00:00آج ہم کلاسیک اردو وہ اکٹیل میں جو کہانی سنیں گے اس کا نام ہے مقدس تحائف
00:06وقت پر لگا کر اڑتا رہا امیر حمزہ مقبل وفادار اور عمرو نے بچمند کی حدیں تیہ کر کے جوانی کی منزل میں قدم رکھا
00:16عمرو کی شرارتیں ایاریاں اور چلاکیاں ختم ہونے میں نہ آتی تھی
00:20اب اس میں خاص بات یہ پیدا ہو گئی تھی کہ وہ ہر وقت کسی نہ کسی طرح دولت حاصل کرنے کے لیے بیچین رہتا
00:27اس ماملے میں دوست دشمر اور چھوٹے بڑے کبھی خیال نہ کرتا
00:31ایک دن جبکہ تینوں دوست اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے بزار کی رونک دیکھ رہے تھے
00:36ایک جلوس آیا اور شہر سے باہر جانے والے راستے پر چل پڑا
00:40امیر حمزہ نے عمرو سے کہا ذرا معلوم تو کرو کہ یہ لوگ شہر سے باہر کس لیے جا رہے ہیں
00:45ابھی بتا کر کے آتا ہوں
00:47عمرو نے کہا اور باہر نکل کر پھر اس کے ساتھ ہو لیا
00:50آدھے گھنٹے بعد واپس آ کر امیر حمزہ سے کہنے لگا
00:53ہم یہاں بیٹھے ہیں اور شہر کے باہر زبردست میلہ لگا ہوا ہے
00:57ملک ملک کے سوداغر آئے ہوئے ہیں
01:00سینکڑوں خیمے لگے ہیں
01:01بڑی رونک ہے
01:03ایک سوداغر گھوڑے لے کر آئے ہیں
01:05خدا بہتر جانتا ہے ایسے خوبصورت اور طاقتور گھوڑے میں نے کبھی نہیں دیکھے
01:09عمرو نے گھوڑوں کی ایسی تعریف کی
01:11کہ امیر حمزہ میلے میں جانے کے لیے بے چین ہو گئے
01:15انہیں بچمن ہی سے گھوڑ سواری کا شوق تھا
01:17اور جوان ہو کر تو وہ بڑے ماہر شاہ سوار بن گئے تھے
01:21سارے عرب میں ان جیسا شاہ سوار اور کوئی اور نہ تھا
01:24انہوں نے اسی وقت عمرو اور مقبل کو ساتھیا اور میلے میں پہنچ گئے
01:28تینوں دوست سب سے پہلے
01:30وہ سوداغر کے خیمے کی طرف گئے جو گھوڑے لائیا تھا
01:34اس کے گھوڑے ایک باڑے میں کھڑے تھے
01:36امیر حمزہ نے ان گھوڑوں کو دیکھا اور کہا
01:39بہت خوبصورت اور امدہ جانور ہیں
01:41ہم ان میں سے چند گھوڑے ضرور خریدیں گے
01:44وہ گھومتے پھرتے ایک شامیانے کی طرف پہنچے
01:46کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شاندار گھوڑا
01:49شامیانے کے نیچے زنجیروں سے بندھا کھڑا ہے
01:51اس کا جسم اتنا خوبصورت تھا
01:53کہ امیر حمزہ دیکھتے ہی بے چین ہو گئی
01:56اور سوداغر سے کہا
01:57اس گھوڑے کی کیا قیمت ہے
01:59سوداغر نے امیر حمزہ کو اوپر سے نیچے تک دیکھا
02:02اور ہنس کر بولا
02:03صاحبزادے ابھی جوان ہو
02:05دنیا نہیں دیکھی
02:06جاؤ اپنے ماں باپ کے کلیجے سے لگ کر بیٹھو
