Skip to playerSkip to main content
  • 1 year ago
Zarb e Mehmet Episode 84 in high quality 7th September 2025, Green TV drama Zarb e Mehmet Episode 84 telecast on 7th September 2025. Watch latest episodes of Zarb e Mehmet

Category

📺
TV
Transcript
00:00موسیقی
00:30کسی دیوانے کو کبھی کم تر نہ سمجھو
00:42کچھ کھنڈرات خزانے چھپائے ہوتے ہیں
00:46تو پھر تم مجھے آزادی کا راز بتا سکتے ہو
00:49یا تو آزادی
00:56یا موت
00:59زاہد آخر دیوانے تک پہنچی گیا
01:13اب سوال یہ تھا کہ کیا وہ اس داحت
01:17زاہد کے راز کو سمجھ پائے گا کی نہیں
01:21فاطمہ اور زینب نے جو ضروری ہو سکتا تھا وہ انہوں نے کیا
01:32مظلوموں کے درد کا مدعوہ بننے کیلئے ہر چھوٹی بڑی چیز کا خیال رکھا
01:37تاکہ زخموں کا مرم بن سکی
01:40زینب جسے محمد کے کوئی خبر نہ تھی
01:48دل میں آگ لیے اپنا فرض نبا رہی تھی
01:52مگر فاطمہ غاتون ان کی دل کی آہاک اب راک ہو چکی دی
01:57ایملٹن نے سعید سے سب کچھ اگلوانے کیلئے ہر موکن کوشش کی
02:26اتنی مار پیٹ اور بھوکے رہنے کے بعد کیا سعید
02:31اپنے عظم پر قائم رہ پائے گا
02:56ہمارا مسئلہ صرف شریف نجار ہی نہیں ہے
03:14ہو سکتا ہے سعید بھی سب اگلتے
03:16حسن میرے بھائی
03:38سرجن میولوت
03:39آپ زندہ ہیں
03:40میرے بھائی آؤ اندر آؤ
03:45کمانڈر
03:50آؤ حسن خیریت سے تو ہوں
03:52آؤ بیٹھو
03:53بتاؤ مجھے
03:56امید ہے چھاؤنی میں سب ٹھیک ہوگا
03:58چھاؤنی میں سب خیریت سے ہیں
04:00میں خلیل کمانڈر کا پیغام لے کر آیا ہوں
04:02ہماری فوج شہر پہ ایک حملہ کرنے والی ہے
04:05اور انہوں نے کہا ہے کہ آپ اندر سے حملہ کریں
04:08اور وہ یہ حملہ کب کرنے والے حسن
04:12کل ہی کمانڈر
04:14یہ تو غلط ہی ہوگی
04:16ابھی اس شہر پر حملہ کرنا برطانیوں کے حق میں جائے گا
04:21کیونکہ بسرہ سے ایک کمک روانہ ہو چکی ہے جو راستے میں ہے
04:25دونوں طرف سے حملہ کر کے ہماری فوج بہسرہ توڑ دے گی
04:28اور پھر وہ اپنی کمک کے ساتھ بغداد کی جانے پیش قدمی کرے گی
04:32جو وہ سلمانی پاک میں نہ کر سکے وہ آپ کرنے کی کوشش کریں گے
04:35تو اب کیا کریں گے کمانڈر
04:39رات ہونے سے پہلے یہ خبر کمانڈر خالیل تک پہنچا دو میرے شہر
04:42جو آپ کا حکم کمانڈر
04:43حسن بیٹھو کچھ باتیں کرتے ہیں
04:56چھاؤنی سے کیا خبر ہے ہمارے بھائی کس ہیں
05:00سب خیریہ سے ہیں الحمدللہ سب نے سلام بھیجا ہے
05:03والیکم السلام
05:04والیکم السلام
05:05جب کمانڈر علی آئے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ سعید بھی زندہ ہے
05:10وہ کہاں ہے
05:11صرف سعید نہیں
05:12محمد بھی زندہ ہے
05:14کیا
05:14شکر ہے یا اللہ تیرا
05:17تو کہاں ہے وہ
05:20محمد وہ والا خیمہ کھانے کی جگہ ہے
05:28روز دو وقت کا خانہ دیا جاتا ہے
05:30پیٹ بھر جاتا ہے الحمدللہ
05:32اور خلیل کمانڈر کا خیمہ کہاں ہے
05:37وہ بھی وہی
05:39سپاہی پیرا دیتے ہیں وہاں
