00:01گرنار ہل چونکڑ
00:03صبح کا وقت تھا
00:05تھنڈی ہوا تھی
00:07مندر کی گھنٹیاں دور سے سنائی دے رہی تھیں
00:10امباجے ٹیمپل کی طرف جانے والا نیا سٹھیر کے اس پلگرم سے بھرنا شروع ہو رہا تھا
00:15اسی رشت کے اندر کہیں ایک فیملی بھی تھی جو کھیڑا سے سفر کر کے آئی تھی
00:19اپنے بیٹے کے ساتھ
00:21جس کا نام تھا مایور چوہان
00:24فیملی ابھی صرف پچاس سیڑیاں ہی چڑھی تھی
00:26کہ اچانک اندھیرے سے ایک ایسا سایہ بینہ کوئی آواز کیے نکلتا ہے
00:31ایک ایسا جانور جو اپنی فطرت سے مجبور ہے
00:35ایک ایشیرٹک لائن
00:37وہ مایور پر پیچھے سے حملہ کرتا ہے
00:40مایور کے چاچو چیخ مارتے ہیں
00:42شیر کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں
00:44لیکن شیر مایور کو بازو سے پگڑ کر
00:47اتنی تیزی سے جنگل میں لے جاتا ہے
00:49کہ کوئی کچھ بھی نہیں کر پاتا
00:51فورسٹ اپارٹمنٹ کو انفارم کیا جاتا ہے
00:53سرچ ٹیم نکلتی ہے
00:55ٹریکرز ویٹینری ڈاکٹرز پورا اپریشن ہوتا ہے
00:58گھنٹو بات انہیں جو ملتا ہے
01:00وہ صرف مایور کی چوتے ہوتے ہیں
01:02اس کے کپڑوں کی کچھ ٹکڑے
01:04اور جسم کی کچھ حصے
01:07دوستو ایک ریلیجیس سفر
01:08جو ایک پلگریمچ سے شروع ہوا تھا
01:10ختم ہوتا ہے ایک ماسوم بچے کی موت پر
01:12اور یہ کوئی ایک اکیلا واقعہ نہیں ہے دوستو
01:15یہ ایک پیٹرن کا حصہ ہے جو کچھ رات میں
01:18پچھلے دو سال سے تیز ہو رہا ہے
01:24جی اسلام علیکم دوستو
01:27گجرات
01:27ایک ایسا اکیلا ریجن
01:29جہاں وائلڈ ایشیٹک لائنس بچے ہیں
01:32یہ ایک انزرویشن سکسس سٹوری تھی
01:34لیکن اب یہی سکسس
01:36ایک نیا خطرہ بن کے سامنے آ رہی ہے
01:39آج کی ویڈیو میں ہم بات کریں گے
01:40گجرات کے لائنس اچانک انسانوں پر حملہ کیوں کر رہی ہیں
01:44کتنے لوگ اب تک مارے جا چکے ہیں
01:46اور اس گورنمنٹ ڈیسیجن کے بارے میں
01:49جو شاید اس پوری سچویشن کی جڑھ ہے
01:51سب سے پہلے نمبرز دیکھ لیتے ہیں
01:53دوہزار پچیس کے افیشل سینسس کے مطابق
01:56گجرات میں ایشیٹک لائنس کی تعداد
01:58ایٹ نائنٹی ون ہو چکی ہے
02:00دوہزار بیس میں یہ تعداد سکس سیمیٹی فور تھی
02:02مطلب صرف پانچ سال میں
02:04بتیس پرشنٹ تک کا اضافہ ہوگا چکا ہے
02:07یہ اپنے آپ میں ایک اچھی خبر ہونی چاہیے تھی
02:09لیکن یہی اب ایک پرابلم بن کے سامنے آ رہی ہے
02:13پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ
02:14گیر نیشن پارک کے اندر رہنے والے لائنس
02:16سے زیادہ لائنس اب پارک کے باہر رہ رہی ہیں
02:20فور نائنٹی سیون باہر ہیں
02:21اور صرف تری نائنٹی فور اندر موجود ہیں
02:24امریلی ڈسٹرٹ اکیلا تین سو بتیس لائنس کا گھر بن چکا ہے
02:27جو گیر کے باہر سب سے زیادہ ہے
02:30یعنی جو جانور کبھی صرف پروٹیکٹڈ فورس تک محدود تھا
02:33اب وہ آپ کے کھیت
02:35آپ کے گاؤں
