Skip to playerSkip to main content
Shan e Auliya - Hazrat Khuwaja Ghareeb Nawaz RA

Khuwaja e Ghareeb Nawaz RA || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieuiOUlOT4Hc8POoDsu6uYd

Host: Tasleem Ahmed Sabri

Guest: Mufti Ghulam Yaseen Nizami, Mufti Khalil Ahmed Qadri, Sajid Ali Chishti

#shaneauliya #KhuwajaGhareebNawazRA #ARYQtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00۶۶۶۶۶۶
00:30مذہب ہے
00:31کوئی فکر ہے
00:32کوئی نظریہ ہے
00:34کیا یہ شریعت کے اندر ہی ہے
00:37قرآن اور حدیث
00:38اس حوالے سے کیا کہتی ہے
00:39اس کے علاوہ
00:40خانقاہی نظام سے کیا مراد ہے
00:43خان کا حق کا تصور
00:45ہمارے یہاں جو عام طور پر
00:47پیش کیا جاتا ہے
00:48اس سے کیا مراد ہے
00:50اور کیا یہ اسلام کا ہی
00:52کوئی انداز ہے
00:53اللہ اور اس کے رسول کے احکامات
00:56ان کی تعلیمات کی ترویج و اشاعت
00:59کا کوئی ذریعہ ہے
01:00کہ جو خان کا حق کی صورت میں
01:03لوگوں تک پہنچایا جا رہا ہے
01:04یہ آج کا موضوع ہوگا
01:06ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
01:07ممتاز سکولر ہیں
01:08قبلہ مفتی غلام یاسین نظامی صاحب
01:11اسلام علیکم مفتی صاحب
01:12بہت شکریہ
01:13آپ کی آمد کا
01:14ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
01:15ایک اور ممتاز
01:16عالم دین سکولر ہیں
01:18مفتی قلیل احمد قادری صاحب
01:20اسلام علیکم
01:20مفتی صاحب آپ کی بھی آمد کا
01:22بہت شکریہ
01:23اور بہت ہی خوبصورت پڑھنے والا
01:25سنا خان
01:26ساجد علی چشتی
01:27ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
01:29السلام علیکم
01:30بہت شکریہ
01:31آپ کی آمد کا
01:32آغاز نات سے
01:34بسم اللہ
01:52نہ پہلے تھی
02:06نہ اب
02:07کوئی کمی ہے
02:13نہ پہلے تھی نہ اب کوئی کمی ہے
02:26میرا محبوب تو ایسا سخی ہے
02:37میرا محبوب تو ایسا سخی ہے
02:48بنی ہے بات جس کی جہاں میں
02:59بنی ہے بات جس کی جہاں میں
03:10محمد کے بنانے سے بنی ہے
03:20محمد کے بنانے سے بنی ہے
03:33مدینے میں
03:40مدینے میں بلال مصطفیٰ کی
03:58ازاں کانوں میں اب بھی گونجتی ہے
04:07ازاں کانوں میں اب بھی گونجتی ہے
04:19میرے جانے
04:26میرے جانے مسیحہ آ بھی جاؤ
04:41مریضِ حجر کی جہاں پر بنی ہے
04:52مریضِ حجر کی جہاں پر بنی ہے
05:02اور سبری صاحب
05:04رسولوں میں جیسے
05:09میرے کمی والے
05:13اماموں میں امام ایسے
05:20علی ہیں
05:23اماموں میں امام ایسے
05:31علی ہیں
05:34فقط ناس یہ آقا کا کرم ہے
05:43کہاں شائر ہوں میں
06:01کیا شائری ہے
06:05میرا محبوب تو ایسا
06:11غنی ہے
06:14میرا محبوب تو ایسا غنی ہے
06:24آب آب آب
06:25کیا کہنے بہت خوب
06:26ساجد بھائی بہت شکریہ
06:28مفتی صاحب تصوف کیا ہے
06:31صوفی کیا ہوتا ہے
06:32بسم اللہ الرحمن الرحمن صاحب
06:34زادہ صاحب بہت بہت شکریہ
06:36تصوف قرآن عزیز میں
06:38اللہ پاک نے اس کی تعریف
06:40کو ان لفظوں میں بیان فرمایا
06:42قد افلاہ من تزکا
06:44دوسرے مقام پہ فرمایا
06:46قد افلاہ من زکاہا
06:48ٹھیک ہے
06:49یعنی تذکیہ نفس
06:51اس کو تصوف کہا جاتا ہے
06:53ٹھیک ہے
06:54حدیثی جبریل کی اندر بھی
06:55اس کی تعریف کی گئی ہے
06:56یعنی یہ جو تصوف ہے
06:58اس کا ایک نام ہے تذکیہ نفس
07:00اور ایک نام ہے احسان
07:02ٹھیک ہے
07:03احسان کا معنی ہے
07:05نیکی اور خیر کی دعوت دینا
07:08اس پر عمل کرنا
07:09مخلوق خدا کے لئے آسانیہ پیدا کرنا
07:11ٹھیک ہے
07:12تذکیہ نفس کا مطلب یہ ہے
07:14کہ بندہ اپنے دل کو
07:16دنیاوی ہر قسم کی
07:18علائشوں سے پاک و صاف کریں
07:20ٹھیک ہے
07:21اپنے دل مان بھی ہو سکتا
07:23اس کو پھر صوفی ہی کیوں کہتے ہیں
07:25مومن کہہ سکتے ہیں نا
07:27جی جی بلکل
07:28صوفی اس لئے کہتے ہیں
07:29اس لئے کہتے ہیں
07:30کیونکہ وہ ہما وقت
07:31ذکرِ الٰہی میں مصروف ہوتا ہے
07:33نا صرف یہ کہ اس کی زبان
07:35ذکرِ الٰہی میں مصروف ہوتی ہے
07:36دوسرے نمبر پر
07:37اس کا دل بھی ذکرِ الٰہی میں مصروف ہوتا ہے
07:40اور اس کا ایک ایک عمل
07:42شریعت کے مطابق ہوتا ہے
07:44اب دیکھا جائے مومن جس کی بات کی گئی ہے
07:47اس کے اندر کوئی کمی کتاہی ہو سکتی ہے
07:49لیکن صوفی شریعت کے اہن مطابق عمل کرنے والا
07:53یہاں تک کہ
07:54صوفی شبہ والی چیزوں سے بھی اپنے آپ کو بچا کر رکھتا ہے
07:59دیکھیں حلال بھی بیان کیا گیا ہے
08:01اور حرام بھی بیان کیا گیا ہے
08:02لیکن صوفی کیا کرتا ہے
08:03کہ جس میں شبہ بھی پیدا ہو جائے
08:05اس سے بھی وہ اپنے آپ کو بچا کر رکھتا ہے
08:07اور صوفی کی زندگی کا مقصد صرف ایک ہی ہے
08:10اللہ کی رضا اور اس کے رسول کی رضا
08:13اطاعتِ الٰہی پر بھی وہ عمل کرتا ہے
08:15اطاعتِ رسول پر بھی عمل کرتا ہے
08:17And that's what he has to do with you.
