00:00Assalamualaikum
00:01Salaahuddin Ayubi
00:03Islamispae kone waakf nahi
00:06Lakin kia aap
00:08Malki Al-Aadil ko jantai hain
00:10Jinnonne maga and medina ka dfah kiya ta
00:12Or Salimhi Lashkar
00:14Jocke Harmen ki tabahi ke liye nikla ta
00:16Usse raastet mein hi rok liya ta
00:19Jii hain
00:20Inhye hi Malki Al-Aadil ke nama se jana jata hai
00:23Jocke salahuddin Ayubi ke sb se chhotay bhaay te
00:26Al-Aadil
00:271145 iiswi me
00:29دمشق یا موصل میں پیدا ہوئے
00:31سلیبی جنگوں کے دوران
00:33سلاح الدین ایوبی کے نائب اور سپاہ سالار رہے
00:35جنگوں کے درمیان
00:37امن مہائدے اور سیاسی اتحاد
00:39قائم کرنے کے ماہر سے
00:41ان کی حکمت عملی سے
00:43کئی محاذو پر سلاح الدین کو کامیابی ملی
00:45سلاح الدین کی وفات کے بعد
00:48سلطنت کئی حصوں میں بٹ گئی
00:49العادل نے ان تمام
00:51بٹے ہوئے حصوں کو یکجا کیا
00:53اور تیس سال
00:55ایوبی سلطنت پر حکومت کی
00:57انہوں نے بہترین انصاف قائم کیا
00:59جس کی وجہ سے انہیں عادل بادشاہ
01:01کا خطاب ملا
01:02سلیبی بھی سلطان العادل کی
01:05حکمت اور انصاف کے قائل تھے
01:07مگر ان کی زندگی کا
01:09سب سے اہم واقعہ
01:11ہرمین کا دفاع ہے
01:12ہوا یوں کے گیارہ سو بانوے اور تیرانوے
01:15کے آس پاس
01:16ریچرڈ شیردل جو کہ ایک سلیبی بادشاہ
01:19تھا اس نے مکہ اور مدینہ
01:21پر حملے کے لیے ایک بحری
01:23بیڑا تیار کیا
01:24ان کا مقصد تھا کہ
01:27مسلمانوں کے روحانی مراکس کو
01:29تباہ کر دیا جائے
01:30ملک العادل نے ان کے ناپاک
01:33ازائم کو روکنے کے لیے
01:34ایوبی بحری بیڑا بھیجا
01:36اور ساحلی پٹی پر بھی فوج
01:38تائینات کر دی گئی
01:40سلیبی جہاز بہرہ احمر کے راستے
01:42حجاز کی طرف پڑھے
01:44سلیبی جہازوں کو بہرہ احمر کے راستے میں
01:47ہی روک لیا گیا اور تباہ کر دیا گیا
01:49جو فوج ساحل پر اتری
01:51اس میں سے زیادہ تر ماری گئی
01:53اور باقی کی فوج گرفتار ہو گئی
01:55اور یوں
01:56سلیبی فوج کو ہرمین تک پہنچنے سے پہلے ہی
01:59العادل نے ختم کر دیا
02:01اس واقعے کے بعد
02:02العادل کی عزت اور بھی بڑھ گئی
02:04کیونکہ مقامات مقدسہ کو
02:06سلیبی آفت سے بچا لیا گیا تھا
02:09اس کے بعد مکہ اور مدینہ کے حفاظتی اقدامات
02:12کافی بڑھا دیا گیا
02:13اور دفاع مزید سخت کر دیا گیا
02:16عالم اسلام کے اس عظیم سلطان
02:18اور مجاہد کا انتقال
02:201218 اسری میں ہوا
Comments