00:00بچوں آج جو کہانی ہم سنیں گے وہ لیڈی بارنس کی اپنی کہانی ہے جو وہ ڈاکٹر علامہ اقبال کو
00:06خود سناتی ہیں
00:07اس لیے اس کہانی کو ہم کہیں گے لیڈی بارنس کی آب بیتی
00:14میں ایک ہوتل کی مالکہ تھی میرے ہوتل میں ایک ستر سالہ بوڑھا مسلمان ملازم تھا
00:20اس بوڑھے کا بیٹا نہایت خوبصورت نوجوان تھا
00:25ایک وبائی بیماری میں یہ لڑکا مر گیا تو مجھے بہت افسوس ہوا
00:29میں بوڑھے کے پاس تازیت کے لیے گئی اسے تسلی دی اور اس کی مصیبت پر افسوس کیا
00:36بوڑھا میری بات سنتا رہا جب میں خاموش ہو گئی تو اس نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور کہا
00:43مہم صاحبہ یہ خدا کی طرف سے لکھا تھا خدا کی امانت تھی وہ لے گیا
00:49ہمیں ہر حال میں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے
00:54ڈاکٹر صاحب بوڑھے نے جس طرح آسمان کی طرف انگلی اٹھائی
00:58اسے میں کبھی بھول نہیں سکتی
01:01میں بار بار اس کے الفاظ پر غور کرتی تھی
01:04اور حیران ہوتی تھی کہ دنیا میں اس قسم کے صابر شاکر اور مطمئن دل بھی موجود ہیں
01:11مجھے جس طرح ہوئی کہ بوڑھے نے ایسا مطمئن دل کیسے پایا
01:16میں نے پوچھا
01:17کیا آپ کے بیٹے کے بیوی بچے بھی تھے
01:20وہ کہنے لگا
01:22ایک بیوی اور ایک چھوٹا بچہ ہے
01:25اب میری حیرت تھوڑی کم ہوئی
01:28میں نے سوچا کہ بوڑھے کا پوتا موجود ہے
01:30وہ اس کی زندگی کا سہارا بنے گا
01:34اس واقعے کو زیادہ دن نہیں گزرے تھے
01:37کہ بوڑھے کی بہو بھی انتقال کر گئی
01:40مجھے جس طرح runter ہو بھی