- 3 hours ago
Is talk show transmission mein Hazrat Usman Ghani RA ki seerat aur unki zindagi se Qurani rehnumai ko bayan kiya gaya hai. Islami tareekh aur akhlaqi usoolon par roshni dalte hue iman afroz guftgu.
🎙️ Speaker: Mufti Zaighm Ali Gardezi
👉 Like, Share & Subscribe for more Islamic talk shows and spiritual programs.
👉Hazrat Usman Ghani RA | Special 2026
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifPm17bEWCwVfp6EFV-DcXP&si=8L5zx0COJ3Q1oKPo
👉 Hajj Special || 2026
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidTfSid1NifY039IVYocnyX&si=e_gzYVydsOADa4li
👉 Islamic Short Clips 2026:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xie2u7z3IRNMFwrgw_B1L7M2&si=GKxU1ofBnyLaf7iG
👉 Qasas ul Quran | Ramzan Special | 2026:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicgtcCM2J1-35YysaTJPb0v&si=-MVzB2jNKNAS753b
👉 Islamic History Unfolded:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidF-zYO69M8DSTkdnLRfCst&si=r66nx-gXmN3rkGnD
👉 The Rise Of Islam:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieworVshBiZcEFtnsAwu5ve&si=lPCGQVXM3EOLwlbR
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
🎙️ Speaker: Mufti Zaighm Ali Gardezi
👉 Like, Share & Subscribe for more Islamic talk shows and spiritual programs.
👉Hazrat Usman Ghani RA | Special 2026
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifPm17bEWCwVfp6EFV-DcXP&si=8L5zx0COJ3Q1oKPo
👉 Hajj Special || 2026
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidTfSid1NifY039IVYocnyX&si=e_gzYVydsOADa4li
👉 Islamic Short Clips 2026:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xie2u7z3IRNMFwrgw_B1L7M2&si=GKxU1ofBnyLaf7iG
👉 Qasas ul Quran | Ramzan Special | 2026:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicgtcCM2J1-35YysaTJPb0v&si=-MVzB2jNKNAS753b
👉 Islamic History Unfolded:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidF-zYO69M8DSTkdnLRfCst&si=r66nx-gXmN3rkGnD
👉 The Rise Of Islam:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieworVshBiZcEFtnsAwu5ve&si=lPCGQVXM3EOLwlbR
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00Alhamdulillahi wabarakatuh.
00:32Alhamdulillahi wabarakatuh.
01:00Alhamdulillahi wabarakatuh.
01:30Alhamdulillahi wabarakatuh.
02:02Alhamdulillahi wabarakatuh.
02:38Alhamdulillahi wabarakatuh.
02:48Alhamdulillahi wabarakatuh.
02:50Alhamdulillahi wabarakatuh.
02:53Alhamdulillahi wabarakatuh.
02:54Alhamdulillahi wabarakatuh.
02:57Alhamdulillahi wabarakatuh.
02:59Alhamdulillahi wabarakatuh.
03:06Alhamdulillahi wabarakatuh.
03:16Alhamdulillahi wabarakatuh.
03:18Alhamdulillahi wabarakatuh.
03:20Alhamdulillahi wabarakatuh.
03:28Alhamdulillahi wabarakatuh.
03:34Alhamdulillahi wabarakatuh.
03:43Alhamdulillahi wabarakatuh.
04:07Alhamdulillahi wabarakatuh.
04:09Alhamdulillahi wabarakatuh.
04:11Alhamdulillahi wabarakatuh.
04:23کہ یہ مال کل قیامت کے دن
04:25مشلت کیا جائے گا.
04:26اگر اس مال کو
04:27اللہ کے رامے خرص نہ کیا جائے.
04:30تو مال کا حق کیا ہے
04:31کہ اللہ کے رامے
04:32اس کو خرص کیا جائے.
04:33کہ ہم سے پہلوں کو
04:34اللہ نے مال عطا فرمایا تھا
04:36ان کے پاس باقی نہیں رہا.
04:37تو ہمارے پاس بھی
04:38یہ مال باقی نہیں رہنا ہے.