05:42پوچھنے کی کوئی خاص بچائے گیا
05:46نہیں
05:47بس اگر جانا پڑ جائے تو
05:49محمد
05:51تمہیں لگتا ہے تمہارے باد یہاں کے اصول بدل گئے ہیں بھائی
05:54خبردار کر رہا ہوں تمہیں
05:57غلطی سے بھی کمانڈر خلیل کے پاس مت چلے جانا
06:00کوئی عام بات ہو تو پہلے مجھے بتانا
06:03اور میں ان کے نائب کو بتا دوں گا
06:05ٹھیک ہے بھائی
06:07اور اسلا خانہ کہاں ہیں
06:12پیچھے کی طرف ہے
06:16چھاؤنی کے شمال میں
06:17خیر ہے بھی ان باتوں کی فکر مت کرو
06:21مجھے کوئی خاص تجسس نہیں
06:23بس اس لئے پوچھ رو کہ مجھے بندوق کب ملے گی
06:25مل جائے گی محمد
06:26پہلے اپنی طریبت مکمل کر لو
06:28اس کے بعد تمہارا انتراج کیا جائے گا
06:31پھر جا کر تمہیں ہتھیار میں لیں گے
06:32جہاں تو کافی سپاہی ہیں
06:34میرا مطلب کاغذی کاروائی میں تو وقت لگے گا
06:37خلیل کمانڈر کے دستے سے
06:39ہماری تعداد بڑھ گئی ہے شکر ہے
06:40کتنی تعداد ہے سپاہیوں کی
06:43دشمن کو رون دینے کے لئے کافی ہے
06:48تمہارے لئے کوئی کام ڈھونڈتے ہیں
06:55ادھر ادھر مت گھومو
06:56ہر کام کے لئے تاگیار ہوں
06:58تو پہلے مورچوں سے چرو کرتے ہیں
07:01بندوق تو نہیں دے سکتے لیکن
07:03پھوڑا دے سکتے ہیں
07:05ٹھیک ہے بہت شکریہ بھائی
07:06مورچوں میں سارڈنٹ سعیت سے ملو
07:09وہ تمہیں سب کچھ بتا دے گا جو کچھ ضروری ہے
07:12سائی سارڈنٹ ٹھیک ہے
07:13بہمت ہاتھ اوپر کر
07:17اوپر کر
07:18میرے بھائی
07:21پہلے تم سلوٹ کرنا تو سیکھ لو اچھی طرح
07:24تم تو سب بھول چکے ہو
07:27تمہیں کسی افسر نے دیکھ لیا
07:29تو بچ نہیں پاؤگے
07:30کافی وقت گزر چکا ہے سب بھول گیا
07:33ہاں ایک اور بات
07:37کبھی فرصت میں بتانا کہ تم پر کیا کچھ بھی تھی
07:43بتاؤں گا
07:47سب کچھ بتاؤں گا
07:49میں اولود سارڈنٹ بتاؤں نا
08:04کیا وہ لوگ پکڑے گئے
08:06بدکسپتی سے دونوں برطانیوں کے قبضے میں ہے
08:14لیکن
08:17جو بات دل کو زیادہ دکھ دیتی ہے وہ کچھ اور ہے
08:21میمت کو ہم میں سے کوئی بھی یاد نہیں حسن
08:25کوئی بھی یاد نہیں
08:32مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہے
08:34ناولو سارڈنٹ سب کچھ شروع سے بتائیے
08:37ٹھیک ہے
08:39دھماکے کے بعد زینب بہن محمد کو شہر سے باہر لگئی تھی
08:45کیونکہ محمد یاداش کھو چکا تھا
08:47اور زینب کو نہیں پہچان سکا
08:48اور بھاگ نکلا
08:49پھر وہ برطانیوں کے ہاتھ لگ گیا
08:52ہم
08:54محمد کو بچانے گئے تھے لیکن سعید بھی ہاتھ سے گیا
08:57مختصر ان یہ کہ محمد
09:00نہ سعید کو
09:01نہ زینب کو اور نہ ہمیں
09:02کسی کو نہیں پہچانتا
09:04شاید محمد کے ذہن میں کچھ چل رہا ہو جو وہ ایسا کر رہا ہے
09:09تو جا کر انہیں بچاتے ہیں
09:12ان خاکوں میں برطانیوں کی تنظیم اور ان کی تعداد کے بارے میں معلومات ہیں
09:26ذہن پہ نقش کر لو انہیں
09:27سمجھ گئے کمانڈر
09:28اور جو کام تمہارا نہیں اس میں دخل نہ دو میرے شیر
