00:00آج ہم کلاسیک اور دو فوک ٹیل میں عمرو کی شرارتوں کا دوسرا حصہ سنتے ہیں
00:05ایک سنسان پہاڑ کے ہار میں سب لڑکے چھپ کر بیٹھ کے
00:09جب شام قریب آئی اور سورج مغرب کی طرف چھپنے لگا
00:13تو بھوک کے مارے سب کا براہ ہر ہو گیا
00:15امیر حمزہ نے عمرو سے کہا
00:18یا تیری وجہ سے ہم یہاں آگے اور تو اتمنہ سے بیٹھا ہے
00:22ہماری کھانے پینے کا کچھ انتظام کر
00:24یہ کونسی بڑی بات ہے
00:26عمرو نے کہا میں ابھی شہر جا کر کھانا لاتا ہوں
00:28اور وہ غار سے نکل کر دوڑتا ہوا شہر کے جانب چلا
00:32ایک تسائی کی دکان کے پچھوڑے چیچڑے اور ہڈیاں پڑی تھی
00:36اس دھیر میں سے اونٹ کی ایک باریک آنکھ تلاش کی
00:40اور زبیدہ نام کی ایک بڑیہ کے مکان پر پہنچا
00:43اس بڑیہ نے بہت سے مرگیاں پار رکھی تھی
00:45اور ان کے انڈے بیچ کر گزر اوقات کرتی تھی
00:48عمرو دیوار پر چڑھ کر سہن مرگیا
00:51کچھ فاصلے پہ کئی مرگیاں دانہ دنگا چک رہی تھیں
00:54اور گریہ پیٹ پھیلے بیٹھی تھی
00:56عمرو دبے پاؤں مرگوں کے قریب گیا
00:59اور اونٹ کی لمبی آنکھ کے ایک سرے پر گرہ لگا کر
01:02مرگیوں کی طرف پھنکی
01:03آنکھ کا ایک سرہ اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا
01:06ایک مرگی دانہ چکتے چکتے اُلرائی
01:09اور آنکھ کو نگڑنے کی کوشش کرنی تھی
01:11عمرو نے چھڑی کا دوسرا سرہ اپنے موں میں دوایا
01:14اور پھونک مالی
01:16آنکھ میں ہوا بھری تو وہ پھول گئی
01:18اور گرہ کا پندہ مرگی کے گلے میں اٹک گیا
01:21مرگی کے گلے سے آواز نہ نکلے
01:25اور عمرو نے بڑھ کر اسے پکڑا
01:28اور گمیز کے نیچے چھپا کر دیوار پھانکر باہر نکل گیا
01:31پھر مکان کے پچھوارے چاہ کر چار پانچ پتھر سہن میں پھینکی
01:35کڑیا گھوڑا کر مکان سے باہر نکلی
01:38عمرو پھر مکان میں خودہ اور انڈوں کی ایک ٹوکری اٹھا کر بھاگ گیا
01:42یہاں سے وہ سیدھا ایک کبابی کی دکان پر پہنچا
01:45مکھری اور انڈے اس کے حوالے کیے اور کہا
01:47اس مرگی کے کباب اور ان انڈوں کا حلوہ جندی سے تیار کر دو
01:52دو روپے کی روٹیاں اور پلچے بھی لگا دو
01:55میں اپنے ساتھ لے جاؤں گا
01:56خواجہ عبد المطلق کے ہاں چل مہمان آگئے ہیں
01:59ان کی دعوت کرنی ہے
02:00اپنا ایک نوکر میرے ساتھ بھیج دو
02:03وہ پیسے لے کر آ جائے گا
02:04بیچاری کبابی نے خواجہ عبد المطلق کا نام سن کر
02:07سب کام چھوڑا اور جلدی جلدی
02:09وہ تھی زبا کر کے اس کے کباب بنائے
02:11پھر انڈوں کا حلوہ تیار کیا
02:13روٹی اور پلچے اس کے پاس پہنے سے تیار تھے
02:16سارا کھانا ایک بڑے تھار میں لگا کر
02:19اپنے نوکر کے سر پر رکھویا
02:20اور کہا کہ اس رڑکے کے ساتھ
02:22خواجہ عبد المطلق کی گھر چلا جا
02:24کھانا وہاں دے کر
02:26جتنے پیسے وہ دیں لے کر آ جارا
