Skip to playerSkip to main content
Khasail e Nabvi SAWW - Rabi-ul-Awwal Special

Rabi ul Awwal Special Programs ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLP5yWzXgMC1Q

Topic: Nabi Kareem ﷺ Ki Shan e Fahm o Firasat

Islamic Scholar: Mufti Abu Muhammad

#aryqtv #islam #KhasaileNabviSAWW #rabiulawwal #rabiulawwal2026

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00صل على نبینا صل على محمدنا
00:06الحمد لله رب المشرقین ورب المغربین
00:09والصلاة والسلام على جد الحسن والحسین اما بعد
00:14اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:18تمام تر تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے جو ساری کائنات کا پیدا کرنے والا ہے
00:24اور ساری کائنات کے درود و سلام آمنہ کلال خاتم النبیین جناب حضرت محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ وسلم کے
00:34لیے
00:34ہم جیسے گناہگار جن کے امتی کہرانے پر فخر محسوس کرتے ہیں
00:40آپ پروگرام دیکھ رہے ہیں خسائل نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:45اور آج ہم خسائل نبی میں آپ صل اللہ علیہ وسلم کی جس صفت کا ذکر کر رہے ہیں
00:51وہ شان فہم و فراست ہے
00:55فہم و فراست کسے کہتے ہیں
00:58فہم کہتے ہیں
00:59کسی بھی حقیقت کو جان لینے کو فہم کہا جاتا ہے
01:07صحیح سمت کے تعین کو فہم کہتے ہیں
01:11اور گہری بصیرت دور اندیشی اور علامات کی بنیاد پر
01:16ایک حقیقت کو سمجھنے کو فراست کہتے ہیں
01:20اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم کو
01:23اللہ تعالی نے اس کائنات میں
01:25صرف فہم و فراست ہی نہیں
01:28بلکہ ہمارے علماء نے
01:29اکابرین نے لکھا ہے
01:30مشایخ نے
01:31کبار نے
01:32کہ اس کائنات میں
01:34اگر اکل کے
01:36سو حصے ہیں
01:38تو ایک حصہ اکل
01:40پوری کائنات میں تقسیم کی گئی
01:42اور 99 حصے اکل و دانش
01:47آقید و جہاں صل اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی ہے
01:51اب جس
01:52نبی کے پاس
01:54جس ہستی کے پاس
01:55جس رسول کے پاس
01:56امام الانبیاء کے پاس
01:5899 حصے
01:59اکل و دانش ہوگی
02:01آج پوری دنیا میں
02:02جن لوگوں کے پاس ایک حصہ اکل تقسیم کی گئی
02:05انہیں دنیا میں کتنی ترقی کی
02:07کتنا کچھ بنایا
02:09اور اس ہستی کے
02:10اکل و دانش کا
02:11فہم و فراست کا
02:13کیا لیول ہوگا
02:14کیا مقام ہوگا
02:15جس ہستی
02:17کو 99 حصے
02:19اکل عطا فرمائی گئی
02:20اللہ کے
02:22پیارے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کے
02:24بڑے بڑے فیصلوں سے
02:26ہم آپ کی فہم و فراست کا
02:28اندازہ کر سکتے ہیں
02:31حجرِ اسود کی
02:33تنصیب کا معاملہ ہوا
02:35تو حضور صل اللہ علیہ وسلم کی
02:37فہم
02:38اور حص نے اس بات کو جانچ لیا
02:40کہ اب
02:41اہلِ مکہ
02:42اس تعمیر کے بعد
02:43جو
02:44حجرِ اسود کی
02:45تنصیب کا معاملہ ہے
02:47اس پر یہ قبائل
02:48آپس میں
