00:00आज हम क्लासिक, उर्दू, फोक टेल में दास्ताने अमीर हमजा से चुकाहनी सुनेंगे इसका नाम है अमरू की शरारतें
00:07अमीर हमजा, मक्वल वफदार और अमरू, तीनों लड़के आदिया और खौजा अब्दलमतलिप के निग्रानी में परवरिश पाने लगे
00:15This way, 2 years ago, 3 years old children
00:19had a run in work
00:21that, she would fight for real life
00:23and bakith起
00:24and lasci
00:32and, complement
00:35to talk about
00:35these things
00:36is something they can
00:37hear and cómo
00:39she can
00:39because they would
00:40fear
00:41but if one
00:44That was even popular
00:57It was no other character
01:12It was a grievance
01:14one of them was a good dog.
01:17He was used to be alone helping him to take part of the school.
01:21He also taught him to take part of the school.
01:26The teacher tried to take part in the school of a house and sang.
01:33He was holding a father's hand for a walk and me.
01:40Now he is a good friend.
01:42Ustaz نے اس دبلے پتلے لڑکے کو دیکھا
01:44اس لڑکے کی آنکھوں اور چہرے پر شرارت کے آثار نظر آئی
01:48لیکن عمرو عدب سے گردن جھکائی بیٹھا رہا
01:51آخر Ustaz نے کہا پڑھو بیٹا علف
01:55عمرو نے بھی کہا پڑھو بیٹا علف
01:58یہ سن کر سب لڑکے ہنس پڑے
01:59Ustaz نے انہیں زور سے ڈاٹا
02:01پھر عمرو کی طرف دیکھا دیکھ کر کہا بیٹا علف کہو
02:05بیٹا علف
02:06عمرو نے بھی اسی طرح Ustaz کی نگر اتاری
02:09اب تو Ustaz سخت ناراض ہوا
02:11سمجھ گیا کہ لڑکا بہت شریر ہے
02:13جی چاہا کہ بیٹھ مارے
02:15مگر کچھ سوچ کر نرمی سے کہا
02:16ہاں کہو علف
02:18ہاں کہو علف
02:19وہ عمرو نے کہا اور شرارت سے Ustaz کے دعو دیکھ کر ہنس پڑا
02:23یہ حرکت Ustaz کو تیش میں لانے کے لیے کافی تھی
02:26اس نے ایک ایسا تمانچہ عمرو کے کان پر مارا
02:30کہ وہ لوٹتا ہوا دور جا گیا
02:31پھر جو اس نے حلق پھاڑ کر رونا شروع کیا
02:34تو ایک گھنٹے تک روتا رہا
02:35آخر اس کے رونے سے Ustaz چکرا گیا
02:38اور لگا خوش آمد کرنے
02:39مگر وہ جتنے خوش آمد کرتا
02:41عمرو کے رونے کی آواز اتنی انچی ہو جاتی
02:44آخر Ustaz نے امیر حمزو اور مقبل وفادار سے کہا
02:47کہ تم اپنے اس دوست کو سمجھاؤ
02:49اس نے رو رو کر سارا آسمان سر پر اٹھا لیا ہے
02:53راہ چلتے لوگ بھی کھڑے ہو گئے ہیں
02:55اور میری طرف گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں
02:57اگر عمرو چپ نہ ہوا تو لوگ مجھے آ کر ماریں گے
03:00اور اپنے بچوں کو بھی مدرسے سے اٹھا کر لی جائیں گے
03:03Ustaz کی کہنے سے
03:04امیر حمزو اور مقبل نے عمرو کو سمجھایا
03:07تب اس نے رونا بند کیا
03:08اور ایک کونے میں بیٹھ کر دوسرے بچوں کو مو چڑھانے لگا
03:11بچوں نے Ustaz سے شکایت کی کہ عمرو ہمیں مو چڑھاتا ہے
03:15Ustaz اسے مارنے کے لیے اٹھا
03:17تو عمرو نے پھر بلک بلک کر رونا شروع کر دیا