09:33تمہیں جو ذمہ داری دی جائے بس اسے پوری کرو
09:39محمد اور سعید کا سوچنا تمہارا کام نہیں ہے
09:44یہ سوچو کہ یہ تلہ کمانڈر خلی تک کیسے پہنچ ہوگے
09:47جو حکم کمانڈر
09:50جنگ کے باوجود
10:00شادی ہماری شان کے مطابق ہوگی
10:03ایسی شادی ہوگی کہ
10:04سب لوگ جنگ کو بھول ہی جائیں گے
10:07میری بیٹی کی شادی چالیس دن چلے یا نا چلے
10:09لیکن چالیس سال تک ضرور یاد رکھی جائے کی عبداللہ
10:12خیریت تو ہے زفیر
10:19شادی کے موقع پر کچھ خوش نظر نہیں آ رہے ہو مجھے
10:23میں اس شادی کا کتنا خواہش مند ہوں
10:28یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں
10:30اور ظاہر ہے کہ میں خوش بھی ہوں
10:33تو یہ چہرے پہ اداسی کیسی
10:35کیا سوچ رہے ہو تم آخر
10:37دراصل میرا دہان ابھی بھی وہی ہے
10:42جب بھی میں نے فاطمہ سے
10:44اس شادی کی بات کی
10:45تو اس نے بہت سختی سے انکار ہی کیا ہے
10:47آپ کی تمام تر نصیحتوں کے باوجود
10:51کچھ بھی نہیں بدلا
10:52اب ایسا کیا ہوا کہ اس نے قبول کر لیا
10:56یہ سوال پریشان کر رہا ہے مجھے
10:59بیٹا
11:03یا تو جو تم کہہ رہے ہو وہ سمجھ نہیں پا رہے
11:06یا تو پھر خوشی کے مارے تم ہوش کھو بیٹھے ہو اپنے
11:09اگر یہ رشتہ تمہیں خوف زدہ کر رہا ہے جو تم نے اپنا ذہن بدل لیا
11:14تو بہادری سے اس کا اظہار کرو میری بیٹی کو اعظام دینا بند کرو
11:17شریف نجار
11:21جیسا کہ ابھی تم نے کہا یہ خوشی میں اپنے ہوش کھو بیٹھا ہے
11:29نہیں جانتا کہ کیا کہہ رہا ہے
11:32زفیر تمہارے بیٹے کی طرح ہے اس کی غلطیوں کو ماف کر دو
11:37ویسے بھی میرے حساب سے وقت ضائع کیے بغیر ہمیں فوراً منگنی کر لینی چاہیے
11:42میرا بھی کچھ ایسا ہی خیال ہے عبداللہ
11:48شہر کے حالات سب کے سامنے
11:50یہ تو معلوم ہی نہیں کہ جنگ کب ختم ہو گی
11:53مجھے لگتا ہے کہ اس شادی کے معاملے کو
11:56اب زیادہ آگے نہیں بڑھانا چاہیے ہمیں
11:58موسیقی
12:28موسیقی
12:32رکھو
12:36میں کروں گی
12:37رکھو دیہان سے
12:39حد ہوتی ہے فاتمہ
12:42کیا حال بنا لیا ہے تم نے
12:44اور کیا کروں میں سینب
12:47کتنا بے بس میں سوس کر رہی ہوں میں
12:50سمجھ سکتی ہوں میں
12:56میں جانتی ہوں محبت کرنے والے سے بچھڑنے کا دکھ
13:00کیا ہوتا ہے فاتمہ
13:02مجھے ہی دیکھ لو
13:04محمد کے بارے میں مجھے کوئی خبر نہیں
13:07مگر مجھے پورا یقین ہے کہ ہم ضرور ملیں گے
13:11چلو علی کمانڈرے کو بتاتے ہیں
13:23دیکھو تم کتنی محنت کر رہی ہو
13:25ہمیں بچانے کے لیے سب دعو پہ لگا تھیا ہمیں موقع دو تاکہ ہم بھی کچھ کر سکے تمہارے لیے
13:29نہیں زینب
13:31اس بارے میں تم علی کو کچھ نہیں بتاؤ گی ٹھیک ہے
13:35وعدہ کرو مجھ سے
13:37مگر
13:39وہ کوئی حل نکال لیں گے
13:41اس شادی والی معاملے کا کوئی حل نکال آئے گا
13:43اس مسئلے کا حل یا تو میرے بابا کی موت یا پھر زفیر کی موت سے ہوگا
13:47اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ اپنی ہی جان غطرے میں نہ ڈال لے زینب