02:49علج پڑیں گے
02:50اور لڑ پڑیں گے
02:51تو اس
02:52علجنے اور لڑنے کے
02:53معاملے کو
02:54حضور نے کیسے
02:54رفع دفع فرمایا
02:55کیا آپ کی
02:57بصیرت ہے
02:58کیا دور اندیشی ہے
03:00کیا فہم و فراست ہے
03:02سلام ہے
03:04اس فہم و فراست کو
03:06کہ جس نے
03:07ایک لمحے میں
03:08قبائل کے
03:09اس جھگڑے کو
03:09ختم کر دیا
03:11جب حضور نے دیکھا
03:12کہ تلواریں
03:13نکلنے لگی ہیں
03:14قبائل
03:15آمنے سامنے آگئے ہیں
03:16اور ہر کوئی
03:17اپنے قبائل کے
03:18فضائل بتا کر
03:19یہ بتانا چاہ رہا ہے
03:21کہ اس
03:22خانہ کعبہ کے اندر
03:23حجرِ اسود کی
03:24تنصیب کے
03:25سب سے زیادہ
03:26مستحق
03:27ہم لوگ ہیں
03:28تو حضور نبی کریم
03:29صلی اللہ علیہ وسلم
03:30کو پتا چلا
03:30آپ نے فرمایا
03:32میرے انتظار کیا جائے
03:33آقے دو جہاں
03:34صلی اللہ علیہ وسلم
03:36تشریف لائے
03:38علامہ ابو بکر کا
03:39ثانی رحمت اللہ علیہ
03:40نے یہاں جو لکھا ہے
03:41جملہ
03:42وہ بڑا کمال کا ہے
03:43حضور نے فرمایا
03:45آپ کو میرا فیصلہ منظور ہے
03:46تو تمام قبائل
03:48آپ پر متفق ہو گئے
03:50کہ آپ جو فیصلہ کریں گے
03:51اس پر ہم متفق ہیں
03:53اب کچھ قبائل
03:54یہ سمجھنے لگے
03:55کہ یہ ہمارے حق میں
03:56فیصلہ ہوگا
03:57لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا
03:59کہ حضور کیا فیصلہ کریں گے
04:01آپ صلی اللہ علیہ وسلم
04:03نے ایک چادر منگوائی
04:04اور چادر کے اندر
04:06ہجرِ اسوط کو رکھوایا
04:07اور پھر اس چادر کے
04:08مختلف کونے بنائے
04:10اور ان کونوں میں سے
04:11ہر کونہ بنانے کے بعد
04:13ہر قبیلے کے سردار کو بلایا
04:15اور اسے پکڑا دیا
04:16فرمایا
04:17فلان بن فلان
04:18آپ یہ کونہ پکڑیے
04:19فلان بن فلان
04:20آپ یہ کونہ پکڑیے
04:24فلان بن فلان
04:25کو سربراحان کو بلایا
04:27ان کے قبائل
04:28ان کی کمر پہ کڑے تھے
04:29وہ اس انتظار میں تھے
04:31کہ کہیں رڑائی کا
04:31موڑ بنے
04:32تو ہماری تلواریں نکلیں
04:34اور ہم پرانے بدلے لینا
04:36بھی شروع کر دیں
04:36لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا
04:39کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
04:40کیا فیصلہ فرمائیں گے
04:42تب تمام قبائل کے سربراحان
04:44جمع ہو گئے
04:45ایک کونے سے
04:46اس چادر کو حضور نے خود پکڑا
04:47جس چادر کے اندر
04:49حجرِ اسود رکھا ہوا ہے
04:50اور باقی وہ تمام قبائل
04:52جو لڑنے جھگڑنے پر آ گئے
04:54انہوں نے اپنے اپنے کونے
04:55جو حضور نے اپنے ہاتھ سے
04:57کونے بنا کر
04:58ان کے ہاتھ میں تھمائے
04:59فرمایا اب اسے اٹھائیے
05:01اور اٹھا کر لے گئے
05:03اور جہاں حجرِ اسود نصب ہے
05:04اس جگہ پر جب پہنچے
05:06فرمایا چادر نیچے رکھیے
05:08اور تمام قبائل سے کہا
05:10اب آپ اپنے ہاتھوں سے
05:11اس حجرِ اسود کو اٹھائیں
05:13اسے اٹھایا
05:14اور تنصیب کر دیا
05:15پورا عرب حضور صلی اللہ علیہ وسلم