04:40اور یہ مال ہم سے منتقل ہو کر کسی اور میں چلا جائے گا
04:43یہ اگر ہم دیکھیں
04:45آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیض یافتہ جو صحابہ اکرام ہیں
04:50اور بطور خاص سیدنا عثمان اگنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
04:53آپ کا جو انتہائی اہم نمائع وصف ہے
04:55انفاق فی سبیل اللہ کا
04:58اس میں ہم دیکھیں کہ
05:00پوری زندگی اگر کبھی بھی مال کی ضرورت دین کو پڑتی ہے
05:04ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں
05:06اور ان صحابہ اکرام کی صف میں ہمیں اولین وہ کھڑے نظر آتے ہیں
05:11کہ جنہوں نے اپنے مال کو
05:12اللہ اور اس کے رسول کی رضا کی حصول کے لیے
05:15ہر وقت خرش کیا
05:16اور اللہ کی بارگاہ سے
05:18اللہ کی رسول کی بارگاہ سے
05:19اپنے لیے انام و اکرام حاصل کیا
05:21اور بار بار حضور کی بارگاہ سے
05:23آپ کے لیے جنتی ہونے کی بشارتیں عطا فرمائی جاتی ہیں
05:26آپ کے لیے رضا مندی کا اعلان فرمایا جاتا ہے
05:29آپ کی شان میں
05:30قرآن کریم کی آیات وینات کا نزول فرمایا جاتا ہے
05:33تو اگر مال
05:34اللہ کی راہ میں خرش کیا جائے
05:35تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی برکتیں عطا فرماتا ہے
05:38اللہ تعالیٰ دنیاوی اور اخروی طور پر
05:41اس کے سمرات عطا فرماتا ہے
05:43دنیاوی طور پر اس مال میں
05:44برکت یہ ہے کہ
05:46جتنا خرش کریں گے اللہ رب العالمین
05:48اس سے کہیں گناہ بڑھ کر اس کا بدل عطا فرمائے گا
05:52اور آخرت میں تو ہم اس کا اندازہ نہیں کر سکتے
05:54کہ اللہ تعالیٰ برکتیں کتنی عطا فرماتا ہے
05:56حضرت عثمانِ غنیر رضی اللہ تعالیٰ
05:59نے آپ کا اگر ہم معاملہ دیکھیں
06:01انفاق فی سبیل اللہ کا
06:02اور اس آیتِ کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا نا
06:05فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَأَنفَقُوا لَهُمْ عَجْرٌ قَبِيرٌ
06:08تم میں سے جو ایمان لائے اور خرش کیا
06:11تو ان کے لیے بڑا عجر ہے
06:13اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے لیے بڑا صلح ہے
06:16جو اپنے مال کو ترجی نہیں دیتے
06:20اپنی ضروریات کو ترجی نہیں دیتے
06:22اپنی خواہشات کو ترجی نہیں دیتے
06:24بلکہ ان ساری چیزوں پر دین کو مقدم کر کے
06:27اللہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی کے حصول کے لیے
06:31اپنا مال خرش کرتے
06:33چاہے وہ
06:34مسجد نبوی کی زمین کی توسی کا معاملہ ہو
06:37آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان فرماتے ہیں
06:40کہ کون ہے جو مسجد نبوی کی توسی کے لیے زمین خریدے
06:43اور مسجد میں اس کو شامل کرے
06:45اور اللہ سے اپنے لیے جنت حاصل کرے
06:48حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ
06:50جا کر مال خرش کرتے ہیں
06:52زمین خریدتے ہیں
06:53اور حضور کی بارگاہ میں حاضر ہو کر
06:55ارش کرتے ہیں حضرت اللہ آپ نے جو حکم فرمایا تھا
06:57اس کی تعمیل ہو گئی ہے
