اور وہاں اس کا
23:17ایک فیض بھی الہدہ ہے
23:19وہ آپ نے بتایا ہے نہیں
23:20کہ بیعت کس طرح
23:21کس کو چنے
23:22مطلب یہ دیکھ کر چن لے
23:24کہ اس کے بہت مرید ہیں
23:25تو میں بھی ادھر ہی ہو جائے
23:26نہیں دیکھئے اس میں مشایخ
23:27یہ وجہ ہو
23:28کیا وجہ ہو
23:29خود حضرت خاجہ مہین الدین
23:30چشتی رحمت اللہ علیہ نے
23:32اس کا ذکر فرمایا
23:33اور اپنے آپ کے جو ملفوزات ہیں
23:35اس میں ذکر فرمایا
23:36کہ سب سے پہلی بات یہ ہے
23:37کہ شیخ وہ ہو
23:38جو صحیح العقیدہ ہو
23:40جس کا عقیدہ ٹھیک نہیں ہے
23:42وہ شیخ نہیں ہو سکتا
23:43دوسری بات یہ ہے
23:44شیخ وہ ہو
23:45جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:48کا اتباع کرنے والا ہو
23:50تیسرا
23:51شیخ وہ ہونا چاہیے
23:52جس کے پاس علم کی دولت موجود ہو
23:54جاہل آدمی شیخ نہیں بن سکتا
23:55علم کی دولت موجود ہو
23:57اور چوتھی بات یہ ہے
24:03اور مشایخ کے ساتھ
24:05اپنے شیخ اور اپنے شیخ
24:07اور اپنے شیخ تک
24:07چلتا چلتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
24:10تک جاتا ہو
24:11وہ شخص اس قابل ہے
24:13اور پھر آگے اور شرائط بھی
24:15مشایخ نے اس میں مزید بھی بیان کرمائی ہے
24:17لیکن یہ ظاہری ایسی شرائط ہیں
24:19جس کو آپ نے ذکر فرمایا
24:20کہ جب کسی کے پاس جاؤ
24:22اور حلقہ ایرادت میں
24:23اس کے شامل ہونا چاہو
24:24تو ان چیزوں کو دیکھو
24:25مشایدہ کرو
24:26پھر اس کے ساتھ
24:27حلقہ ایرادت میں شامل ہو
24:28اور اس کے ساتھ بیعت کرو
24:30یہ بات ہو رہی ہے
24:32اور یقینا یہ بہت
24:34سمجھ بوجھ کی چیز ہے
24:36اس کو بہت
24:36سمجھ بوجھ کر
24:38دیکھ بھال کر
24:39یہ جب تک
24:41یہ آپ کو تسلی نہ ہو
24:43یہ کوئی ایسا سودا نہیں ہے
24:45جو آپ نے
24:45بازار سے جا کر
24:47کسی بھی دکان سے خرید لینا ہے
24:48پیسے دینے اور لے لیا
24:50نہیں
24:50یہ وہ نہیں ہے
24:51یہ آپ نے
24:53اپنا آپ بیچ کر
24:54اپنے آپ کو سونپ کر
24:57پھر یہ ڈیل کرنی ہے
24:59یہ سودا
25:00آپ کا سودا ہے
25:02میرا سودا ہے
25:04یہ میں اپنا سودا کر رہا ہوں
25:07اور میں اپنے آپ کو پیش کر رہا ہوں
25:09ایک مختصر سا وقفہ لے گے
25:11وقفے کے بعد جب ہم لوٹیں گے
25:13تو پیغام کی صورت میں
25:14یہ تمام چیزیں ذکر میں آئیں گی
25:17کہ آپ جب
25:19عجمیر شریف تشریف لائے ہیں
25:21ایک تو سرکار کے حکم سے تشریف لائے ہیں
25:23اور پھر جب تشریف لائے ہیں
25:25تو وہاں کی کیفیات کا ایک مختصر سا جائزہ لیں گے
25:28ایک مختصر سے وقفے کے بعد
25:30ناظرین اکرام خوش آمدید
25:32آپ پروگرام دیکھ رہے ہیں
25:33شانِ اولیاء
25:33پیغام کی صورت میں
25:35ایک تو یہ تذکرہ