02:09تم اس گھوڑے کی سواری کے لائک نہیں
02:11کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ میں نے اسے زنجیروں میں جکر رکھا ہے
02:15یہ کسی کو اپنے نزدیک نہیں آنے دیتا
02:17سواری کرنا تو در کنار
02:19اب تک کہ کئی آدمیوں کو دوسری دنیا میں پہنچا چکا ہے
02:22یہ باتیں سن کر امیر حمزہ تو چپ رہی
02:24لیکن عمرو کو تیش آ گیا
02:26آنکھیں نکال کر بولا
02:28اے سوداغر اگر تو ہمارا مہمان نہ ہوتا
02:31تو ابھی تیری لاش پھڑکتی ہوئی نظر آتی
02:34جانتا بھی ہے کہ کس سے بات کر رہا ہے
02:36یہ مکہ کے سردار
02:38خوجہ عبد المطلب کے لڑکے امیر حمزہ ہیں
02:40جن کی بہادری اور شاہ سواری کا سارا عرب قائل ہے
02:43سوداغر یہ تقریر سن کر ہنسا
02:46کہنے لگا ممکن ہے تم صحیح کہتے ہو
02:48لیکن میں تو جب مانوں
02:49کہ امیر حمزہ صاحب اس گھوڑے پر سواری کر کے دکھائیں
02:52قسم کھا کر کہتا ہوں
02:54کہ اگر یہ کامیاب ہو گئی تو گھوڑا مفت میں دے دوں گا
02:57سوداغر کے الفاظ سن کر
02:58عمرو کے دن میں لالش نے سر اوبارا
03:01کہنے لگا
03:01اگر میں اس پر سواری کر کے دکھا دوں
03:03تو اتنا قیمتی گھوڑا مفت میں مل جائے گا
03:06اور دس بارہ ہزار سے کم میں نہ بگے گا
03:08یہ سوچ کر سینہ پھولایا
03:10اور سوداغر سے کہا
03:11اے شخص سن
03:12یہ مڑیل گھوڑا
03:13میرے امیر حمزہ جیسے پہلوان کے سواری کے لائق نہیں
03:16ہاں مجھ جیسا خادم ضرور اس پر چڑھ سکتا ہے
03:19پرے ہٹ
03:20میں اس پر سوار ہوتا ہوں
03:21عمرو کے شکر دیکھ کر سوداغر حیران ہوا
03:24کہنے لگا
03:25اے لوگو
03:26یہ لڑکا خواہم خواہم اپنی جان کا دشمن ہوا ہے
03:29گھوڑے نے
03:30اگر ہلکی سی لات بھی مار دی
03:33تو سیدھا بہیرے عرب میں جان گرے گا
03:35اسے سمجھاؤ
03:36ورنہ میں اس کی زندگی کا ذمہ دار نہیں ہوں
03:38لوگوں نے عمرو کو اس ارادے سے باز رہنے کا مشورہ دیا
03:41لیکن اس نے سب کو ڈان دیا
03:43پھر گھوڑے کی چاروں طرف چکہ لگایا
03:45گھوڑے نے بھی لال لال آنکھوں سے عمرو کو بھورا
03:48اور نتنے پھلائی
03:49عمرو نے جو ہی اس کی پیٹ پر ہاتھ رکھا
03:52وہ اچھلا
03:52اور اس زور سے ہن ہنایا
03:54کہ عمرو لڑکنیاں کھاتا ہوا
03:56امیر حمزہ کے قدموں میں آگرہ
03:57امیر نے اسے اٹھا کر کپڑے جھاڑے
04:00اور چپکے سے کہا
04:01آپ میرے ساتھ چل
04:02میں تجھے گھوڑے پر بٹھاتا ہوں
04:04خدا کے لیے مجھ پر رحم کرو
04:06عمرو نے کہا
04:07میرے باپ کی توبہ جو میں کبھی