03:20یہ دیکھ کر Ustaz دانت پیستا ہوا اپنی جگہ پر بیٹھ گیا
03:23کئی دن گزر گئے
03:24عمرو نے Ustaz کی کوشش کے باوجود سبق نہ پڑھا
03:27بلکہ ایسی شرارتیں کی
03:29کہ امیر حمزہ مقبل وفادار
03:31اور دوسرے بچوں کے پڑھائی میں بھی رکاوٹ ڈال دی
03:33مدرسے کے بچوں نے جب دیکھا
03:35کہ عمرو کو شرارتوں پر کوئی سزا نہیں ملتی
03:38تو اس کی دیکھا دیکھی دوسرے بچے پر
03:40گستاخ اور شریر ہو گئے
03:41اب تو Ustaz سخت پریشان ہوا
03:43سیجا خواجہ عبد المطلب کے پاس پہنچا
03:46اور کہنے لگا
03:47جناب عمیہ کا بیٹا عمرو بڑا شریر ہے
03:50اس نے شرارتیں کر کے مجھے پاگل کر دیا ہے
03:52نہ خود پڑھتا ہے
03:54نہ دوسروں کو پڑھنے لیتا ہے
03:55بہتر یہ ہے کہ آپ اسے نہ بھیجا کریں
03:57غریب Ustaz کی فریاد سن کر
03:59خواجہ عبد المطلب اٹھے
04:00اور اس کے ساتھ مدرسے میں آئے
04:02دیکھتے ہیں کہ عمرو عدب سے بیٹھا سبق یاد کر رہا ہے
04:05انہوں نے Ustaz سے کہا
04:07آپ تو کہتے تھے کہ عمرو خود نہ خود پڑھتا ہے
04:10نہ کسی کو پڑھنے دیتا ہے
04:11مگر میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنا سبق یاد کر رہا ہے
04:14جناب عالی یہ بھی اس کی شرارت ہے
04:16آپ کو آتے دیکھا
04:18تو جھوٹ مور سبق یاد کرنے لگا
04:20آپ لڑکوں سے پوچھ لیجئے
04:22وہ بتائیں گے کہ یہ کیسی حرکتیں کرتا ہے
04:24خواجہ عبد المطلب نے لڑکوں سے عمرو کے بارے میں پوچھا
04:27سب نے کہا کہ یہ بہت شیطان ہے
04:30سوائی کھیل کود اور مار دھڑ کے کچھ نہیں کرتا
04:33اب تو خواجہ صاحب کو بھی غصہ آیا
04:35دو تھپڑ عمرو کے مارے
04:36اور اسے مدرسے سے گسیٹ کر لے جانا چاہا
04:39مگر امیر حمزہ اور مقبل وفدار
04:41خواجہ صاحب کی ٹانگوں سے رپڑ گئی
04:43اور رو رو کر کیانے لگے
04:45کہ اگر آپ ہمارے بھائی عمرو کو لیے جاتے ہیں
04:47تو ہم بھی نہیں پڑھیں گے
04:49خواجہ صاحب نے
04:51امیر حمزہ اور مقبل وفدار کو بڑا سمجھایا
04:54لیکن وہ عمرو سے الگ ہونے کیلئے
04:56کسی طرح آمادہ نہ ہوئے
04:58آخر مجبور ہو کر انہوں نے
05:00استاد سے کہا کہ اب کیا کیا جائے
05:01یہ لڑکے تو رو رو کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں
05:04عمرو کان دوائے الگ کھڑا تھا
05:06خواجہ عبد المطلب نے اس سے کہا
05:08عمرو شرارتیں چھوڑ دے اور بھلا آدمی بن جا
05:11برنا مار مار کا تیری چمڑی ادھیر دوں گا
05:13عمرو نے اپنے استاد اور خواجہ صاحب سے معافے مانگی
05:16اور وعدہ کیا کہ آئندہ شرارت نہ کرے گا
05:19اور پڑھنے لکھنے میں دھیان دے گا
05:21خواجہ صاحب گھر چلے آئے
05:22کئی دن خیدیت سے گزر گئے
05:24اور عمرو نے کوئی شرارت نہیں کی
05:26بلکہ محنت سے سواقیات کیا
05:28استاد کوئی تمنان ہو گیا
05:29کہ اب یہ شرارت نہیں کرے گا
05:38اپنے گھروں سے کھانا رہتے
05:39اور جب دوپہر کے دو گھنٹے کی چھٹے ملتی
05:42تو ایک گھنٹے تک سوتے
05:43اور جاگنے کے بعد کھا کر پھر پڑھائی میں لگ جاتے
05:46ایک دن عمرو نے یہ حرکت کی
05:48کہ لڑکوں کو خراتے لیتا دیکھ کر اٹھا
