- 6 weeks ago
*سانحہ مریدکے اور سعد بھائی کی تاحال گمشدگی تک کے واقعات پر ایک منظم ڈاکومینٹری اپلوڈ کی گئی ہے۔*
تمام احباب سے گزارش ہے کہ تحریک کی اس آواز کو لازمی سپورٹ کریں، ڈاکومینٹری کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
تمام احباب سے گزارش ہے کہ تحریک کی اس آواز کو لازمی سپورٹ کریں، ڈاکومینٹری کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
Category
📚
LearningTranscript
00:00کہ ہماری موت شاید آپ سے پہلے لکھی ہوئی ہے لیکن ہم مر جائیں گے لیکن تمہیں یاد آئیں گے
00:07گولی کیوں چلا رہے ہو؟
00:09اگر امن ہو جائے تو ازارے اکجیتی کرنا جرم ہے
00:14کہاں ہیں سعاد رزوی؟ یہ صرف ایک سوال نہیں
00:17بلکہ ایک ایسا سوال ہے جو ایک عرصے سے لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے
00:23آخر سعاد رزوی کہاں ہیں؟ ایک ایسا نام جس کے گرد وقت کے ساتھ کئی سوالات پیدا ہوتے گئے
00:30کئی دعوے سامنے آتے رہے لیکن اصل حقیقت آج بھی ایک پردے میں چھپی ہوئی ہے
00:35کوئی کہتا ہے کہ وہ ایجنسیوں کے پاس ہیں
00:39کوئی پولیس کی حراست کی بات کرتا ہے
00:41جبکہ کچھ لوگوں کے مطابق معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے
00:46لیکن ان تمام باتوں کے درمیان ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے
00:50آخر حقیقت کیا ہے؟ اور پھر اس پوری کہانی کا سب سے بڑا سوال
00:55کیا سعاد رزوی آج بھی زندہ ہیں یا نہیں؟
01:02یہ سوال شاید جتنا سادہ نظر آتا ہے
01:05حقیقت اتنی ہی پیچیدہ ہے
01:07آخر ایسا کیا ہوا کہ سعاد رزوی کے بارے میں اتنے سوالات اٹھنے لگے؟
01:12وہ کہاں گئے؟ ان کے ساتھ کیا ہوا؟
01:14اور وہ کون سے واقعات تھے جنہوں نے اس پوری کہانی کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا؟
01:20جہاں آج بھی کئی سوالات جواب کے منتظر ہیں
01:23اس کہانی میں کئی موڑ آئے
01:25کئی دعوے سامنے آئے
01:26کئی باتیں کی گئیں
01:28مگر ان سب کے درمیان حقیقت کہیں نہ کہیں چھپی رہ گئی
01:32آج ہم اسی حقیقت کو جاننے کی کوشش کریں گے
01:36کہ آخر سعاد رزوی کے ساتھ کیا ہوا؟
01:38وہ کہاں گئے؟
01:39اور ان کے بارے میں یہ سوالات آخر پیدا کیسے ہوئے؟
01:43ہم اس کہانی کو بالکل ابتدا سے دیکھیں گے
01:45ایک ایک واقعے کو جوڑیں گے
01:48اہم موڑوں کو سمجھیں گے
01:50اور جاننے کی کوشش کریں گے
01:52کہ اس پوری کہانی کے پیچھے آخر کیا حقیقت چھپی ہوئی ہے؟
01:56تو آئیے
01:56اس کہانی کو بالکل ابتدا سے سمجھتے ہیں
01:59تین اکتوبر دو ہزار پچیس
02:01وہ دن تھا
02:03جب فیض آباد سے سعاد رزوی نے
02:05فلسطین کے عوام کی حمایت میں
02:07امریکی سفارت خانے کی جانب
02:09ایک کال دی
02:16لیکن اس کال کے بعد حالات نے ایسا رخہ اختیار کیا
02:20جس نے پورے ملک کو اپنی طرف متوجہ کر لیا
02:22چھے اکتوبر دو ہزار پچیس
02:26حالات تیزی سے بدل رہے تھے
02:28ٹی ایل پی کی قیادت فلسطین کے حق میں
02:30اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال پر قائم تھی
02:33اور دوسری طرف
02:34حکومت بھی خاموش نہیں بیٹھی تھی
02:37بلکہ سعاد رزوی اور ان کی جماعت کو ختم کرنے کے لیے
02:40مسلسل کوششیں کی جا رہی تھی
02:42سوال یہ تھا
02:43کیا سعاد رزاوی اپنی کال واپس لیں گے
02:46لیکن اگلے چند دنوں میں جو کچھ ہوا
02:49اس نے پورے معاملے کو ایک بڑے تصادم میں بدل دیا
02:53سات اکتوبر دو ہزار پچیس
02:56حالات ایک نئے موڑ میں داخل ہو چکے تھے
02:58جب شہر بکھر میں
03:00ٹی ایل پی کے نائب امیر
03:02پیر سید زہیر الحسن جلسے سے واپس روانہ ہو رہے تھے
03:06تو بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے انہیں گھر لیا
03:09کچھ ہی دیر میں انہیں گرفتار کر لیا گیا
03:12یہ گرفتاری آنے والے واقعات کی ایک اہم کڑی ثابت ہوئی
03:15آٹھ اکتوبر دو ہزار پچیس
03:18حالات مزید کشیدہ ہو چکے تھے
03:20جامعہ مسجد رحمت للعالمین
03:23کے قریب صورتحال انتہائی سنگین نظر آنے لگی
03:26جہاں زخمی
03:27افراد موجود تہے
03:28اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید
03:31کشیدہ گی جاری تھی
03:32آنے والے دنوں میں یہ صورتحال
03:35مزید خطرناک رخ اختیار کرنے والی تھی
03:38حکومت کا منصوبہ
03:39مکمل طور پر ناکام ہو چکا تھا
03:42یہ وہ دن تھا
03:43جب حالات نے ایک انتہائی خطرناک رخ اختیار کر دیا
03:46مسجد کے اندر خون ریزی
03:48اور ہلاکتوں نے
03:49ہر طرف خوف کی فضاء پیدا کر دی
03:51پولیس نے مسجد کے خلاف کئی مرتبہ کاروائی کی
04:06پھر ایک اور تشویش ناک منظر سامنے آیا
04:09زخمیوں کو لے جانے کے لیے
04:11امبولینس پہنچی
04:12مگر پولیس نے اسے بھی روک دیا
04:14اور یوں جو صورتحال پہلے ہی سنگین تھی
04:18وہ مزید بگڑتی چلی گئی
04:19یہ وہ لمحہ تھا
04:21جب حالات نے اچانک ایک خطرناک رخ اختیار کیا
04:24مسجد کے اندر پولیس کی فائرنگ سے
04:26دو افراد جان کی بازی ہار گئے
04:29لیکن واقعہ یہاں ختم نہیں ہوا
04:31حالات مزید کشیدہ ہوئے
04:33تو مسجد کے اندر ایک بار پھر فائرنگ کی گئی
04:36جس کے نتیجے میں
04:37متعدد کارکنان زخمی ہو گئے
04:39نو اکتوبر دو ہزار پچیس