04:08اس بدماش گھوڑے کے نزدیک بھی جاؤں
04:10آپ ہی سواری کا شوق پورا کیجئے
04:12بندہ تو یہاں سے رخصت ہو کر
04:14خواجہ صاحب کے خدمت میں جاتا ہے
04:16ان کو بتا تو دوں
04:17کہ حمزہ خودکشی کا ارادہ رکھتا ہے
04:19خبردار جو تم یہاں سے ہی لے
04:21دیکھتے جاؤ
04:22میں ابھی ایک گھوڑا حاصل کرتا ہوں
04:25یہ کہہ کر عمرو حمزہ گھوڑے کے قریب گئی
04:27اور اس کی زنجیریں کھولنے کا حکم دیا
04:29سودادر کی اجازت سے
04:31اس کے نوکروں نے زنجیریں کھول دیں
04:33عمرو حمزہ نے اس کی لگام تھامی
04:35گھوڑے نے اپنے آپ کو زنجیروں سے
04:37آزاد پایا تو شوقیاں کرنے لگا
04:39لیکن امیر حمزہ نے ایسا
04:41زوردار گھوسا اس کی گردن پر مارا
04:43کہ وہ تھرا گیا
04:44لوگوں نے زندہ بات کے نارے لگائی
04:47کتنے میں حمزہ نے رکاب میں پاؤں رکھا
04:48اور اچھل کر گھوڑے کی پیٹ پر بیٹھ گیا
04:50چند منٹ تک گھوڑا اچھلتا کھوتا رہا
04:53اور پشلی ٹانکوں پر کھڑا ہو کر
04:54اس نے امیر کو گرانے کی کوشش کی
04:56لیکن حمزہ اس کی پیٹ پر
04:58اس طرح جم گئے تھے
04:59جیسے گھوڑے کے جسم ہی کا ایک حصہ ہے
05:01پھر پلک جھپکنے میں گھوڑا
05:03امیر حمزہ کو لے کر سہرہ کی طرف چل پڑا
05:06اور آنن فانن
05:07بیس تیس کوز دور نگل گیا
05:09امیر حمزہ نے اسے رکنے کی بہت کوشش کی
05:12مگر وہ کسی طرح نہ رکا
05:14آخر ایک خندق کو پار کرتے ہوئے
05:16اس نے ٹھوکر کھائی
05:17اور گرتے ہی دم دے دیا
05:18اب امیر حمزہ سخت پریشان ہوئے
05:21چاروں طرف ویشتناک بیابان
05:23مو پھارے کھڑے تھے
05:24ہر طرف ریت ہی ریت ہی
05:25خوشت جھاڑیاں اور بھورے رنگ کے پہار
05:28وہ اسے پہلے کبھی ادھر نہ آئے تھے
05:30اور نہ ان کو اندازہ تھا
05:31کہ شہر کا راستہ کس طرف ہے
05:32آخر خدا کا نام لے کر ایک طرف چل پڑے
05:35چلتے چلتے پیروں میں چھالے پڑ گئے
05:37اور پیاس کی وجہ سے زبان سوک گئی
05:39دھوپ کی گرمی سے بچنے کے لیے
05:41کہیں سائیہ نہ ملا
05:42جب چلنے کی ہمت نہ رہی
05:44تو ایک خوشت جھاڑی کے قریب
05:45اڈھال ہو کر بیٹھ گئے
05:46اچانک ایک نقاب پوش سوار
05:48مغرب سے نمودار ہوا
05:49اس کے جسم پر سبز رنگ کا قیمتی لباس تھا
05:52اور وہ کالے رنگ کے خوبصورت
05:54اور طاقتور گھوڑے پر سوار تھا
05:56امیر حمزہ اسے دیکھ کر خوش ہوئے
05:58وہ پرسرار سوار قریب آ کر رکا
06:00گھوڑے سے اترا
06:01اور بولا
06:02خوشہ عبد المطلب کے بیٹے
06:04اٹھ تیری قسمت جاگ گئی
06:06یہ گھوڑا میں تیرے لیے لیا ہوں