13:51جیسا چل رہا ہے چلنے دو
13:53میرے لیے یہی کافی ہے کہ وہ محفوظ ہے
14:03اچھا تو یہ ہے وہ مشہور فلاہی ادارہ
14:11تم یہاں کیا کرنے آئی ہو
14:15میں اس ادارے کی نگران ہوں زینب
14:17اور آپ سے تم لوگ صرف میرے ماں تحت کام کرو گے
14:35یاکوب کہاں رہ گیا ہے ادار بابا
14:37میں نے پیغام بھیج دیا ہے وہ راستے میں ہے کمانڈر
14:41دن دہاڑے دفتر سے نکلنا اس کے لئے مشکل ہوتا ہے
14:43کمانڈر یاکوب تو یہاں آ جائے گا لیکن
14:45آپ کھانے سے کیوں اٹھتے ہیں
14:47اگر یوں ہی چلتا رہا تو کمزوری ہو جائے گی کمانڈر
14:49خبر بھیج دیئے شکر اللہ کا
14:51بس سعید کو بچا لیں
14:53پھر بھوک لگ جائے گی انچہ اللہ
14:55خبر بھیج دیئے شکر اللہ کا
14:59بس سعید کو بچا لیں
15:01پھر بھوک لگ جائے گی انچہ اللہ
15:03اسلام علیکم
15:05والیکم اسلام
15:07کہا رہ گئے تھے میرے شیر
15:09کمانڈر
15:11ہیملٹن اپنے آپ اسے باہر ہو گیا
15:13وہ چاروں طرف صرف اور صرف
15:15جاسوسوں کو ڈون رہا ہے
15:17اور کام کے اوقات میرا یہاں آنا بہت مشکل ہو سکتا ہے
15:19میں کسی بھی وقت اس کے شک کا شکار ہو سکتا ہوں
15:21جو کچھ اس کے ساتھ ہوا اس کے بعد وہ اندرونی جاسوسوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرے گا
15:27رجت کو بھی خبر دے دو کہ محتاط رہے
15:30جو آپ کا حکم کمانڈر
15:32تو پھر اب میری کیا ذمہ داری ہے
15:34کوئی راستہ ٹھونڈو
15:36اور وہاں پہنچو جہاں سعید قید ہے
15:38اسے بتا دو کہ وقت آ چکا ہے
15:42کہنا
15:44کہ غدداری ہی اس کی آزادی کا راستہ بنے گی
15:47سمجھ گیا کمانڈر
15:55میں نے سوچا تھا یہاں تک نوبت نہیں آئے گی
16:01مگر اب کوئی چارہ بھی تو نہیں رہا
16:05اسے وہ کسی اور صورت نہیں چھوڑیں گے
16:07اور اگر ہم لوگ گئے
16:09تو اس بار پکڑے جائیں گے
16:11میں اب چلتا ہوں کمانڈر
16:13یہ کام جلد ختم ہو جائے گا میری شیر
16:17تیار رہو
16:19مجنو
16:21تم بھی سب کو جگا دو
16:23انہیں کہو کہ تیار رہیں
16:25سمجھ گیا
16:27حیدر بابا
16:29جی کہیے کمانڈر
16:31آپ بھی جا کے گلیوں کا معاینہ کریں
16:33کہیں کوئی جال تو نہیں بنا گیا
16:35سمجھ گیا کمانڈر
16:37سمجھ گیا کمانڈر
16:39اگر ہیملٹن شیطان کو سعید پر یقین نہیں آیا تو
16:43اس کے پاس کھونے کو کچھ نہیں
16:45وہ نفع یا نقصان نہیں سوچتا
16:49ہیملٹن ایسے حملہ کرے گا جیسے بددو کو خزانہ مل جائے
16:53لیکن
16:55اگر سعید سے کوئی غلطی ہوئی تو
16:57ہم اسے کھو دیں گے
16:59اجازت چاہتا ہوں
17:05موسیقی
17:07موسیقی
17:21موسیقی
17:23او ایلکس
17:25موسیقی
17:27موسیقی
17:29موسیقی
17:31کیا کرنو کپٹنخ خود پر قابو رکھو
17:33موسیقی
17:35موسیقی
17:37موسیقی
17:39موسیقی
17:41موسیقی
17:43موسیقی
17:45موسیقی
17:47موسیقی
17:49موسیقی
17:51میں شہر سے باہر دفاعی محاص پر ہوں آپ چاہے تو وہاں کے سپائیوں سے بھی پوچھ سکتے ہیں
