Skip to playerSkip to main content
To watch more Qtv Special Transmission ➡️https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xif5HVja7jgrmn9g8r8WGR5h

Jashan e Waris RA - Mehfil e Sama | ARY Qtv

Host: Sarwar Hussain Naqshbandi

Guest: Syed Saqlain Haider Shah, Mufti Ghulam Yaseen Nizami

#HazratHajiWarisAliShahRA #Talkshow#aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00. . . . .
00:30do
00:33do
00:36do
00:42do
00:46do
00:49Rekھتے ہوئے ان کے ذکر کو شامل کرتا ہے اپنے مہمانوں کے ذریعے
00:53اس شخصیت کا تعرف آپ تک پہنچایا جاتا ہے ان کی صیرت و کردار کے
00:58حوالے سے ان کے ملفوظات کے حوالے سے اور ان کی شخصیت کے مختلف
01:02ذاویوں سے ہم بات کر کے ان کا ذکر زندہ کر کے اصل میں اپنے دلوں
01:07کو توانائی دیتے ہیں اور یہ سارے کا سارا عمل خیر کا عمل ہے جس
01:12کو جاریو ساری ایر وائی کیو ٹی وی رکھے ہوئے ہیں آج ہم جس
01:16شخصیت کا ذکر کریں گے یہ جو انیسمی صدی ہے اور اس سے پیچھے اور
01:20اس کے بعد کا جو زمانہ ہے یہ سارے کا سارا صوفیہ کرام سے بھرا
01:24ہوا ہے تصوف کی جو لہر ہے اس صدی میں اور اس صدی کے آس پاس ہمیں
01:30بہت زیادہ تیزی سے لہراتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور اسی دور میں آج
01:36ہم جس شخصیت کا ذکر کر رہے ہیں حضرت حاجی وارس علی شاہ رحمت
01:41اللہ علیہ اپنے حوالے سے اپنی شخصیت کے حوالے سے اور یہ ان
01:45بزرگوں میں شامل ہیں ان کا تعلق قادریہ اور چشتیہ سلسلے کے
01:49ساتھ تھا لیکن اس کے باوجود اس کے اندر انہوں نے اپنا ایک رنگ
01:54نکالا ایک اپنی شناخ نکالی اور نہ صرف یہ کہ اس سلسلے کو آگے
01:59بڑھایا بلکہ اپنے سلسلے کے ساتھ لوگوں کو منسلک کیا اور محبت
02:03کا ایک ایسا نور اس سلسلے کے ذریعے سے پھیلا جس کی خوشبو پورے
02:08برسغیر میں ہمیں پاکستان میں بھی دکھائی دیتی ہے اور ہمارے جساتھی
02:14ملک ہے وہاں پہ بھی خاص طور پہ اس کی گون سنائی دیتی ہے اس
02:17ظلے میں مجھے بھی جانے کا اتفاق ہوا بارہ بنکی میں اور وہاں
02:21پہ ایک صوفیہ کونفرنس کے سلسلے میں اور وہاں پہ ان کا ذکر خیر
02:25بڑے تواتر سے ہوتا رہا اور لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت کو میں
02:30نے اس طرح جاگزی پایا اور اللہ والوں کی نسبت اور محبت ایسی ہی
02:35ہوتی ہے کہ ان کے دنیا سے جانے کے بعد یہاں زندگی میں لوگوں کا
02:38ذکر مفقود ہو جاتا ہے اور جہاں صدیان گزرنے کے بعد بھی لوگ ان کی
02:43محبتوں کے قیدی ہوں تو یقین ان اللہ کے ذکر کے ساتھ اس تعلق کے
02:47ساتھ اور روحانیت کی اصل جو رسی ہے اس کو یہ لوگ تھامے ہوئے ہوتے
02:53ہیں اس لیے ان کا ذکر جب بھی ہوتا ہے محبت کے ساتھ ہوتا ہے تو حضرت
02:57حاجی وارث علی شاہ رحمت اللہ علیہ کا ذکر آج ہم کریں گے اور ہماری
03:02خوشبختی ہے کہ ہمارے ساتھ بہت ہی خوبصورت اور متور مہمان جو ہے وہ
03:07تشریف فرما ہیں بہت عرصے کے بعد ملاقات ہو رہی ہے جناب سابزادہ
03:11سید سکلین حیدر شاہ صاحب سے اور عرصہ دراز کے بعد یہ پاکستان
03:16واپس تشریف لائے ہیں اب تو آپ کو خوش آمدید بھی کہتے ہیں حضرت
03:19اور آپ کی تشریف آوری پر بھی آپ کے شکر گزار ہیں آپ جب یہاں پہ تھے
03:24اس وقت بھی آپ سے استفادہ ہم کرتے تھے اور واپس تشریف لانے پر بھی
03:28آپ سے اسی طرح سے مستفید ہو رہے ہیں بہت شکریہ بہت شکریہ ان کے
03:32ساتھ تشریف فرما ہے ہمارے بہت ہی بہترم ہمارے دیگر پروگراموں
03:36میں تشریف لاتے ہیں بڑی میٹھی اور دھیمی اور بڑی ٹو دی پوائنٹ گفتگو
03:40کرتے ہیں بہت اچھا لگتا ہے جب بھی تشریف لاتے ہیں جناب مفتی غلام
03:44یاسیر نظامی صاحب آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں جناب بہت شکریہ آپ کی
03:48تشریف آوری کا حضرت گفتگو کا آغاز کرتے ہیں حضرت حاجی وارث
03:52علی شاہ رحمت اللہ علی ان کے حوالے سے اس کے ان کے پسمندر کے حوالے
03:57سے ان کی ولادت کے حوالے سے جیسے آپ آغاز فرمانا چاہیں
04:01سب سے پہلے تو میں آپ کا اور کیو ٹی وی کی پوری ٹیم کا شکر
04:21گزار ہوں جنہوں نے مجھے آپ سے اور صاحبان سے مخاطب ہونے کا موقع
04:25تعاف فرمایا اور ایک مدت کے بعد آپ سے یوں ہم کلام ہونے کا موقع
04:29ملا مجھے بزرگان دین اولیاء کرام اور اللہ کریم کے مقرب برگزیدہ
04:35اور پسندیدہ بندوں کا جہاں بھی ذکر کیا جائے وہاں سے ایک روح
04:41کو ایک نئی تازگی ملتی ہے اور انسان کی صیرت اور کردار کو اور
04:48اخلاق کو بہتر بنانے کے لیے ان کی جو زوات ہیں وہ ایک منارہ نور
04:53کی حیثیت رکھتی ہیں بے شک حضرت پیر حاجی وارث علی شاہ صاحب رحمت
04:58اللہ تعالی علیہ یہ سلسلہ تصوف میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے
05:04ہیں صحیح بارہ سو چونتیس یا پینتیس ہجری میں حاجی سید قربان