05:18کو داد دینے پر
05:20سلام کرنے پر
05:21مجبور ہو گیا
05:22کہ آپ نے زمانے
05:24اعلانِ نبوت سے پہلے بھی
05:26اپنی فہم و فراست کے
05:28وہ جہر دکھائے
05:30وہ فیصلے کیے
05:31کہ جس سے ہزاروں لوگوں کی
05:33تلواریں نکلنے سے
05:34اور ہزاروں لوگوں کے قتل ہونے سے
05:36بچ سکے
05:37اسی طرح آپ
05:38ہودیبیہ کو دیکھیں
05:40ہودیبیہ کے مقام پر
05:41ایک ایسا فیصلہ
05:42جو بڑے بڑے صحابہ اکرام
05:44کی سمجھ میں وقتی طور پر نہ آیا
05:46کہ وہ قیدی
05:48جو ان کی طرف سے آئیں گے
05:50تو ان کو چھوڑ دیا جائے گا
05:52اور ہمارا قیدی
05:54کوئی مکہ سے بھاگ کر آئے گا
05:56تو اسے واپس دے دیا جائے گا
05:57صحابہ اکرام حیران ہو گئے
06:00کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے
06:01حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:04کی فہم و فراست
06:05اس بات کو جھانت چکی تھی
06:07آپ کی دور اندیشی
06:09آپ کی گہری نظر نبوت
06:10اس بات کو جھانت چکی تھی
06:12کہ یہ لوگ بہت زیادہ دیر تک
06:15اپنے فیصلے پر کاربند
06:16نہیں رہ سکتے
06:18یہ اپنے فیصلے کو توڑیں گے
06:19یہ اس کی روگردانی کریں گے
06:22جب روگردانی کریں گے
06:23تو ہمیں موقع ملے گا
06:24اور ہم دوبارہ پلٹ کر واپس آئیں گے
06:27آپ صلی اللہ علیہ وسلم
06:28کے سامنے چودہ سو صحابہ ہیں
06:30آپ صلی اللہ علیہ وسلم
06:32ایک طرف اپنا وہ فیصلہ فرما رہے ہیں
06:34دوسری طرف صحابہ کے چہروں کو دیکھ رہے ہیں
06:36صحابہ اکرام کے چہرے اس حال میں ہیں
06:38کہ وہ اس فیصلے پر حیران ہیں
06:40کہ عمرہ کرنے کے لیے آئے
06:42بغیر عمرے کے واپس جا رہے ہیں
06:45احرام کھولنے پڑ رہے ہیں
06:46اور آپ نے جب احرام کھولنے کی باری آئی
06:49تو پوچھا اب اس کی ابتدا کو ان کرے گا
06:51صحابہ اکرام ہیں
06:53کہ مدینہ سے وہ پیدل چل کر
06:54کئی سو کلومیٹر کا فاصلہ تے کر کے
06:57مکہ مکرمہ
06:59بلکل خانہ کعبہ کے قریب
07:01ہدیبیہ کے مقام پر پہنچ چکے ہیں
07:03اب وہاں انہیں احرام اتارنے کا کہا جا رہا ہے
07:06تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فام و فراست کا اندادہ لگائیے
07:09آپ نے سب سے پہلے اپنے احرام کھولا
07:12جب آپ نے اپنے احرام کھولا
07:14تو صحابہ اکرام کے لیے احرام کھولنا
07:16اب کوئی مشکل کام نہیں رہا
07:18اس سے پہلے صحابہ اس کیفیت میں ہیں
07:20یا تو لڑیں گے
07:22ماریں گے مریں گے
07:23یا عمرہ کریں گے
07:24مگر جب دیکھا
07:25کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا احرام مبارک کھول دیا
07:28تو تمام صحابہ اکرام نے
07:31اپنا احرام بھی کھول دیا
07:33یہ تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
07:35فہم و فراست
07:36اسی لیے کہتے ہیں
07:37کہ دور اندیشی سے کام لینا چاہیے
07:39فہم و فراست کا استعمال کرنا چاہیے
07:42اور اس کا درست استعمال کرنا چاہیے
07:44پھر اس کے بعد آپ حضور کے فیصلے کو دیکھیں
07:46کہ وقتی طور پر فیصلہ ہو گیا
