00:00اس اعترافِ آجزی کے بعد اگر ہم ذرا گفتگو کا رخ موڑیں اب تک ہم نے مانی کی وسط دیکھی
00:06لیکن یہ کلام تو دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا اور سنا جاتا ہے نا تو کیا اس کی جو
00:13سوتی اثرات ہیں میرا مطلب ہے الفاظ کی آواز کیا اس کا بھی انسانی قلب و ذہن پر اثر افرینی
00:20میں کوئی کردار ہے
00:21اوہ یہ تو ایک ایسا موضوع ہے جس پر زباندان آج تک دنگ ہیں اسے ہم سوتی ہماہنگی یا ساؤنڈ
00:29ہارمنی کہہ سکتے ہیں قرآن کے الفاظ جب ادا ہوتے نا تو ان کی آواز خود اس منظر کی تصویر
00:36کشی کر رہی ہوتی ہے جو اس کا مفہوم ہے
00:38یہ کیسے ممکن ہے کوئی آیت ذہن میں ہے آپ کے
00:42جی سورہ انعام کی ایک آیت ہے اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کے سینے تنگ ہو جاتے
00:48ہیں آیت کے الفاظ ہیں کہ ان کا سینہ یوں گھٹنے لگتا ہے جیسے کوئی آسمان کی طرف چڑھ رہا
00:55ہو
00:55یساعدو فی السما
00:57یساعدو
00:59اگر اسے ہم ادا کریں تو واقعی گلے اور سینے پر ایک دباؤ سا محسوس ہوتا ہے
01:05بلکل جب آپ قواعد کے ساتھ یساعدو پڑتی ہیں تو گلے کے پٹھے کھچتے ہیں سانس لینے میں مشکل ہوتی
01:13ہے اور چودہ سو سال پہلے کون جانتا تھا کہ جب انسان بلندی پر جاتا ہے تو آکسیجن کی کمی
01:20سے واقعی سینہ گھٹا ہے جسے ہم آج ہائپاکسیا کہتے ہیں
01:23یعنی لفظ کا مفہوم بھی سانس گھٹنا ہے اور لفظ بولتے ہوئے بھی سانس گھٹا محسوس ہوتا ہے
01:29یہی تو انسانی قلب و ذہن پر اثر آفری نہیں ہے اور مثالیں بھی ہیں سورة القمر دیکھ لیں قمر
01:35چاند کو کہتے ہیں اس میں پچپن آیات ہیں اور آپ حیران ہوں گی ہر آیت حرف رے پر ختم
01:41ہوتی ہے
01:41حرف رے پر ہم اس میں کیا خاص بات ہے
01:45خاص بات یہ ہے کہ عربی رسم الخط میں حرف را کی جو شکل ہے نا وہ بلکل ہلال یعنی
01:53کرسنٹ مون جیسی ہوتی ہے
01:54پوری سورت جس کا نام چاند ہے اس کی ہر سطر چاند کی شکل کے حرف پر ختم ہو رہی
02:00ہے
02:00سبحان اللہ یہ تو واقعی حیران کن ہے
02:03اور سورہ ناس کی بات کریں وہ شیطان کے وسوسوں پر ہے
02:07جب آپ پڑھتی ہیں من شر الوسواس الخناس
02:11تو اس میں حرف سین کی تقرار ہے
02:13اس کی آواز بلکل کسی کی خوفیہ سرگوشیوں یعنی وسپرز جیسی لگتی ہے
Comments