00:00پانڈو نلائی گاؤں جہلم ویلی میں پچیس جولائے دوہزار پچیس کو آٹھ سال کی جویریہ اپنے گھر کے سہن میں
00:06کھیر رہی تھی
00:06کہ اچانک جھاڑیوں سے ایک لیپڈ نکل آتا ہے
00:09تین گھنٹوں کی تلاش کے بعد اس کا زخمی جسم گھر سے آدھا کلومٹر دور ملتا ہے
00:14اور دوستو یہی پر بات ختم نہیں ہوتی
00:16اگلے ہی دن اسی علاقے کے قریب ایک اور گاؤں میں وہی لیپڈ دوبارہ حملہ کرتا ہے
00:21اس بار نشانہ ایک سترہ سال کا لڑکا تھا
00:24چوبیس گھنٹے کے اندر ایک ہی لیپڈ نے دو بچوں پر حملہ کیا
00:27اب ذرا پیچھے چلتے ہیں
00:29جنوری دوہزار بائیس میں نیلم دریا کی کنارے ایک لیپڈ کو گولی ماری جاتی ہے
00:33اس کی سپائن ٹوٹ جاتی ہے
00:35وہ کئی دن تک درد میں تڑپتے ہوئے جیتی ہے
00:38پھر مار جاتی ہے
00:40اسی سال کی فیبریری میں تقریباً دو سو لوگ مل کر ایک اور لیپڈ کو پتھروں سے مار دیتے ہیں
00:45اور دوہزار پچیس کی اگست میں لوگ ایک سخمی لیپڈ کی گلے میں رسی ڈال کر اسے کئی میل تک
00:50سڑکوں پر گھسیڑتے ہیں
00:52ہستیں مسکراتے رہے
00:53تصویریں بناتے رہے
00:55جب تک وہ دم نہیں توڑ دیتا
00:57یہ سب صرف چند مہینوں یا سالوں کی بات نہیں
01:00پچھلے پانچ سالوں میں اکیلے پاکستان میں تقریباً پنتالیس لیپڈ اس طرح مارے جا چکے ہیں
01:08جی اسلام علیکم دوستو
01:10دوستو جانور ہمارے قدرتی نظام کا ایک بہت اہم حصہ ہے
01:14یہ صرف جنگل کی روح نہیں
01:16بلکہ ہمارے انوارمنٹ کا بیلنس بنائے رکھنے کا ذریعہ بھی ہیں
01:19آج کی یہ ویڈیو ہے ان بے زبان درندوں کی
01:22جنہیں صرف اس لیے مار دیا گیا کیونکہ وہ انسانوں کے بنائے ہوئے قانون سمجھ نہیں پائے
01:27اور شاید کہیں نہ کہیں ہم بھی انہیں سمجھنے کی کوشش نہیں کر سکے
01:32آٹھ فروری دوہزار بائیس کورنیلم والے واقعے سے صرف ایک مہینے بعد
01:36ہتیاں بالا کے سرائی گاؤں میں ایک اور لیپڈ جو پہلے سے ہی کمزور اور بیمار لگ رہا تھا
01:41گاؤں میں گھسایا
01:42اس نے دو لوگوں کو ہلکی چوٹے پہنچائیں
01:44جن میں ایک سکول ٹیچر بشرا بی بی بھی شامل تھی
01:47وائل لیپ ڈیبارٹمنٹ کو انفارم کر دیا گیا تھا
01:50مگر جب تک ٹیم پہنچتی
01:51تقریباً دو سو گاؤں والوں نے مل کر اس لیپڈ کو پتھر مار مار کر مار دیا
01:56اور دوستوں یہ سلسلہ یہی نہیں رکھتا
01:59بیس سپٹیمبر دوہزار بائیس کو پالوری گاؤں نیلم ویلی میں قدیر جو صرف بیس سال کا تھا
02:04اور اس کا چھوٹا بھائی امجد جو صرف سولہ سال کا تھا
02:07اپنے والد کے ساتھ جنگل سے لکڑیاں لا رہے تھے
02:09تاکہ سردیوں کے لیے سٹاک اکٹھا کیا جا سکے
02:12والد جیب لانے واپس گئے جب واپس آئے تھے دونوں بھائی وہاں نہیں تھے
02:16تلاش شروع ہوئی اور جنگل میں ان کی لاشیں ملیں