05:11علی کے گھر اور یکم رمضان المبارک کو آپ کی پیدائش ہے اور سب سے پہلی
05:18بات تو یہ کہ جب یکم رمضان المبارک کو آپ کی پیدائش ہوئی تو یہ
05:23گھرانہ تو اپنے علمی مقام اپنے عدبی مقام اور اپنے روحانی مقام کی
05:29وجہ سے اہد میں ایک منفرد اور ممتاز حیثیت کا حامل تھا اور جب ان کے
05:34گھر بچے کی ولادت ہوئی تو پھر لوگوں نے یہ دیکھا کہ آپ نے دن بھر کچھ
05:39نہیں کھایا اور افطار کے بعد آپ نے دودھ نوش فرمایا اور یہ بات جو تھی یہ
05:46چند دنوں میں زبان زدیام ہو گئی کہ اس گھرانے میں جو ایک بچہ پیدا ہوا ہے وہ
05:51ابھی سے اتنا پاک تینت اور اتنا پاک باز ہے اور پھر جو آپ کے والد
05:56گرامی سے وہ اپنے دور کے بہت بڑے ایک آلم دین بھی سے علوم زاہری اور
06:04باطنی پر ایک کامل دسترس رکھا کرتے تھے اور یہ اس طرح کا پھر اتنے
06:09روحانی محول میں آپ کی پرورش ہوئی اچھا حسن تفاق دیکھئے کہ تقریباً
06:15تین سال کی عمر میں آپ کے والد گرامی کا ویسال ہوتا ہے اور اس کے بعد
06:20آپ اپنی والدہ آپ کی نگہ داشت کرتی ہیں اور کچھ عرصے کے بعد والدہ
06:24کا ویسال ہوتا ہے اور پھر دادی جان کی آغوش میں آتے ہیں کچھ عرصے کے
06:29بعد دادی جان کا ویسال ہوتا ہے پھر چچا اور پھر اپنے وقت کے ایک بہت
06:35بڑے عالم دین اور جو اپنے روحانی مقام کی وجہ سے بھی ایک اپنا ایک
06:40خاص پہچان اور وجہت رکھتے تھے حاجی سید خادم علی شاہ صاحب یہ آپ کی
06:45ہمشیرہ کے شوہر تھے آپ کے بڑے بہنوئی تھے بزرگ کی جگہ پر تھے اور وہ
06:50آپ کو لے کر جاتے ہیں اور پھر لکھنو جیسی ایک عدمی محول میں آپ کی
06:56پرورش ہوتی ہے ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت شکریہ حضرت ابتدائی بہت
07:00خوبصورت آپ نے ذکر کیا حضرت عاجی وارث علی شاہ رحمت اللہ علیہ
07:05کا مفتی صاحب گفتگو کو آگے بڑھائیں تو پھر ولادت کے بعد جو ابتدائی
07:10حالات اور تعلیم و تربیت کا زمانہ ہوتا ہے وہ بہت اہمیت کا حامل
07:14ہوتا ہے اور آلاللہ کے ہاں ہم خاص طور پر دیکھتے ہیں کہ چونکہ ان کا
07:18گھرانا تصوف کا گھرانا تھا علم کا گھرانا تھا تربیت کا محول جب ان کو
07:23میسر آیا لیکن ان کی تربیت کس طرح سے ہوئی اور ابتدائی تعلیم کے
07:28حوالے سے آپ ضرور کچھ ارشاد فرمائی بسم اللہ الرحمن الرحیم
07:33سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر آپ کے تعارف کو دیکھا جائے تو آپ میں
07:38تعارف میں یہ شامل ہے کہ آپ نجیب و طرفین سید ہیں اور چھبیسویں پوشت میں
07:45آپ کا سلسلہ نصب جو ہے امام علی مقام سیدنا امام حسین سے جا کر
07:49ملتا ہے اللہ اکبر اللہ اکبر اور ساتھویں پوشت میں آپ امام موسیٰ
07:54قاظم کی اولاد میں سے ہیں یہ ان کے اونر کے لیے ان کے اعزاز کے لیے
07:59ان کے افتخار کے لیے بہت بڑا ان کا تعارف ہے جس طرح کی بلا پیر
08:04صاحب بیان فرما رہے تھے کہ ان کے والدے محترم کا نام سید قربان
08:08علی شاہ اور والدہ محترم سیدہ بی بی سکینہ رحمہم اللہ تعالی
08:14یہ وہ شخصیات ہیں کہ جن کے اثرات جو ہیں ان کی تربیت پر نمائی ہوتے
08:19ہیں اب انہی اثرات کو اگر دیکھا جائے نا اور قدرت کی طرف سے بھی
08:26ایک حسین امتزاد جو ہے وہ اللہ پاک نے آپ کو عطا فرمایا جو
08:29آپ کا نام ہے نا وارث یہ بھی اللہ کی عطا سے ہے اور بزرگان
08:34دین فرماتے ہیں یہ نام جو ہیں وہ آسمان سے نازل ہوتے ہیں اور قدرت
08:42خداوندی سے آپ کو یہ وارث کا لقب عطا فرمایا نام دیا گیا یہ
08:46نام بھی اللہ کی توفیق سے دیا گیا اور اس نام کی اثرات بھی آپ کی
08:50شخصیت کے اندر آپ کی صیرت آپ کے کردار اور آپ کے اخلاق کے اندر
08:55نمائیہ دکھائی دیتی ہے چھیک چھیک پانچ سال کی عمر ہے اور پانچ سال
08:58کی عمر میں آپ نے قرآن پاک جو ہے وہ حفظ کروا لی دو روایات ہیں
09:02ایک پانچ سال کی ایک سات سال کی اور اس کے بعد چودہ سال تک آپ نے
09:06شریعت اور طریقت کے تمام علوم پر دسترس حاصل کر لی اور پانچ سال
09:11کی جب عمر کو پہنچے جس طرح کی آپ کے پیرو مرشد جو ہیں جن کا
09:15تعلق سلسلہ قادریہ سے بھی ہے سلسلہ چشتیہ سے بھی ہے اور دیکھا
09:21جائے سلسلہ نقشبندیہ سے بھی ہے وہ ان تینوں خانقاؤں کے فیض
09:25یافتہ ہیں اور اتنی مبارک استی جو ہے وہ آپ میں فیض جو ہے وہ تقسیم
09:29کر رہی ہے آپ کی سرپرستی فرما رہی ہے اور سلسلہ وارثیہ جو ہے
09:33در حقیقت یہ سلسلہ چشتیہ اور سلسلہ قادریہ کا حسین امتزاج
09:38ہے اور آپ اس سلسلہ جو سلسلہ آلیہ وارثیہ آپ اس کے بانی جو
09:44ہے وہ شمار کیا جاتے ہیں تو اس کے بعد چودہ سال کی عمر میں آپ
09:47نے تمام کے تمام علوم پر دسترس حاصل کر لی اس کے بعد جب آپ کے
09:51پیرو مرشد نے آپ کو وہ خلعت عطا فرمائی وہ خلافت عطا فرمائی
09:56تو مریدین کو یہ اتراز ہوا اور ان نے کہا کہ حضرت صاحب یہ تو چودہ
10:01سال کی عمر میں آپ ان کو اتنا بڑا مقام اور مرتبہ عطا فرما رہے ہیں
