Skip to playerSkip to main content
📜 Video Description (Bilingual | English + Urdu):
Welcome to Classic Urdu Folktales!
In this episode, we bring you the powerful and timeless Quranic story from Surah Al-Baqarah — The Story of the Cow (گائے کا واقعہ) — a lesson in obedience, faith, and divine wisdom.

📖 This is Story #2 in our Quranic Stories series, where we narrate sacred tales from the Quran in simple, engaging Urdu with English understanding for a global audience.

🕊️ In this story, the people of Bani Israel are tested when Allah commands them to sacrifice a cow. But instead of obeying, they complicate the command with endless questions — turning a simple act into a challenge of faith.
It is from this very story that Surah Al-Baqarah gets its name.

🌟 سبق (Lesson):
اللہ کے احکامات میں بلا چون و چرا اطاعت ہی اصل بندگی ہے۔
Disobedience and over-questioning can lead us away from divine wisdom.

🔔 Watch this story to learn:
Why the cow was important in this story

How Bani Israel reacted to Allah's command

What lessons this story holds for us today

📌 Don't forget to Like 👍, Share 🔄, and Subscribe 🔔 to Classic Urdu Folktales
for more beautifully narrated Islamic stories, Quranic wisdom, and Urdu folktales for all generations.

📚 More from our Quranic Stories Series:
1️⃣ Story of Prophet Adam (حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ)
2️⃣ The Cow Incident (گائے کا واقعہ)
3️⃣ Coming Soon: The Story of Harut & Marut (جادو اور آزمائش)