08:47HERE ATTAST WHERE PC THE HEAD IN F€EL
08:51IS-EK AMAL
08:56. . . . . . , . .
09:06. . . . . . .
09:07. . . .
09:13. . . .IL.
09:16..
09:17And that's why it's in this way.
09:47How did you say that?
10:17We have just all our love and love that we love love.
10:20We have such a way.
10:22This is our way.
10:23It's a way to do it?
10:25This is a way to do it?
10:27It's a way to do it?
10:30You have to do it.
10:32Bismillahirrahmanirrahim.
10:33And I have to do it.
10:35Soofi.
10:37This is a way to do it.
10:39Soofi.
10:39Allahumma salli ala seyidina wa maulana muhammadinin nabiyyil amyji wa ala alihi wa sabi wa sallim taslima.
10:45Mauderum al-maqam, Jenaab Sabzada sahab,
10:47یہ بہت اچھا آپ نے سوال فرمایا.
10:49Pahalye baat تو یہ ہے کہ تصوف اور اس سے ہم فائل صوفی لیتے ہیں.
10:54التصوف من الصفiyah, التصوف من الصوف, التصوف من الصوفah.
10:59Tien طرح کے معاخص جو میں آپ کے سامنے عرض کر رہا ہوں.
11:02صفiyah کہتے ہیں دل کی پاکزگی کو.
11:04ٹھیک ہے.
11:05اور صوف کہتے ہیں اون کو.
11:06اور صوفہ, صوفہ ایک چبوترے کا نام ہے جو قریم عقی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات تیبہ کے اندر جب مسجد بنائی ہے سرکار نے.
11:13اس کی شورت ہے بہت.
11:14اس سرکار نے اب بھی لوگ.
11:15صحابہ کے اب بھی وہاں بیٹھ کے لوگ نماز پر اپنے لیے عادت سمجھتے ہیں.
11:19بلکہ.
11:19لیکن یہاں یہ بات بلکل واضح طور پر سمجھ جاتی ہے کہ قریم عقی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام صوفہ خود رکھا ہے.
11:25ٹھیک ہے.
11:25اور صوفہ کہتے ہیں کس کو ہیں.
11:27یعنی پاکزگی کا مقام اس کا لفظی معنی یہ بنتا ہے مقام پاکزگی جہاں بیٹھ کر صحابہ اپنی پاکزگی کا احتمام کر دیتے تھے اور پاکزگی کا احتمام کوئی نہ آنے دونے سے نہیں ہوتا تھا.
11:36قریم عقی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سن کر عمل کر کے اور تصوف میں تین چیزیں بنیادی ہوتی ہیں جو صوفی اپنے اوپر لازم قرار دیتا ہے.
11:45نمبر ایک صبر نمبر دو شکر اور نمبر تین توقل.
11:48یہ تین چیزیں صوفی اپنے اوپر لازم قرار دیتا ہے.
11:51توقل کرتا اللہ کی ذات پر.
11:53آپ دیکھیں صحابہ اکنالی اور رضوان نے جب صوفہ کے مقام پر بڑھ کے تصوف کا آغاز کیا ہے.
11:57تو حالت یہ ہوتی تھی کہ تین سو سے زیادہ صحابہ تلیم اور رضوان جن کا نہ کوئی غروبار تھا نہ ان کے گھر بار تھے وہ صرف اور صرف سارا دن اس صوفہ کے مقام پر بیٹھے رہتے ہیں.
12:06جب کبھی حضور جلوہ گھر ہوتے تو دو طرح کا ان کو رزق ملتا زیارت مصطفیٰ کا رزق بھی ملتا اور ساتھ حضور کی باتیں بھی سنتے اور عمل کرتے ہیں.
12:14کوئی کھانے پکانے کے احتمام بھی نہیں تھے کوئی آ کر دے جاتا تو کھا لیتے اور نہ کوئی دے جاتا تو صبر کرتے ہیں.
12:20یہاں تک کہ حضرت ابو حرارہ کی بخاری شریف کی ودیس پاک موجود ہے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ گیارہ دن مسلسل اس طرح ہمارے گزر گئے ہم نے کچھ بھی نہیں کھایا.
12:27اور پھر سرکاہ تشریف لیا تو وہ طویلت اس سے پاک ہے کہ خیتے میں بیٹھا ہوا تھا اور بھوک کی شدت تھی تو میں نے سوچا کہ میں لوگوں کو اظہار کروں کہ میں بھوکا ہوں.
12:36تو میں مسجد کے گیٹ پہ بیٹھ گیا.
