00:00حضرت شیخ سعی رحمت اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درویش ایک جنگل میں سفر کر رہا تھا
00:09اس نے ایک لنگری لومڑی کو دیکھا جو بے بسی کی چلتی پھرتی تصور تھی
00:16اس درویش کے دل میں خیال آیا کہ اس لومڑی کے رزق کا انتظام کیسے ہوتا ہوگا
00:24جبکہ یہ شکار کرنے کے بھی قابل نہیں ہے
00:28درویش ابھی یہ بات سوچ رہا تھا کہ اس نے ایک شیر کو دیکھا جو مہم میں گیدر دبائے اس
00:37لومڑی کے نزدیک آیا
00:38اس نے گیدر کے گوشت کا کچھ حصہ کھایا اور باقی وہیں چھوڑ کر چلا گیا
00:46لومڑی نے اس باقی کے گوشت میں سے کھایا اور اپنا پیٹ بھرا
00:51درویش نے جب سارا ماجرہ دیکھا تو اسے اتفاق قرار دیا اور یہ دیکھنے کے لیے کہ یہ لومڑی دوبارہ
01:01اپنا پیٹ کیسے بھرے گی وہیں قیام کیا
01:05اگلے روز بھی وہی شیر مہم میں گیدر دبائے اس جگہ آیا اور اس نے کچھ گوشت کھانے کے بعد
01:14باتی ویسے ہی چھوڑ دیا
01:16لومڑی نے وہ باقی گوشت کھا لیا اور اپنا پیٹ بھر لیا
01:22درویش سمجھ گیا کہ اس کے رزق پہچانے کا انتظام اللہ کی طرف سے ہے
01:29اس نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ میں بھی اب اپنے رزق کے لیے کوئی جستجو نہیں کروں گا
01:37اور میرا رزق اللہ عزوجل مجھے خود پہچا دے گا
01:42جس طرح لنگڑی لومڑی کو شیر کے ذریعے رزق پہچا رہا ہے
01:47درویش یہ فیصلہ کرنے کے بعد ایک جگہ جا کر اتمینان سے بیٹھ گیا
01:54اسے یقین تھا کہ اس کا رزق بھی اسے پہچ جائے گا
01:59مگر کئی دن گزر گئے اس کے لیے کھانے کی کوئی شینہ آئی
02:05یہاں تک کہ وہ کمزوری کی انتہا کو پہچ گیا
02:09اس دوران اس نے نزدیک ایک مسجد کے محراب سے یہ آواز سنی
02:15کہ اے درویش کیا تو لنگڑی لومڑی بننا چاہتا ہے
02:21یا پھر شیر جو اپنا شکار خود کرتا ہے
02:25جس میں سے خود بھی کھاتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلاتا ہے
02:30موسیقی