Skip to playerSkip to main content
? ?

In this documentary, I uncover the heartbreaking reality behind Pakistan's growing - . From the tragic death of 8-year-old Javeria in Jhelum Valley to multiple across Azad Kashmir, Neelum Valley, Haripur, Galiyat, Margalla Hills, Abbottabad, and even Sindh's Kirthar National Park, this video explores incidents that rarely receive national attention.

But this story isn't just about leopard attacks.

It is also about disappearing forests, failed wildlife compensation systems, increasing human encroachment, and the shocking deaths of nearly over the last five years.

Many of these magnificent animals were shot, poisoned, stoned to death, or dragged through the streets after entering villages in search of food.

This documentary is based on publicly reported incidents and conservation reports to spread awareness about and - .

If you enjoy well-researched documentaries about hidden stories, forgotten history, wildlife, crime, and untold realities, consider subscribing for more.

👍 , It tells YouTube the content is worth showing to more people.

💬 : What did you think of this story? Is there another place, legend, or piece of history you'd want us to cover next?

🔔 , So you don't miss our next deep dive into untold stories.

📌 : https://www.youtube.com/@realatherkhalid

📱 :

: https://www.youtube.com/@AtherKShorts
: https://www.facebook.com/realatherkhalid19/
: https://www.instagram.com/realatherkhalid/
: https://www.tiktok.com/@realatherkhalid
: https://rumble.com/user/realatherkhalid

📩 : itsrealak19@gmail.com

⚠️ : This video is for educational and entertainment purposes only. The information shared is based on personal experience and/or research. Please do your own research before making any decisions.

#Pakistan #LeopardAttack #Wildlife #Documentary #SaveLeopards #Leopard #Wildlife #Documentary #Conservation #Pakistan #WildlifeConservation #AzadKashmir #Sindh #realatherkhalid #atherkhalid #atherkhalidvideos #atherkhalidlatest #atherkhalidshorts