12:38تو یہ نگاہ رسالت نے ان چند لوگوں کا انتخاب کیا تھا اس اصحاب جو اصحاب سفہ کہلائے خاص اس میں کیا کتابوں میں ہے کہ سرکار دعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس میں کرائیٹیریا کیا تھا جن کو چنا گیا تھا؟
12:55ہم یہ نہیں کہا سکتے کہ سرکار نے ان کو چنا تھا یہ دو طرح کے لوگ تھے ایک وہ تھے جب حضور جلوہ اگر ہوتے تو سارے وہاں آ کر بیٹھتے تعلیمات سب کے لیے عام تھیں ایک وہ تھے جن کا گھر بار نہیں تھا اور وہ وہاں تشریف فرما رہتے تھے
13:07ان میں دین حاصل کرتے ہیں حضور کی صحبت اختیار کرتے ہیں
13:11اب یہ توقل کی صورت اور صبر کی اور شکر کی یہ تینوں قیفیات سب صحابہ کے اندر موجود تھیں
13:16مگر وہ چونکہ گھر بار ان کا نہ تھا اس وجہ سے وہاں بیٹھے رہتے تھے جب کبھی تشریف لیاتے سرکار
13:21اب مسئلہ جو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تضحیق کیوں ہوتی ہے
13:24تضحیق کی جہاں تک بات کی جائے آج کل جو اسلام کا ایک معاملہ ہے وہ جہاں نمازی ہے نا
13:31تو نمازی کی تضحیق کی ہوتی اللہ معاف کرے
13:33توپی کی ہوگی
13:35یہ ڈاکٹر محمد اقبال صاحب سے میں پوچھنا چاہیے
13:37ڈاکٹر محمد اقبال جی کہتے ہیں نا یہ فاقہ قصد جو موت سے ڈرتا نہیں کھنی
13:42روبے محمدی اس کے قلب سے نکال دو
13:44آپ جب انگلستان گئے اور آپ نے وہاں پڑا اور پڑھایا اور واپس آئے
13:47تو آپ نے لوگوں کو فکر بیان کی کہ وہاں ایک ہی بات چار رہی ہے
13:50اور وہ بات یہ چار رہی ہے کہ مسلمان کے سینے سے جو محبت رسول ہے
13:54اچھا یہ لفظ بڑا گہرائی والا ہے
13:55محبت رسول ہوگی تو ہمارا لباس بھی حضور جیسا ہوگا
13:58محبت رسول ہوگا ہمارا حلیہ بھی ان جیسا ہوگا
14:01جب محبت نکلے گی تو لباس سب سے پہلے جب محبت نکلتی ہے
14:04تو اس کا آغاز انسان کی شکل و صورت سے ہوتا ہے
14:06ایک مختصر سے وقفے کے بعد مزید گفتگو کرتے ہیں
14:10اس یقین کے ساتھ آپ کہیں نہیں جائیں
14:12رازم اقرام خوش آمدید وقفے سے پہلے تصوف صوفی کیا ہے
14:16یہ بڑی وضاحت کے ساتھ یقیناً اس پر گفتگو ہوئی
14:20اور ایک علماء اقرام سکولرز حضرات اپنے مہمانوں کی گفتگو سے
14:25ایک تسلی اور اتمنان یقیناً آپ کو بھی حاصل ہوا
14:28خان کا ہی نظام کیا ہے
14:30ایک تو خان کا کیا ہے اور پھر جس کو نظام کہا جاتا ہے
14:34اس سے کیا مراد ہے پہلے تو خان کا
14:36خان کا کیا ہے
14:37جی صاحب زادہ صاحبی سوال سیار جی ہے
14:40کہ یہ خان کا ہی نظام جو ہے کوئی اور نظام نہیں ہے
14:44یہ وہی نظام ہے جو دین کا عطا کردہ ہے
14:47پس اس کو ہم مدرسہ کی صورت میں بھی کہہ سکتے ہیں
14:51اس کو خان کا کی صورت میں بھی کہہ سکتے ہیں
14:54جو چیزیں ہمیں مدرسہ کے اندر قرآن و سنت کی صورت میں ملتی ہیں
14:58وہی چیزیں ہمیں خان کا کے اندر زبان کی صورت میں
15:03عمل کی صورت میں مخلوق خدا کی خدمت کی صورت میں ملتی ہیں
15:06یہ تین چیزیں ہیں
15:07یعنی خان کا ہی نظام کے اندر سر فرس اسی بات کو رکھا جاتا ہے
15:12یہ خان کا جو ہے وہ بنائی گئی ہے
15:14een اس کا بنیادی مقصد کیا مقلوق خدا کی
15:16قدمت کرنا جو بھی
15:18یہاں پر آئے وہ یہاں سے خالی
15:20ہاتھ نہ جائے خوچہ دنیاوی
15:22چیز ہے تپڑے ہیں
15:24کھانا ہے جو بھی ہے وہ بھی
15:25ہر قسم کی چیز
15:31لوگ رہنمائی کے لیے
15:32خانقہوں کی طرف رکھتے ہیں
15:34اور خانقہی نظام جو ہے یہ قرآن و سنت
15:36کے عین مطابق ہے جی
15:37یہاں پہ آپ کو اللہ کے فرمان کی ترویی
15:40جو اشعات ملتی ہے
15:41Nbiyah Muzum, Shafiah Mukeram
15:43کی جو تعلیمات ہیں وہ آپ کو
15:44یہاں سے ملتی ہیں اور خانقاہی
15:46نظام بنانے کا بنیادی مقصد کیا ہے
15:48صرف ایک ہی مقصد ہے کہ یہاں پر
15:50آنے والے جو لوگ ہیں ان کی خدمت کی جا سکے
15:53اور خانقاہی نظام جو ہے
15:54اس کو بنانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے
15:57یہ جہاں پر بنایا جاتا ہے
15:59اس معاشرے کے اندر اس سوسائٹی کے اندر
16:01جتنے غریب غربہ لوگ ہیں
16:03تاکہ ان کی دستگیری کی جا سکے
16:05nên.
16:07यह خان parler,
16:09और H intentions,
16:12उसको खतम किरने के लिए है.
16:15लिए इसका क्यों किमने पढ़ी,
16:17जब एक र法szych दोर्म्हार का एकर्दो मुषस्ट तerson२C Alexander-N畫ITY,
16:21और उसमें
16:23एक सदकात का एक
16:27कॉनसेप्ट था,
16:28कि जिससे लोगों की मदद हो देने वाला ,
16:30It's a way to give it, it's a way to get it, it's a way to get it, and a way to get it, it's a circle.
16:37Khonqah is a different way?
16:40Yes, absolutely.
16:40The question is, the state of the work is that you have to tell us.
16:45The collection of the work is that you have to tell us.
16:48Khonqah is in what is, what is the first number of the work?
16:51The state of the work is not.
16:54I mean, I have to tell you, I have to tell you.
16:58I see that it's a way to give it, it's a way to give it, it's a way to give it.
17:03Okay, so I have to help.
17:04Khonqah is a particular one of the work.
17:07Do you have to tell us that the result of Khonqah is a way to make it?
17:11This is the people of the work.
17:14Sometimes people can't be able to make it.
17:19So this is Khonqah is a way to make it.
17:23And the number of Khonqah is a way to make it.
17:26Khonqah is a way to make it.