07:48آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہاں تک بھی کہا
07:51کہ یہ لوگ اگر لفظ رسول کو محمد کے ساتھ سے کاٹنا چاہتے
07:55تو آپ کاٹ دیں
07:56حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا
07:58یا رسول اللہ
07:59میرا جی یہ نہیں چاہتا
08:00میں یہ نہیں کر سکتا
08:02کہ لفظ محمد کے ساتھ سے رسول کو ہٹا ہوں
08:04تو آپ نے اپنے ہاتھ سے ہٹایا
08:06وہ چیز بھی صحابہ نے برداشت کی
08:09اور پھر آگے چلنے چلے
08:10عمرے کے بغیر واپس ہو گئے
08:12اور پھر دیکھا
08:13حضور کی فہم و فراست کا وہ فیصلہ
08:16کہ اہلیان مکہ زیادہ دیر تک
08:18اپنے معاہدے پر خود کاربند نہیں رہ سکے
08:21اور وہ قبیلہ جو حضور کے موافق تھا
08:24حضور کے ساتھ تعلق رکھتا تھا
08:26اگرچہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے
08:28اہل مکہ نے ان پر رات و رات حملہ کیا
08:31ان کی خبر مکہ مکرمہ میں پہنچی
08:33اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فیصلہ
08:35جو حدیبیہ کے مقام پر تو کسی کی سمجھ میں نہیں آیا
08:39مگر آج جب مکہ فتح ہوا
08:42تو تمام صحابہ اکرام سمجھ گئے
08:45کہ یا رسول اللہ آپ کا وہ فیصلہ
08:47آج اس مکہ کی فتح کا نوید بن چکا ہے
08:51حضور نبیہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
08:54فہم و فراست کے بڑے بڑے فیصلے ہیں
08:56جس طرح آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فیصلہ فرمایا
09:01خیبر کے موقع پر
09:02فرمایا صبح میں یہ جھنڈا ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا
09:07کہ جس پر خیبر فتح ہو جائے گا
09:09یہاں بے شمار قلعے تھے
09:10اور وہ کافی سارے قلعے فتح ہو چکے
09:12مگر ایک قلعہ ایسا تھا
09:14کہ وہ فتح نہیں ہو پا رہا تھا
09:16اس کے اندر سے ایسی دراندازی ہو رہی تھی
09:19جس سے صحابہ اکرام زخمی بھی ہو رہے تھے
09:21متاثر بھی ہو رہے تھے
09:23اور کئی دن ہو چکے تھے یہاں بیٹھے ہوئے
09:25مگر آپ نے فرمایا
09:27کہ صبح میں ایک ایسے شخص کو
09:30علم دوں گا
09:31کہ جس سے اللہ بھی محبت کرتا ہے
09:33اس کا رسول بھی محبت کرتا ہے
09:34اور تم بھی اس سے محبت کرو
09:36اب تمام صحابہ اکرام حیران ہے
09:38کہ صبح یہ علم کس کے ہاتھ میں دیا جائے گا
09:41جب صبح ہوئی
09:42تو آپ نے فرمایا
09:43علی کو بلاؤ
09:44حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلائی گیا
09:47تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں
09:49اتنا دکھ رہی ہیں
09:50کہ حضرت علی کی آنکھیں کھل نہیں پا رہی ہیں
09:53ان میں زخم ہو چکا ہے
09:54آپ نے فرمایا
09:56علی کیا ہوا
09:57فرمایا
09:58یا رسول اللہ میری آنکھیں دکھ رہی ہیں
09:59اور آنکھوں میں بڑی تکلیف ہے
10:02اور آنکھوں سے پانی رس رہا ہے
10:03آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
10:05اپنا لعب دہن اپنی انگلی سے لگایا
10:07حضرت علی کی آنکھ پہ لگایا
10:09تو آنکھیں ایسے ہو گئیں