10:04آپ آگے سے جواب دیتے ہیں کہ جو ان کے مراتب ہیں اور جو ان کے
10:08مناقب ہیں ان سے میں بخوبی واقف ہوں تم ان کے مقام اور مرتبے کو
10:12نہیں جانتے ہو تم سمجھتے ہو کہ یہ مرید ہے یہ مرید نہیں یہ میری
10:17مراد ہے سبحان اللہ سبحان اللہ آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ
10:21حضرت سید وارث علی شاہ صاحب کا مقام ان کی تعلیم و تربیت اور ان کی
10:26احوال اور وہاں سے پھر آپ کے فیض کا آغاز ہوتا ہے اور تب سے لے کر آج
10:31تک آپ کے فیض کا سلسلہ جو ہے وہ جاری ہو ساری ہے لاکھوں نہیں کروڑوں کی
10:35تعداد میں لوگ جو ہیں وہ آپ سے فیض یافتہ ہوئے ہیں اور ان کے فیض کا
10:39اثر ہے کہ بیدم شاہ وارثی جیسی عظیم المرتبہ شخصیت بھی ان کے ان کے وہ
10:44خوشہ چینوں میں شمار ہوتی ہے اور اسی طرح دیکھا جائے امبر شاہ وارثی وہ بھی ان کے
10:49خوشہ چینوں میں شمار ہوتی ہے اور ان کے سامنے اپنی عقیدتوں اور محبتوں کا
10:53اظہار کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں یہاں ایک جملے کا میں اضافہ کر دوں
10:57حضرت کی مزاج میں طبعہ میں استقراک اکثر غالب رہتا اور بڑی بڑی دیر
11:04خموشی جسے خود احتسابی بھی کہا جا سکتا ہے آپ اس میں اسی کیفیت میں رہتے
11:09تو ایک دفعہ حضرت حاجی خادم علی صاحب کی خدمت میں کسی مرید نے عرض کیا
11:13کہ حضرت جو قبلہ شاہ جی ہیں وہ کافی دیر دنیا و مافیا سے بلکل بے خبر ہوتے
11:20ہیں اور انہیں اپنی بھی خبر نہیں ہوتی تو حضرت جو آپ کے شیخ طریقت میں
11:23وہاں انہوں نے ایک جملہ کہا تھا وہ جملہ بہت لطیف اور خوبصورت ہے
11:26انہوں نے کہا تھا تم کہتے ہو کہ اسے خبر نہیں ہے تو ایسا نہیں ہے
11:29ہمیں ان کی خبر نہیں ہے انہیں ہم سب کی خبر ہے
11:33اتنا بڑا روحانی مقام کیا بات ہے سبحان اللہ سبحان اللہ
11:38سب کی ساکھی پہ نظر ہو یہ ضروری ہے مگر سب کی ساکھی پہ نظر ہو یہ ضروری
11:50تو نہیں ہمارے ساتھ رہیے لوٹتے ہیں ایک چھوٹے سے وقفے کے بعد
11:53جی ناظرین کو شامدیت کہتے ہیں وقفے کے بعد آپ کو اور آج ہم حضرت
11:57بابا سید بارس علی شاہ رحمت اللہ علی کے حوالے سے بات کر رہے ہیں
12:02دیوہ شریف میں ان کا تعلق ہے اور ان کے بزرگوں کا سلسلہ تصوف ہے اور
12:08پھر جیسا میں نے ذکر کیا کہ ایک نئی بنیاد رکھنا اتنے بڑے
12:13سلسلوں کے ہوتے ہوئے ایک نئی شناخت کے ساتھ سامنے آنا تصوف میں
12:17یہ بہت بڑا کارنامہ ہے بڑی یہ بہت ریاضت اور بہت محنت
12:21مانگتا ہے یہ علم بھی اور یہ تعلق بھی اور گفتگو ہماری آگے
12:26بڑھ رہی ہے اور میں قبلہ شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ورہا ہوں آپ
12:30کے جو اخلاق ہیں آپ کی جو صیرت ہیں آپ کی جو تعلیمات ہیں اس کے
12:35حوالے سے کچھ ارشاد فرمائیے آپ کی اخلاق پہ بات کرنے سے پہلے
12:41میں یہ کہوں گا کہ حضرت جب خلافت عطا کی گئی آپ کو تو حضرت
12:46حافظ خادم علی شاہ صاحب نے اس موقع پر ایک جملہ بڑا کچھ
12:50موریدین نے اعتراض کیا جس طرح قبلہ مفتی صاحب نے فرمایا تو آپ
12:55نے یہاں پر بھی ایک جملہ بولا تھا آپ نے فرمایا تھا اس میں جو
12:59میں دیکھ رہا ہوں وہ تم نہیں دیکھ رہے جو کمال جو جوہر جو میں
13:05دیکھ رہا ہوں وہ تم نہیں دیکھ رہے اور جب اور جب میں نہیں
13:10دیکھ رہا ہوں گا تو زمانہ اسے دیکھے گا اور آج دیکھ لیجئے کہ
13:15حضرت پیر خادم علی شاہ صاحب تو خود موجود نہیں ان کے شاکر
13:17طریقہ لیکن ایک زمانہ محترف ہے آپ کی آپ کی جو روحانی آپ کا
13:24کمال تھا اس کا اچھا ایک چھوٹی سی بات آپ کو بتا کے پھر آگے چلتا
13:27ہوں ایک شخص تھا تو وہ آپ کا آپ کا اخلاقی مقام کیا تھا اور اس
13:32کو دیکھنے کی سمجھنے کی آج بڑی ضرورت میں سمجھوں جتنی آج ہے
13:36اتنی پہلے نہیں تھی ہم میں برداشت نام کی چیز ہی نہیں رہی کوئی
13:40زمانہ ہوتا تھا کسی جگہ پر آٹے کا اگر کہت ہو جاتا تک گندم
13:44کم ہو جاتی تھی تو بڑی مشکلات کا لوگ شکار ہو جاتے تھے اب
13:48زمانہ جدید ہو گیا لوگ بڑی جلدی کے ساتھ آن آج اس جگہ پر
13:50پہنچا جاتے ہیں کہت کسی کیفیت اور قلت نہیں پیدا ہوتی لیکن
13:54آج برداشت کا کہت ہے کہت ہے کوئی ایک بات بھی کسی کو بولتے
13:59تو ناغوار گزرتی ہے مزاج پہ اتنی کہ آگ بگولہ ہو جاتا ہے
14:03حضرت کو ایک شخص آپ کے اخلاق کا امتحان لینے کے لیے آیا اور
14:07اس نے سنا کہ حضرت پیر وارث علی شاہ صاحب جو ہیں یہ اخلاق میں
14:11زبطے نفس میں تحمل میں اپنی مزاج اپنی مثال آپ ہے اچھا اس
14:16نے آپ اپنی آپ کی محفلہ راستہ سی وہ سامنے سے گزرا اور اس
14:20نے اونچی آواز میں آپ کو سلام کیا السلام علیکم ورحمت اللہ
14:23برکاتہ اچھا آپ کا مزاج تھا کہ آپ کھڑے ہو کر جواب دیا
14:27کرتے تھے اور معانکہ اور مسافہ کیا کرتے تھے لیکن وہ قریب
14:31نہ آیا وہ سلام کر کے گزر گیا اچھا دوسری مرتبہ پھر قریب سے
14:35گزرا اور اس نے پھر سلام کیا آپ نے پھر جواب دیا اچھا کرتے
