00:00Yusuf آج پھر کام سے دیر سے آیا تھا
00:03البتہ وہ اپنے بیٹوں کے لیے کھلونے لانا نہیں بھولا تھا
00:08اب وہ انہیں کھیوتے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا
00:11اور کبھی کبھی ان کے ساتھ کھیلنے بھی لگ جاتا
00:15فائزہ جو کھانا پکانے میں مصروف تھی
00:18اچانک اس کی نظر اپنی بیٹیوں عشاء اور فجر پر پڑی
00:23جو حسرت بھری نگاہوں سے باپ اور بھائیوں کو دیکھ رہی تھی
00:28فائزہ اتنی دور بیٹھ کر بھی ان کی آنکھوں کے آنسو دیکھ سکتی تھی
00:34فائزہ کے دل میں یوسف کے لیے ناراضگی کے جذبات اُبھے
00:38وہ جلدی جلدی کام ختم کر کے یوسف کے پاس آگئی
00:43اور پوچھنے لگی عشاء اور فجر کے لیے کیا لائے ہو
00:47یوسف نے حیرانی سے فائزہ کی طرف دیکھا
00:50اور کہنے لگا میں ان کے لیے کیا لاتا
00:53راستے میں مجھے نحال اور بلال کے لیے کھلونے نظر آئے
00:58تو ان کے لیے میں نے خرید لیے
01:00یہ سن کر فائزہ کو بہت غصہ آیا
01:03اور ان دونوں کی لڑائی ہو گئی
01:05ہر دفعہ یوں ہی ہوتا
01:08یوسف نحال اور بلال کے لیے ضرور کچھ نہ کچھ لاتا
01:12مگر بیٹیوں کے لیے شاز و نادر ہی کبھی کوئی چیز لاتا تھا
01:17فائزہ کو اب یقین ہوتا جا رہا تھا
01:20کہ یوسف بیٹیوں کی نسبت بیٹوں سے زیادہ پیار کرتا ہے
01:24اور عشاء اور فجر باپ کے پیار کو ترستی ہے
01:28یہ سوچ فائزہ کے دل و دماغ پر اس طرح ہاوی ہوئی
01:32کہ اس کے دل میں نحال اور بلال کے لیے شدید نفرت پیدا ہونے لگے
01:37وہ بلال اور نحال سے نفرت کا اظہار کرنے لگی تھی
01:42لیکن یوسف کی وجہ سے چپ ہو جاتی
01:45یوسف فائزہ کے اس رویے سے سخت پریشان تھا
01:48اس کو سمجھ نہ آتی
01:50فائزہ بچوں کے ساتھ کیوں ایسے پیش آتی ہے
01:54فائزہ کے دل میں خیال آیا
01:56اگر نحال اور بلال نہ ہوتے
01:58تو یوسف اپنی ساری توجہ اور محبت
02:01عشاء اور فجر کی طرف دے گا
02:05اور ہر کام غائب دماغی سے سر انجام دیتی
02:09فائزہ کی مسنسل غائب دماغی کی وجہ سے
02:13یوسف نے اس سے بات کی
02:15کہ ایسا کیا مسئلہ ہے
02:16جس کی وجہ سے وہ پریشان ہے
02:18وہ ہر دفعہ بات ڈال دیتی
02:21ایک دن یوسف کام سے گھر واپس آیا
02:24تو اسے گھر کی فضاء میں
02:26عجیب و حشت محسوس ہوئی
02:28اس کی دنیا لٹ چکی تھی
02:31وہ صبح صحیح سلامت نحال کو چھوڑ کر گیا تھا
02:35اور اب سہن میں وہ مردہ حالت میں پڑا تھا
02:39سب سے حیران کن بات یہ تھی
02:42کہ فائزہ کی آنکھوں میں غم کے بجائے
02:45ایک وحشت تھی
02:46ابھی وہ اسی صدمے میں ہی تھا
02:49کہ چند مہینوں بعد
02:51یوسف کو اپنے چار سالہ بیٹے بلال کی
02:54اچانک موت کی خبر ملی
02:57یوسف کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا
02:59کہ اس کے دونوں بیٹے اس دنیا میں نہیں رہے
03:02وہ ہر وقت اسی سوچ میں مبتلا رہتا
03:06کہ اس نے ایسا کیا کیا ہے
03:08جس کی اسے اتنی بڑی سزا ملی ہے
03:12اسے کبھی کبھی اپنی بیوی پر شک ہوتا
03:15شاید بیٹوں کی موت میں اس کا کوئی ہاتھ ہے
03:19لیکن وہ یہ سوچتا
03:21کہ کوئی ماں کبھی اپنے بچوں کو قتل نہیں کر سکتی
03:25فائزہ کو ہر وقت اپنا ساز گھٹتا ہوا محسوس ہوتا
03:30اسے لگتا کہ اس کے بچے اسے بلا رہے ہیں
03:33وہ رات کو اٹھ کر چیخے مارتی
03:35فائزہ کو اپنے بچوں کی روح نظر آتی
