00:00ایک دن ایک بچہ کھیلتے کھیلتے گھر کا شیشہ توڑ بیٹھا
00:04باپ نے غصے سے پوچھا یہ کس نے توڑا
00:08گھر والوں نے بتایا کہ بچے نے
00:11اس بات پر آگ بگولہ باپ نے زمین سے لکڑی اٹھائی
00:15اور بے تہاشہ بچے کو مارتا رہا
00:18بچہ چیختہ روتا رہا مگر باپ کے کان پر جون تک نہ رینگی
00:23تھکن اور درد کے ساتھ وہ رات پھار اپنے بستر پر
00:28ڈر کر اور روتے سکھتے ہوئے گزار دی
00:30صبح ماں نے بیٹے کو جگایا تو اس کے دونوں ہاتھ سیاہ پڑ چکے تھے
00:36ماں کی چیخ سن کر باپ بھی دوڑا آیا
00:39فوراں ہسپتال لے جایا گیا
00:41ڈاکٹر نے بتایا کہ لکڑی پر پرانے زنگا لودا کیل تھے
00:46جن سے زہر پھیل گیا ہے
00:48خطرہ یہ تھا کہ زہر پورے بازو اور جسم میں سرائیت کر جائے
00:53وہ ادھال ہاتھ کٹ دینا تھا
00:56باپ پانسوں میں ڈوب کر اجازت دینے پر مجبور ہو گیا
00:59بچہ ہوش میں آیا تو خالی کلائیوں کو دیکھ کر حیران رہ گیا
01:04باپ کی طرف دیکھا اور مسومیت سے روتے ہوئے بولا
01:08بابا مجھے معاف کر دو
01:10اب کبھی کچھ نہیں توڑوں گا
01:13میرے ہاتھ واپس دے دو
01:15یہ دکھ اور معصومیت سے کی فریاد باپ سے برداشت نہ ہوئی
01:19اور ندامت کے بوجھ تلے وہ ہسپتال کی امارت سے کود کر
01:24اپنے زندگی کا ختمہ کر دیا
01:26غصہ پوری زندگی کا پشتاوہ بن سکتا ہے
01:30بچوں سے غلطی ہو جائے تو معاف کرنا سیکھیں
01:33ایک ہاتھ ایک جان کبھی واپس نہیں آسکتی
01:38پوست اچھی لگے دوستوں میں ضروری
Comments