Skip to playerSkip to main content
  • 8 months ago
Welcome to Classic Urdu Folktales!
🌟 – مقدس تحائف | Urdu Kahani | A Heartwarming Tale of Mischief & Friendship" 🌟
مقدس تحائف is a heartwarming and humorous story that takes us into the colorful world of a mischievous yet lovable boy named Amro (Umro). Set against the backdrop of a simple village and an old madrasa, this tale captures the charm of childhood mischief, deep friendships, and the unintended chaos that innocence often brings.
Amro’s clever pranks—like secretly hiding jewelry in Aaliya’s box or bringing back empty dishes claiming the rooster must’ve flown away—keep the audience laughing. But beneath his antics lies a tender bond with friends like Amir Hamza and Muqbil Wafadar, who are ready to leave everything behind just to stay with him.

This story isn’t just about pranks; it’s about loyalty, growing up, and the bittersweet moments that shape our early years. Join us as we revisit the magic of youth through laughter, lessons, and unforgettable friendships in Umro Ki Shrartein.
📚 Perfect for fans of nostalgic storytelling, Urdu literature, and timeless childhood tales.

Category

😹
Fun
Transcript
00:00آج ہم کلاسیک اردو وہ اکٹیل میں جو کہانی سنیں گے اس کا نام ہے مقدس تحائف
00:06وقت پر لگا کر اڑتا رہا امیر حمزہ مقبل وفادار اور عمرو نے بچمند کی حدیں تیہ کر کے جوانی کی منزل میں قدم رکھا
00:16عمرو کی شرارتیں ایاریاں اور چلاکیاں ختم ہونے میں نہ آتی تھی
00:20اب اس میں خاص بات یہ پیدا ہو گئی تھی کہ وہ ہر وقت کسی نہ کسی طرح دولت حاصل کرنے کے لیے بیچین رہتا
00:27اس ماملے میں دوست دشمر اور چھوٹے بڑے کبھی خیال نہ کرتا
00:31ایک دن جبکہ تینوں دوست اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے بزار کی رونک دیکھ رہے تھے
00:36ایک جلوس آیا اور شہر سے باہر جانے والے راستے پر چل پڑا
00:40امیر حمزہ نے عمرو سے کہا ذرا معلوم تو کرو کہ یہ لوگ شہر سے باہر کس لیے جا رہے ہیں
00:45ابھی بتا کر کے آتا ہوں
00:47عمرو نے کہا اور باہر نکل کر پھر اس کے ساتھ ہو لیا
00:50آدھے گھنٹے بعد واپس آ کر امیر حمزہ سے کہنے لگا
00:53ہم یہاں بیٹھے ہیں اور شہر کے باہر زبردست میلہ لگا ہوا ہے
00:57ملک ملک کے سوداغر آئے ہوئے ہیں
01:00سینکڑوں خیمے لگے ہیں
01:01بڑی رونک ہے
01:03ایک سوداغر گھوڑے لے کر آئے ہیں
01:05خدا بہتر جانتا ہے ایسے خوبصورت اور طاقتور گھوڑے میں نے کبھی نہیں دیکھے
01:09عمرو نے گھوڑوں کی ایسی تعریف کی