06:58تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر
07:01سیدہ رضا عثمانِ غنی کو جنتی ہونے کی بشارت
07:03عطا فرماتے ہیں
07:05پھر غزوہِ تبوگ جیسے عسرہ کا معاملہ ہو
07:08اور اتنا مال
07:09آپ نے اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا
07:12رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
07:14کے چہرہ مبارک پر
07:15آپ کے اس عمل کی وجہ سے
07:17انتہائی خوشی کے آثار آتے ہیں
07:20اور آپ کے لیے بشارت عطا فرمائے جاتی ہے
07:22کہ اگر آج کے بعد عثمان کو
07:23اضافی عمل نہ بھی کریں
07:25تو یہ ان کا عمل ان کے لیے کافی ہے
07:28ان کے درجات کی بلندی کے لیے ان کا عمل
07:30کافی ہے
07:30کہ انہوں نے اللہ کی رضا کے اصول کے لیے
07:33اس قدر بڑی قربانی پیش کی ہے
07:35ہم جیسے عسرہ میں دیکھیں
07:37یہ بڑا تنگی کا
07:39ایک غزوہ ہے
07:40جسے غزوہِ تبوگ کو جیسے عسرہ
07:43اسی وجہ سے کہا جاتا ہے
07:44کہ ابھی خجور کا سیزن پکنے کا بھی ہوا نہیں تھا
07:48کہ اچانک غزوے کی تیاری کا حکم آ گیا
07:51اور مسلمانوں کے پاس
07:53ایسی کوئی حیثیت نہیں تھی
07:55نہ اتنا زیادہ مال تھا
07:56نہ سواریاں تھی
07:58تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ اکرام کو ترغیب دیتے رہے
08:01کہ کون ہے جو اللہ کی بارگاہ میں اپنا مال خرش کرے
08:05اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اپنا مال خرش کرے
08:07اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے جنت حاصل کرے
08:11ہر مرتبہ آپ کی بارگاہ میں
08:13سید عثمانِ گنی رضی اللہ تعالیٰ نے ارز کرتے
08:16ایسی اللہ میں ای طرف سے اتنا مال
08:17پہلے ارز کیا سو اونٹ بمہ ساز و سامان
08:20پھر حضور نے جب ترغیب دی پھر ایسی اللہ دو سو اونٹ
08:24پھر تیسری مرتبہ ترغیب دی پھر ارز کیا
08:27ایسی اللہ تین سو اونٹ
08:28اور بلکہ آخر میں
08:30ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں
08:33حضرت عثمانِ غنی کی طرف سے جو مال پیش کیا گیا
08:36تقریباً
08:37ایک ہزار اونٹ بمہ سازو سامان
08:40بمہ سازو سامان
08:41یعنی آج کے زمانے کے حساب سے
08:43اگر ہم دیکھیں
08:45تو ایک اونٹ بمہ سازو سامان
08:47یعنی ایک ٹرک
08:50اس ٹرک سمیت
08:51اس کے سامان سمیت
08:52آج اگر کوئی پیش کرے
08:53تو ہم کتنا اس کی دادو تحسین
08:55اس کے لئے ہوگی
08:56اور کتنا اس کو سراہ جائے گا
08:58کہ کتنا اس نے
08:59اللہ کی رامے مال خرص کیا
09:00تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تبارک و تعالیٰ
09:03نو ایک ہزار کموں بیش
09:05تقریباً ایک ہزار اونٹ بمہ سازو سامان
09:06پھر اسی کے ساتھ ساتھ
09:08ستر گھوڑے
09:09ایک ہزار اشرفیاں
09:11یا دس ہزار دینار
09:13اور دیگر
09:14کثیر مواقع پر
09:16جب جب اسلام کو ضرورت پڑتی ہے
09:18اپنا مال وزور کی بارگاہ میں پیش کر دیتے
09:20بیرے رومے کی خریداری کا معاملہ ہو
09:23یا پھر
09:25تقریباً چھبیس عجری میں
09:27جب خانہ کعبہ کی توسی کا معاملہ ہوا