02:19ایک لیپڈ نے انہیں مار دیا تھا
02:21اپرل دوہزار پچیز حریبور کے چسکلہ گاؤں میں ایک لیپڈ رات کے وقت دو گھروں میں گھوسایا
02:27اور کئی بکرییں مار دیں
02:28اس نے ایک شخص نیاز احمد پر بھی حملہ کیا
02:31مگر گاؤں والوں کے شور مچانے پر وہ واپس جنگل میں بھاگ گیا
02:35یہ کوئی اکیلا واقعہ نہیں تھا
02:37اسی علاقے میں پہلے بھی ایک واقعہ میں ایک باپ بیٹا زکمی ہو چکے تھے
02:40پھر دوستو 25 جولائے دوہزار پچیز کو
02:43پنڈو نلائی گاؤں جہلم ویلی میں آٹھ سال کی جویریہ جو ایک کارپنٹر
02:47غلام مصطفیٰ آوان کی بیٹی تھی
02:49اور سیکنڈ گریڈ میں پڑھتی تھی
02:50اپنے گھر کے سہن میں کھیل رہی تھی
02:52اچانک جھاڑیوں سے ایک لیپڈ نکلا اور اسے اٹھا کر لے گیا
02:56تین گھنٹے کے تلاش کے بعد اس کا بری طرح زکمی جسم
02:59گھر سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور گھنی جھاڑیوں میں ملا
03:03اگلے ہی دن جویریہ کے جنازے سے واپس آ رہا
03:05سترہ سال کا متصر علیہ وان
03:07ایک قریبی گاؤں میں اسی لیپڈ کا اگلا نشانہ بنا
03:10وہ چیخہ مقابلہ کیا
03:12اور گاؤں والوں نے لکڑیاں اور پتروں سے لیپڈ کو بھگایا
03:15متصر بچ گیا
03:17صرف ہلکی چوٹیں آئیں
03:18لیکن سوچئے ایک ہی لیپڈ ایک ہی علاقے میں
03:21چوبیس گھنٹے کے اندر دو بار حملہ کر چکا تھا
03:24گلیات کا ایک اور واقعہ
03:26سلامت علی جو ایک کنسٹرکشن ورکر تھے
03:28کام سے گھر واپس جا رہے تھے
03:30ایک لیپڈ نے ان پر حملہ کر دیا
03:32وہ بھیوش ہو گئے
03:33اور ان کے پیروں میں گہری چوٹیں آئیں
03:35علاج کے باوجود آج تک وہ پوری طرح ٹھیک نہیں ہو سکے
03:39اور دوبارہ مزدوری نہیں کر پائے
03:41مارگلہ ہل جو اسلام آباد کے قریب ہے
03:43وہاں بھی تقریباً دس وائل لیپڈ موجود ہیں
03:45کچھ سال پہلے وہاں ایک لیپڈ کی گولی لگی لاش ملی تھی
03:49جس کی تصویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تھی
03:51اور یہ واقعات کا سلسلہ صرف نوردن پاکستان تک منسلک نہیں ہے دوستو
03:56جنوری دوہزار چوبیس
03:58سندھ کے کیرثار نیشنل پارک کے قریب
04:00محمد علی فقیر گاؤں میں
04:01ایک ریئر وائٹ لیپڈ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا
04:04یہ پہلی بار تھا
04:06کہ اس علاقے میں ایسا لیپڈ دیکھا گیا
04:08اور پہلی ہی دفعہ میں
04:10اسے مار دیا گیا
04:11سندھ وائل لائف ڈپارٹمنٹ نے پانچ افراد کے خلاف
04:14ایف آئی آر درج کی
04:15آفیشلز کے مطابق اس علاقے میں لیپڈ کی آخری سائٹنگز
04:181976 میں ہوئی تھی
04:20یعنی یہ جانور شاید بلوچستان سے
04:22یہاں تک سفر کر کے آیا تھا
04:24اور سب سے لیٹسٹ واقعہ
04:2615 اگست 2025
04:27ایپٹ آباد کے بوئی علاقے میں
