Skip to playerSkip to main content
  • 4 days ago
1,400 Years Unbeaten: The Linguistic & Scientific Miracles of the Quran

Category

📚
Learning
Transcript
00:00قرآن کا کوئی لفظ اتفاقیہ نہیں ہے
00:02اچھا یہاں میں آپ کو تھوڑا روکوں گی
00:04یہ تو ہم نے بات کی فیزکس کی
00:06کائنات کے نظام کی
00:08لیکن انسان صرف حساب کتاب سے تو نہیں چلتا نا
00:12انسانی زندگی میں جذبات بھی ہوتے ہیں
00:14خوف ہے تکلیف ہے
00:16تو یہ کلام انسانی جذبات کو کیسے بیان کرتا ہے
00:19بہت اچھا سوال ہے
00:21اس کے لئے ہم
00:23الفاظ کی نرمی اور وسط کی ایک مثال دیکھتے ہیں
00:26ایک آیت ہے
00:27وَلَئِن مَسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكْ
00:31یعنی اور اگر انہیں آپ کے رب کے عذاب کا ایک جھونکہ بھی چھو جائے
00:35اب عذاب تو ایک بہت خوفناک چیز ہے
00:39اس کی شدت کے لئے تو
00:41الفاظ بھی یقیناً بہت بھاری ہونے چاہیے
00:44بظاہر تو ایسا ہی ہونا چاہیے تھا
00:46لیکن حیرت انگیز طور پر
00:48اس پوری آیت میں جو الفاظ چنے گئے ہیں
00:50وہ انتہائی نرم ہیں
00:52اور کم ترین مقدار کو ظاہر کرتے ہیں
00:54مثلاً
00:55دیکھیں
00:55پہلا لفظ ہے لَئِن
00:57جس کا مطلب ہے اگر
00:59بات ایک شک یا انتہائی حل کی شرط سے شروع ہوئی
01:03پھر آیا مَسَّتْهُمْ
01:05یعنی چھو جائے
01:06اچھا
01:06یعنی یہ نہیں کہا کہ عذاب ٹوٹ پڑے یا جکڑ لے
01:09بلکل نہیں
01:10محض ایک حلکا سا لمس
01:11پھر اس کے بعد کا لفظ ہے نَفْحَةُن
01:14اس کا مطلب ہے
01:15ہوا کا ایک بہت ہی حلکا سا جھونکہ
01:18بس ایک سانس کے برابر
01:20اور آخر میں
01:21اللہ تعالیٰ نے قیہار
01:22یا جببار جیسے جلال والے نام کے بجائے
01:25لفظ رب کا انتخاب کیا
01:27جس میں محبت اور پرورش کا احساس ہے
01:31یہ تو ایک کمال کا تضاد ہے
01:33تو کیا اس کا مقصد یہ بتانا ہے
01:36کہ اگر محض رب کی طرف سے
01:39عذاب کا ایک حلکا سا نرم سا جھونکہ بھی
01:42اتنا ناقابل برداست ہو سکتا ہے
01:44تو ذرا سوچیں کہ
01:46مکمل عذاب کیا ہوگا
01:47آپ نے بالکل صحیح نکتہ پکڑا ہے
01:50یہ کم از کم الفاظ میں
01:51نرم ترین الفاظ میں
01:53بڑے سے بڑے خوف کو بیان کرنے کا موجزہ ہے
Comments

Recommended