03:39یوسف پہلے سمجھا
03:41کہ شاید یہ ابھی تک صدمے میں ہے
03:43وہ اسے پیار سے بہت سمجھاتا
03:46لیکن فائزہ پر کسی چیز کا کوئی اثر نہ ہوتا
03:50فائزہ کی حالت دن بہ دن بگڑتی جا رہی تھی
03:54یوسف نے کافی علاج کروایا
03:57لیکن بے سود رہا
03:59یوسف نے کچھ عرصے کے لیے
04:01گھر سے کہیں دور جانے کا پروگرام بنایا
04:04تاکہ فائزہ کو جلد از جلد
04:07اس صدمے سے باہر نکالا جا سکے
04:09لیکن فائزہ کی صحت پر
04:12کوئی خاطر خواہ اثر نہ ہوا
04:14ایک روز
04:15فائزہ گہری سوچوں میں گم تھی
04:18یوسف کافی دیر سے
04:20اسے نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا
04:23اچانک وہ پوچھنے لگی
04:25کیا تم اپنے بیتوں سے بہت پیار کرتے تھے
04:29ہاں میں اپنے بچوں سے بہت پیار کرتا ہوں
04:33مگر تم یہ کیوں پوچھ رہی ہو
04:36اگر تمہیں پتا چلے
04:38کہ تمہارے بچوں کو کسی نے قتل کیا ہے
04:41تو تم کیا کروگے
04:43میں ایک منٹ بھی نہیں سوچوں گا
04:46اور ویسے ہی اس کا قتل کروں گا
04:48جیسے اس نے میرے بچوں کا کیا
04:51اس روز کے بعد فائزہ مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی
04:55اب وہ ہزیانی کیفیت میں اپنے بیٹوں کو یاد کرتے ہوئے
05:00ایسی باتیں کرتی
05:01جن سے یوسف کے دل میں پھر شک پیدا ہونے لگا
05:05ایک ان یوسف معمول سے جلدی گھر آ گیا
05:09فائزہ ایک اونچے ٹیلے پر بیٹھی
05:12ادھر ادھر دیکھ رہی تھی
05:13کہ اچانک اس کی نظر عشاء اور فجر پر پڑی
05:17جو اپنے باپ کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی
05:20یہ دیکھ کر فائزہ کو خوشی محسوس ہوئی
05:24ساتھ ہی ساتھ اسے اپنے بیٹوں کی شدید کمی بھی محسوس ہوئی
05:29اسے ہر جگہ نحال اور بلال کی آوازیں اور شولیں نظر آنے لگے
05:34اسے اپنا دماغ پھٹتا ہوا محسوس ہوا
05:38اس کا ساس بند ہونے لگا
05:41یوسف کی نظر اچانک فائزہ پر پڑی
05:44اس کی بگڑتی حالت دیکھ کر
05:46یوسف اس کی طرف لپکا
05:49لیکن فائزہ کے الفاظ نے اس کے قدم جمع دیئے
05:52میں نے اپنے بچوں کو مار ڈالا
05:55قتل کر دیا میں نے اپنے بیٹوں کو
05:58یوسف نے نفرت بھری نگاہ
06:00فائزہ پر ٹالی اور پوچھا
06:03تم یہ سب کیسے کر سکتی ہو
06:05تم نے اپنے ہاتھوں سے ہی اپنے بچوں کو مار دیا
06:08تم کیسی ماں ہو
06:10تم تو ماں تہلانے کے بھی لائق نہیں ہو
06:13کوئی ماں اس حد تک ظالم نہیں ہو سکتی
06:16تم نے ایسا کیوں کیا
06:18یہ سب کچھ میں نے اپنی بیٹیوں کے لئے کیا ہے
06:21تم ہر وقت محال اور بلال سے پیار کرتے تھے
06:25عشاء اور فجر کی تمہیں کوئی پروا نہ تھی
06:29یہ سن کر یوسف مزید آگ بگولہ ہو گیا
06:32جیسے میرے لئے محال اور بلال تھے
06:35ویسے ہی عشاء اور فجر تھی
06:38نہیں کیا فرق تمہاری سوچ میں تھا
06:42تم ایک نفسیاتی مریضہ بن چکی ہو
06:45میں اور میری بیٹیاں
06:47اب مزید تمہارے ساتھ نہیں رہ سکیں
06:50آج تم نے اپنے بیٹوں کو
06:53اپنی بیٹیوں کے لئے مار دیا ہے
06:56کل تم اپنی بیٹیوں کو
06:58کسی اور کے لئے مار دوگی
07:01میں فجر اور عشاء کو لے کر
07:04ہمیشہ ہمیشہ کے لئے
07:06تمہاری زندگی سے دور چلا جاؤں گا
07:09اور اب تمہاری سزا کا فیصلہ
07:12عدالت کرے گی
07:13وہ فائزہ کو روتی چیختی چھوڑ کر
07:17بچیوں کے پاس چلا گیا
Comments