09:29تو اس میں بھی حضرت عثمانِ غنی نے
09:31یہ حرمِ پاک کے آس پاس کی زمین خرید کر
09:34حرم میں اس کو شامل کیا
09:36تو آج کی مسجدِ نوی ہو
09:39یا حدودِ حرم ہو
09:41اس میں بھی اگر ہم دیکھیں
09:42تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تبارک و تعالیٰ
09:44انہوں کا خریدہ ہوا ایک بڑا حصہ
09:46وہ آج پوری دنیا کے
09:48مسلمان وہاں حاضر ہو کر عبادت کرتے ہیں
09:51اور ہر سجدے پر
09:53حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ
09:54کو اللہ تعالیٰ جردہ فرماتا ہے
09:56اور قیامت تک یہ عبادت کا
09:58سلسلہ جاری و ساری رہے گا
10:00اللہ رب العالمین ہر عبادت پر
10:02ہر نیکی پر
10:04ہر نماز پر اللہ تعالیٰ حضرت عثمانِ غنی
10:06کو اس کا جردہ فرمائے گا
10:08اور پھر کسیر مواقع پر
10:10ہم دیکھیں آج تو ہمارے ہاں
10:12اگر دین کے نام پر
10:14خرش کرنے کی باری آتی ہے
10:16تو ہم اپنی جیب میں وہ نوٹ دیکھتے ہیں
10:18جو سب سے چھوٹا نوٹ ہے
10:20اور سب سے پرانا بوسیدہ نوٹ ہے
10:23یعنی جو کئی اور نہیں چلنے کے
10:24قابل تو وہ مسجد میں چلاتے ہیں
10:27اور
10:28یعنی اس کے بعد اس کے چلنے کی عمر
10:30ختم ہو جاتی ہے بس مسجد میں جا کے
10:32اس کو ڈال دیں
10:33لیکن حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ
10:36نے آپ کا عمل کیا ہے
10:38کہ اپنا سب سے پسندیدہ مال
10:43اور مال خرش کرنے میں کبھی بھی آپ
10:45کسی سے پیچھے نہیں رہتے
10:47بلکہ کئی مواقع پر
10:49جب مال خرش کرنے کی ترقیب دی جاتی ہے
10:51تو حضرت عثمانِ غنی چپکے سے چلے جاتے
10:54تاکہ ایسا نہ ہو
10:55کہ مجھ سے پہلے کوئی سبقت کر جائے
10:57اور میں اس سواب سے محروم ہو جاؤں
10:59یہ حضرت عثمانِ غنی اور دیگر صحابہ
11:01اکرام کا ہمیں
11:03نیک عامال میں ایک دوسرے سے
11:05سبقت کرنے کا جذبہ نظر آتا ہے
11:06جیسے متعلق قرآن کریم میں فرمایا گیا نا
11:09کہ فستہ بیقل خیرات
11:11کہ تمہاری دوڑ آپس میں
11:13مال و دولت کمانے میں نہ ہو
11:16مناسب
11:17اونچے سے اونچے
11:18حاصل کرنے میں نہ ہو
11:21بینک بیلنس ہے
11:22بنگلہ ہے
11:23گھاڑی ہے
11:23یہ ساری چیزیں منانے میں
11:24ایک دوسرے کی دوڑ نہ ہو
11:25ایک دوسرے سے سبقت کرنا
11:27ان چیزوں میں نہ ہو
11:29بلکہ فستہ بیقل خیرات
11:31کہ خیرات کے معاملے میں
11:33تم ایک دوسرے کا مقابلہ کرو
11:36اور یہی ہمیں صحابہ اکرام میں
11:39ایک دوسرے کا مقابلہ
11:41ان چیزوں میں ہمیں نظر آتا ہے
11:42کہ کوئی اگر نیکی کا موقع ملتا ہے
11:45تو ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے
11:47کہ میں دوسرے سے پہلے جا کر کرلوں
11:48اور اس نیکی کے ذریعے میں
11:50اللہ رب العالمین کو راضی کرنے کی کوشش کرو
11:53اللہ کی بارگاہ میں میرا قرب بڑھ جائے
11:55اللہ کی بارگاہ میں میرے درجات کی بلندی بڑھ جائے
11:58ہر ایک حضور کا صحابی
12:01اس جذبے سے ہمیں سرشاد نظر آتا ہے
12:04سیدنا صدیقی اکبر
12:05رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:06یا ایک روایت کے مطابق
