Skip to playerSkip to main content
#space #universe #blackhole #quran #science #quranandscience

Category

📚
Learning
Transcript
00:00قرآن نے کائنات کے ایک ایسے راز کی قسم کھائی ہے جسے آج ہم بلیک ہول کہتے ہیں
00:05الجووار الکنس، ایک مختصر قرآنی جملہ اور جدید فیزکس کا مکمل نچوڑ
00:11تصاور کریں کہ ایک عظیم ستارہ اپنی عمر پوری کر کے شدید دباؤ کے تحت سکڑنا شروع کر دیتا ہے
00:18پہلا قرآنی لفظ ہے الکنس، یعنی جو چھپ جائے
00:21بلکل اسی طرح یہ ستارہ سپیس ٹائم میں دھنس کر ہماری نظروں سے مکمل اوجھل ہو جاتا ہے
00:27عام خیال ہے کہ بلیک ہول خلا میں محضک ساکن گڑھا ہے مگر یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے
00:33قرآن کا دوسرا لفظ ہے الجووار یعنی تیزی سے دورنے والا
00:37جدید سائن ثابت کرتی ہے کہ بلیک ہول 63 بڑین میل فی گھنٹا کی رفتار سے سفر کرتے ہیں
00:43تیسرا اور اہم ترین لفظ ہے الکنس، یعنی جھاڑو دینے والا
00:47اپنے اس تیز ترین سفر کے دوران یہ بلیک ہول کائناتی جھاڑو کی طرح ہر شے کو نگل لیتا ہے
00:53جدید سائنس کا یہ کائناتی جھاڑو دراصل قرآن کے بیان کردہ لفظ الکنس کی این املی تفسیر ہے
Comments

Recommended