17:55تین اور اب یہ آخری موقع ہے
17:57مجھے کچھ نہیں معلوم میں نے کسی کی بھی شکایت نہیں لگائی ہے
18:00آخری بار پوچھنا ہوں ایلکس
18:02مجھے نہیں معلوم نہیں معلوم مجھے
18:10میرے پاس گواب ہیں ان سے پوچھ لو
18:21جو کیے اس کا حساب دینا پڑے گا تمہیں
18:27کیفٹن ہیملٹن
18:28یہ ادارہ ہم لوگوں کا ذاتی منصوبہ ہے
18:47جنرل ٹاؤنچین سے باقاعدہ اجازت لی ہے میں نے
18:50تمہیں نگرہ بنائے جائے یہ کس کی سوچ تھی
18:53یہ واضح ہے کہ جنرل کو تم لوگوں پہ بھروسہ نہیں ہے
18:58اور اسی لیے ان کی خواہش ہے اس ادارے کی نگرانی کوئی برطانوی ہی کرے
19:02اگر کوئی مسئلہ ہے تو دروازہ وہاں ہے
19:04تم لوگ یہاں سے جا سکتے ہو
19:13ٹھیک ہے تو پھر
19:14ضروریات کی فیرس بننے کے بعد
19:17میں فیصلہ کروں گی کہ کس کو کیا ملے گا
19:19میری اجازت کے بغیر تم لوگ کسی کی مدد نہیں کر سکتے
19:25صفائی کا سارا کام تمہارے ذمہ ہوگا
19:29صبح شام جھاڑو دینا اور کورا باہر پھیکنا تمہارا کام ہے
19:33ہسپتال سے تمہیں عادت ہو گئی ہوگی
19:39ایک اور بات
19:40ہر شام جب ادارہ بند ہوگا
19:42تو دوائیوں کے ساری رپورٹ میرے پاس ہونی چاہیے
19:45اگر میری اطلاع کے بغیر
19:47ایک دوا بھی غائب ہوتی ہے
19:49تو میں تم سے پوچھوں گی
19:52صفائی کا کام کرنا میرے لیے مسئلہ نہیں ڈاکٹر
19:57اور نہ ہی کوئی شرمندگی ہے
19:59لیکن تم میری ذات نفس مجرور نہیں کر سکتی
20:03ہم نے یہ ادارہ لوگوں کی مدد کے لیے بنایا ہے ڈاکٹر
20:06مجھے لگتا ہے کہ اب تک یہ بات آپ کو سمجھ نہیں آئے
20:10میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا
20:12اگر تم لوگوں نے حکم نہ مانا
20:15تو نہ تائش بھگت نہیں ہوں گے
20:29ہمیلٹن کا تاکب کیا جارہا
20:36اسے اس کا کوئی شک تو نہیں ہوا
20:37بلکل نہیں جنرل کوئی شک نہیں ہوا
20:39پھر بھی تم ہوشیار رہنا
20:41ہمیلٹن کو معمولی مس سمجھنا
20:43وہ ایک کقاب کی طرح ہے
20:44اچانک حملہ کرتا ہے پتا بھی نہیں چلتا
20:46آپ فکر مت کریں جنرل
20:48میں پوری احتیاط کر رہا ہوں کہ انہیں مجھ پر کوئی شک نہ ہو
20:51اور جب تک کوئی ضروری کام نہ ہو
20:55یہاں مت آنا
20:55خیر
20:58کیا کوئی نئی خبر ہے میرے لئے تمہارے پاس
21:00بلکل ہے جنرل
21:01وہی بتانے آیا ہوں
21:03سکوپلو
21:06اس نے اپنے ساتھی محمد کو بچانے کے لئے
21:10صلح گورنر عبداللہ کے گھر پر حملہ کیا
21:13ہمارے سپاہیوں نے اس کے ایک ساتھی کو پکڑ لیا
21:18اور تم مجھے یہ خبر اب دے رہو کیپٹن
21:21اسکوپلو بچ کر نکل گیا
21:23جی بلکل جنرل بھاگ گیا
21:25ہمارے کئی سپاہی بھی اپنی جان سے کہیں
21:29یہ تم کیا کہہ رہو کیپٹن
21:31کیپٹن صاحب آپ کو یہ سب کیوں نہیں بتاتے
21:35میری سمجھ سے بالاتر ہے یہ بات
21:36اب سے کوئی بھی بات تم سے چھپی نہیں ہونی چاہیے
21:39ہر بات مجھے آ کر بتاؤگے ہر بات
21:41اب جاؤ یہاں سے
21:44جو آپ کا حکم جنرل
21:46مجھے آ کرتے ہیں