17:50salamati کی جگہ ہے یہ خانقہ جو ہے وہ ہر ایک کے لیے جو یہاں پر
17:54آئے گا اس کی جو بھی ضروریات ہوگی جائز ضروریات ہوگی اس کو
17:58پورا کرنے کا مکمل احتمام کیا جائے گا یہی وجہ ہے کہ یہ خانقہ
18:01ہی نظام قائم کرنے والی ذات داتا حضور کی ذات ببرکات ہے حضرت
18:05خاجہ سلطان الہند کی ذات ببرکات ہے بابا فرید الدین گنجے شکر
18:09کی ذات ہے یہ تو وہ لوگ ہیں نا کہ جو اپنی ذات میں ایک خانقہ
18:12تھے جو جو ان سے جڑتا چلا گیا وہ گویا خانقہ ہی نظام سے جڑتا
18:17چلا گیا وہ ایک ہستی سے نہیں جڑا ایک شخصیت سے نہیں جڑا ہے وہ
18:21خانقہ سے جڑا ہے حضرت نظام الدین علیہ کی تاریخ ہے یعنی ایک
18:25خانقہ کا اس دور میں بھی جو ایک حقیقی تصور ہے وہ حضرت نظام
18:29الدین علیہ کی صیرت سے سامنے آتا ہے بے شک بے شک ہے یعنی یہ جو
18:33چیزیں ہیں وہ ذات سے جڑ رہے تھے نا یہ وہ لوگ تھے میں ہم مفتی
18:38صاحب کو بھی شامل کر معذرت کے ساتھ آپ شامل ہو سکتے ہیں کوئی
18:42خانقہ اس دور میں اس طرح نظر آتا ہے آپ کو اس نظام کو ریپریزنٹ
18:47کرتا ہوا پہلی بات تو یہ ہے سبزادہ صاحب کے وَسَّوَامِعُو قرآن پاک
18:52کے اندر لفظ استعمال ہوا ہے سوما آتون کہتے ہیں خانقہ کو اور
18:56قرآن قریب فرقان حمید کے اندر بھی سوامی کا لفظ استعمال کر کے
18:59خانقہ کی تعریف کی گئی ہے کیا ہے وہ وَسَّوامِ کا لفظ استعمال کر کے
19:03خانقہ کی تعریف کی گئی ہے اچھا اس کی کیا معنی ہوئے اچھا وہ ہے جس
19:07جگہ پہ انسان کے باطن کی اصلاح کا احتیم آم کیا جائے ٹھیک ہے
19:10قرآن قریب فرقان حمید میں جناب رسول الرحمن صلی اللہ علیہ وسلم کی
19:13بے ست کے متعلق جو رشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم علیہ السلام نے
19:16خانقہ کو بنانے کے بعد جو دعائیں مانگی اس میں سب آخری دعا یہ تھی
19:20اللہ کریم وہ رسول خاص جس کے لئے اسمان کا شامیانہ لگایا زمین
19:26کا بیچھونا بیچھایا ستاروں کی جھنڈیلوں کو رشن کیا حوارت نبر جو
19:29کچھ بھی بنایا جس کی خاطر بنایا اس کی تبعیس جہاں ہو جائے اور آگے
19:33اس میں خوبیاں گنوائی ہیں يَتْلُو عَلَيْهِمْ آَيْعَاتِكَ وَيُعْلِهُ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ
19:39کہ وہ تیری آیات کی تعلیم دے اور حکمت اور آیات کی تعلیم
19:42لوگوں کو سکھائے آخر میں وہ يُزکیہم اور ان کا تذکیہ نفس کرے
19:46لیکن اس میں ایک حیرت والی بات یہ ہے کہ جب اللہ رب العزت نے حضور
19:50کی تبعیس فرما دی و مبوض فرمایا تو اللہ پاک نے حضور کو مبوض
19:53کرنے کے بعد وہ خوبیاں جو ابراہیم علیہ السلام نے یہاں دعا کے
19:56طور پر مانگی تھی اس میں ترتیب پلٹ دی اور فرمایا کہ لَقَدْ مَنَ اللَّهُ
20:01اللہ پاک نے ممنوں پر احسان کیا ہے کہ حضور کے مبوض فرما دیا
20:06حضور کو آگے فرمایا کہ اب وہ حضور کرتے کیا ہیں
20:09اب یہاں تذکیہ کو پہلے کر دیا اور تعلیم کو بعد میں کر دیا
20:15اتنی ضرورت ہے انسان کے باطن کے اصلاح کی کسی کو خانقہ کہتی
20:21ہے جس جگہ پر یہ کام ہوتا ہے بہت اچھی بات اور جہاں تک بہت
20:24یہ ایک یعنی مفتی صاحب کی گفتگو سے آگے چلتے ہوئے آپ نے
20:30یہ تصور کی یہ خانقہ تربیت کر رہے ہیں
20:32اور جہاں تک بات ہے تربیت کیسے ہوتی تھی جو آپ نے فرمایا
20:37کہ یہ ہستیاں اپنے آپ ایک خانقہ تھے اور جو ان سے جڑتا گیا
20:40وہ خانقہ انعظام بنتا گیا یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے
20:43لیکن ان لوگوں نے جو میں نے تین چیزیں پہلے آپ کے سامنے
20:45عرض کی ہیں صبر شکر اور توقل آسان کام نہیں ہے کہ حضرت
20:50داتا گنج بخش کہاں سے چلے اور کہاں سے چل کے آپ نے
20:52ہندوستان پہ آکے دیرہ لگایا اور زندگی پوری یہاں گزار دی
20:55اور اب وہ قیامت تک کے لیے لوگوں کے لیے تصوف کی نہ صرف
20:59درسگاہ ہے بلکہ آماجگاہ ہے لوگوں کے لیے وہ ٹھکانہ ہے
21:03ہمیشہ کے لیے تحفظ ہے اس طرح سرکار چیشتی ہے جمیدی سر
21:06انتلہ رہے کے ذاتی اقدس ہے آپ کہاں سے چلے کہاں تشریف لے
21:09اور کہاں آکے آپ نے لوگوں کے دل کو اب ایک چیز اور بھی ہے
21:12جو سازش کا ہم پہلے ذکر کر رہے تھے پہلے مدرسہ ہوتا تھا
21:15یہ خانقابی تھی اور مدرسہ بھی تھا واغ واغ واغ
21:18حضرت داتا صاحب کی ہم کتابیں اٹھا کر پڑے
21:32اس میں نماز کا طریقہ بھی سکھایا گیا ہے واغ واغ