12:07حضرت عمر فاروق کے دور میں بھی
12:09جب قہد پڑا
12:10تو اہل مدینہ
12:13انتہائی قہد سالی کی وجہ سے
12:15پریشانی کا شکار ہے
12:16مشکلات کا شکار ہے
12:19اور غلے کی کمی کا سامنا ہے
12:22اب حضرت عثمان غنی
12:23رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:24آپ کا غلہ
12:26ملک شام و یمن کی طرف سے
12:29تقریباً ایک ہزار سواریاں
12:30آپ کے غلے سے بھرپور
12:31وہ مدینہ میں داخل ہوتی ہیں
12:34تو حضرت عثمان غنی کے پاس
12:35مدینہ کے سارے تاجر ہو کر
12:37حاضر ہو کر ارز کرتے ہیں
12:39کہ آپ کا مال آیا ہے
12:40آپ بھی تاجر ہیں
12:41ہم بھی تاجر ہیں
12:42تو آپ کا مال
12:44اس کی جو بھی قیمت ہے
12:46ہم
12:47اس کا اتنا فیصد
12:48آپ کو دینے کے لیے تیار ہے
12:50دو فیصد دینے کے لیے تیار ہے
12:52کسی نے چار فیصد
12:53کسی نے پانچ فیصد
12:54کسی نے چھ فیصد کی
12:55بولی لگائی
12:57تو آپ نے فرمایا
12:58کہ اس سے زیادہ کی مجھے آفر ہے
13:01مجھے اس سے زیادہ کی پیشکش کی گئی ہے
13:03تو اہل مدینہ میں سے
13:05جو بڑے بڑے تاجر تھے
13:06آپ سے حیرانگی کے ساتھ عرض کرنے لگے
13:09کہ حضور
13:10ہم مدینہ کے سب سے بڑے ڈیلر ہیں
13:13ہم تاجر ہیں
13:14ہمارے علاوہ تو کوئی تاجر نہیں ہے
13:17جو آپ کو اتنی بڑی آفر دے سکے
13:19اور اتنی بڑی پیشکش کر سکے
13:21شاید آپ کو کوئی مغالطہ ہوا ہے
13:23کیونکہ
13:24سارے تاجر یہاں موجود ہیں
13:25ان کے علاوہ تو کوئی تاجر نہیں ہے
13:27جو آپ کے ساتھ یہ سودا کر سکے
13:28اور اتنی بڑی آپ کو آفر دے سکے
13:30یہ تو
13:31ممکن نہیں ہے کسی کے لئے
13:33اور
13:34اتنے مہنگے دامو خرید کر
13:35وہ بیچے گا کیسے
13:36پروفٹ کیسے حاصل کرے گا
13:39تو آپ نے فرمایا
13:39کہ تم دیکھنا میرا
13:40اس سے بڑا سودا ہو چکا ہے
13:43میری اس سے بڑی ڈیل ہو چکی ہے
13:45جب
13:51تو آپ نے پورے شہر میں
13:53اعلان فرمائے
13:54کہ سارے جتنے بھی افراد ہیں
13:55وہ یہاں حاضر ہو جائیں
13:57مدینہ کے غربہ
13:59فکرہ
13:59مدینہ کے جتنے بھی افراد
14:00مستحقین ہیں
14:01جن جن کو غلے کی ضرورت ہے
14:03وہ سارے حاضر ہو جائیں
14:04چنانچہ جب آپ کی بارگاہ میں
14:06سارے حاضر ہوئے
14:07تو سارا غلہ
14:09بغیر کسی قیمت
14:10اور بغیر کسی عوض کے
14:11آپ نے
14:12اللہ رب العالمین کی رضا کی حصول کے لیے
14:14وہ اہل مدینہ میں خرش کر دیا
14:17اور جو تاجر وہاں آئے
14:18تو آپ نے فرمایا
14:19کہ دیکھو میں نہ کہتا تھا
14:21کہ میرا
14:22تمہاری جو آفرز ہیں
14:23تمہاری جو پیش کشے ہیں
14:24اس سے بھی بڑا سودا ہو چکا ہے
14:26تم تو مجھے دو فیصد
14:28چار فیصد
14:29چھ فیصد کی آفر کر رہے تھے
14:31میرا اس سے سودا ہوا ہے
14:32کہ جس کا
14:34آغاز ہی دس فیصد سے ہوتا ہے
14:36اور وہ اس سے کتنا بڑھا کر
14:37مجھے عطا فرمائے گا
14:38میں اس کا اندازہ نہیں کر سکتا
14:41تو حضرت عثمان غنی
14:42رضی اللہ تعالیٰ
14:43اللہ کی رضا کے حصول کے لیے
14:46یعنی بغیر