14:40کرتے تیس مرتبہ سے زائد مرتبہ وہ قریب سے گزرا اور اس نے
14:44سلام کیا اور آپ نے اس کا جواب دیا لیکن جبین پر شکر نہیں آئی
14:49زبان سے کوئی ایسا جملہ نہیں نکلا جو اس کے دل کو دکھاتا اور
14:54تیسویں مرتبہ سے زائد مرتبہ جب وہ گزرا گیا تو وہ آپ کے پاس
14:57آیا اور کہا حضرت میں تو تجربہ کرنے کے لیے آیا تھا بھلا آپ کا
15:01ضبط کا مقام کیا ہے اور آپ کے تحمل کی آپ کے اندر کیفیت کیا ہے
15:05تو آپ نے آخری جملہ ارشاد فرمایا آپ نے فرمایا کہ اگر میرے
15:09جسم میں طاقت ہوتی تو تیس طفعہ تو کیا تم تین سو مرتبہ بھی
15:14گزرتے تو میں اس کا جواب دیتا چلا چاہتا ہوں اللہ حافظ
15:17کچھ مزید ارشاد فرمانا ہے یہ اچھا میں پھر وہی بات کروں گا
15:21کہ آج بزرگان دین اولیاء اکرام کی ہم نے کیا کیا ہم نے
15:25اتنی اتنی بڑی شخصیات کو جن کا قد کو ہمالیہ سے بڑھا تھا ہم نے کیا
15:29کیا ہم نے محض ان کو کرامات کے تانے بانے میں الجھا کر رکھ دیا
15:34اتنی بڑی شخصیات کو اور ہوا کیا کہ ان کی پاکیزہ سیرت
15:38ان کا جو درخشندہ کردار تھا وہ آہستہ آہستہ ہماری نظروں سے
15:43اجل ہوتا چلا گیا آج بھی حضرت پیر وارث علی شاہ صاحب کو
15:46دنیا سے گئے کتنا عرصہ بیجت گیا آج کی ان کے آستانے پل
15:51بلا تفریق رنگ و نسل اور بلا تفریق مذہب و ملت
15:55ہر طرح کے لوگ جو ہیں وہ امیر ہیں وہ غریب ہیں وہ ادنہ ہیں
16:00وہ آلہ ہیں وہ عالم ہیں وہ کم پڑے لکھیں جو بھی ہیں
16:03آج بھی آپ ان کی جا کے درگاہ پر دیکھیں تو آپ کو ایک
16:07امبوہ کسیر نظر آتا ہے ایک حجوم نظر آتا ہے اور یہ
16:09سلسلہ ابھی نہیں یہ آپ کی زندگی میں بھی اسی طرح جاری
16:12حضرت کیا فرماتے ہیں آپ کے اسفار کے حوالے سے بھی
16:16بے شمار سفر آپ نے کیے اور پھر آپ کے جو ملفوزات ہیں جو
16:20آپ کے خوبصورت اقوال ہیں اور آپ نے جس طرح سے محبت پر
16:25اپنے اہل محبت کو قائل کیا اور اس کی اہمیت کو سمجھایا
16:28اس کے حوالے سے ارشاد فرمائیے کچھ
16:30آپ سیرو فی الارد کی عملی تفسیر
16:33سفر کا آغاز آپ نے اجمیر شریف سے کیا
16:37وہاں پر پہنچے آپ نے اس بارگاہ کی اندر جوتے پہننا
16:42جو ہے وہ شایان شان نہیں سمجھا
16:44وہاں سے پھر آپ روزہ
16:46قائدات بہت فرمائے آپ نے
16:48کربلا مولا میں جب گئے ہیں اس کے بعد سے
16:51جی میں اسی ایک اوپر ارز کرنے لگا ہوں
16:53پھر آپ بیت اللہ شریف پہنچے
16:55حج کی سعادت اصل کی ایک ماہ تک مدینہ منورہ رہے
16:59اور وہاں سے پھر نجفِ اشرف تشریف لے گئے
17:02وہ سیدنا علیہ المرتضیٰ کی وہ صفتِ بوت رابی کا اثر
17:05آپ کی ذات پر اتنا ہوا
17:07آپ نے زندگی کی آخری سانس تک کبھی بستر پر نہیں
17:11ہمیشہ فرش پر آرام فرمایا ہے
17:13پھر آپ کربلا مولا پہنچے
17:14اور وہاں پر پہنچ کر جو کربلا کے جو
17:17جو سردار ہیں ان کی تشنا لبی کو یاد فرما کر
17:20آپ ہمیشہ جو ہے وہ
17:21آپ روزے کے ساتھ رہا کرتے تھے
17:24یعنی روزوں کی فبندی فرمایا کرتے تھے
17:26بہت کم کھانے کا معمول تھا
17:27کم بولا کرتے تھے
17:30جس طرح کبلا پیر صاحب بیان فرما رہے ہیں
17:31کم بولا کرتے تھے
17:33یہ سفر کے اثرات یہ ہوتی ہیں
17:37کہ جو سفر کے اندر آب و ہوا ہے
17:39آب و ہوا آپ کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے
17:42اسی طرح یہ جو
17:43ویریشن وغیرہ ہوتی ہیں شخصیت
17:45کہ آپ جہاں پر پہنچتے ہیں
17:46تو وہ اثرات آپ کی شخصیت کے اندر منتقل ہوتی ہیں
17:49اس کو کہتے ہیں فیض کہتے ہیں
17:51یہ وہاں سے سارے کا سارا
17:53فیض لے کر افریقہ یورپ
17:55تمام کے تمام ملکوں سے
17:57کوئی ایسا ملک نہیں تھا کہ جہاں پر آپ تشریف
17:59لے جاتے ہوں اور وہاں پر آپ کے قدر کی نگاہ سے نہ دیکھا جاتا ہو
18:03چہرہ اتنا نورانی تھا
18:05جو ایک مرتبہ دیکھتا
18:06ان کی نظر جو ہے وہ آپ کے چہرہ انور سے نہیں ہٹتی تھی
18:09اور جو آپ کی گفتگو سماعت فرماتے تھے
18:12اور گفتگو کے اندر
18:13ایسی روحانیت ایسی طہارت
18:15اور ایسی پاکزگی ہوتی تھی
18:17کہ دلوں کو سکون اور اتمنان کی دولت
18:19نصیب ہوتی تھی
18:20یہ اللہ کا خاص فضل و کرم ہے
18:21جو اللہ پاک نے آپ کو عطا فرمایا ہے
18:24اور اسی طرح دیکھا جب آپ واپس تشریف لاتے ہیں
18:26واپس آ کر آپ مخلوق کو بتاتے ہیں
18:28بھئی دیکھو ایک ہی بات
18:30یاد رکھو خدمت خلق
18:32ہی خدمت الہی ہے
18:33اگر تم چاہتے ہو
18:35کہ اللہ کی خدمت کرو
18:37اللہ کی تو خدمت کوئی کر نہیں سکتا
18:40لیکن اس کے قرب کو پانا چاہتے ہو
18:42اس کی بارگاہ کی اندر
18:44اپنی بندگی کا اظہار کرنا چاہتے ہو
18:46اس کی بارگاہ کی اندر
18:47صابر اور شاکر رہنا چاہتے ہو
18:49اور اس کی بارگاہ کی اندر
18:51اپنے آپ کو استقناہ کی صفت سے
18:53آزاد کرنا چاہتے ہو
18:54پھر ایسا کیجئے
18:55آپ مخلوق کی خدمت کریں
18:57جو لوگ مخلوق کی خدمت کرتے ہیں