Category

📚
Learning
Transcript
00:00پانڈو نلائی گاؤں جہلم ویلی میں پچیس جولائے دوہزار پچیس کو آٹھ سال کی جویریہ اپنے گھر کے سہن میں
00:06کھیر رہی تھی
00:06کہ اچانک جھاڑیوں سے ایک لیپڈ نکل آتا ہے
00:09تین گھنٹوں کی تلاش کے بعد اس کا زخمی جسم گھر سے آدھا کلومٹر دور ملتا ہے
00:14اور دوستو یہی پر بات ختم نہیں ہوتی
00:16اگلے ہی دن اسی علاقے کے قریب ایک اور گاؤں میں وہی لیپڈ دوبارہ حملہ کرتا ہے
00:21اس بار نشانہ ایک سترہ سال کا لڑکا تھا
00:24چوبیس گھنٹے کے اندر ایک ہی لیپڈ نے دو بچوں پر حملہ کیا
00:27اب ذرا پیچھے چلتے ہیں
00:29جنوری دوہزار بائیس میں نیلم دریا کی کنارے ایک لیپڈ کو گولی ماری جاتی ہے
00:33اس کی سپائن ٹوٹ جاتی ہے
00:35وہ کئی دن تک درد میں تڑپتے ہوئے جیتی ہے
00:38پھر مار جاتی ہے
00:40اسی سال کی فیبریری میں تقریباً دو سو لوگ مل کر ایک اور لیپڈ کو پتھروں سے مار دیتے ہیں
00:45اور دوہزار پچیس کی اگست میں لوگ ایک سخمی لیپڈ کی گلے میں رسی ڈال کر اسے کئی میل تک
00:50سڑکوں پر گھسیڑتے ہیں
00:52ہستیں مسکراتے رہے
00:53تصویریں بناتے رہے
00:55جب تک وہ دم نہیں توڑ دیتا
00:57یہ سب صرف چند مہینوں یا سالوں کی بات نہیں
01:00پچھلے پانچ سالوں میں اکیلے پاکستان میں تقریباً پنتالیس لیپڈ اس طرح مارے جا چکے ہیں
01:08جی اسلام علیکم دوستو
01:10دوستو جانور ہمارے قدرتی نظام کا ایک بہت اہم حصہ ہے
01:14یہ صرف جنگل کی روح نہیں
01:16بلکہ ہمارے انوارمنٹ کا بیلنس بنائے رکھنے کا ذریعہ بھی ہیں
01:19آج کی یہ ویڈیو ہے ان بے زبان درندوں کی
01:22جنہیں صرف اس لیے مار دیا گیا کیونکہ وہ انسانوں کے بنائے ہوئے قانون سمجھ نہیں پائے
01:27اور شاید کہیں نہ کہیں ہم بھی انہیں سمجھنے کی کوشش نہیں کر سکے
01:32آٹھ فروری دوہزار بائیس کورنیلم والے واقعے سے صرف ایک مہینے بعد
01:36ہتیاں بالا کے سرائی گاؤں میں ایک اور لیپڈ جو پہلے سے ہی کمزور اور بیمار لگ رہا تھا
01:41گاؤں میں گھسایا
01:42اس نے دو لوگوں کو ہلکی چوٹے پہنچائیں
01:44جن میں ایک سکول ٹیچر بشرا بی بی بھی شامل تھی
01:47وائل لیپ ڈیبارٹمنٹ کو انفارم کر دیا گیا تھا
01:50مگر جب تک ٹیم پہنچتی
01:51تقریباً دو سو گاؤں والوں نے مل کر اس لیپڈ کو پتھر مار مار کر مار دیا
01:56اور دوستوں یہ سلسلہ یہی نہیں رکھتا
01:59بیس سپٹیمبر دوہزار بائیس کو پالوری گاؤں نیلم ویلی میں قدیر جو صرف بیس سال کا تھا
02:04اور اس کا چھوٹا بھائی امجد جو صرف سولہ سال کا تھا
02:07اپنے والد کے ساتھ جنگل سے لکڑیاں لا رہے تھے
02:09تاکہ سردیوں کے لیے سٹاک اکٹھا کیا جا سکے
02:12والد جیب لانے واپس گئے جب واپس آئے تھے دونوں بھائی وہاں نہیں تھے
02:16تلاش شروع ہوئی اور جنگل میں ان کی لاشیں ملیں
02:19ایک لیپڈ نے انہیں مار دیا تھا
02:21اپرل دوہزار پچیز حریبور کے چسکلہ گاؤں میں ایک لیپڈ رات کے وقت دو گھروں میں گھوسایا
02:27اور کئی بکرییں مار دیں
02:28اس نے ایک شخص نیاز احمد پر بھی حملہ کیا
02:31مگر گاؤں والوں کے شور مچانے پر وہ واپس جنگل میں بھاگ گیا
02:35یہ کوئی اکیلا واقعہ نہیں تھا
02:37اسی علاقے میں پہلے بھی ایک واقعہ میں ایک باپ بیٹا زکمی ہو چکے تھے
02:40پھر دوستو 25 جولائے دوہزار پچیز کو
02:43پنڈو نلائی گاؤں جہلم ویلی میں آٹھ سال کی جویریہ جو ایک کارپنٹر
02:47غلام مصطفیٰ آوان کی بیٹی تھی
02:49اور سیکنڈ گریڈ میں پڑھتی تھی
02:50اپنے گھر کے سہن میں کھیل رہی تھی
02:52اچانک جھاڑیوں سے ایک لیپڈ نکلا اور اسے اٹھا کر لے گیا
02:56تین گھنٹے کے تلاش کے بعد اس کا بری طرح زکمی جسم
02:59گھر سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور گھنی جھاڑیوں میں ملا
03:03اگلے ہی دن جویریہ کے جنازے سے واپس آ رہا
03:05سترہ سال کا متصر علیہ وان
03:07ایک قریبی گاؤں میں اسی لیپڈ کا اگلا نشانہ بنا
03:10وہ چیخہ مقابلہ کیا
03:12اور گاؤں والوں نے لکڑیاں اور پتروں سے لیپڈ کو بھگایا
03:15متصر بچ گیا
03:17صرف ہلکی چوٹیں آئیں
03:18لیکن سوچئے ایک ہی لیپڈ ایک ہی علاقے میں
03:21چوبیس گھنٹے کے اندر دو بار حملہ کر چکا تھا