04:41یہ وہ دن تھا
04:42جب حالات نے ایک انتہائی سنگین موڑ اختیار کر لیا
04:46شہید ہونے والے افراد کی لاشیں
04:48ہسپتال منتقل کرنے کے لیے
04:50ایمبولنس پہنچیں
04:51لیکن پولیس نے لاشیں اپنی تحویل میں لے لی
04:54پولیس کی جانب سے
04:55لوحقین پر دباؤ ڈالا گیا
04:57کہ انہیں تحریری طور پر یہ لکھ کر دینا ہوگا
05:00کہ ان کے عزیزوں کو
05:01ساد رضاوی نے گولی ماری تھی
05:03اور اس کے بعد ہی ان کے لوحقین کی لاشیں
05:06انہیں دی جائیں گی
05:07لیکن لوحقین نے یہ لکھنے سے انکار کر دیا
05:10جس کے بعد پولیس نے
05:11ان پر دہشتگردی کے مقدمات درج کر دیے
05:14لیکن پھر ایک اور حیران
05:16کن واقعہ سامنے آیا
05:18سید ہشمت اللہ کو گولی مار کر
05:20قتل کر دیا گیا
05:22جب ان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے
05:24بھیجا جا رہا تھا
05:25اسی دوران ان کی لاش اور لوحقین
05:28سمیت ایمبولنس کو اگوا کر لیا گیا
05:32اس دوران ریاستی اداروں نے
05:34انہیں دباؤں میں ڈال کر کہا
05:36کہ انہیں تحریری طور پر لکھ کر دینا ہوگا
05:38کہ ساد رزوی نے
05:40ان کے بھائی کو گولی ماری تھی
05:56ایک طرف سائد ہشمت اللہ کی لاش
05:58غائب ہو چکی تھی
05:59دوسری طرف ان کی بہنیں اگوا کا سامنا کر رہی تھی
06:03اور ان پر ایک ایسا بیان لکھنے کے لیے
06:05دباؤں ڈالا جا رہا تھا
06:07جس نے اس پورے معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا
06:10اور سنگین بنا دیا تھا
06:12نو اکتوبر کے یہ واقعات
06:14صورتحال کی سنگینی کو ایک نئے مقام تک لے گئے
06:16ایسا محسوس ہو رہا تھا
06:18کہ حالات اب قابو سے باہر ہوتے جا رہے تھے
06:22پولیس نے جامعہ مسجد رحمت العالمین کو
06:24یاتیم خانہ چو اور اس کی مورن
06:26دونوں اطراف سے گھیر لیا
06:28دس اکتوبر کی صبح اچانک
06:30ایک بار پھر فائرنگ اور شیلنگ کی گئی
06:32جس کے نتیجے میں متعدد کارکنان زخمی ہو گئی
06:39جمحہ کا دن آ گیا
06:40اور لوگ نماز کی تیاری میں مصروف تھے
06:42کہ اچانک پولیس نے ایک بار پھر حملہ کر دیا
06:45پرامن کارکنان نے پولیس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا
06:48جس کی وجہ سے پولیس ہار گئی
06:50اور اسے پیچھے ہٹنا پڑ گیا
06:52پھر اس وقت جب کسی کو خبر بھی نہ تھی
06:55اسی لمحے سب بدل گیا
06:56جب سعید رزوی نے وہ لانگ مارچ
06:59جو فیض آباد سے اسلام آباد کی طرف جانا تھا
07:02اب جامع مسجد رحمت العالمین لاہور سے
07:04اسلام آباد کی طرف جانے کا اعلان کر دیا
07:18جمحہ کی نماز ختم ہوئی
07:20اور اس کے فوراں بعد
07:21ایک بڑا قافلہ امریکی سفارت خانے کی جانب روانہ ہو گیا
07:25کسی کو خبر نہ تھی کہ آنے والے چند گھنٹے
07:28اس مارچ کے لیے ایک نئے مرحلے کا آغاز کرنے والے ہیں
07:31پہلا حملہ یتیم خانہ چوک پر ہوا
07:34لیکن پولیس کی کارروائی مارچ کو روپنے میں ناکام رہی
07:38اس کے بعد دوسرا حملہ منارے پاکستان کے مقام پر کیا گیا
07:47مگر مارچ رکا نہیں
07:49کافلہ آگے بڑھتا ہوا شدرہ پہنچ گیا
07:51یہاں پنجاب پولیس کی جانب سے
07:54ایک بار پھر فائرنگ اور شیلنگ کی گئی
07:57جس کے نتیجے میں متعدد کارکن زخمی ہوئے
08:01شدرہ میں پیش آنے والے اس واقعے نے
08:03مارچ کے اگلے مرحلے کو مزید مشکل بنا دیا
08:06گیارہ کارکنان شہید ہو چکے تھے
08:09جبکہ ایک سو سے زائد زخمی تھے
08:11ایسے میں بظاہر یہی محسوس ہو رہا تھا
08:14کہ شاید سعید سعید رزوی کا لانگ مارچ اب
08:16رک جائے گا یا پیچھے ہٹ جائے گا
08:18لیکن حقیقت اس کے براکس تھی
08:20یہ محض حکومت کی ایک غلط فہمی ثابت ہونے والی تھی
08:23لانگ مارچ ابھی ختم نہیں ہوا تھا
08:26بلکہ کارکنان نے تمام رکاوتوں کے باوجود
08:29اپنا سفر جاری رکھا
08:30رات گہری ہو چکی تھی
08:32اور راوی پل پر لانگ مارچ کے شرکہ سڑک پر ہی موجود تھے
08:35کسی کو اندازہ نہیں تھا
08:37کہ اگلے ہی لمحوں میں
08:38یہ خاموش رات ایک نئے تنازہ کا آغاز بننے والی ہے
08:41سعید رزوی کا لانگ مارچ راوی پل تک پہنچ چکا تھا
08:44جہاں کارکنوں نے سڑک پر ہی رات گزاری
08:48رات کے اسی پہر پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی
08:51اور پولیس نے ایک بار پھر فائرنگ شروع کر دی
08:53جس کے باس راوی پل پر موجود قافلے میں
08:56خوف و حراس پھیل گیا
08:58گیارہ اکتوبر
08:59وہ دن تھا جب انسانیت بھی شرمندہ تھی
09:02اس روز ساتھ رزوی کے گھر کا سارا سامان اٹھا لیا گیا
09:07جبکہ تمام اہل خانہ
09:09جن میں دو سالہ بچی بھی شامل تھی
09:14سب کو اگوا کر لیا گیا
09:15اسی دوران خادم حسین رزوی کی مسجد اور مدرسے پر بھی قفضہ کر لیا گیا
09:20واقعات ایک کے بعد ایک رونمہ ہو رہے تھے
09:22ہر گزرتا لمحہ ایک نئی کہانی رقم کر رہا تھا
09:26لاہور سے راوی تک فائرنگ کے ذریعے
09:28مارچ کو روکنے کی کوشش کی گئی
09:30یہاں تک کہ راوی کے مقام پر خندقیں کھوڑی گئیں
09:33اور راستے میں کنٹینر بھی کھڑے کر دیئے گئے
09:36لیکن جب ان تمام اقدامات کے باوجود مارچ نہ رکا
09:39تو کنٹینر کے پیچھے بھی پولس کی نفری تائینات کر دی گئی
09:43اور پھر سے سیدھی گولیاں چلانا شروع کر دی گئیں
09:48مقصد واضح تھا