05:50سب کا کھانا استاد کے حجرے میں
05:52اس کے بسر کے نیچے چھپا کر چلا آیا
05:54اور خود بھی سو گیا
05:55ایک گھنٹے بعد لڑکے جا گیا
05:57اور انہوں نے کھانا تلاش کیا
05:59تو سب برطن غائب
06:00انہوں نے استاد سے شکایت کی
06:02وہ بڑا حیران ہوا
06:03کہنے لگا کہ یہ عمرو کی شرارت ہے
06:05اس کے علاوہ ایسی حرکت کوئی نہیں کر سکتا
06:07لیکن عمرو کہنے لگا
06:09مجھے کیا خبر میں تو خود سو رہا تھا
06:12پھر اس نے لڑکوں سے کہا
06:13استاد صاحب کی کوٹری میں دیکھو کھانا وہی ملے گا
06:16یہ کہہ کر خود بھی اٹھا
06:18اور سیدھے استاد کی کوٹری میں جا گزا
06:19لڑکے اس کے ساتھ ساتھ تھے
06:21سمان اُلٹ پُلٹ کر
06:23استاد کا بستر دیکھا بھارا
06:24تو کھانے سے بھرے ہوئے سب برطن وہاں موجود تھے
06:27لڑکوں نے یہ دیکھ کر شور مچا دیا
06:29کہ استاد خود چوری کرتے ہیں
06:30اور دوسروں کا نام رکھاتے ہیں
06:32لڑکوں کا شور سنکت چند راہگیر آ گئے
06:35انہوں نے پوچھا کیا بات ہے
06:36عمرو جھٹ سے بول اٹھا
06:38ہمارے استاد بھی عجیب آدمی ہے
06:39خود لڑکوں کا کھانا چھوڑا کر
06:41اپنے بستر میں چھپا دیتے ہیں
06:43اور نام میرا لیتے ہیں
06:44کہ میں نے یہ حرکت کیے
06:45بچارہ استاد حقا بقا کھڑا
06:47عمرو کی شکل دیکھ رہا تھا
06:49راہگیروں نے بھی اسے شرمندہ کیا
06:51اور کہا
06:51استاد ہی چوری کرے گا
06:53تو شاگر تو پکے ڈاکوں نکلیں گے
06:55استاد نے قسمیں کھائیں
06:56کہ کھانا میں نے ہرگز نہیں چھرایا
06:58اور یہ عمرو کی شرارت ہے
07:00مگر کسی نے اس کا اعتبار نہ کیا
07:02آخر وہ تیش میں آیا
07:03اور دانت پیش کر عمرو کی طرف لپکا
07:05ابھی تین چار بید ہی مارے تھے
07:07کہ عمرو نے اپنا قصور مان لیا
07:09اور کہا
07:10یہ حرکت میں نے ہی کی تھی
07:11عمرو اب استاد کا دشمن ہو گیا
07:13اور ہر وقت بدلہ لینے کی فکر میں لگا رہا تھا
07:16آخر ایک دن اسے موقع مل گیا
07:19چپکے سے استاد کی قیمتی پگڑی اٹھائی
07:21اور سیدھا حلوائی کی دکان پر پہنچا
07:23اسے کہا کہ استاد نے اپنی پگڑی بھیجی ہے
07:25اور کہا ہے
07:26کہ پانچ ٹھوائی کی مٹھائی دے دو
07:28کل پیسے دے کر پگڑی واپس مگوا لوں گا
07:31حلوائی نے پگڑی لے کر
07:32مٹھائی ایک ٹوکری میں رکھی
07:34اور عمرو کے حوالے کی
07:35عمرو ٹوکری لے کر مدرسے میں آیا
07:38تو پہر ہو چکی تھی
07:39سب لڑکے اور استاد گہری نیند سو چکے تھے
07:42عمرو نے ٹوکری استاد کے سرانے رکھی
07:45اور خود بھی سو گیا
07:46تیسرے پہر آنکھ کھلی
07:47تو استاد نے اپنے سرانے مٹھائی
07:49کہ ٹوکری دیکھی
07:50قریب ہی عمرو بیٹھا تھا
07:51اس سے پوچھا
07:52کیوں عمرو
07:53کیا تمہیں معلوم ہیں
07:54کہ یہ ٹوکری کون لائیا ہے
07:55جناب میرے والد لائے تھے
07:57بہت دیر بیٹھے رہے
07:58مگر آپ سو رہے تھے
08:00آخر مجھ سے کہہ کر چلے گئے
08:01کہ اپنے استاد کی خدمت میں پیش کر دینا
08:03یہ سن کر استاد صاحب بہت خوش ہوئے
08:05ٹوکری کھولی تو وہ میں پانی بھارایا