#QuranicStories #SurahAlBaqarah #IslamicStory #AsmaUlHusna #ClassicUrduFolktales #گائے_کا_واقعہ #QuranLessons #IslamicHistory
Transcript
00:00today we have classic
00:04ڈرنی اسرائیل اور ڈرگائی کا واقعہ
00:15ڈرنی اسرائیل میں اگر معمولی واقعہ پیش آیا جو آج بھی ایک سبق
00:21کے طور پر یاد کیا جاتا ہے قرآن پاک کی صورہ بقرہ میں اسی
00:25ڈالاقرية کا ذكر کیا گیا ہے
00:27اسی واقعے کی وجہ سے
00:28اس صورت کو
00:29صورت البقرہ
00:31یعنی گائی والی صورت
00:32کا نام دیا گیا
00:33بنی اسرائیل میں
00:35ایک بہت مالدار شخص تھا
00:37جس کا نام
00:38آمیل بتایا جاتا ہے
00:40اس کی کوئی اولادیں
00:41نرینہ نہیں تھے
00:42صرف ایک بیٹی تھی
00:43اور ایک بھتیجہ تھا
00:45بھتیجے نے جب دیکھا
00:46کہ بڑھا تو مرتا ہی نہیں
00:47تو اس نے وراست کے
00:49لالچ میں سوچا
00:49کہ کیوں نہ میں
00:50isa hi ma ڈarun
00:51or isaki raki se nikah phe kardun
00:53or qatil ki tawamad
00:54dousroon per rakhir dhiyat bhi wosul karun
00:57or maktool ke maal ka malik bhi ben jau
00:59to isna eek shaitanhi mansoobah binaya
01:01or eek din mohkha pahar
01:03aapne chachak ko qatil kar dhia
01:04benny israel ke bhali loog
01:07in chagrho ar bikhiro se tang akar
01:09jaksoo hokar in se alag
01:10eek or shahir me rhatte the
01:12shaham ko aapne kileh ka phatak
01:14ban kardiyya kardiytae the
01:15or subha kulte the
01:16kisye muclem ko aapne haang husnye bhi nahi dhe the
01:19is batikya ne aapne chachak ki lage ko lage ko lage
01:21aapne kileh ka phatak ke sámeni ڈاگ dhia
01:23اور یہa aapne chachak ko ڈھونne laga
01:26phir dhuhaai mcadhi
01:28kaya hai meri chachak ko kisye nye mar ڈala
01:29aakhir kar
01:30in qeileh walon pe tohmat laga kar
01:33in se dhiyat ka rupiah tarp karne laga
01:35anhohne is qatil se
01:36or iske ilm se bilkul inkar kiya
01:39lیکin ya ar gaya
01:40yaa tuk ke aapne sathiyon ko lhe kar
01:42in se lardai karnene pere tull gya
01:44ye log áجiz aaga
01:45حضرت musa alayhi islam ke paas aay
01:47اور واقعہ arz kiya
01:48yaa rasulillah
01:49ye shaks khaham khah
01:51hem pere qatil ki tohmat laga raha hai
01:53halangki
01:54hem beriuz zima hai
01:55حضرت musa alayhi islam
01:57nye Allah ta'ala se dhuwa ki
01:58اور وہa se wahi nazil huyi
02:00اور جب musa nye aapne qawm se kaaha
02:03Allah تمہیں hukum dheta hai
02:04کہ ایک gaii ziba kiro
02:05انhoha nye kaha
02:07ey Allah ke nubi alayhi islam
02:09کہan qatil ki tihkik
02:10اور کہاں ab gaii ke ziba ka hukum dhe rhe hein
02:13کیا ab ham se mzaak kerttei hein
02:15musa alayhi islam
02:16نے فرماya
02:17عوض باللہ
02:17mzaak jahilوں ka kam hai
02:19Allah azawajal ka yehi hukum hai
02:22کہ ab agar ye log jaa kar
02:23kis gaii ko ziba ka dhe te
02:25to kafi hota
02:26لیکن انhoha nye sawalat ka
