00:00As-salamu alaykum
00:02Today we will tell you what happened to Salim
00:07when she was in the gate,
00:10she was in the gate,
00:13she was heard of a person.
00:16Listen,
00:18she was 35-35 years old,
00:20she was in the gate of the gate.
00:23She was watching the gate of the gate.
00:26She was watching the gate,
00:28she was in the gate of the gate.
00:32The camera got stuck in the gate,
00:34the gate was in the gate and the same door.
00:37It was the gate.
00:39She was in the gate of the gate,
00:41she was on the gate.
00:42Yes.
00:44You are or are you here?
00:47Salim said in her heart.
00:49She was in the gate.
00:52She said it was where she was in the gate.
00:55मैं एक टूरिस्त हूँ, मेरा नाम मारिया है
00:58अपने ग्रूप के साथ कुछ पिक्टर्स लेने इदर आयी थी
01:03मगर ना जाने कैसे रास्ता भटक गई
01:05कोशिश के बावजूद अपने साथियों को तलाश करने में नाकام रही हूँ
01:10वो ये खरती हो खरती हों वो ये कहते हुए उस्से देखने लगी
01:14ओ अच्छा .. सलीम laz опасर से उसे देखा
01:20वो ये बात जानाए था कि one была तूरिस्त इस जगह पर आते हैं
01:28ये बात तर्यको आते हैं, ये six met एंट खकला हुई ता
01:36छोड़ द 텍वार का थे।
01:39バックہ میں اس سامان اُدھر رکھا ہے زہمت نہ ہو تو میرے ساتھ چلئے پہلے وہ لے لیتے ہیں پھر میں آپ کے ساتھ چلتی ہوں اس نے رضا مندی ظاہر کی
01:49ڈاکھیک ہے سلیم نے سائیکل گیٹ پہ کھڑی کی اور چلنے کے لیے کہا
01:55اور کہتے ہوئے اس کے پیچھے چلنے لگا
01:58قبرستان کے بیچوں بھی چلتے وہ ایک پرانی قبر کے قریب رکھ گئی
02:03چاروں جانب وہ کا عالم تھا
02:07پتہ بھی سرکتا تو عجب بھیبتاری ہو جاتی
02:10مگر وہ عورت قبر کے سامنے اتمنان سے ساکت کھڑی تھی
02:15آپ کا سامان کہاں ہے مجھے تو یہاں کچھ نظر نہیں آرہا
02:18سلیم نے دائیں بائیں دیکھتے کچھ دہشت سے پوچھا
02:22اب اس پہ گھبراہت تاری ہو گئی تھی
02:25یہ سامنے تو پڑا ہے
02:28آؤ آگے بڑھو
02:30پلٹے بغیر اس نے حکم صادر کیا
02:34اس کے لہجے میں عجب پرسرار بھاری پن تھا
02:38اسے سلیم نے محسوس تو کیا
02:40مگر لاپروہی سے آگے بڑھا
02:42کہ شاید اس عورت کے سامنے ہوتے ہوئے
02:45وہ دیکھ نہیں پا رہا
02:46جو ہی وہ آگے بڑھا
02:47بڑھو کا ایک بھبکہ اس کے نتنوں سے ٹکرایا
02:50اس نے حیرت سے ماریا کی جانب دیکھا
02:53مگر اس کی جگہ ایک گلہ سڑا وجود کھڑا تھا
02:57اسے دیکھتے اس کے عوثان خطا ہو گئے
03:00وہ ماریا نہ تھی
03:02اس کا چہرہ انتہائی کرخ اور جگہ جگہ سے پھٹا پڑا تھا