02:35آپ کے گھر کے آس پاس تک پہنچ چکا ہے
02:38اب سوال یہ ہے کہ یہ ہوا کیوں
02:40وائل لائف ایکسپرٹس کے مطابق
02:42گیر کا کور ایریا صرف تقریباً
02:44تین سو پچاس لائنس کو سسٹین کر سکتا ہے
02:47لیکن پاپولیشن اس لیمٹ کو
02:48کافی عرصہ پہلے ہی پار کر چکی تھی
02:51صرف اٹھارہ سو سکوئر کلومیٹر
02:53ایریا اوفیشلی پروٹیکٹڈ ہے
02:54جس میں سے صرف دھائی سو سکوئر کلومیٹر
02:57ایکسکلوسیب لائن ڈیرٹری ہے
02:58باقی ایریا کھیت گاؤں
03:01اور فارمز کے ساتھ اوفر لائپ کرتا ہے
03:03اس کا مطلب سمپل ہے
03:05لائنس کو نیا علاقہ چاہیے تھا
03:07اور انہیں کوئی اورگنائز
03:09دوسرا گھر نہیں ملا
03:10تو انہوں نے خود ہی اپنی نئی جگہ ڈھونڈ لے
03:12انسانوں کی بیچ
03:14جو یقین اچھی خبر نہیں ہے
03:16وائل لائی فوڈیگریفر بھوشن پانڈیا کے مطابق
03:19زیادہ تر وکٹمز وہی لوگ ہیں
03:21جو کلٹیویشن سیزن میں کھلے کھیتوں میں رات گزارتے ہیں
03:24یا پانی لینے دوسری جگہ جاتے ہیں
03:26جہاں لائنس کا موومنٹ پریڈکٹیبل نہیں ہوتا
03:29اب بات کرتے ہوں اس واقعات کی جو پچھلے دو سال میں ہوئے
03:33امریلی ڈسٹرک دوستوں اس سلسلے میں سب سے زیادہ افیکٹڈ رہا ہے
03:37فیبری دوہزار پچیس میں
03:39سات سال کا راہل برایا
03:41پانی لینے دریا کی طرف جا رہا تھا
03:43جب ایک لائن نے اسے مار دیا
03:45اکٹوبر دوہزار پچیس میں
03:47ایک اور سات سال کی بچی
03:48اپنی ماں کے ساتھ کھیت سے واپس آ رہی تھی
03:51جب لائنس نے اسے جھاڑیوں میں گسیٹ لیا
03:54نویمبر دوہزار پچیس میں تو حالات اور بھی خراب ہو گئے
03:57صرف چوبیس گھنٹوں کے اندر تین الگ حملے ہوئے
04:00پہلا امریلی کے باکسرہ میں
04:01جہاں پانچ سال کا بچہ مارا گیا
04:04دوسرا کام بھاتا لوکہ میں
04:05جہاں ایک فارمر زخمی ہوا
04:07اور تیسرا گیر سومنات کے پچھوی گاؤں میں
04:10جہاں صرف دو سال کی ارادہ
04:12اپنے ماں کے آنکھوں کے سامنے لائنس کا شکار بن گئی
04:15اور پھر جون دوہزار چھبیس میں
04:17صرف ایک مہینے کے اندر
04:19پانچ لوگ اپنی جان گوا بیٹھے
04:21اوفیشلز کے مطابق
04:22الگ الگ لوکیشنز پر حملے ہوئے
04:24جس کا مطلب کلیر ہے
04:26کہ یہ ایک لوئن کا کام نہیں تھا
04:28بلکہ ملٹیپل لوئنس اس بیہیوئر میں شامل ہو چکے ہیں
04:30ایک اور دلچسپ چیز ہے دوستو
04:32سیرن کی ریپورٹ کے مطابق
04:34جون دوہزار پچیس تک پچھلے پانچ سال میں
04:36گزرات میں بیس سے زیادہ لوگ لوئن اٹیکس میں ماری جا چکے ہیں
04:39اور اسی عرصے میں
04:41لائیو سٹاک پر حملے بھی قریب
04:42ڈبل ہو چکے ہیں
04:44ویڈیو کو آگے بڑھانے سے پہلے میں بتاتا چلوں گے
04:46اگر ابھی تک آپ نے میری ویڈیو کو لائک یا چینل کو سبسکرائب نہیں کیا
04:49تو کائنڈلی یہ دو کام کر کے بیل آئیکن کو پریس کر دیں
04:52تاکہ میری ہر انفرمیٹیو ویڈیو کی نوٹفیکشن آپ تک پہنچ جائے
04:56اب واپس آتے ہیں