14:48دادو تحسین
14:49بغیر شہرت
14:50بغیر کوئی لالت
14:51بغیر دنیاوی طور پر
14:53کسی سے کوئی بدلہ چانا
14:54ان ساری چیزوں سے ہٹ کر
14:56خالصتاً
14:56اللہ کی رضا کے لیے
14:57آپ کا یہ عمل
14:59اللہ رب العالمین
15:00کی رضا کے حصول کے لیے
15:01آپ کا یہ عمل ہے
15:02کہ اللہ راضی ہو جائے
15:04اللہ کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم
15:06راضی ہو جائے
15:07اس لیے ہم دیکھیں
15:08کہ جب بھی کبھی
15:09ضرورت پڑتی ہے
15:10کوئی کہیں سے آیا ہے
15:12کسی علاقے سے ہے
15:13اجنبی ہے
15:14جان پہچان والا ہے
15:15اپنا ہے
15:16بیگانہ ہے
15:16اگر کوئی کسی پریشانی میں
15:18مبتلا ہے
15:19حضرت عثمان غنی کے
15:20دیر دولت پر حاضر ہوتا ہے
15:22آپ کی چوکٹ پر حاضر ہو کر
15:24کوئی بھی اگر
15:25اپنی حاجت لے کر آتا ہے
15:26اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
15:28کی یہ فیضی آفتہ صحابی
15:31اور سخی صحابی
15:32غنی صحابی
15:33ان کے دروازے سے
15:34کوئی ایسا نہیں ہے
15:35جو خالی لوٹ کر جائے
15:37اور
15:37اس کی توقع سے بڑھ کر
15:39اسے نوازہ جاتا ہے
15:40اس کی
15:41سوچ اور اس کے مطالبے سے
15:43بڑھ کر
15:43اس کو نوازہ جاتا ہے
15:44یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
15:47کا فیض ہے
15:47آپ کی تربیت ہے
15:48ہر جمعہ المبارک
15:50آپ
15:50اللہ کی رضا کی اصول کے لیے
15:52غلام خرید کر
15:52ازاد کرتے
15:54ہر جمعہ میں
15:55آپ کا یہ معمول ہے
15:56اور کبھی اگر
15:57کسی مصروفیت کی وجہ سے
15:59جمعہ میں ناغہ آ جاتا
16:00تو
16:01اگلے جمعہ کو
16:02اس سے دگنا
16:03خرید کر
16:04جو تعداد پہلے رہ چکی ہے
16:06اس کو آپ پورا فرماتے
16:08اور پھر
16:08حضور کی بارگاہ میں
16:09آپ کا معاملہ
16:10یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم
16:12کی خاطر تو
16:13کل کائنات
16:14صحابہ اکرام
16:15ہمیشہ پیش پیش
16:15وہ رہا کرتے تھے
16:22ایک تڑپ اور طلب رہتی تھی
16:24کہ
16:24اللہ کے رسول
16:25ہمیں حکم فرما دے
16:27آپ صلی اللہ علیہ وسلم
16:28کی بارگاہ میں
16:28ایک مرتبہ عرض کرتے ہیں
16:29یا رسول اللہ میں
16:31خواہش کرتا ہوں
16:32میری تمنا ہے
16:33کہ آپ میرے ہاں
16:34دعوت کیلئے تشریف لے چلے
16:36اب انفاق
16:37فی سبیل اللہ کیا ہے
16:38اور عمل کیا ہے
16:40کہ جس کے ذریعے
16:41اللہ کو بھی
16:42اور اللہ کے رسول
16:43صلی اللہ علیہ وسلم
16:43کو راضی اور خوش کیا جائے
16:45حضور تشریف لے جاتے ہیں
16:47اب حضرت عثمانِ گنی
16:49رضی اللہ تعالیٰ عنہ
16:50کو حضرت امام الانبیاء
16:51صلی اللہ علیہ وسلم
16:52نے ملاحظہ فرمایا
16:55کہ
16:55وہ حضور کے قدمین
16:57مبارک گن رہے ہیں
16:59آپ صلی اللہ علیہ وسلم
17:01جتنے قدم مبارک
17:02حضرت عثمانِ گنی
17:03کے گھر کی طرف
17:04آپ چلتے ہیں
17:05تو حضور کے مبارک
17:07قدموں کی
17:08وہ گنتی کرتے جاتے ہیں
17:10حضور نے فرمایا
17:11کہ عثمان کیا کر رہے ہو
17:12عرص یاس اللہ میری تمنا تھی