03:06دلکر شانکوں کی جگہ دو گہرے کالے گڑے تھے
03:09والوں کی جگہ پڑے رینگ رہے تھے
03:12مو کا دہانہ اتنا چوڑا ہو چکا تھا
03:14کہ ٹوٹے دانتوں سمیت اس کا ٹیڑھا جبڑا
03:17واضح نظر آ رہا تھا
03:19سلیم چیخے مارتا سرپٹ پہار کی طرف دوڑا
03:22ماریا کے فلک شگاف کہہ کے کے ساتھ
03:25کئی حبتناک کہہ کے اس میں شامیر ہو گئے
03:28سلیم کو کچھ سجائی نہ دے رہا تھا
03:31کہ وہ گھپ اندیرے میں کس طرف جا رہا ہے
03:33کئی بار وہ مو کے بل گرا
03:35مگر پھر اٹھ کر بھاگنے لگتا
03:36اس کی سانس پھول چکی تھی
03:38مگر قبرستان کی بھول بھلئیوں سے نکلنے کا
03:41کوئی سیرہ آتھ میں نہ آ رہا تھا
03:43شاید وہ راستہ بھٹک گیا تھا
03:46جب بھی وہ سانس لینے کے لیے رکھتا
03:48خود کو اسی قبر کے قریب
03:50ان گلے سڑے وجودوں میں پاتا
03:52تم سمجھتے ہو یہاں سے نکل جاؤ گے
03:54ماریا جیسے کئی ادھڑے وجود
03:56اس کے سامنے تھے
03:58ان کے چہرے انتہائی بھیانک
04:00اور جگہ جگہ سے پٹے ہوئے تھے
04:02روح میں چھیت کر دینے والا خوف
04:04اس کے اندر سرائیت کر چکا تھا
04:06ہر چیز اسے اپنی جگہ
04:08ساکت اور جامت نظر آ رہی تھی
04:10نہیں مجھے گھر جانا ہے
04:12اببہ میرا انتظار کر رہا ہوگا
04:14آنکھے پھاڑے اس کے ہونٹوں پر جنبش ہوئی
04:17دہشت کے باوجود
04:19وہ بے کراری سے اٹھا
04:20اور ان گلے سڑے وجودوں کو چیرتے ہوئے
04:23ایک بار پھر باہر کو بھاگا
04:24جانی پکڑوں سے جانے نہ پائے
04:28کوئی ادھر وجود چیخا
04:30سلیم کو اس بات کی پرواہ نہ تھی
04:33کہ وہ سب اس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں
04:35وہ صرف یہ جانتا تھا
04:37کہ اسے ہر حال میں گھر جانا ہے
04:38اسے دور سے قبرستان کا بڑا گیٹ
04:41نظر آ گیا
04:41اس کے قدموں کی رفتار مزید تیز ہو گئی
04:45بڑے گیٹ پہ ایک قدم
04:47اس کا باہر اور ایک قدم اندر تھا
04:49کہ ملی جولی بھیانا کا بات ہے
04:51دوبارہ اس کے کانوں میں پڑی
04:52جانی مار تھا
04:54پکڑے اسے مگر وہ سرپٹ
04:56دوڑتا باہر نکل گیا
04:58ماریا کی فلک شگاف چیخیں
05:01آہستہ آہستہ مادوم ہوتی جا رہی تھی
05:04رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا
05:06ہر طرف سرناٹے اور اندھیری کی
05:08اجارہ داری تھی
05:09سلیم کے پاؤں کی دھمک
05:11چاروں اور حیبت پھیلا رہی تھی
05:13دل الگ پوری رفتار سے دھڑک رہا تھا
05:16پسینے سے شراب اور جب وہ گھر میں داخل ہوا
05:18تب سبھی سوئے پڑے تھے
05:20آج ابے نے دروازہ بھی بند نہیں کیا تھا
05:23اسے ابے کی اپنے لئے فکر نے شرمندہ کر دیا
05:27صبح ابے سے معافی مانوں گا
05:29ابا ٹھیک کہتا تھا