02:27دروازha khol dhia
02:28پہلے انhoha nye puchha
02:30کہ وہ gaii kiisiy ho
02:31حضرت musa alayhi islam
02:33نے Allah ta'ala se puchhkar
02:34بتاya
02:34کہ وہ gaii na zyada
02:35بڑھی ho
02:36اور نہ ہی زیادہ
02:37جوان
02:37درویانی عمر ki ho
02:39پھر انhoha nye sawal kiya
02:40کہ اس gaii ka rung kiya ho
02:42حضرت musa alayhi islam
02:43نے Allah ka pangam dhia
02:44کہ وہ gaii zard rung ki ho
02:46جis ka rung
02:47اتنا چمکدار ho
02:48کہ دیکھنے والے ki
02:49آنکھیں
02:49اس پر ٹھہر جائیں
02:50بنی اسرائیل
02:52نے مزید
02:53سورات ki
02:53اور Allah نے بتایا
02:54کہ وہ gaii
02:55کبھی کھیتوں میں
02:55کام نہ کرتی ho
02:56نہ ہی
02:57اس میں کوئی
02:58عیب
02:58یا داخ
02:58دھبا ہو
02:59کہ gaii
03:00ایک خاص
03:00اور نایاب
03:01ہونی چاہیے
03:02کتنا زیادہ
03:02بنی اسرائیل
03:03سورات
03:04کرتے گئی
03:04گaii کے
03:05عصاف میں
03:06یعنی خوبیوں میں
03:06مزید
03:07سختیاں آتی گئیں
03:08ابن جریش
03:09فرماتے ہیں
03:10رسول اللہ
03:10صلی اللہ
03:11علیہ وآلہ وسلم
03:11نے فرمایا
03:12کہ حکم
03:13ملتے ہی وہ
03:13اگر کسی gaii
03:14کو زبا بھی
03:15کر ڈالتے
03:15تو کافی تھا
03:16لیکن انہوں نے
03:17پیدر پہ
03:18سوالات
03:18شروع کیے
03:19اور کام میں
03:19سختی بڑھتی گئی
03:20یہاں تک
03:21کہ آخر میں
03:22وہ انشاءاللہ
03:23نہ کہتے
03:23تو کبھی بھی
03:24سختی نہ ٹلتی
03:25اور مطلوبہ
03:25گائی ملنا
03:26اور مشکل ہو جاتی
03:27آخر کر
03:28بنی اسرائیل
03:29کے ایک نوجوان
03:30کے پاس
03:30ایسی گائی ملی
03:31یہ بچہ
03:32اپنے باپ کا
03:33نہائیت فرما بردار تھا
03:34ایک مرتبہ
03:35جب اس کا باپ
03:36سویا ہوا تھا
03:37اور نقدی والی
03:37بیٹی کی کنجی
03:38اس کے سرحانے تھی
03:39ایک سوداگر
03:41ایک کھیمتی ہیرہ
03:42بیشتا ہوا آیا
03:42اور کہنے لگا
03:43کہ میں اسے بیشنا چاہتا ہوں
03:45لڑکے نے کہا
03:46میں خریدوں گا
03:47قیمت ستر ہزار
03:48تیہ ہوئی
03:49لڑکے نے کہا
03:50ذرا ٹھہرو
03:50جب میرے والد جاگیں گے
03:52تو میں ان سے کنجی لے کر
03:54آپ کو قیمت
03:55ادا کر دوں گا
03:56اس نے کہا
03:56ابھی دے دو
03:57تو دس ہزار
03:58کم کر دیتا ہوں
03:59اس نے کہا
04:01نہیں
04:01میں اپنے والد کو جگاؤں گا
04:03نہیں
04:04تم اگر ٹھہر جاؤ
04:05تو میں بجائے
04:05ستر ہزار کی
04:06اسی ہزار دوں گا
04:07یوں ہی
04:08ادھر سے کمی
04:08اور ادھر سے
04:09جاتی ہونے شروع ہوتے لی
04:10یہاں تک کہ
04:11تاجے تیس ہزار
04:12قیمت لگا دی
04:13کہ اب اگر
04:14تم مجھے جگا کر
04:15روپیہ دے دو
04:16تو میں تیس ہزار
04:17میں دے دیتا ہوں
04:18نڑکا کہتا
04:19کہ اگر تم ٹھہر جاؤ
04:20یا ٹھہر کراؤ
04:20میرے والد جاگ جائیں
04:22تو میں تمہیں
04:22ایک لاکھ دوں گا
04:23آفر وہ ناراض ہو کر
04:25اپنا ہیرہ
04:25واپس لے کر چلا گیا
04:26باپ کی
04:28اس بزرگی کے احساس
04:29اور ان کے
04:29آرام پہنچانے
04:31کی کوشش کرنے
04:32اور ان کا
04:33عدو احترام کرنے سے
04:34پروردگار
04:35اس لڑکے سے