01:11کہ امیر حمزہ میلے میں جانے کے لیے بے چین ہو گئے
01:15انہیں بچمن ہی سے گھوڑ سواری کا شوق تھا
01:17اور جوان ہو کر تو وہ بڑے ماہر شاہ سوار بن گئے تھے
01:21سارے عرب میں ان جیسا شاہ سوار اور کوئی اور نہ تھا
01:24انہوں نے اسی وقت عمرو اور مقبل کو ساتھیا اور میلے میں پہنچ گئے
01:28تینوں دوست سب سے پہلے
01:30وہ سوداغر کے خیمے کی طرف گئے جو گھوڑے لائیا تھا
01:34اس کے گھوڑے ایک باڑے میں کھڑے تھے
01:36امیر حمزہ نے ان گھوڑوں کو دیکھا اور کہا
01:39بہت خوبصورت اور امدہ جانور ہیں
01:41ہم ان میں سے چند گھوڑے ضرور خریدیں گے
01:44وہ گھومتے پھرتے ایک شامیانے کی طرف پہنچے
01:46کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شاندار گھوڑا
01:49شامیانے کے نیچے زنجیروں سے بندھا کھڑا ہے
01:51اس کا جسم اتنا خوبصورت تھا
01:53کہ امیر حمزہ دیکھتے ہی بے چین ہو گئی
01:56اور سوداغر سے کہا
01:57اس گھوڑے کی کیا قیمت ہے
01:59سوداغر نے امیر حمزہ کو اوپر سے نیچے تک دیکھا
02:02اور ہنس کر بولا
02:03صاحبزادے ابھی جوان ہو
02:05دنیا نہیں دیکھی
02:06جاؤ اپنے ماں باپ کے کلیجے سے لگ کر بیٹھو
02:09تم اس گھوڑے کی سواری کے لائک نہیں
02:11کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ میں نے اسے زنجیروں میں جکر رکھا ہے
02:15یہ کسی کو اپنے نزدیک نہیں آنے دیتا
02:17سواری کرنا تو در کنار
02:19اب تک کہ کئی آدمیوں کو دوسری دنیا میں پہنچا چکا ہے
02:22یہ باتیں سن کر امیر حمزہ تو چپ رہی
02:24لیکن عمرو کو تیش آ گیا
02:26آنکھیں نکال کر بولا
02:28اے سوداغر اگر تو ہمارا مہمان نہ ہوتا
02:31تو ابھی تیری لاش پھڑکتی ہوئی نظر آتی
02:34جانتا بھی ہے کہ کس سے بات کر رہا ہے
02:36یہ مکہ کے سردار
02:38خوجہ عبد المطلب کے لڑکے امیر حمزہ ہیں
02:40جن کی بہادری اور شاہ سواری کا سارا عرب قائل ہے
02:43سوداغر یہ تقریر سن کر ہنسا
02:46کہنے لگا ممکن ہے تم صحیح کہتے ہو
02:48لیکن میں تو جب مانوں
02:49کہ امیر حمزہ صاحب اس گھوڑے پر سواری کر کے دکھائیں
02:52قسم کھا کر کہتا ہوں
02:54کہ اگر یہ کامیاب ہو گئی تو گھوڑا مفت میں دے دوں گا
02:57سوداغر کے الفاظ سن کر
02:58عمرو کے دن میں لالش نے سر اوبارا
03:01کہنے لگا
03:01اگر میں اس پر سواری کر کے دکھا دوں
03:03تو اتنا قیمتی گھوڑا مفت میں مل جائے گا
03:06اور دس بارہ ہزار سے کم میں نہ بگے گا
03:08یہ سوچ کر سینہ پھولایا
03:10اور سوداغر سے کہا
03:11اے شخص سن
03:12یہ مڑیل گھوڑا
03:13میرے امیر حمزہ جیسے پہلوان کے سواری کے لائق نہیں
03:16ہاں مجھ جیسا خادم ضرور اس پر چڑھ سکتا ہے
03:19پرے ہٹ
03:20میں اس پر سوار ہوتا ہوں
03:21عمرو کے شکر دیکھ کر سوداغر حیران ہوا