02:28امرو جب خواجہ عبد المطلق کی گھر پہنچا
02:31تو نوکر سے کہا
02:32مہمان دیوان خانے میں بیٹھے ہیں
02:34لاکھ کھانے کا تھار میرے سر پر رکھتے
02:36اور تو خود مکان کے پچھلے حصے کی طرف
02:39دروازے سے اندر چل جا
02:41وہاں خواجہ صاحب ہوں گے
02:42ان سے پیسے لے لے نا
02:44نوکر نے ایسا ہی کیا
02:46اب امرو نے دوڑ لگائی
02:47اور غار میں آ کر دم لیا
02:49سب رڑکوں نے مزیدار کھانا
02:51خوب پیٹ کر کر کھایا
02:52اور اپنان سے پیر پھیرا کر سو گئے
02:54اب ذرا ادھر کی سنگے
02:57خواجہ عبد المطلق کی گھر میں کیا ہوا
02:59استاد خواجہ کے پاس پیٹھا
03:01رو رو کر اپنی داستان سنا رہا تھا
03:03اور خواجہ صاحب غصے سے کام پر رہے تھے
03:05کہ اتنے میں مرگیاں بیچنے والی
03:07بڑھیا بھی آ پہنچیں
03:08اور شکایت کی کہ امیہ کا بیٹا امرو
03:10میرے گھر میں آن کھودا
03:12اور ایک مرگی اور انٹوں کی ٹوکری اٹھا کر پھاگ گئے
03:15خواجہ عبد المطلب نے
03:16مرگی اور انٹوں کی قیمت بریہ کے حوالے کی
03:19اور ابھی وہ دعائیں دیتی ہوئی گھر سے باہر نکلی ہی تھی
03:22کہ کبابی کا نوکر آن پہنچا
03:23کیا بات ہے
03:24کہاں سے آئی ہو خواجہ صاحب نے پوچھا
03:27جناب والا میں کبابی کا نوکر ہو
03:29تھوڑی دیر پہلے
03:30امیہ کا لڑکا امرو ہماری دکان پر
03:32ایک مرگی اور انٹوں کی ٹوکری لے کر آیا
03:34اور کہا کہ خواجہ عبد المطلب کے ہاں چند مہمان آئے ہیں
03:38ان کے لیے
03:39جس مرگی کے کباب اور انٹوں کا حلوہ تیار کر دو
03:42اس کے علاوہ دور پہ کے کلچیاں اور روکیاں میں لے دو
03:45ہم نے جلدی جلدی کھانا تیار کیا
03:47اور امرو میرے سر پر
03:49کھانے کا تھاڑ رکھا با کر
03:51یہاں تپری آیا
03:52پھر تھاڑ خود لے گیا
03:53اور مجھے آپ کے دیوان کارنے میں بیٹھنے کی ہدایت کی
03:56اب پتہ چلا
03:58کہ یہ چیزیں آپ نے نہیں منگ بائیں
03:59خدایا
04:01امیہ کے لڑکے کو غارت کرے
04:03کمبک چھلاوا ہے چھلاوا
04:04اپنے ساتھ میرے لونڈے حمزہ کو بھی برباد کر رہا ہے
04:08خواجہ عبد المطلب نے دان پیستے ہوئے کہا
04:10پھر کبابی کے نوکر کو بھی پیسے نکال کر دیئے
04:13وہ سلام کر کے رکست ہوا
04:15اب استاد نے کہا جناب
04:16میں اس لڑکے کو پڑھانے سے باز آیا
04:19امیر حمزہ اور مقبل کو آپ مدرسے میں بھیج سکتے ہیں
04:22لیکن عمرو کو میں کسی قیمت پر نہیں پڑھاؤں
04:25یہ کہہ کر استاد صاحب رونے لگی
04:27استاد جی آپ گھر جائیے
04:28خواجہ صاحب نے کہا رات ہو گئی ہے
04:31اس لقت عمرو اور اس کے دوستوں کو بھوننا مشکل ہے
04:34صبح مدرسے کے لڑکوں کو بھیجیے
04:36وہ ان کو پکڑ کر لائیں گے
04:37پھر دیکھے گا میں اس عمرو کو کیسے درگت بناتا ہوں
04:40اگلے روز استاد نے پچاس ساٹھ لڑکوں سے کہا