22:16میں بس ابھی ہی آیا ہوں جنرل سے ایک ضروری کام تھا
22:21کون سا کام
22:23جنرل نے مجھے ہندوستانی سپاہیوں کے مسائل پر ایک تفصیلی رپورٹ بنانے کے لیے کہا ہے
22:28لیکن آپ مجھے کیوں ڈھونڈ رہے تھے
22:31میں بھی اسی مسئلے پر بات کرنا چاہتا تھا
22:34کہ یہ کیا بات ہے
22:37فوج اور شہر کی سیکیورٹی میں کمزوریاں وہی نظر آتی ہیں جہاں ہندوستانی سپاہی موجود ہوتے
22:42خاص کر ان سپاہیوں کی موجودگی میں جو تمہارے دستے میں ہیں
22:47مطلب کیا ہے آپ کا
22:51رپورٹ نے بدنظمی کی اصل وجہ صرف اور صرف توہیں قرار دیا گیا ہے
22:55کئی سپاہی اس کے گواہ بھی ہیں
22:57اور یہ رپورٹ جنرل کو دوں گا
23:00مجھ پر کوئی ایسا الزام نہیں جسے میں جھٹلانا سکتا
23:04آپ کو جو کرنا ہے کر لیجی کیپٹن
23:06اس کے ساتھ ساتھ کچھ اور الزامات بھی ہیں کیپٹن
23:08اور وہ کیا ہیں
23:08ایسے الزامات کہ تمہیں قیق خانے میں سرنا پڑے گا
23:12کیپٹن
23:15جنرل ٹاؤنشن نے آپ کو فوراں طلب کیا ہے
23:18یہ بات ہم تفصیل سے بات میں کریں گے کیپٹن
23:30کیپٹن
23:45آپ نے یہ رپورٹ کس سے بنوائی
23:48اس رپورٹ میں جو کچھ بھی ہے وہ سپلائی ٹیپو کے بارے میں ہیں
23:55میں نے بس ایک چال چلی تھا کہ پتہ چلے کیپٹن سچ کہہ رہا ہے یا نہیں
24:00اگر ایلکس نے ہماری شکایت نہیں کی تو پھر رجت نے کیا
24:04اس پہ نظر رکھو
24:08جو آپ کا حکم کیپٹن
24:10آپ نے مجھے طلب کیا جنرل
24:27شہر کے حالات کیسے ہیں ہمیلٹن
24:32سب آپ کے حکم کی مطابق ہے
24:33تمہارے سامنے جو نقشہ ہے اسے دیکھ رہے ہو
24:47جی جرنل
24:52اس دریا کا
25:03مقامی نام کیا تھا
25:06دریائے دجلہ چرنل
25:08دجلہ
25:10جب پانی بڑھتا ہے
25:19تو دریائے کی مچھلیاں
25:23کیڑوں کو کھاتی ہیں
25:25لیکن جب دریائے کا پانی اترتا ہے
25:29تو کیڑے مچھلیاں کو کھا جاتے ہیں
25:32دکھ کی بات ہے نا
25:35دل کل جنر
25:36اس میں نہ مچھلی کا اختیار ہوتا ہے
25:43نہ ایک کیڑوں کا ہمیلٹن
25:46دریائے میں اختیار
25:50پانی کے باہو کا ہوتا ہے
25:54کہ کون کس کو کھائے گا
25:57رویلک ایڈ میں ہمیں ایک بہت عام بات سکھائی گئی تھی
26:05اگر آپ کی آنکھوں پر
26:09بے وقفی کا دھوہ چھا جائے
26:12تو آپ کو کچھ بھی
26:13دکھائی نہیں دیتا
26:16کیا تم نے سنا ہمیلٹن
26:20بلکل جنر
26:22اب ایک بات تو بتاؤ مجھے تم
26:28اب تک اس شہر میں تمہارے کتنے سپاہی مارے گئے
26:33ایک سو چار سپاہی جنر
26:35ایک سو چار سپاہی
26:37ایسی صورت حل کا ہم نے کبھی سامنے نہیں کیا ہی ملٹن
26:41نہ ہی ہندوستان میں چھترال کے قلعے کے معاصلے کے دوران
26:44نہ سودان میں مہدی کے خلاف جنگ میں
26:47اور نہ ہی بیئر میں
26:49ہم لوگوں نے کبھی بھی
26:51اتنی زلط اور رسوائی نہیں دیکھی کیوں
26:53کیونکہ اب تک پانی کا بہاؤ ہم تیہ کرتے تھے جنر
26:56تو یہاں کیوں نہیں
26:58میرے ایک سوال کا جواب تو ہم لٹن
27:03کہ آخر کیسے
27:04مٹھی بھر لوگ جو خود کو تشکیلات مخصوصہ کا سپاہی کہتے ہیں