04:30ایک زخمی آدھا بھیوش لیپڈ سرک کنارے ملا
04:33لوگ اسے بچانے کے بجائے
04:34اس کی گلے میں رسی ڈال کر میلوں تک گھزیٹے رہے
04:37تصویریں اور سیلفیز بھی بنائی گئیں
04:39پولیس جب پہنچی اور اسے لے گئی
04:41تو وہ تھوڑی ہی دیر بعد دم توڑ گیا
04:43اب دوستو میرا یہ واقعات سنانے کا
04:45ہر کسی مقصد نہیں ہے کہ جو ان لوگوں کے ساتھ
04:47ہوا وہ ٹھیک ہوا
04:48نہیں جن کے اپنوں کے ساتھ یہ سب ہوا
04:51وہ درد ان سے زیادہ اور کوئی نہیں سمجھ سکتا
04:54پر یہاں پر ایک سمجھنے والی بات یہ ہے
04:56کہ وہ جانور ہیں
04:58انسان نہیں
04:59اور ہم انسان ہیں دوستو جانور نہیں
05:01ہمیں اکول و شعور ہے
05:03اچھے بوری کی سمجھ ہے
05:05WWF پاکستان اور
05:07IUCN کے مطابق گزشتہ پانس سالوں میں
05:09تقریباً 45 لیپٹس مار دئیے گئے
05:11یعنی یہ تعداد گزرے
05:1312 سالوں کے ٹوٹل کے برابر ہے
05:15جگلوں کا مٹ جانا بھی ایک بڑی وجہ ہے
05:17پاکستان میں فورش کور
05:19اب صرف 6% سے بھی کم رہ گیا ہے
05:21جبکہ دنیا کا ایوریج
05:2331% کے آس پاس ہے
05:25اور ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے دوستو
05:27کہ وائل لائف ایک 2015 کے تحل
05:29لوگوں کو لائف سٹوک کے نقصان کا محافظہ ملنا چاہیے
05:31مگر عملی طور پر
05:33یہ سسٹم کا ہم نہیں کرتا
05:34جب کسی کی بکرییاں یا بیل مارے جائیں
05:37اور اسے کوئی محافظہ نہ ملے
05:39تو وہ خود ہی انصاف کرنے نکل پڑتا ہے
05:41لوگ گولی اور زہر
05:43تک کا استعمال کرتے ہیں
05:44وائل لائف ڈپارٹمنٹ کے مطابق اگر کسی علاقے میں
05:47کوئی لیپٹ نظر آئے تو فوراں ٹیم کو
05:49انفارم کیا جائے وہ جانور کو
05:51سلا کر واپس جنگل بھیج سکتے ہیں
05:52مگر افسوس
05:54عام لوگ یہاں تو یہ معلومات نہیں رکھتے
05:56یا سسٹم پر بھروسہ نہیں کرتے
05:59دوستو ہم پہلے ہی اس زمین سے
06:00کئی انوکھیں جنگلی جانور کو کھوچ چکے ہیں
06:02صرف اپنی زندگی بچانے کے لیے
06:04ہم نے انہیں اس ملک سے ہی مٹا دیا
06:06یہ صرف کوئی جنگلی جانور نہیں ہوتے
06:08یہ ہمارے قدرتی نظام کا بھی حصہ ہیں
06:11اگر ہم انہیں بھی ختم کر دیں گے
06:13تو قدرت کا بیلنس بھی تباہ ہو جائے گا
06:16مگر اگر ہم شعور رکھیں
06:17حفاظت برتیں
06:18اور صحیح پولیسی استعمال کریں
06:20تو ہم اور یہ درندے ساتھ رہ سکتے ہیں
06:22تو یہ وقت ہے ہمارا فیصلہ کرنے کا
06:25کیا ہم قدرت کے ساتھ چلیں گے
06:27یا اس کے خلاف
06:28امید کرتا ہوں یار
06:30ویڈیو اچھے لگی ہوگی
06:30اچھے لگی تو کومنٹ کرنا
06:31ویڈیو کو لائک اور چینل کو ضرور سبسکرائب کر دینا
06:33ملتے ہیں انشاءاللہ پر کسی اور ٹوپے کے ساتھ
06:35کسی اور ویڈیو میں تب تک کے لئے
06:37رب رکھا
Comments