21:34اس میں حاج کا طریقہ بھی سکھایا گیا واغ واغ
21:37اور اس میں پھر تصوف کے مختلف جو طریقہ کار ہیں
21:41یا آپ ان کو فرقے کیا دیتے ہیں وہ بھی سکھایا گیا
21:43مخلوق سے محبت ہے
21:45حل لحاظ سے یعنی ظاہر اور باطن
21:49چونکہ دو چیزیں انسان کے پاس ہوتی ہیں
21:51ایک انسان کا ظاہر اچھا ہو ایک انسان کا باطن اچھا ہو
21:54دونوں طریقے سکھایا گیا
21:55اصل میں یہ مدارس وہی تھے جو خانقہیں بھی تھی اور مدارس بھی تھے
21:59لیکن
22:00جا تعلیم بھی تھی تربیت بھی تھی
22:01تعلیم بھی تھی اور تربیت بھی تھی
22:03اب اس کے اوپر ایک بجلی گری ہے
22:05اور وہ بجلی گری ہے انگریز کی طرف سے
22:07اس نظام کو توڑنے کے لیے مدرسہ الگ کر دیا
22:09خانقہ کو الگ کر دیا
22:10اس وقت صوفی لوگوں نے یہ سوچا
22:12صوفی لوگوں نے یہ سوچا کہ اب ہماری تعلیمات تو جا رہی ہیں
22:16انہوں نے کہا چے جائے
22:17کہ ہم گورنمنٹ کا سہارا لے کر
22:19کسی مدرسے میں جا کر لوگوں کو پڑھائیں
22:21ہم دریاؤں کے کنارے پہ بیٹھ جائیں
22:23اور کناروں پہ بیٹھ کر
22:24اللہ پاک لوگوں کو خود بیجے گا
22:26ٹیلوں پہ چلے جاؤ جنگلوں میں
22:28جنگلوں میں جس جگہ پہ
22:30ہمارے بڑے بزرگ جو پڑھانے والے تھے
22:32وہ بھی ایسے تھے کہ درختوں کے نیچے جا کے
22:34چراج بیٹھا کے بیٹھ گئے
22:36لوگوں نے آنا شروع کر دیا
22:37اللہ پاک نے ان کے ادارے بنا دیئے
22:39ابھی جتنے مزارات آپ دیکھ لیجئے
22:42وہ سارے ٹیلوں پہ ہی ہیں
22:43بابا فرید کو دیکھ لیں
22:45داتا صاحب کو دیکھ لیجئے
22:48ملکل آپ نے جس جگہ پہ دیکھنا
22:50داتا صاحب ہم لاہور
22:51یہ دریاء کا کنارہ تھا
22:52حضور ہم دریاء کے کنارے سے
22:54یہاں ایک بڑے لطیف نکتہ ہے
22:56جب ہم لاہور میں آتے ہیں
22:57تو ایک مزار دریاء راوی سے پہلے آئے
22:59ایک بعد میں
23:00پہلے وہ ہے
23:01جس نے پورے ہندوستان پر حکومت کی
23:04اور اس کا اجارپن دیکھ لیجئے
23:06اجارپن دیکھ لیجئے
23:07اور پھر راوی گزر کے وہ دربار ہے
23:09اب ایک دربار پیچھے ہے
23:17جو ہندوستان پر زیری حکومت کرنے والا ہے
23:19آپ نے ابھی زکاة کا حوالہ دیا ہے
23:21یہ دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھنے والی بات ہے
23:24اصل میں زکاة کا طریقہ جو ہم نے استعمال کیا ہے
23:27یہ شریعت میں نہیں ہے
23:28کہ ہم جس کو مستحق ہم دے دیتے ہیں
23:30یہ شریعت میں نہیں ہے
23:31شریعت میں زکاة کی تقسیم کاری
23:34ریاست کی ذمہ داری ہے
23:35اور انگریز کی سب سے بڑی سازشی یہ ہے
23:39کہ اس نے مسلمانوں کے اندر سے زکاة بینک ختم کیا ہے
23:42اگر زکاة بینک
23:44دیکھیں ایک وقت وہ ہوتا
23:45حضرت عمر کا دور حکومت
23:46جب ایک سری صدقے کی جلتی ہے
23:48پورے مدینے سے گزر جاتی ہے
23:49واپس اسی گھر میں آ جاتی ہے
23:50لینے والا کوئی نہیں ہوتا
23:51اس وجہ سے کہ زکاة کا نظام
23:53اتنا مستحقم تھا
23:55جس کی وجہ سے لوگ
23:56مالی لحاظی طاقتور ہو گئے تھے
23:58اس کا حسن ہے
24:00زکاة کے نظام کا
24:02زکاة کا نظام
24:03قربانی کا نظام
24:04جتنے بھی صدقات واجبات ہیں
24:05یہ سارے کے سارے شریعت کا حسن ہے
24:07اور اس کے ذریعے
24:08اللہ پاک نے قرآن پاک میں نہیں فرمایا
24:10کہ آپ غریبوں سے مال
24:11عمرہ سے لیں
24:12اور غریبوں کو دیں
24:14ایک وقت آئے گا
24:15جب یہ سرکل چلے گا
24:16ایک وقت آئے گا
24:17کوئی لینے والا نہیں ملے گا
24:18اس طرح شریعت کے اندر
24:20صوفیوں کو کام کرنا پڑا ہے نا
24:21کہ جب ان کو اجارا گیا
24:23ان کے دارے تباہ کیے گیا
24:24نکالا گیا
24:25تو وہ دریعہ کے کنارے پہ بڑھ گئے
24:26یہی چیز ہمارے ساتھ ہوئی ہے
24:27جب ریاست نے
24:28زکاة کا لینا اور تقسیم کرنا
24:31شریعت کے مطابق نہ رکھا
24:32تو ہمیں خود بخود کرنا پڑا
24:33بہت اچھی بات
24:34بہت مختصر وقت ہے
24:35مفتی صاحب جلے
24:36میری بات کی طرف نہیں آئے
24:38نہ آپ آئے
24:39میں چاہتا ہوں بھئی یہ بتا دیں
24:40ابھی خانقہیں موجود ہیں
24:43بہت مختصر وقت ہے
24:44خانقہیں موجود ہیں
24:46جس طرح کے کملا مفتی صاحب نے بیان فرمایا
24:51درگاہوں کی بات نہیں کر رہا
24:52نہیں خانقہوں کی میں بات کر رہا ہوں
24:53خانقہیں موجود ہیں
24:55جہاں پر باقاعدہ جو ہے وہ
24:57سب سے پہلے تو خانقہ کے اندر
24:59اللہ کا گھر بنایا جاتا ہے جی
25:00پھر اس کے بعد مندرسہ بنایا جاتا ہے
25:03پھر اس کے بعد خانقہ کے اندر