06:08اس پر کبھی حضرت عساق علیہ السلام
06:10سواری کیا کرتے تھے
06:11کوئی اس گھوڑے سے آگے نہ نکل سکے گا
06:13اور نہ کوئی پہلوان تجھے کشتی میں ہرا سکے گا
06:16اٹھ
06:17اور اس پہاڑی کے پیچھے جا
06:18وہاں زمین کھود
06:20ایک صندوق ملے گا
06:21اس میں پیغمبروں کے ہتھیار رکھی ہیں
06:23وہ سب تجھے دیے جاتے ہیں
06:25امیر حمزہ نے پہاڑی کے پیچھے
06:28ایک جگہ ریت کھو دی
06:29تو لوہے کا ایک بہت پرانا اور بھاری صندوق نظر آیا
06:32صندوق کھولا
06:33تو اس میں بہت سی چیزیں رکھی ہوئی تھی
06:35نکاب پوش مزرگ نے ایک ایک کر کے
06:37تمام چیزیں بہاں نکانی
06:38یہ حضرت اسماعید علیہ السلام کا کرتا ہے
06:41اسے پہن لو
06:42حضرت دعود علیہ السلام کے ہاتھ کی بنی ہوئی ذرہ ہے
06:45اسے گلے میں ڈالو
06:46دشمن کا کوئی ہتھیار تمہیں نقصان نہ پہنچا سکے گا
06:49یہ حضرت حود علیہ السلام کی لوہے کی ٹوپی ہے
06:52اسے سر پر پہن لو
06:53تمہارا سر محفوظ رہے گا
06:55یہ یوسف علیہ السلام کے دستانے ہیں
06:57یہ صالح علیہ السلام کے موزے
06:59اور یہ یعقوب علیہ السلام کا کمر بند ہے
07:01یہ علیہ السلام کے دو تستلوارے ہیں
07:04رستم پہلوان کا خنجر
07:06زیال پہلوان کا گرز
07:08اور سہراک پہلوان کا پنجہ ہے
07:10آخر میں ان بزرگ نے حضرت نو
07:12علیہ السلام کا نیزہ نکال کر
07:14امیر حمزہ کو دیا
07:15اور اپنے ہاتھ سے یہ تمام ہتھیار
07:16ان کے بدن پر لگائی
07:18پھر سیاہ گوڑے پر سوار کیا اور کہا
07:20اس گوڑے کا نام قیتاس ہے
07:22یہ بڑا وفدار و جامباز ہے
07:24اچھا اب میں رخصت ہوتا ہوں
07:26یا حضرت اپنا نام تو بتاتی جائیے
07:29امیر حمزہ نے کامتی ہوئی آواز میں کہا
07:31میرا نام خزر ہے
07:32یہ کہہ کر وہ بزرگ غائب ہو گئے
07:34تیتاس گوڑے پہ سوار ہوتے ہی
07:37امیر حمزہ کی ساری تھکن اور بھوک پیاس دور ہو چکی تھی
07:40گوڑا اپنے سوار کو لے کر
07:42خود بخود اس راستے پہ چل پڑا
07:44جو مکہ کو جاتا تھا
07:45جب صداگر کا گوڑا
07:46امیر حمزہ کو لے کر سہرہ کی طرف بھاگا
07:48اور وہ دیر تک واپس نہ آئے
07:50تو عمرو سخت بیچین ہوا
07:51مقبل سے کہا کہ میں حمزہ کی دور میں جاتا ہوں
07:54یہ کہہ کر اندھا دھن سہرہ کی طرف دورنا شروع کیا
07:57میلوں دور نکل گیا
07:59اب اس کی بھی وہی حالت تھی جو امیر حمزہ کی ہوئی تھی
08:01پیروں میں بڑے بڑے آبلے پڑ گئے
08:04اور پیاس سے تالو چٹکنے لگا
08:06آخر کار بھی ہوش ہو کر گر پڑا
08:08بہت دیر بعد ہوش آیا تو کیا دیکھتا ہے