09:49ساد رزوی اور ان کے کارکنوں کو آگے بڑھنے سے روکنا
09:53مگر شاید یہ اندازہ درست نہیں تھا
09:55تمام رکاوٹوں کے باوجود مارچ جاری رہا
09:59اور کارکن پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے
10:01مارچ کو روکنے کی کوششوں کے دوران
10:04درجنوں کارکن زخمی اور ہلاک ہوئے
10:14اس کے باوجود مارچ جاری رہا
10:16اسی دوران پولیس نے مارچ کو دوبارہ روکنے کے لیے
10:19شورا کے ارکان کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا
10:22ان میں فاروق الحسن قادری اور سید احمد شاہ بخاری کے گھر بھی شامل تھے
10:28مگر اس کے بعد بھی مارچ کا قافلہ اپنی پیش قدمی جاری رکھے رہا
10:33اور راستے میں کھڑی کی گئی رکاوٹیں
10:35اسے اپنی منزل کی طرف بڑھنے سے نہ روک سکیں
10:38بارہ اکتوبر دو ہزار پچیس
10:40وہ دن جب حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا
10:44کہ مذاکرات جاری ہیں
10:46لیکن دوسری جانب
10:48کوئی اور ہی منظر سامنے آ رہا تھا
10:51ایک جانب مذاکرات کا اعلان کیا جا رہا تھا
10:55تو دوسری جانب بڑی تعداد میں پولیس اہلکار
10:58اور سیکیورٹی نفری تائیونات کی جا رہی تھی
11:00سوال یہ تھا
11:02کہ اگر مذاکرات جاری تھے
11:04تو اتنی بڑی سیکیورٹی کیوں تیار کی جا رہی تھی
11:07حکومت کے اقدامات پر یہ بھی سامنے آیا
11:10کہ مذاکرات کے نام پر
11:12کسی بڑے آپریشن کی تیاری کی جا رہی تھی
11:14یوں لگ رہا تھا
11:16کہ مذاکرات کے نام پر
11:18ماسوموں کے خون سے
11:19بھولی کھیلنے کی تیاری کی جا رہی تھی
11:23اور پھر آیا تیرہ اکتوبر دو ہزار پچیس کا وہ دن
11:26جب ایک طرف لوگ
11:28لانگ مارچ کی جانب بڑھ رہے تھے
11:30تو دوسری طرف حکومت کی جانب سے بھی
11:33ایک اور منصوبہ تیار کیا جا رہا تھا
11:35کسی کو معلوم نہیں تھا
11:37کہ آنے والی رات کیا منظر پیش کرنے والی ہے
11:40تیرہ اکتوبر کی رات
11:42آپریشن شروع ہونے سے چند گہنٹے
11:45پہلے تحریکی لبیک پاکستان کی قیادت نے
11:48میڈیا کے سامنے ایک اہم پریس کانفرنس کی
11:51اس موقع پر ساد رزوین پولیس کی جانب سے
11:54فائرنگ اور شیلنگ کا ذکر کرتے ہوئے
11:57اپنے اوپر ہونے والے
11:59ظلم کی پوری داستان سنائی
12:01اور رات بھر پیش آنے والے
12:03واقعات کی تفصیلات پیان کی
12:05لیکن اس کے بعد ایک اہم سوال سامنے آیا
12:08یہ پریس کانفرنس
12:11بڑے میڈیا پلٹ فارمز
12:12پر نشر کیوں نہ ہو سکی
12:14اور بعد میں اس کی ویڈیو یوٹیوب
12:17سمیت سوشل میڈیا سے بھی غائب کیوں ہو گئی
12:20آپریشن سے پہلے ہونے والی
12:22یہ پریس کانفرنس
12:23اور اس کے بعد ویڈیو کا غائب ہو جانا
12:26اس رات کے واقعات کے بارے میں
12:28کئی سوالات ضرور چھوڑ گیا
12:30اور پھر آئی وہ ہولناک رات
12:32تیرہ اکتوبر کی رات
12:34بارہ بجے حکومت کی جانب سے
12:36آپریشن شروع کر دیا گیا
12:38فارسز نے لانگ مارچ کا گہی راؤ شروع کر دیا
12:41جبکہ وقفے وقفے سے
12:43شائلنگ اور سٹریٹ فائرنگ کا
12:45سلسلہ بھی جاری رہا
12:47تاکہ مارچ کو منتشر کیا جا سکے
12:49پھر رات کے تقریباً دو بجے
12:51فارسز نے سٹریٹ فائرنگ
12:53تیز کر دی
12:54اسی دوران کنٹینر سے سادھ رزوی کا
12:57بیان سامنے آیا کہ ان کی
12:59مذاکراتی کمیٹی جسے
13:01مذاکرات کے لیے بلایا گیا تھا
13:02اسے روک دیا گیا ہے اور
13:05ایجنسی نے انہیں اپنی حراست میں لے لیا ہے
13:07سادھ رزوی نے
13:08کنٹینر سے متعدد بار کہا
13:10کہ ہماری مذاکراتی کمیٹی کو
13:12واپس آنے دیا جائے وہ جو
13:15اعلان کریں گے ہم اس پر من
13:17او انعمل کریں گے
13:18اگر انہوں نے مارچ ختم کرنے کا کہا
13:20تو ہم اسی وقت مارچ ختم کر کے
13:23واپس چلے جائیں گے
13:24یہ میرا پیغام بھونی پاکستانی کون کے نام ہے
13:26ہمارے شار لوگ مذاکرات کے لیے گئے ہیں
13:29انہیں بھی مار ہوگ لیا گیا ہے
13:30یہ کون سے لوگ ہیں جو مذاکرات نہیں ہونے دے پا رہے
13:33حالات کو ٹھیک نہیں ہونے دے رہے
13:35یہ کون ہے بھئی
13:36مذاکرات کے لیے گئے ہوئے لوگوں کو واپس بھی نہیں آنے دیا جارہا
13:39کہ وہ پیغام ہم تک پہنچائے
13:40میرا یہ پیغام ہے ان تمام کے نام
13:42ان تمام سیاسی و سماجی و مزدی شخصیات کے نام
13:45کیوں پاکستان کے اندر
13:46پلسطین کے ہاتھ میں نکلنے والوں کا خون
13:49بھانے کی تیاری کی جارہی ہے
13:50ہم سے کہا گیا تھا کہ آپ روکے مذاکرات کرتے ہیں
13:52تقریبا ہمیں تیس گھنٹے سے اوپر ہو گئے ہیں
13:55تیس گھنٹے ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں مذاکرات کے لیے
13:57لیکن مذاکرات نہیں کیے جارہے
13:59کوئی بات چیت نہیں کی جارہی
14:00پہلے جو بات چیت کرنے والے تھے انہیں گرفتار کر لیا گیا
14:03آپ جو دوبارہ ٹیم بنا کر بھیجی گئی ہے
14:05انہیں بھی واپس نہیں آنے دیا جارہا
14:06تاکہ وہ ہمیں بعد سورتحال کوئی آ کر بتائیں
14:09تو میں یہ سب کو پیغام بیجتا ہوں
14:10کہ کیا بجاہ ہے کہ صرف خون بہانے سے
14:12ان کا دل رچھا رہا ہے ہمارا خون بہانے سے
14:14لیکن کون سی ایسی بات ہو گئی ہے
14:16جس کی وجہ سے مذاکرات بھی ٹھڑا کا شکار
14:18آپ مذاکرات کے ٹیم کو بھی نہیں آنے دیا جارہا
14:33لیکن اس کے باوجود مذاکراتی کمیٹی کو