03:24کہنے لگا
03:25اے لوگو
03:26یہ لڑکا خواہم خواہم اپنی جان کا دشمن ہوا ہے
03:29گھوڑے نے
03:30اگر ہلکی سی لات بھی مار دی
03:33تو سیدھا بہیرے عرب میں جان گرے گا
03:35اسے سمجھاؤ
03:36ورنہ میں اس کی زندگی کا ذمہ دار نہیں ہوں
03:38لوگوں نے عمرو کو اس ارادے سے باز رہنے کا مشورہ دیا
03:41لیکن اس نے سب کو ڈان دیا
03:43پھر گھوڑے کی چاروں طرف چکہ لگایا
03:45گھوڑے نے بھی لال لال آنکھوں سے عمرو کو بھورا
03:48اور نتنے پھلائی
03:49عمرو نے جو ہی اس کی پیٹ پر ہاتھ رکھا
03:52وہ اچھلا
03:52اور اس زور سے ہن ہنایا
03:54کہ عمرو لڑکنیاں کھاتا ہوا
03:56امیر حمزہ کے قدموں میں آگرہ
03:57امیر نے اسے اٹھا کر کپڑے جھاڑے
04:00اور چپکے سے کہا
04:01آپ میرے ساتھ چل
04:02میں تجھے گھوڑے پر بٹھاتا ہوں
04:04خدا کے لیے مجھ پر رحم کرو
04:06عمرو نے کہا
04:07میرے باپ کی توبہ جو میں کبھی
04:08اس بدماش گھوڑے کے نزدیک بھی جاؤں
04:10آپ ہی سواری کا شوق پورا کیجئے
04:12بندہ تو یہاں سے رخصت ہو کر
04:14خواجہ صاحب کے خدمت میں جاتا ہے
04:16ان کو بتا تو دوں
04:17کہ حمزہ خودکشی کا ارادہ رکھتا ہے
04:19خبردار جو تم یہاں سے ہی لے
04:21دیکھتے جاؤ
04:22میں ابھی ایک گھوڑا حاصل کرتا ہوں
04:25یہ کہہ کر عمرو حمزہ گھوڑے کے قریب گئی
04:27اور اس کی زنجیریں کھولنے کا حکم دیا
04:29سودادر کی اجازت سے
04:31اس کے نوکروں نے زنجیریں کھول دیں
04:33عمرو حمزہ نے اس کی لگام تھامی
04:35گھوڑے نے اپنے آپ کو زنجیروں سے
04:37آزاد پایا تو شوقیاں کرنے لگا
04:39لیکن امیر حمزہ نے ایسا
04:41زوردار گھوسا اس کی گردن پر مارا
04:43کہ وہ تھرا گیا
04:44لوگوں نے زندہ بات کے نارے لگائی
04:47کتنے میں حمزہ نے رکاب میں پاؤں رکھا
04:48اور اچھل کر گھوڑے کی پیٹ پر بیٹھ گیا
04:50چند منٹ تک گھوڑا اچھلتا کھوتا رہا
04:53اور پشلی ٹانکوں پر کھڑا ہو کر
04:54اس نے امیر کو گرانے کی کوشش کی
04:56لیکن حمزہ اس کی پیٹ پر
04:58اس طرح جم گئے تھے
04:59جیسے گھوڑے کے جسم ہی کا ایک حصہ ہے
05:01پھر پلک جھپکنے میں گھوڑا
05:03امیر حمزہ کو لے کر سہرہ کی طرف چل پڑا
05:06اور آنن فانن
05:07بیس تیس کوز دور نگل گیا
05:09امیر حمزہ نے اسے رکنے کی بہت کوشش کی
05:12مگر وہ کسی طرح نہ رکا
05:14آخر ایک خندق کو پار کرتے ہوئے
05:16اس نے ٹھوکر کھائی
05:17اور گرتے ہی دم دے دیا
05:18اب امیر حمزہ سخت پریشان ہوئے
05:21چاروں طرف ویشتناک بیابان
05:23مو پھارے کھڑے تھے
05:24ہر طرف ریت ہی ریت ہی
05:25خوشت جھاڑیاں اور بھورے رنگ کے پہار
05:28وہ اسے پہلے کبھی ادھر نہ آئے تھے
05:30اور نہ ان کو اندازہ تھا
05:31کہ شہر کا راستہ کس طرف ہے
05:32آخر خدا کا نام لے کر ایک طرف چل پڑے