25:05لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے
25:07لنگر خانہ بنایا جاتا ہے
25:09یہی وہ خانقہیں ہیں
25:10نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
25:12آ کے بارگاہ میں عرض کیا کہ
25:13یا رسول اللہ بہترین اسلام کیا ہے
25:15تو آپ نے فرمایا لوگوں کو کھانا کھلانا
25:17اب یہ بہترین اسلام کی ساری کی ساری چیزیں
25:20ہمیں عملی طور پر کہاں پر دکھائی دیتی ہے
25:22خانقہ کے اندر دکھائی دیتی ہے
25:24اس میں میں آپ کو سمجھ یہ عرض کرتا ہوں
25:26کہ ہمیشہ نقل اسی کی ہوتی ہے جس کی اصل ہو
25:29کوئی بندہ دس ہزار کا نوٹ لاکے
25:31ہمارے ہاتھ پر تھما دی
25:32ہم کہیں گے نقل ہے
25:32جتنا خوبصورت کیا ہونا ہو
25:34پانچ ہزار کا دے گا تو پھر شکو
25:36جب تک اصل چیز ہوتی ہے تو نقل ہوتی ہے
25:39یہ بات ہم کہہ سکتے ہیں
25:40کہ مجورٹی
25:41مجورٹی آپ کہہ سکتے ہیں
25:42کہ اکثریت میں خانقہی نظام
25:44جو شریعت کے مطابق
25:45یا اس تصوف کے اصولوں کے مطابق نہیں ہیں
25:47لیکن یہ بات نہیں ہے کہ ہے ہی نہیں
25:49کوشش ہے
25:50ہمیں آپ پاکستان ہندوستان میں چلے جائیں
25:53ہمیں طول و عرض پر
25:55ایسی خانقہیں اب بھی نظر آئیں گی
25:57پاکستان میں نہیں
25:58سعودی عربیہ میں ہم نے دیکھی
25:59ہم نے مدینہ تجابہ کی پور بہار
26:01پور انوار فضاؤں میں دیکھی ہیں
26:03وہاں خانقہیں لگا کے
26:04لوگ بیٹھے ہوئے ہیں
26:05اس میں کوشش ہے
26:07لیکن ایک چیز اور بھی ہے
26:08یعنی خانقہ کی جو بنیادی تعلیمات ہیں
26:12ان کو پریزنٹیٹ کرنے کا
26:14طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے
26:15جو صوفیاء کا طریقہ تھا اس وقت
26:17اس وقت کی ضرورت تھی
26:18اب زیادی بات ہے
26:19لوگوں نے گھر میں کھانا کھانا ہے
26:21لوگوں کو کھلانا ہے
26:22سب کو کھلانا ہے
26:22اب ضروریات کے مطابق
26:25اس کا طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے
26:26لیکن موجود ضرور ہے
26:27بلکل ہے
26:28یقیناً
26:29اس بات سے میں
26:29دونوں مہمانوں کی
26:31اس بات سے اتفاق کرتا ہوں
26:33کہ ایسا نہیں ہے
26:34کہ نہیں ہے
26:35بلکل خانقہیں موجود ہیں
26:37کہ جو ایک خانقہی
26:39جو اصل خانقہ کا تصور ہے
26:41اس تصور سے کام کر رہی ہے
26:43یعنی جہاں لوگوں کو
26:45غریبوں کے ساتھ
26:46کو ان کی ضروریات بھی دی جا رہی ہیں
26:49جو دنیاوی ضروریات بھی ہیں
26:51وہ دینی ضروریات بھی دی جا رہی ہیں
26:53لوگوں کی تربیت بھی کی جا رہی ہے
26:55ایسی خانقہیں
26:56ہم نے دیکھی ہیں
26:56ایسی موجود ہیں
26:57ایک مختصر سے وقفے کے بعد
26:59اس پر مزید بات کرتے ہیں
27:01ناظرین اکرام
27:01خوش آمدید
27:02آپ پروگرام دیکھ رہے ہیں
27:03شانِ اولیاء
27:04تسلیم صابری کے ساتھ
27:06اور جو گفتگو ہو رہی تھی
27:07تصوف کا اصل
27:09جو خانقہی نظام ہے
27:11وہ
27:11خانقہی نظام
27:13اسی طرح قیامت تک
27:15دین کو رپریزنٹ کرتا رہے گا
27:17یہ سلسلہ جاری رہے گا
27:20اسی طرح سے رہے گا
27:21بسم اللہ الرحمن الرحمن الرحیم
27:22سب سے پہلے تو
27:23اس بات کو یاد رکھنا چاہیے
27:24کہ اللہ کے اولیاء اعظام
27:26جو ہیں وہ تا قیامت رہیں گے
27:28بلکل ٹھیک ہے
27:29جب وہ تا قیامت رہیں گے
27:31تو ان کا یہ خانقہی نظام بھی
27:32تا قیامت رہے گا
27:34ان کو قائم کرنے والے ولی ہیں
27:36ان کو قائم کرنے والے صوفی ہیں
27:38اور یہ جو پیغام ہے نا
27:40یہ پیغام
27:41جو اللہ پاک جو ہے
27:42وہ
27:42ان نیک لوگوں کے ذریعے
27:44لوگوں کے دروازوں تک پہنچاتا ہے
27:46یہ پیغام جو ہے
27:47کیونکہ اسلام کا پیغام ہے جی
27:49اور اسلام کا پیغام جو ہے
27:50وہ تا قیامت جاری و ساری رہے گا
27:52اس میں سب سے بڑی بات یہ ہے
27:54کہ اللہ پاک جو ہے نا
27:55جو لوگ مخلوق کے خدا کی خدمت کرنے والے لوگ ہیں
27:58اللہ پاک وہ بڑے پسند ہیں
28:00تو خانقہی نظام جو ہے
28:02اس کے قائم کرنے کا بنیادی مقصد
28:03یہ خدمت خلق ہے
28:04حدیث پاک کے اندر اس بات کو پیان کیا گیا ہے
28:08کہ صاحب کا امتیں ہیں
28:09ایک فرشتے کو اکم دیا
28:11کہ اس بستے کو تہو بالا کر دیا جائے
28:13اس نے ارز کیا کہ
28:14الہ العالمین یہاں پر تو تیرے عبادت گزار بندے بھی ہیں
28:17تو اللہ پاک نے فرمایا
28:18وہ عبادت گزارتے ہیں
28:20لیکن وہ عبادت اپنے لئے کرتے ہیں
28:21اچھا یہ بتاؤ کہ