14:36واپس نہ آنے دیا گیا
14:37اور مارچ کا چاروں طرف سے گہی راؤ کر لیا گیا
14:40رات تقریباً دو بجے سے صبح
14:43چھ بجے تک جاری رہنے والے
14:45اس آپریشن میں کئی ہزار کارکن زخمی ہو گئے
14:47جبکہ ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر گئی
14:51اس دوران کارکنان پر
14:53ظلم و ستم کی انتہا کر دی گئی
14:54ان پر سیدھی گولیاں چلائے گئیں
14:57اور بکتر بند گاڑیوں سے کچل دیا گیا
14:59فرانٹ سائیڈ سے
15:00شیلنگ سارٹ ہو گئی ہے
15:05یہ آپ دیکھیں
15:06یہ فرانٹ سائیڈ سے میں آپ کو کوریش کر کے دے رہا ہوں
15:09انتہائی شدید
15:13انتہائی شدید یہ آپ دیکھیں
15:14یہ بم پھینک رہا ہے
15:16انتہائی شدید ہم لے
15:18تا جدار ہے ختم ہے نبوبت کے آپ دیکھیں
15:21یہ دیکھیں
15:22یہ دیکھیں
16:11دیکھیں
16:12لیکن
16:14دیکھیں
16:14ڈیسر
16:28اس کے بعد وہ ٹیرالا جس میں زخمی کارکنان موجود تھے
16:32اسے آگ لگا دی گئی
16:34زندہ کارکنان کو جلایا گیا
16:36اور بعد ازاں ان کی لاشوں کو غائب کر دیا گیا
16:39کچھ لاشیں نالوں میں پھینک دی گئیں
16:42جبکہ سڑکوں پر اس طرح لاشیں بکھری پڑی تھی
16:45گویا وہ پاکستان نہیں بلکہ فلسطین کی سڑکیں ہوں
16:49آپریشن کے بعد جو بھی کارکن سامنے آتا
16:53اسے چن چن کر گولیا ماری گئیں
17:36ساد رزوی نے ان حرامیوں کو حلالی ماں کا واسطہ دیا
17:39لیکن پھر بھی وہ گولیاں پر گولیاں چلاتے رہے
17:43تم نے حلالی ماں کا دو رہے بھیا
17:45تم کیسے ان کے گولاموں پر گولیاں چلاتے ہیں
17:47ہم کوئی انڈیا ہے
17:48ہم کوئی انڈیا سے آئے ہیں
17:49ہم کوئی کسی پروڑ سے آئے ہیں
17:51didابہ چلے جاہو
17:52تمہاری نسروں کو بھی اللہ آباد کر دے گا
17:54گولیاں چلاؤ
17:56گولیاں چلاؤ
17:57گولیاں چلاؤ
17:58گولیاں چلاؤ
17:59گولیاں پھر
17:59میں تمہیں کہتا ہوں گولی مجھلاؤ
18:00اللہ تمہاری نصروں کو بھی آباد کرے گا
18:02اور ہمارے بھائیوں واپس چلے جاؤ
18:04اور ہمارے دوستوں واپس چلے جاؤ
18:06اور ہمارے بھائیوں واپس چلے جاؤ
18:08ہم تم سے یہ کہتے ہیں
18:09ہم تمہارے بھائی ہیں
18:10ہم تمہارے بھائی ہیں
18:12ہم کسی مقصد کے لیے نہیں نکلے
18:14ہم تو فلسطینیوں کو گولیوں سے بچانے کے لیے نکلے تھے
18:16آپ ہمیں گولیاں مارنے کے لیے آگئے ہو
18:18اور یار ہم تو تمہیں اپنا بھائی کہتے ہیں
18:48مگر وہ
18:50لوگ مکمل پلاننگ کے ساتھ
18:52صرف اور صرف تحریک کو جڑ سے اکھارنے
18:54کے لیے اور تمام تر قیادت
18:56کو ٹارگٹ بنا کر آئے تھے
18:57اس لیے انہوں نے تاریخی ظلم
19:00برپا کیا اور پھر جب شدید
19:02ترین آپریشن کے دوران
19:04ہر طرف بہڑکتی آگ لگ گئی
19:06تو اسی دوران صرف ایک
19:08جلا ہوا کنٹینر نظر آیا
19:10اس دوران اس کنٹینر
19:12کے ساتھ کیا ہوا
19:13اس پر موجود قیادت کہاں گئی
19:15کون انہیں اٹھا کر لے گیا
19:18وہ کس ایجنسی کے پاس ہیں
19:20یہ سوال ابھی تک ایک سوالیا
19:22نشان ہے کسی کو ٹھیک
19:24معلوم نہیں کہ اس کنٹینر
19:26کے ساتھ تب کیا ہوا
19:27صرف ایک جلا ہوا کنٹینر اور کنٹینر
19:30پر لگی آگ نظر آئی
19:32لیکن اس کے اور پیچھے کیا ہوا
19:35یہ کسی کو کچھ معلوم نہیں
19:37پھر اس کے بعد
19:38تقریباً صبح کے آٹھ بجے
19:40ساد رزوی کی ایک ویڈیو
19:42سامنے آتی ہے جس میں دعوی
19:44کیا گیا تھا کہ وہ بے ہوش
19:46ہو رہے ہیں اور انہیں دو
19:48گولیاں لگی ہوئے ہیں
20:05لیکن اس کے چند ہی گھنٹوں
20:07بعد انس رزوی کے
20:08آفیشل وارٹس ایک چینل پر
20:10ایک پیغام جاری کیا جاتا ہے
20:12کہ انس رزوی شہید ہو چکے ہیں
20:14لیکن سوال یہ ہے
20:16کہ یہ پیغام کس کی جانب سے
20:18جاری کیا گیا
20:19اگر فون انس رزوی کے پاس تھا
20:21تو پیغام کس نے بھیجا
20:23اور اگر یہ تصور کیا جائے
20:25کہ فون کسی اور کے پاس چلا گیا تھا
20:28تو اس وقت ساد رزوی بھی
20:31ان کے ساتھ موجود تھے
20:32پھر دونوں بہائی کہاں گئے
20:34صرف اتنا ہی نہیں
20:36اس پیغام کو کچھ ہی
20:38دیر بعد ڈیلٹ بھی کر دیا گیا
20:40اور یہی وہ مرحلہ تھا
20:42جہاں سوال اور بھی گہرا ہو گیا
20:44اگر پیغام درست تھا
20:47تو اسے حضف کیوں کیا گیا
20:48اور اگر وہ درست نہیں تھا
20:51تو اتنے حساس وقت میں
20:52اس قسم کا پیغام جاری
20:54کس بنیاد پر کیا گیا
20:56اس کے بعد کہانی نے
20:57ایک اور نیا رخ لیا
20:58رات کو میڈیا پر خبر چلائی گئی
21:01کہ انس رزوی اور ساد رزوی کو
21:04ٹریس کر لیا گیا ہے
21:06ہیٹ لگز آپ پہ جانی خبر دیں گے
21:07آپ کو کانون نافذ کرنے والے اداروں
21:09نے ساد رزوی اور انس رزوی کو
21:11ٹریس کر لیا ہے
21:12یار محمد ہمیں اس حوالے سے
21:13اپ ڈیٹ کریں گے
21:14یار محمد بتائی گا
21:17بلکل جی بس بھی جماعت کے سربراہ
21:19ساد رزوی اور ان کے بھائی
21:21انس رزوی کو
21:22کانون نافذ کرنے والے اداروں نے
21:24ٹریس کر لیا ہے
21:25اور ذرائے کے مطابق
21:28دونوں کا معلوم ہو چکا ہے
21:30وہ کس مقام پر موجود ہیں
21:32لیکن اداروں کا کہنا ہے
21:34کہ وہ خود کو
21:35کانون نافذ کرنے والے ادارے کے
21:37حوالے کرتے تو زیادہ بہتر ہیں
21:39اور دونوں زخمی ہیں یا نہیں
21:41جیسے ان کی جماعت کی جانب سے
