Skip to playerSkip to main content
  • 6 minutes ago
جموں، (محمد اشرف گنائی)سینئر کانگریس رہنما اور ایم ایل اے باندی پورہ، نظام الدین بھٹ نے جموں و کشمیر کے موجودہ انتظامی ڈھانچے اور بیوروکریسی کے رویے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومت کی موجودگی کے باوجود منتخب نمائندے خود کو بے بس اور قسم پرسی کی حالت میں محسوس کر رہے ہیں۔ جموں میں "ای ٹی وی بھارت" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نظام الدین بھٹ نے کہا کہ جب بیوروکریٹ افسران براہِ راست اسپیکر کو خطوط لکھ کر ایوان کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہیں، تو یہ جمہوریت اور ایوانِ اسمبلی کی شدید تذلیل ہے۔اسپیکر اسمبلی کو افسران کی جانب سے لکھے گئے خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: "جس ایوان میں افسران منتخب نمائندوں کے فیصلوں پر سوال اٹھائیں اور حد سے تجاوز کر کے اسپیکر کو خط لکھیں—یہ آئین اور ایوان کی توہین ہے۔ یہ اسمبلی کے وقار کو ٹھیس پہنچانے اور ہمیں یہ بتانے کے مترادف ہے کہ عوامی نمائندوں کی کوئی حیثیت نہیں اور تمام فیصلے صرف بیوروکریسی ہی کرے گی۔" انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر ایوان میں استحقاق کی تحریک (Privilege Motion) پیش کر دی گئی ہے اور امید ہے کہ پریولیج کمیٹی اس کا سنجیدگی سے نوٹس لے گی۔ایک فلاحی ریاست اور انتظامی دباؤ کے فرق پر روشنی ڈالتے ہوئے ایم ایل اے باندی پورہ نے کہا کہ کسی بھی جمہوریت میں اصل طاقت عوام اور ان کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں۔ فلاحی ریاست میں عوامی اداروں اور عوامی فیصلوں کی عزت کی جاتی ہے، لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ عوام کے بنائے گئے اداروں کے وقار اور اختیارات کو ختم کیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ افسران اب اسمبلی کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جل جیون مشن کی تحقیقات کے معاملے پر بات کرتے ہوئے نظام الدین بھٹ نے کہا کہ حکومت کو انکوائریوں کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل اور ٹھیکیداروں کی مشکلات کا بھی فوری حل نکالنا ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا: "ہم کب تک محض انکوائری کمیٹیوں اور مقدمے بازی میں الجھے رہیں گے؟ اربوں روپے کے منصوبے نامکمل پڑے ہیں اور لوگ پانی کی بوند بوند کے لیے ترس رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں مقامی ٹھیکیداروں کے واجب الادا بل روکے گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ اسمبلی نے واضح ہدایت دی ہے کہ جو اسکیمیں تیار ہیں انہیں فوراً چالو کیا جائے اور ٹھیکیداروں کے جائز بل فوری طور پر واگزار کیے جائیں۔ 

Category

🗞
News
Transcript
00:00foreign
00:39This is a contact. This is undermining the house. This is showing our, ask the door,
00:46that you are who are. This is a two-fasile. There is no problem. If there is no problem,
00:59this is a two-fasile. This is a two-fasile. This is a two-fasile.
01:30This is a two-fasile. People are the real power. Ones کی طاقت کو مانتہ دی جاتی ہے.
01:37یہاں نہیں ہو رہا ہے. کیونکہ ان کے جو بنائے گئے ادارے ہیں.
01:42انہی کو پامال کیا جاتا ہے. انہی کو ان کی ڈگڈیٹی کو ختم کیا جاتا ہے.
01:49ان کی ایتھارٹی اور پاورز کو ختم کیا جاتا ہے. اور یہ بات یہاں تک پہنچتی ہے
01:53کہ دو افسراب اسمبلی کو ڈکٹیٹ کرتے ہیں. یہ جمہوری حکومت جب بنتی ہے
01:58جس میں بھی آپ بھی ایم ایل اے اور حکومت کے کانگریس ایلائیڈس ہے
02:03نیشنل کانفیرنس کے ساتھ پہلے ہی دن جل جیون مشن کی ایک کمیٹی بنائی گئی.
02:07تاہم جو ریپورٹ ہے وزیر جو ہے جل شکتی ڈپارٹمنٹ کے جاوید رانہ صاحب نے
02:13واضح کہا اسمبلی میں کہ اب کلوز چپٹر ہوا جو نہیں شکایتیں آئے گی ان پر بات کی جائے گی.
02:21یہ دو ہی ایشوز اس کے ساتھ جڑی ہیں. ایک لوگوں کو پانی ملے.
02:24کب تک ہم مقدمہ بازی میں فشے رہیں گے کمیٹیز میں فشے رہیں گے یہ عام لوگوں
02:33کا معاملہ ہے اور سکیمز عربوں کی پڑی ان کو بحال کرنے کی ضرورت ہے اور
02:38اس سے جڑا جو کنٹریکٹرز کا طبقہ ہے ہزاروں کی تعداد میں وہ ترستیں
02:44ان کی بلنے بند ہیں تو ان دو مدوں کو لے کر اسمبلی لڈیکال ڈریکشن دے دی
02:49کی جو فانکشنل سکیمز ہیں ان کو کمیشن کرو چالو کرو اور جہاں
02:56کہیں اعتراض ہے اس پہ دوبارہ انکوئری کرو اور ٹھیک داروں کی جو
03:00جائز بلے ہیں وہ باگزار کرو.
03:06وہ تو وہ تو ریپورٹ میں ساری باتیں آئی ہوں گی اور ریپورٹ سرکار
03:11گوھر سے دیکھے گی ایسا کچھ نہیں ہے کہ ہر کوئی ڈسٹ بین میں جائے گا
03:15تو آپ اس طرح سے جنرل جیون مشل کمیڈی کا ریپورٹ سامنے نہیں آیا
03:18وہاں پہ وہ بات ظاہر تو نہیں ہوتی ہے کہ آپ سران کے دباؤ میں یہ
03:22چیزیں ہو رہی ہیں جسا کچھ نہیں ہے یہاں بندوق والوں کو بھی ایمیلیسٹی
03:26دی گئی ان کو بھی پرموٹ کیا گیا نیشنل انٹرسٹ میں بہت کچھ
03:32انٹرسٹ میں بہت کچھ ہوتا ہے اس وقت پی لوگوں کی انٹرسٹ یہی ہے
03:36کہ ٹھیکہ داروں کی قسم پرشی دیکھی جائے اور عام لوگوں کو پانی ملے
03:40بہت بہت شکریہ ہی تھے ہمارے ساتھ ایمیلین مانی پورا نظام دین
03:45بات جنہوں نے ہمارے دو تین سوالات کا جواب دیا ایٹی بھارت کے لیے جمعہ سے
Comments

Recommended