28:22ان کی عبادت کو لوگوں کو کیا فائدہ ہے
28:24اللہ پاک کو خانقہی نظام کے اندر
28:27لوگوں کے لئے
28:28یعنی مفید فرد کی ضرورت ہے
28:30یہ ہے
28:30مخلوق سے محبت
28:32مخلوق سے محبت
28:32اصل چیز تو تصوف ہے یہی
28:34دیکھیں جی
28:35دین ہمیں یہ کہتا ہے
28:37کہ آپ اگر
28:38جس معاشرے کے اندر رہتے ہیں
28:40ایون کے گھر کے اندر ہیں
28:42جو بھی ہیں
28:42آپ کو آپ کا وجود
28:44دوسروں کے لئے نفع کا باعث ہونا چاہیے
28:46اللہ پاک کو عبادت کے لئے
28:48کسی شہ کی کمی نہیں ہے
28:49وہ نہ تو کسی کی عبادت کا محتاج ہے
28:52لیکن وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے
28:53کہ میرے بندوں کے ساتھ
28:54کون کتنا سلوک کرتا ہے
28:55حضیث پاک کے اندر بیان کیا گیا
28:57جو بندوں پر جتنا زیادہ مہربانی کرے گا
28:59اس مہربانی کے برکتہ سے
29:01اللہ پاک اس کے درجات کو
29:02اتنا زیادہ بلند فرماتا جائے گی
29:03یہ کی وجہ ہے کہ خانقاہی نظام کے اندر
29:05یہ جو اللہ کے نیک برگزیدہ بندے ہیں
29:08یہ خدمت خلقی وجہ سے
29:09اللہ پاک جو ان کو وہ درجات اتا فرماتا ہے
29:11جن درجات پر کل قیامت والے دن
29:13انبیاء اور شہداء اکرام بھی رشک فرمائیں گے
29:15بے شک
29:16قبلہ
29:16خلاصہ
29:18آپ کی گفتگوب میں پیغام کی صورت میں
29:21یہ بالکل صحیح بات ہے
29:22مطلب یہ ہے کہ
29:24تصوف کے متعلق ہم نے جتنی گفتگوبی کی ہے
29:26اس میں ایک چیز سب سے زیادہ واضح سامنے آتی ہے
29:30کہ نماز پڑھنا اچھی بات ہے
29:31روزہ رکھنا اچھی بات ہے
29:33زکاة دینا اچھی بات ہے
29:34سب معاملات ہیں
29:35ان کو معاملات اور عبادات کا نام دیا جاتا ہے
29:37مگر اس سے پہلے دل کی صفائی
29:40اور زہر اور باطن کا پاک ہونا یہ بہت ضروری ہے
29:42حدیث پاک ناظر نے فرمایا
29:43قیامت کے دن بہت سے لوگ ایسے ہوں گے
29:45جن کی نماز ان کے موہ پہ مار دی جائیں گی
29:46ان کے روزے ان کے موہ پہ مارے جائیں گے
29:48اور جب پوچھے گا تو اللہ کہہ گا
29:49کہ تیرا اس وقت مقصد تھا
29:51کہ لوگ خوش ہو جائیں
29:52لوگ کہیں ماشاءاللہ بہت اچھی بات ہے
29:54اور تو اس وقت اپنی تعریف کروا چکا
29:56تجھے طرح مقصد مل گیا
29:57اب یہاں وہ کام آئے گا
29:58جس میں لیلہ حییت اور
30:00اللہ کی رضا شامل ہے
30:01تو تصوف کی بنیادی روح جو ہی ہے
30:04کہ اللہ کو راضی کرنا ہے
30:05مخلوق خدا کو راضی نہیں کرنا
30:07اللہ کو راضی کرنا ہے
30:08ہاں اللہ کو راضی اس انداز سے کرنا ہے
30:10کہ اس کی مخلوق کا دل بھی نہ دکھے
30:11کیونکہ دل ایک بنیادی چیز ایسی ہے
30:14جیسے حدیث پاک کی حضور نے فرمایا
30:15کہ انسان کے اندر ایک ایسا ٹکڑا ہے
30:17کہ اگر ٹھیک ہو جائے
30:18تو سالوحال جیسے دکلہ ہو
30:19سارا جسم سیدھا ہو جاتا ہے
30:21اور اگر اس میں فساد آجائے
30:22جسم سارا فساد میں چلا جاتا ہے
30:24اللہ ہی القلب اور وہ دل ہے
30:26دل کو مضبوط رکھنا
30:27اور دل نہ دکھانا
30:28یہ بھی تصوف کے بنیادی معاملات میں شامل ہے
30:31لیکن اصل چیز ہے روح کا پاک کرنا
30:33اللہ کو خوش نہیں دیکھ لی
30:34میں یہاں پر ایک بات ارز کرنا چاہوں گا
30:37کہ جو ہمارے بھائی ان کے مقام سے واقف نہیں ہے
30:39انہیں کیا کرنا چاہئے
30:41اس حوالے سے یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے
30:43اللہ پاک نے قرآن عزیز میں بیان فرمایا
30:46ایک عام بندہ ہے
30:47آپ نے اس کے بارے میں بھی
30:48bad perception قائم نہیں کرنی
30:50ایک عام آدمی ہے
30:52آپ کو ظاہری طور پر نظر آ رہا ہے
30:54کہ یہ ہو سکتا ہے
30:55کہ آپ کی آنکھ جائے وہ دھوکہ کھا جائے
30:57فرمایا کہ آپ جس کے بارے میں سوچتے ہیں
30:59کہ یہ گناہگار ہو سکتا ہے
31:01وہ گناہگار نہ ہو
31:02آپ کو اس چیز کا پتہ نہیں ہے
31:03اور حق بھی نہیں ہے
31:05اگر ایک عام آدمی
31:07ایمن کے غیر مسلم ہمارا دین کہتا ہے
31:10کہ آپ نے اس کے بارے میں بھی
31:11برا تصور قائم نہیں کرنا
31:13تو اللہ کے نیک لوگوں کے بارے میں
31:14برا تصور کرنا
31:15یہ کتنی بڑی بڑی بڑی ہے
31:17یہ انتہا درجے کی بدنصیبی اور بدبختی ہے
31:20ہمیں اس حوالے سے بھی ضرور غور و فکر
31:22یقیناً بہت شکریہ
31:23مفتی غلام یاسین نظامی صاحب آپ کا بہت شکریہ
31:26مفتی خلیل احمد قادری صاحب آپ کا بہت شکریہ
31:29ساجد چشتی صاحب بہت شکریہ