21:43یہ پہلے بیان آیا تھا
21:44کہ ان کو فائر لگے ہیں
21:45یہ کہنا کبل از وقت ہے
21:47اور ان کو معلوم نہیں ہے
21:48ذرائے کا کہنا ہے
21:49جبکہ دوسرے جانب
21:50یہ بارہا کہا جا رہا ہے
21:52کہ خود کو خود ہی حوالے کرتے
21:54تو زیادہ بہتر ہے
21:55نہیں
21:55تو ان کا معلوم ہو چکا ہے
21:57وہ کس موقع پر موجود ہے
21:58تو جو کانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں
22:00ان کو جلد وہاں سے گردار بھی کیا جائے گا
22:03اگر وہ خود کو
22:04کانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے نہیں کرتے
22:07ٹھیک ہے بہت سکی ہے
22:10لیکن یہاں بھی ایک بہت بڑا سوال سامنے آتا ہے
22:12جن دونوں افراد کے بارے میں
22:14اس سے پہلے میڈیا پر
22:16کوئی واضح خبر سامنے نہیں لائی گئی
22:19اچانک ان کے ٹریس ہو جانے کی
22:21خبر کیوں چلائی گئی
22:22اور اگر کسی شخص کو ٹریس کر لیا جائے
22:25تو کیا اس کی خبر
22:27اس طرح میڈیا پر عام کی جاتی ہے
22:29یا عموماً ایسی معلومات کو
22:31مخفی رکھا جاتا ہے
22:32یہاں ایک اور سوال بھی جنم لیتا ہے
22:35کہ کیا اس خبر کا مقصد
22:37صرف یہ تأثیر دینا تھا
22:38کہ انس رزوی اور ساد رزوی
22:41خود کہیں چلے گئے ہیں
22:42اگر ایسا تھا
22:43تو پھر اصل حقیقت کیا تھی
22:45دی آئی جی نے میڈیا پر بیٹھ کر
22:48یہ موقف دیا
22:49کہ وہ دونوں بھائی ہماری تہویل میں نہیں ہیں
22:51تو یہاں ایک سوال ضرور بنتا ہے
22:54اگر وہ دونوں بھائی
22:56سکیورٹی اداروں کی تہویل میں نہیں تھے
22:58تو پھر وہ کہاں گئے
23:00اور کیا اتنے شدید کریک ڈاؤن کے بعد
23:02یہ ممکن تھا
23:03کہ وہ وہاں سے بچ کر نکل سکتے
23:05اور پھر ایک اور سوال
23:08اگر واقعی وہ سکیورٹی اداروں کی تہویل میں نہیں تھے
23:11تو اس بات کی وضاحت
23:13میڈیا پر آ کر دینے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی
23:15کیونکہ اس وقت ہزاروں سوالات اور بے شمار باتیں ایسی تھیں
23:20جن کی وضاحت میڈیا پر نہیں کی گئی
23:22پھر خاص طور پر یہ وضاحت سامنے لانے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی
23:27اس پر انڈیاں میڈیا کی جانب سے بھی ایک بہت بڑا انکشاف سامنے آیا
23:31کہتے ہیں ساد رزوی جو کہ ان کا ہیڈ ہے
23:33اس کو تین گولیاں نہیں
23:36تیل پی چیف حافظ ساد رزوی
23:37was repeatedly shot multiple times
23:38and is now in critical condition
23:39despite the violence
23:40رزوی urged his supporters to remain calm
23:42while the party assesses next steps
23:43government and security response
23:45deployed paramilitary forces
23:46including pakistan rangers to guard key zones
23:47and prevent further escalation
23:48police and rangers surrounded the TLP protest camp
23:50near Munit ke clamping down on movement
23:51اچھا بجے ایک بات یہ سمجھ بھی نہیں آئی
23:52کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ
23:53تیل پی والے گئے
23:54موریت کے موریت کے وہ جگہ ہے
23:55یہاں پر لشک رہے تھا
23:55یہ باکے cams ہیں
23:56headquarters of Munit کی
23:57it's not very far from Lahore
23:58یہترنتج 350 کلوٹوس
23:59اللہور سے
24:00آپ ان کو روک کیوں رہے ہیں
24:02یہ بات ہم پاکستانیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں
24:04کہ آپ ان کو تیری کے لبے قوالوں کو
24:06روک کیوں رہے ہیں
24:07انہوں نے غلط کیا کرا
24:08آپ چاہتے ہیں
24:09یہودیوں کے خلاف اندھا ہو جائیں
24:10آپ چاہتے ہیں
24:11israel کو ریکگونایز نہ کرا جائیں
24:12آپ چاہتے ہیں
24:13کہ you should be
24:13in a constant state of war with israel
24:14یہ تو چاہتے ہیں
24:15یہ تو یہ بھی چاہتا ہے
24:16یہ جو شخص ہے
24:16یہ کیا جا رہا ہے یہ تج wollte
24:18یعنی کہیں پہ پاکستانی فوج ہے پاکستانی سٹیٹ ہے
24:22جس کو ہندی اللہ ہم لوگ کہتے ہیں قدنی اور کرنی
24:24ان کے قالوافل مفرق ہے
24:25یہ کہتے تو ہیں کہ ہم اسرائیل کے خلاف ہیں لیکن چپچاپ یہ اسرائل کے ساتھ ہیں
24:30چپچاپ اسرائیل کے ساتھ ہیں
24:32ایک بات بتعئیے سب
24:32یہ آدمی یہ کہتا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو ریکوگنیزridف کرنا
24:36یہ کہہ رہا ہے
24:36میں نے کہہ رہا یہ کہہ رہا ہے
24:38اسرائیل کے ساتھ کوئی uh no
24:40اسرائیل کو ریکموش نہیں کرنا
24:41ہنے جب پاکستانی فوج بھی یہی کری
24:43اسرائیل کو ریکموش نہیں کرنا
24:44پاکستانی سرکار بھی بھیinander
24:45اسرائیل کو ریکموش نہیں کرنا
24:45پاکستانی پاسپورٹ کے لکھی اسرائیل نہیں جا سکتے
24:47چاگلا کہ کیوں کچیز کا
24:49جواب کچیز کایا ہے
24:50چاگلا یہ ہے کہ بیچ میں گلتی سے یہ امریک امبیسی کی امریکن
24:55یہ اس کی سب سب غلطی ہے
24:57آپ اسرائیل کو گالی دیجے
24:58یہ گھر میں بیٹھ کے کسی کو کوئی اپتی نہیں ہے لیکن جب اس بندے نے اپنے فاللورز کو بولا
25:01ہے
25:01چلو لیٹس مارچ
25:01تو دے یو ایس ایمباسی آسم منیر نے پکڑک اس کے دائیسو بندے
25:05یار اپنے ڈانالڈ ٹرم کے ساتھ کھانا کھایا آپ نہیں سمجھ رہے بات
25:07آپ ذرا اس کی گہرہ ہی سمجھئے