08:10سبز لباس پہنے ہوئے ایک نقاب پوچھ سرہانے کھڑا ہے
08:14حیرت سے پوچھنے لگا آپ کون ہیں
08:16میرا نام خزر ہے
08:17اور میں تمہیں اس مصیبت سے نقالنے آیا ہوں
08:20نقاب پوچھ نے کہا
08:21اٹھ عمرو
08:22خدا نے تجھ پر کرم کی نظر کی ہے
08:24تیرا نام رہتی دنیا تک زندہ رہے گا
08:27اور تجھ سے بڑے بڑے چالاک اور ایار لوگ خوف کھائیں گے
08:31اٹھ اور یہاں سے نکل جا
08:33دوڑنے میں کوئی تجھ سے آگے نہ نکل سکے گا
08:36یہ کہہ کے وہ بزرگ جن کا نام خزر تھا
08:39غائب ہو گئے
08:39عمرو خوشی خوشی اٹھا اور ایک جانب دوڑنے لگا
08:42اسے یوں محسوس ہو رہا تھا
08:44جیسے اس کے جسم میں بجلی بھر دی گئی ہو
08:46دوڑتے دوڑتے آنن فانن
08:48سینکڑوں پوس دور نکل گیا
08:50اور کوئی تھکر نہ ہوئی
08:52بھوک پیاس مٹ چکی تھی
08:53ایک جگہ کیا دیکھتا ہے کہ امیر حمزہ
08:56سیاہ گھوڑے پر بیٹھے
08:57اور ترہ ترہ کے ہتھیار جسم پر سجائی چلی آتے ہیں
09:01عمرو انہیں صحیح سلامہ دیکھ کر
09:02بہت خوش ہوا
09:03کہنے لگا حمزہ
09:05اس سوداغر کا گھوڑا کہاں ہے
09:07جس پر تم سوار ہوئے تھے
09:10اور یہ گھوڑا اور یہ ہتھیار
09:11کس کے اڑا لائے ہو
09:12امیر حمزہ ہنسے اور اسے سارا قصہ سنایا
09:16اور آخر میں کہا
09:17یہ گھوڑا جس پر میں سوار ہوں
09:19حضرت عساق علیہ السلام کا ہے
09:21مجھے تو جب یقین ہو
09:22کہ یہ گھوڑا دوڑ میں مجھ سے آگے نکر جائے
09:25عمرو نے کہا
09:26اچھا یہ بات ہے تو آو دوڑ لگاؤ
09:27عمیر حمزہ نے کہا
09:29اور گھوڑے کو ایڈ لگائی
09:30عمرو بھی گھوڑے کے ساتھ ساتھ دوڑنے لگا
09:33نہ گھوڑا آگے نکر سکا
09:34اور نہ عمرو
09:35عمرو کو یہ رفتار دیکھ کر
09:37عمیر حمزہ حیران ہوئے
09:38اور کہنے لگے
09:39اوہ مئیہ کے بیٹے
09:40تو نے یہ ہنر کس سے پایا
09:42اسی سے
09:43جس نے تمہیں ایک
09:44گھوڑا اور پیغبروں کے ہتھیار دیئے
09:45عمرو نے جواب دیا
09:47وہ باتیں کرتے ہوئے
09:48مکہ کے قریب پہنچ گئے
09:49کیا دیکھتے ہیں
09:50کہ شہر کے سارے مرد
09:51عورتیں
09:52ایک جگہ جمع ہیں
09:53خواجہ عبد المطلی بھی
09:55حیران پریشان کھڑے رو رہے ہیں
09:56حمزہ اور عمرو کو دیکھتے ہی
09:58سب لوگ خوشی سے نعرے لگانے لگے
10:00اور خواجہ صاحب نے
10:01آگے بڑھ کر
10:02باری باری
10:03حمزہ اور عمرو کو
10:04گلے سے لگایا
10:04مقبل وفادار کو جب معلوم ہوا
10:07کہ خضر علیہ السلام نے
10:08امیر حمزہ کو
10:09مقدس توفید دیئے ہیں
10:10اور عمرو کو بھی