25:36قبلہ یہ ضروری ہے
25:38کہ
25:38عجمیر شریف
25:39ڈاکس صاحب نے بھی فرمایا
25:41کہ
25:41سرکار کے حکم تھا
25:43حکم بھی یقین ہے
25:44یہ حکم تھا
25:45اور حکم کی تعمیل پہ
25:47عجمیر
25:47اس حوالے سے
25:48دیکھئے
25:50خاجہ آیالی کا
25:52جس طرح سے
25:53میں نے پہلے بھی تذکرہ کیا
25:54کہ مدینہ منورہ جب گئے ہیں
25:56اپنے شیخ کی مایت میں
25:58تو وہاں سے حکم ملا
26:00اور پھر جب شیخ کے ہاں سے ملا
26:02کہ عجمیر جاؤ
26:03اور جب آئے ہیں
26:05تو بے شمار
26:06ایسی کرامات کا ظہور ہوا ہے
26:09کہ جب آپ
26:10ایک جگہ تشریف فرما ہوئے
26:13وہاں کے مقامی لوگوں نے آکے اٹھایا
26:15کہ یہ بادشاہ کے
26:16اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے
26:18تو آپ نے کہا
26:20اچھا بٹھا لو پھر
26:22اور پھر جب صبح نہیں اٹھے
26:24تو آ کے معافی مانگی
26:25جھیل انا ساگر کا واقعہ ہوا
26:27کہ ایک لوٹے میں پوری جھیل آگئی
26:30لیکن آپ کا معاملہ
26:32اگر لوگوں کے ساتھ دیکھا جائیں
26:34کہ ایک طرف یہ ساری کرامات ہیں
26:36یہ سارے معاملات چل رہے ہیں
26:39لیکن لوگوں کے ساتھ
26:41لوگوں کی طرح لوگوں میں
26:42اور اس کے لیے ایک روایات میں بات آتی ہے
26:45کہ آپ لاہور سے
26:46ملتان تشریف لے کر گئے ہیں
26:48مقامی زبان سیکھنے کے لیے
26:50کہ یہاں کے لوگوں کے ساتھ
26:53جو لینگویج بیریئر ہے
26:55وہ حائل نہ ہو
26:57اس کی وجہ سے
26:58کہ یہ نہ ہو
26:59کہ میں ان کی زبان نہ سمجھ چکوں
27:01وہ میری زبان نہ سمجھ چکیں
27:03میں ان کی بولی نہ سمجھ چکوں
27:04وہ میری بولی نہ سمجھ چکیں
27:06وہ جو کچھ کہیں میں سمجھ چکوں
27:08میں جو کچھ کہوں ان تک بات پہنچے
27:10پھر اس طرح سے
27:12اور خاجہِ عالی کا جو
27:13کہ دینِ اسلام کے لیے
27:15ان لوگوں نے
27:16ان ہستیوں نے
27:17دین کا کام کیا
27:19اللہ کے رسول کا
27:20کام کیا
27:21کلمہ حق کو
27:23عام کیا
27:24لوگوں تک پہنچایا
27:25اور ان کرامات کے بزریے سے
27:28جو لوگ متاثر ہوئے
27:30نے اپنے اللہ کی بارگاہ میں پیش کر دی
27:32کہ یہ مقام ہے
27:35اور نبی کریم
27:37صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
27:38بارگاہ میں بھی پیش کیا
27:40وہاں سے
27:42اب وقت نہیں ہے
27:43ورنہ
27:43تربیت کے حوالے سے
27:45اگر دیکھا جائے
27:46تو خاجہ کتب پاک کی جو تربیت فرمائے
27:48یہ کہ بادشاہِ وقت
27:49مرید ہے
27:50خاجہ کتب پاک جب فوت ہوتے ہیں
27:53تو نصیت فرماتے ہیں
27:54کہ میری نمازی جنازہ وہ پڑھائے
27:56تو یہ بات
27:59جس میں تین شرائط ہوں
28:01کہ اس کی کبھی
28:02تکبیرِ اولہ نہ قضا ہوئی ہو
28:05جس نے کبھی اثر کی سنت نہ قضا کی ہو
28:08جس کا ازار بند کسی غیر محرم نے نہ دیکھا ہو