05:35چلتے چلتے پیروں میں چھالے پڑ گئے
05:37اور پیاس کی وجہ سے زبان سوک گئی
05:39دھوپ کی گرمی سے بچنے کے لیے
05:41کہیں سائیہ نہ ملا
05:42جب چلنے کی ہمت نہ رہی
05:44تو ایک خوشت جھاڑی کے قریب
05:45اڈھال ہو کر بیٹھ گئے
05:46اچانک ایک نقاب پوش سوار
05:48مغرب سے نمودار ہوا
05:49اس کے جسم پر سبز رنگ کا قیمتی لباس تھا
05:52اور وہ کالے رنگ کے خوبصورت
05:54اور طاقتور گھوڑے پر سوار تھا
05:56امیر حمزہ اسے دیکھ کر خوش ہوئے
05:58وہ پرسرار سوار قریب آ کر رکا
06:00گھوڑے سے اترا
06:01اور بولا
06:02خوشہ عبد المطلب کے بیٹے
06:04اٹھ تیری قسمت جاگ گئی
06:06یہ گھوڑا میں تیرے لیے لیا ہوں
06:08اس پر کبھی حضرت عساق علیہ السلام
06:10سواری کیا کرتے تھے
06:11کوئی اس گھوڑے سے آگے نہ نکل سکے گا
06:13اور نہ کوئی پہلوان تجھے کشتی میں ہرا سکے گا
06:16اٹھ
06:17اور اس پہاڑی کے پیچھے جا
06:18وہاں زمین کھود
06:20ایک صندوق ملے گا
06:21اس میں پیغمبروں کے ہتھیار رکھی ہیں
06:23وہ سب تجھے دیے جاتے ہیں
06:25امیر حمزہ نے پہاڑی کے پیچھے
06:28ایک جگہ ریت کھو دی
06:29تو لوہے کا ایک بہت پرانا اور بھاری صندوق نظر آیا
06:32صندوق کھولا
06:33تو اس میں بہت سی چیزیں رکھی ہوئی تھی
06:35نکاب پوش مزرگ نے ایک ایک کر کے
06:37تمام چیزیں بہاں نکانی
06:38یہ حضرت اسماعید علیہ السلام کا کرتا ہے
06:41اسے پہن لو
06:42حضرت دعود علیہ السلام کے ہاتھ کی بنی ہوئی ذرہ ہے
06:45اسے گلے میں ڈالو
06:46دشمن کا کوئی ہتھیار تمہیں نقصان نہ پہنچا سکے گا
06:49یہ حضرت حود علیہ السلام کی لوہے کی ٹوپی ہے
06:52اسے سر پر پہن لو
06:53تمہارا سر محفوظ رہے گا
06:55یہ یوسف علیہ السلام کے دستانے ہیں
06:57یہ صالح علیہ السلام کے موزے
06:59اور یہ یعقوب علیہ السلام کا کمر بند ہے
07:01یہ علیہ السلام کے دو تستلوارے ہیں
07:04رستم پہلوان کا خنجر
07:06زیال پہلوان کا گرز
07:08اور سہراک پہلوان کا پنجہ ہے
07:10آخر میں ان بزرگ نے حضرت نو
07:12علیہ السلام کا نیزہ نکال کر
07:14امیر حمزہ کو دیا
07:15اور اپنے ہاتھ سے یہ تمام ہتھیار
07:16ان کے بدن پر لگائی
07:18پھر سیاہ گوڑے پر سوار کیا اور کہا
07:20اس گوڑے کا نام قیتاس ہے
07:22یہ بڑا وفدار و جامباز ہے
07:24اچھا اب میں رخصت ہوتا ہوں
07:26یا حضرت اپنا نام تو بتاتی جائیے
07:29امیر حمزہ نے کامتی ہوئی آواز میں کہا
07:31میرا نام خزر ہے
07:32یہ کہہ کر وہ بزرگ غائب ہو گئے
07:34تیتاس گوڑے پہ سوار ہوتے ہی
07:37امیر حمزہ کی ساری تھکن اور بھوک پیاس دور ہو چکی تھی
07:40گوڑا اپنے سوار کو لے کر
07:42خود بخود اس راستے پہ چل پڑا
07:44جو مکہ کو جاتا تھا
07:45جب صداگر کا گوڑا
07:46امیر حمزہ کو لے کر سہرہ کی طرف بھاگا