10:11دوڑنے کی قوت اتا فرمائی ہے
10:13تو وہ دل میں کہنے لگا
10:14میں بڑا ہی بد نصیب ہوں
10:15کہ مجھے کچھ بھی نہ ملا
10:17اب یہاں رہنا بیکار ہے
10:19میں اپنے دوستوں کی نظروں میں گر جاؤں گا
10:22بہتر یہی ہے
10:23کہ چپ چاپ یہاں سے نکل کر
10:24ایران کی طرف چلو
10:26اور نشیروان کے پاس حاجی دو
10:28وہ قدر کرے گا
10:29یہ سوچ کر مقبل کی آنکھوں سے
10:31آنسو بہنے لگے
10:32رات کے اندھیرے میں گھر سے نکلا
10:34امیر حمزہ اور عمرو بے خبر سو رہے تھے
10:36مقبل نے دل ہی دل میں
10:38رخصتی سلام کیا
10:39اور مدائن کو جانے والے راستے کی طرف ہو لیا
10:42ایک دن اور ایک رات چلتا رہا
10:44آخر پیروں میں چھارے پڑ گئی
10:47تھک کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا
10:48اور موت کی آرزو کرنے لگا
10:50پھر خیال آیا کہ اس طرح تو موت آنے سے رہی
10:53کیوں نہ درخت پچڑ کر نیچے چھلانگ لگا دوں
10:56یہ سوچ کر درخت پچڑھا
10:58سب سے اونچی شاخ پر پہنچ کر
11:00آنکھیں بند کی اور نیچے کھوٹ کیا
11:01لیکن یہ کیا
11:03اسے یوں محسوس ہوا
11:04جیسے پھولوں کے ڈھیے پہ آ گرا ہو
11:06آنکھیں کھولیں تو اپنے قریب
11:08ایک نکاب پوشت کو کھڑے پایا
11:10نکاب پوشت نے مقبل کو سینے سے لگایا
11:13پیار کیا اور کہا
11:15بیٹا خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے
11:18میرا نام خزر ہے
11:20یہ تیر کمان لے
11:21اس کمان کو تیرے سوا دنیا میں کوئی اور نہ کھینچ سکے گا
11:25تیرہ تیر کبھی خطا نہ جائے گا
11:27اور نہ اس ترکش میں کبھی تیر ختم ہوں گے
11:30یہ کہہ کے وہ بزرگ قائب ہو گئی
11:32مقبل کمان اور تیروں سے بھرہ
11:34وہ ترکش لے کر بہت خوش ہوا
11:36اور واپس مکے کی طرف چلا
11:37آپ اس کی پیروں میں نہ چھالے تھے
11:39اور نہ بھوک پیاس لگتی تھی
11:41ادھر حمیر حمزہ امرو
11:43اپنے دوست کی جدائی سے پریشان تھے
11:46اور اسے ہر طرف ڈھونڈ رہے تھے
11:48آخر شہر سے باہر ان کے ملاقات مقبل سے ہوئی
11:51تینوں دوست ایک سوئے سے لپٹ کر آنسو بہانے لگے
11:53مقبل نے انہیں کمان اور تیروں کو ترکش دکھایا
11:56اور کہا کہ یہ توفہ حضر خضر علیہ السلام نے عطا کیا ہے
11:59تو امیر حمزہ اور امرو خوشی سے ناچنے لگے
12:02مزید جاننے کے لیے دیکھئے
12:05یمن کی فتح
12:07لائک کریں
12:08سبسکرائب کریں
12:09اور گھنٹی کا آئیکن دوانا نہ بولیں
12:11تاکہ ہمارا یہ تعلق جڑا رہے
12:13اور آپ لوگ لطف اندوز ہوتے رہیں
Comments