27:08اتنی عظیم برطانوی فوج کا
27:11مزاق بنا سکتے ہیں
27:12آخر ایسا کیا ہوتا ہے کہ ہر روز
27:14وہ ہمارے منصوبوں کو ناکام بنا دیتے ہیں
27:22لیکن اب ایسا نہیں
27:23ان تمام لوگوں کو تلاش کرو
27:26میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ان سب کو دریائے دجلہ میں غرق کرتوں گا
27:30شکریہ بیٹی اللہ تم سے راضی ہو
27:41اللہ راضی ہو
27:43شکریہ
27:47اللہ آپ سے راضی ہو
27:51اللہ آپ کو سلامت رکھیں
27:56اسے اچھی طرح باندھو
27:57یہ لیجئے
27:57اللہ آپ سے راضی ہو
28:00آجو میری بچی
28:00فاطمہ
28:07میں بتا نہیں سکتا کہ کتنا خوش ہوں میں
28:14کیا تم مجھ سے بس یہی کہنے آئے ہو زفیر
28:17یہ بات میں تم سے بھی سننا چاہتا ہوں
28:23تو تم مجھ سے کیا سننا چاہ رہے تھے زفیر
28:29تم جانتے تو ہو کہ یہ مارے بڑوں کا فیصلہ ہے
28:31اب اور کیا چاہتے ہو مجھ سے
28:34اس شادی کے لیے اراضی نہیں تھے تم
28:41تو اب کیا ہو گیا
28:43زفیر
28:44میں نے شادی کے لیے ہاں کر دی ہے
28:46تم یہی چاہتے تھے نا
28:47ایسا ہی ہے
28:53تو پھر اب بات کرنے کے لیے کچھ نہیں بچا
28:57موسیقی
29:24کہیم السنرہ خلیل صاحب
29:25شہر میں موجود تشکیلات مخصوصہ کے جاسوسوں کی طرف سے خبر ملی ہے نور الدین صاحب
29:31کیا خبر ہے
29:33برطانویوں نے بسرہ کے راستے مزید فوج طلب کی ہے
29:42یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے خلیل صاحب
29:44گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں
29:46نور الدین صاحب
29:50اگر یہ کمک واقعی پہنچ جاتی ہے
29:53تو ہمارے لیے وہاں حالات مزید مشکل ہو جائیں گے
29:56چونکہ آپ کا یہ خیال ہے تو
29:59یقیناً کوئی ذاتی رائے بھی ہوگی
30:02یہ میری ذاتی رائے نہیں
30:04بلکہ حالات متنظر رکھتے ہوئے اپنی سمیداری نبھا رہا ہوں
30:07ہمیں آنے والی کمک کو روک نہ ہوگا
30:10لگتا ہے اس معاملے کو لے کر آپ کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گئے
30:14خلی صاحب
30:16یاد رکھیں گے
30:18اٹھاروے قبر کو میرے نظریات کے مطابق منظم کا نا آپ کی ذمہ داری ہے
30:23نور الدین صاحب
30:38میں نے کہا تھا کہ سلمان پاک میں ہم دشمن کو کچل دیں گے
30:41لیکن آپ نے مجھے روکا
30:43میں نے رسط کے کافلے پر حملے کی تجویز دی
30:46آپ نے اس کی بھی مخالفت کی
30:48اور اب جب یہ کہہ رہا ہوں
30:50کہ اگر یہ کمک قتل امارہ تک پہنچ گئی
30:53تو ہمارا محاصرہ بے مائنے ہو جائے گا
31:00میں نے یمن میں دفتری ملازم کی حیثیت سے خدمات انجام نہیں دی
31:05وہاں بھی آپ جیسے افسران کی خود سری کے نتیجے میں
31:09ہم نے اپنے تیس ہزار سپاہیوں کو کھو دیا
31:13میں نے بھی رومیلیا میں کوئی تجارت نہیں کی ہے نور الدین صاحب
31:16چونکہ اس اٹھار میں دستے کا ذمہ دار میں ہوں
31:21تو اپنے ہی دستے کے ساتھ میں حملہ بھی کروں گا
31:32یہ فیصلہ تمہیں
31:34جنگ کی عطالت لے جائے گا حلیل