04:43کہ وہ لکنیاں اور ڈنڈے لے کر پہاڑ کی طرف جائیں
04:45وہاں امیر حمزہ
04:47مقبل وفادار اور دوسرے لڑکے چھپے ہوئے ہیں
04:50انہیں جا کر پکڑ لائیں
04:51لڑکے فورا ہر بھانا ہوں دیں
04:53امیر اس وقت پہاڑ کی چھوٹی پر بیٹھا تھا
04:56اس نے لڑکوں کی فوج کو آتے دیکھا تو خوب ہنسا
04:59اور امیر حمزہ سے کہنے لگا
05:01استاد جی نے ہمیں پکڑنے کیلئے فوج بیچی ہے
05:03آؤ ذرا ان سے دو دو ہاتھ ہو جائیں
05:05یہ سن کر
05:06مقبل نے اپنی چھوٹی سی کمان اور تیر نکال لیے
05:10امیر نے پتھروں کا ڈھیل جمع کر لیا
05:12امیر حمزہ کو اپنے بازوں کے قوت پر بھروسہ تھا
05:15وہ جانتے تھے کہ کوئی لڑکا
05:17ان سے پشتی میں نہیں جیت سکتا
05:18جو بھی ادھر آئے گا
05:20اسے اٹھا کر زمین پر دے مارے
05:21لڑکوں کی فوج نے امیر اور امیر حمزہ کو
05:24گھیرے میں لینے کی پوشش کی
05:26تو امیر نے پتھروں کی بارش پر ساتے
05:28اور حمزہ کی کمان سے تیر نکال لگے
05:30حملہ کرنے والے سب لونڈے
05:32گرتے اٹھتے وہاں سے بھاگے
05:34کئی لڑکوں کے جوتے اور کپڑے پھٹ گئے
05:36کئی زخمی ہو گئے
05:38استاد نے اپنے شاگردوں کا یہ ہار دیکھا
05:40کہ امیر اور حمزہ کو پکڑنے کے بجائے
05:43اپنی ہی مرمت کروائے ہیں
05:44تو انہیں لے کر سیدھا خواجہ عبدالمطلق کے پاس پہنچا
05:47اور سلام کہا
05:48خواجہ صاحب نے اپنا سونٹا سمارا
05:51اور استاد کو ساتھ دیکھے پہاڑوں کی طرف چک پڑے
05:54عمرو اور اس کے ساتھی
05:55اپنے اپنے مرچوں میں دبکے ہوئے تھے
05:57ان کے ذہن و بمان میں بھی نہ تھا
05:59کہ خواجہ عبدالمطلق خود آ جائیں گے
06:01سب سے پہلے عمرو نے خواجہ صاحب
06:03اور استاد کو آتے دیکھا کہنے لگا
06:05یار حمزہ غضب ہو گیا
06:07تمہارے والد آ گئے
06:09بھائی میں تو اب بھاگتا ہوں
06:10نگی رہی فکر ملیں گے
06:12یہ کہہ کر اس نے بھاگنے کا ارادہ ہی کیا تھا
06:14کہ حمزہ نے ہاتھ پکڑ لیا
06:16خواجہ صاحب کے خوف سے عمرو تھر تھر کام پر آ تھا
06:20حمزہ کی بڑی منت سماجت کی
06:22کہ مجھے چھوڑ دے
06:22مگر حمزہ نے ایک نہ سنی
06:24خواجہ صاحب پہاڑ کے قریب آ کر
06:27اونٹ پر سے اترے
06:28تو امیر حمزہ غار سے نکر کر
06:30اپنے والد کے استقبار کو آئی
06:31اور اٹھے قدموں پہ گر پڑے
06:33خواجہ صاحب نے اپنے چھوڑتے بیٹے کو سینے سے لگایا
06:36مقبلہ فدار کے سر پہ محبت سے ہاتھ پھیرا
06:39اور کہنے لگے
06:40وہ شریر کہاں ہے
06:41میں اس کے کرتوتوں سے تانگ آ گیا ہوں
06:44سارے شہر میں اس کی وجہ سے میری بدنامی ہو رہی ہے
06:47بجان اسے معاف کر دیجئے
06:48امیر حمزہ نے عدف سے کہا
06:50میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں
06:52کہ عمرو اب کو شرارت کرے گا
06:53تو میں خود اسے سازا دوں گا