08:08انہوں نے ایک دانہ لڑکوں کو دیا
08:09اور دو تین دانے خود کھا کر
08:11ٹوکری اپنی کوٹری میں لے جا کے رکھ دی
08:13کہ شام کو گھر لے جائیں گے
08:15شام ہوئی تو استاد صاحب نے لڑکوں کو چھٹی دے دی
08:18اور خود بھی گھر جانے کی تیاری کرنے لگی
08:20مگر اب جو پگڑی تلاش کرتے ہیں
08:22تو کہیں نہیں ملی
08:23کافی دیر ٹھونڈا
08:24مگر پگڑی کہیں نظر نہ آئی
08:26بڑے پریشان ہوئے
08:28لڑکوں کو پہلے ہی چھٹی دے چکے تھے
08:30پوچھتے کس سے
08:31آخر ایک چادر سر سے رپیٹی
08:33اور گھر کی طرف چلے
08:34مٹھائی کی ٹوکری ہاتھ پہ تھی
08:36بزار میں سے گزرے تو حلوائی نے آواز دی
08:38جناب استاد صاحب ادھر تشریف لائے
08:40آپ سے ایک بات کہنی ہے
08:42کیا بات ہے
08:43استاد نے حلوائی سے پوچھا
08:45حلوائی نے پگڑی نکال کے سامنے رکھی
08:47اور کہنے لگا
08:48حضور آپ پر ہمیں پورا پورا اعتبار ہے
08:50پگڑی بیچنے کی کیا ضرورت تھی
08:52جب چاہے بٹھائی مانگوالیا کریں
08:54استاد صاحب نے اپنی پگڑی دیکھی
08:56تو ان کا خون کھول اٹھا
08:57کہنے لگے
08:58بھائی یہ تو بتاؤ
08:59کہ پگڑی تمہارے پاس لائے کون تھا
09:01اور تم نے مٹھائی کتنے کی دی تھی
09:03جناب آپ کو ایک شاگرد پگڑی لائے تھا
09:06اس کا نام شاید عمرو ہے
09:07مئیہ کا رڑکہ ہے
09:09پانچ روپے کے مٹھائی
09:10ٹوکری میں بندوا کر لے گیا تھا
09:12استاد نے کوئی شاہر نہ کہا
09:13جیب سے پانچ روپے نکال کر
09:15ہلوائی کو دیئے
09:16پگڑی سر پہ رکھی
09:17اور دلی دل میں عمرو کو
09:19کوستے ہوئے گھر پہنچے
09:20ساری رات غم اور غصے کے مارے
09:22استاد کو نین نہ آئی
09:24کئی بار بیبی نے پوچھا
09:25کہ معاملہ کیا ہے
09:26لیکن انہوں نے کچھ نہ بتایا
09:28اگر اس وقت عمرو ان کے ہاتھ لگ جاتا
09:30تو نہ جانے اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے
09:32رہ رہ کر دانت پیستے اور بڑھ بڑھاتے جاتے تھے
09:35ہیڑ جا جائے گا کہاں
09:37صبح مدرسے میں کسی طرح آ جا
09:39پھر تیری وہ درگت بناؤں گا
09:40کہ ساری عمرو یاد رکھے گا
09:42عمرو سے انتقام لینے کے دون میں
09:44استاد مو اندھیرے مدرسے میں آ پہنچے
09:47آہستہ آہستہ سب لڑکے بھی آئے
09:49پھر خواجہ عبد المطلب کے ساتھ
09:51امیر حمزہ
09:52مقبل وفدار
09:53اور عمرو بھی آتے دکھائی دئے
09:55فاجہ صاحب کے اشارے پر عمرو نے
09:57جھک کر استاد کے پاؤں پکڑ لیے
09:58اور اپنی خطہ کی معافی مانجی
10:00فاجہ عبد المطلب نے جیب سے دس روپے نکار کر
10:03استاد کو دیے
10:04اور کہا پانچ روپے مٹھائی کے
10:05اور پانچ روپے میری جانب سے قبول فرمائیے
10:08میں حمزہ کے سفارش پر آیا ہوں
10:09عمرو نے سارا قصہ اپنے دوستوں کو سنایا
10:12انہوں نے مجھ سے کہا کہ
10:14اب استاد عمرو کی بری طرح پٹائی کریں گے
10:16لسنے میں سار سرکر عمرو کو معافی دلا دوں
10:18اسے معاف کر دیجئے
10:20آئندہ شرارت کرے گا
10:21تو میں خود اس کی ہڈیاں توڑ دوں گا
10:23غرص انہوں نے ایسی باتیں کہیں
10:25کہ استاد کا سارا غصہ جاتا رہا