10:11جس طرح کبھی بیمار ہوئے ہی نہیں تھے
10:13بالکل ٹھیک ہو گئے
10:15عشوب چشم جسے کہا جاتا ہے
10:17حضرت علی ٹھیک ہوئے
10:18اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں
10:20وہ علم دیا
10:21اور پھر تمام صحابہ اکرام نے دیکھا
10:24کہ حضور کی جو فہم و فراست کا فیصلہ تھا
10:27اس کی بنیاد پہ
10:28جو کئی دنوں سے قلا فتح نہیں ہو رہا تھا
10:31دروازہ اکھیڑا نہیں جا رہا تھا
10:34آج حضور کی فہم و فراست کے فیصلے نے
10:37وہاں پر فتح تا فرما دی
10:39ایک اور غزوہ کے موقع پر
10:42ایک غزوہ میں صحابہ اکرام کو فتح نہیں ہو رہی
10:45اور کئی دنوں سے وہاں تیرہ دنوں سے
10:47حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی
10:49اور صحابہ اکرام بھی وہاں بیٹھے ہوئے ہیں
10:51ایک صحابی آئے
10:53تو انہوں نے کہا
10:54یا رسول اللہ میرے گھر میں بچی پیدا ہوئی ہے
10:57آپ اس کا نام رکھ دیں
10:58حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
11:00اس بچی کا نام ایسا رکھا
11:02جو فتح کی علامت ہوتی ہے
11:04جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
11:07کہ اس بچی کا نام ہم ایسا رکھیں گے
11:09تاکہ مسلمانوں کو فتح ہو جائے
11:10تو صحابی نے پوچھا
11:12یا رسول اللہ کیا نام رکھنے سے بھی
11:15واقعات کی تاثیر بدل جاتی ہے
11:17تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
11:18ہاں نام رکھنے سے بھی
11:20واقعات کی تاثیر بدل جاتی ہے
11:22اس بچی کا نام رکھا گیا
11:24اور نام رکھنے کے بعد
11:25اس جب غزوہ میں
11:27آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ اکرام کو فتح ہوئی
11:30تو فرمائی یہ اس بچی کی برکت ہے
11:32حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دور اندیشی کا
11:35یہ عالم تھا
11:36اور ہوتا بھی کیوں نہ
11:37کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا موجزہ تھا
11:39آج کائنات میں ہر انسان کو
11:41اللہ تعالیٰ نے دو آنکھیں عطا فرمائی ہیں
11:44انسان جب چلتا ہے
11:45تو وہ اپنے آگے دیکھ پاتا ہے
11:47پیچھے دیکھنے کے لئے ہر انسان کو
11:49اگر وہ ڈرائیور بھی ہے
11:50تو اسے میرر کی ضرورت ہے
11:52میرر لگا کے دیکھتا ہے
11:54مگر یہ اعزاز اس کائنات میں صرف ایک ہستی کا ہے
11:57جناب رسالت امام صلی اللہ علیہ وسلم کا
12:01کہ حضور جس طرح آگے دیکھتے تھے
12:03اسی طرح حضور پیچھے بھی دیکھتے تھے
12:05پیچھے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
12:07نظر آتا تھا
12:08غزوہ بدر کے موقع پر
12:10صحابہ اکرام نے ایک واقعہ بیان فرمایا
12:12حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کہتے ہیں
12:14میں نے دیکھا کہ حضور نبی الملاحم ہیں
12:17اور سب سے آگے ہیں
12:18اول دستے میں حضور لڑ رہے ہیں
12:20مگر پیچھے والوں کو دیکھ کر اشارہ فرما رہے ہیں
12:23فرمایا فلان بن فلان آگے بڑھو
12:25فلان بن فلان آگے بڑھو
12:27فلان بن فلان آگے بڑھو
12:29کہنے لگے غزوہ ختم ہوا