04:36اتنا خوش ہوا
04:36اور اسے یہ گائی
04:37عطا فرمائی
04:38جبکہ تفسیر میں
04:39مزید لکھا ہے
04:40کہ اس لڑکے کا باپ
04:41بنی اسرائیل کا
04:42ایک بہت نیک
04:43اور صالح بزرگ تھا
04:44اور وہ ان کا
04:45ایک ہی بیٹا تھا
04:46اور ان کے پاس
04:47وقت ایک
04:47یہ بچیا گائی تھی
04:48ان بزرگ نے
04:50اپنی وفات کے قریب
04:51اس بچیا کو
04:52جنگل میں لجا کر
04:53ایک جھاڑی کے پاس
04:54یہ کہہ کر چھوڑ دیا
04:55یا اللہ
04:56میں اس بچیا کو
04:58اس وقت تک
04:58تیری امانت میں دیتا ہوں
05:00کہ میرا بچا
05:00بالے ہو جائے
05:01اس کے بعد
05:02ان بزرگ کی وفات ہو گئی
05:04اور بچیا بڑی ہو کر
05:05درمیانی عمر کی ہو گئی
05:06اور بچا بھی جوان ہو کر
05:08اپنی ماں کا
05:08بہت ہی فرما بردار ثابت ہوا
05:10ایک دن اس کے والدہ نے کہا
05:11اے نور نظر
05:13تیرے باپ نے تیرے لیے
05:14فلان جنگل میں
05:15خدا کے نام کی
05:16ایک بچیا چھوڑی تھی
05:17اب وہ جوان ہو گئی ہوگی
05:19اللہ تعالیٰ سے دعا کرو
05:20کہ تجھے وہ عطا فرمائی
05:21اور تو اسے جنگل سے لے آ
05:23لڑکا جنگل میں گیا
05:24اور اس نے گائے کو جنگل میں دیکھا
05:26اور والدہ کی بتائی ہوئی علامتیں
05:28اس میں موجود پائیں
05:30اس کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر بلایا
05:32تو وہ حاضر ہو گئی
05:33وہ نوجوان اس گائے کو
05:34والدہ کی خدمت میں لیا
05:36والدہ نے بازار میں لے جا کر
05:38تین دینار پر فروخت کرنے کا حکم دیا
05:40اور شرط یہ رکھی
05:41کہ سودا ہونے پر
05:43پہلے ماہ کی اجازت حاصل کی جائے
05:45اس زمانے میں گائے کی قیمت
05:46تین دینار ہی تھی
05:47نوجوان جب اس گائے کو بازار میں لیا
05:50تو ایک فرشتہ خریدار کی صورت میں آیا
05:53اس نے گائے کی قیمت چھ دینار لگائی
05:55مگر شرط یہ رکھی
05:56کہ نوجوان اپنی والدہ سے اجازت نہیں لے گا
05:59نوجوان نے یہ منظور نہ کیا
06:01اور اپنی والدہ سے تمام قصہ کہا
06:03اس کے والدہ نے چھ دینار قیمت منظور کرنے کی اجازت دی
06:06مگر بیچنے میں پھر بھی اپنے مرضی
06:08اور دریافت کرنے کی شرط لگائی
06:10نوجوان پھر بازار آیا
06:12اس مرتبہ فرشتہ نے بارہ دینار قیمت لگائی
06:15اور کہا کہ والدہ کی اجازت نہ لی جائے
06:18نوجوان نہ مانا
06:19اور والدہ کو اطلاع دی
06:20وہ ایک سمجھدار خاتون تھی
06:22سمجھ گئی کہ یہ خریدار کوئی اور نہیں فرشتہ ہے
06:25جو آزمائش کے لیے آیا ہے
06:27ماں نے لڑکے سے کہا
06:28کہ اب کی مرتبہ اس خریدار سے کہنا
06:30کہ آپ ہمیں بتاؤ گائے فروخت کریں یا نہیں
06:33لڑکے نے یہی کہا
06:35تو فرشتہ نے جواب دیا
06:36کہ ابھی اس کو روکے رکھو
06:38جب بنی اسرائیل سے کوئی خریدنے آئے
06:40تو اس گائی کی قیمت یہ مقرر کرنا
06:42کہ اس کی کھار میں سونا بھر دیا جائے
06:44نوجوان گائی کو گھر لیا
06:46اور جب بنی اسرائیل اسے دھونتے ہوئے مکان پر پہنچے
06:49تو یہی قیمت ہے پائی
06:50بنی اسرائیل اس قسم کی گھائی دھوننے نکلے
06:54تو سوائے اس لڑکے کے ان کسی اور کے پاس نہ پائی
06:57اسے کہا کہ ایک گائی کے بدلے دو گائیں لے لو
07:00لڑکے نے انکار کیا