28:11ایک بادشاہِ وقت
28:13اور اس سے یہ توقع کرنا
28:16اور پھر جب ایک نقاب پوش آ کے
28:20ان کا ہاتھ پکڑ کے آگے کرتا ہے
28:23تو یہ اتشارت فرماتا ہے
28:24کہ میرے مرشد نے آج میرا راز فاش کر دی
28:26یہ تربیت خاجہِ عالی کی
28:29جو خاجہ کتب پاک تک چلی
28:31اور کتب پاک سے بادشاہِ وقت
28:33اس بات کا پابند رہا
28:34کہ اس نے کبھی اثر کی سنتیں قضا نہیں کی
28:37ہمیں ان بزرگان کو
28:39ان ہستیوں کو
28:41ان کے اس تناظر میں دیکھنا چاہیے
28:43کہ انہوں نے اللہ کے دین کا کام
28:45اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
28:49محبت کو
28:50اور ان کے دین کو
28:51ان کی سنتوں کو کس طرح سے آگے
28:53لوگوں تک پہنچایا ہے
28:55بے شک بے شک
28:56ڈاکس اب کیا کہیں گے آخیر میں
28:58اس آج کے پروفتن دور میں
29:00میں سمجھتا ہوں
29:01کہ ہمیں ان جیسے
29:03اہلاللہ کی
29:04تعلیمات سے استفادہ کرنا چاہیے
29:06اور غلط
29:09لوگوں کی غلط باتوں
29:11کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے
29:13ان مشایخ کے متعلق
29:14بہت سارے لوگ
29:14عجیب عجیب طرح کی باتیں کرتے ہیں
29:16میں صرف اتنی بات کروں گا
29:17کہ جس نے ساری زندگی
29:19اللہ تبارک و تعالی کے
29:21طرف لوگوں کو آنے کی
29:23تلقین کی ہو
29:24اور اللہ کی طرف لوگوں کو جوڑا ہو
29:26باوجود اس کے کہ شہاب الدین
29:28غوری جیسا بادشاہ وقت
29:30آپ کا خدمت گزار تھا
29:32اور آپ کا مرید تھا
29:33آپ نے کوئی دنیاوی مفاد
29:34اس سے حاصل نہیں کیا
29:35اور لوگوں کی خدمت کرتے رہے
29:38اور لوگوں کو
29:39اللہ کے ساتھ جوڑتے رہے
29:40وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتے
29:41کہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں
29:43وہ اللہ کی طرف مائل کرنے والے
29:44وہ کبھی بھی
29:46لوگوں کو اپنے نام کا کلمہ
29:48پڑھانے والے نہیں تھے
29:49وہ لوگوں کو
29:49اللہ اللہ سکھانے والے تھے
29:51یہی وجہ ہے
29:51کہ جو جادوگر ہیں
29:54وہ بھی آپ کے ہاتھ پر
29:56بڑی آسانی کے ساتھ
29:57آپ کا شرف دیکھ کر
29:59اور آپ کا مقام و مرتبہ دیکھ کر
30:00ایمان قبول کرتے ہیں
30:01آپ کی ذات میں سخاوت
30:02انتہا درجے کی تھی
30:04اور یہاں تک کی تھی
30:05کہ آپ جو کچھ بھی ہوتا تھا
30:07سب کچھ فقراء میں تقسیم کر دیا کرتے تھے
30:09اور فرمایا بھی کرتے تھے
30:10فرمایا کرتے تھے
30:11کہ بھئی سخاوت جو ہے
30:12وہ دریاء جیسی ہونی چاہیے
30:14اور شفقت جو ہے
30:15وہ سورج جیسی ہونی چاہیے
30:17اور توازو ہے
30:18وہ زمین جیسی ہونی چاہیے
30:19اور آپ جو فرماتے تھے
30:21بقائدہ اس کا عملی نمونہ بھی تھے
30:23اور آپ نے اس طرح