25:09ڈانالڈ ٹرم کے ساتھ بیٹھ کے آپ نے بھوجین کرا ہے
25:12آپ نے کھانا کھایا ہے
25:13اب آپ کو اس کا بیل دینا ہے
25:14یہ جو ڈانالڈ ٹرم کے ساتھ لنچ جو ہوا ہے
25:17اس کا بیل ہے یہ
25:18میں نے پاکستانیوں کو تب بھی بولا
25:21پاکستان کے جو رشتے ہیں وہ امریکہ سے بہت اچھے ہو رہے ہیں
25:24اس لئے بھارت کو حضم نہیں ہو رہا
25:25بھارت کی آزم کی فکر چھوڑ
25:27بھارت کی آزم کی فکر چھوڑ
25:28یہ جو حاملہ کر آئے
25:30تم نے تالیبان کے اوپر کابون کے اوپر
25:31تالیبان نے پھر تمہیں ٹھوکا ہے
25:32یہ بھی اس لنچ کی قیمت ہے
25:34اس کا دام چکا رہے اس لنچ کا اور تم چکاتے راؤ گے
25:36میں یہی کہہ رہا ہوں
25:37جب بھی پاکستانیوں نے گونوں سے ہاتھ بلایا ہے
25:39پاکستان میں کھون بہا ہے
25:40یہ وہی ایک کھون کا پروف ہے
25:41یہاں پہ گورمنٹ پانجاب
25:43یہ کہتے ہیں
25:43اٹacks on the state shooting and violence against police
25:45destruction of property and looting are not protest
25:46they are open rebellions
25:47they are terrorism
25:48the armed groups of the TLP
25:49are not above the law
25:50when state asserts his will
25:51these mass criminals pretend to be the victims
25:53but listen to this
25:53the state is not weak
25:54state is not weak
25:56یہ دکھانے کے لئے فوٹو لگائی ہے
25:57کہ ہم لوگ کمزور نہیں ہیں
25:58ڈائیسو لوگ مارتی ہیں
25:59انہوں نے یہ دکھانے کے لئے
25:59کہ بہت مضبوط ہیں
26:02آپ نے نہرتے بندے ڈائیسو مارتی ہے
26:04میں یہی پاکستانی سٹیٹ سے پوچھتا ہوں
26:05پاکستانی فوٹ سے پوچھتا ہوں
26:06اچھا کر آپ نے ڈائیسو بندے
26:07آپ نے خود کے مارتی ہے
26:09لیکن جب تالیبان نے
26:10آپ کے اوپر حملہ کرتا
26:10تو آپ نے ڈائیسو کیوں نہیں مارتے ہیں
26:14جب آپ کافر انڈیا کے ساتھ لڑ رہے تھے
26:15آپریشن سندور کے دوران
26:16آپ نے ڈائیسو کیوں نہیں مارتے ہیں
26:19سوچئے ذرا
26:20جب بہلوچستان میں جاتے ہیں
26:21تو آپ ڈائیلے والے کیوں نہیں مارتے ڈائیسو
26:23جب ہم آئیبرپکتون قاو میں جاتے ہیں
26:24تو آپ ڈائیری کے
26:25ٹیو چینل والے دکھانے رہے
26:28کیونکہ ان کے پاس ہتھی آ رہے
26:29کیونکہ پاکستانی فوج کی اور پاکستانی سیکیورٹی کی اور پاکستانی سٹیٹ کی
26:33صرف نیاتوں پہ چلتی ہے مستان
26:35انہوں نے ٹھوک دیا
26:35لائس آپ کوئی دکت نہیں ہے
26:36اور ان کے ٹی وی چینل والے دکھانے رہے
26:38ان کے ٹی وی چینل والے دکھانے رہے
26:40وہ بھی میں آپ کو آگے چل کے بتاؤں گا
26:41کہ کتنا بڑا کور آف آپریشن پاکستان میں ہوا ہے
26:43کہ ایک طرف عام لوگ لاشنڈ ہو رہے ہیں اور دوسری طرف
26:47اس کے بعد سعید رزوی کی کوئی خبر نہ مل سکی
26:49کہ وہ کہاں گئے کہاں نہیں
26:51ان کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کیے گئے
26:54مگر حقیقت کیا تھی
26:55یہ واضح نہ ہو سکا
26:57اور پھر اکیس اکتوبر
26:59دو ہزار پچیس کو ان کی جماعت کو
27:01کلا دم قرار دے دیا گیا
27:03وفاقی کابینا نے تحریک لبیت پاکستان کو
27:05کلا دم قرار دینے کی منطوری دے دی ہے
27:07فیصلہ انصدادے دشت گلدی ایٹ کے تحس کیا گیا ہے
27:09کابینا نے وزارت داخلہ کو
27:11ذاپتی کی کاروائی کی ہدایہ چاری کر دی ہے
27:12ٹیل بیٹ پر پابندی کے سپارش حکومت پنجاب میں کی تھی
27:15تقریباً چار ماہ
27:16بعد رکنی شورہ سرور سیفی کا یہ بیان سامنے آیا
27:20کہ ساد رزوی ایجنسیوں کی تحویل میں ہے
27:23تیرہ اکٹوبر سے لے کر
27:24آج تک
27:25تم ساد رزوی کو
27:27ہر جبر استعمال کرنے کے باوجود
27:30ان کے موقف سے نہ اٹا سکے
27:32دنیا جانتی ہے کہ ایجنسیوں کی تحویل میں رہ کر
27:35اپنے موقف پر ڈٹا رہنا
27:37یہ کتنا مشکل کام ہوتا ہے
27:38لیکن ساد رزوی
27:40میں دونوں آتوں سے تیری عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں
27:43لیکن یہاں ایک سوال ضرور اٹھتا ہے
27:45کیا حالات اتنے خراب ہو چکے تھے
27:48کہ شورہ کو بھی اپنے ہی لیڈر کے بارے میں
27:50یہ معلوم کرنے میں چار ماہ لگ گئے
27:53کہ وہ کہاں ہیں
27:54اور اگر چار ماہ بعد یہ بات سامنے آئی
27:57کہ ساد رزوی ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں
27:59تو پھر سوال یہ ہے
28:01کہ آخر ان کی موجودگی کی تصدیق کرنے میں
28:04اتنا طویل وقت کیوں لگا
28:06کیا انہیں اتنے خفیہ اور سخت حالات میں
28:09حراست میں لیا گیا تھا
28:11کہ ان کے بارے میں معلومات تک پہنچنا بھی ممکن نہیں تھا
28:13یہ سوالات اس وقت کے واقعات کو مزید پراسرار بنا دیتے ہیں
28:18کیا ان تمام واقعات اور ساد رزوی کی مبینہ جبری
28:21گمشدگی کے پس پشت
28:23صرف حکومتی اقدامات ہی تھے
28:26یا پھر کہیں
28:27علماء کی خاموشی نے بھی اس کہانی میں
28:29ایک اہم کردار آدھا کیا
28:30کرائپ ڈاؤن سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی
28:33مفتی منیب الرحمان سے
28:36حکومتی رہنماؤں کی متعدد ملاقاتیں ہوئیں
28:38خبر یہ کہ محسن نکوی اور تلال چوہدری سے
28:40مفتی منیب الرحمان کی سربراہی میں وفت کی ملاقات ہوئی ہے
28:43بات کریں گے زلکنین حیدر ہمارے ساتھ موجود ہے