17:14کہ آپ میرے گھر تشریف لے چلیں
17:15اور میں نے یہ ارادہ کیا تھا
17:18کہ جب آپ میرے ہاں
17:19تشریف لے چلیں گے
17:20تو جتنے آپ
17:21قدم میرے گھر کی طرف
17:23اٹھائیں گے
17:24جتنے قدم چلیں گے
17:25یاس اللہ آپ کے
17:27قدموں کی تعداد کے برابر
17:29اتنے غلام خرید کر
17:30اللہ کی راہ میں آزاد کر دوں گا
17:31تو حضرت عثمانِ گنی
17:33رضی اللہ تعالیٰ عنہ
17:34انفاق فی سبیل اللہ کا
17:36تصور آتے ہی
17:37سب سے نمائے جس شخص کا
17:39تصور
17:40خیال ہمارے ذہنوں میں آتا ہے
17:42حضرت عثمانِ گنی
17:43رضی اللہ تعالیٰ عنہ
17:44اس لئے فرمایا گیا
17:45کہ اگر دولت مانگنی ہے
17:47تو قارون و حامان کی دولت
17:49نہ مانگی جائے
17:49بلکہ
17:50دولت عثمان مانگی جائے
17:52کہ اللہ تعالیٰ دولت بھی
17:53اطا فرمائے
17:53اور اس کے ساتھ ساتھ
17:54خرش کرنے کا جذبہ بھی
17:56اطا فرمائے
17:56اللہ کریم ان زواتِ مقدسہ سے
17:58اپنی نسبتوں کو
18:00پختہ کرنے کی
18:00پوری زندگی
18:02ان پاکانِ امت کے
18:03کردار کے مطابق
18:05اپنانے کی توفیق
18:06اطاف فرمائے
18:06اللہ کریم عمل کی
18:07توفیق اطاف فرمائے
18:08آج کی اس گفتگو سے
18:10متعلق
18:11اگر کوئی سوال
18:11کسی کے ذہن میں
18:12تو وہ پوچھ لیں
18:13سلام علیکم ورحمت اللہ
18:15وبرکاتہ
18:17حضرت یہ ارشاد فرمائے گا
18:19کہ حضرت عثمانِ غنی
18:20رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
18:22بارگاہ سے
18:23ان کی صیرت سے
18:24ہمیں
18:24خرج کرنے کا درست
18:25ملتا ہے
18:26لیکن جب ہم
18:27خرج کرتے ہیں
18:28تو ساتھ
18:28یہ وسوسہ بھی آتا ہے
18:29کہ مال میں
18:30کم ہی آ جائے گی
18:31مال کم ہو جائے گا
18:33تو یہ ارشاد فرمائے گا
18:34کہ اس وسوسے
18:35کو دور کرنے کا
18:36کیا طریقہ ہے
18:37قرآنِ کریم میں
18:38ایک اللہ رب العالمین
18:40کی طرف سے
18:41وعدے کا
18:41اعلان فرمایا گیا
18:42اور اسی شیطان
18:43کے وسوسے کا
18:44تذکرہ فرمایا گیا
18:45کہ
18:49شیطان تمہیں
18:53خرج کرو گے
18:53تو تم فقر میں آ جاؤ گے
18:54تنگی میں آ جاؤ گے
18:56ایک طرف
18:56شیطان کا
18:57یہ وسوسہ ہے
18:58اور دوسری طرف
18:59اللہ رب العالمین
19:00کا وعدہ ہے
19:01کہ اللہ تعالیٰ
19:04تم سے
19:04اس عمل کے بدلے میں
19:06مغفرت کا بھی
19:06وعدہ فرماتا ہے
19:07اور فضل کا وعدہ
19:09بھی فرماتا ہے
19:09کہ تمہارے مال میں
19:10کم ہی نہیں آئے گی
19:11اللہ رب العالمین
19:12دنیاوی طور پر بھی
19:13اس میں اضافہ
19:14اور برکت اطاع فرمائے گا
19:15اور آخرت میں
19:16اس کے بدلے میں
19:17اللہ تعالیٰ
19:17مغفرت کا اعلان فرماتا ہے
19:19تو یہ شیطان کا
19:20وسوسہ
19:20اور دوسری طرف
19:21رحمان کا وعدہ
19:22تو رحمان کے وعدے پر
19:24اگر ہم عمل کریں گے
19:25یقین ہوگا
19:26تو اللہ رب العالمین
19:27پھر ہمارے مال میں
19:28کسی طرح کی
19:29کوئی کمی نہیں آنے دے گا
19:30کیونکہ
19:30اللہ رب العالمین
19:33اپنے وعدے کے خلاف
19:34نہیں فرماتا
19:34تو اس چیز کو