07:48اور وہ دیر تک واپس نہ آئے
07:50تو عمرو سخت بیچین ہوا
07:51مقبل سے کہا کہ میں حمزہ کی دور میں جاتا ہوں
07:54یہ کہہ کر اندھا دھن سہرہ کی طرف دورنا شروع کیا
07:57میلوں دور نکل گیا
07:59اب اس کی بھی وہی حالت تھی جو امیر حمزہ کی ہوئی تھی
08:01پیروں میں بڑے بڑے آبلے پڑ گئے
08:04اور پیاس سے تالو چٹکنے لگا
08:06آخر کار بھی ہوش ہو کر گر پڑا
08:08بہت دیر بعد ہوش آیا تو کیا دیکھتا ہے
08:10سبز لباس پہنے ہوئے ایک نقاب پوچھ سرہانے کھڑا ہے
08:14حیرت سے پوچھنے لگا آپ کون ہیں
08:16میرا نام خزر ہے
08:17اور میں تمہیں اس مصیبت سے نقالنے آیا ہوں
08:20نقاب پوچھ نے کہا
08:21اٹھ عمرو
08:22خدا نے تجھ پر کرم کی نظر کی ہے
08:24تیرا نام رہتی دنیا تک زندہ رہے گا
08:27اور تجھ سے بڑے بڑے چالاک اور ایار لوگ خوف کھائیں گے
08:31اٹھ اور یہاں سے نکل جا
08:33دوڑنے میں کوئی تجھ سے آگے نہ نکل سکے گا
08:36یہ کہہ کے وہ بزرگ جن کا نام خزر تھا
08:39غائب ہو گئے
08:39عمرو خوشی خوشی اٹھا اور ایک جانب دوڑنے لگا
08:42اسے یوں محسوس ہو رہا تھا
08:44جیسے اس کے جسم میں بجلی بھر دی گئی ہو
08:46دوڑتے دوڑتے آنن فانن
08:48سینکڑوں پوس دور نکل گیا
08:50اور کوئی تھکر نہ ہوئی
08:52بھوک پیاس مٹ چکی تھی
08:53ایک جگہ کیا دیکھتا ہے کہ امیر حمزہ
08:56سیاہ گھوڑے پر بیٹھے
08:57اور ترہ ترہ کے ہتھیار جسم پر سجائی چلی آتے ہیں
09:01عمرو انہیں صحیح سلامہ دیکھ کر
09:02بہت خوش ہوا
09:03کہنے لگا حمزہ
09:05اس سوداغر کا گھوڑا کہاں ہے
09:07جس پر تم سوار ہوئے تھے
09:10اور یہ گھوڑا اور یہ ہتھیار
09:11کس کے اڑا لائے ہو
09:12امیر حمزہ ہنسے اور اسے سارا قصہ سنایا
09:16اور آخر میں کہا
09:17یہ گھوڑا جس پر میں سوار ہوں
09:19حضرت عساق علیہ السلام کا ہے
09:21مجھے تو جب یقین ہو
09:22کہ یہ گھوڑا دوڑ میں مجھ سے آگے نکر جائے
09:25عمرو نے کہا
09:26اچھا یہ بات ہے تو آو دوڑ لگاؤ
09:27عمیر حمزہ نے کہا
09:29اور گھوڑے کو ایڈ لگائی
09:30عمرو بھی گھوڑے کے ساتھ ساتھ دوڑنے لگا
09:33نہ گھوڑا آگے نکر سکا
09:34اور نہ عمرو
09:35عمرو کو یہ رفتار دیکھ کر
09:37عمیر حمزہ حیران ہوئے
09:38اور کہنے لگے
09:39اوہ مئیہ کے بیٹے
09:40تو نے یہ ہنر کس سے پایا
09:42اسی سے
09:43جس نے تمہیں ایک
09:44گھوڑا اور پیغبروں کے ہتھیار دیئے
09:45عمرو نے جواب دیا
09:47وہ باتیں کرتے ہوئے
09:48مکہ کے قریب پہنچ گئے
09:49کیا دیکھتے ہیں
09:50کہ شہر کے سارے مرد
09:51عورتیں
09:52ایک جگہ جمع ہیں
09:53خواجہ عبد المطلی بھی
09:55حیران پریشان کھڑے رو رہے ہیں
09:56حمزہ اور عمرو کو دیکھتے ہی
09:58سب لوگ خوشی سے نعرے لگانے لگے
10:00اور خواجہ صاحب نے