18:59ان پر اللہ کی خاص کرم نوازی ہوتی ہے
19:01اور آپ کا صرف ایک ہی مقصد ہے
19:03حب محبت
19:05خواہ اس کا تعلق محبت الہی کے ساتھ ہو
19:08خواہ اس کا تعلق محبت رسول کے ساتھ ہو
19:10خواہ اس کا تعلق محبت اہلِ بیعت کے ساتھ ہو
19:13خواہ اس کا تعلق محبت انسانیت کے ساتھ ہو
19:16آپ نے فرمایا
19:17لوگو ایک بات یاد رکھو
19:18انسان اشرف المخلوقات
19:20صرف محبت کی وجہ سے بنا ہے
19:22اگر تم چاہتے ہو
19:23کہ تمہارا مقام اور مرتبہ
19:25اللہ کی ہاں معزز اور محترم ہو
19:27پھر تم لوگوں کا عادب اور احترام کرو
19:29جتنا عادب اور احترام کرو گے
19:31اللہ پاک تمہیں اپنی بارگاہ کے اندر
19:33اتنا زیادہ مقام اور مرتبہ عطا فرمائے گا
19:35کیا بات
19:36سبحان اللہ سبحان اللہ
19:37بہت سارے اقوال جو ہیں
19:39حضرت آپ کے حوالے سے
19:41معروف بھی ہیں
19:42اور بہت ساری ایسی
19:44روحانیت کی تربیت کی باتیں
19:45اپنے اہلِ محبت کے ساتھ
19:47آپ نے فرمائی ہیں
19:48اور خاص طور پر جو اپنے
19:49خاص مریدین ہوتے تھے آپ کے
19:51ان کو آپ
19:52احرام
19:53ان کو عطا کر دیتے تھے
19:55کہ یہ پہنے
19:56اور اس طرح رہیں
19:57جیسے مردے کو جب
19:58کفن پہنا دیا جاتا ہے
20:00تو اس کو دنیا سے
20:01کوئی غرض نہیں رہتی
20:02اور اس طرح کی
20:03بے شمار مثالیں ہیں
20:04عرائش
20:06آسائش
20:08اور نمائش
20:09ان کا تصور
20:11آپ کی زندگی میں نہیں
20:12دیکھئے کہ
20:14آپ نے
20:14سترہ حج فرمائے ہیں
20:17اور ایک جگہ پر ہے
20:18کہ انیس حج فرمائے ہیں
20:19آپ نے اپنی
20:20زندگی میں
20:21حج کے ارادے سے جب نکلے
20:23اور کہتے ہیں
20:24کہ جب مدینہ تیبہ کا
20:25ذکر چھڑتا تھا
20:26تو آپ کی آنکھوں سے
20:28ایک عشقوں کا سیلے روان
20:29بہن نکلتا تھا
20:30اور ایسی
20:31کیفیت ہو جاتی
20:32کہ ہر کوئی
20:33اس سے دیکھ کر
20:33بڑا متاثر ہوتا
20:34آپ جب حج کے ارادے سے
20:36نکلے
20:36اور جب احرام باندھا
20:38اور اس کے فلسفے
20:39غور کیا
20:40اور چھے پھر
20:41اس واپس تشریف لائے
20:42واپس آئے
20:43واپس لوٹے
20:44اور اس دورانہ
20:44آپ نے بہت سے
20:45ممالک کی سیاحت فرمائی
20:46اور جب ایک لمبی
20:47مدت کے بعد
20:48تقریباً دس یا
20:49گیارہ سال کے عرصے کے بعد
20:50یہ آپ کا
20:51ایک پورا ایک درمیان میں
20:52فیز ملتا ہے
20:52جو سہر و سیاحت کا
20:53مختلف قوموں کو دیکھا
20:54تہذیبوں کو دیکھا
20:55تمدن دیکھے
20:56رسم و رواج دیکھی
20:57اب آپ غور کیجئے گا
20:58اس سے کتنی وسعت
21:00نظری پیدا ہوتی ہے
21:01مزاج کے اندر
21:02طبیعت کے اندر
21:03میں اکثر یہ جملہ بولتا ہوں
21:04اور آپ کی نظر کرتا ہوں
21:05کہ انسان کے طبیعت کو
21:07مزاج کو
21:08تین طریقے
21:08تین طریقے ہیں
21:09جو بہت جلدی بدلتے ہیں
21:11سب سے پہلے
21:11مطالعہ
21:12پھر مشاہدہ
21:14اور پھر صحبت
21:15اور یہ تینوں جو ہیں
21:16یہ پورے شباب پہ
21:17نظر آتی ہیں
21:17آپ کی زندگی میں
21:18جب وہ واپس لوٹے
21:19تو وہ احرام
21:20اتنا پسند آیا تھا
21:22کہ سوچا کہ
21:23کیوں نہ آئندہ
21:24اسی اسی طرح کا
21:25لباس پہنا جائے
21:25اور پوری عمر
21:26پھر ایک چادر دوچی
21:28آپ نے اپنی کمر کے ساتھ
21:29باندھی
21:29اور ایک چادر سے
21:30اپنے جسم کوڑا
21:31اور جو خادم آتا
21:32جو مرید آتا
21:33آپ اسے بھی
21:34یہی تلقیم کرتے
21:35اب جو شخص
21:36پہنتا ہی چادر ہو
21:37اس کو
21:38اچھے لباس کی خوش
21:39باقی کہاں رہتی ہے
21:40اور پھر
21:41فرش خاک پر
21:42رہنا پسند کیا
21:43اب سادگی کا
21:44وہ مقام بھی دیکھئے
21:45زندگی بھر کہتے ہیں
21:47کہ آپ اس کے بعد
21:48اونچی چار پائی پر نہیں
21:50سوئے
21:50آپ تخت پر نہیں بیٹھے
21:52آپ نمائیں
21:53اور امتیازی نشست پر
21:54بیٹھنا پسند نہیں کرتے تھے
21:56بلکہ گھل مل کر
21:57دوستوں میں بیٹھنا پسند کرتے تھے
21:59سالکین کے ساتھ
22:00مریدین کے ساتھ
22:01ارادت مندوں کے ساتھ
22:02تو یہ کتنی بڑی بات
22:03کیا بات
22:04بہت ساری باتیں
22:06جو ہے وہ آپ کے حوالے سے
22:07اور کوئی آپ
22:08ایڈ کرنا چاہیں
22:09آپ کی جو ابھی
22:10گفتگو چل رہی ہے
22:11تو ہم وقفے سے پہلے
22:13کوئی ایک آدھ بات
22:13میں ان کی شخصیت کے حوالے سے
22:15ان کے فرمودات کے حوالے سے
22:17ایک بات عرض کرنا چاہوں گا
22:18ان سے نہ کسی نے پوچھا
22:20حضرت صاحب یہ بتائیں
22:21یہ ہتتر فرقے ہیں
22:23اور تہتر فرقوں میں سے
22:24بہتر جو ہیں وہ ناری ہیں
22:26ایک ناجی ہے
22:27آپ ذرا اس کی حوالے سے
22:29ہماری رہنمائی فرمائیں
22:30آپ بتاتے ہیں
22:31ایک بات بتاؤ
22:33حسد کی عدد کتنے ہیں
22:34بہتر ہیں
22:36فرمایا
22:37جو فرقہ حسد سے پاک ہے
22:40وہ ناجی ہے
22:40اور جو حسد میں مبتلا ہے
22:42وہ ناری ہے
22:43اور کتنا خوبصورت
22:44آپ نے جواب دیا
22:45سمندر
22:46یعنی
22:46کوزے میں آپ نے
22:48سمندر کو بند فرما دیا