28:53بتائیے اس ملاقات کے بارے میں
28:57زلکنین حیدر
29:16ہم سب ایک ہے اور پاکستان سب سے پہلے ہیں
29:18علماء کرام کی پاکستان کے لئے خدمات
29:20کامل ستائش ہیں
29:21وفت میں علامہ لیاکستان ناظری
29:23مفتی آبیت ممبارک بطنی اور
29:24ملک محمد ابراہیم بھی شامل سے
29:27مگر کوئی ایسی نمائیہ
29:29بیش رفت سامنے نہ آ سکھی
29:31جو ساد رزوی کے بارے میں
29:33کوئی واضح جواب دے سکتی
29:34اور پھر جب اس سارے کریک ڈاؤن کا
29:37ایک اہم ترین
29:38حکومتی کردار
29:39وزیر اعلیٰ پنجاب
29:41پریس کانفرنس کر رہی تھی
29:43تو مفتی منیوہی اس کے ساتھ بیٹھے رہے
29:46وزیر اعلیٰ جوہوٹ پر
29:48جوہوٹ بولتی رہی
29:49مگر مفتی منیوہی بود رحمان
29:51ان سے موس نہیں ہو رہے
29:53تو کہیں ایسا تو نہیں
29:55کہ ان تمام واقعات اور ساد
29:57رزوی کی جبلی گمشدگی کے پیچھے علماء کی
30:00یہ خاموشی بھی ایک اہم کردار
30:03ادا کر رہی تھی
30:04کہیں اس سارے ہونے والے واقعے کے پیچھے
30:07کہیں نہ کہیں علماء کی یہی خاموشی
30:09تو ایک چھپا ہوا
30:11بہیانک کردار ادا نہیں کر رہی تھی
30:13بہرحال
30:14کئی ماہ گزر جانے کے باوجود
30:17ساد رزوی کی مبینہ جبلی گمشدگی کے معاملے میں
30:20کسی قسم کی مصبت پیش رفت سامنے نہ آ سکی
30:24وقت گزرتا رہا
30:26اور ہر طرف ایک ایسی خاموشی چھائی رہی
30:29جو اپنے اندر کئی سوالات سمیٹے ہوئے تھیں
30:32مگر ان سوالات کے کوئی
30:34واضح جواب موجود نہ تھے
30:36اسی دوران کچھ عرصے بعد
30:39تحریک لبیک کے رکنی شورا
30:41سید سرور سیفی کی جانب سے
30:44ایک آڈیو سامنے آئی
30:45اس آڈیو میں وہ یہ کہتے ہو پائے گئے
30:48کہ انہیں مذاکرات کی میز پر
30:51اس لیے نہیں بٹھایا
30:52چاہ رہا کیوں کے
30:54ادارے ساد رزوی کو سیاسی
30:56تور پر مائنس کرنا چاہتے ہیں
31:13یہ آڈیو منظریام پر آنے کے بعد
31:15تیزی سے وائرل ہوئی
31:17اور اس نے ساد رزوی کے معاملے کو
31:19ایک نئی بحث میں تبدیل کر دیا
31:22آڈیو میں کیے گئے
31:24داوو نے اس داثر کو تقویت دی
31:26کہ ساد رزوی ممکنہ تور پر
31:29ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں
31:31اور ان پر اپنے سیاسی موقف سے پیچھے
31:34ہٹنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے
31:36سرور سیفی کے بیان کے مطابق
31:39اگر ساد رزوی
31:41اپنے موقف سے پیچھے
31:42ہٹنے پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے
31:45تو انہیں مائنس کرنے کا مطلبہ کیا جا رہا تھا
31:48تاہم یہ تمام باتیں
31:50آڈیو میں موجود داؤں پر مبنی تھی
31:53اور ان کی آزادانہ طور پر
31:55تصدیق ایک الگ سوال تھا
31:57اس کے باوجود
31:58یہ آڈیو اس پورے معاملے میں اہم بل گئی
32:01کیونکہ اس نے ساد رزوی کی مبینہ جبری گمشدگی
32:05حکومتی اداروں کے کردار
32:07اور مذاکرات کے پسپشت
32:09مبینہ مطالبات سے
32:11متعلق کئی نئے سوالات کو جنم دیا
32:13اس آڈیو کے منظر عام پر آنے کے
32:15چند ہی دن بعد
32:16ساد رزوی سمید 23 افراد کو
32:18اشتہاری قرار دے دیا گیا
32:21لیکن اگر ساد رزوی پہلے ہی
32:23ایجنسیوں کی تہول میں تھے
32:25تو پھر انہیں دہشتگرد قرار دینے کی ضرورت
32:28کیوں پیش آئی
32:29کیا اس کے پیچھے مقصد عوام کو یہ تأثیر دینا تھا
32:32کہ ساد رزوی کہیں چھپ گئے ہیں
32:34اور اگر وہ ایجنسیوں کے پاس بھی نہیں تھے
32:37تو پھر اتنے بڑے کریک ڈاؤن کے بعد
32:39وہ اچانک کہاں غائب ہو گئے ہیں
32:41نہ ان کی گرفتاری سامنے آئی
32:43نہ کوئی واضح مقام
32:45نہ ہی ان کے بارے میں کوئی قابلی اعتماد اطلاع
32:48کیا یہ محض اتفاق تھا
32:50یا پھر اس خاموشی کے پیچھے
32:52کوئی ایسی حقیقت تھی
32:54جسے عوام سے چھپایا جا رہا تھا
32:55اور یہی وہ مقام ہے
32:57جہاں سب سے بڑا سوال جنم لیتا ہے
33:00ایک ایسے شخص کا
33:01جو ملک کی ایک بڑی سیاسی تحریک کی قیادت کر رہا تھا
33:05اچانک منظر عام سے غائب ہو جانا
33:07اس کے بعد اس کے مقام کے بارے میں
33:10کوئی واضح معلومات سامنے نہ آنا
33:12اور پھر ریاستی سطح پر
33:14اس کے خلاف انتہائی سخت کارروائی ہونا
33:16یہ تمام باتیں
33:18اس امکان کو ضرور تقویت دیتی ہیں
33:20کہ ساد رجوی کے معاملے میں
33:23وہ سب کچھ نہیں بتایا گیا
33:24جو حقیقت میں ہوا تھا
33:26تو کیا ممکن ہے
33:27کہ وہ کسی ادارے کی تحویل میں ہوں
33:29مگر اس کی بازابطہ تصدیق سے
33:32دانستہ طور پر بریز کیا جا رہا ہو
33:34اور اگر وہ اداروں کی تحویل میں نہیں ہے
33:37تو پھر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے
33:39آخر اتنے عرصے سے
33:41ان کے بارے میں کوئی واضح خبر سامنے کیوں نہیں آسکی
33:44اس کے بعد فن رائٹ کی جانب سے
33:47ایک آرٹیکل شایع کیا گیا
33:48اس میں کہا گیا
33:50کہ اکتوبر دو ہزار پچیس میں
33:52تحریک لبائک پاکستان کے خلاف
33:54کریک ڈاؤن کیا گیا
33:55جس کے بعد جماعت کے چیئرمین
33:58سادھ حسین رزوی تحال لاپتہ ہیں
34:01فن رائٹ نے پاکستانی حکام سے
34:03مطالبہ کیا
34:04کہ سادھ رزوی کو فوری طور پر
34:06عدالت کے سامنے پیش کیا جائے
34:08اور اس معاملے میں قانونی کارروائی کی جائے
34:11بیان میں یہ بھی کہا گیا