10:01آگے بڑھ کر
10:02باری باری
10:03حمزہ اور عمرو کو
10:04گلے سے لگایا
10:04مقبل وفادار کو جب معلوم ہوا
10:07کہ خضر علیہ السلام نے
10:08امیر حمزہ کو
10:09مقدس توفید دیئے ہیں
10:10اور عمرو کو بھی
10:11دوڑنے کی قوت اتا فرمائی ہے
10:13تو وہ دل میں کہنے لگا
10:14میں بڑا ہی بد نصیب ہوں
10:15کہ مجھے کچھ بھی نہ ملا
10:17اب یہاں رہنا بیکار ہے
10:19میں اپنے دوستوں کی نظروں میں گر جاؤں گا
10:22بہتر یہی ہے
10:23کہ چپ چاپ یہاں سے نکل کر
10:24ایران کی طرف چلو
10:26اور نشیروان کے پاس حاجی دو
10:28وہ قدر کرے گا
10:29یہ سوچ کر مقبل کی آنکھوں سے
10:31آنسو بہنے لگے
10:32رات کے اندھیرے میں گھر سے نکلا
10:34امیر حمزہ اور عمرو بے خبر سو رہے تھے
10:36مقبل نے دل ہی دل میں
10:38رخصتی سلام کیا
10:39اور مدائن کو جانے والے راستے کی طرف ہو لیا
10:42ایک دن اور ایک رات چلتا رہا
10:44آخر پیروں میں چھارے پڑ گئی
10:47تھک کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا
10:48اور موت کی آرزو کرنے لگا
10:50پھر خیال آیا کہ اس طرح تو موت آنے سے رہی
10:53کیوں نہ درخت پچڑ کر نیچے چھلانگ لگا دوں
10:56یہ سوچ کر درخت پچڑھا
10:58سب سے اونچی شاخ پر پہنچ کر
11:00آنکھیں بند کی اور نیچے کھوٹ کیا
11:01لیکن یہ کیا
11:03اسے یوں محسوس ہوا
11:04جیسے پھولوں کے ڈھیے پہ آ گرا ہو
11:06آنکھیں کھولیں تو اپنے قریب
11:08ایک نکاب پوشت کو کھڑے پایا
11:10نکاب پوشت نے مقبل کو سینے سے لگایا
11:13پیار کیا اور کہا
11:15بیٹا خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے
11:18میرا نام خزر ہے
11:20یہ تیر کمان لے
11:21اس کمان کو تیرے سوا دنیا میں کوئی اور نہ کھینچ سکے گا
11:25تیرہ تیر کبھی خطا نہ جائے گا
11:27اور نہ اس ترکش میں کبھی تیر ختم ہوں گے
11:30یہ کہہ کے وہ بزرگ قائب ہو گئی
11:32مقبل کمان اور تیروں سے بھرہ
11:34وہ ترکش لے کر بہت خوش ہوا
11:36اور واپس مکے کی طرف چلا
11:37آپ اس کی پیروں میں نہ چھالے تھے
11:39اور نہ بھوک پیاس لگتی تھی
11:41ادھر حمیر حمزہ امرو
11:43اپنے دوست کی جدائی سے پریشان تھے
11:46اور اسے ہر طرف ڈھونڈ رہے تھے
11:48آخر شہر سے باہر ان کے ملاقات مقبل سے ہوئی
11:51تینوں دوست ایک سوئے سے لپٹ کر آنسو بہانے لگے
11:53مقبل نے انہیں کمان اور تیروں کو ترکش دکھایا
11:56اور کہا کہ یہ توفہ حضر خضر علیہ السلام نے عطا کیا ہے
11:59تو امیر حمزہ اور امرو خوشی سے ناچنے لگے
12:02مزید جاننے کے لیے دیکھئے
12:05یمن کی فتح
12:07لائک کریں
12:08سبسکرائب کریں
12:09اور گھنٹی کا آئیکن دوانا نہ بولیں
12:11تاکہ ہمارا یہ تعلق جڑا رہے
12:13اور آپ لوگ لطف اندوز ہوتے رہیں
Comments

Recommended