12:31بدر کی جنگ ہم جیت چکے
12:33واپس مدینہ آئے
12:34مدینہ میں میں نے پوچھا
12:36یا رسول اللہ آپ جا تو آگے رہے تھے
12:38آپ کی تلوار تو آگے چل رہی تھی
12:40مگر آپ پیچھے آپ کو کیسے پتا چل رہا تھا
12:43کہ پیچھے فلان بن فلان ہے
12:45آپ نے اس کو بھی آواز دی
12:47فلان کو بھی آواز دی
12:48فلان کو بھی آواز دے کے بلایا
12:49تو آپ نے مسکرہ کے فرمایا
12:51علی یہ صفت میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہے
12:54کہ جس طرح میں آنکھوں کے ساتھ آگے دیکھتا ہوں
12:57بغیر آنکھوں کے
12:58اللہ مجھے پیچھے بھی دکھاتے ہیں
13:00حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
13:02فہم و فراست کے یہ فیصلے تھے
13:04کہ بہت قلیل وقت میں
13:06آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
13:08اعلان نبوت کے بعد
13:09بہت تھوڑا وقت اس دنیا میں گزارا
13:11پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غالباً
13:13ترے سٹھ سال کے بعد
13:14بعض لوگوں نے ساٹھ لکھا ہے
13:16بعض نے ترے سٹھ لکھا ہے
13:18مگر آپ کی جو
13:20ظاہری دنیا میں زندگی تھی
13:22وہ ترے سٹھ سال
13:23اس لیے بھی مقرر فرمائی
13:25کہ آپ نے ایک سو اونٹ منگوائے
13:27اور ایک سو اونٹوں میں سے
13:29آپ نے ترے سٹھ اونٹوں کو
13:31خود زبا فرمایا
13:32ہر سال کے بدلے میں
13:34ایک اونٹ آپ نے صدقہ کیا
13:36جو بکیہ اونٹ بچ گئے
13:38تو آپ نے حضرت علی
13:39حضرت عباس
13:40حضرت ابو بکر
13:41صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا
13:43کہ بکیہ اونٹوں کو آپ نہر کریں
13:45آپ ان کے قربانی دیں
13:47ان پر چھوری پھیریں
13:48تو اس بات سے اندازہ ہوتا ہے
13:50کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
13:51کی جو عمر مبارک تھی
13:52وہ ترے سٹھ سال تھی
13:54تو اعلان نبوت کے بعد
13:55آپ کی جو فیصلے تھے
13:57آپ کی فہم و فراست کے فیصلے تھے
13:59کہ بہت تھوڑے وقت کے اندر
14:01صحابہ اکرام کی
14:02سو سالہ زندگی کے اندر
14:04آپ دیکھیں
14:05یہ حضور کی فہم
14:07حضور کی فراست تھی
14:08کہ پوری دنیا کے اندر
14:10صحابہ اکرام پہنچے
14:11اور پوری دنیا کو فتح فرمایا
14:13حضرت ابو بکر صدی کے زمانے میں
14:15وہیں پر عرب کے اندر
14:17جو علاقے تھے
14:18وہ سارے فتح ہوئے
14:19حضرت عمر کا زمانہ آیا
14:20تو بائیس لاکھ مربع میل تک
14:23حضور کا علم اور حضور کا جھنڈا پہنچا
14:26اور آپ حضرت علی
14:27اور پھر آگے حضرت حسن
14:29حضرت معاویہ کے زمانے میں جائیں
14:30تو چونسٹھ لاکھ
14:32پینسٹھ ہزار مربع میل پر
14:35حضور کی
14:36اعلان نبوت کا پرچم لہرایا گیا
14:38یہ حضور کی
14:39فہم و فراست تھی
14:43اللہ تعالی ہمیں آپ کی کامل
14:46محبت کے ساتھ ساتھ
14:48کامل اطاعت کی توفیق نصیب فرمائے
14:50اپنا بہت خیال رکھیں
14:52اور خسائل نبی پرگرام دیکھتے رہیں
14:55السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments

Recommended