31:36ہم نے اس وطن سے بے لاؤس محبت کی ہے جناب
31:41ہم تاریکی اور روشنی دونوں میں راضی ہیں
31:44یا تو فانسی لٹک چائیں گے یا گولی کھا لیں گے
31:49بستر پر نہ مرے بس یہ کافی ہے
31:57اس کمک کو تمہیں روک کر رہوں گا
31:59میرے بھائی یہ ایسے نہیں ہوگا
32:19یہ ریت اگر کپڑوں پر لگ جائے تو اسے ہٹانا مشکل ہوتا ہے
32:23ایسے کرو
32:24شکریہ
32:28ارے حسن بھائی خوش آمدید
32:34السلام والیکم
32:35والیکم سلام
32:36خوشی ہوئی تمہیں دیکھ کر
32:39خوشی ہوئی
32:39دیکھو تمہارے پیچھے کیا ہوا
32:41محمد بھائی واپس آ گئے
32:43محمد
32:44میرے بھائی
32:47شکریہ اللہ کا
32:52آخر تمہاری آدھاش واپس آ گئی
32:55کیا مطلب ہے حسن
33:00تم نے بتایا نہیں انہیں
33:05کیا بتانا تھا اسے
33:09شرم آ رہی تھی بتانے میں مجھے
33:18بھائی ایسے کیا کیا جو تم شرمندہ ہو
33:22بھائیو
33:23خلیل کمانڈر کے کہنے پر میں شہر گیا تھا
33:27علی کمانڈر سے ملا
33:29اسی لیے اس نے چھپایا کہ یہ کہاں گیا تھا
33:32ہاں میں بتا نہیں سکتا تھا
33:35علی کمانڈر نے مجھے سب کچھ تفصیل سے بتایا
33:39محمد کی آدھاش چلی گئی تھی
33:44یہ دشمن کے گفزے میں تھا
33:48ہماری کچھ لوگ اسے بچانے بھی گئے لیکن
33:53اس نے انہیں پہچانا نہیں
33:55اس نے کہا کہ تم لوگ میرے دشمن ہو
33:58یہ کیا کہہ رہے
34:00درست کہہ رہا ہے
34:02جب میری آنکھ کھلی تو وہ میرے سامنے تھے
34:06مجھے کچھ بھی یاد نہیں تھا
34:08تو
34:10تو
34:10پھر
34:12جب وہ ہمیں قیدیوں کے ساتھ بسرا سے ہندوستان لے کر جا رہے تھے
34:17تب مجھے یاد آیا سب
34:19اور پھر میں وہاں سے بھاگ نکلا
34:24تو اس میں شرمانے والی بات کیا محمد
34:27اور ہم سے کیے چھپایا
34:29جب اس سے کچھ یاد نہیں تھا
34:33تو اس نے سعید کو بھی بہت مارا پیٹا
34:35حالانکہ وہ بشارے اسے بچانے کے لیے گیا تھا
34:38یہ ان کے ساتھ جانے کے لیے مانا کر رہا تھا
34:41محمد کیا ہی یہ سب
34:44تب مجھے کچھ بھی یاد نہیں تھا
34:48ہر کوئی دشمن لگتا تھا مجھے
34:51اب کیسے ہو
34:57اب میں
34:59پہلے سے کافی بہتر ہوں
35:03تم سب میرے بھائی ہو
35:06اب بھی اکثر بہت سی چیزیں بھول جاتا ہوں لیکن
35:10ٹھیک ہو میں
35:11ٹھیک ہو
35:12حد ہے میرے بھائی
35:14تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا
35:16میں پریشانتہ محمد کو کیا ہو گیا
35:18جیسے یہ محمد نہیں بلکہ کوئی نئے آدمی آگیا ہو
35:21خلیل صاحب
35:25نور الدین صاحب
35:27تمہاری آداش کے بارے میں جانتے ہیں
35:30بلکل جانتے ہیں
35:31جانتے ہیں وہ
35:32میں نے ان دونوں کو سب کچھ بتایا تھا
35:34انہیں نے کہا یہ باتیں پرانی ہوئیں
35:36کسی کو یہ سب مت بتانا
35:38ٹھیک کہا انہوں نے
35:41لیکن اللہ کا شکر ہے کہ تم اپنے ہوش میں آگئے
35:44میمت
35:45کاش کے تمہارے بارے میں
35:48علی کمانڈر بھی جان جاتے کہ تم ٹھیک ہو اور یہاں ہوں
35:51کاش
35:55کاش
36:08موسیقی
36:10موسیقی
36:12موسیقی
Comments

Recommended