05:31کہ وہ جگہ ٹھیک نہیں
05:32آج تو کسی موجزے نے بچا لیا
05:34آئندہ وہاں سے کبھی نہ جاؤں گا
05:37تہشت اور خوف کے ملے جلے تاثرات لیے
05:40کچھ سے باتیں کرتا
05:41وہ چرپائی پر بیٹھ گیا
05:42ابا اور امہ کی نیند خراب نہ ہو
05:45کچھ دیر خاموشی سے بیٹھا رہا
05:46پھر چادر تان کر سو گیا
05:48نجانے کب تلک سویا رہتا
05:50کہ تیز تیز باتوں کی بنمنات سے
05:53اس کی آنکھ کل گئی
05:54رات والا واقعہ یاد آیا
05:55تو خوف سے اٹھ بیٹھا
05:57رمضو پولیس بھی ساتھ جا رہی ہے
06:00اور ہم بھی تیرے ساتھ ہی چلتے ہیں
06:02دیکھے تو صحیح ماجرہ کیا ہے
06:04سلیم کو بعد میں دیکھ لیں گے
06:06چاچا خالد جو پڑوسی بھی تھا
06:09رمضان کو لیے باہر نکل گیا
06:10سلیم نے چادر سے مو باہر نکالا
06:13یہ پولیس کیوں جا رہی ہے
06:15آخر بات کیا ہے
06:16اس نے چادر اتار کر دور پہکی
06:18گھر میں امہ بھی نظر نہ آئی
06:20تو گھر سے باہر نکل آیا
06:22بستی کے آدھے لوگ جنگل کی جانب جا رہے تھے
06:25وہ بھی حیرت لیے
06:27ساتھ چل پڑا
06:28پہلے سوچا
06:29اببے سے پوچھے
06:30کہ کیا معاملہ ہے
06:31پھر یہ سوچ کر رک گیا
06:33کہ رات کو دیر سے آیا تھا
06:35نہیں سب کے سامنے اببہ بیزتی نہ کر دے
06:37دوسرا سائیکل بھی وہیں چھوڑ آیا تھا
06:39اسی بہانے سائیکل بھی لے لوں گا
06:41اور ساری بات بتا بھی دوں گا
06:43پندرہ منٹ تک
06:45وہ سبی قبرستان کے قریب پہنچ چکے تھے
06:48کہ اببے کی دلخراج چیخ نے
06:49اسے دہلا دیا
06:50وہ رش کو چھیر سے ہوئے
06:52اببے کے قریب پہنچا
06:53اببہ زمین پہ بیٹھا
06:55اس وجود کو بازوں میں بھرے چیخ رہا تھا
06:58تمام مجمع کے لوگ
07:00غم و اندوح کی تصویر بنے
07:02آپس میں چھے مگویاں کر رہے تھے
07:04سلیم جلدی سے آگے بڑھا
07:06کہ اببے کو بتائے
07:07کہ وہ رات کو واپس آ گیا تھا
07:10مگر سامنے پڑے وجود کو دیکھتے
07:12وہ ٹھٹک کر رہ گیا
07:13اس پہ جیسے سکتہ تاری ہو گیا
07:15وہ اس کا اپنا وجود تھا
07:19جس کی ایک کانگ قبرستان کے اندر
07:21اور ایک باہر تھی
07:22اسے یاد آیا
07:23کہ جب وہ گیٹ پار کرنے لگا تھا
07:25تو کسی نے چیخ کر جانی اور مارتہ سے کہا تھا
07:28کہ روکو اسے جانے نہ پائے
07:30اور جانی نے قبرستان سے نکلتے ہوئے
07:33اس کی پشت پہ زور سے ہاتھ مارا تھا
07:35مگر وہ رکا نہ تھا
07:37ہاں
07:38وہ رکا نہ تھا
07:40مگر اس کی روح
07:41وہیں گیٹ پہ روک لی گئی
07:42تو کیسی لگی آپ کو آج کی یہ کہانی
07:46اگر کہانی اچھی لگی ہو
07:48اور چینل پر نئے ہو
07:49تو چینل کو ضرور سبسیاد کر لیا
07:52اس طرح کی مزید کہانیاں
07:54آپ کو بربقت مل سکے
07:56موسیقی
Comments