10:27انہوں نے عمرو کو معاف کیا اور کہا
10:29اس صفحہ خواجہ صاحب کے سفارش پر
10:31سزا دیئے وغیر چھوڑ دیتا ہوں
10:33لیکن آئندہ ہر کس معاف نہ کروں گا
10:35پندرہ روز گزر گئے
10:37عمرو نے اس دوران میں پھر کوئی شرارت نہ کی
10:39بلکہ ایسا سیدھا بن گیا
10:41کہ استاد کو اس کی حالت دیکھ کر حیرت ہوئی
10:43شرارت کرنا تو ایک طرف
10:45دوسرے شریر بچوں کو بھی روکتا تھا
10:47اب استاد اسے بہت خوش ہوئے
10:49اور انہوں نے آہستہ آہستہ
10:50عمرو سے اپنے گھر کے کام لینے شروع کیے
10:52ایک دن استاد کے لیے
10:54ایک شاگرد کے والد نے
10:55عمدہ کھانا بنا کے بھیجا
10:57استاد نے عمرو کو کہا
10:58کہ ٹوکری میرے گھر پہنچا دو
11:00مگر خبردار اسے راستے میں مت کھولنا
11:03اس میں مرغا بند ہے
11:04اگر کھولا تو بھاگ جائے گا
11:06عمرو نے وعدہ کیا
11:08مگر جیسے ہی تھوڑا آگے گیا
11:09ٹوکری کھولی اور سارا کھانا کھا گیا
11:12ہڈیاں کتوں کو دے کر
11:13ٹوکری ویسے ہی باندھی
11:14اور استاد کی گھر پہنچا کر بیوی کو دے دی
11:17شام کو استاد خوشی خوشی گھر پہنچے
11:19بیوی نے بتایا
11:20کہ انہوں نے کچھ نہیں پکایا
11:22کیونکہ عمرو نے پیغام دیا تھا
11:23کہ کھانے کی ضرورت نہیں
11:24جب استاد نے ٹوکری کھولی
11:26تو برطن خالی نکلے
11:28مصے میں آ کر
11:29استاد نے برطن دیوار پر دے مارے
11:30جس سے کچھی دیوار گئے گئی
11:32محلے والے سمجھے
11:33کہ شاید زلزلہ آگیا ہے
11:35استاد کو اپنی غلطی کا احساس ہوا
11:37کہ عمرو نے شرارت کی
11:38بزار بند ہو چکا تھا
11:40اس لئے وہ ساری رات بھوکے رہے
11:41اگلے دن ناشتے کے بعد
11:43مدرسے گئے اور عمرو کو کچھ دے رہی
11:45مدرسے پہنچے تو دیکھا
11:48کہ عمرو سب سے پہلے آیا ہوا ہے
11:49اور مدرسے میں جھاڑو دے رہا ہے
11:51اس نے استاد کو دیکھ کر
11:52عدب سے سلام کیا
11:53اور ان کے جوتے ہوتارنے کو دوڑا
11:55استاد نے عمرو کے کان پکڑ کر کہا
11:57کل تو نے مجھے بھوکا مات دیا
12:00خالی برطن میرے گھر لے آیا
12:02جناب میں نے تو کچھ نہیں کھایا
12:03عمرو نے جواب دیا
12:04آپ ہی نے تو فرمایا تھا
12:06کہ ٹوپری ہرگز نہ کننا
12:07اس نے مرگا بند ہے
12:08بھاگ جائے گا
12:09میں نے کیا میں مرگے کو گچھا چبا گیا
12:11استاد نے دل میں سوچا
12:13کہ یہ لڑکا میرے بس کا نہیں
12:14میں اسے پڑھانے سے باز آیا
12:15ابھی جا کر خواجہ صاحب سے کہتا ہوں
12:17کسے مدرسے نہ بھیجا کرے
12:19یہ فیصلہ کر کے وہ اٹھے
12:21اور خواجہ عبدالمطلب کے مکان کا روح کیا
12:23عمرو سمجھ گیا
12:24کہ استاد خواجہ صاحب سے شکایت کرنے جا رہے ہیں
12:26وہ بھاگا بھاگا
12:28عمرو اگر تو شہر چھوڑ کے جاتا ہے
12:43تو ہم بھی تیرے ساتھ چلیں گے
12:45یہ کہہ کر دونوں اٹھ کھڑے ہوئے
12:47ان کے ساتھ دس بارہ رڑکے اور بھی اٹھے
12:49اور یہ گروہ شہر سے باہر نکل کر
12:51پہاڑوں کے طرف روانہ ہو گیا
12:53پھر اس کے بعد کیا ہوا
12:55عمرو کی مزید شرارتیں اس کی اگلی قسط میں دیکھئے
Comments