22:49یہ
22:50اس سے پتہ چلتا ہے
22:51کہ آپ شریعت کے کتنے
22:52شریعت سے کتنی
22:53واقفیت رکھتے ہیں
22:54طریقت سے کتنی
22:55واقفیت رکھتے ہیں
22:56اور معرفت اور حقیقت
22:58سے کتنی واقفیت رکھتے ہیں
22:59یہی وہ آپ کا پیغام ہے
23:01کہ جس پیغام کی وجہ سے
23:02آپ نے ساری زندگی
23:03قال اللہ وقال
23:04رسول اللہ کی صدایں
23:06بلند کی ہیں
23:06تو آج انہی کا سیلہ
23:08آپ کو مل رہا ہے
23:10کہ آج بھی
23:10لوگوں کی زبانوں پر
23:11آپ کا ذکر
23:12جو ہے وہ جاری و ساری ہے
23:13صرف ذکر نہیں
23:14بلکہ آپ کا فیضان
23:15بھی جاری و ساری ہے
23:16کیا بات
23:16سبحان اللہ
23:17سبحان اللہ
23:18ناظرین اکرام
23:19بریک کا وقت ہے
23:20اور ابھی ہم لوٹتے ہیں
23:21انشاءاللہ
23:21اور کچھ مزید
23:23جن کا ذکر
23:24ہم آج کر رہے ہیں
23:25حضرت بابا سید بارس علی
23:26شاہ رحمت اللہ
23:28آپ نے فرمایا
23:28کہ مرید جو ہے
23:30وہ ایک بیمار کی طرح
23:31ہوتا ہے
23:32اور جو شیخ ہوتا ہے
23:34وہ معالج کی طرح
23:35ہوتا ہے
23:35تو جو بیمار
23:36معالج کی ہدایات پر
23:38جتنا عمل کرتا ہے
23:39اور جتنا زیادہ
23:41عمل کرتا ہے
23:41اس کو جلدی
23:42شفا ہو جاتی ہے
23:43ہمارے ساتھ رہیے
23:44لوٹتے ہیں
23:45ایک چھوٹے سے وقفے کے بعد
23:46جناظرین خوش آمدیت
23:48کہتے ہیں
23:48وقفے کے بعد آپ کو
23:49آج ہم خصوصی طور پر
23:51ذکر کر رہے ہیں
23:52حضرت بابا سید وارس علی
23:54شاہ رحمت اللہ علیہ کا
23:55اور ان کی
23:56تعلیمات کے حوالے سے
23:58ان کے خاص طور پر
23:59اتنے خوبصورت
24:01اقوال ہیں
24:01اور ان کے بارے میں
24:02یہ بھی
24:03سنا جاتا ہے
24:05کہ وہ
24:05جو احرام پہنتے تھے
24:06یا جو چادر
24:07بانتے تھے
24:08وہ
24:08پیلے
24:10رنگ کی ہوتی تھی
24:11اور وارسی رنگ
24:11غالباً اسی نسبت سے
24:13اس کو
24:14لوگوں نے اختیار کیا
24:15اور جو
24:16خاص طور پر پہنتے ہیں
24:17کیوں حضرت
24:18اس کا رنگ بھی
24:19خاص طور پر
24:19آپ نے
24:20جو ہے وہ
24:20اس کا رنگ
24:21بڑی امتیازی
24:22حیثیت رکھتا ہے
24:24اور آپ کے جو
24:25چاہنے والے ہیں
24:26جو مرید ہیں
24:27اتفاق ایسا ہے
24:28مجھے کسی ملک
24:29ائرپورٹ پہ
24:30اترنے کا اتفاق ہوا
24:31تو
24:32وہ امیگریشن کی جو
24:33لائن تھی
24:34وہ کتار
24:35کافی لمبی تھی
24:35تو آپ یقین کیجئے
24:37کہ
24:37جب میں نے دیکھا
24:38تو اس میں ایک صاحب
24:39جو تھے انہوں نے
24:40وہ چادر
24:40اسی رنگ کی تھی
24:41تو وہ
24:42سب میں نمائیاں تھے
24:43یعنی جتنی وہ
24:44کتاریں ہیں
24:45انہوں نے
24:45سب میں نمائیاں
24:46جو نظر آ رہا تھا
24:47وہ وارسی
24:48رنگ جو تھا
24:49وہ نظر آ رہا تھا
24:50پھر بات جو چاہ رہی تھی
24:51ظاہری تقلفات کی
24:53آپ یقین کیجئے
24:54کہ یہ
24:55انتہائی منفرد
24:56سلسلہ تصوف پر
24:58بزرگان دین پر
24:59اولیاء اکرام پر
24:59آپ نظر ڈالیں
25:00تو یہ بالکل
25:01رنگ
25:02یہ رنگ
25:02اپنی مثال آپ ہے
25:03اور اتنا خوبصورت
25:04اور محبت
25:05بھرا رنگ ہے
25:06پھر یہ
25:06محبت کے جلوے
25:08محبت کے رنگ
25:09چوخی نہیں ہے
25:09اس رنگ میں
25:09زمینی رنگ ہے
25:10زمینی رنگ ہے
25:11مٹا ہوا رنگ ہے
25:13اچھا آپ سے کسی نے کہا
25:14حضرت آپ نے تو
25:15گھر نہیں بنایا
25:15تو آپ نے کہا
25:16ہاں فقیر کا
25:17گوئی گھر نہیں ہے
25:19لیکن یہ سب
25:20فقیر ہی کے تو
25:21گھر ہیں
25:21اور آج آپ دیکھ لیجئے
25:23آپ برے صغیر
25:24پاکو ہن میں
25:25جب جاتے ہیں
25:25آپ کو وارس نگر
25:27ملے گا
25:27آپ کو وارس
25:28کوٹ ملے گا
25:29آپ کو وارس
25:30وادی ملے گی
25:31آپ کو وارس
25:32محل ملے گا
25:33وارس منزل
25:34ملے گی
25:35اور آپ کو
25:36وارس
25:37کوٹ ملے گا
25:38یعنی اس طرح کے
25:39نام جو ہیں
25:39ان کے مریدین نے
25:40اپنے مکانوں کی
25:42پیشانیوں پر
25:43کندہ کروائے ہوں
25:43اور آج بھی
25:44ان کی محبت
25:46جو ہے
25:46ان کو گئے
25:46کتنا عرصہ گزر گیا
25:47لیکن
25:48بہت
25:49ایسی جگہ ہیں
25:50جہاں پر آپ کی
25:51محبتوں کے رنگ
25:51بکھرے نظر آئیں گے
25:52اچھا یہ چیز بھی
25:53آپ کے سلسلے میں
25:54بلکل منفرد حیثیت کی
25:56عامل ہے
25:56کہ جو شخص
25:57آپ کے پاس آتا تھا
25:59آپ اس کے
25:59حقیقی نام کی بجائے
26:01محبت بھرا
26:02ایک نام دے دیتے تھے
26:04کسی کا نام
26:05رکھ دیتے
26:05محبت شاہ صاحب
26:06کسی کا نام
26:07رکھ دیتے
26:08الفت شاہ صاحب
26:09کسی کا نام
26:10رکھ دیتے
26:10انسیہ صاحب
26:11یعنی
26:12اس طرح کے
26:12محبت بھرے رنگ
26:13اور آپ کے
26:15سلسلے میں
26:15محبت ہی
26:17محبت ہے
26:17محبت ہی
26:18محبت ہے
26:19مرکزی محبت ہے
26:19سخاوت ہے
26:20محبت ہے
26:21ایک شخص آیا
26:22اور وہ
26:23بڑا امیر مرید
26:24تھا آپ کا
26:25تو آپ نے
26:25اس کو
26:26اس نے لا کے
26:27بڑی خوبصورت