34:13کہ کسی شخص کو لاپتہ قرار دے
34:15کر اس کی حیثیت واضح نہ کرنا
34:18انسانی حقوق کی خلاف
34:20ورزی کے زمرے میں آتا ہے
34:21یہ بیان اس معاملے کو محض
34:24ایک سیاسی دعوے کے بجائے
34:26انسانی حقوق کے
34:27ایک اہم سوال کے طور پر بھی
34:30سامنے لے آیا
34:31یوں سادھ رزوی کی گمشدگی کا معاملہ
34:34صرف پاکستان کے اندر ہی نہیں
34:36بلکہ بین الاقوامی
34:38انسانی حقوق کے تناظر میں بھی
34:40زیر بحث آنے لگا
34:41لیکن پھر بھی سادھ رزوی کی جبری
34:43نظربندی کے بارے میں کوئی نمائع عدالتی
34:46یا قانونی کارروائی سامنے نہیں آئی
34:48ہر طرف خاموشی چھائی رہی
34:50اسی دوران سادھ رزوی کا
34:52ٹویٹر اکاؤنٹ جو کی اکتوبر
34:54دو ہزار پچیس میں بنایا گیا تھا
34:56اسے بھی معتل کر دیا گیا
34:58اس اکاؤنٹ کی معتلی نے
35:00ایک اور سوال کھڑا کر دیا
35:01کہ آخر سادھ رزوی کے اکاؤنٹ کو
35:04اس وقت معتل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی
35:07اس کی وجہ یہ تھی
35:08کہ حکومت کبھی بھی سادھ رزوی
35:10کو منظر عام پر نہیں لائے گی
35:12نہ ان کے اکاؤنٹ کو بھیل کیا جائے گا
35:14اور نہ ہی انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا
35:17یعنی اکاؤنٹ کی معتلی
35:19جبری نظربندی اور
35:21عدالتی کاروائی نہ ہونے کے
35:22یہ تمام واقعات ایک ہی طرف
35:25اشارہ کرتے نظر آتے تھے
35:26یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے
35:29کہ سادھ رزوی کو منظر عام پر لانے
35:31اور انہیں عدالت میں پیش کرنے کے بجائے
35:34معاملے کو خاموشی میں
35:35رکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی
35:37سادھ رزوی کے قیس میں
35:39چونکہ تحریک لبک
35:41پاکستان نے ہمیشہ قانونی اقدامات
35:43کو اپنی اولین درجہ قرار دیا ہے
35:45اسی وجہ سے
35:47سادھ رزوی کی اس بہترین
35:49نویت کی گمشدگی کے
35:51معاملے کو بھی قانونی سطح پر
35:53اٹھایا گیا
35:54سادھ رزوی کے بکلہ نے مبینہ جبری گمشدگی
35:57کے خلاف ہائی کورٹ سے
35:59رجوع کیا
35:59سپریم کورٹ میں بھی معاملہ اٹھایا
36:02اور پاکستان کی بڑی عدالتوں کے دروازے
36:05کھٹ کھٹ آئے گئے
36:06مقصد صرف ایک تہا
36:08کہ سادھ رزوی کی گمشدگی کے معاملے پر
36:11عدالتوں سے کوئی واضح پشرفت سامنے آئے
36:13لیکن حیران کن طور پر
36:15عدالتوں کی جانب سے
36:17اس معاملے میں ایک فیصد بھی ایسی نمائع
36:19پشرفت سامنے نہیں آئی
36:21جس سے یہ معلوم ہو سکے
36:23کہ سادھ رزوی کہاں ہیں
36:24اور ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا
36:27اور یہی وہ مقام ہے
36:29جہاں ایک انتہائی اہم سوال
36:32جنم لیتا ہے
36:33عدالتوں کی اس حد تک
36:35خاموشی آخر کس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے
36:38عام طور پر یہ موقف سامنے آتا ہے
36:41کہ جب ریاستی اداروں
36:43یا حکومت کی جانب سے دباؤ موجود ہو
36:45تو عدالتیں میں خاموشی اختیار کر لیتی ہے
36:48اور سادھ رزوی کے معاملے میں تو
36:51صورت حال
36:52یہاں تک پہنچی کے عدالتوں کی جانب سے
36:55کسی بھی قسم کی واضح کار روائی
36:57یا قابل ذکر پشرفت سامنے نہیں آئی
36:59تو کیا
37:01اس خاموشی کے پیچھے بھی
37:03کوئی دباؤ موجود تھا
37:04اور کیا یہی وجہ ہے
37:06کہ سادھ رزوی آج تک منظر عام پر نہیں آسکے
37:09تحریک لبیک کے حلقوں کا موقف تو یہی ہے
37:12کہ سادھ رزوی ملٹری
37:14ایجنسیز کی تحویل میں ہیں
37:16اور عدالتوں کی یہ غیری
37:18معمولی خاموشی بھی
37:19اسی موقف کو تقویت دیتی ہے
37:21لیکن سوال اب بھی وہی ہے
37:23اگر سادھ رزوی کسی ادارے کی تحویل میں نہیں
37:26تو پھر عدالتوں کے ذریعے
37:29ان کی گمشدگی کا سراغ لگانے کی کوششیں
37:32آخر کیوں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں
37:35سادھ رزوی کی گمشدگی
37:37آج بھی ایک پرسرار سوال ہے
37:39ایک ایسی گمشدگی
37:41جس نے انسانی حقوق
37:43اور قانون کی بالا
37:44دستی پر کئی سوالات کھڑے کر دیا
37:46پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی
37:49کبھی کسی سیاسی رہنما کی گمشدگی نے
37:52اس قدر گہرے سوالات کو جنم دیا
37:54سادھ رزوی نے اپنی جوانی میں وکر دکھایا
37:57جو پاکستان کی سیاست میں
37:59بڑے بڑے قائدین بھی نہ کر سکے
38:01انہوں نے فلسطین کے مسئلے پر
38:04اپنا موقف پوری شدد سے
38:06دنیا کے سامنے رکھا
38:07اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف
38:10اپنی آواز بلند کی
38:12اور پھر ایک وقت آیا
38:13جب وہ خود منظر سے غائب ہو گئے
38:16مگر ان کی آواز
38:18ان کے سوالات اور ان کی
38:20جدوجہد آج بھی موجود ہیں
38:22اور تحریک لبیق کے قائدین
38:24اور کارکنان نے
38:26جنازمائشوں تکلیفوں
38:28اور مشکلات کا سامنا کیا
38:29وہ بھی اس داستان کا ایک ایسا باب ہے
38:32جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
38:35یہ صرف سادھ رزوی کی کہانی نہیں
38:38یہ ان سوالات کی کہانی ہے
38:40جن کے جوابات آج بھی باقی ہیں
38:43سادھ رزوی کہاں ہیں
38:44شاید وقت جواب دے گا
38:47لیکن سوال
38:48آج بھی زندہ ہے
38:53موسیقی
38:55موسیقی