03:24گلیات کا ایک اور واقعہ
03:26سلامت علی جو ایک کنسٹرکشن ورکر تھے
03:28کام سے گھر واپس جا رہے تھے
03:30ایک لیپڈ نے ان پر حملہ کر دیا
03:32وہ بھیوش ہو گئے
03:33اور ان کے پیروں میں گہری چوٹیں آئیں
03:35علاج کے باوجود آج تک وہ پوری طرح ٹھیک نہیں ہو سکے
03:39اور دوبارہ مزدوری نہیں کر پائے
03:41مارگلہ ہل جو اسلام آباد کے قریب ہے
03:43وہاں بھی تقریباً دس وائل لیپڈ موجود ہیں
03:45کچھ سال پہلے وہاں ایک لیپڈ کی گولی لگی لاش ملی تھی
03:49جس کی تصویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تھی
03:51اور یہ واقعات کا سلسلہ صرف نوردن پاکستان تک منسلک نہیں ہے دوستو
03:56جنوری دوہزار چوبیس
03:58سندھ کے کیرثار نیشنل پارک کے قریب
04:00محمد علی فقیر گاؤں میں
04:01ایک ریئر وائٹ لیپڈ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا
04:04یہ پہلی بار تھا
04:06کہ اس علاقے میں ایسا لیپڈ دیکھا گیا
04:08اور پہلی ہی دفعہ میں
04:10اسے مار دیا گیا
04:11سندھ وائل لائف ڈپارٹمنٹ نے پانچ افراد کے خلاف
04:14ایف آئی آر درج کی
04:15آفیشلز کے مطابق اس علاقے میں لیپڈ کی آخری سائٹنگز
04:181976 میں ہوئی تھی
04:20یعنی یہ جانور شاید بلوچستان سے
04:22یہاں تک سفر کر کے آیا تھا
04:24اور سب سے لیٹسٹ واقعہ
04:2615 اگست 2025
04:27ایپٹ آباد کے بوئی علاقے میں
04:30ایک زخمی آدھا بھیوش لیپڈ سرک کنارے ملا
04:33لوگ اسے بچانے کے بجائے
04:34اس کی گلے میں رسی ڈال کر میلوں تک گھزیٹے رہے
04:37تصویریں اور سیلفیز بھی بنائی گئیں
04:39پولیس جب پہنچی اور اسے لے گئی
04:41تو وہ تھوڑی ہی دیر بعد دم توڑ گیا
04:43اب دوستو میرا یہ واقعات سنانے کا
04:45ہر کسی مقصد نہیں ہے کہ جو ان لوگوں کے ساتھ
04:47ہوا وہ ٹھیک ہوا
04:48نہیں جن کے اپنوں کے ساتھ یہ سب ہوا
04:51وہ درد ان سے زیادہ اور کوئی نہیں سمجھ سکتا
04:54پر یہاں پر ایک سمجھنے والی بات یہ ہے
04:56کہ وہ جانور ہیں
04:58انسان نہیں
04:59اور ہم انسان ہیں دوستو جانور نہیں
05:01ہمیں اکول و شعور ہے
05:03اچھے بوری کی سمجھ ہے
05:05WWF پاکستان اور
05:07IUCN کے مطابق گزشتہ پانس سالوں میں
05:09تقریباً 45 لیپٹس مار دئیے گئے
05:11یعنی یہ تعداد گزرے
05:1312 سالوں کے ٹوٹل کے برابر ہے
05:15جگلوں کا مٹ جانا بھی ایک بڑی وجہ ہے
05:17پاکستان میں فورش کور
05:19اب صرف 6% سے بھی کم رہ گیا ہے
05:21جبکہ دنیا کا ایوریج
05:2331% کے آس پاس ہے
05:25اور ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے دوستو
05:27کہ وائل لائف ایک 2015 کے تحل
05:29لوگوں کو لائف سٹوک کے نقصان کا محافظہ ملنا چاہیے
05:31مگر عملی طور پر
05:33یہ سسٹم کا ہم نہیں کرتا
05:34جب کسی کی بکرییاں یا بیل مارے جائیں
05:37اور اسے کوئی محافظہ نہ ملے
05:39تو وہ خود ہی انصاف کرنے نکل پڑتا ہے
05:41لوگ گولی اور زہر
05:43تک کا استعمال کرتے ہیں
05:44وائل لائف ڈپارٹمنٹ کے مطابق اگر کسی علاقے میں
05:47کوئی لیپٹ نظر آئے تو فوراں ٹیم کو
05:49انفارم کیا جائے وہ جانور کو
05:51سلا کر واپس جنگل بھیج سکتے ہیں
05:52مگر افسوس
05:54عام لوگ یہاں تو یہ معلومات نہیں رکھتے
05:56یا سسٹم پر بھروسہ نہیں کرتے
05:59دوستو ہم پہلے ہی اس زمین سے
06:00کئی انوکھیں جنگلی جانور کو کھوچ چکے ہیں
06:02صرف اپنی زندگی بچانے کے لیے
06:04ہم نے انہیں اس ملک سے ہی مٹا دیا
06:06یہ صرف کوئی جنگلی جانور نہیں ہوتے
06:08یہ ہمارے قدرتی نظام کا بھی حصہ ہیں
06:11اگر ہم انہیں بھی ختم کر دیں گے
06:13تو قدرت کا بیلنس بھی تباہ ہو جائے گا
06:16مگر اگر ہم شعور رکھیں
06:17حفاظت برتیں
06:18اور صحیح پولیسی استعمال کریں
06:20تو ہم اور یہ درندے ساتھ رہ سکتے ہیں
06:22تو یہ وقت ہے ہمارا فیصلہ کرنے کا
06:25کیا ہم قدرت کے ساتھ چلیں گے
06:27یا اس کے خلاف
06:28امید کرتا ہوں یار
06:30ویڈیو اچھے لگی ہوگی
06:30اچھے لگی تو کومنٹ کرنا
06:31ویڈیو کو لائک اور چینل کو ضرور سبسکرائب کر دینا
06:33ملتے ہیں انشاءاللہ پر کسی اور ٹوپے کے ساتھ
06:35کسی اور ویڈیو میں تب تک کے لئے
06:37رب رکھا
Comments

Recommended