26:28قسم کی چادر
26:29جس کے اوپر
26:29بڑی ہاتھ سے
26:30نکاشی ہوئی
26:30تھی
26:30ذنہی خوبصورت
26:31وہ آپ کو
26:32گفٹ کی
26:33اور اس کی
26:33یہ خواہش تھی
26:34کہ آپ اسے
26:34زیوے تن فرمائے
26:35تو آپ نے
26:36اسے چادر
26:36کو بڑی محبت
26:37کے ساتھ
26:37اوڑ لیا
26:38وہ بڑا خوش
26:39ہوا
26:39اب وہ کچھ
26:40دیر بیٹھا
26:40لنگر کھایا
26:41اور آپ کا
26:41لنگر بھی
26:42اپنی مثال
26:42آپ ہوتا تھا
26:43خود لنگر
26:44تقسیم کیا
26:44کرتے تھے
26:45اور پھر
26:45یہ بھی دیکھئے
26:46کہ یہ بات
26:47میرے ذہن سے
26:47سکپ نہ ہو جائے
26:48کہ یکم محرم
26:49الحرام سے
26:50لے کر
26:51دس محرم
26:51الحرام تک
26:52آپ کی
26:53درگاہ میں
26:54چوبیس
26:55گھنٹے
26:55لنگر تقسیم
26:56ہوتا تھا
26:56اور اس میں
26:57زیادہ وقت
26:58جو ہے
26:58کہ آپ خود
26:59لنگر تقسیم
27:00فرمایا کرتے تھے
27:01اچھا وہ
27:01امیر شخص آیا
27:02اس نے لنگر کھایا
27:03اور لنگر کھا کے
27:04چلا گیا
27:04کچھ دیر کے بعد
27:06اسی کے گھر کا
27:07ایک ملازم آیا
27:07جو خان سامہ تھا
27:09وہ آیا
27:09اور وہ بھی
27:10اتفاق سے
27:11یا حسن اتفاق سے
27:12ایک چادر لے کر آ گیا
27:13اور وہ جو تھی
27:14وہ کم قیمت کی تھی
27:15اس نے بھی
27:16لاکٹ گفٹ کی
27:17اور اس کی بھی
27:18یہ خواہش تھی
27:18کہ آپ اسے
27:19زیبت تن فرمائیں
27:20اب یہ کی
27:21درویشوں کا
27:21کیا طریقہ ہے
27:22عجب چال چلتے ہیں
27:25دیوان گانے عشق
27:26آنکھوں کو
27:26بند کرتے ہیں
27:27دیدار کے لیے
27:28اور انوکھی وضا ہے
27:29زمانے سے
27:31نرالے ہیں
27:31یہ عشق
27:32کون سی بستی کے
27:34یا رب رہنے والے ہیں
27:35آپ نے وہ چادر لے لی
27:36اس کو اہڑا
27:38اور وہ جو
27:38قیمتی چادر
27:39جب اتار کے
27:40تہہ کیا
27:41اور اس کی
27:41نگاہوں کی جانب دیکھا
27:42اور وہ چادر
27:43آپ نے اسے
27:44اطاع فرما دی
27:44اور اس کی
27:45لائی ہوئی چادر کو
27:46اپنے اوپر آڑ لیا
27:47اب آپ مجھے بتائیں
27:48کہ اس کے
27:49دل کی کلی
27:50کتنی کھلی ہوگی
27:52اور اس کی روح میں
27:53کتنی تسکین
27:54اتری ہوگی
27:55اس کے مند میں
27:56کتنی آسودگیاں
27:57جو ہیں
27:57وہ جلوہ نماؤ ہوئی ہوگی
27:59جب اس میں
28:00حضرت کا یہ
28:00طرزی عمل دے گا
28:01تو آج وہی
28:02طرزی عمل جو ہے
28:03وہ جا بجا
28:04اپنی روشنی
28:05اب اگھیرتہ نظر آتا
28:06ملکل ٹیک
28:06اچھے مفتی صاحب
28:08آپ کا جو
28:08وشال مبارک ہے
28:09آپ کا جو
28:10مزار مبارک ہے
28:12اس کے حوالے سے بھی
28:13کچھ ہمارے ناظرین
28:14جو ہیں
28:14ان کو اگاہ فرمائیے
28:15بسم اللہ الرحمن الرحیم
28:18آپ کی ذات کے اندر
28:20دین کا وہ
28:21مزاج بڑا نمائی ہے
28:22جو بنیادی
28:23اور اولین ہے
28:24اور وہ
28:25مزاج کیا ہے
28:26آپ عبادت کریں
28:27نماز
28:27روزہ
28:28حج
28:28زقاة
28:29لیکن مخلوق
28:30خدا کو
28:30اگر آپ کے
28:31زمان سے
28:32آپ کے
28:33حادثی عذیت
28:34پہنچ رہی ہے
28:34تو وہ ساری کی
28:36ساری چیزیں
28:36جو ہیں وہ
28:37اللہ کے ہاں
28:38مقبول نہیں ہیں
28:39یہ وہ
28:40مزاج ہے
28:40جس کو
28:41آپ نے
28:41اجاگر فرمایا ہے
28:42اور زندگی بار
28:44آپ نے
28:44لوگوں کو
28:45اسی مزاج
28:46کا درس دیا ہے
28:47اگر تم
28:48اللہ کی
28:49محبت کو
28:49حاصل کرنا چاہتے ہو
28:51اس کے پیارے
28:51رسول کی
28:52محبت کو
28:52حاصل کرنا چاہتے ہو
28:54تو محبت
28:54انسانیت کے
28:55بغیر آپ
28:56حاصل نہیں کر سکتے
28:57صحیح
28:57اور آپ نے
28:58بڑی خوبصورت
28:59بات فرمی
28:59آپ فرماتے ہیں
29:00محبت ہی
29:01ایمان ہے
29:02محبت ہی
29:04ایمان ہے
29:04اور جس کے اندر
29:06محبت نہیں ہے
29:07اس کا ایمان
29:07نہیں ہے
29:08اور آپ نے
29:10ایمان کے بعد
29:10یعنی
29:11اس کے بعد
29:12سب سے زیادہ
29:13آپ نے
29:13توقع
29:14اللہ کی
29:14تعقید کی
29:15قرآنی عزیز
29:16کی اندر ہے
29:16بندہ ایمان
29:17لاتا ہے
29:18ایمان لانے کے بعد
29:19بندے کو
29:20سب سے زیادہ
29:20کس بات کی
29:21تعقید کی
29:22یہ توقع
29:22اللہ کی
29:23آپ ایمان
29:24لائے ہو
29:25ایمان لانے کے بعد
29:26آپ نے
29:26اللہ کی ذات پر
29:27بروسہ کرنا ہے
29:28آپ فرماتے ہیں
29:34. . . . . . . . . ?
30:04cıboursaman سے وہ قلیمات ادا کرتے ہیں کہ آج میں اللہ کی biberگاهہ میں
30:08حاضر ہونے والا ہوں آج میں قبر میں جاؤں گا تو قبر میں جاکر اپنے
30:12پیارے رسول کے چهرے انور کی زیارت کا شرف حصل کروں گا مکمل
30:15تیاری کے ساتھ مکمل احتمام کے ساتھ جو آپ کے مریدین ہیں جو
30:20آپ کے خلفاء ہیں جب وہ آپ کی ان کیفیات ان حالات کو دیکھتے ہیں
30:24وہ خوبی سمجھ جاتے ہیں کہ اب حضرت کا آخری وقت جو ہے وہ آگے
30:28ہے اور آخری وقت بھی آپ اپنے غلاموں کو اپنے خلفاء کو اور
30:32and I will be able to do that.