06:55عمرو کو لڑکوں نے ایک بڑے سے پتھر کے نیچے چھپا رکھا تھا
06:58امیر حمزہ گئے
07:00اور عمرو کو لاؤ کر خواجہ صاحب کے قدموں بگرا دیا
07:03خواجہ صاحب پر جی تو چاہتا تھا
07:05کہ اس کی اچھی تنامرہ مت کریں
07:07لیکن اپنے بیٹے کی سفارش کی وجہ سے کچھ نہ کہا
07:10استاد کو سور پہ کی تھیلی دی
07:12اور تینوں لڑکوں کو لے کر گھر واپس آ گئے
07:14عمرو کا مدرسے جانا بھی ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا
07:17اس واقعے کی کچھ دن بعد کا ذکر ہے
07:20اس دن مدرسے میں چھٹی تھی
07:22عمرو باہر سے آیا اور کہنے لگا
07:26تم یہاں بیٹھے ہو
07:27اور باہر موسم بڑا سوہانہ ہے
07:29اور آج واقع کی سیر کریں
07:32تینوں دوست واقع کی سیر کریں
07:34مکہ سے کچھ فاصلے پر
07:36خجونوں کا ایک چھوٹا سا باقع تھا
07:39یہ وہی پہنچے
07:40اور ادھر ادھر پھننے لگے
07:42آخر امیر حمزہ اور مقبل تھک کر
07:44ایک جگہ بیٹھ گئے
07:45اور عمرو ایک درخت بچڑھ کے
07:47خجوریں توڑنے لگا
07:48تھوڑی دیر بعد بہت سی خجوریں
07:50اپنی چھولیں میں بھر کر لیا
07:52اور الگ بیٹھ کر کھانے لگا
07:54عمرو کی یہ بات سن کر
08:07امیر حمزہ کو غصہ آیا
08:09اور بڑھاتے ہوئے اٹھے
08:10اور ایک درخت بچڑھنے لگے
08:11عمرو نے ہنس کر کہا
08:13بھائی درخت بچڑھنا تو ہم جیسے
08:16دبلے پتلے لوگوں کا کام ہیں
08:18تم پہروان ہو
08:19درخت اکھار کر کے جوڑیں کھاؤ گے
08:21اب تو امیر حمزہ کے غصے کی حد نہ رہی
08:24سوچے سمجھے وغیر زور لگایا
08:26اور درخت کو اکھار کر پھینک دیا
08:28یہ دیکھ کر عمرو اور مقبل حیران رہ گئے
08:31لیکن عمرو نے فوراں کہا
08:33اجی یہ تم نے کیا کمال کیا
08:35ایسا کمزور درخت تو میں بھی اکھار سکتا تھا
08:41بھی اکھار کر پھینک دیا
08:43عمرو نے پھر تانہ دیا اور بولا
08:45بس جی دیکھ لیا آپ کی طاقت
08:47اس درخت کے جوڑی تو پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی
08:50عمرو نے تیسرے درخت کی قدرہ پھینک دیا
08:53اور زور لگا کر اسے بھی جر سے اکھار دیا
08:55پھر چوتھا اور سب سے بڑے درخت کو گرا دیا
08:58پانچے درخت کے جانب چلے ہی تھے
09:00کہ عمرو نے ڈانڈ کر کہا
09:02فاجہ عبد المطلب کے بیٹے کیا تو دیوانہ ہو گیا ہے
09:05سارے باغ کو اجڑنے کا ارادہ ہے
09:07امیر حمزہ یہ سن کے شرمندہ ہوئے
09:09اور کہنے لگے
09:14خدا تجھے نیکی کی ہتائیت دے
09:16میں تیری باتوں میں آ کر سارا باغ ہی اجڑنے لگا تھا
09:19اتنے میں باغ کا مالک میان پہنچا
09:21چار درخت گرے ہوئے دیکھے تو سخت پریشان ہو رہا
09:25عمرو سے پوچھنے لگا کیوں میان سامزادے
09:27یہ درخت کس طرح گرے
09:29بڑی تیز آندھی آئی تھی
09:31اسے کی وجہ سے ان درختوں پر آفت آئی ہے
09:33عمرو نے جواب دیا
09:34مالک چلا اٹھا یہ کیا بکواس ہے