31:31آخر میں خاجہ غریب نواز کی منقفت انشاءاللہ سنیں گے
31:35حضرت امام زین العابدین فرماتے ہیں
31:38رضی اللہ تعالیٰ عنہ
31:40کہ اگر بندے کو پتہ لگ جائے
31:42لوگوں کو پتہ لگ جائے
31:43کہ مخلوق خدا کی محبت
31:46اللہ کی محبت سے جوڑ دیتی ہے
31:48اللہ تک لے جاتی ہے
31:51تو اس کائنات پر
31:53اس روح زمین پر
31:54امن ہی امن قائم ہو جائے
31:56یہ تصوف ہے
31:58مخلوق سے محبت
32:01جب
32:02قہت آیا پانی پت میں
32:04تو پانی پت سے لوگ چل کر
32:08اس قہد کا شکار ہو کر
32:10بھوکے پیاسے
32:11کچھ نہ بچا
32:12تو دہلی بادشاہ طولت کے دربار میں نہیں آئے تھے
32:16حضرت نظام الدین اولیاء کی بارگاہ میں آئے تھے
32:19انہیں معلوم تھا
32:21کہ یہاں سے ہمیں دین بھی ملتا ہے
32:23اللہ اور اس کے رسول کا قرب بھی ملتا ہے
32:26اور ہمیں یہاں سے
32:28ہماری جسمانی ضروریات بھی یہی سے ملیں گی
32:31اس لیے کہ یہ خانقہ ہے
32:33خانقہ تربیت کرتا ہے
32:36درگاہ ایک جگہ پر قائم ہو جاتی ہے
32:40روحانی فیض تقسیم ہوتا ہے
32:42خانقہ رکتی نہیں ہے
32:43خانقہ چلتی رہتی ہے
32:45خانقہ چلتی
32:46خانقہ کا سفر جاری رہتا ہے
32:49اس لیے کہ یہ مخلوق
32:50جب تک مخلوق ہے
32:52جب تک مخلوق موجود ہے
32:55اس وقت تک خانقہ موجود ہے
32:58نظام موجود ہے
32:59وہ خدمت جاری رہے گی
33:01جانے والے کو بھی سوچنا چاہیے
33:03کہ میں کس لیے جا رہا ہوں
33:05خانقہ سے جڑنے والے کو بھی سوچنا چاہیے
33:09میری بچی کی شادی ہو جائے
33:11میری بھینس گم ہو گئی ہے
33:13بھینس زیادہ دودھ دینا شروع ہو جائے
33:16میری روزوی روزگار میں برکت ہو جائے
33:19مجھے دنیا کی یہ چیز مل جائے
33:21ایک گاڑی ہے تو دو ہو جائے
33:23فلاں میرا بیمار ہے
33:24رشتدار
33:25اس کو شفا مل جائے
33:27دنیاوی خواہشات
33:30جو خانقہ میں جا رہا ہے
33:32اسے بھی جانے کے لیے
33:33اپنے تصور اور سوچ کو ایک سمت
33:36دینی پڑے گی
33:36کہ میں کس لیے جا رہا ہوں
33:38کیا میں صرف دنیاوی ضرورتوں کے لیے
33:41اس خانقہ سے جڑا ہوں
33:42نہیں
33:43اللہ اور اس کے رسول کا قرب پانے کے لیے
33:46نماز کی حلاوت پانے کے لیے
33:50روزگ کا لطف لینے کے لیے
33:52اللہ اور اس کے رسول سے جڑن
33:54اس نیت سے اس بارگاہ میں پہنچنا
33:57خانقہ سے جڑنا
33:59تب یہ خانقہ ہی تصور
34:01سمجھ میں آئے گا
34:03کہ جانے والا بھی
34:04کس نیت کو لے کر جا رہا ہے
34:07اور خانقہ سے بھی
34:08اسے کس طرح سے
34:10اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ
34:12جڑا جا رہا ہے
34:13کل انشاءاللہ
34:14آپ سے اسی سلسلے کے ایک اور
34:16پروگرام میں ملقات ہوگی
34:18تسلیم احمد صابری کو اجازت دیجئے
34:20السلام علیکم
34:21تسلیمات
34:22اور تو کچھ بھی نہیں
34:33پاس ہمارے خواجہ
34:39اور تو کچھ بھی نہیں
34:44پاس ہمارے خواجہ
34:49اور تو کچھ بھی نہیں
34:54پاس ہمارے خواجہ
34:59جی رہے ہیں تیری
35:04نسبت کے سہارے خواجہ
35:09جی رہے ہیں تیری
35:13نسبت کے سہارے خواجہ
35:19ہم کسی آر کے ہو جائے
35:26یہ ممکن ہی نہیں
35:30ہم کسی آر کے ہو جائے
35:36یہ ممکن ہی نہیں
35:39ہم تمہارے ہیں
35:44تمہارے ہیں تمہارے خواجہ
35:49ہم تمہارے ہیں
35:54تمہارے ہیں تمہارے خواجہ
36:00جی رہے ہیں تیری
36:04نسبت کے سہارے خواجہ
36:09مجھ سے بدکار
36:14کہاں
36:16اور تیرا دربار
36:18کہاں
36:20مجھ سے بدکار
36:24مجھ سے بدکار
36:33کہاں
36:34اور تیرا دربار
36:36کہاں
36:38آ گیا ہوں
36:41تیری
36:42رحمت
36:43کے سہارے
36:45خواجہ
36:47آ گیا ہوں
36:51تیری
36:52رحمت
36:53کے سہارے
36:55خواجہ
36:57خواجہ
36:58حال
37:01دل
37:02کس کو سنائے
37:04نہ سنو
37:06تم
37:07بھی
37:08اگر
37:10وہ کہاں
37:11جائیں
37:12جو بندے ہیں
37:15تمہارے
37:16خواجہ
37:18وہ
37:19کہاں
37:20جائیں
37:21جو
37:22بندے ہیں
37:23تمہارے
37:25خواجہ
37:27جس کا جو ہوتا ہے وہ
37:33یاد
37:35یاد
37:36اسے کرتا ہے
37:40جس کا جو ہوتا ہے
37:46وہ یاد
37:48اسے کرتا ہے
37:52کیوں نہ ساجد
37:54تمہیں
37:56رو رو کے پکارے
37:59خواجہ
38:01کیوں نہ ساجد
38:03تمہیں
38:04رو رو کے پکارے
38:07خواجہ
38:10جی رہے ہیں
38:13تیری
38:14نسبت
38:15کے سہارے
38:17خواجہ
38:19اور
38:21تو کچھ بھی
38:22نہیں
38:23پاس
38:25ہمارے
38:26خواجہ
38:28جی رہے ہیں
38:31تیری
38:32نسبت
38:33کے سہارے
38:35خواجہ
Comments

Recommended