31:02بلا امتیازِ مذہب
31:04کوئی بھی آپ کی بارگاہ میں آتا ہے
31:06تو اسے محبت کی نظروں سے ہی دیکھا جائے
31:08یہ محبت کا فیضان ہے
31:10جس کو دنیا کے اندر جاگر کرنے کی ضرورت ہے
31:12اور یہی وہ محبت کا فیضان ہے
31:14جو بابا جی نے جناب دنیا کو عطا فرمایا
31:17اور آج انہی کا نام
31:18زمانے کے اوپر قائم و دائم ہے
31:20سبحان اللہ
31:21حضرت کیا اختتامی پیغام عطا فرماتے ہیں
31:24حضور میں باٹم لائن یہ کرنا چاہوں گا
31:26یہ کرنا چاہوں گا
31:27کہ غور کیجئے
31:29کہ آج نہ میں ان سے ملا
31:31نہ میں ان کے علاقے میں گیا
31:33نہ مجھے ان سے صحبت رہی
31:35لیکن آج یہاں بیٹھ کر
31:37ہم ان کا ذکر کر رہے ہیں
31:38کتنا عرصہ پہلے
31:39اور اس کی وجہ کیا ہے
31:41انسان تو دنیا سے چلا جائے
31:44تو سو سال تو بڑا عرصہ ہے
31:46لوگ اس کو بھول جاتے ہیں
31:48وہ تاکچہ نسیان کی نظر ہو جاتی ہے
31:49اس کی یاد
31:50اور اس کے گھر والے بھی اسے بھول چکے ہوتے ہیں
31:53آج اگر انسان نے زندہ رہنا ہے
31:54آج وہ اگر ہماری گفتگو میں زندہ ہیں
31:56ہماری جادوں میں زندہ ہیں
31:58ہمارے افکار میں زندہ ہیں
31:59تو اس کی بنیادی وجہ کیا ہے
32:01بنیادی وجہ یہ ہے
32:02کہ انہوں نے اپنی زندگی کو
32:04اپنے رب کی رضا کے این مطابق بنایا
32:07زندگی نے ایسا عمل نہیں کیا
32:08کہ مخلوق خدا ناراض ہو جائے
32:11زندگی بھر کبھی کسی کا دل نہیں توڑا
32:14زندگی بھر کسی کو تکلیف نہیں دی
32:16کسی کی ذہنی عذیت کا سامان نہیں کیا
32:19اگر کسی کو خوش نہیں کر سکے
32:22تو اس کو کبھی عذیت میں مبتلا نہیں کیا
32:24اگر کسی کو عطا نہیں کر سکے
32:27تو اسے زندگی میں محروم کبھی نہیں کیا
32:29اگر کسی کا دل نہیں رکھ سکے
32:31تو کم از کم اس کے دل کو زخم نہیں لگایا
32:34اس کا دل توڑا نہیں ہے
32:35اور یہی وہ اوصاف ہیں
32:37جو انسان کو تاریخ میں زندہ اور جعوید کر دیتے ہیں
32:40اب یقین کیجئے کہ میں حیران ہوتا ہوں
32:42کہ ہم ان بزرگان دین کی تعلیم کو
32:45مصبت انداز میں
32:46پوزیٹیولی جتنا پڑھتے ہیں
32:48انسان حیران ہوتا چلا جاتا ہے
32:50کہ کتنے وسعت قلبی
32:52اور کتنی بڑی بلند نظری
32:55ان لوگوں میں موجود تھی
32:56کہ آج بھی ان کا نام نامی جو ہے
32:58وہ ہماری زبانوں پر بھی ہے
33:00ہمارے دلوں میں بھی
33:01سبحان اللہ
33:02حضرت کوئی اختتامی پیغام
33:05اشاری گفتگو جو ہم نے بابا جی کے حوالے سے کی ہے
33:07ان کی تعلیمات کے حوالے سے
33:09ضرورت اس بات کی ہے
33:12کہ آپ کی تعلیمات کو
33:13جس طرح کے اس پلیٹ فارم کے ذریعے
33:15آپ کی ذات
33:16آپ کی صفات
33:17اور آپ کی صیرت و کردار کو
33:19جاگر کیا گیا ہے
33:19ہمیں چاہیے
33:20کہ بزرگان دین کے ساتھ
33:22اپنا تعلق مضبوط بنائیں
33:24بزرگان دین کے ساتھ
33:25اپنا تعلق جتنا مضبوط بنے گا
33:27اتنا زیادہ ہمارا تعلق
33:29اللہ کے ساتھ
33:30اور اس کے پیارے رسول کے ساتھ
33:31مضبوط بنے گا
33:32حدیث پاک کے اندر آتا ہے
33:34بزرگان دین کا ذکر
33:35اللہ کے نیک مندوں کا ذکر کرنا
33:37یہ گناہوں کا کفارہ ہے
33:39تو ہم لوگ در حقیقت
33:40ان نیک لوگوں کی ہستیوں کے تفیل
33:42اپنی بخشش کا سامان بھی کر رہے ہیں
33:44اور اپنی صیرت اور اپنی کردار
33:46کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں
33:48ضرورت اسی بات کی ہے
33:49کہ آپ کے فیض کو عام کیا جائے
33:51آپ کی صیرت مبارکہ کو عام کیا جائے
33:53بہت شکریہ جناب پیر
33:55حیدر شاہ صاحب
33:57آپ کی تشریف آوری کا
33:58آپ کی رہنمائی کا
33:59اور اللہ کریم آپ کو
34:00ہمیشہ سلامتی کے ساتھ رکھے
34:02آپ کیوں ہی ہم
34:03آپ سے فیضیاب ہوتے رہیں
34:05جناب مفتی غلام
34:07یاسین نظامی صاحب
34:08آپ کا بہت شکریہ
34:09ناظرین اکرام پرگرام کا وقت
34:11جو ہے وہ اختتام کو پہنچا
34:13اور جناب حاجی سید
34:15بارس شاہ رحمت اللہ علیہ
34:16کے حوالے سے آج ہم نے گفتگو کی
34:18بہت خوبصورت
34:19ان کی زندگی کے مختلف زاویوں سے
34:21مختلف گوشوں پر
34:22ہمارے مہمانوں نے روشنی ڈالی
34:24بڑی خوبصورت
34:25باتیں آپ نے
34:26اور آپ کی تعلیمات
34:27آپ کے جو افکار
34:28اور آپ کے جو ملفوضات ہیں
34:29اس میں بہت خوبصورت باتیں
34:31ہمیں ملتی ہیں
34:32شیخ اور مرید کے تعلق کے حوالے سے
34:35بہت ساری باتیں آپ نے بیان فرمائی ہیں
34:37آپ نے فرمایا کہ جو مرید
34:39پیر سے دور رہے
34:40وہ مرید ناکس ہے
34:42اور جو پیر مرید کو دور کر دے
34:44وہ پیر بھی ناکس ہے
34:45پھر اور ایک جگہ پہ
34:47آپ نے فرمایا کہ
34:49جس عورت کا خاوند
34:51کماتا ہو
34:52تو اسے رزق کی فکر نہیں رہتی
34:54کھانے کی فکر نہیں رہتی
34:55تو ہم تو اس خالق کے ماننے والے ہیں
34:58جو سب کو روزی دینے والا ہے
35:00تو ہم کیسے اپنی روزی کی فکر کر سکتے ہیں
35:02یا اس کے لیے پریشان ہو سکتے ہیں
35:04جو ہماری شہرک سے بھی زیادہ نزدیک ہے
35:07اور آپ نے فرمایا کہ
35:08عاشق کی منزل محبوب کی ذات میں
35:11فنا ہو جانا ہے
35:12اور یہی توحید کامل ہے
35:14اپنے میزمان ڈاکٹر سیرور سیر نقشمندی کو
35:17اجازت دیجئے
35:18اللہ نے کے بعد
35:19زمانہ جسم ہے
35:24اور جان ہے
35:29یہ اولیاء
35:34خدا کا خاص ایک
35:42احسان ہے
35:48یہ اولیاء اللہ
Comments

Recommended