30:24لوگوں کے ساتھ ایسی ہی فرمایا
30:25جو آتا اس کو آتا فرماتے ہیں
30:27حضرت خاجہ قطب الدین بختیار
30:29کاقی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
30:30کہ میں ایک عرصہ دراز آپ کی خدمت میں رہا ہوں
30:32اور میں نے آج تک نہیں دیکھا
30:34کہ آپ سے کسی نے کوئی سوال کیا ہو
30:36اور آپ نے اس کو نہ کر دی ہو
30:38اور واپس لوٹا دیا ہو
30:39اور یہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
30:41سنت پر یہاں آپ نے عمر فرمایا
30:42تو ہمیں ان جیسے مشایخ سے
30:44سبق سیکھنا چاہیے
30:46اور ان کی تعلیمات کو
30:47اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا چاہیے
30:49اور یقینا ہم ان کی تعلیمات کو حصہ بنائیں گے
30:52تو جو روحانیت اللہ نے ان کو نصیب فرمائی تھی
30:55اس کی خیرات انشاءاللہ ہمیں بے نصیب ہوگی
30:56بہت شکریہ قبلہ ڈاکٹر حبیب عرفانی صاحب
30:59آپ کا بہت شکریہ
31:00قبلہ ڈاکٹر عرفان اللہ صحیفی صاحب
31:03آپ کا بہت شکریہ
31:04تارک مسعود صاحب آپ کا بہت شکریہ
31:06آخر میں خاجہ غریب نواز کی منقبت
31:10ضرور سنیں گے انشاءاللہ
31:12ناظرین کرام بس
31:13اس قطعے کے ساتھ
31:15جو عرفانی صاحب کے والد گرامی کا
31:18قطع ہے
31:19بجیو سیمہ عرفانی صاحب
31:21رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کا
31:22کہ پھر نظر ہے امید وارِ کرم
31:25شوق کا منتحہ عطا کر دو
31:27پھر نظر ہے امید وارِ کرم
31:31شوق کا منتحہ عطا کر دو
31:34بے نہایت ہے آپ کی بخشش
31:37آج بخشش کی انتہا کر دو
31:41تسلیم احمد صابری کو
31:42اجازت دیجئے
31:44السلام علیکم
31:45تسلیمات
31:49علیہ کے امام
31:53یا خواجہ
31:57علیہ کے امام
32:06یا خواجہ
32:11دست بستا ہو
32:16سلام
32:18یا خواجہ
32:22تیری عظیمت
32:28یا خواجہ
32:36علیہ کے امام
32:43یا خواجہ
32:47علیہ کے امام
32:51یا خواجہ
32:55یا خواجہ
33:03قبلہ اشک بارگا
33:10تیری
33:14قبلہ اشک بارگا
33:24یا خواجہ
33:26یا خواجہ
33:28یا خواجہ
33:29فکر تیرا
33:31مقام
33:35یا خواجہ
33:39بدر و قطب و فرید
33:49و فخر و نصیر
33:55ہے تیرا
33:57فیض
33:59عام
34:01یا خواجہ
34:05ہے وزیفہ
34:13میرا
34:15مہین
34:19و دین
34:23ہے وزیفہ
34:27میرا
34:29مہین
34:31و دین
34:37ورد
34:39ہے
34:40صبح
34:41ہو
34:42شام
34:43یا
34:45خواجہ
34:49اور
34:51اور
34:53آئے
34:55شہزاد
34:57ہار
34:59زری
35:01کے لیے
35:03آئے
35:05شہزاد
35:09ہار
35:13زری
35:15کے لیے
35:17پھر
35:19پھر
35:21سے ہو
35:23انتظام
35:25یا
35:27خواجہ
35:31خواجہ
35:33دست
35:35بستا
35:37سلام
35:39یا
35:41خواجہ
35:43خواجہ
35:45خواجہ
35:47خواجہ
35:49خواجہ
35:51خواجہ
Comments