07:02پھر کہا تین لے لو چار لے لو
07:03لیکن یہ راضی نہ ہوا
07:05دس تک کہا مگر پھر بھی نہ مانا
07:07بنی اسرائیل نے آ کر
07:09نظر موسیٰ علیہ السلام سے شکایت فرمائی
07:11اور کہا آپ فرماتے ہیں جو یہ مانگے
07:14تو اور اسے راضی کر کے گائی خریدو
07:16آخر کار گائی کے وزن کے برابر سونا دیا گیا
07:20تب اس نے اپنی گائی بیچی
07:21یہ برکت
07:22اللہ نے ماں باپی خدمت کے وجہ سے اسے آتا فرمائی
07:25جبکہ یہ بہت محتاج تھا
07:27اس کے والد کا انتقال ہو گیا تھا
07:29اور اس کی بیوہ ماں قربت اور تنگی کے دن بسر کر رہی تھی
07:32غرض
07:33اب یہ گائی خرید لی گئی اور اسے زبا کیا گیا
07:36اور اس کے جسم کا ایک ٹکڑا لے کر
07:38مقتول کے جسم سے لگایا
07:39تو اللہ کی قدرت سے وہ مردہ جی اٹھا
07:42اسے پوچھا گیا
07:43کہ تمہیں کس نے قتل کیا
07:45اس نے کہا میرے بھتیجے نے
07:47اس لیے کہ وہ میرا مان لے لے
07:49اور میری لڑکی سے نکاح کر لے
07:51بس اتنا کہہ کر وہ پھر مر گیا
07:53اور قاتل کا پتہ چل گیا
07:54اور بنی اسرائیل میں جو جنگ و جدر ہونے والی تھی
07:57وہ رک گئی
07:58یہ فتنہ دب گیا
07:59اس بھتیجے کو لوگوں نے پکڑ لیا
08:01اس کی ایاری اور مکاری کھل گئی
08:03اور اسے اس کے بدلے میں قتل کر ڈالا گیا
08:06یہ قصہ مختلف الواز سے مرفی ہے
08:09ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے
08:11کہ یہ بنی اسرائیل کے ہاں کا واقعہ ہے
08:13جس کی تصدیق اور تقزیب ہم نہیں کر سکتے
08:15ہاں روایت جائز ہے
08:17تو اس آیت میں یہی بیان ہو رہا ہے
08:18کہ اے بنی اسرائیل میری اس نعمت کو بھی نہ بھولو
08:21کہ میں نے عادت کے خلاف
08:23بطور معجزے کے
08:24ایک گائن کے جسم کے ٹکڑے کو لگانے سے
08:27ایک مردے کو زندہ کر دیا
08:29وہ ٹکڑا کون سا تھا
08:31اس کا بیان تو قرآن میں نہیں ہے
08:32نہ کسی صحیح حدیث میں
08:34اور نہ ہمیں اس کے معلوم ہونے سے کوئی فائدہ ہے
08:36اور معلوم نہ ہونے سے کوئی نقصان ہے
08:39اس لئے بہتری اسی چیز میں ہے
08:41کہ جس جس کا بیان نہیں
08:42ہم اس کے تلاش اور تفتیش میں نہ بھولو
08:44ہماری بہتری اسی میں ہے
08:45کہ جس سے اللہ تعالی نے مبہم رکھا ہے
08:47ہم بھی مبہم ہی رکھیں
08:48اس ٹکڑے کے لگتے ہی وہ مردہ چی اٹھا
08:51اور اللہ تعالی نے ان کے جھگڑے کا فیصلہ بھی اسی سے کیا
08:54یہ واقعہ ہمیں کہیں اہم سبق دیتا ہے
08:57سب سے پہلے
08:58اللہ کے حکم پر
08:59بغیر سوالات کے عمل کرنا ہی
09:01بندے کی اصل اطاعت ہے
09:02اللہ کے احکامات پر شک
09:05تاخیر
09:06اور غیر ضروری سوالات
09:07بندے کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں
09:09والدین کے خدمت اور ان کا اعترام
09:12اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے
09:13جیسا کہ اس میں جوان کے مثال سے ثابت ہوا
09:16آج بھی اگر ہم چاہتے ہیں
09:18کہ اللہ ہمیں ہدایت دے
09:19تو ہمیں اس کے حکم کو دل سے
09:21بلا چونچنا ماننا ہوگا
09:23کہانی اچھی لگے
09:24تو لائک کر دیجئے گا
09:25چینل پر سبسکرائب کر دیجئے گا
09:28اپنا اور اپنے پیاروں کا بہت خیال رکھئے
Comments

Recommended