09:37آندھی آئے اور مجھے پتا نہ چلے
09:39امیر حمزہ اور مقبل ہس پڑے
09:41آخر مالک نے خوش آمد کی
09:43تب امیر حمزہ نے بتایا کہ عمرو کی وجہ سے یہ حرکت مجھ سے ہو
09:47اب تو ہمارے ساتھ چل
09:49اٹھ درخت کے بدے ہم تجھے ایک سبک اونٹ دیں گے
09:52باہ کا مالک کیس ان کا خوش ہوا
09:54اور اس کا سارا رنج دور ہو گیا
09:56امیر حمزہ اسے اپنے ساتھ دے کر آئی
09:59اور علامو کو حکم دیا
10:00کہ ہمارے ابا جان کے ایک ہزار سور پھونٹوں میں سے
10:03چار اونٹ اس شخص کو دے دو
10:05علامو نے اسی وقت حکم کی تعمیر کی
10:08امیر حمزہ اور مقبل تو گھر چلے گئے
10:11لیکن عمرو شخص کے پیچھے پیچھے چلا
10:13اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی
10:15کہ کھجوروں کے چار درختوں کے بدلے میں
10:18اتنے قیمتی چار اونٹ کیا تھیا کر لے گیا
10:20تھوڑی دور جا کر اسے روکا
10:22اور کہنے لگا
10:23اوہ بھائی تو بڑا ہی خراب آدمی ہے
10:25تو انہیں حمزہ کے خوش آمد کر کے یہ اونٹ ہتھیا لیے
10:28ابھی جا کر خواجہ صاحب سے تیری شکایت کرتا ہوں
10:31اس لنکر وہ بچارہ گبر آیا
10:33اور گڑ گڑا کر کہنے لگا
10:35حمزہ نے بھی تو میرے باپ کے چار درخت اٹھاڑے
10:37وہ تو ٹھیک ہے
10:40لیکن یہ کہاں کی شرافت ہے
10:41کہ چار درختوں کے بدلے میں
10:43تو کئی ہزار روپے کے اونٹ لے جا
10:45امرو نے کہا
10:46پھر تم بھی کچھ بتاؤ اس نے کہا
10:48ان میں سے ایک اونٹ مجھے دے دی
10:50امرو نے مسکرا کر کہا
10:51باہ کا مالک ڈرتا تھا
10:53کہ اگر امرو نے خواجہ عدل مطلب سے شکایت کر دی
10:55تو شاید وہ سب ہی اونٹ چھین دے
10:57جس نے کچھ کہے بغیر
10:59ایک اونٹ امرو کے حوالے کر دیا
11:01اب امرو سیدھا منڈی میں پہنچا
11:03اور ایک ہزار روپے میں اونٹ پیچ دیا
11:05اور ہستہ کھیلتا گھر آ گیا
11:07امیر حمزہ نے ہزار روپے کی تھیلی
11:09امرو کے پاس دیکھی
11:10تو کہنے لگا سچ سچ بتا یہ رقم کہاں سے آئی
11:13یاد رکھ میں تجھے ابا جان کے ہاتھ سے
11:16بچا نہیں سکتا
11:17بھائی صاحب یہ میری محنت کی کمائی ہے
11:19امرو نے جواب دیا
11:20اور پھر مزیر ایک ارس ساری کہانی
11:22حمزہ اور مقبل کو سنائی
11:24اور خوب ہنسے اور کہا
11:25خدا کی پناہ کمباخت کسی پر تو ترس کھایا کر
11:28اس قریب شخص سے ایک اونٹ چھیتے
11:30بھی تجھے ذرا شرم نہ آئی
11:32تو وہ ایسا کونسا شریف تھا
11:34امرو نے کہا
11:35وہ تم کو بے اکوف سمجھ کر
11:37چار اونٹ ہتھیں آنا چاہتا تھا
11:39مزید جاننے کے لیے
11:40اس سے اقلی کہانی ضرور سنگی
11:42اس کا نام ہے مقدس صحائف
11:44ہمارے چینل کو ضرور لائک کریں
11:47سبسکرائب کریں
11:48اور گھنٹی کا آئیکن دبانا نہ کنیں
11:50تاکہ ہمارا یہ تعلق چڑھا رہے
11:52اور آپ کو پھر فندوز ہوتے ہوئے
Comments