پانپور، پلوامہ، جموں و کشمیر (سید عادل مشتاق)پانپور کے رکنِ اسمبلی اور ریٹائرڈ جسٹس حسنین مسعودی کی جانب سے جموں و کشمیر میں پانچ روزہ تعلیمی ہفتہ نافذ کرنے کی تجویز کے بعد، اس معاملے پر مختلف حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرینِ تعلیم اور سیاسی حلقوں کے ایک حصے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسکول کے تدریسی دنوں میں کمی سے پہلے ہی گوناگوں چیلنجز کا سامنا کرنے والے تعلیمی نظام پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ حسنین مسعودی نے اپنے انتخابی حلقے میں وزیرِ تعلیم کی موجودگی میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران اس تجویز پر زور دیا تھا، تاہم اب اس پر مختلف گوشوں سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، جموں و کشمیر قدرتی آفات کے لحاظ سے ایک حساس خطہ ہے، جہاں ماضی میں زلزلوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر ہنگامی حالات کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ نامساعد حالات اور طویل بندشوں کے نتیجے میں بھی طلبہ کا قیمتی تدریسی وقت ضائع ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے نقصان کی تلافی اور طلبہ کے تعلیمی خلا کو پُر کرنے کے لیے پہلے ہی کئی ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں؛ ایسے میں تدریسی دنوں میں مزید کمی سے نصاب کی بروقت تکمیل، ہم نصابی سرگرمیوں اور طلبہ کی مجموعی تعلیمی پیش رفت متاثر ہونے کے شدید خدشات ہیں۔ معروف ماہرِ تعلیم اور سابق کے اے ایس (KAS) افسر غلام حسن طالب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں پانچ روزہ تعلیمی ہفتے کی تجویز پر عمل درآمد سے قبل اس کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تعلیمی نظام پہلے ہی بنیادی ڈھانچے، جدید ٹیکنالوجی اور تدریسی وسائل کی کمی جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہے، لہذا تدریسی دنوں میں کمی طلبہ اور والدین پر الٹا اضافی دباؤ کا باعث بنے گی۔ غلام حسن طالب نے زور دیا کہ حکومت کو تعلیمی دن گھٹانے کے بجائے پورے جموں و کشمیر میں تعلیمی ڈھانچے کو جدید بنانے اور تدریسی معیار کو مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکنِ اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے بھی اس معاملے کو ایک اہم پالیسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ابھی قانون ساز اسمبلی میں تفصیلی بحث ہونا باقی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسمبلی میں مناسب غور و خوض اور تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیے بغیر اس مرحلے پر تجویز کو عملی شکل دینا قبل از وقت ہوگا۔ دریں اثنا، ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن فاروق احمد میر نے متبادل رائے دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ہفتے کے آخری دن کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے ہم نصابی سرگرمیوں، کھیلوں، عملی تعلیم اور طلبہ کی شخصیت سازی کے لیے مختص کر دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ روزہ تعلیمی ہفتے کے نفاذ سے قبل طلبہ کی تعلیمی ضروریات، اساتذہ کی دستیابی، نصاب کی تکمیل اور زمینی حقائق کا جامع جائزہ لینا ناگزیر ہے تاکہ اس کا کوئی بھی منفی اثر تعلیمی معیار پر نہ پڑے۔
Comments