04:57اس پورے مسئلے کی سب سے اہم بات کی طرف
05:00یہ سوال شاید آپ کے ذہن میں آیا ہو
05:02کہ کونو نیشنل پارک تو ہے نا
05:04وہاں چیتاز ری انٹروڈیوز کیے گئے ہیں
05:06تو لائنس کو وہاں کیوں نہیں شفٹ کیا جاتا
05:08یہاں حقیقت تھوڑی ہلڈی ہے دوستو
05:11اس سے جو لوگ ایکچولی سمجھتے ہیں
05:141995 میں ہی وائل لائف انسٹیٹوٹ آف انڈیا نے یہ ریکمنٹ کیا تھا
05:18کہ گیل لائنس کو ایک سیکنڈ ہوم چاہیے
05:20تاکہ اگر کبھی اپیڈیمیک کیا نیچول ڈیزاسٹر آئے
05:24تو پوری سپیشٹس ایک جگہ ختم نہ ہو جائے
05:26مادیہ پردیش گورنمنٹ نے اس کے لیے کونوں وائل لائف سنیکچری تیار بھی کر لی تھی
05:30چوبیس گاؤں ری لوکیٹ کیے گئے
05:33پری بیسٹ ڈیویلپ کیا گیا
05:35سب کچھ ریڈی تھا
05:36لیکن گجرات گورنمنٹ نے بار بار لائنس دینے سے انکار کیا
05:40یہ کہتے ہوئے کہ لائنس گیر میں محفوظ ہیں
05:43اور یہ گجرات کی شان ہیں
05:452013 میں سپریم کورٹ نے خود آرڈر دیا
05:48کہ لائنس کو چھے مہینے کے اندر کونوں شفٹ کیا جائے
05:51اور 2026 میں ایک بھی لائنس شپ نہیں ہوا
05:55گجرات نے اس کے بجائے باردہ وائل لائف سنیکچری کو اپنا دوسرا گھر بنایا
05:59جو گیر سے صرف سو کلومیٹر دور ہے
06:02مطلب وہی ریس کے لیے ایک نئے نام کے ساتھ
06:06یعنی دوستوں جو چیز ایک سائنٹیفک نیسیسٹی تھی
06:08وہ اسٹیٹ پرائٹ کا مسئلہ بن گئی ہے
06:13اور اس کا نتیجہ آج انسانی جانے چکا رہی ہیں
06:17گرنار، دھاری اور عملی جیسے علاقے
06:19جہاں پہلے صرف مالدھاری کمیونٹی لائنس کے ساتھ رہتی تھی
06:22اب ٹوئرسٹ فارمرز اور عام فیملیز کے لیے بھی خطرناک بن چکے ہیں
06:27کیونکہ گرنار تو ایک ریلیجیس پلگرمیج سائٹ ہے
06:30جہاں ہر سال لاکھوں لوگ امباجی ٹیمپل جاتے ہیں
06:33اور اب وہی راستہ ایک لائن ٹیرٹری بے بن چکا ہے
06:36تو دوستوں کچھ سوالات کرنے بنتے ہیں
06:39لائنس اچانک اٹیک کیوں کر رہی ہیں
06:41جب ایک سپیشیس اتنی سکسیسفلی بچ گئی
06:44کہ اس کی پاپولیشن اپنی لیمٹ سے آگے نکل جائے
06:46اور اس کے لیے کوئی دوسرا سیو گھر نہ بنایا جائے
06:49تو پھر ذمہ دار کون ہے
06:51شیر جو اپنی فطرت کے مطابق شکار ڈھونتا ہے
06:54یا وہ سسٹم
06:55جو سالوں سے ایک سائنٹیفک سولیشن کو صرف اس لیے ٹال رہا ہے
06:59کیونکہ ان کے لیے وہ پرائٹ کا مسئلہ بن چکا ہے
07:03کنزرویشن کبھی کبھی اپنی ہی کامیابی کا شکار ہو جاتی ہے
07:05اور جب تک انسان اور وائل لائف کے درمیان یہ بیلنس دوبارہ نہیں بنایا جاتا
07:10تب تک ہر سال کسی نہ کسی گرنار
07:13کسی نہ کسی امریلی میں یہ کہانی دورائی جاتی رہے گی
07:16امید کرتا ہوں یار ویڈیو اچھے لگے ہوگی
07:18اچھے لگے تو کومنٹ کرنا
07:19ویڈیو کو لائک اور چنل کو ضرور سبسکرائب کر دینا
07:21ملتے ہیں انشاءاللہ برکسی اور ٹوپک کے ساتھ کسی اور ویڈیو میں تب تک کے لیے
07:25رب راکھا
Comments