19:35پیش نظر رکھا جائے
19:36کہ رب کا وعدہ ہے
19:38تو اللہ تعالیٰ
19:38میری سوچ
19:39میرے وہم
19:40میرے گمان
19:40میرے اندازے سے
19:41کئی گناہ بڑھ کر
19:42میرے عمل کا
19:43اللہ تعالیٰ
19:43دنیاوی طور پر بھی
19:44اور اخروی طور پر بھی
19:46اس کا اجل عطا فرمائے گا
19:47سلام علیکم
19:48حضرت میرا آپ سے یہ سوال ہے
19:50کہ حجرت کے موقع پر
19:51نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
19:52نے
19:52ہر انساری صحابی کو
19:54مہاجر صحابی کا
19:55بھائی مقرر کیا
19:56کیا حضرت عثمانِ گنی
19:57کے لئے بھی
19:57کسی کو بھائی مقرر کیا گیا
20:00یقینا
20:01تمام صحابہ اکرام
20:02جو
20:04مکہ سے مدینہ
20:05یا حفشہ سے
20:06مدینہ حجرت کرنے والے تھے
20:07ان کو انسار
20:08صحابہ اکرام میں سے
20:09ہر ایک کا بھائی
20:10بنایا گیا
20:11حضرت عثمانِ گنی
20:12رضی اللہ تعالیٰ
20:13نے آپ کو
20:14حضرت سابد بن عوث
20:15انساری رضی اللہ تعالیٰ
20:16نے آپ کا بھائی
20:17بنایا گیا تھا
20:18لیکن
20:18جس طرح
20:20انسار صحابہ اکرام
20:21نے مہاجرین کی
20:22مدد کی تھی
20:23تو حضرت عثمانِ گنی
20:24رضی اللہ تعالیٰ
20:25نے ان چند
20:25صحابہ اکرام میں سے
20:26جنہوں نے
20:27اس کو
20:28بڑی خوشدلی کے ساتھ
20:30اس کو واپس کیا
20:31اور
20:32کسی طرح کی
20:33مالی مدد
20:34قبول کرنے سے
20:34انکار کر دیا
20:35جو مواخات کا
20:37سلسلہ ہے
20:37اس کا مقصد صرف
20:38مالی مدد نہیں تھی
20:39بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ
20:41ہمدردی کرنا
20:42ایک دوسرے کے
20:42دکھ سکھ میں کام آنا
20:43تو حضرت عثمانِ گنی
20:45رضی اللہ تعالیٰ
20:45نے چونکہ
20:46تاجر صحابہ اکرام
20:47میں آپ کا شمار تھا
20:48تو مدینہ طیبہ
20:49تشریف آوری کے بعد بھی
20:51آپ نے وہ
20:52پرانا سلسلہ
20:53باقی رکھا
20:53تجارت فرمائی
20:54اور
20:55ایک کلیل عرصے میں
20:56اللہ رب العالمین
20:57نے آپ کی تجارت میں
20:58برکت عطا فرمائی
20:59کہ پورا
21:00مدینہ آپ کی تجارت
21:01سے وہ فیضیاب ہونے لگا
21:02تو اللہ تعالیٰ
21:03نے آپ کے مال میں
21:04بھی برکت عطا فرمائی
21:05تو انسان اگر
21:06آغاز کرے
21:08انسان اللہ رب العالمین
21:09پر توقع
21:10بروسہ
21:10اور اعتماد کرتے ہوئے
21:12تجارت
21:12اور اپنے ہاتھ سے
21:13کمانے کا ارادہ کرے
21:14تو اللہ تعالیٰ
21:14اس میں برکت عطا فرماتا ہے
21:16یہ حضرت عثمانِ گنی
21:17رضی اللہ تعالیٰ
21:18انہوں کی سیرت سے
21:19ہمیں
21:19درس ملتا ہے
21:20اللہ کریم
21:21ان زوات مقدسہ سے
21:23پوری زندگی
21:24وابستہ رہنے کی
21:25توفیق عطا فرمائے
21:26ان کی سیرت
21:27و کردار کے مطابق
21:28اپنی زندگی
21:29گزارنے کی
21:30اور ان نسبتوں
21:31کے سائے تہلے
21:32اپنی زندگی
21:33گزارنے کی
21:33توفیق عطا فرمائے
21:34اللہ کریم
21:35عمل کی توفیق
21:36عطا فرمائے
21:37وَمَا عَلَيْنَا
21:38إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِيِّ
Comments